وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ، قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْبُزَاقُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ وَكَفَّارَتُهَا دَفْنُهَا " .
Anas b. Malik reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: Spitting in a mosque is a sin, and its expiation is that it should be buried
ابو عوانہ نے قتادہ سے اور انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’مسجد میں تھوکنا ایک گنا ہ ہے اور اس کا کفارہ یہ ہے کہ ( اگر فرش کچا ہےتو ) اسے دفن کر دیا جائے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي عَاصِمٍ، - قَالَ عَبْدٌ أَنْبَأَنَا أَبُو عَاصِمٍ، - عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الزُّبَيْرِ، يَقُولُ سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ " .
It is narrated on the authority of Jabir that he heard the (Holy Prophet) say:A Muslim is he from whose hand and tongue the Muslims are safe
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا : ’’ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لاَ يَجْعَلَنَّ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ مِنْ نَفْسِهِ جُزْءًا لاَ يَرَى إِلاَّ أَنَّ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ لاَ يَنْصَرِفَ إِلاَّ عَنْ يَمِينِهِ أَكْثَرُ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْصَرِفُ عَنْ شِمَالِهِ .
Abdullah reported:None of you should give a share to Satan out of your self. He should not deem that it is necessary for him to turn but to the right only (after prayer). I saw the Messenger of Allah (ﷺ) turning to the left
ابو معاویہ اور وکیع نے اعمش سے ، انھوں نے عمارہ سے ، انھوں نے اسود سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( بن مسعود ) سے روایت کی ، کہا : تم میں سے کوئی شخص اپنی ذات میں سے شیطان کاحصہ نہ رکھے ( وہم اور وسوسے کا شکار نہ ہو ) یہ خیال نہ کرے کہ اس پر لازم ہے کہ وہ نماز سےدائیں کے علاوہ کسی اور جانب سے رخ نہ موڑے ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اکثر دیکھا تھا ، آپ بائیں جانب سے رخ مبارک موڑتے تھے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَمَا قَالَ حَمَّادٌ وَلَمْ يَذْكُرِ الرَّكْعَتَيْنِ .
This hadith is narrated by Jabir through another chain of transmitters but Hammad (one of the narrators) made no mention of the two rak'ahs
ایوب نے عمرو ( بن دینار ) سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حماد کی طرح روایت کی ، اور انھوں ( ایوب ) نے بھی اس میں دو رکعت کا ذکر نہیں کیا ( البتہ اگلی روایت میں سفیان نے کیا ہے ۔)
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلُ، بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ حَدَّثَنِي رِجَالٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِ حَدِيثِ مَعْمَرٍ وَقَالَ " وَمَنِ اتَّبَعَهَا حَتَّى تُدْفَنَ " .
This hadith is narrated on thp authority of Abu Huraira through another chain of transmitters (with these words):" He who followed it (the bier) till he (the dead) is buried
عقیل بن خالد نے ابن شہاب سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : مجھے کئی لو گوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث سنا ئی اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جس طرح معمر کی حدیث ہے اور کہا : اور جو اس کو دفن کیے جا نے تک اس کے ساتھ رہا ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ - حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلاَّمٍ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي سَلاَّمٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ، بْنُ فَرُّوخَ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ، تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خُلِقَ كُلُّ إِنْسَانٍ " . بِنَحْوِ حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ عَنْ زَيْدٍ . وَقَالَ " فَإِنَّهُ يَمْشِي يَوْمَئِذٍ " .
This hadith has been narrated by 'A'isha through anothr chain of transmitters in which she reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:" Every man is created" ; the rest of the hadith is the same and he said:" He walks on that day
حییٰ نے زید بن سلام سے اور انھوں نے اپنے دادا ابو سلام سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے عبداللہ بن فروخ نے حدیث بیان کی کہ انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہر انسان کو پیدا کیا گیا ہے ۔ ۔ " آگے زید سے معاویہ کی روایت کے مانند بیان کیا اور کہا : " فانه يمشي يومئيذ تو وہ اس دن چلے گا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْوِصَالِ قَالُوا إِنَّكَ تُوَاصِلُ . قَالَ " إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى " .
Ibn 'Umar (Allah be pleased with both of them) said that the Messenger of Allah (ﷺ) forbade uninterrupted fasting. They (some of the Companions) said:You yourself fast uninterruptedly, whereupon he said: I am not like you. I am fed and supplied drink (by Allah)
یحییٰ بن یحییٰ ، نافع ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم وصال سے منع فرمایا ہے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کیا کہ آپ تو وصال کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں کیونکہ مجھے تو کھلایا اور پلایا جاتا ہے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَإِسْحَاقُ، عَنْ جَرِيرٍ، كِلاَهُمَا عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ كَانَ أَبُو قَتَادَةَ فِي نَفَرٍ مُحْرِمِينَ وَأَبُو قَتَادَةَ مُحِلٌّ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ وَفِيهِ قَالَ " هَلْ أَشَارَ إِلَيْهِ إِنْسَانٌ مِنْكُمْ أَوْ أَمَرَهُ بِشَىْءٍ " . قَالُوا لاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " فَكُلُوا " .
Abdullah b. Abi Qatada reported that Abu Qatada was among the party of those who had entered upon the state of Ihram whereas he was not. The rest of the hadith is the same (and herein it is also narrated):" He (the Holy Prophet) said: Did any person among you point to him (to hunt) or command him (in any form)? They said: Messenger of Allah, not at all. Thereupon he said: Then eat it
عبد العزیز بن رفیع نے عبد اللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحا بہ کرا م رضوان اللہ عنھم اجمعین کی نفری میں تھے انھوں نے احرا م باندھا ہوا تھا اور وہ خود احرا م کے بغیر تھے اورحدیث بیان کی اور اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " کیا تم میں سے کسی انسا ن نے اس ( شکار ) کی طرف اشارہ کیا تھا یا انھیں ( ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ) کچھ کرنے کو کہا تھا ؟ انھوں نے کہا : نہیں اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے فر ما یا : " تو پھر تم اسے کھا ؤ ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّرَّاجِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الشِّغَارِ .
Ibn Umar (Allah be pleased with them) reported that Allah's Messenger (ﷺ) prohibited Shighar
عبدالرحمٰن سراج نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَقِيتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " يَا جَابِرُ تَزَوَّجْتَ " . قُلْتُ نَعَمْ . قَالَ " بِكْرٌ أَمْ ثَيِّبٌ " . قُلْتُ ثَيِّبٌ . قَالَ " فَهَلاَّ بِكْرًا تُلاَعِبُهَا " . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي أَخَوَاتٍ فَخَشِيتُ أَنْ تَدْخُلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُنَّ . قَالَ " فَذَاكَ إِذًا . إِنَّ الْمَرْأَةَ تُنْكَحُ عَلَى دِينِهَا وَمَالِهَا وَجَمَالِهَا فَعَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ " .
Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with them) reported:I married a woman during the lifetime of Allah's Messenger (may peace be. upon him). I met the Messenger of Allah (ﷺ), whereupon he said: Jabir, have you married? I said: Yes. He said: A virgin or one previously marrried? I said: With due previously married, whereupon he said: Why did you not marry a virgin with whom you could sport? I said: Allah's Messenger, I have sisters; I was afraid that she might intervene between me and them, whereupon he said: Well and good, if it is so. A woman is married for four reasons, for her religion, her property, her status, her beauty, so you should choose one with religion. May your hands cleave to dust
عطاء سے روایت ہے ، کہا : مجھے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت سے شادی کی ، میری ملاقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی تو آپ نے پوچھا : " جابر! تم نے نکاح کر لیا ہے؟ " میں نے عرض کی : جی ہاں ۔ آپ نے فرمایا : " کنواری ہے یا دوہاجو ( شوہر دیدہ ) ؟ " میں نے عرض کی : دوہاجو ۔ آپ نے فرمایا : " باکرہ سے کیوں نہ کی ، تم اس سے دل لگی کرتے؟ " میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! میری بہنیں ہیں تو میں ڈرا کہ وہ میرے اور ان کے درمیان حائل ہو جائے گی ، آپ نے فرمایا : " پھر ٹھیک ہے ، بلاشبہ کسی عورت سے شادی ( میں رغبت ) اس کے دین ، مال اور خوبصورتی کی وجہ سے کی جاتی ہے ، تم دین والی کو چنو تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ طُلِّقَتْ خَالَتِي فَأَرَادَتْ أَنْ تَجُدَّ نَخْلَهَا فَزَجَرَهَا رَجُلٌ أَنْ تَخْرُجَ فَأَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " بَلَى فَجُدِّي نَخْلَكِ فَإِنَّكِ عَسَى أَنْ تَصَدَّقِي أَوْ تَفْعَلِي مَعْرُوفًا " .
Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with them) reported:My maternal aunt was divorced, and she intended to pluck her dates. A person scolded her for having come out (during the period of 'Idda). She came to Allah's Prophet (may peace be upon him.) and he said: Certainly you can pluck (dates) from your palm trees, for perhaps you may give charity or do an act of kindness
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میری خالہ کو طلاق ہو گئی ، انہوں نے ( دورانِ عدت ) اپنی کھجوروں کا پھل توڑنے کا ارادہ کیا ، تو ایک آدمی نے انہیں ( گھر سے ) باہر نکلنے پر ڈانٹا ۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، تو آپ نے فرمایا : " کیوں نہیں ، اپنی کھجوروں کا پھل توڑو ، ممکن ہے کہ تم ( اس سے ) صدقہ کرو یا کوئی اور اچھا کام کرو
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، كِلاَهُمَا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَزَادَ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ فَقِيلَ لاِبْنِ عُمَرَ مَا صَلاَحُهُ قَالَ تَذْهَبُ عَاهَتُهُ .
In the hadith transmitted on the authority of Shu'ba it was stated that Ibn Umar (Allah be pleased with them) was asked what good condition implied. He said:When (the danger of) blight is no more
سفیان اور شعبہ دونوں نے عبداللہ بن دینار سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، شعبہ کی حدیث میں یہ اضافہ ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا : اس کی صلاحیت سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا : اس سے آفت ( بورگر جانے اور بیماری لگ جانے ) کا وقت ختم ہو جائے
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ، شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ صَيْدٍ وَلاَ مَاشِيَةٍ وَلاَ أَرْضٍ فَإِنَّهُ يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ قِيرَاطَانِ كُلَّ يَوْمٍ " . وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَبِي الطَّاهِرِ " وَلاَ أَرْضٍ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who kept a dog which is neither meant for hunting nor for watching the anitmals nor for watching the fields would lose two qirat every day out of his reward; and there is no mention of the fields in the hadith transmitted by Abu Tahir
ابوطاہر اور حرملہ نے کہا : ہمیں ابن وہب نے خبر دی ، انہوں نے کہا : مجھے یونس نے ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے سعید بن مسیب سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : "" جس شخص نے کتا پالا جو شکاری ہے ، نہ مویشیوں کے لیے ہے اور نہ ہی زمین کے لیے ، اس کے اجر سے ہر روز دو قیراط کم ہوں گے ۔ "" ابوطاہر کی حدیث میں "" نہ زمین کے لیے "" کے الفاظ نہیں ہیں ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا أَدَّى الْعَبْدُ حَقَّ اللَّهِ وَحَقَّ مَوَالِيهِ كَانَ لَهُ أَجْرَانِ " . قَالَ فَحَدَّثْتُهَا كَعْبًا فَقَالَ كَعْبٌ لَيْسَ عَلَيْهِ حِسَابٌ وَلاَ عَلَى مُؤْمِنٍ مُزْهِدٍ .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When a slave fulfils obligation of Allah and obligation of his master, he has two rewards for him. I narrated this to Ka'b, and Ka'b said: (Such a slave) has no accountability, nor has a poor believer
ابو معاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب غلام اللہ کا حق اور اپنے آقاؤں کا حق ادا کرے تو اس کے لیے دو اجر ہیں ۔ " کہا : میں نے یہ حدیث کعب کو سنائی تو کعب نے کہا : نہ اس ( غلام ) کا حساب ہو گا نہ ہی کم مال والے مومن کا حساب ہو گا
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، - يَعْنِي ابْنَ عِيسَى - حَدَّثَنَا مَالِكٌ، كِلاَهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِإِسْنَادِ اللَّيْثِ . مِثْلَ حَدِيثِهِ .
A hadith like this has been transmitted on the authority of Zuhri
ابن عیینہ اور امام مالک دونوں نے زہری سے لیث کی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي سِمَاكٌ، الْحَنَفِيُّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ ح وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ - هُوَ سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ - حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ نَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْمُشْرِكِينَ وَهُمْ أَلْفٌ وَأَصْحَابُهُ ثَلاَثُمِائَةٍ وَتِسْعَةَ عَشَرَ رَجُلاً فَاسْتَقْبَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْقِبْلَةَ ثُمَّ مَدَّ يَدَيْهِ فَجَعَلَ يَهْتِفُ بِرَبِّهِ " اللَّهُمَّ أَنْجِزْ لِي مَا وَعَدْتَنِي اللَّهُمَّ آتِ مَا وَعَدْتَنِي اللَّهُمَّ إِنْ تَهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةُ مِنْ أَهْلِ الإِسْلاَمِ لاَ تُعْبَدْ فِي الأَرْضِ " . فَمَازَالَ يَهْتِفُ بِرَبِّهِ مَادًّا يَدَيْهِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ حَتَّى سَقَطَ رِدَاؤُهُ عَنْ مَنْكِبَيْهِ فَأَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ فَأَخَذَ رِدَاءَهُ فَأَلْقَاهُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ الْتَزَمَهُ مِنْ وَرَائِهِ . وَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ كَذَاكَ مُنَاشَدَتُكَ رَبَّكَ فَإِنَّهُ سَيُنْجِزُ لَكَ مَا وَعَدَكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلاَئِكَةِ مُرْدِفِينَ} فَأَمَدَّهُ اللَّهُ بِالْمَلاَئِكَةِ . قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ فَحَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَئِذٍ يَشْتَدُّ فِي أَثَرِ رَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ أَمَامَهُ إِذْ سَمِعَ ضَرْبَةً بِالسَّوْطِ فَوْقَهُ وَصَوْتَ الْفَارِسِ يَقُولُ أَقْدِمْ حَيْزُومُ . فَنَظَرَ إِلَى الْمُشْرِكِ أَمَامَهُ فَخَرَّ مُسْتَلْقِيًا فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَإِذَا هُوَ قَدْ خُطِمَ أَنْفُهُ وَشُقَّ وَجْهُهُ كَضَرْبَةِ السَّوْطِ فَاخْضَرَّ ذَلِكَ أَجْمَعُ . فَجَاءَ الأَنْصَارِيُّ فَحَدَّثَ بِذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " صَدَقْتَ ذَلِكَ مِنْ مَدَدِ السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ " . فَقَتَلُوا يَوْمَئِذٍ سَبْعِينَ وَأَسَرُوا سَبْعِينَ . قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَلَمَّا أَسَرُوا الأُسَارَى قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ " مَا تَرَوْنَ فِي هَؤُلاَءِ الأُسَارَى " . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا نَبِيَّ اللَّهِ هُمْ بَنُو الْعَمِّ وَالْعَشِيرَةِ أَرَى أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُمْ فِدْيَةً فَتَكُونُ لَنَا قُوَّةً عَلَى الْكُفَّارِ فَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُمْ لِلإِسْلاَمِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا تَرَى يَا ابْنَ الْخَطَّابِ " . قُلْتُ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَرَى الَّذِي رَأَى أَبُو بَكْرٍ وَلَكِنِّي أَرَى أَنْ تُمَكِّنَّا فَنَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ فَتُمَكِّنَ عَلِيًّا مِنْ عَقِيلٍ فَيَضْرِبَ عُنُقَهُ وَتُمَكِّنِّي مِنْ فُلاَنٍ - نَسِيبًا لِعُمَرَ - فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ فَإِنَّ هَؤُلاَءِ أَئِمَّةُ الْكُفْرِ وَصَنَادِيدُهَا فَهَوِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَلَمْ يَهْوَ مَا قُلْتُ فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ جِئْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ قَاعِدَيْنِ يَبْكِيَانِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي مِنْ أَىِّ شَىْءٍ تَبْكِي أَنْتَ وَصَاحِبُكَ فَإِنْ وَجَدْتُ بُكَاءً بَكَيْتُ وَإِنْ لَمْ أَجِدْ بُكَاءً تَبَاكَيْتُ لِبُكَائِكُمَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَبْكِي لِلَّذِي عَرَضَ عَلَىَّ أَصْحَابُكَ مِنْ أَخْذِهِمُ الْفِدَاءَ لَقَدْ عُرِضَ عَلَىَّ عَذَابُهُمْ أَدْنَى مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ " . شَجَرَةٍ قَرِيبَةٍ مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الأَرْضِ} إِلَى قَوْلِهِ { فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلاَلاً طَيِّبًا} فَأَحَلَّ اللَّهُ الْغَنِيمَةَ لَهُمْ .
It has been narrated on the authority of `Umar b. al-Khattab who said:When it was the day on which the Battle of Badr was fought, the Messenger of Allah (ﷺ) cast a glance at the infidels, and they were one thousand while his own Companions were three hundred and nineteen. The Prophet (ﷺ) turned (his face) towards the Qibla. Then he stretched his hands and began his supplication to his Lord: "O Allah, accomplish for me what Thou hast promised to me. O Allah, bring about what Thou hast promised to me. O Allah, if this small band of Muslims is destroyed. Thou will not be worshipped on this earth." He continued his supplication to his Lord, stretching his hands, facing the Qibla, until his mantle slipped down from his shoulders. So Abu Bakr came to him, picked up his mantle and put it on his shoulders. Then he embraced him from behind and said: Prophet of Allah, this prayer of yours to your Lord will suffice you, and He will fulfill for you what He has promised you. So Allah, the Glorious and Exalted, revealed (the Qur'anic verse): "When ye appealed to your Lord for help, He responded to your call (saying): I will help you with one thousand angels coming in succession." So Allah helped him with angels. Abu Zumail said that the hadith was narrated to him by Ibn `Abbas who said: While on that day a Muslim was chasing a disbeliever who was going ahead of him, he heard over him the swishing of the whip and the voice of the rider saying: Go ahead, Haizum! He glanced at the polytheist who had (now) fallen down on his back. When he looked at him (carefully he found that) there was a scar on his nose and his face was torn as if it had been lashed with a whip, and had turned green with its poison. An Ansari came to the Messenger of Allah (ﷺ) and related this (event) to him. He said: You have told the truth. This was the help from the third heaven. The Muslims that day (i.e. the day of the Battle of Badr) killed seventy persons and captured seventy. The Messenger of Allah (ﷺ) said to Abu Bakr and `Umar (Allah be pleased with them): What is your opinion about these captives? Abu Bakr said: They are our kith and kin. I think you should release them after getting from them a ransom. This will be a source of strength to us against the infidels. It is quite possible that Allah may guide them to Islam. Then the Messenger of Allah (ﷺ) said: What is your opinion, Ibn Khattab? He said: Messenger of Allah, I do not hold the same opinion as Abu Bakr. I am of the opinion that you should hand them over to us so that we may cut off their heads. Hand over `Aqil to `Ali that he may cut off his head, and hand over such and such relative to me that I may cut off his head. They are leaders of the disbelievers and veterans among them. The Messenger of Allah (ﷺ) approved the opinion of Abu Bakr and did not approve what I said. The next day when I came to the Messenger of Allah (ﷺ), I found that both he and Abu Bakr were sitting shedding tears. I said: Messenger of Allah, why are you and your Companion shedding tears? Tell me the reason. For I will weep, or I will at least pretend to weep in sympathy with you. The Messenger of Allah (ﷺ) said: I weep for what has happened to your companions for taking ransom (from the prisoners). I was shown the torture to which they were subjected. It was brought to me as close as this tree. (He pointed to a tree close to him.) Then God revealed the verse: "It is not befitting for a prophet that he should take prisoners until the force of the disbelievers has been crushed..." to the end of the verse: "so eat ye the spoils of war, (it is) lawful and pure. So Allah made booty lawful for them
ابوزمیل سماک حنفی نے کہا : مجھے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : جب در کا دن تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کی طرف دیکھا ، وہ ایک ہزار تھے ، اور آپ کے ساتھ تین سو انیس آدمی تھے ، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رخ ہوئے ، پھر اپنے ہاتھ پھیلائے اور بلند آواز سے اپنے رب کو پکارنے لگے : "" اے اللہ! تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا اسے میرے لیے پورا فرما ۔ اے اللہ! تو نے جو مجھ سے وعدہ کیا مجھے عطا فرما ۔ اے اللہ! اگر اہل اسلام کی یہ جماعت ہلاک ہو گئی تو زمین میں تیری بندگی نہیں ہو گی ۔ "" آپ قبلہ رو ہو کر اپنے ہاتھوں کو پھیلائے مسلسل اپنے رب کو پکارتے رہے حتی کہ آپ کی چادر آپ کے کندھوں سے گر گئی ۔ اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آئے ، چادر اٹھائی اور اسے آپ کے کندھوں پر ڈالا ، پھر پیچھے سے آپ کے ساتھ چمٹ گئے اور کہنے لگے : اللہ کے نبی! اپنے رب سے آپ کا مانگنا اور پکارنا کافی ہو گیا ۔ وہ جلد ہی آپ سے کیا ہوا اپنا وعدہ پورا فرمائے گا ۔ اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی : "" جب تم لوگ اپنے رب سے مدد مانگ رہے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول کی کہ میں ایک دوسرے کے پیچھے اترنے والے ایک ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کروں گا ۔ "" پھر اللہ نے فرشتوں کے ذریعے سے آپ کی مدد فرمائی ۔ ابوزمیل نے کہا : مجھے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : اس دوران میں ، اس دن مسلمانوں میں سے ایک شخص اپنے سامنے بھاگتے ہوئے مشرکوں میں سے ایک آدمی کے پیچھے دوڑ رہا تھا کہ اچانک اس نے اپنے اوپر سے کوڑا مارنے اور اس کے اوپر سے گھڑ سوار کی آواز سنی ، جو کہہ رہا تھا : حیزوم! آگے بڑھ ۔ اس نے اپنے سامنے مشرک کی طرف دیکھا تو وہ چت پڑا ہوا تھا ، اس نے اس پر نظر ڈالی تو دیکھا کہ اس کی ناک پر نشان پڑا ہوا تھا ، کوڑے کی ضرب کی طرح اس کا چہرہ پھٹا ہوا تھا اور وہ پورے کا پورا سبز ہو چکا تھا ، وہ انصاری آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی تو آپ نے فرمایا : "" تم نے سچ کہا ، یہ تیسرے آسمان سے ( آئی ہوئی ) مدد تھی ۔ "" انہوں ( صحابہ ) نے اس دن ستر آدمی قتل کیے اور ستر قیدی بنائے ۔ ابوزمیل نے کہا : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب انہوں نے قیدیوں کو گرفتار کر لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا : "" ان قیدیوں کے بارے میں تمہاری رائے کیا ہے؟ "" تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : اے اللہ کے نبی! یہ ہمارے چچا زاد اور خاندان کے بیٹے ہیں ۔ میری رائے ہے کہ آپ ان سے فدیہ لے لیں ، یہ کافروں کے خلاف ہماری قوت کا باعث ہو گا ، ہو سکتا ہے کہ اللہ ان کو اسلام کی راہ پر چلا دے ۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : "" ابن خطاب! تمہاری کیا رائے ہے؟ "" کہا : میں نے عرض کی : نہیں ، اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میری رائے وہ نہیں جو ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ہے ، بلکہ میری رائے یہ ہے کہ آپ ہمیں اختیار دیں اور ہم ان کی گردنیں اڑا دیں ۔ آپ عقیل پر علی رضی اللہ عنہ کو اختیار دیں وہ اس کی گردن اڑا دیں اور مجھے فلاں ۔ ۔ عمر کے ہم نسب ۔ ۔ پر اختیار دیں تو میں اس کی گردن اڑا دوں ۔ یہ لوگ کفر کے پیشوا اور بڑے سردار ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو پسند کیا جو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہی تھی اور جو میں نے کہا تھا اسے پسند نہ فرمایا ۔ جب اگلا دن ہوا ( اور ) میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ دونوں بیٹھے ہوئے ہیں اور دونوں رو رہے ہیں ۔ میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! مجھے بتائیے ، آپ اور آپ کا ساتھی کس چیز پر رو رہے ہیں؟ اگر مجھے رونا آ یا تو میں بھی روؤں گا اور اگر مجھے رونا نہ آیا تو بھی میں آپ دونوں کے رونے کی بنا پر رونے کی کوشش کروں گا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" میں اس بات پر رو رہا ہوں جو تمہارے ساتھیوں نے ان سے فدیہ لینے کے بارے میں میرے سامنے پیش کی تھی ، ان کا عذاب مجھے اس درخت سے بھی قریب تر دکھایا گیا "" ۔ ۔ وہ درخت جو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تھا ۔ ۔ اور اللہ عزوجل نے یہ آیات نازل فرمائی ہیں : "" کسی نبی کے لیے ( روا ) نہ تھا کہ اس کے پاس قیدی ہوں ، یہاں تک کہ وہ زمین میں اچھی طرح خون بہائے ۔ ۔ ۔ "" اس فرمان تک ۔ ۔ ۔ "" تو تم اس میں سے کھاؤ جو حلال اور پاکیزہ غنیمتیں تم نے حاصل کی ہیں ۔ "" تو اس طرح اللہ نے ان کے لیے غنیمت کو حلال کر دیا
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبِ بْنِ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنِي بُكَيْرٌ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، قَالَ دَخَلْنَا عَلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَهُوَ مَرِيضٌ فَقُلْنَا حَدِّثْنَا أَصْلَحَكَ اللَّهُ، بِحَدِيثٍ يَنْفَعُ اللَّهُ بِهِ سَمِعْتَهُ مِنْ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَقَالَ دَعَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَبَايَعْنَاهُ فَكَانَ فِيمَا أَخَذَ عَلَيْنَا أَنْ بَايَعَنَا عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي مَنْشَطِنَا وَمَكْرَهِنَا وَعُسْرِنَا وَيُسْرِنَا وَأَثَرَةٍ عَلَيْنَا وَأَنْ لاَ نُنَازِعَ الأَمْرَ أَهْلَهُ قَالَ " إِلاَّ أَنْ تَرَوْا كُفْرًا بَوَاحًا عِنْدَكُمْ مِنَ اللَّهِ فِيهِ بُرْهَانٌ " .
It has been narrated on the authority of Junida b. Abu Umayya who said:We called upon 'Ubada b. Samit who was ill and said to him: May God give you health I Narrate to us a tradition which God may prove beneficial (to us) and which you have heard from the Messenger of Allah (ﷺ). He said: The Messenger of Allah (ﷺ) called us and we took the oath of allegiance to him. Among the injunctions he made binding upon us was: Listening and obedience (to the Amir) in our pleasure and displeasure, in our adversity and prosperity, even when somebody is given preference over us, and without disputing the delegation of powers to a man duly invested with them (Obedience shall be accorded to him in all circumstances) except when you have clear signs of his disbelief in (or disobedience to) God-signs that could be used as a conscientious justification (for non-compliance with his orders)
جنادہ بن ابی امیہ سے روایت ہے ، کہا : ہم حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے ، وہ ( اس وقت ) بیمار تھے ، ہم نے عرض کی : اللہ تعالیٰ آپ کو صحت عطا فرمائے ، ہم کو ایسی حدیث سنائیے جس سے ہمیں فائدہ ہوا اور جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو ، ( حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو بلایا ، ہم نے آپ کےساتھ بیعت کی ، آپ نے ہم سے جن چیزوں پر بیعت لی وہ یہ تھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے خوشی اور ناخوشی میں اور مشکل اور آسانی میں اور ہم پر ترجیح دیے جانے کی صورت میں ، سننے اور اطاعت کرنے پر بیعت کی اور اس پر کہ ہم اقتدار کے معاملے میں اس کی اہلیت رکھنے والوں سے تنازع نہیں کریں گے ۔ کہا : ہاں ، اگر تم اس میں کھلم کھلا کفر دیکھو جس کے ( کفر ہونے پر ) تمہارے پاس ( قرآن اور سنت سے ) واضح آثار موجود ہوں
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ، الأَصَمِّ قَالَ دَعَانَا عَرُوسٌ بِالْمَدِينَةِ فَقَرَّبَ إِلَيْنَا ثَلاَثَةَ عَشَرَ ضَبًّا فَآكِلٌ وَتَارِكٌ فَلَقِيتُ ابْنَ عَبَّاسٍ مِنَ الْغَدِ فَأَخْبَرْتُهُ فَأَكْثَرَ الْقَوْمُ حَوْلَهُ حَتَّى قَالَ بَعْضُهُمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ آكُلُهُ وَلاَ أَنْهَى عَنْهُ وَلاَ أُحَرِّمُهُ " . فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ بِئْسَ مَا قُلْتُمْ مَا بُعِثَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ مُحِلاًّ وَمُحَرِّمًا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَمَا هُوَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ وَعِنْدَهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَامْرَأَةٌ أُخْرَى إِذْ قُرِّبَ إِلَيْهِمْ خِوَانٌ عَلَيْهِ لَحْمٌ فَلَمَّا أَرَادَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَأْكُلَ قَالَتْ لَهُ مَيْمُونَةُ إِنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ . فَكَفَّ يَدَهُ وَقَالَ " هَذَا لَحْمٌ لَمْ آكُلْهُ قَطُّ " . وَقَالَ لَهُمْ " كُلُوا " . فَأَكَلَ مِنْهُ الْفَضْلُ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَالْمَرْأَةُ . وَقَالَتْ مَيْمُونَةُ لاَ آكُلُ مِنْ شَىْءٍ إِلاَّ شَىْءٌ يَأْكُلُ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Yazid b. al-Asamm reported:A newly wedded person of Medina invited us to a wedding feast, and he served us thirteen lizards. There were those who ate it and those who abandoned it. I met Ibn 'Abbas the next day, and informed him (about this) in the presence of many persons. Some of them said that the Messenger of Allah (ﷺ) had observed: I neither eat it nor forbid (anyone) from eating it, nor declare it to be unlawful. Thereupon Ibn 'Abbas said: Sad it is what you say! Allah's Apostle (ﷺ) has not been sent, but (to declare in clear words) the lawful and the unlawful (things). We were once with Allah's Messenger (may peace be. upon him) as he was with Maimuna, and there were with him al-Fadl b. 'Abbas, Khalid b. Walid and some women (also) when a tray of food containing flesh was presented to him. As Allah's Apostle (ﷺ) was about to eat that, Maimuna said: It is the flesh of the lizard. He withdrew his hand saying: That is the flesh which I never eat; but he said to them (those who were present there): You may eat. Al-Fadl ate out of that, so did Khalid b Walid, and the women. Maimuna (however) said: I do not eat anything but that which Allah's Messenger (ﷺ) eats
شیبانی نے یزید بن اصم سے روایت کی ، کہا : مدینہ منورہ میں ایک دلھا نے ہماری دعوت کی اور ہمیں تیرہ عدد ( بھنے ہو ئے ) سانڈے پیش کیے ۔ کو ئی ( اس کو ) کھا نے والا تھا کو ئی نہ کھا نے والا ۔ دوسرے دن میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا اور میں نے ان کو یہ بات بتا ئی ۔ ان کے اردگرد مو جود لوگوں نے بہت سی باتیں کیں حتی کہ کسی نے یہ بھی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا تھا : " میں اسے نہ کھاتا ہوں نہ روکتا ہوں نہ اسے حرام کرتا ہوں ۔ " اس پر حضرت ابن عباس نے کہا : تم لو گوں نے جو کہا ناروا ہے ۔ اللہ تعا لیٰ نے جو نبی بھیجا وہ حلال کرنے والا اور حرام کرنے والا تھا ( حلت و حرمت کے حکم کو واضح کرنے والا تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح تم سمجھ رہے ہو ۔ غیر واضح بات نہیں کرتے تھے ۔ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں تشریف فرما تھے اور آپ کے قریب فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ۔ ایک اور خاتون بھی مو جود تھی تو ان کے سامنے دسترخوان لا یا گیا جس پر گوشت تھا ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کھانے کا ارادہ کیا تو حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی : یہ سانڈے کا گو شت ہے آپ نے ہاتھ روک لیا اور فر ما یا : " یہ ایسا گو شت ہے جو میں نے کبھی نہیں کھا یا ۔ " اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فر ما یا : " کھاؤ ۔ سو اس گوشت میں سے فضل خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور اس خاتون نے کھا یا ۔ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : میں تو صرف اس کھا نے میں سے کھا ؤں گی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھا ئیں گے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْحَنْتَمِ وَالدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ . قَالَ سَمِعْتُهُ غَيْرَ مَرَّةٍ .
Muharib b. Dithar reported:I heard Ibn 'Umar say: Allah's Messenger (ﷺ) forbade (the preparation of Nabidh) in a pitcher besmeared with pitch, in gourd, in varnished jar. He said, I heard it from him more than once
شعبہ نے محارب بن دثار سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سبز گھڑوں اور کدو کے ( بنے ہوئے ) برتن اور روغن زفت ملے ہوئے برتن میں نبیذ بنانے سے منع فرمایاتھا ۔ اور ( محارب بن دثار نے ) کہا : میں نے یہ ( حدیث ) ان سے ایک سے زیادہ بار سنی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ الْقَطَّانُ - كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، وَأَبُو كَامِلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، كِلاَهُمَا عَنْ أَيُّوبَ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَابْنُ، رُمْحٍ عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ، كُلُّ هَؤُلاَءِ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ وَزَادُوا فِيهِ " يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
This hadith has been narrated on the authority of Ibn 'Umar through other chains of transmitters also with the addition of these words:" On the Day of Resurrection
عبید اللہ ایوب لیث بن سعد اور اسامہ ان سب نے نافع سے انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مالک کی حدیث کی طرح روایت کی اور یہ اضا فہ کیا : " قیامت کے دن ( نظر نہیں کرے گا ۔)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا اشْتَكَى يَقْرَأُ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَيَنْفُثُ فَلَمَّا اشْتَدَّ وَجَعُهُ كُنْتُ أَقْرَأُ عَلَيْهِ وَأَمْسَحُ عَنْهُ بِيَدِهِ رَجَاءَ بَرَكَتِهَا .
A'isha reported that when Allah's Messenger (ﷺ) fell ill, he recited over his body Mu'awwidhatan and blew over him and when his sickness was aggravated I used to recite over him and rub him with his band with the hope that it was more blessed
مالک نے ابن شہاب سے ، انھوں نے عروہ سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیما ر ہو تے تو آپ خود پر معواذات ( معواذتین اور دیگر پناہ دلوانے والی دعائیں اور آیات ) پڑھتے اور پھونک مارتے ۔ جب آپ کی تکلیف شدید ہو گئی تو میں آپ پر پڑھتی اور آپ کی طرف سے میں آپ کا اپنا ہاتھ اس کی برکت کی امید کے ساتھ ( آپ کے جسم اطہر پر ) پھیرتی ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ، عَنْ يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، كِلاَهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters
یو نس اور معمر دونوں نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی ۔
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خَالِفُوا الْمُشْرِكِينَ أَحْفُوا الشَّوَارِبَ وَأَوْفُوا اللِّحَى " .
Ibn Umar said:The Messenger of Allah (may peace be opon him) said: Act against the polytheists, trim closely the moustache and grow beard
عمر بن محمد نے نافع کے حوالے سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سےروایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’مشرکوں کی مخالفت کرو ، مونچھیں اچھی طرح تراشو اور داڑھیاں بڑھاؤ ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ أُنْزِلَتْ فِيَّ أَرْبَعُ آيَاتٍ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ زُهَيْرٍ عَنْ سِمَاكٍ وَزَادَ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ قَالَ فَكَانُوا إِذَا أَرَادُوا أَنْ يُطْعِمُوهَا شَجَرُوا فَاهَا بِعَصًا ثُمَّ أَوْجَرُوهَا . وَفِي حَدِيثِهِ أَيْضًا فَضَرَبَ بِهِ أَنْفَ سَعْدٍ فَفَزَرَهُ وَكَانَ أَنْفُ سَعْدٍ مَفْزُورًا .
This hadith has been transmitted on the authority of Simak and the hadith transmitted on the authority of Shu'ba (the words are):When they intended to feed her (Sa'd'. s mother), they opened her mouth with the help of a stick and then put the feed in her mouth, and in the same hadith the words are: He struck the nose of Sa'd and it was injured and Sa'd had (the mark) of wound on his nose
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے سماک بن حرب سے حدیث بیان کی ، انھوں نے مصعب بن سعد سے ، انھوں نے اپنے والد ( حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میرے بارے میں چار آیات نازل ہو ئیں پھر زبیر سے سماک کی حدیث کے ہم معنی بیان کیا اور شعبہ کی حدیث میں ( محمد بن جعفر نے ) مزید یہ بیان کیا کہ لوگ جب میری ماں کو کھانا کھلا نا چاہتے تو لکڑی سے اس کا منہ کھولتے ، پھر اس میں کھا نا ڈالتے ، اور انھی کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ناک پر ہڈی ماری اور ان کی ناک پھاڑ دی ، حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ناک پھٹی ہوئی تھی ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَبِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالاَ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَلاَ أُرِيكَ امْرَأَةً مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ قُلْتُ بَلَى . قَالَ هَذِهِ الْمَرْأَةُ السَّوْدَاءُ أَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ إِنِّي أُصْرَعُ وَإِنِّي أَتَكَشَّفُ فَادْعُ اللَّهَ لِي . قَالَ " إِنْ شِئْتِ صَبَرْتِ وَلَكِ الْجَنَّةُ وَإِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَكِ . قَالَتْ أَصْبِرُ . قَالَتْ فَإِنِّي أَتَكَشَّفُ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ لاَ أَتَكَشَّفَ . فَدَعَا لَهَا .
Ata' b. Abi Rabih said:Ibn Abbas said to me: May I show you a woman of Paradise? I said: Yes. He said: Here is this dark-complexioned woman. She came to Allah's Apostle (ﷺ) and said: I am suffering from falling sickness and I become naked; supplicate Allah for me, whereupon he (the Holy Prophet) said: Show endurance as you can do and there would be Paradise for you and, if you desire, I supplicate Allah that He may cure you. She said: I am prepared to show endurance (but the unbearable trouble is) that I become naked, so supplicate Allah that He should not let me become naked, so he supplicated for her
عطاء بن ابی رباح نے حدیث بیان کی ، کہا : ایک دن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا : کیا میں تمہیں اہل جنت میں سے ایک عورت نہ دکھاؤں؟ میں نے کہا : کیوں نہیں! انہوں نے کہا : یہ سیاہ فام عورت ہے ، یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی : اللہ کے رسول! مجھ پر مرگی کا دورہ پڑتا ہے جس سے ( کبھی ) میرا لباس کھل جاتا ہے ۔ آپ میرے لیے اللہ سے دعا کیجئے ۔ آپ نے فرمایا : " اگر تم چاہو تو اس پر صبر کرو اور تمہارے لیے جنت ہے اور اگر تم چاہو تو میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تم کو صحت عطا فرمائے ۔ " اس عورت نے کہا : میں صبر کروں گی ، اس نے کہا : میرا لباس کھل جاتا ہے ، آپ اللہ سے یہ دعا فرما دیں کہ میرا لباس نہ کھلے ، تو آپ نے اس کے لیے دعا فرمائی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ أَخْبَرَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ تَعَوَّذَ مِنْ أَشْيَاءَ ذَكَرَهَا وَالْبُخْلِ .
Anas b. Malik reported that Allah's Apostle (ﷺ) used to seek refuge in Allah from such things as mentioned in the above-mentioned hadith and from 'miserliness" too
ابن مبارک نے سلیمان تیمی سے ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی اشیاء سے ، جن کا انہوں نے ذکر کیا اور بخل سے اللہ کی پناہ طلب کی ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبَّادٍ، يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَنْ يُدْخِلَ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ " . قَالُوا وَلاَ أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " وَلاَ أَنَا إِلاَّ أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ مِنْهُ بِفَضْلٍ وَرَحْمَةٍ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:None amongst you can get. into Paradise by virtue of his deeds alone. They said: Allah's Messenger, not even you? Thereupon he said: Not even I, but that Allah should wrap me in His Grace and Mercy
حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابو عبید نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں نہیں لے جائے گا ۔ " انھوں ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کی ، اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ کو بھی نہیں؟ آپ نے فرمایا : " مجھے بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنے فضل اور رحمت سے ڈھانپ لے ۔)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي، عُمَرَ قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ، بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ " إِنَّكُمْ مُلاَقُو اللَّهِ مُشَاةً حُفَاةً عُرَاةً غُرْلاً " . وَلَمْ يَذْكُرْ زُهَيْرٌ فِي حَدِيثِهِ يَخْطُبُ .
Ibn Abbas reported that he heard Allah's Messenger (ﷺ) deliver an address and he was saying that they would meet Allah barefooted, naked and uncircumcised
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ إِنَّكُمْ مُلَاقُو اللَّهِ مُشَاةً حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا وَلَمْ يَذْكُرْ زُهَيْرٌ فِي حَدِيثِهِ يَخْطُبُ
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، عَنْ يَزِيدَ، - وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ - عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لاَ يَدْرِي الْقَاتِلُ فِي أَىِّ شَىْءٍ قَتَلَ وَلاَ يَدْرِي الْمَقْتُولُ عَلَى أَىِّ شَىْءٍ قُتِلَ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:By Him in Whose Hand is my life, a time would come when the murderer would not know why he has committed the murder, and the victim would not know why he has been killed
ابن ابی عمر مکی نے ہمیں یہ حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں مروان نے یزید سے ۔ اور وہ ابن کیسان ہے ۔ حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو حازم سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!لوگوں پر ایک ایسا زمانے آئے گا کہ قاتل کو پتہ نہیں ہوگا کہ اس نے کیوں قتل کیا اور نہ مقتول کو پتہ ہوگا کہ اسے کس بات پر قتل کیا گیا ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ بَلَغَ عَائِشَةَ أَنَّ عَبْدَ، اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَأْمُرُ النِّسَاءَ إِذَا اغْتَسَلْنَ أَنْ يَنْقُضْنَ رُءُوسَهُنَّ فَقَالَتْ يَا عَجَبًا لاِبْنِ عَمْرٍو هَذَا يَأْمُرُ النِّسَاءَ إِذَا اغْتَسَلْنَ أَنْ يَنْقُضْنَ رُءُوسَهُنَّ أَفَلاَ يَأْمُرُهُنَّ أَنْ يَحْلِقْنَ رُءُوسَهُنَّ لَقَدْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَلاَ أَزِيدُ عَلَى أَنْ أُفْرِغَ عَلَى رَأْسِي ثَلاَثَ إِفْرَاغَاتٍ .
Ubaid b. Umair reported:It was conveyed to 'A'isha that 'Abdullah b. 'Amr ordered the women to undo the (plaits) of hair on their heads. She said: How strange it is for Ibn 'Amr that he orders the women to undo the plaits of their head while taking a bath; why does he not order them to shave their beads? I and the Messenger of Allah (ﷺ) took bath from one vessel. I did no more than this that I poured three handfuls of water over my head
عبید اللہ بن عمیر سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : حضرت عائشہؓ کو یہ خبر پہنچی کہ عبداللہ بن عمروؓ عورتوں کو حکم دیتے ہیں کہ وہ غسل کرتے وقت سر کے بال کھولا کرین ۔ تو انہوں نے کہا : اس ابن عمرو پر تعجب ہے ، عورتوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ جب غسل کریں تو سر کے بال کھولیں ، وہ انہیں یہ حکم کیوں نہیں دیتا کہ وہ اپنے سر کے بال مونڈ لیں ، میں اور رسول اللہ ﷺ ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے اور میں اس سے زائد کچھ نہیں کرتی تھی کہ اپنے سر پر تین بار پانی ڈال لیتی ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، - وَهُوَ ابْنُ غِيَاثٍ - عَنْ سُلَيْمَانَ، التَّيْمِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ عَطَسَ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم رَجُلاَنِ فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا وَلَمْ يُشَمِّتِ الآخَرَ فَقَالَ الَّذِي لَمْ يُشَمِّتْهُ عَطَسَ فُلاَنٌ فَشَمَّتَّهُ وَعَطَسْتُ أَنَا فَلَمْ تُشَمِّتْنِي . قَالَ " إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللَّهَ وَإِنَّكَ لَمْ تَحْمَدِ اللَّهَ " .
Anas b. Malik reported that two persons sneezed in the presence of Allah's Messenger (ﷺ). He (the Messenger of Allah) invoked mercy for one, and did not invoke for the other. The one for whom he had not prayed said:So and so sneezed and you said: May Allah have mercy upon you. I also sneezed but you did not utter these words for me. Thereupon he (the Holy Prophet) said: That person praised Allah, and you did not praise Allah
حفص بن غیاث نے سلیمان تیمی سے اور انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمیوں کو چھینک آئی تو آپ نے ایک آدمی کو چھینک کی دعانہ دی ۔ آپ نے جس کو چھینک کی دعانہ دی تھی اس نے کہا : فلاں کو چھینک آئی تو آپ نے اس پر اسے دعادی اور مجھے چھینک آئی تو آپ نے مجھے اس پر دعا نہ دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس نے الحمد اللہ کہا تھا اور تم نے الحمداللہ نہیں کیا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الأَنْصَارِيَّ، - وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ هُوَ الَّذِي كَانَ أُرِيَ النِّدَاءَ بِالصَّلاَةِ - أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ قَالَ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ فِي مَجْلِسِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فَقَالَ لَهُ بَشِيرُ بْنُ سَعْدٍ أَمَرَنَا اللَّهُ تَعَالَى أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ قَالَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى تَمَنَّيْنَا أَنَّهُ لَمْ يَسْأَلْهُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قُولُوا " اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ . وَالسَّلاَمُ كَمَا قَدْ عَلِمْتُمْ " .
Abdullah b. Zaid-he who was shown the call (for prayer in a dream) narrated it on the authority of Abu Mas'ud al-Ansari who said:We were sitting in the company of Sa'id b. 'Ubida when the Messenger of Allah (ﷺ) came to us. Bashir b. S'ad said: Allah has commanded us to bless you. Messenger of Allah! But how should we bless you? He (the narrator) said: The Messenger of Allah (ﷺ) kept quiet (and we were so much perturbed over his silence) that we wished we had not asked him. The Messenger of Allah (ﷺ) then said: (For blessing me) say:" 0 Allah, bless Muhammad and the members of his household as Thou didst bless the mernbers of Ibrahim's household. Grant favours to Muhammad and the members of his household as Thou didst grant favours to the members of the household of Ibrahim in the world. Thou art indeed Praiseworthy and Glorious" ; and salutation as you know
نعیم بن عبد اللہ مجمر سے روایت ہے کہ محمد بن عبد اللہ بن زید انصاری نے ( محمد کے والد عبد اللہ بن زید وہی ہیں جن کو نماز کے لیے اذان خواب میں دکھائی گئی تھی ) انہیں ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ کے متعلق بتایا کہ انہوں نے کہا : ہم سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی مجلس میں تھے کہ رسول اللہﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ، چنانچہ بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کی : اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ پر درود بھیجنے کا حکم دیا ہے تو ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ انہوں نے کہا : اس پر رسول اللہﷺ خاموش ہوگئے حتیٰ کہ ہم نے تمنا کی کہ انہوں نے آپ سے یہ سوال نہ کیا ہوتا ، پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ کہو : اے اللہ! رحمت فرما محمد اور محمد کی آل پر ، جیسے تو نے رحمت فرمائی ابراہیم کی آل پر اور برکت نازل فرما محمد اور محمد کی آل پر ، جیسے تو نے سب جہانوں میں برکت نازل فرمائی ابراہیم کی آل پر ، بلاشبہ تو سزا وار حمد ہے ، عظمتوں والا ہے اور سلام اسی طرح ہے جیسے تم ( پہلے ) جان چکے ہو ۔ ‘ ‘