بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
31 hadith
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ، سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ قُلْتُ لأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي فِي النَّعْلَيْنِ قَالَ نَعَمْ ‏.‏
Sa'd b. Yazid reported:I said to Anas b. Malik: Did the Messenger of Allah (ﷺ) pray while putting on the shoes? He said: Yes
بشر بن مفضل نے ہمیں ابو مسلمہ سعید بن یزید سے خبر دی ، انھوں نے کہا : میں نے انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے پوچھا : کیا رسول اللہ ﷺ جوتے پہن کر نماز پڑھتے تھے ؟ انھوں نے جواب دیا : ہاں ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ يُقْبِلُ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ ‏.‏
This hadith has been reported by Mis'ar with the same chain of transmitters, but he made no mention of:" His face would turn towards us
وکیع نے مسعر سے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی اور ا نھوں نےيُقْبِلُ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ ( آپ ہماری طرف رخ فرمائیں ) کے الفاظ ذکر نہیں کئے ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَنْبَأَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَنْبَأَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا ‏"‏ ‏.‏
A similar hadith has been reported on the authority of Anas (with another chain of transmitters) with the exception of these words:that he again becomes a Jew or a Christian
ثابت نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا...... ( پھر اسی طرح بیان کیا ) جیسے سابقہ راویوں نے بیان کیا ہے ، البتہ انہوں نے یہ ( الفاظ ) کہے : ’’اس کو پھر سے یہودی یا عیسائی ہو جانے سے ( آگ میں ڈالا جانا زیادہ پسند ہو ۔ ) ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، كِلاَهُمَا عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، - قَالَ ابْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَى، - عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ جَاءَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ فَجَلَسَ فَقَالَ لَهُ ‏ "‏ يَا سُلَيْكُ قُمْ فَارْكَعْ رَكْعَتَيْنِ وَتَجَوَّزْ فِيهِمَا - ثُمَّ قَالَ - إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ وَلْيَتَجَوَّزْ فِيهِمَا ‏"‏ ‏.‏
Jabir b. 'Abdullah reported:Sulaik Ghatafani came on Friday when the Messenger of Allah (ﷺ) was delivering the sermon. He (Sulaik) sat down. He (the Holy Prophet) said to him: 0 Sulaik I stand and observe two rak'ahs and make them short, and then said: When any one of you comes on Friday, while the Imam delivers the sermon, he should observe two rak'ahs and should make them short
ابو سفیان ( طلحہ بن نافع واسطی ) نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نےکہا : سلیک غطفانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جمعے کے دن ( اس وقت ) آئے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے تو وہ بیٹھ گئے ۔ آپ نے ان سے کہا : " اے سلیک!ا ٹھ کر دو رکعتیں پڑھو اور ان میں سے اختصار برتو ۔ " اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! " جب تم میں سے کوئی جمعے کےدن آئے جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو تو وہ دو رکعتیں پڑھے اور ان میں اختصار کرے ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي قَتَادَةُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ، مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ فَإِنْ شَهِدَ دَفْنَهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ الْقِيرَاطُ مِثْلُ أُحُدٍ ‏"‏ ‏.‏
Thauban, the freed slave of the Messenger of Allah (ﷺ) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who offered prayer for the dead, for him is the reward of one qirat, and he who attended its burial, he would have two qirats as his reward. And qirat is equivalent to Uhud
شعبہ نے کہا : ہمیں قتادہ نے سالم بن ابی جعد سے حدیث سنا ئی انھوں نے معدان ابن ابی طلحہ یعمری سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جس نے نماز جنا زہ پڑھی اس کے لیے ایک قیراط ہے اور اگر وہ اس کے دفن میں شامل ہوا تو اس کے لیے دو قیرا ط ہیں ( ایک ) قیرا ط احد ( پہاڑ ) کے ما نند ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ تَصَدَّقُوا فَيُوشِكُ الرَّجُلُ يَمْشِي بِصَدَقَتِهِ فَيَقُولُ الَّذِي أُعْطِيَهَا لَوْ جِئْتَنَا بِهَا بِالأَمْسِ قَبِلْتُهَا فَأَمَّا الآنَ فَلاَ حَاجَةَ لِي بِهَا ‏.‏ فَلاَ يَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهَا ‏"‏ ‏.‏
Haritha b. Wahb reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Give Sadaqa for a time is about to come when a person would walk with alms and the one whom it is to be given would say: Had you brought it yesterday, I would have accepted it. For the present I do not need it. (And the giver of Sadaqa) I would not find anyone to accept it
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھو ں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی دن نہیں جس میں بندے صبح کرتے ہیں مگر ( اس میں آسمان سے ) دو فرشتے اترتے ہیں ، ان میں سے ایک کہتاہے : اے اللہ!خرچ کرنے والے کو ( بہترین ) بدل عطا فرما اور دوسرا کہتا ہے : اے اللہ! روکنے والے کا ( مال ) تلف کردے ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي، هُرَيْرَةَ - رضى الله عنه - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ فَاكْلَفُوا مَا لَكُمْ بِهِ طَاقَةٌ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying (the words as said in the previous hadith) but with this alteration (of words):" Take upon yourselves (the burden of the deeds) for which you have the strength to bear
قتیبہ ، مغیرہ ، ابی زناد ، اعرج ، حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیاہے سوائے اس کے کہ اس میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس کام کی تم طاقت رکھو وہ کام کرو ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters
ابن نمیر نے کہا : ہمیں ہشام نے مذکورہ بالا سند سے بھی حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ الْقَطَّانُ - عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ، اللَّهِ الْيَزَنِيِّ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ أَحَقَّ الشَّرْطِ أَنْ يُوفَى بِهِ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي بَكْرٍ وَابْنِ الْمُثَنَّى ‏.‏ غَيْرَ أَنَّ ابْنَ الْمُثَنَّى قَالَ ‏"‏ الشُّرُوطِ ‏"‏ ‏.‏
Uqba b. Amir (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The most worthy condition which must be fulfilled is that which makes sexual intercourse lawful. In the narration transmitted by Ibn Muthanna (instead of the word" condition" ) it is" conditions
یحییٰ بن ایوب نے کہا : ہمیں ہُشَیم نے حدیث بیان کی ، ابن نمیر نے کہا : ہمیں وکیع نے حدیث بیان کی ، ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں ابوخالد احمر نے حدیث سنائی اور محمد بن مثنیٰ نے کہا : ہمیں یحییٰ قطان نے عبدالحمید بن جعفر سے ، انہوں نے یزید بن ابی حبیب سے ، انہوں نے مرثد بن عبداللہ یزنی سے ، انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سب سے زیادہ پوری کیے جانے کے لائق شرط وہ ہے جس سے تم نے شرمگاہوں کو حلال کیا ہے ۔ " یہ ابوبکر اور ابن مثنیٰ کی حدیث کے الفاظ ہیں ، البتہ ابن مثنیٰ نے ( الشرط کی بجائے ) الشروط ( شرطیں وہ ہیں ) کہا ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيَّ - حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزَاةٍ فَأَبْطَأَ بِي جَمَلِي فَأَتَى عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لِي ‏"‏ يَا جَابِرُ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَا شَأْنُكَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ أَبْطَأَ بِي جَمَلِي وَأَعْيَا فَتَخَلَّفْتُ ‏.‏ فَنَزَلَ فَحَجَنَهُ بِمِحْجَنِهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ ارْكَبْ ‏"‏ ‏.‏ فَرَكِبْتُ فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَكُفُّهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ أَتَزَوَّجْتَ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ بَلْ ثَيِّبٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَهَلاَّ جَارِيَةً تُلاَعِبُهَا وَتُلاَعِبُكَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ إِنَّ لِي أَخَوَاتٍ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ امْرَأَةً تَجْمَعُهُنَّ وَتَمْشُطُهُنَّ وَتَقُومُ عَلَيْهِنَّ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَمَا إِنَّكَ قَادِمٌ فَإِذَا قَدِمْتَ فَالْكَيْسَ الْكَيْسَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَتَبِيعُ جَمَلَكَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ فَاشْتَرَاهُ مِنِّي بِأُوقِيَّةٍ ثُمَّ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدِمْتُ بِالْغَدَاةِ فَجِئْتُ الْمَسْجِدَ فَوَجَدْتُهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ ‏"‏ الآنَ حِينَ قَدِمْتَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَدَعْ جَمَلَكَ وَادْخُلْ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَدَخَلْتُ فَصَلَّيْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ فَأَمَرَ بِلاَلاً أَنْ يَزِنَ لِي أُوقِيَّةً فَوَزَنَ لِي بِلاَلٌ فَأَرْجَحَ فِي الْمِيزَانِ - قَالَ - فَانْطَلَقْتُ فَلَمَّا وَلَّيْتُ قَالَ ‏"‏ ادْعُ لِي جَابِرًا ‏"‏ ‏.‏ فَدُعِيتُ فَقُلْتُ الآنَ يَرُدُّ عَلَىَّ الْجَمَلَ ‏.‏ وَلَمْ يَكُنْ شَىْءٌ أَبْغَضَ إِلَىَّ مِنْهُ فَقَالَ ‏"‏ خُذْ جَمَلَكَ وَلَكَ ثَمَنُهُ ‏"‏ ‏.‏
Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with him) reported:I went out with Allah's Messenger (ﷺ) on an expedition, but my camel delayed me. Allah's Messenger (ﷺ) came to me and said to me: Jabir, I said: Yes. Allah's Messenger, (here I am at your beck and call) He said: What is the matter with you? I said: My camel has delayed me and is tired, so I have lagged behind. He (the Holy Prophet) got down and goaded it with a crooked stick and then said: Mount it. So I mounted and (to my great surprise) I saw it (moving so quickly that) I had to restrain it (from going ahead of) Allah's Messenger (ﷺ). He (the Holy Prophet) (in the course of journey said to me): Have you married? I said: Yes. He (again) said: Is it with a virgin or one previously married? I said. With one previously married, whereupon he (again) said: Why not with a young girl with whom you could sport and she could have sported with you? I said: I have sisters, so I preferred to marry a woman who could keep them together (as one family). who could comb them and look after them. He said: You are about to go (to your house), and there you have the enjoyment (of the wife's company). He again said: Do you want to sell your camel? I said: Yes. So he bought it from me for one u'qiya (of silver), Then Allah's Messenger (ﷺ) arrived (at Medina) and I arrived in the evening. I went to the mosque and found him at the door of the mosque, and said: Is it now that you have arrived? I said: Yes, He said: Leave your camel, and enter (the mosque) and offer two rak'ahs. So I entered and offered two rak'ahs of prayer, and then returned. He (the Holy Prophet) then commanded Bilal to weigh out one 'uqiya (of silver) tor me. Bilal weighed that out for me (lowering the scale of) balance. So I proceeded and as I turned my back he said: Call for me, Jabir. So I was called back, and I said (to myself): He would return me the camel, and nothing was more displeasing to me than this (that after having received the price I should also get the camel). He said: Take your camel and keep its price with you, (also)
وہب بن کیسان نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں نکلا تھا ، میرے اونٹ نے میری رفتار سست کر دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لے آئے اور فرمایا : " جابر! " میں نے عرض کی : جی ۔ آپ نے پوچھا : " کیا معاملہ ہے؟ " میں نے عرض کی : میرے لیے میرا اونٹ سست پڑ چکا ہے اور تھک گیاہے ، اس لیے میں پیچھے رہ گیا ہوں ۔ آپ ( اپنی سواری سے ) اترے اور اپنی مڑے ہوئے سرے والی چھڑی سے اسے کچوکا لگایا ، پھر فرمایا : " سوار ہو جاؤ ۔ " میں سوار ہو گیا ۔ اس کے بعد میں نے خود کو دیکھا کہ میں اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( کی اونٹنی ) سے ( آگے بڑھنے سے ) روک رہا ہوں ۔ پھر آپ نے پوچھا : " کیا تم نے شادی کر لی؟ " میں نے عرض کی : جی ہاں ۔ آپ نے پوچھا : " کنواری سے یا دوہاجو سے؟ " میں نے عرض کی : دوہاجو ہے ۔ آپ نے فرمایا : " ( کنواری ) لڑکی سے کیوں نہ کی ، تم اس کے ساتھ دل لگی کرتے ، وہ تمہارے ساتھ دل لگی کرتی ۔ " میں نے عرض کی : میری ( چھوٹی ) بہنیں ہیں ۔ میں نے چاہا کہ ایسی عورت سے شادی کروں جو ان کی ڈھارس بندھائے ، ان کی کنگھی کرے اور ان کی نگہداشت کرے ۔ آپ نے فرمایا : " تم ( گھر ) پہنچنے والے ہو ، جب پہنچ جاؤ تو احتیاط اور عقل مندی سے کام لینا ۔ " پھر پوچھا : " کیا تم اپنا اونٹ بیچو گے؟ " میں نے عرض کی : جی ہاں ، چنانچہ آپ نے وہ ( اونٹ ) مجھ سے ایک اوقیہ ( چاندی کی قیمت ) میں خرید لیا ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہنچ گئے اور میں صبح کے وقت پہنچا ، مسجد میں آیا تو آپ کو مسجد کے دروازے پر پایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : " ابھی پہنچے ہو؟ " میں نے عرض کی : جی ہاں ۔ آپ نے فرمایا : " اپنا اونٹ چھوڑو اور مسجد میں جا کر دو رکعت نماز ادا کرو ۔ " میں مسجد میں داخل ہوا ، نماز پڑھی ، پھر ( آپ کے پاس ) واپس آیا تو آپ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ میرے لیے ایک اوقیہ ( چاندی ) تول دیں ، چنانچہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے وزن کیا ، اورترازو کو جھکایا ( اوقیہ سے زیادہ تولا ۔ ) کہا : اس کے بعد میں چل پڑا ، جب میں نے پیٹھ پھیری تو آپ نے فرمایا : " جابر کو میرے پاس بلاؤ ۔ " مجھے بلایا گیا ۔ میں نے ( دل میں ) کہا : اب آپ میرا اونٹ ( بھی ) مجھے واپس کر دیں گے ۔ اور مجھے کوئی چیز اس سے زیادہ ناپسند نہ تھی ( کہ میں قیامت وصول کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا اونٹ بھی واپس لے لوں ۔ ) آپ نے فرمایا : " اپنا اونٹ لے لو اور اس کی قیمت بھی تمہاری ہے
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، قَالَ سَمِعْتُ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ تُوُفِّيَ حَمِيمٌ لأُمِّ حَبِيبَةَ فَدَعَتْ بِصُفْرَةٍ فَمَسَحَتْهُ بِذِرَاعَيْهَا وَقَالَتْ إِنَّمَا أَصْنَعُ هَذَا لأَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلاَثٍ إِلاَّ عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ‏"‏ ‏.‏
Zainab bint Umm Salama (Allah be pleased with her) reported that a relative of Umm Habiba (Allah he pleased with her) died. She sent for a yellow (perfume) and applied that to her forearm and said:I, am doing it, for I have heard Allah's Messenger (ﷺ) saying: It is not permissible for a woman believing in Allah and the Hereafter to mourn beyond three days except the husband (for whom she can mourn) for four months and ten days
حمید بن نافع سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنا ، انہوں نے کہا : ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا کوئی انتہائی قریبی عزیز فوت ہو گیا ۔ انہوں نے زرد رنگ کی خوشبو منگوائی اور اسے ہلکا سا اپنے ( رخسار اور ) بازوؤں پر لگایا ، اور کہا : میں اس لیے ایسا کر رہی ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : " کسی عورت کے لیے جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو ، حلال نہیں کہ وہ ( کسی مرنے والے پر ) تین دن سے زیادہ سوگ منائے ، مگر خاوند پر چار مہینے دس دن ( سوگ منائے)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ، نُمَيْرٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ - وَاللَّفْظُ لَهُمَا - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهُ وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ ‏.‏
Ibn Umar (Allah be pleased with them) reported Allah's Apostle (ﷺ) forbidding the sale of fruits until their good condition becomes evident and the purchase of dates for dates
ہمیں یحییٰ بن یحییٰ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے زہری سے خبر دی ، نیز ہمیں ابن نمیر اور زہیر بن حرب نے حدیث بیان کی ۔ ۔ الفاظ انہی دونوں کے ہیں ۔ ۔ دونوں نے کہا : ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی کہ ہمیں زہری نے سالم سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے ( پکنے کی ) صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلہے پھل کی بیع سے اور پھل کو خشک کھجور کے عوض بیچنے سے منع فرمایا
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، - يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ - عَنْ إِسْمَاعِيلَ، بْنِ سُمَيْعٍ حَدَّثَنَا أَبُو رَزِينٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنِ اتَّخَذَ كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ صَيْدٍ وَلاَ غَنَمٍ نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who kept a dog, but not meant for hunting or watching the herd, would lose one qirat of reward every day
ابورزین نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے ( ایسا ) کتا رکھا جو شکار یا بکریوں کا کتا نہیں ہے تو اس کے عمل سے ہر روز ایک قیراط کم ہو گا ۔
وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ نَافِعٍ، مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ فِي عَبْدٍ فَكَانَ لَهُ مِنَ الْمَالِ قَدْرُ مَا يَبْلُغُ قِيمَتَهُ قُوِّمَ عَلَيْهِ قِيمَةَ عَدْلٍ وَإِلاَّ فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ ‏"‏ ‏.‏
Abdullah b. 'Umar reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who gives up his share in a slave, and he has money enough to meet the full price, a fair price for him should be fixed; otherwise be has emancipated him to the extent that he has emancipated
جریر بن حازم نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے مولیٰ نافع سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے کسی ( مشترکہ ) غلام ( کی ملکیت میں ) سے اپنا حصہ آزاد کیا اور اس کے پاس اتنی مقدار میں مال ہے جو اس کی قیمت کو پہنچتا ہے ، تو اس کی منصفانہ قیمت لگائی جائے گی ( اور شریک کو اس کا حصہ ادا کر کے غلام اس کی طرف سے آزاد کیا جائے گا ۔ ) ورنہ وہ جتنا آزاد ہو چکا تھا اتنا ہی آزاد رہے گا
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ مُوسَى، بِهَذَا الإِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثَ وَحَدِيثُ ابْنُ جُرَيْجٍ أَكْثَرُ وَأَتَمُّ ‏.‏
A similar hadith has been transmitted by a different chain of narrators, but the hadith narrated by Ibn Juraij is more detailed and complete
حفص بن میسرہ نے موسیٰ سے یہ حدیث اسی سند کے ساتھ بیان کی اور ابن جریج کی حدیث زیادہ لمبی اور زیادہ مکمل ہے
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ، زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْكَعْبَةِ، قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ وَالنَّاسُ مُجْتَمِعُونَ عَلَيْهِ فَأَتَيْتُهُمْ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فَنَزَلْنَا مَنْزِلاً فَمِنَّا مَنْ يُصْلِحُ خِبَاءَهُ وَمِنَّا مَنْ يَنْتَضِلُ وَمِنَّا مَنْ هُوَ فِي جَشَرِهِ إِذْ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الصَّلاَةَ جَامِعَةً ‏.‏ فَاجْتَمَعْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلاَّ كَانَ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ يَدُلَّ أُمَّتَهُ عَلَى خَيْرِ مَا يَعْلَمُهُ لَهُمْ وَيُنْذِرَهُمْ شَرَّ مَا يَعْلَمُهُ لَهُمْ وَإِنَّ أُمَّتَكُمْ هَذِهِ جُعِلَ عَافِيَتُهَا فِي أَوَّلِهَا وَسَيُصِيبُ آخِرَهَا بَلاَءٌ وَأُمُورٌ تُنْكِرُونَهَا وَتَجِيءُ فِتْنَةٌ فَيُرَقِّقُ بَعْضُهَا بَعْضًا وَتَجِيءُ الْفِتْنَةُ فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ هَذِهِ مُهْلِكَتِي ‏.‏ ثُمَّ تَنْكَشِفُ وَتَجِيءُ الْفِتْنَةُ فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ هَذِهِ هَذِهِ ‏.‏ فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُزَحْزَحَ عَنِ النَّارِ وَيَدْخُلَ الْجَنَّةَ فَلْتَأْتِهِ مَنِيَّتُهُ وَهُوَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَلْيَأْتِ إِلَى النَّاسِ الَّذِي يُحِبُّ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْهِ وَمَنْ بَايَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ فَلْيُطِعْهُ إِنِ اسْتَطَاعَ فَإِنْ جَاءَ آخَرُ يُنَازِعُهُ فَاضْرِبُوا عُنُقَ الآخَرِ ‏"‏ ‏.‏ فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَقُلْتُ لَهُ أَنْشُدُكَ اللَّهَ آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَهْوَى إِلَى أُذُنَيْهِ وَقَلْبِهِ بِيَدَيْهِ وَقَالَ سَمِعَتْهُ أُذُنَاىَ وَوَعَاهُ قَلْبِي ‏.‏ فَقُلْتُ لَهُ هَذَا ابْنُ عَمِّكَ مُعَاوِيَةُ يَأْمُرُنَا أَنْ نَأْكُلَ أَمْوَالَنَا بَيْنَنَا بِالْبَاطِلِ وَنَقْتُلَ أَنْفُسَنَا وَاللَّهُ يَقُولُ ‏{‏ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلاَّ أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ وَلاَ تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا‏}‏ قَالَ فَسَكَتَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ أَطِعْهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ وَاعْصِهِ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ ‏.‏
It has been narrated on the authority of 'Abd al-Rahman b. Abd Rabb al-Ka'ba who said:I entered the mosque when 'Abdullah b. 'Amr b. al-'As was sitting in the shade of the Ka'ba and the people had gathered around him. I betook myself to them and sat near him. (Now) Abdullah said: I accompanied the Messenger of Allah (ﷺ) on a journey. We halted at a place. Some of us began to set right their tents, others began to compete with one another in shooting, and others began to graze their beasts, when an announcer of the Messenger of Allah (ﷺ) announced that the people should gather together for prayer, so we gathered around the Messenger of Allah (ﷺ). He said: It was the duty of every Prophet that has gone before me to guide his followers to what he knew was good for them and warn them against what he knew was bad for them; but this Umma of yours has its days of peace and (security) in the beginning of its career, and in the last phase of its existence it will be afflicted with trials and with things disagreeable to you. (In this phase of the Umma), there will be tremendous trials one after the other, each making the previous one dwindle into insignificance. When they would be afflicted with a trial, the believer would say: This is going to bring about my destruction. When at (the trial) is over, they would be afflicted with another trial, and the believer would say: This surely is going to be my end. Whoever wishes to be delivered from the fire and enter the garden should die with faith in Allah and the Last Day and should treat the people as he wishes to be treated by them. He who swears allegiance to a Caliph should give him the piedge of his hand and the sincerity of his heart (i. e. submit to him both outwardly as well as inwardly). He should obey him to the best of his capacity. It another man comes forward (as a claimant to Caliphate), disputing his authority, they (the Muslims) should behead the latter. The narrator says: I came close to him ('Abdullah b. 'Amr b. al-'As) and said to him: Can you say on oath that you heard it from the Messenger of Allah (ﷺ)? He pointed with his hands to his ears and his heart and said: My ears heard it and my mind retained it. I said to him: This cousin of yours, Mu'awiya, orders us to unjustly consume our wealth among ourselves and to kill one another, while Allah says:" O ye who believe, do not consume your wealth among yourselves unjustly, unless it be trade based on mutual agreement, and do not kill yourselves. Verily, God is Merciful to you" (iv. 29). The narrator says that (hearing this) Abdullah b. 'Amr b. al-As kept quiet for a while and then said: Obey him in so far as he is obedient to God; and diqobey him in matters involving disobedience to God
عبدالرحمن بن عبد رب الکعبہ سے روایت ہے میں مسجد میں گیا وہاں عبداﷲ بن عمرو بن العاصؓ کعبہ کے سایہ میں بیٹھے تھے اور لوگ ان کے پاس جمع تھے میں بھی گیا اور بیٹھا ۔ انہوں نے کہا ہم رسول اﷲ ﷺ کے ساتھ تھے ایک سفر میں تو ایک جگہ اترے ، کوئی اپنا ڈیرہ درست کرنے لگا ، کوئی تیر مارنے لگا ، کوئی اپنے جانوروں میں تھا کہ اتنے میں رسول اﷲ ﷺ کے پکارنے والے نے آواز دی نماز کے لیے اکٹھا ہوجاؤ ۔ ہم سب اپ کے پاس جمع ہوئے ۔ اپ نے فرمایا مجھ سے پہلے کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس پر ضروری نہ ہو اپنی امت کو جو بہتر بات اس کو معلوم ہو بتانا اور جو بری بات ہو اس سے ڈرانا اور تمہاری یہ امت اس کے پہلے حصہ میں سلامتی ہے اور اخیر حصے میں بلا ہے اور وہ باتیں ہیں جو تم کو بری لگیں گی اور ایسے فتنے آویں گے کہ ایک فتنہ دوسرے کو ہلکا اور پتلا کردے گا ( یعنی بعد کا فتنہ پہلے سے ایسا بڑھ کر ہوگا کہ پہلا فتنہ اس کے سامنے کچھ حقیقت نہ رکھے گا ) او رایک فتنہ آوے گا تو مومن کہے گا اس میں میری تباہی ہے پھر وہ جاتا رہے گا اور دوسرا آوے گا مومن کہے گا اس میں میری تباہی ہے ۔ پھر جو کوئی چاہے کہ جہنم سے بچے او رجنت میں جاوے اس کو چاہیے کہ مرے اﷲ تعالیٰ اور پچھلے دن پر یقین رکھ کر اور لوگوں سے وہ سلوک کرے جیسا وہ چاہتا ہو کہ لوگ اس سے کریں ۔ اور جو شخص کسی امام سے بیعت کرے اور اس کو اپنا ہاتھ دے دیوے اور دل سے نیت کرے اس کی تابعداری کی تو اس کی طاعت کرے اگر طاقت ہو ۔ اب اگر دوسرا امام اس سے لڑنے کو آوے تو ( اس کو منع کرو اگر نہ مانے بعیر لڑائی کے تو ) اس کی گردن مارو ۔ یہ سن کر میں عبداﷲ کے پسا گیا اور ان سے کہا میں تم کو قسم دیتا ہوں اﷲ کی تم نے یہ رسول اﷲ ﷺ سے سنا ہے؟ انہوں نے اپنے کانوں اور دل کی طرف اشارہ کیا ہاتھ سے اور کہا میرے کانوں نے سنا اور دل نے یاد رکھا ۔ میں نے کہا تمہارے چچا کے بیٹے معاویہؓ ہم کو حکم کرتے ہیں ایک دوسرے کا مال ناحق کھانے کے لیے او راپنی جانوں کو تباہ کرنے کے لیے اور اﷲتعالیٰ فرماتا ہے اے ایمان والو! مت کھاؤ اپنے مال ناحق مگر راضی سے دوداگری کرکے اور مت مارو اپنی جانوں کو بے شک اﷲ تعالیٰ تم پر مہربان ہے ۔ یہ سن کر عبداﷲ بن عمرو بن العاصؓ تھوڑی دیر تک چپ رہے پھر کہا معاویہؓ کی اطاعت کرو اس کام میں جو اﷲ کے حکم کے موافق ہو اور جو کام اﷲ تعالیٰ کے حکم کے خلاف ہو اس میں معاویہؓ کا کہنا نہ مانو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ، أَبِي أَوْفَى قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَبْعَ غَزَوَاتٍ نَأْكُلُ الْجَرَادَ ‏.‏
Ibn Abu Aufa reported:We went on seven expeditions with Allah's Messenger (ﷺ) and ate locusts
ابو عوانہ نے ابو یعفور سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوات میں شامل ہوئے ( جن کے دوران میں ) ہم ٹڈیاں کھاتے رہے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ مُسْلِمَ، بْنَ يَنَّاقَ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ رَأَى رَجُلاً يَجُرُّ إِزَارَهُ فَقَالَ مِمَّنْ أَنْتَ فَانْتَسَبَ لَهُ فَإِذَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثٍ فَعَرَفَهُ ابْنُ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِأُذُنَىَّ هَاتَيْنِ يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ لاَ يُرِيدُ بِذَلِكَ إِلاَّ الْمَخِيلَةَ فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏
Muslim b. Yannaq reported that Ibn Umar saw a person trailing his lower garment, whereupon he said:From whom do you come? He described his relationship (with the tribe he belonged) and it was found that he belonged to the tribe of Laith. Ibn. Umar recognised him and said: I heard Allah's Messenger (ﷺ) with these two ears of mine saying: He who trailed his lower garment with no other intention but pride, Allah would not look toward him on the Day of Resurrection
شعبہ نے کہا : میں نے مسلم بن یناق سے سنا ، وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کررہے تھے کہ انھوں نے ایک شخص کو چادر گھسیٹ کر چلتے ہوئے دیکھا انھوں نے اس سے پو چھا : تم کس قبیلے سے ہو ؟ اس نے نسب بتا یا وہ شخص بنو لیث سے تھا ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو پہچان لیا اور کہا : میں نے اپنے ان دونوں کانوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ فرما رہے تھے ۔ " جس شخص نے اپنی ازار ( کمر سے نیچے کی چادر وغیرہ ) گھسیٹی اس سے اس کا ارادہ تکبر کے سوا اور نہ تھا تو قیامت کے دن اللہ تعا لیٰ اس کی طرف نظر تک نہیں فرما ئے گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لَهُمَا - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شَدَّادٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَأْمُرُهَا أَنْ تَسْتَرْقِيَ مِنَ الْعَيْنِ ‏.‏
A'isha reported that Allah's Messenger (ﷺ) commanded the use of incantation for curing the influence of an evil eye
محمد بن بشر نے مسعر سے روایت کی ، کہا : ہمیں معبد بن خالد نے ابن شداد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں حکم دیتے تھے کہ وہ نظر بد سے ( شفا کے لیے دم کرالیں ۔)
حَدَّثَنِي أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ، زَيْدُ بْنُ يَزِيدَ أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، - وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ - قَالَ قَالَ إِسْحَاقُ قَالَ أَنَسٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ خُلُقًا فَأَرْسَلَنِي يَوْمًا لِحَاجَةٍ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لاَ أَذْهَبُ ‏.‏ وَفِي نَفْسِي أَنْ أَذْهَبَ لِمَا أَمَرَنِي بِهِ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَخَرَجْتُ حَتَّى أَمُرَّ عَلَى صِبْيَانٍ وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي السُّوقِ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ قَبَضَ بِقَفَاىَ مِنْ وَرَائِي - قَالَ - فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يَضْحَكُ فَقَالَ ‏ "‏ يَا أُنَيْسُ أَذَهَبْتَ حَيْثُ أَمَرْتُكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ أَنَا أَذْهَبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ أَنَسٌ وَاللَّهِ لَقَدْ خَدَمْتُهُ تِسْعَ سِنِينَ مَا عَلِمْتُهُ قَالَ لِشَىْءٍ صَنَعْتُهُ لِمَ فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا أَوْ لِشَىْءٍ تَرَكْتُهُ هَلاَّ فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا ‏.‏
Anas reported that Allah's Messenger (ﷺ) had the best disposition amongst people. He sent me on an errand one day, and I said:By Allah, I would not go. I had, however, this idea in my mind that I would do as Allah's Apostle (ﷺ) had commanded me to do. I went out until I happened to come across children who had been playing in the street. In the meanwhile, Allah's Messenger (ﷺ) came there and he caught me by the back of my neck from behind me. As I looked towards him I found him smiling and he said: Unais, did you go where I commanded you to go? I said: Allah's Messenger, yes, I am going. Anas further said: I served him for nine years but I know not that he ever said to me about a thing which I had done why I did that, or about a thing I had left as to why I had not done that
اسحٰق نے کہا : حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں میں اخلا ق کے سب سے اچھے تھے ، آپ نے ایک دن مجھے کسی کام سے بھیجا ، میں نے کہا : اللہ کی قسم! میں نہیں جا ؤں گا ۔ حالانکہ میرے دل میں یہ تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جس کام کا حکم دیا ہے میں اس کے لیے ضرورجا ؤں گا ۔ تومیں چلا گیا حتیٰ کہ میں چند لڑکوں کے پاس سے گزرا ، وہ بازار میں کھیل رہے تھے ، پھر اچانک ( میں نے دیکھا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے سے میری گدی سے مجھے پکڑ لیا ، میں نے آپ کی طرف دیکھا تو آپ ہنس رہے تھے ۔ آپ نے فرمایا : " اے چھوٹے انس! کیا تم وہاں گئے تھے جہاں ( جانے کو ) میں نے کہا تھا ؟ " میں نے کہا جی! ہاں ، اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں جا رہا ہوں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، وَمَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ قَالَ لَنَا الْمُشْرِكُونَ إِنِّي أَرَى صَاحِبَكُمْ يُعَلِّمُكُمْ حَتَّى يُعَلِّمَكُمُ الْخِرَاءَةَ ‏.‏ فَقَالَ أَجَلْ إِنَّهُ نَهَانَا أَنْ يَسْتَنْجِيَ أَحَدُنَا بِيَمِينِهِ أَوْ يَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ وَنَهَى عَنِ الرَّوْثِ وَالْعِظَامِ وَقَالَ ‏ "‏ لاَ يَسْتَنْجِي أَحَدُكُمْ بِدُونِ ثَلاَثَةِ أَحْجَارٍ ‏"‏ ‏.‏
Salman said that (one among) the polytheists remarked:I see that your friend even teaches you about the excrement. He replied; Yes, he has in fact forbidden us that anyone amongst us should cleanse himself with his right hand, or face the Qibla. He has forbidden the use of dung or bone for it, and he has also instructed us not to use less than three pebbles (for this purpose)
اعمش کے ایک اور شاگرد سفیان نے ان سے اور منصور سے ، ان دونوں نے ابراہیم سے ، انہوں نے عبد الرحمن بن یزید سے ، انہوں نے حضرت سلمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مشرکوں نے ہم سے کہا : میں دیکھتا ہوں کہ تمہارا ساتھی ( ہر چیز سکھاتا ہے یہاں تک کہ تمہیں قضائے حاجت کا طریقہ بھی سکھاتا ہے ۔ تو سلمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : ہاں ، انہوں ہمیں منع فرمایا ہے کہ ہم میں کوئی اپنے دائیں ہاتھ سے استنجا کرے یا قبلے کی طرف منہ کرے اور آپ نے ہمیں گوبر اور ہڈی ( سے استنجاکرنے ) سے روکا ہے اور آپ نے یہ بھی فرمایا ہے : ’’تم میں سے کوئی تین پتھروں سے کم کے ساتھ استنجا نہ کرے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، كِلاَهُمَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ‏.‏
Jabir reported this hadith through another chain of transmitters
ہشام بن عروہ اور سفیان بن عیینہ نے محمد بن منکدر سے ، انھوں نے جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ابن عیینہ کی حدیث کے ہم معنی روایت کی ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، - يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ - عَنْ عُبَيْدِ، اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ اتَّقُوا الظُّلْمَ فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَاتَّقُوا الشُّحَّ فَإِنَّ الشُّحَّ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ حَمَلَهُمْ عَلَى أَنْ سَفَكُوا دِمَاءَهُمْ وَاسْتَحَلُّوا مَحَارِمَهُمْ ‏"‏ ‏.‏
Jabir b. Abdullah reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:Be on your guard against committing oppression, for oppression is a darkness on the Day of Resurrection, and be on your guard against stinginess for stinginess destroyed those who were before you, as it incited them to shed blood and make lawful what was unlawful for them
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ظلم سے بچو ، کیونکہ ظلم قیامت کے دن ( دلوں پر چھانے والی ) ظلمتیں ہوں گی ۔ بخل اور ہوس سے بچو ، کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو بخل و ہوس نے ہلاک کر دیا ، اسی نے ان کو اکسایا تو انہوں نے اپنے ( ایک دوسرے کے ) خون بہائے اور اپنی حرمت والی چیزوں کو حلال کر لیا ۔
وَحَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ يَعْقُوبَ، أَنَّهُ ذَكَرَ لَهُ أَنَّ أَبَا صَالِحٍ، مَوْلَى غَطَفَانَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَدَغَتْنِي عَقْرَبٌ ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ وَهْبٍ ‏.‏
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Huraira with a slight variation of wording
لیث نے یزید بن ابی حبیب سے ، انہوں نے جعفر سے ، انہوں نے یعقوب سے روایت کی ، انہوں نے ان کو بتایا کہ غطفان کے آزاد کردہ غلام ابوصالح نے انہیں بتایا ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہتے تھے ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول! مجھے بچھو نے کاٹ لیا ۔ ( آگے ) ابن وہب کی حدیث کے مانند ہے ۔
حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لاَ يُدْخِلُ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ وَلاَ يُجِيرُهُ مِنَ النَّارِ وَلاَ أَنَا إِلاَّ بِرَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏
Jabir reported:I heard Allah's Apostle (ﷺ) as saying: None of you would get into Paradise because of his good deeds alone, and he would not be rescued from Fire, not even I, but because of the Mercy of Allah
ابو زبیر نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نےنبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل نہ جنت میں لے جائے گا ۔ نہ دوزخ سے محفوظ رکھے گا اور نہ مجھے سوائے اللہ کی طرف سے رحمت کے ( جو نجات کا سبب بنے گی ۔)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ الْعَرَقَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَيَذْهَبُ فِي الأَرْضِ سَبْعِينَ بَاعًا وَإِنَّهُ لَيَبْلُغُ إِلَى أَفْوَاهِ النَّاسِ أَوْ إِلَى آذَانِهِمْ ‏"‏ ‏.‏ يَشُكُّ ثَوْرٌ أَيَّهُمَا قَالَ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as say- ing:The perspiration would spread on the Day of Resurrection upon the earth to the extent of seventy cubits and it would reach up to their mouths or up to their ears. Thaur is not sure (which words) he used (mouth or ears)
عبد العزیز بن محمد نے ثور سے انھوں نے ابو الغیث سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یقیناًپسینہ ۔ قیامت کے دن زمین میں دونوں ہاتھوں کے پھیلاؤکے ستر گنا فاصلے تک چلا جائے گا اور لوگوں کے منہ یا ان کے کانوں تک پہنچاہو گا ۔ "" ثور کو شک ہے کہ انھوں ( ابو الغیث ) نے دونوں میں سے کون سے الفاظ کہے ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - عَنْ ثَوْرِ بْنِ، زَيْدٍ عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ رَجُلٌ مِنْ قَحْطَانَ يَسُوقُ النَّاسَ بِعَصَاهُ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messengar (ﷺ) as saying:The Last Hour would not come before a person of Qahtan comes forth driving people with his stick
قتیبہ بن سعید نے اسی سند سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ قحطان کا ایک شخص لوگوں کو اپنی لاٹھی سے ہانکے گا ۔
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، مَالِكُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنًا، لأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ يُحَدِّثُ أَبِي عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا تَثَاوَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيُمْسِكْ بِيَدِهِ عَلَى فِيهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ ‏"‏ ‏.‏
The son of Abu Said al-Khudri reported on the authority of his father that Allah's Messenger (ﷺ) said:When one of you yawns, he should keep his mouth shut with the help of his hand, for it is the devil that enters therein
بشر بن مفضل نے کہا : ہمیں سہیل بن ابی صالح نے حدیث بیان کی انھوں نے کہا : میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے ( عبدالرحمان ) سے سنا وہ میرے والد کو اپنے والد سے حدیث بیان کر رہے تھے انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کسی شخص کو جمائی آئے تو وہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر اس کو روکے کیونکہ ( ایسا نہ کرنے سے ) شیطان اندر داخل ہو تا ہے ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ دَخَلَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ شَكَلٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَغْتَسِلُ إِحْدَانَا إِذَا طَهُرَتْ مِنَ الْحَيْضِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ غُسْلَ الْجَنَابَةِ ‏.‏
A'isha reported:Asma' b. Shakal came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: Messenger of Allah, how one amongst us should take a bath after the menstruation, and the rest of the hadith is the same and there is no mention of bathing because of sexual intercourse
(شعبہ کے استاد ) ابراہیم بن مہاجر سے ( شعبہ کے بجائے ) ابو احوص کی سند سے صفیہ بنت شیبہ کے حوالے سےحضرت عائشہؓ سے روایت ہے ، انہوں نےکہا : اسماءبنت شکل ؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا : اے اللہ کے رسول! جب ہم میں سے کوئی عورت غسل حیض کرے تو کیسے نہائے؟ اور ( اسی طرح ) حدیث بیان کی اور اس میں غسل جنابت کا ذکر نہیں کیا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ صَلَّى عَلَىَّ وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: He who blesses me once, Allah would bless him ten times
۔ حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نےفرمایا : جس نے مجھ پر ایک بار درود بھیجا اللہ تعالیٰ اس پر دس بار رحمت نازل فرمائے گا ۔