بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
32 hadith
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى بُصَاقًا فِي جِدَارِ الْقِبْلَةِ أَوْ مُخَاطًا أَوْ نُخَامَةً فَحَكَّهُ ‏.‏
A'isha reported:The Apostle of Allah (may, peace be upon him) saw spittle or snot or sputum, sticking to the wall towards Qibla and scratched it off
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے قبلے کی دیوار پر تھوک یا رینٹ یا بلغم دیکھا تو کھرچ ڈالا ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَةَ الْعَدَوِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ حُجَيْرَ بْنَ الرَّبِيعِ الْعَدَوِيَّ، يَقُولُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ‏.‏
Ishaq b. Ibrahim narrates this hadith of the Prophet on the authority of Imran b. Husain, like the one narrated by Hammad b. Zaid
حماد بن زید نے اسحاق بن سوید سے روایت کی کہ ابو قتادہ ( تمیم بن نذیر ) نے حدیث بیان کی ، کہا کہ ہم انپے ساتھیوں سمیت حضرت عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے پاس حاضر تھے ، ہم میں بشیر بن کعب بھی موجود تھے ، اس روز حضرت عمران ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ہمیں ایک حدیث سنائی ، کہاکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ حیا بھلائی ہے پوری کی پوری ۔ ‘ ‘ ( انہوں نے کہا : یہ الفاظ فرمائے ) : ’’حیا پوری کی پوری بھلائی ہے ۔ ‘ ‘ تو بشیر بن کعب نے کہا : ہمیں کتابون یا حکمت ( کے مجموعوں ) میں یہ بات ملتی ہے کہ حیا سے اطمینان اور اللہ کے لیے وقار ( کا اظہار ) ہوتا ہے اور اس کی ایک قسم ضعیفی ( کمزور ) ہے ۔ حضرت عمران ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سخت غصے میں آ گئے حتی کہ ان کی آنکھیں سرخ ہو گئیں اور فرمانے لگے : کیا میں دیکھ نہیں رہا کہ میں تمہیں رسول اللہ ﷺ سے حدیث سنا رہا ہوں اور تم اس میں مقابلہ کر رہے ہو ؟ ابوقتادہ نے کہا : عمران نےدوبارہ حدیث سنائی اور بشیر نے پھر وہی کہا : اس پر عمران ( سخت ) غصے میں آ گئے ۔ ( ابو قتادہ نے ) کہا : تو ہم نے بار بار یہ کہنا شروع کر دیا : اے ابو نجید! ( حضرت عمران کی کنیت ) یہ ہم میں سے ( مسلمان اور حدیث کا طالب علم ) ہے ۔ اس ( کے عقیدے ) میں کوئی عیب یا نقص نہیں ہے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثَمَانِيًا جَمِيعًا وَسَبْعًا جَمِيعًا ‏.‏ قُلْتُ يَا أَبَا الشَّعْثَاءِ أَظُنُّهُ أَخَّرَ الظُّهْرَ وَعَجَّلَ الْعَصْرَ وَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ وَعَجَّلَ الْعِشَاءَ ‏.‏ قَالَ وَأَنَا أَظُنُّ ذَاكَ ‏.‏
Ibn 'Abbas reported:I observed with the Messenger of Allah (ﷺ) eight (rak'ahs) in combination, and seven rak'ahs in combination. I (one of the narrators) said: O Abd Sha'tha', I think that he (the Holy Prophet) had delayed the noon prayer and hastened the afternoon prayer, and he delayed the sunset prayer and hastened the 'Isha' prayer. He said: I also think so
سفیان بن عینیہ نے عمرو بن دینار سے انھوں نے ( ابوشعشاء ) جابر بن زید سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آٹھ رکعات ( ظہر اورعصر ) اکھٹی اور سات رکعات ( مغرب اور عشاء ) اکھٹی پڑھیں ۔ ( عمرو نے کہا ) میں نے ابو شعشاء ( جابر بن زید ) سے کہا کہ میرا خیال ہے آپ نے ظہر کو موخر کیا اور عصر جلدی پڑھی اور مغرب کو موخر کیا اور عشاء میں جلدی کی ۔ انھوں نے کہا : میرا بھی یہی خیال ہے ۔
وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ، بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ الأَنْصَارِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ، عَنْ أُمِّ هِشَامٍ بِنْتِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَتْ لَقَدْ كَانَ تَنُّورُنَا وَتَنُّورُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاحِدًا سَنَتَيْنِ أَوْ سَنَةً وَبَعْضَ سَنَةٍ وَمَا أَخَذْتُ ‏{‏ ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ‏}‏ إِلاَّ عَنْ لِسَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَؤُهَا كُلَّ يَوْمِ جُمُعَةٍ عَلَى الْمِنْبَرِ إِذَا خَطَبَ النَّاسَ ‏.‏
It was narrated that Umm Hisham bin Harithah bin An-Nu'man said:"Our oven and the oven of the Messenger of Allah (ﷺ) were the same for two years, or for one year and part of a year. And I only learned "Surah Qaf. By the Glorious Quran" from the tongue of the Messenger of Allah (ﷺ), who used to recited it every Friday from the Minbar, when he addresses the people
یحییٰ بن عبداللہ بن عبدالرحمان بن سعد نے زرارہ نے ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہمارا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تندور دو یا ایک سال سے کچھ زیادہ عرصہ ایک ہی رہا اور میں نے سورہ ق ۚ وَالْقُرْ‌آنِ الْمَجِيدِ ( کسی اور سے نہیں بلکہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے سن کر یاد کی ، آپ ہر جمعے کے دن جب لوگوں کو خطبہ دیتے تو اسے منبر پر پڑھتے تھے ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ، كِلاَهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ قَالَ لاَ أَعْلَمُهُ إِلاَّ رَفَعَ الْحَدِيثَ ‏.‏
This hadith has been narrated by another chain of transmitters except with this variation (of words) that in the hadith narrated by Ma'mar (the words are):" I do not know whether the hadith is marfu
معمر اور محمد بن ابی حفصہ دو نوں نے زہری سے ، انھوں نے سعید ( بن مسیب ) سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ( یہی حدیث ) روایت کی ، لیکن معمر کی حدیث میں ہے انھوں نے کہا : میں اس کے سوا اور کچھ نہیں جا نتا کہ انھوں ( ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے اس حدیث کو مرفوع ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ) بیان کیا ہے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، فِي حَدِيثِ قُتَيْبَةَ قَالَ قَالَ نَبِيُّكُمْ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ ‏"‏ ‏.‏
Hudhaifa and Abu Shaiba reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Every act of goodness is sadaqa
قتیبہ بن سعید اور ابو بکر بن ابی شیبہ نے اپنی اپنی سند کے ساتھ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت کی ۔ قتیبہ کی حدیث میں ہے تمھارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور ابن ابی شیبہ نے کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے ۔ ۔ ۔ " ہر نیکی صدقہ ہے ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، بْنِ أَبِي أَوْفَى - رضى الله عنه - قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فَلَمَّا غَابَتِ الشَّمْسُ قَالَ ‏"‏ يَا فُلاَنُ انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلَيْكَ نَهَارًا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَنَزَلَ فَجَدَحَ فَأَتَاهُ بِهِ فَشَرِبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ ‏"‏ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ مِنْ هَا هُنَا وَجَاءَ اللَّيْلُ مِنْ هَا هُنَا فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ‏"‏ ‏.‏
Abdullah b. Abi Aufa reported:We were with the Messenger of Allah (ﷺ) on a journey during the month of Ramadan. When the sun had sunk he said: So and so, get down (from your ride) and prepare the meal of parched barley for us. He said: Messenger of Allah, still (there is light of) day. He (the Holy Prophet) said: Get down and prepare meal of parched barley for us. So he got down and prepared the meal of parched barley and offered him, and the apostle of Allah (ﷺ) drank that (liquid meal). He then told with the gesture of his hand that when the sun sank from that side and the night appeared from that side, then the observer of the fast should break it
ہشیم ، ابی اسحاق شیبانی ، حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے مہینے میں ایک سفر میں تھے جب سورج غروب ہوگیا تو آپ نے فرمایا اے فلاں!اتر اور ہمارے لئے ستو ملااس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ابھی تو دن ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اتر اور ہمارے لئے ستو ملا تو وہ اترا اور اس نے ستو ملا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ستو پیا پھر آپ نے اپنے ہاتھ مبارک سے فرمایا جب سورج اس طرف سے غروب ہوجائے اور اس طرف سے رات آجائے تو روزہ رکھنے والے کو افطار کرلیناچاہیے ۔ ( اس کا روزہ ختم ہوچکا)
حَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، - رضى الله عنه - قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَاجًّا وَخَرَجْنَا مَعَهُ - قَالَ - فَصَرَفَ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ أَبُو قَتَادَةَ فَقَالَ ‏"‏ خُذُوا سَاحِلَ الْبَحْرِ حَتَّى تَلْقَوْنِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَأَخَذُوا سَاحِلَ الْبَحْرِ ‏.‏ فَلَمَّا انْصَرَفُوا قِبَلَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحْرَمُوا كُلُّهُمْ إِلاَّ أَبَا قَتَادَةَ فَإِنَّهُ لَمْ يُحْرِمْ فَبَيْنَمَا هُمْ يَسِيرُونَ إِذْ رَأَوْا حُمُرَ وَحْشٍ فَحَمَلَ عَلَيْهَا أَبُو قَتَادَةَ فَعَقَرَ مِنْهَا أَتَانًا فَنَزَلُوا فَأَكَلُوا مِنْ لَحْمِهَا - قَالَ - فَقَالُوا أَكَلْنَا لَحْمًا وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ - قَالَ - فَحَمَلُوا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِ الأَتَانِ فَلَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا أَحْرَمْنَا وَكَانَ أَبُو قَتَادَةَ لَمْ يُحْرِمْ فَرَأَيْنَا حُمُرَ وَحْشٍ فَحَمَلَ عَلَيْهَا أَبُو قَتَادَةَ فَعَقَرَ مِنْهَا أَتَانًا فَنَزَلْنَا فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهَا فَقُلْنَا نَأْكُلُ لَحْمَ صَيْدٍ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ ‏.‏ فَحَمَلْنَا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِهَا ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ هَلْ مِنْكُمْ أَحَدٌ أَمَرَهُ أَوْ أَشَارَ إِلَيْهِ بِشَىْءٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قَالُوا لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَكُلُوا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِهَا ‏"‏ ‏.‏
Abdullah b. Abu Qatada reported on the authority of his father (Allah be pleased with him):The Messenger of Allah (ﷺ) set out for Pilgrimage and we also set out along with him. He (Abu Qatada) said: There proceeded on some of his Companions and Abu Qatada was (one of them). He (the Prophet) said: You proceed along the coastline till you meet me. He (Abu Qatada) said: So they proceeded ahead of the Prophet of Allah (ﷺ), all of them had entered upon the state of Ihram, except Abu Qatada; he had not put on ihram. As they went on they saw a wild ass, and Abu Qatada attacked it and cut off its hind legs. They got down and ate its meat. They said: We ate meat In the state of Ihram. They carried the meat that was left of it. As they came to the Messenger of Allah (way peace be upon him) they said: Messenger of Allah, we were in the state of Ihram whereas Abu Qatada was not. We saw a wild ass and Abu Qatada attacked it and cut off its hind legs. We got down and ate its meat and we thus ate the meat of a game while we were In the state of Ihram. We have (carried to you) what was left out of its meat. Thereupon he (the holy Prophet) said: Did anyone among you command him (to hunt) or point to him with anything (to do so)? They said: No. Thereupon he said: Then eat what is left out of its meat
عثمان بن عبد اللہ بن مو ہب نے عبد اللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کے لیے نکلے ۔ ہم بھی آپ کے ساتھ نکلے ، کہا آپ نے اپنے صحابہ کرا م رضوان اللہ عنھم اجمعین میں کچھ لوگوں کو جن میں ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی شامل تھے ہٹا ( کر ایک سمت بھیج دیا اور فر ما یا "" ساحل سمندر لے لے کے چلو حتی کہ مجھ سے آملو ۔ "" کہا : انھوں نے ساھل سمندر کا را ستہ اختیار کیا ۔ جب انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رخ کیا تو ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علاوہ سب نے احرا م باندھ لیا ( بس ) انھوں نے احرا م نہیں باندھا تھا ۔ اسی اثنا میں جب وہ چل رہے تھے انھوں نے زبیرے دیکھے ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان پر حملہ کر دیا اور ان میں سے ایک مادہزیبرا کوگرا لیا ۔ وہ ( لو گ ) اترے اور اس کا گو شت تناول کیا ۔ کہا وہ ( صحا بہ کرا م رضوان اللہ عنھم اجمعین ) کہنے لگے ۔ ہم نے ( تو شکار کا گو شت کھا لیا جبکہ ہم احرا م کی حا لت میں ہیں ۔ ( راوی نے ) کہا : انھوں نے مادہ زیبرے کا بچا ہوا گو شت اٹھا لیا ( اور چل پڑے ) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے کہنے لگے ۔ ہم سب نے احرا م باند ھ لیا تھا جبکہ ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان پر حملہ کر دیا اور ان میں سے ایک مادہ زیبرا مار لیا ۔ پس ہم اترے اور اس کا گو شت کھایا ۔ بعد میں ہم نے کہا : ہم احرا م باندھے ہو ئے ہیں اور شکار کا گو شت کھا رہے ہیں ! پھر ہم نے اس کا باقی گو شت اٹھا یا ( اور آگئے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" کیا تم میں سے کسی نے ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ( شکار کرنے کو ) کہا تھا ۔ ؟یا کسی چیز سے اس ( شکار ) کی طرف اشارہ کیا تھا ؟انھوں نے کہا نہیں آپ نے فر ما یا : "" اس کا باقی گو شت بھی تم کھا لو ۔
وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْعَلاَءِ، وَسُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِمَا، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ، بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ أَنَّهُمْ قَالُوا ‏ "‏ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ وَخِطْبَةِ أَخِيهِ ‏"‏ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Abu Huraira (Allah be pleased with him) through another chain of transmitters
احمد بن ابراہیم دورقی نے حدیث بیان کی ، کہا : ہم سے شعبہ نے علاء ( بن عبدالرحمٰن جہنی ) اور سہیل ( بن ابی صالح سمان مدنی ) سے ، انہوں نے اپنے اپنے والد سے ، ان دونوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( یہی حدیث ) روایت کی
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ أَمَا تَسْتَحْيِي امْرَأَةٌ تَهَبُ نَفْسَهَا لِرَجُلٍ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ‏}‏ فَقُلْتُ إِنَّ رَبَّكَ لَيُسَارِعُ لَكَ فِي هَوَاكَ.‏
Hisham reported on the authority of his father that 'A'isha (Allah be pleased with her) used to say:Does the woman not feel shy of offering herself to a man? Then Allah the Exalted and Glorious revealed this verse:" You may defer any of them you wish and take to yourself any you wish." I ('A'isha said): It seems to me that your Lord hastens to satisfy your desire
عبدہ بن سلیمان نے ہشام سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد ( عروہ ) سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سےروایت کی ، وہ کہاکرتی تھیں : کیا اس عورت کو حیا محسوس نہیں ہوتی جو خود کو کسی مرد کے لیے ہبہ کرتی ہے ۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ نازل فرمایا : " آپ ان عورتوں میں سے جسے چاہیں پیچھے کریں اور جسے چاہیں اپنے پاس جگہ دیں ۔ " تو میں نے کہا : بلاشبہ آپ کا رب آپ کی خواہش ( کو پورا کرنے ) میں جلدی کرتا ہے
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، تَزَوَّجَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَكَمِ فَطَلَّقَهَا فَأَخْرَجَهَا مِنْ عِنْدِهِ فَعَابَ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ عُرْوَةُ فَقَالُوا إِنَّ فَاطِمَةَ قَدْ خَرَجَتْ ‏.‏ قَالَ عُرْوَةُ فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ فَأَخْبَرْتُهَا بِذَلِكَ فَقَالَتْ مَا لِفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ خَيْرٌ فِي أَنْ تَذْكُرَ هَذَا الْحَدِيثَ ‏.‏
Hisham reported on the authority of his father that Yahya b. Sa'id b. al-'As married the daughter of 'Abd al-Rahman b. al-Hakam, and he divorced her and he turned her out from his house. 'Urwa (Allah be -pleased with him) criticised this (action) of theirs (the members of the family of her in-laws). They said:Verily, Fatima too went out (of her in-laws' house). 'Urwa said: I came to 'A'isha (Allah be pleased with her) and told her about it and she said: There is no good for Fatima bint Qais (Allah be pleased with her) in making mention of it
عروہ بن زبیر نے کہا : یحییٰ بن سعید بن عاص نے عبدالرحمٰن بن حکم کی بیٹی سے شادی کی ، بعد میں اسے طلاق دے دی اور اسے اپنے ہاں سے بھی نکال دیا ۔ عروہ نے اس بات کی وجہ سے ان پر سخت اعتراض کیا ، تو انہوں نے کہا : فاطمہ ( بھی اپنے خاوند کے گھر سے ) چلی گئی تھی ۔ عروہ نے کہا : اس پر میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں یہ بات بتائی تو انہوں نے کہا : فاطمہ بنت قیس کے لیے اس حدیث کو بیان کرنے میں کوئی خیر نہیں ہے
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ يَحْيَى، بِهَذَا الإِسْنَادِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهُ لَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ
This hadith is reported or the authority of Yahya with the same chain of transmitters up to" until its good condition becomes clear," but lie did not mention what follows (these words)
عبدالوہاب نے یحییٰ سے اسی سند کے ساتھ " حتیٰ کہ اس کی صلاحیت واضح ہو جائے " تک حدیث بیان کی ، اس کے بعد والا حصہ بیان نہیں کیا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، - وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ - عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ، اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا إِلاَّ كَلْبَ مَاشِيَةٍ أَوْ كَلْبَ صَيْدٍ نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ‏"‏ أَوْ كَلْبَ حَرْثٍ ‏"‏ ‏.‏
Salim b. 'Abdullah reported on the authority of his father that Allah's Messenger (ﷺ) said:He who kept a dog other than one meant for watching the herd or for hunting would lose every day two qirat of his good deeds. 'Abdullah and Abu Huraira also said: Or dog meant for watching the field
محمد بن ابی حرملہ نے سالم بن عبداللہ سے اور انہوں نے اپنے والد ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جس نے مویشیوں کے کتے یا شکار کے کتے کے سوا کتا رکھا تو اس کے عمل سے ہر روز ایک قیراط کم ہو گا ۔ "" حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : "" یا کھیتی کے کتے ( کے سوا ۔)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا نَصَحَ لِسَيِّدِهِ وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ اللَّهِ فَلَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ ‏"‏ ‏.‏
Ibn Umar reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When a slave looks to the welfare of his master and worships Allah well, he has two rewards for him
امام مالک نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " غلام جب اپنے آقا کی خیرخواہی کرے اور اچھی طرح اللہ کی بندگی کرے تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ فَتَلاَ عَلَيْنَا آيَةَ النِّسَاءِ ‏{‏ أَنْ لاَ يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا‏}‏ الآيَةَ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters with this addition:" He recited to us the verse pertaining to women, viz, that they will not associate anything with Allah
معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور حدیث میں یہ اضافہ کیا : اس کے بعد آپ نے ہمارے سامنے عورتوں ( کے احکام ) والی ( سورۃ الممتحنہ کی ) یہ آیت تلاوت کی : " کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ نَحْوَهُ ‏.‏
A similar hadith has been narrated on the authority of Abu Zinad through a different chain of transmitters
ترجمہ ‌وہی ‌جو ‌اوپر ‌٤٥٨٣ ‌میں ‌گزرا۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏
This hadith has been transmitted on the authority of A'mash
ابوبکر بن ابی شیبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں وکیع اور ابومعاویہ نے اعمش سے اسی سند سے اسی طرح حدیث بیان کی
وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنِي وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي، أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ وَهْىَ خَالَتُهُ فَقُدِّمَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَحْمُ ضَبٍّ جَاءَتْ بِهِ أُمُّ حُفَيْدٍ بِنْتُ الْحَارِثِ مِنْ نَجْدٍ وَكَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي جَعْفَرٍ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يَأْكُلُ شَيْئًا حَتَّى يَعْلَمَ مَا هُوَ ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ وَزَادَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ وَحَدَّثَهُ ابْنُ الأَصَمِّ عَنْ مَيْمُونَةَ وَكَانَ فِي حَجْرِهَا ‏.‏
Khalid b. Walid reported that he visited Maimuna daughter of al-Harith with the Messenger of Allah (ﷺ), and she was the sister of his mother. She presented to Allah's Messenger (ﷺ) the flesh of a lizard which Umm Hufaid daughter of al-Harith had brought from Najd, and she had been married to a person belonging to Banu Ja'far. It was the habit of Allah's Messenger (ﷺ) not to eat anything until he knew what that was. The rest of the hadith is the same but with this (addition):" Ibn al-Asamm narrated it from Maimuna and he was under her care
صالح بن کیسان نے ابن شہاب سے ، انھوں نے ابو امامہ بن سہل سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے ان سے بیان کیا کہ انھیں خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمرا ہ حضرت میمونہ بنت حا رث رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہا ں گئے ، وہ ان کی خالہ تھیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سانڈے کا گو شت پیش کیا گیا ، اسے ام حفید بنت حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہا نجد سے لا ئی تھیں ، یہ نبو جعفر کے ایک شخص کے نکاح میں تھیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک کو ئی چیز تناول نہ فر ما تے تھے ۔ جب تک کہ آپ کو معلوم نہ ہو جائے کہ وہ کیا ہے ۔ پھر انھوں نے یونس کی حدیث کی طرح بیان کیا اور حدیث کے آخر میں اضا فہ کیا اور انھیں ( یزید ) ابن اصم نے ( بھی ) حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ( یہی ) حدیث سنائی ، انھوں نے ان ( میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) کے ہاں پرورش پا ئی ۔ ( ان کی والدہ برزہ بنت حارث ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بہن تھیں ۔)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ قَالَ رَجُلٌ لاِبْنِ عُمَرَ أَنَهَى نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ طَاوُسٌ وَاللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُهُ مِنْهُ ‏.‏
A person asked Ibn 'Umar if the Messenger of Allah (ﷺ) forbade the preparation of Nabidh in a green pitcher (besmeared with pitch). He said:Yes. Then Tawus said: By Allah, I heard it from him
سلیمان تیمی نے طاوس سے روایت کی ، کہا : ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑوں کی نبیذ سے منع فرمایاتھا؟انھوں نے کہا : ہاں ۔ پھر طاوس نےکہا : اللہ کی قسم! میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس طرح سناہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَمَّا تَزَوَّجْتُ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَتَّخَذْتَ أَنْمَاطًا ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ وَأَنَّى لَنَا أَنْمَاطٌ قَالَ ‏"‏ أَمَا إِنَّهَا سَتَكُونُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ جَابِرٌ وَعِنْدَ امْرَأَتِي نَمَطٌ فَأَنَا أَقُولُ نَحِّيهِ عَنِّي ‏.‏ وَتَقُولُ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّهَا سَتَكُونُ ‏"‏ ‏.‏
Jabir b. Abdullah reported:When I was married. Allah's Messenger (ﷺ) asked me if I had got carpets. I said: How can we have carpets? Thereupon he said: You will soon have. Jabir said: My wife had possessed a carpet, and I said to her to remove that away from me, but she would say: Allah's Messenger (ﷺ) had said: You will soon have
وکیع نے ہمیں سفیان سے حدیث بیان کی ، انھوں نے محمد بن منکدرسےانھوں نے حضرت جابر عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : جب میں نے شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پو چھا : " کیا تم نے بچھونوں کے غلا ف بنا ئے ہیں ؟ " میں نے عرض کی ، ہمارے پاس غلا ف کہاں سے آئے ؟ آپ نے فرما یا : " اب عنقریب ہوجا ئیں گے ۔ حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میری بیوی کے پاس ایک غلا ف تھا میں اس سے کہتا تھا : اسے مجھ سے دور رکھو ، اور وہ کہتی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا تھا : " عنقریب غلا ف ہوا کریں گے ۔
وَحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَمُسْلِمُ بْنُ صُبَيْحٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ وَجَرِيرٍ ‏.‏
This hadith has been reported on the authority of 'A'isha through another chain of transmitters with a slight variation of wording
اسرائیل نےمنصور سے ، انھوں نے ابراہیم اور مسلم بن صبیح سے ، انھوں نے مسروق سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( جب کسی مریض کی عیادت کرتے ) تھے ( آگے ) جس طرح ابوعوانہ اور جریر کی حدیث میں ہے ۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ الْفِطْرَةُ خَمْسٌ الاِخْتِتَانُ وَالاِسْتِحْدَادُ وَقَصُّ الشَّارِبِ وَتَقْلِيمُ الأَظْفَارِ وَنَتْفُ الإِبْطِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported:Five are the acts of fitra: circumcision, removing the pubes, clipping the moustache, cutting the nails, plucking the hair under the armpits
مجھے یونس نے ابن شہاب زہری سے خبر دی ، انہوں نے سعید بن مسیب سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : ’’ ( خصائل ) فطرت پانچ ہیں : ختنہ کرانا ، زیر ناف بال مونڈنا ، مونچھ کترنا ، ناخن تراشنا اور بغل کے بال اکھیڑنا ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا - حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحْسَنَ النَّاسِ وَكَانَ أَجْوَدَ النَّاسِ وَكَانَ أَشْجَعَ النَّاسِ وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَانْطَلَقَ نَاسٌ قِبَلَ الصَّوْتِ فَتَلَقَّاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَاجِعًا وَقَدْ سَبَقَهُمْ إِلَى الصَّوْتِ وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ لأَبِي طَلْحَةَ عُرْىٍ فِي عُنُقِهِ السَّيْفُ وَهُوَ يَقُولُ ‏"‏ لَمْ تُرَاعُوا لَمْ تُرَاعُوا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَجَدْنَاهُ بَحْرًا أَوْ إِنَّهُ لَبَحْرٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَكَانَ فَرَسًا يُبَطَّأُ ‏.‏
Anas b. Malik reported that Allah's Messenger (ﷺ) was the sublimest among people (in character) and the most generous amongst them and he was the bravest of men. One night the people of Medina felt disturbed and set forth in the direction of a sound when Allah's Messenger (ﷺ) met them on his way back as he had gone towards that sound ahead of them. He was on the horse of Abu Talha which had no saddle over it, and a sword was slung round his neck, and he was saying:There was nothing to be afraid of, and he also said: We found it (this horse) like a torrent of water (indicating its swift-footedness), whereas the horse had been slow before that time
ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں میں سب سے بڑھ کر خوبصورت سب انسانوں سے بڑھ کر سخی اور سب سے زیادہ بہادرتھے ۔ ایک رات اہل مدینہ ( ایک آواز سن کر ) خوف زدہ ہو گئے ، صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین اس آواز کی طرف گئے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں اس جگہ سے واپس آتے ہو ئے ملے ، آپ سب سے پہلے آواز ( کی جگہ ) تک پہنچے ، آپ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار تھے ، آپ کی گردن مبارک میں تلوار حمائل تھی اور آپ فر ما رہےتھے ۔ " خوف میں مبتلا نہ ہو خوف میں مبتلانہ ہو " ( پھر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم " ہم نے اس ( گھوڑے ) کو سمندر کی طرح پا یا ہے یا ( فرما یا ) وہ تو سمندر ہے ۔ " انھوں ( انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : اور ( اس سے پہلے ) وہ سست رفتار گھوڑا تھا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ بِلاَلٍ - عَنْ يَحْيَى، - وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ - عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ لَقَدْ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ ‏.‏
Sa'd b Abi Waqqqs said:Allah's Messenger (may peace he upon him) gathered his parents for me on the Day of Uhud
سلیمان بن بلال نے یحییٰ بن سعید سے انھوں نے سعید سے انھوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ۔ کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ اُحد کے دن میرے لیے ایک ساتھ اپنے ماں باپ کا نام نہیں لیا ۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْهَادِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَا مِنْ شَىْءٍ يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ حَتَّى الشَّوْكَةِ تُصِيبُهُ إِلاَّ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا حَسَنَةً أَوْ حُطَّتْ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ ‏"‏ ‏.‏
A'isha reported:I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: There is nothing (in the form of trouble) that comes to a believer even if it is the pricking of a thorn that there is decreed for him by Allah good or his sins are obliterated
عمرہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی بھی مصیبت نہیں جو مومن پر آتی ہے ، حتی کہ وہ کانٹا بھی جو اسے چبھتا ہے تو اللہ اس کے بدلے اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہے یا اس کی وجہ سے اس کی کوئی غلطی معاف کر دی جاتی ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لأَبِي بَكْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ، نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَدْعُو بِهَؤُلاَءِ الدَّعَوَاتِ ‏ "‏ اللَّهُمَّ فَإِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ وَعَذَابِ النَّارِ وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَاىَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَاىَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ اللَّهُمَّ فَإِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَالْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ ‏"‏ ‏.‏
A'isha reported that Allah's Messenger (ﷺ) used to make these supplications:" O Allah, I seek refuge in Thee from the trial of Hell-Fire; and from the torment of Hell-Fire; and from the trial of the grave and torment of the grave; and from the evil of the trial of the affluence and from the evil of the trial of poverty and I seek refuge in Thee from the evil of the turmoil of the Dajjal. O Allah, wash away my sins with snow and hail water, purify my heart from the sins as is purified the white garment from the dirt, and keep away at a distance the sins from me as yawns the distance between the East and the West; O Allah, I seek refuge in Thee from sloth, from senility, from sin, and from debt
ابن نمیر نے کہا : ہمیں ہشام نے اپنے والد ( عروہ ) سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اللہ تعالیٰ سے ) یہ دعائیں مانگا کرتے تھے : " اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں آگ کے فتنے سے اور آگ کے عذاب سے اور غنا کی آزمائش کے شر سے اور فقر کی آزمائش کے شر سے اور میں تیری پناہ میں آتا ہوں جھوٹے مسیح کے فتنے کی برائی سے ۔ اے اللہ! میری خطائیں برف اور اولوں ( کے پانی ) سے دھودے ، اور میرے دل کو خطاؤں سے اس طرح صاف ستھرا کر دے جس طرح تو سفید کپڑے کو میل سے صاف کرتا ہے اور میرے اور میری خطاؤں کے درمیان اتنا فاصلہ ڈال دے جتنا فاصلہ تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان ڈالا ہے ۔ اے اللہ! میں سستی ، عاجز کر دینے والے بڑھاپے ، گناہ اور قرج ( کے غلبے ) سے تیری پناہ میں آتا ہوں ۔
حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، الأَيْلِيُّ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، وَالسِّيَاقُ، حَدِيثُ مَعْمَرٍ مِنْ رِوَايَةِ عَبْدٍ وَابْنِ رَافِعٍ قَالَ يُونُسُ وَمَعْمَرٌ جَمِيعًا عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَعَلْقَمَةُ بْنِ وَقَّاصٍ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الإِفْكِ مَا قَالُوا فَبَرَّأَهَا اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكُلُّهُمْ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنْ حَدِيثِهَا وَبَعْضُهُمْ كَانَ أَوْعَى لِحَدِيثِهَا مِنْ بَعْضٍ وَأَثْبَتَ اقْتِصَاصًا وَقَدْ وَعَيْتُ عَنْ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمُ الْحَدِيثَ الَّذِي حَدَّثَنِي وَبَعْضُ حَدِيثِهِمْ يُصَدِّقُ بَعْضًا ذَكَرُوا أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَهُ - قَالَتْ عَائِشَةُ - فَأَقْرَعَ بَيْنَنَا فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا فَخَرَجَ فِيهَا سَهْمِي فَخَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَذَلِكَ بَعْدَ مَا أُنْزِلَ الْحِجَابُ فَأَنَا أُحْمَلُ فِي هَوْدَجِي وَأُنْزَلُ فِيهِ مَسِيرَنَا حَتَّى إِذَا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ غَزْوِهِ وَقَفَلَ وَدَنَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ آذَنَ لَيْلَةً بِالرَّحِيلِ فَقُمْتُ حِينَ آذَنُوا بِالرَّحِيلِ فَمَشَيْتُ حَتَّى جَاوَزْتُ الْجَيْشَ فَلَمَّا قَضَيْتُ مِنْ شَأْنِي أَقْبَلْتُ إِلَى الرَّحْلِ فَلَمَسْتُ صَدْرِي فَإِذَا عِقْدِي مِنْ جَزْعِ ظَفَارِ قَدِ انْقَطَعَ فَرَجَعْتُ فَالْتَمَسْتُ عِقْدِي فَحَبَسَنِي ابْتِغَاؤُهُ وَأَقْبَلَ الرَّهْطُ الَّذِينَ كَانُوا يَرْحَلُونَ لِي فَحَمَلُوا هَوْدَجِي فَرَحَلُوهُ عَلَى بَعِيرِيَ الَّذِي كُنْتُ أَرْكَبُ وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنِّي فِيهِ - قَالَتْ - وَكَانَتِ النِّسَاءُ إِذْ ذَاكَ خِفَافًا لَمْ يُهَبَّلْنَ وَلَمْ يَغْشَهُنَّ اللَّحْمُ إِنَّمَا يَأْكُلْنَ الْعُلْقَةَ مِنَ الطَّعَامِ فَلَمْ يَسْتَنْكِرِ الْقَوْمُ ثِقَلَ الْهَوْدَجِ حِينَ رَحَلُوهُ وَرَفَعُوهُ وَكُنْتُ جَارِيَةً حَدِيثَةَ السِّنِّ فَبَعَثُوا الْجَمَلَ وَسَارُوا وَوَجَدْتُ عِقْدِي بَعْدَ مَا اسْتَمَرَّ الْجَيْشُ فَجِئْتُ مَنَازِلَهُمْ وَلَيْسَ بِهَا دَاعٍ وَلاَ مُجِيبٌ فَتَيَمَّمْتُ مَنْزِلِي الَّذِي كُنْتُ فِيهِ وَظَنَنْتُ أَنَّ الْقَوْمَ سَيَفْقِدُونِي فَيَرْجِعُونَ إِلَىَّ فَبَيْنَا أَنَا جَالِسَةٌ فِي مَنْزِلِي غَلَبَتْنِي عَيْنِي فَنِمْتُ وَكَانَ صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ السُّلَمِيُّ ثُمَّ الذَّكْوَانِيُّ قَدْ عَرَّسَ مِنْ وَرَاءِ الْجَيْشِ فَادَّلَجَ فَأَصْبَحَ عِنْدَ مَنْزِلِي فَرَأَى سَوَادَ إِنْسَانٍ نَائِمٍ فَأَتَانِي فَعَرَفَنِي حِينَ رَآنِي وَقَدْ كَانَ يَرَانِي قَبْلَ أَنْ يُضْرَبَ الْحِجَابُ عَلَىَّ فَاسْتَيْقَظْتُ بِاسْتِرْجَاعِهِ حِينَ عَرَفَنِي فَخَمَّرْتُ وَجْهِي بِجِلْبَابِي وَوَاللَّهِ مَا يُكَلِّمُنِي كَلِمَةً وَلاَ سَمِعْتُ مِنْهُ كَلِمَةً غَيْرَ اسْتِرْجَاعِهِ حَتَّى أَنَاخَ رَاحِلَتَهُ فَوَطِئَ عَلَى يَدِهَا فَرَكِبْتُهَا فَانْطَلَقَ يَقُودُ بِي الرَّاحِلَةَ حَتَّى أَتَيْنَا الْجَيْشَ بَعْدَ مَا نَزَلُوا مُوغِرِينَ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ فَهَلَكَ مَنْ هَلَكَ فِي شَأْنِي وَكَانَ الَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ ابْنُ سَلُولَ فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَاشْتَكَيْتُ حِينَ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ شَهْرًا وَالنَّاسُ يُفِيضُونَ فِي قَوْلِ أَهْلِ الإِفْكِ وَلاَ أَشْعُرُ بِشَىْءٍ مِنْ ذَلِكَ وَهُوَ يَرِيبُنِي فِي وَجَعِي أَنِّي لاَ أَعْرِفُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اللُّطْفَ الَّذِي كُنْتُ أَرَى مِنْهُ حِينَ أَشْتَكِي إِنَّمَا يَدْخُلُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيُسَلِّمُ ثُمَّ يَقُولُ ‏"‏ كَيْفَ تِيكُمْ ‏"‏ ‏.‏ فَذَاكَ يَرِيبُنِي وَلاَ أَشْعُرُ بِالشَّرِّ حَتَّى خَرَجْتُ بَعْدَ مَا نَقِهْتُ وَخَرَجَتْ مَعِي أُمُّ مِسْطَحٍ قِبَلَ الْمَنَاصِعِ وَهُوَ مُتَبَرَّزُنَا وَلاَ نَخْرُجُ إِلاَّ لَيْلاً إِلَى لَيْلٍ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنَّ نَتَّخِذَ الْكُنُفَ قَرِيبًا مِنْ بُيُوتِنَا وَأَمْرُنَا أَمْرُ الْعَرَبِ الأُوَلِ فِي التَّنَزُّهِ وَكُنَّا نَتَأَذَّى بِالْكُنُفِ أَنْ نَتَّخِذَهَا عِنْدَ بُيُوتِنَا فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَأُمُّ مِسْطَحٍ وَهِيَ بِنْتُ أَبِي رُهْمِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ وَأُمُّهَا ابْنَةُ صَخْرِ بْنِ عَامِرٍ خَالَةُ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَابْنُهَا مِسْطَحُ بْنُ أُثَاثَةَ بْنِ عَبَّادِ بْنِ الْمُطَّلِبِ فَأَقْبَلْتُ أَنَا وَبِنْتُ أَبِي رُهْمٍ قِبَلَ بَيْتِي حِينَ فَرَغْنَا مِنْ شَأْنِنَا فَعَثَرَتْ أُمُّ مِسْطَحٍ فِي مِرْطِهَا فَقَالَتْ تَعِسَ مِسْطَحٌ ‏.‏ فَقُلْتُ لَهَا بِئْسَ مَا قُلْتِ أَتَسُبِّينَ رَجُلاً قَدْ شَهِدَ بَدْرًا ‏.‏ قَالَتْ أَىْ هَنْتَاهُ أَوَلَمْ تَسْمَعِي مَا قَالَ قُلْتُ وَمَاذَا قَالَ قَالَتْ فَأَخْبَرَتْنِي بِقَوْلِ أَهْلِ الإِفْكِ فَازْدَدْتُ مَرَضًا إِلَى مَرَضِي فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَى بَيْتِي فَدَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ كَيْفَ تِيكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ أَتَأْذَنُ لِي أَنْ آتِيَ أَبَوَىَّ قَالَتْ وَأَنَا حِينَئِذٍ أُرِيدُ أَنْ أَتَيَقَّنَ الْخَبَرَ مِنْ قِبَلِهِمَا ‏.‏ فَأَذِنَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجِئْتُ أَبَوَىَّ فَقُلْتُ لأُمِّي يَا أُمَّتَاهْ مَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ فَقَالَتْ يَا بُنَيَّةُ هَوِّنِي عَلَيْكِ فَوَاللَّهِ لَقَلَّمَا كَانَتِ امْرَأَةٌ قَطُّ وَضِيئَةٌ عِنْدَ رَجُلٍ يُحِبُّهَا وَلَهَا ضَرَائِرُ إِلاَّ كَثَّرْنَ عَلَيْهَا - قَالَتْ - قُلْتُ سُبْحَانَ اللَّهِ وَقَدْ تَحَدَّثَ النَّاسُ بِهَذَا قَالَتْ فَبَكَيْتُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ حَتَّى أَصْبَحْتُ لاَ يَرْقَأُ لِي دَمْعٌ وَلاَ أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ ثُمَّ أَصَبَحْتُ أَبْكِي وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَأُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ حِينَ اسْتَلْبَثَ الْوَحْىُ يَسْتَشِيرُهُمَا فِي فِرَاقِ أَهْلِهِ - قَالَتْ - فَأَمَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَأَشَارَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالَّذِي يَعْلَمُ مِنْ بَرَاءَةِ أَهْلِهِ وَبِالَّذِي يَعْلَمُ فِي نَفْسِهِ لَهُمْ مِنَ الْوُدِّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هُمْ أَهْلُكَ وَلاَ نَعْلَمُ إِلاَّ خَيْرًا ‏.‏ وَأَمَّا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ لَمْ يُضَيِّقِ اللَّهُ عَلَيْكَ وَالنِّسَاءُ سِوَاهَا كَثِيرٌ وَإِنْ تَسْأَلِ الْجَارِيَةَ تَصْدُقْكَ - قَالَتْ - فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَرِيرَةَ فَقَالَ ‏"‏ أَىْ بَرِيرَةُ هَلْ رَأَيْتِ مِنْ شَىْءٍ يَرِيبُكِ مِنْ عَائِشَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ لَهُ بَرِيرَةُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنْ رَأَيْتُ عَلَيْهَا أَمْرًا قَطُّ أَغْمِصُهُ عَلَيْهَا أَكْثَرَ مِنْ أَنَّهَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ تَنَامُ عَنْ عَجِينِ أَهْلِهَا فَتَأْتِي الدَّاجِنُ فَتَأْكُلُهُ - قَالَتْ - فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمِنْبَرِ فَاسْتَعْذَرَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَىٍّ ابْنِ سَلُولَ - قَالَتْ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ‏"‏ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ رَجُلٍ قَدْ بَلَغَ أَذَاهُ فِي أَهْلِ بَيْتِي فَوَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَى أَهْلِي إِلاَّ خَيْرًا وَلَقَدْ ذَكَرُوا رَجُلاً مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِ إِلاَّ خَيْرًا وَمَا كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أَهْلِي إِلاَّ مَعِي ‏"‏ ‏.‏ فَقَامَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ الأَنْصَارِيُّ فَقَالَ أَنَا أَعْذِرُكَ مِنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ كَانَ مِنَ الأَوْسِ ضَرَبْنَا عُنُقَهُ وَإِنْ كَانَ مِنْ إِخْوَانِنَا الْخَزْرَجِ أَمَرْتَنَا فَفَعَلْنَا أَمْرَكَ - قَالَتْ - فَقَامَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَهُوَ سَيِّدُ الْخَزْرَجِ وَكَانَ رَجُلاً صَالِحًا وَلَكِنِ اجْتَهَلَتْهُ الْحَمِيَّةُ فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ كَذَبْتَ لَعَمْرُ اللَّهِ لاَ تَقْتُلُهُ وَلاَ تَقْدِرُ عَلَى قَتْلِهِ ‏.‏ فَقَامَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ وَهُوَ ابْنُ عَمِّ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ كَذَبْتَ لَعَمْرُ اللَّهِ لَنَقْتُلَنَّهُ فَإِنَّكَ مُنَافِقٌ تُجَادِلُ عَنِ الْمُنَافِقِينَ فَثَارَ الْحَيَّانِ الأَوْسُ وَالْخَزْرَجُ حَتَّى هَمُّوا أَنْ يَقْتَتِلُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُخَفِّضُهُمْ حَتَّى سَكَتُوا وَسَكَتَ - قَالَتْ - وَبَكَيْتُ يَوْمِي ذَلِكَ لاَ يَرْقَأُ لِي دَمْعٌ وَلاَ أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ ثُمَّ بَكَيْتُ لَيْلَتِي الْمُقْبِلَةَ لاَ يَرْقَأُ لِي دَمْعٌ وَلاَ أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ وَأَبَوَاىَ يَظُنَّانِ أَنَّ الْبُكَاءَ فَالِقٌ كَبِدِي فَبَيْنَمَا هُمَا جَالِسَانِ عِنْدِي وَأَنَا أَبْكِي اسْتَأْذَنَتْ عَلَىَّ امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَأَذِنْتُ لَهَا فَجَلَسَتْ تَبْكِي - قَالَتْ - فَبَيْنَا نَحْنُ عَلَى ذَلِكَ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَلَّمَ ثُمَّ جَلَسَ - قَالَتْ - وَلَمْ يَجْلِسْ عِنْدِي مُنْذُ قِيلَ لِي مَا قِيلَ وَقَدْ لَبِثَ شَهْرًا لاَ يُوحَى إِلَيْهِ فِي شَأْنِي بِشَىْءٍ - قَالَتْ - فَتَشَهَّدَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ جَلَسَ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَمَّا بَعْدُ يَا عَائِشَةُ فَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي عَنْكِ كَذَا وَكَذَا فَإِنْ كُنْتِ بَرِيئَةً فَسَيُبَرِّئُكِ اللَّهُ وَإِنْ كُنْتِ أَلْمَمْتِ بِذَنْبٍ فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ وَتُوبِي إِلَيْهِ فَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا اعْتَرَفَ بِذَنْبٍ ثُمَّ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَقَالَتَهُ قَلَصَ دَمْعِي حَتَّى مَا أُحِسُّ مِنْهُ قَطْرَةً فَقُلْتُ لأَبِي أَجِبْ عَنِّي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيمَا قَالَ ‏.‏ فَقَالَ وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ لأُمِيِّ أَجِيبِي عَنِّي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ وَأَنَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ لاَ أَقْرَأُ كَثِيرًا مِنَ الْقُرْآنِ إِنِّي وَاللَّهِ لَقَدْ عَرَفْتُ أَنَّكُمْ قَدْ سَمِعْتُمْ بِهَذَا حَتَّى اسْتَقَرَّ فِي نُفُوسِكُمْ وَصَدَّقْتُمْ بِهِ فَإِنْ قُلْتُ لَكُمْ إِنِّي بَرِيئَةٌ وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنِّي بَرِيئَةٌ لاَ تُصَدِّقُونِي بِذَلِكَ وَلَئِنِ اعْتَرَفْتُ لَكُمْ بِأَمْرٍ وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنِّي بَرِيئَةٌ لَتُصَدِّقُونَنِي وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَجِدُ لِي وَلَكُمْ مَثَلاً إِلاَّ كَمَا قَالَ أَبُو يُوسُفَ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ ‏.‏ قَالَتْ ثُمَّ تَحَوَّلْتُ فَاضْطَجَعْتُ عَلَى فِرَاشِي - قَالَتْ - وَأَنَا وَاللَّهِ حِينَئِذٍ أَعْلَمُ أَنِّي بَرِيئَةٌ وَأَنَّ اللَّهَ مُبَرِّئِي بِبَرَاءَتِي وَلَكِنْ وَاللَّهِ مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنْ يُنْزَلَ فِي شَأْنِي وَحْىٌ يُتْلَى وَلَشَأْنِي كَانَ أَحْقَرَ فِي نَفْسِي مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيَّ بِأَمْرٍ يُتْلَى وَلَكِنِّي كُنْتُ أَرْجُو أَنْ يَرَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي النَّوْمِ رُؤْيَا يُبَرِّئُنِي اللَّهُ بِهَا قَالَتْ فَوَاللَّهِ مَا رَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَجْلِسَهُ وَلاَ خَرَجَ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ أَحَدٌ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى نَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخَذَهُ مَا كَانَ يَأْخُذُهُ مِنَ الْبُرَحَاءِ عِنْدَ الْوَحْىِ حَتَّى إِنَّهُ لَيَتَحَدَّرُ مِنْهُ مِثْلُ الْجُمَانِ مِنَ الْعَرَقِ فِي الْيَوْمِ الشَّاتِ مِنْ ثِقَلِ الْقَوْلِ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَيْهِ - قَالَتْ - فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَضْحَكُ فَكَانَ أَوَّلَ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا أَنْ قَالَ ‏"‏ أَبْشِرِي يَا عَائِشَةُ أَمَّا اللَّهُ فَقَدْ بَرَّأَكِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتْ لِي أُمِّي قُومِي إِلَيْهِ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لاَ أَقُومُ إِلَيْهِ وَلاَ أَحْمَدُ إِلاَّ اللَّهَ هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ بَرَاءَتِي - قَالَتْ - فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ‏}‏ عَشْرَ آيَاتٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَؤُلاَءِ الآيَاتِ بَرَاءَتِي - قَالَتْ - فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى مِسْطَحٍ لِقَرَابَتِهِ مِنْهُ وَفَقْرِهِ وَاللَّهِ لاَ أُنْفِقُ عَلَيْهِ شَيْئًا أَبَدًا بَعْدَ الَّذِي قَالَ لِعَائِشَةَ ‏.‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ وَلاَ يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ أَنْ يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَى‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏ أَلاَ تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ‏}‏ قَالَ حِبَّانُ بْنُ مُوسَى قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ هَذِهِ أَرْجَى آيَةٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَاللَّهِ إِنِّي لأُحِبُّ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لِي ‏.‏ فَرَجَعَ إِلَى مِسْطَحٍ النَّفَقَةَ الَّتِي كَانَ يُنْفِقُ عَلَيْهِ وَقَالَ لاَ أَنْزِعُهَا مِنْهُ أَبَدًا ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَأَلَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَمْرِي ‏"‏ مَا عَلِمْتِ أَوْ مَا رَأَيْتِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحْمِي سَمْعِي وَبَصَرِي وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ إِلاَّ خَيْرًا ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ وَهِيَ الَّتِي كَانَتْ تُسَامِينِي مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَعَصَمَهَا اللَّهُ بِالْوَرَعِ وَطَفِقَتْ أُخْتُهَا حَمْنَةُ بِنْتُ جَحْشٍ تُحَارِبُ لَهَا فَهَلَكَتْ فِيمَنْ هَلَكَ ‏.‏ قَالَ الزُّهْرِيُّ فَهَذَا مَا انْتَهَى إِلَيْنَا مِنْ أَمْرِ هَؤُلاَءِ الرَّهْطِ ‏.‏ وَقَالَ فِي حَدِيثِ يُونُسَ احْتَمَلَتْهُ الْحَمِيَّةُ ‏.‏
Sa'id b. Musayyib, 'Urwa b. Zubair, 'Alqama b. Waqqas and 'Ubaidullah b. Abdullah b. 'Utba b. Mas'ud--all of them reported the story of the false allegation against 'A'isha, the wife of Allah's Apostle (ﷺ). And they (the slanderers) said what they had to say, but Allah exonerated her of this charge and all of them reported a part of the hadith and some of them who had better memories reported more and with better retention, and I tried to retain this hadith (listening) from every one of them that they reported to me and some of them attested the other. (The sumaried substance of the false allegation is this):'A'isha said: Whenever Allah's Messenger (ﷺ) intended to set out on a journey he cast lots amongst his wives and he took one with him in whose favour the lot was cast. It so happened that he cast lots amongst us while setting out on a battle and it was cast in my favour, so I set out along with Allah's Messenger (ﷺ). This relates to the period when the revelation concerning the commands of veil had been made. I was carried in a haudaj and I was brought down where we had to stay. In short, when we set out for return journey from the expedition and our caravan was near Medina, Allah's Messenger (ﷺ) commanded one night to march forward. I also got up when the command for the march was given and moved on until I went out of the encampments of the army and after relieving myself I came to my place. I touched my chest and found that my necklace which had been made of the stones of zafar had been broken. I retraced my steps and tried to search my necklace and this detained me there. The group of people who saddled my ride and placed my haudaj carrying me upon the camels marched on. They were under the impression that I was in it. The women in those days were light of weight and they did not wear much flesh, as they ate less food; so they did not perceive the weight of my haudaj as they placed it upon the camel as I was a young girl at that time. So they drove the camel and Eet out and I found my necklace after the army had marched. I came to my place and there was none to call and none to respond (the call). I waited at my place under the impression that when the people would riot find me they would come back. So I kept sitting at my place. I was overpowered by sleep and slept. Safwan b. Mu'attal Sulami Dhakwini, who had lagged behind the army because of taking rest came to my place walking in the latter part of the night and he saw the body of a person who was asleep. He came to me and recognised me as he had seen rue before it was enjoined to observe purda. I got ap by his voice as he recited Inna lillahi wa inna ilaihi raji'un [we are for Allah and to Him we have to return. ] and I covered my head with my headdress. By Allah, he did not speak to me a word and I did not hear a word from him except Inna lillahi. He made his camel kneel down and I amounted the camel as he pressed tLe camel's foreleg and he moved on leaning the camel by the nose string on which I was riding until we came to the army where it had encamped for rest because of extreme heat. Woe be upon those who harboured doubts about me and the most notorious among them was 'Abdullah b. Ubayy, the great hypocrite. We came to Medina and I fell sick for a month. The people had been deliberating over the statements of those who had brought these calumnies against me. I was absolutely unaware of anything concerning that. This, however, caused doubt in my mind that I did not see Allah's Messenger (may peace be upon him.) treating me with such kindness with which he treated me as I fell ill before this. The Prophet (ﷺ) would coome and greet me with Assalam-o-'Alaikum and only ask me how I was. This caused doubt in my mind, but I was unaware of the evil. I wept outside despite my failing health and there went along with me Umm Mistah and she said the daughter of Abu Rhm b. Muttalib b. 'Abd Manaf and his mother was the daughter of Sakhr b. 'Amir, the sister of the mother of Abu Bakr Sidiq and his son was Mistah b. Uthatha b. 'Abbad b. Muttalib. I and the daughter of Abu Rahm set towards the direction of my house. Something got into the head dress of Umm Mistah and she said: Woe be upon Mistah. And I said. Woe be upon what you say. Do you curse people who had participated in Badr? She said: Innocent woman, have you not heard what he said? I said: What did he say? She conveyed to me the statement of those who had brought false allegations against me. So my illness was aggravated. I went to my house and Allah's Messenger (ﷺ) came to me and he greeted me and then said: How is that woman? I said: Do you permit me to go to the (house) of my parents? She (further) said: I had at that time made up my mind to confirm this news from them. Allah's Messenger (ﷺ) permitted me. So I came to (the house of) my parents and said to my mother: Mother, do you know what the people are talking about? She said: My daughter, you should not worry. By Allah, if there is a handsome woman who is loved by her husband and he has co-wives also they talk many a thing about her. I said: Hallowed be Allah, what are the people talking about? I wept during the whole night until it was morning and I did not have a wink of sleep and I wept even in the morning. As the revelation was delayed (in regard to this matter), so Allah's Messenger (ﷺ) called 'Ali ibn Abi 'Talib and Usama b. Zaid in order to seek their advice in regard to the separation of his wife. Usama b. Zaid told Allah's Messenger (may peace be apen him) about the innocence of his wives and what he knew about his love for them. He said: Allah's Messenger, they are your wives and we know nothing else about them but goodness. And as for 'Ali b. Abu Talib, he said: Allah has not put any unnecessary burden upon you (in regard to your wives). There are a number of women besides her and if you ask that maidservant (Barira) she will tell you the truth. So, Allah's Messenger (ﷺ) called Bailra and said: Barira, did you see anything in 'A'isha which can cause doubt about her? Barira said: By Him Who sent thee with the truth, I have seen nothing objectionable in her but only this much that she is a young girl and she goes to sleep while kneading the flour and the lamb eats that. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) mounted the pulpit and sought vindication against 'Abdullah b. Ubayy b. Salul, and he further said: Who would exonerate me from imputations of that person who has troubled (me) in regard to my family? By Allah, I find nothing in my wife but goodness and the person whom the people have mentioned in this connection is, according to my knowledge, a thoroughly pious person, and he did never get into my house but along with me. Sa'd b. Mu'adh stood up and said: Allah's Messenger, I defend your honour against him. If he belong to the tribe of Aus we would strike his neck and if he belongs to the tribe of our brother Khazraj and you order us we would comply with your order. Then Sa'd b. 'Ubada stood up. He was chief of the Khazraj tribe. He was otherwise a pioas man but he had some what tribal partisanship in him and he said to Sa'd b. Mu'adh: By the everlasting existence of Allah. you are not stating the fact, you will not be able to kill him and you will not have the power to do so. Thereupon, Usaid b. Hudair stood up, and he was the first cousin of Sa'd b. Mu'adh and said to Sa'd b. 'Ubada: By the everlasting existence of Allah, you are not stating the fact. We would kill him. You are a hypocrite and so you argue in defence of the hypocrites, and thus both the tribes Aus and Khazraj were flared up, until they were about to fall upon one another and Allah's Messenger (ﷺ) kept standing upon the pulpit and Allah's Messenger (ﷺ) tried to subside their anger until they became silent and thus there was silence. 'A'isha further reported: I spent the whole day in weeping and even the night and could not have a wink of sleep even next night. My parents thought that this constant weeping of mine would break my heart. I wept and they sat beside me. In the meanwhile a woman of the Ansar came to see me. I permitted her to see me and she also began to weep. And we were in this very state that Allah's Messenger (ﷺ) came and he greeted me and then sat down. He had never sat with me since a month when this rumour was afloat, and there was no revelation (to clarity) my case. Allah's Messenger (ﷺ) recited Tashahhud (there is no god but Allah and Muhammad is His Apostle) and then said: Coming to the point, 'A'isha, this is what has reached me about you and if you are innocent, Allah would Himself vindicate your honour, and if accidentally there has been a lapse on your part seek forgiveness of Allah; He will pardon thee for when a servant makes a confession of his fault and turns (to Him) penitently, Allah also turns to him (mercifully) accepting his repentance. When Allah's Messenger (ﷺ) talked, my tears dried up and not even a single drop of tear was perceived by me (rolling out of my eyes). I said to my father: You give a reply to Allah's Messenger (ﷺ) on my behalf. He said: By Allah, I do not know what I should say to Allah's Messenger (ﷺ). I then said to my mother: Give a reply to Allah's Messenger (ﷺ) on my behalf, but she said: By Allah, I do not know what I should say to Allah's Messenger (ﷺ). I was a small girl at that time and I had not read much of the Qur'an (but I said): By Allah, I perceive that you have heard about this and it has settled down in your mind and you have taken it to be true, so if I say to you that I am quite innocent, and Allah knows that I am innocent, you would never believe me to be true, and if I confess to (the alleged) lapse before you, whereas Allah knows that I am completely innocent (and I have not committed this sin at all), in that case You will take me to be true and, by Allah, I, therefore, find no other alternative for me and for you except that what the father of Yousuf said:, (My course is) comely patience. And Allah it is Whose help is to be sought for in that (predicament) which ye describe" (xii 18). After this I turned my face to the other side and lay down on my bed. By Allah, I was fully aware of this fact that I was innocent but I did not expect that Allah would descend Wahy Matlu (Qur'anic Wahy) in my case as I did not think myself so much important that Allah, the Exalted and Glorious, would speak in this matter in words to be recited. I only hoped that Allah would in vision give an indication of my innocence to Allah's Messenger (ﷺ) during his sleep. And, by Allah, Allah's Messenger (ﷺ) had not moved an inch from where he had been sitting and none from the members of my family had gone that Allah, the Exalted and Glorious, descended revelation upon Allah's Messenger (ﷺ) there and then and he felt the burden which he used to feel at the time of receiving revelation. He began to perspire because of the burden of words of Allah as they descended upon him even during the winter season and there fell the drops of his sweat like silvery beads. When this state of receiving revelation was over, the Messenger of Allah (ﷺ) smiled and the first words which he spoke to me were that he said: 'A'isha, there is glad tidings for you. Verily, Allah has vindicated your honour, and my mother who had been standing by me said: Get up (and thank him, i. e. the Holy Prophet). I said: By Allah, I shall not thank him and laud him but Allah Who has descended revelation vindicating my honour. She ('A'isha) said: Allah, the Exalted and Glorious, revealed:" 'Verily, those who spread the slander are a gang among you" (and) ten (subsequent) verses in regard to my innocence. She further said: Abu Bakr used to give to Mistah (some stipend) as a token of kinship with him and for his poverty and he (Abu Bakr) said: By Allah, now I would not spend anything for him. 'A'isha said: It was upon this that Allah the Exalted and Glorious revealed this verse:" And let not those who possess dignity and ease among you swear to give to the near of the kin" up to" Yearn ye not that Allah may forgive you?" Hibban b. Musa' said that 'Abdullah b. Mubarak used to say: It is a verse contained in the Book which most (eminently) brightens the hope. Abu Bakr said: By Allah, I wish that Allah should pardon me. I shall never stop this stipend. So he continued to give him the stipend which he had withdrawn. 'A'isha said that Allah's Messenger (ﷺ) asked Zainab, daughter of Jahsh, the wife of Allah's Apostle (ﷺ), about me what she knew or what she had seen in me, and she said: Allah's Messenger, I shall not say anything without hearing (with my ears) and seeing with my eyes. By Allah, I find nothing in her but goodness. (And she stated this in spite of the fact) that she was the only lady who amongst the wives of Allah's Apostle (ﷺ) used to vie with me but Allah saved her in bringing false allegation against me because of her God-consciousness. Her sister Hamna bint Jahsh, however, opposed her and she was undone along with others
ابو ربیع عتکی نے مجھے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں فلیح بن سلیمان نے حدیث سنائی ، نیز ہمیں حسن بن علی حلوانی اور عبد بن حمید نے حدیث سنائی ، دونوں نے کہا : ہمیں یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : ہمیں میرے والد نے صالح بن کیسان سے حدیث سنائی ، ان دونوں ( فلیح بن سلیمان اور صالح بن کیسان ) نے زہری سے یونس اور معمر کی روایت کے مطابق انہی کی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ۔ فلیح کی حدیث میں اسی طرح ہے جیسے معمر نے بیان کیا : انہیں ( قبائلی ) حمیت نے جاہلیت ( کے دور ) میں گھسیٹ لیا ۔ اور صالح کی حدیث میں یونس کے قول کی طرح ہے : انہیں ( قبائلی ) حمیت نے اکسا دیا ۔ اور صالح کی حدیث میں مزید یہ ہے : عروہ نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات کو ناپسند کرتی تھیں کہ حسان ( بن ثابت رضی اللہ عنہ ) کو ان کے سامنے برا بھلا کہا جائے ۔ وہ فرماتی تھیں : انہوں نے یہ ( عظیم شعر ) کہا ہے : "" بےشک میرا باپ اور اس کا باپ اور میری عزت ، تم لوگوں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آبرو کی حفاظت کے لیے ڈھال ہیں ۔ "" اور انہوں نے مزید بھی کہا : عروہ نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اللہ کی قسم! جس شخص کے بارے میں وہ ساری باتیں ، جو گھڑی گئی تھیں ، وہ کہتا تھا : سبحان اللہ! ( یہ کیسی باتیں ہیں ) اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نے کبھی کسی عورت کے حجلہ عروسی 0تک کا ) پردہ بھی نہیں اٹھایا ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ) کہا : پھر بعد میں وہ اللہ کی راہ میں قتل ہو کر شہید ہو گیا ۔ اور یعقوب بن ابراہیم کی حدیث میں موغرين في نحر الظهيرة ( لوگ دوپہر کے وقت بے سایہ بنجر راستے میں سفر سے بے حال ہو گئے تھے ۔ ) عبدالرزاق نے موغرين ( گرمی کی شدت سے بے حال ہوئے ) کہا ہے ۔ عبد بن حمید نے کہا : میں نے عبدالرزاق سے پوچھا : "" موغرين "" کا مطلب کیا ہے؟ کہا : الوغرة گرمی کی شدت ہوتی ہے ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِنْ طَالَتْ بِكَ مُدَّةٌ أَوْشَكْتَ أَنْ تَرَى قَوْمًا يَغْدُونَ فِي سَخَطِ اللَّهِ وَيَرُوحُونَ فِي لَعْنَتِهِ فِي أَيْدِيهِمْ مِثْلُ أَذْنَابِ الْبَقَرِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:If you live for a time, you would certainly see people get up (in the morning) in the wrath of Allah and getting into the evening under the curse of Allah, and there would be in their hands (whips) like the tail of an ox
ابو عامر عقدی نے کہا : ہمیں افلح بن سعید نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بن رافع نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہتے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " اگر تمھیں طویل مدت مل گئی تو قریب ہے کہ تم ایسے لوگوں کو دیکھو گے جن کی صبح اللہ کی سخت ناراضی میں اور جن کی شام اللہ کی لعنت کے سائے میں ہوگی ۔ ان کے ہاتھوں میں گایوں کی دموں کی مانند ( کوڑے ) ہوں گے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، وَأَبُو مَعْنٍ زَيْدُ بْنُ يَزِيدَ الرَّقَاشِيُّ - وَاللَّفْظُ لأَبِي مَعْنٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ لاَ يَذْهَبُ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ حَتَّى تُعْبَدَ اللاَّتُ وَالْعُزَّى ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ كُنْتُ لأَظُنُّ حِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ ‏{‏ هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ‏}‏ أَنَّ ذَلِكَ تَامًّا قَالَ ‏"‏ إِنَّهُ سَيَكُونُ مِنْ ذَلِكَ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ رِيحًا طَيِّبَةً فَتَوَفَّى كُلَّ مَنْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ فَيَبْقَى مَنْ لاَ خَيْرَ فِيهِ فَيَرْجِعُونَ إِلَى دِينِ آبَائِهِمْ ‏"‏ ‏.‏
A'isha reported:I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: The (system) of night and day would not end until the people have taken to the worship of Lat and 'Uzza. I said: Allah's Messenger, I think when Allah has revealed this verse:" He it is Who has sent His Messenger with right guidance, and true religion, so that He may cause it to prevail upon all religions, though the polytheists are averse (to it)" (ix. 33), it implies that (this promise) is going to be fulfilled. Thereupon he (Allah's Apostle) said: It would happen as Allah would like. Then Allah would send the sweet fragrant air by which everyone who has even a mustard grain of faith in Him would die and those only would survive who would have no goodness in them. And they would revert to the religion of their forefathers
خالد بن حارث نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عبدالحمید بن جعفر نے اسود بن علاء سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو سلمہ سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رات اور دن اس وقت تک ختم نہ ہوں گے جب تک لات اور عزیٰ ( جاہلیت کے بت ) پھر نہ پوجے جائیں گے ۔ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں تو سمجھتی تھی کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری ”اللہ وہ ہے جس نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا تاکہ اس کو سب دینوں پر غالب کرے اگرچہ مشرک لوگ برا مانیں“کہ یہ وعدہ پورا ہونے والا ہے ( اور اسلام کے سوا اور کوئی دین غالب نہ رہے گا ) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہو گا ، ایسا ہی ہو گا ۔ پھر اللہ تعالیٰ ایک پاکیزہ ہوا بھیجے گا کہ جس سے ہر مومن مر جائے گا ، یہاں تک کہ ہر وہ شخص بھی جس کے دل میں دانے کے برابر بھی ایمان ہے اور وہ لوگ باقی رہ جائیں گے جن میں بھلائی نہیں ہو گی ۔ پھر وہ لوگ اپنے ( مشرک ) باپ دادا کے دین پر لوٹ جائیں گے ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، - يَعْنِي الثَّقَفِيَّ - حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا اغْتَسَلَ مِنْ جَنَابَةٍ صَبَّ عَلَى رَأْسِهِ ثَلاَثَ حَفَنَاتٍ مِنْ مَاءٍ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ إِنَّ شَعْرِي كَثِيرٌ ‏.‏ قَالَ جَابِرٌ فَقُلْتُ لَهُ يَا ابْنَ أَخِي كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَكْثَرَ مِنْ شَعْرِكَ وَأَطْيَبَ ‏.‏
Jabir b. 'Abdullah reported:When the Messenger of Allah (ﷺ) took a bath because of sexual intercourse, he poured three handfuls of water upon his head. Hasan b. Muhammad said to him (the narrator): My hair is thick. Upon this Jabir observed. I said to him: O son of my brother, the hair of the Messenger of Allah (ﷺ) was thicker than your hair and these were more fine (than yours)
امام جعفر کےوالد امام محمد باقر بن علی بن حسین پ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے حضرت جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ جب غسل جنابت کرتے تو سر پر پانی کی تین لپیں ڈالتے ، چنانچہ حسن بن محمد نے ان سے کہا : میرے بال تو زیادہ ہیں ۔ جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : تو میں نے اس سے کہا : اے بھتیجے! رسول اللہ ﷺ کے بال تمہارے بالوں سےزیادہ اور عمدہ تھے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ، الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مَا يَتَبَيَّنُ مَا فِيهَا يَهْوِي بِهَا فِي النَّارِ أَبْعَدَ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The servant speaks words that he does not understand its repercussions but he sinks down in Hell-Fire farther than the distance between the east and the west
عبد العزیز دراوردی نے یزید بن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھو ں نے محمد بن ابرا ہیم سے انھوں نے عیسیٰ بن طلحہ سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بندہ کوئی ایسا کلمہ کہہ دیتا ہے کہ اس کو واضح طور پر پتہ نہیں ہو تا کہ اس میں کیا ہے ، اس کی وجہ سے وہ دوزخ میں اس سے زیادہ دور جاگرتا ہے جتنی دوری مشرق اور مغرب کے درمیان ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ ‏.‏
Tawus narrated it on the authority of Ibn 'Abbas that he said:The Messenger of Allah (ﷺ) used to teach us tashahhud as he would teach us a Sura of the Qur'an
عبد الرحمن بن حمید نے کہا : مجھے ابو زبیر نے طاؤس کے حوالے سے حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ ہمیں تشہد یوں سکھاتے تھے جیسے آپ ہمیں قرآن کی سورت سکھاتے تھے ۔