حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلاَةِ فَإِنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ فَلاَ يَبْزُقَنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلاَ عَنْ يَمِينِهِ وَلَكِنْ عَنْ شِمَالِهِ تَحْتَ قَدَمِهِ " .
Anas b. Malik reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: When any one of you is engaged in prayer, he is holding intimate conversation with his Lord, so none of you must spit in front of him, or towards his right side, but towards his left side under his foot
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی نماز میں ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے راز و نیاز کرتا ہے ، اس لیے وہ نہ اپنے سامنے تھوکے نہ ہی دائیں طرف ، البتہ بائیں طرف پاؤں کے نیچے ( تھوک لے ۔ ) ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ، أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ الْمِصْرِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، يَقُولُ إِنَّ رَجُلاً سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَىُّ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ قَالَ " مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ " .
Abdullah b. Amr b. al-As is reported to have said:Verily a person asked the Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) who amongst the Muslims was better. Upon this (the Holy Prophet) remarked: From whose hand and tongue the Muslims are safe
عمرو بن حارث نے یزید بن ابی حبیب سے ، انہوں نے ابوخیر سے روایت کی اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ فرما رہے تھے : ایک آدمی نے رسول اللہﷺ سے پوچھا : مسلمانوں میں سے بہتر کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ جس کی زبان اور ہاتھ سے دیگر مسلمان امن میں ہوں
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ، قَالَ قَالَ رَجُلٌ لاِبْنِ عَبَّاسٍ الصَّلاَةَ فَسَكَتَ . ثُمَّ قَالَ الصَّلاَةَ . فَسَكَتَ ثُمَّ قَالَ الصَّلاَةَ فَسَكَتَ . ثُمَّ قَالَ لاَ أُمَّ لَكَ أَتُعَلِّمُنَا بِالصَّلاَةِ وَكُنَّا نَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Abdullah b. Shaqiq al-'Uqaili reported:A person said to Ibn 'Abbas (as he delayed the prayer): Prayer. He kept silence. He again said: Prayer. He again kept silence, and he again cried: Prayer. He again kept silence and said: May you be deprived of your mother, do you teach us about prayer? We used to combine two prayers during the life of the Messenger of Allah (ﷺ)
عمران بن خدیرنے عبداللہ بن شقیق عقیلی سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ایک شخص نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا : نماز! آپ خاموش رہے اس نے پھر کہا : نماز! آپ پھر چپ رہے ، اس نے پھر کہا : نماز! تو آپ ( کچھ دیر ) چپ رہے ، پھر فرمایا : تیری ماں نہ ہو! کیاتو ہمیں نماز کی تعلیم دیتا ہے؟ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں دو نمازیں جمع کرلیاکرتے تھے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - وَ هُوَ ابْنُ زَيْدٍ - عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَيْنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَصَلَّيْتَ يَا فُلاَنُ " . قَالَ لاَ . قَالَ " قُمْ فَارْكَعْ " .
Jabir b. 'Abdullah reported that while Allah's Messenger (ﷺ) was delivering the sermon on Friday a person came there, and the Messenger of Allah (ﷺ) said to him:So and so, have you prayed (two rak'ahs)? He said: No. He (the Holy Prophet) said: Then stand and pray
حماد بن زید نے عمرو بن دینار سے اور انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : اسی اثناء میں جب جمعے کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے ایک آدمی ( مسجد میں ) آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : " اے فلاں ( نام لیا ) !کیا تو نے نماز پڑھ لی ہے؟ " اس نے کہا : نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اور اٹھو اور نماز پڑھو ۔
حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ، بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، كِلاَهُمَا عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي، هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم إِلَى قَوْلِهِ الْجَبَلَيْنِ الْعَظِيمَيْنِ . وَلَمْ يَذْكُرَا مَا بَعْدَهُ وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الأَعْلَى حَتَّى يُفْرَغَ مِنْهَا وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ حَتَّى تُوضَعَ فِي اللَّحْدِ
This hadith has been narrated on the authority of Abu Huraira through another chain of narrators up to these words:" two great mountains." No mention is made of what followed (these words) ; and in the hadith transmitted by 'Abd al- A'la (the words are):" till (the burial) is complete." In the hadith transmitted by 'Abd ar-Razzaq (the words are):" till he is placed in the grave
عبد الاعلیٰ اور عبد الررزاق نے معمر سے انھوںے زہری سے ، انھوں نے سعید بن مسیب سے انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں ے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ( یہ روایت ) ان الفاظ : " دو عظیم پہاڑوں تک بیان کی اور اس کے بعد والا حصہ بیان نہیں کیا ۔ اور عبد لاعلیٰ کی حدیث میں ہے ۔ یہاں تک کہ اس ( کے دفن ) سے فراغت ہو جا ئے ۔ " اور عبد الررزاق کی حدیث میں ہے : " یہاں تک کہ اس کو لحد میں رکھ دیا جا ئے ۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ، أَخْبَرَنِي أَخِي، زَيْدٌ بِهَذَا الإِسْنَادِ . مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " أَوْ أَمَرَ بِمَعْرُوفٍ " . وَقَالَ " فَإِنَّهُ يُمْسِي يَوْمَئِذٍ " .
This hadith has been narrated on the authority of Zaid with the same chain of transmitters except with (a slight) change of words (i.e. he [the Holy Prophet]) said:Or he enjoined what is good, ... and said: He enters the evening [i.e. he walks till evening]
یحییٰ بن حسان نے کہا : ہمیں معاویہ ( بن سلام ) نے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : مجھے زید کے بھائی نے اسی سندکے ساتھ اسی ( سابقہ حدیث ) کی مانند خبر دی مگر انھوں نے کہا : " اوامربالمعروف ( اور کی بجائے ) یا نیکی کاحکم دیا " اور کہا : فانه يمسي يومئذ " وہ اس دن اس حالت میں شام کرے گا ۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، كِلاَهُمَا عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، ح . وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ، جَعْفَرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، - رضى الله عنه - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ وَعَبَّادٍ وَعَبْدِ الْوَاحِدِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ وَلاَ قَوْلُهُ " وَجَاءَ اللَّيْلُ مِنْ هَا هُنَا " . إِلاَّ فِي رِوَايَةِ هُشَيْمٍ وَحْدَهُ .
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Abi Aufa (Allah be pleased with him) through another chain of transmitters (but with a sight alteration of words):In this hadith transmitted by one of the narrators (neither these words are found): During the month of Ramadan." nor his statement:" And the night prevails from that side (the eastern side)." (These words are found in the narration of) Hushaim only
ابن ابی عمر ، سفیان ، اسحاق ، جریر ، شیبانی ، ابن ابی اوفیٰ ، عبیداللہ بن معاذ ، ابن مثنی ، محمد بن جعفر ، شعبہ اس سند کے ساتھ حضرت ابن اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح روایت نقل کی ہے لیکن اس میں بعض الفاظ کی کمی ہے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّمَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، - رضى الله عنه - أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُمْ مُحْرِمُونَ وَأَبُو قَتَادَةَ مُحِلٌّ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ فَقَالَ " هَلْ مَعَكُمْ مِنْهُ شَىْءٌ " . قَالُوا مَعَنَا رِجْلُهُ . قَالَ فَأَخَذَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَكَلَهَا .
Abdullah b. Abu Qatada reported on the authority of his father (Allah be pleased with him) that they went out with the Messenger of Allah (ﷺ) and they were Muhrim except Abu Qatada. The rest of the hadith Is the same (but with the exception of these words):" He (the Holy Prophet) said: 15 there any- thing out of it? They said: We have its leg with us. The Messenger of Allah (ﷺ) took it and ate it
ہمیں ابو حا زم نے عبد اللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے اپنے والد ( ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے حدیث سنا ئی کہ وہ لو گ ( مدینہ سے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے وہ احرام میں تھے اور ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بغیر احرا م کے تھے ۔ اور ( مذکورہبا لا ) حدیث بیان کی اور اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : کیا تمھا رے پاس اس میں سے کچھ ( بچا ہوا ) ہے ؟انھوں نے عرض کی ، اس کی ایک ران ہمارے پاس موجو د ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ لے لی اور اسے تنا ول فر ما یا ۔
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ قُلْتُ لِنَافِعٍ مَا الشِّغَارُ
A hadith like this has been narrated on the authority of" Abdullah b. 'Umar (Allah be pleased with them) but with a slight variation of words
عبیداللہ نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ، البتہ عبیداللہ کی حدیث میں ہے ، انہوں نے کہا : میں نے نافع سے پوچھا : شغار کیا ہے
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا يَحْيَى، بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لأَرْبَعٍ لِمَالِهَا وَلِحَسَبِهَا وَلِجَمَالِهَا وَلِدِينِهَا فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ " .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:A woman may be married for four reasons: for her property, her status. her beauty and her religion, so try to get one who is religious, may your hand be besmeared with dust
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " عورت کے ساتھ چار باتوں کی بنا پر شادی کی جاتی ہے : اس کے مال کی وجہ سے ، اس کے حسب ( ونسب ) کی وجہ سے ، اس کی خوبصورتی کی وجہ سے اور اس کے دین کی وجہ سے ۔ تم دین والی کے ساتھ ( شادی کر کے ) ظفر مند بنو ( کامیابی حاصل کرو ) تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں ۔ " ( یہ اس بات سے کنایہ ہے کہ تم ہمیشہ کام کرتے رہو)
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ لِعَائِشَةَ أَلَمْ تَرَىْ إِلَى فُلاَنَةَ بِنْتِ الْحَكَمِ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا الْبَتَّةَ فَخَرَجَتْ فَقَالَتْ بِئْسَمَا صَنَعَتْ . فَقَالَ أَلَمْ تَسْمَعِي إِلَى قَوْلِ فَاطِمَةَ فَقَالَتْ أَمَا إِنَّهُ لاَ خَيْرَ لَهَا فِي ذِكْرِ ذَلِكَ .
Ibn al-Qasim narrated on the authority of his father that 'Urwa b. Zubair (Allah be pleased with him) said to 'A'isha (Allah be pleased with her):Didn't you see that such and such daughter of al-Hakam was divorced by her husband with an irrevocable divorce, and she left (the house of her husband)? Thereupon 'A'isha (Allah be pleased with her) said: It was bad that she did. He ( Urwa) said: Have you not heard the words of Fatima? Thereupon she said: There if no good for her in making mention of it
سفیان نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے اور انہوں نے اپنے والد ( قاسم ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : کیا آپ نے فلانہ بنت حکم کو نہیں دیکھا؟ اس کے شوہر نے اسے تین طلاقیں دیں تو وہ ( اس کے گھر سے ) چلی گئی ۔ ( عائشہ رضی اللہ عنہا نے ) کہا : اس نے برا کیا ۔ عروہ نے پوچھا : کیا آپ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کا قول نہیں سنا؟ تو انہوں نے جواب دیا : دیکھو! اس کو بیان کرنے میں اس کے لیے کوئی بھلائی نہیں ہے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَبِيعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهُ "
Ibn Umar (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger' (ﷺ) as saying:Do not buy fruits (on the trees) until their good condition becomes clear
اسماعیل بن جعفر نے عبداللہ بن دینار سے روایت کی کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم پھل نہ بیچو یہاں تک کہ اس کی صلاحیت ظاہر ہو جائے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْحَكَمِ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنِ اتَّخَذَ كَلْبًا إِلاَّ كَلْبَ زَرْعٍ أَوْ غَنَمٍ أَوْ صَيْدٍ يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ " .
Ibn Umar (Allah be pleased with them) narrated Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who kept a dog ther than one meant for watching the fields or herds or hunting would lose one qirat every day out of his reward (with God)
ابوحکم سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کر رہے تھے ، آپ نے فرمایا : " جس نے کھیتی یا بکریوں ( کی حفاظت ) یا شکار کے کتے کے سوا کتا رکھا اس کے اجر میں سے ہر روز ایک قیراط کم ہو گا ۔
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ الأُمَوِيُّ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ بَلَغَنَا وَمَا بَعْدَهُ .
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Tahir but with a slight variation of words
ابوصفوان اموی نے ہمیں حدیث بیان کی ( کہا : ) مجھے یونس نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ خبر دی ، انہوں نے " ہمیں یہ بات پہنچی " اور اس کے بعد والا حصہ بیان نہیں کیا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ، سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي، سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ وَالْبِئْرُ جُبَارٌ وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمْسُ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:No requital is payable for a wound caused by an animal, for (falling into) a well and a mine, and one-fifth (is the share of the government) in the buried treasure (treasure-trove)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جانور كا زخمی كرنا لغو ہے ( یعنی اس كا تاوان كسی پر نہ ہوگا ) اور كنواں لغو ہے . اور ركاز میں پانچواں حصہ ہے .
حَدَّثَنَاهُ ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ فِي النَّفَلِ .
The same tradition has been narrated on the authority of Ubaidullah by a different chain of transmitters who do not mention the words:" from the booty
عبداللہ بن نمیر نے عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی اور انہوں نے یہ نہیں کہا : غنیمت میں
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ - عَنْ يَزِيدَ، - وَهُوَ ابْنُ الْهَادِ - عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ إِدْرِيسَ .
The same tradition has been handed down through more than one chain of transmitters
یزید بن ہاد نے عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے میرے والد نے روایت کی ، کہا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیعت کی ، ابن ادریس کی حدیث کے مانند
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ قَالَ ابْنُ نَافِعٍ أَخْبَرَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ أَهْدَتْ خَالَتِي أُمُّ حُفَيْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَمْنًا وَأَقِطًا وَأَضُبًّا فَأَكَلَ مِنَ السَّمْنِ وَالأَقِطِ وَتَرَكَ الضَّبَّ تَقَذُّرًا وَأُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَوْ كَانَ حَرَامًا مَا أُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Sa'id b. Jubair reported that he heard Ibn 'Abbas says:The sister of my mother Umm Hufaid presented to Allah's Messenger (ﷺ) clarified butter (ghee), cheese and some lizards. He ate out of the clarified butter and cheese, but left the lizard finding no liking for it. But it was eaten on the table of Allah's Messenger (ﷺ). Had it been forbidden (haram), it could not be eaten on the table of Allah's Messenger (ﷺ)
سعید بن جبیر نے کہا : میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میری خالہ ام حفید رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گھی پنیر اور سانڈے ہدیہ کیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھی اور پنیر میں سے تناول فر ما یا اور سانڈے کو کراہت محسوس کرتے ہو ئے چھوڑدیا ۔ یہ ( سانڈ ا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان پر کھا یا گیا ۔ اگر یہ حرام ہو تا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان پر نہ کھا یا جا تا ۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا، يَقُولُ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ أَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ وَالدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ قَالَ نَعَمْ
Ibrahim b. Maisarah reported that he heard Tawus as saying:I was sitting with Ibn 'Umar when a man came to him, and said: Did Allah's Messenger (ﷺ) forbid the preparation of Nabidh in a green pitcher (besmeared with pitch), in varnished jar and in gourd? Thereupon he said: Yes
ابراہیم بن میسرہ سے روایت ہے کہ انھوں نے طاوس کو یہ کہتے ہوئے سنا : میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص نے آکر ان سے پوچھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑوں ، کدو کے برتن اور زفت ملے ہوئے برتن میں بنی ہوئی نبیذ سے منع فرمایاتھا؟انھوں نے فرمایا : ہاں ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، وَزَيْدِ، بْنِ أَسْلَمَ كُلُّهُمْ يُخْبِرُهُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلاَءَ " .
Ibn 'Umar reported Allah's Messenger (ﷺ) having said:Allah will not look upon him who trails his garment out of pride
امام مالک نے نافع عبد اللہ بن دینا اور زید بن اسلم سے روایت کی ، ان سب نے انھیں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " جو شخص تکبر سے کپڑا گھسیٹ کرچلے اللہ تعا لیٰ اس کی طرف نظر تک نہیں کرے گا ۔
حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ هِشَامِ، بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا مَرِضَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِهِ نَفَثَ عَلَيْهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ فَلَمَّا مَرِضَ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ جَعَلْتُ أَنْفُثُ عَلَيْهِ وَأَمْسَحُهُ بِيَدِ نَفْسِهِ لأَنَّهَا كَانَتْ أَعْظَمَ بَرَكَةً مِنْ يَدِي . وَفِي رِوَايَةِ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ بِمُعَوِّذَاتٍ .
A'isha reported that when any of the members of the household fell ill Allah's Messenger (ﷺ) used to blow over him by reciting Mu'awwidhatan, and when he suffered from illness of which he died I used to blow over him and rubbed his body with his hand for his hand had greater healing power than my hand
سریج بن یونس اور یحییٰ بن ایوب نے کہا : ہمیں عباد بن عبادنے ہشام بن عروہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروالوں میں سے کوئی بیمار ہوتا تو آپ پناہ دلوانے والے کلمات اس پر پھونکتے ۔ پھر جب آپ اس مرض میں مبتلا ہوئے جس میں آپ کی ر حلت ہوئی تو میں نے آپ پر پھونکنا اور آپ کا اپنا ہاتھ آپ کے جسم اطہر پر پھیرنا شروع کردیا کیونکہ آ پ کا ہاتھ میرے ہاتھ سےزیادہ بابرکت تھا ۔ یحییٰ بن ایوب کی روایت میں ( بِالْمَعَوِّذَاتِ ، کے بجائے ) " بمَعَوِّذَاتِ " ( پناہ دلوانے والے کچھ کلمات ) ہیں ۔
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، - يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ - عَنِ الزُّهْرِيِّ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنِ ابْنِ، شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَيْرِ وَكَانَ أَجْوَدَ مَا يَكُونُ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ كَانَ يَلْقَاهُ فِي كُلِّ سَنَةٍ فِي رَمَضَانَ حَتَّى يَنْسَلِخَ فَيَعْرِضُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْقُرْآنَ فَإِذَا لَقِيَهُ جِبْرِيلُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ .
Ibn 'Abbas reported that Allah's Messenger (ﷺ) was the most generous of people in charity, but he was generous to the utmost in the month of Ramadan. Gabriel (peace be upon him) would meet him every year during the month of Ramadin until it ended, and Allah's Messenger (ﷺ) recited to him the Qur'an; and when Gabriel met him Allah's Messenger (ﷺ) was most generous in giving charity like the blowing wind
ابرا ہیم ( بن سعد ) نے ابن شہاب سے ، انھوں نے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیر ( اچھی چیزوں ) میں تمام انسانوں میں سے زیادہ سخی تھے ۔ اور آپ رمضان کے مہینے میں سخاوت میں بہت ہی زیادہ بڑھ جا تے تھے ۔ جبرئیل علیہ السلام ہر سال رمضان کے مہینے میں اس کے ختم ہو نے تک ( روزانہ آکر ) آپ سے ملتے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سامنے قرآن مجید کی قراءت فر ما تے تھے ۔ اور جب حضرت جبرئیل علیہ السلام آپ سے آکر ملتے تھے تو آپ خیر ( کے عطا کرنے ) میں بارش برسانے والی ہواؤں سے بھی زیادہ سخی ہو جا تے تھے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ أَمَرَ بِإِحْفَاءِ الشَّوَارِبِ وَإِعْفَاءِ اللِّحْيَةِ .
Ibn Umar said:The Apostle of Allah (ﷺ) ordered us to trim the moustache closely and spare the beard
ابو بکر بن نافع نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی ﷺروایت کی کہ آپ نے مونچھیں اچھی طرح تراشنے اور داڑھی بڑھانے کا حکم دیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ نَزَلَتْ فِيهِ آيَاتٌ مِنَ الْقُرْآنِ - قَالَ - حَلَفَتْ أُمُّ سَعْدٍ أَنْ لاَ تُكَلِّمَهُ أَبَدًا حَتَّى يَكْفُرَ بِدِينِهِ وَلاَ تَأْكُلَ وَلاَ تَشْرَبَ . قَالَتْ زَعَمْتَ أَنَّ اللَّهَ وَصَّاكَ بِوَالِدَيْكَ وَأَنَا أُمُّكَ وَأَنَا آمُرُكَ بِهَذَا . قَالَ مَكَثَتْ ثَلاَثًا حَتَّى غُشِيَ عَلَيْهَا مِنَ الْجَهْدِ فَقَامَ ابْنٌ لَهَا يُقَالُ لَهُ عُمَارَةُ فَسَقَاهَا فَجَعَلَتْ تَدْعُو عَلَى سَعْدٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقُرْآنِ هَذِهِ الآيَةَ { وَوَصَّيْنَا الإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا} { وَإِنْ جَاهَدَاكَ عَلَى أَنْ تُشْرِكَ بِي} وَفِيهَا { وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا} قَالَ وَأَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَنِيمَةً عَظِيمَةً فَإِذَا فِيهَا سَيْفٌ فَأَخَذْتُهُ فَأَتَيْتُ بِهِ الرَّسُولَ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ نَفِّلْنِي هَذَا السَّيْفَ فَأَنَا مَنْ قَدْ عَلِمْتَ حَالَهُ . فَقَالَ " رُدُّهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ " . فَانْطَلَقْتُ حَتَّى إِذَا أَرَدْتُ أَنْ أُلْقِيَهُ فِي الْقَبَضِ لاَمَتْنِي نَفْسِي فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ أَعْطِنِيهِ . قَالَ فَشَدَّ لِي صَوْتَهُ " رُدُّهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ " . قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأَنْفَالِ} قَالَ وَمَرِضْتُ فَأَرْسَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَانِي فَقُلْتُ دَعْنِي أَقْسِمْ مَالِي حَيْثُ شِئْتُ . قَالَ فَأَبَى . قُلْتُ فَالنِّصْفَ . قَالَ فَأَبَى . قُلْتُ فَالثُّلُثَ . قَالَ فَسَكَتَ فَكَانَ بَعْدُ الثُّلُثُ جَائِزًا . قَالَ وَأَتَيْتُ عَلَى نَفَرٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرِينَ فَقَالُوا تَعَالَ نُطْعِمْكَ وَنَسْقِيكَ خَمْرًا . وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ تُحَرَّمَ الْخَمْرُ - قَالَ - فَأَتَيْتُهُمْ فِي حَشٍّ - وَالْحَشُّ الْبُسْتَانُ - فَإِذَا رَأْسُ جَزُورٍ مَشْوِيٌّ عِنْدَهُمْ وَزِقٌّ مِنْ خَمْرٍ - قَالَ - فَأَكَلْتُ وَشَرِبْتُ مَعَهُمْ - قَالَ - فَذُكِرَتِ الأَنْصَارُ وَالْمُهَاجِرُونَ عِنْدَهُمْ فَقُلْتُ الْمُهَاجِرُونَ خَيْرٌ مِنَ الأَنْصَارِ - قَالَ - فَأَخَذَ رَجُلٌ أَحَدَ لَحْيَىِ الرَّأْسِ فَضَرَبَنِي بِهِ فَجَرَحَ بِأَنْفِي فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرْتُهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيَّ - يَعْنِي نَفْسَهُ - شَأْنَ الْخَمْرِ { إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأَنْصَابُ وَالأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ}
Mus'ab b. Sa'd reported on the authority of his father that many verses of the Qur'an had been revealed in connection with him. His mother Umm Sa'd had taken oath that she would never talk with him until he abandoned his faith and she neither ate nor drank and said:Allah has commanded you to treat well your parents and I am your mother and I command you to do this. She passed three days in this state until she fainted because of extreme hunger and at that time her son whose name was Umara stood up and served her drink and she began to curse Sa'd that Allah, the Exalted and Glorions, revealed these verses of the Holy Qur'an:" And We have enjoined upon a person goodness to his parents but if they contend with thee to associate (others) with Me of which you have no knowledge, then obey them not" (xxix. 8) ; Treat thein with customary good in this world" (xxxi. 15). He also reported that there fell to the lot of Allah's Messenger (ﷺ) huge spoils of war and there was one sword in them. I picked that up and came to Allah's Messenger (ﷺ) and said: Bestow this sword upon me (as my share in the spoils of war) and you know my state. Thereupon he said: Return it to the place from where you picked it up. I went back until I decided to throw it in a store but my soul repulsed me so I came back and asked him to give that sword to me. He said in a loud voice to return it to the place from where I had picked it up. It was on this occasion that this verse was revealed:" They asked about the spoils of war" (viii. 1). He further said: I once fell ill and sent a message to Allah's Apostle (ﷺ). He visited me and I said to him: Permit me to distribute (in charity) my property as much as I like. He did not agree. I said: (Permit me to distribute) half of it. He did not agree. I said: (Permit me to distribute) the third part, whereupon he kept quiet and it was after this (that the distribution of one's property in charity) to the extent of one-third was held valid. He further said: I came to a group of persons of the Ansir and Muhajirin and they said: Come, so that we may serve you wine, and it was before the use of wine had been prohibited. I went to them in a garden and there had been with them the roasted head of a camel and a small water-skin containing wine. I ate and drank along with them and there came under discussion the Ansr (Helpers) and Muhajirin (immigrants). I said: The immigrants are better than the Ansar, that a person picked up a portion of the head (of the camel and struck me with it that my nose was injured. I came to Allah's Messenger (ﷺ) and informed him of the situation that Aliah, the Exalted and Glorious, revealed verses pertaining to wine:" Intoxicants and the games of chance and (sacrificing to) stones set up and (divining by) arrows are only an uncleanliness, the devil's work" (v)
ابو بکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں حسن بن موسیٰ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں زہیر نےسماک بن حرب سے حدیث بیان کی کہ قرآن مجید میں ان کے حوالے سے کئی آیات نازل ہوئیں کہا : ان کی والدہ نے قسم کھائی کہ وہ اس وقت تک ان سے بات نہیں کریں گی یہاں تک کہ وہ اپنے دین ( اسلام ) سے کفر کریں اور نہ ہی کچھ کھا ئیں گی اور نہ پئیں گی ان کا خیال یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں حکم دیا ہے کہ اپنے والدین کی بات مانو اور میں تمھا ری ماں ہوں لہٰذا میں تمھیں اس دین کو چھوڑ دینے کا حکم دیتی ہوں ۔ کہا : وہ تین دن اسی حالت میں رہیں یہاں تک کہ کمزوری سے بے ہوش ہو گئیں تو ان کا بیٹا جو عمارہ کہلا تا تھا کھڑا ہوا اور انھیں پانی پلا یا ۔ ( ہوش میں آکر ) انھوں نے سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بددعائیں دینی شروع کر دیں تو اللہ تعا لیٰ نے قرآن میں یہ آیت نازل فر ما ئی : " ہم نے انسان کو اس کے والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے اور اگر وہ دونوں یہ کو شش کریں کہ تم میرے ساتھ شریک ٹھہراؤ جس بات کو تم ( درست ہی ) نہیں جانتے تو تم ان کی اطاعت نہ کرواور دنیا میں ان کے ساتھ اچھے طریقے سے رہو ۔ " کہا : اور ( دوسری آیت اس طرح اتری کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت زیادہ غنیمت حاصل ہوئی ۔ اس میں ایک تلوار بھی تھی ۔ میں نے وہ اٹھا لی اور اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اور عرض کی : ( میرےحصے کے علاوہ ) یہ تلوارمزید مجھے دے دیں ، میری حالت کا تو آپ کو علم ہے ہی آپ نے فر ما یا : " اسے وہیں رکھ دو جہاں سے تم نے اٹھائی ہے ۔ " میں چلا گیا جب میں نے اسے مقبوضہ غنائم میں واپس پھینکنا چا ہا تو میرے دل نے مجھے ملا مت کی ( کہ واپس کیوں کر رہے ہو؟ ) تو میں آپ کے پاس واپس آگیا ۔ میں نے کہا : یہ مجھے عطا کر دیجئے ، آپ نے میرے لیے اپنی آواز کو سخت کیا اور فر ما یا : " جہاں سے اٹھا ئی ہے وہیں واپس رکھ دو ۔ " کہا : اس پر اللہ عزوجل نے یہ نازل فر ما یا : " یہ لو گ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں ۔ " کہا : ( ایک موقع نزول وحی کا یہ تھا کہ ) میں بیمار ہو گیا ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پیغام بھیجا ۔ آپ میرے پاس تشریف لے آئے ۔ میں نے کہا : مجھے اجازت دیجیے کہ میں اپنا ( سارا ) مال جہاں چاہوں تقسیم کر دوں ۔ کہا : آپ نے انکا ر فر مادیا ۔ میں نے کہا : تو آدھا؟ آپ اس پر بھی نہ مانے ، میں نے کہا : تو پھر تیسرا حصہ ؟اس پر آپ خاموش ہوگئے ۔ اس کے بعد تیسرے حصے کی وصیت جا ئز ہو گئی ۔ کہا : اور ( ایک اور موقع بھی آیا ) میں انصار اور مہاجرین کے کچھ لوگوں کے پاس آیا انھوں نے کہا : آؤ ہم تمھیں کھانا کھلا ئیں اور شراب پلا ئیں اور یہ شراب حرام کیے جا نے سے پہلے کی بات ہے ۔ کہا : میں کھجوروں کے ایک جھنڈکے درمیان خالی جگہ میں ان کے پاس پہنچا دیکھا تو اونٹ کا ایک بھنا ہوا سران کے پاس تھا اور شراب کی ایک مشک تھی ۔ میں نے ان کے ساتھ کھا یا ، شراب پی ، پھر ان کے ہاں انصار اور مہاجرین کا ذکر آگیا ۔ میں نے ( شراب کی مستی میں ) کہہ دیا : مہاجرین انصار سے بہتر ہیں تو ایک آدمی نے ( اونٹ کا ) ایک جبڑا پکڑا ، اس سے مجھے ضرب لگا ئی اور میری ناک زخمی کردی ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو یہ ( ساری ) بات بتا ئی تو اللہ تعا لیٰ نے میرے بارے میں ۔ ۔ ۔ ان کی مراد اپنے آپ سے تھی ۔ ۔ ۔ شراب کے متعلق ( یہ آیت ) نازل فر ما ئی : " بے شک شراب ، جوا بت اور پانسے شیطان کے گندے کام ہیں ۔
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَى أُمِّ السَّائِبِ أَوْ أُمِّ الْمُسَيَّبِ فَقَالَ " مَا لَكِ يَا أُمَّ السَّائِبِ أَوْ يَا أُمَّ الْمُسَيَّبِ تُزَفْزِفِينَ " . قَالَتِ الْحُمَّى لاَ بَارَكَ اللَّهُ فِيهَا . فَقَالَ " لاَ تَسُبِّي الْحُمَّى فَإِنَّهَا تُذْهِبُ خَطَايَا بَنِي آدَمَ كَمَا يُذْهِبُ الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ " .
Jabir b. Abdullah reported that Allah's Messenger (ﷺ) visited Umm Sa'ib or Umm Musayyib and said:Umm Sa'ib or Umm Musayyib. why is it that you are shivering? She said:" It is fever and may it not be blessed by Allah, whereupon he (the Holy Prophet) said: Don't curse fever for it expiates the sin of the children of Adam just as furnace removes the alloy of iron
ابوزبیر نے کہا : ہمیں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( ایک انصاری خاتون ) حضرت ام سائب یا حضرت ام مسیب رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے ، آپ نے فرمایا : " ام سائب یا ( فرمایا : ) ام مسیب! تہیں کیا ہوا؟ کیا تم شدت سے کانپ رہی ہو؟ " انہوں نے کہا : بخار ہے ، اللہ تعالیٰ اس میں برکت نہ دے! آپ نے فرمایا : " بخار کو برا نہ کہو ، کیونکہ یہ آدم کی اولاد کے گناہوں کو اس طرح دور کرتا ہے جس طرح بھٹی لوہے کے زنگ کو دور کرتی ہے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، كِلاَهُمَا عَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّ يَزِيدَ لَيْسَ فِي حَدِيثِهِ قَوْلُهُ " وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ " .
Anas reported from Allah's Messenger (ﷺ) (this suppli- cation) but with this variation that these words are not found in that supplication:" From the trial of life and death
یزید بن زریع اور معتمر دونوں نے تیمی سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ، البتہ یزید کی حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول : " اور زندگی اور موت کی آزمائشوں سے ( میں تیزی پناہ میں آتا ہوں ) " مذکور نہیں ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلاً، كَانَ يُتَّهَمُ بِأُمِّ وَلَدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِعَلِيٍّ " اذْهَبْ فَاضْرِبْ عُنُقَهُ " . فَأَتَاهُ عَلِيٌّ فَإِذَا هُوَ فِي رَكِيٍّ يَتَبَرَّدُ فِيهَا فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ اخْرُجْ . فَنَاوَلَهُ يَدَهُ فَأَخْرَجَهُ فَإِذَا هُوَ مَجْبُوبٌ لَيْسَ لَهُ ذَكَرٌ فَكَفَّ عَلِيٌّ عَنْهُ ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَمَجْبُوبٌ مَا لَهُ ذَكَرٌ
Anas reported that a person was charged with fornication with the slavegirl of Allah's Messenger (ﷺ). Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said to 'Ali:Go and strike his neck. 'Ali came to him and he found him in a well making his body cool. 'Ali said to him: Come out, and as he took hold of his hand and brought him out, he found that his sexual organ had been cut. Hadrat 'Ali refrained from striking his neck. He came to Allah's Apostle (ﷺ) and said: Allah's Messenger, he has not even the sexual organ with him
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ام ولد ( آپ کے فرزند کی والدہ ) کے ساتھ مہتم کیا جاتا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا : جاؤ اور اس کی گردن اڑا دو ، حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کے پاس گئے تو وہ ایک اتھلے ( کم گہرے ) کنویں میں ٹھنڈک کے لیے غسل کر رہا تھا ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا : نکلو ، اور ( سہارا دینے کے لیے ) اسے اپنا ہاتھ پکڑایا اور اسے باہر نکالا تو دیکھا کہ وہ ہیجڑا ہے ، اس کا عضو مخصوص تھا ہی نہیں ۔ اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ ( اس کو قتل کرنے سے ) رُک گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : اللہ کے رسول! وہ تو ہیجڑا ہے ، اس کا عضو مخصوص ہے ہی نہیں ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَيْسَ أَحَدٌ يُنْجِيهِ عَمَلُهُ " . قَالُوا وَلاَ أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " وَلاَ أَنَا إِلاَّ أَنْ يَتَدَارَكَنِيَ اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There is none whose deeds alone can'secure salvation for him. They said: Allah's Messenger, not even you? Thereupon he said: Not even I, but that, the Mercy of Allah should take hold of me
سہیل کے والد ( ابو صالح ) نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کسی کو اس کا عمل نجات نہیں دلائے گا ۔ " انھوں ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ کو بھی نہیں ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مجھے بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت میں لے لے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ حَاتِمِ، بْنِ أَبِي صَغِيرَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِهِ " غُرْلاً " .
This hadith has been narrated on the authority of Hatim b. Abi Saghira with the same chain of transmitters and there is no mention of the word" uncircum- cised
ابو خالد احمرنے ہمیں حاتم بن ابی صغیرہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور انھوں نے اپنی روایت میں " بے ختنہ " ذکرنہیں کیا ۔
وَحَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ أَفَأَحُلُّهُ فَأَغْسِلُهُ مِنَ الْجَنَابَةِ . وَلَمْ يَذْكُرِ الْحَيْضَةَ .
This hadith is narrated by the same chain of transmitters by Ahmad al. Darimi, Zakariya b. 'Adi, Yazid, i. e. ' Ibn Zurai', Rauh b. al-Qasim, Ayyub b. Musa with the same chain of transmitters, and there is a mention of these words:" Should I undo the plait and wash it, because of sexual intercourse?" and there is no mention of menstruation
ایوب بن موسیٰ سے ( سفیان ثوری کے بجائے ) روح بن قاسم نے اسی ( سابقہ سند ) کے ساتھ روایت کی کہ انہوں ( ام سلمہ ؓ ) نے کہا : کیا میں چوٹی کو کھول کر غسل جنابت کروں؟ ...... انہوں ( روح بن قاسم ) نے حیض کا تذکرہ نہیں کیا ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ عَبْدٌ حَدَّثَنِي وَقَالَ، الآخَرَانِ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ قَالَ سَالِمٌ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " كُلُّ أُمَّتِي مُعَافَاةٌ إِلاَّ الْمُجَاهِرِينَ وَإِنَّ مِنَ الإِجْهَارِ أَنْ يَعْمَلَ الْعَبْدُ بِاللَّيْلِ عَمَلاً ثُمَّ يُصْبِحُ قَدْ سَتَرَهُ رَبُّهُ فَيَقُولُ يَا فُلاَنُ قَدْ عَمِلْتُ الْبَارِحَةَ كَذَا وَكَذَا وَقَدْ بَاتَ يَسْتُرُهُ رَبُّهُ فَيَبِيتُ يَسْتُرُهُ رَبُّهُ وَيُصْبِحُ يَكْشِفُ سِتْرَ اللَّهِ عَنْهُ " . قَالَ زُهَيْرٌ " وَإِنَّ مِنَ الْهِجَارِ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:All the people of my Ummah would get pardon for their sins except those who publicise them. And (it means) that a servant should do a deed during the night and tell the people in the morning that he has done so and so, whereas Allah has concealed it. And he does a deed during the day and when it is night he tells the people, whereas Allah has concealed it. Zuhair has used the word hijar for publicising
سالم نے کہا : میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ، کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے ۔ " میری تمام امت کو ( گناہوں پر ) معافی ملے گی ۔ سوائے ان لوگوں کے جو ( اپنے گناہوں کا ) اعلان کرنے والے ہیں ۔ اعلان میں یہ ہے کہ بندہ رات کو ایک کام کرے پھر صبح ہو تو اللہ نے اس کا پردہرکھا ہوا ہو اور وہ خود کہے اے فلاں !میں نے پچھلی رات ایسا ایساکام کیا حالانکہ اس نے رات گزاردی اس کے رب نے اس پر پردہ ڈالے رکھا اور وہ صبح کرتا ہے تو وہ اپنے رب کا ڈالا ہوا پردہ خود اتاردیتا ہے ۔ " زہیر نے ( اجهاریعنی اعلان کے بجائے ) وَإِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ ( یہ بڑی بے حیائی کی بات ہے ) کہا ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ " فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَضَى عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " .
This hadith has been transmitted by Qatida with the same chain of transmitters (and the words are):" Allah, the Exalted and the Glorious, commanded it through the tongue of His Apostle (may peace be upon-him): Allah listens to him who praises Him
قتادہ کے ایک اور شاگرد معمر نے اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا حدیث روایت کی اور ( اپنی ) حدیث میں کہا : ’’چنانچہ اللہ نے اپنے نبیﷺ کی زبان سے فیصلہ کر دیا : ( کہ ) اللہ نے اسے سن لیا جس نے اس کی حمد بیان کی ( قال کے بجائے قضى کالفظ روایت کیا ۔)