بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
33 hadith
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، ح قَالَ وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي كِلاَهُمَا، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَأَبَا، سَعِيدٍ أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى نُخَامَةً ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ‏.‏
Abu Huraira and Abu Sa'id narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) saw sputum, and the rest of the hadith is the same
(سفیان کے بجائے ) یونس اور ابراہیم نے ابن شہاب سے ، انھوں نے حمید بن عبدالرحمن سے روایت کی کہ حضرت ابو ہریرہ اور ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہما دونوں نے انھیں خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے بلغم ملا تھوک دیکھا ........ ( ٖآگے ) ابن عینہ کی حدیث کے مانند ہے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ إِسْحَاقَ، - وَهُوَ ابْنُ سُوَيْدٍ - أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ، حَدَّثَ قَالَ كُنَّا عِنْدَ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ فِي رَهْطٍ مِنَّا وَفِينَا بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ فَحَدَّثَنَا عِمْرَانُ، يَوْمَئِذٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَوْ قَالَ ‏"‏ الْحَيَاءُ كُلُّهُ خَيْرٌ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ إِنَّا لَنَجِدُ فِي بَعْضِ الْكُتُبِ أَوِ الْحِكْمَةِ أَنَّ مِنْهُ سَكِينَةً وَوَقَارًا لِلَّهِ وَمِنْهُ ضَعْفٌ ‏.‏ قَالَ فَغَضِبَ عِمْرَانُ حَتَّى احْمَرَّتَا عَيْنَاهُ وَقَالَ أَلاَ أُرَانِي أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَتُعَارِضُ فِيهِ ‏.‏ قَالَ فَأَعَادَ عِمْرَانُ الْحَدِيثَ قَالَ فَأَعَادَ بُشَيْرٌ فَغَضِبَ عِمْرَانُ قَالَ فَمَا زِلْنَا نَقُولُ فِيهِ إِنَّهُ مِنَّا يَا أَبَا نُجَيْدٍ إِنَّهُ لاَ بَأْسَ بِهِ ‏.‏
It is narrated on the authority of Qatada. We were sitting with 'Imran b. Husain in a company and Bushair ibn Ka'b was also amongst us. 'Imran narrated to us that on a certain occasion the Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) said:Modesty is a virtue through and through, or said: Modesty is a goodness complete. Upon this Bushair ibn Ka'b said: Verily we find in certain books or books of (wisdom) that it is God-inspired peace of mind or sobriety for the sake of Allah and there is also a weakness in it. Imran was so much enraged that his eyes became red and he said: I am narrating to you the hadith of the Messenger of Allah (ﷺ) and you are contradicting it. He (the narrator) said: Imran reported the hadith, He (the narrator) said: Bushair repeated, (the same thing). Imran was enraged. He (the narrator) said: We asserted: Verily Bushair is one amongst us. Abu Nujaid! There is nothing wrong, with him (Bushair)
ابو سوار بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو سنا ، وہ نبی ﷺ سے حدیث بیان کرتے تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ حیا سے خیر اور بھلائی ہی حاصل ہوتی ہے ۔ ‘ ‘ اس پر بشیر بن کعب نے کہا : حکمت اور ( دانائی کی کتابوں ) میں لکھا ہوا کہ اس ( حیا ) سے وقا ر ملتا ہے او رسکون حاصل ہوتا ہے ۔ اس پر عمران ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے فرمایا : ’’میں تمہیں رسول ا للہ ﷺ سے حدیث سنا رہا ہوں اور تو مجھے اپنے صحیفوں کی باتیں سنا تا ہے
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ - وَاللَّفْظُ لأَبِي كُرَيْبٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمَدِينَةِ فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلاَ مَطَرٍ ‏.‏ فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ لِمَ فَعَلَ ذَلِكَ قَالَ كَىْ لاَ يُحْرِجَ أُمَّتَهُ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ قِيلَ لاِبْنِ عَبَّاسٍ مَا أَرَادَ إِلَى ذَلِكَ قَالَ أَرَادَ أَنْ لاَ يُحْرِجَ أُمَّتَهُ ‏.‏
Ibn 'Abbas reported that the Messenger of Allah (ﷺ) combined the noon prayer with the afternoon prayer and the sunset prayer with the 'Isha' prayer in Medina without being in a state of danger or rainfall. And in the hadith transmitted by Waki' (the words are):" I said to Ibn 'Abbas: What prompted him to do that? He said: So that his (Prophet's) Ummah should not be put to (unnecessary) hardship." And in the hadith transmitted by Mu'awiya (the words are):" It was said to Ibn 'Abbas: What did he intend thereby? He said he wanted that his Ummah should not be put to unnecessary hardship
ابو معاویہ اور وکیع دونوں نے اعمش سے روایت کی ، انھوں نے حبیب بن ثابت سے انھوں نے سعید بن جبیر سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر ، عصر اور مغرب ، عشاء کو مدینہ میں کسی خوف اور بارش کے بغیر جمع کیا ۔ وکیع کی روایت میں ہے ( سعید نے ) کہا : میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیوں کیا؟ انھوں نے کہا : تاکہ اپنی امت کو دشواری میں مبتلا نہ کریں اور ابو معاویہ کی حدیث میں ہے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا چاہتے ہوئے ایسا کیا؟انھوں نے کہا : آپ نے چاہا اپنی امت کو دشواری میں نہ ڈالیں ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ، اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَعْنٍ عَنْ بِنْتٍ لِحَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَتْ مَا حَفِظْتُ ‏{‏ ق‏}‏ إِلاَّ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ بِهَا كُلَّ جُمُعَةٍ ‏.‏ قَالَتْ وَكَانَ تَنُّورُنَا وَتَنُّورُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاحِدًا ‏.‏
Umm Bisham hint Haritha b. Nu'man said:Our oven and that of the Messenger of Allah (ﷺ) was one for two years, or for one year or for a part of a year; and I learnt" Qaf. By the Glorious Qur'an" from no other source than the tongue of Allah's Messenger (ﷺ) who used to recite it every Friday on the pulpit when he delivered the sermon to the people
عبداللہ بن محمد بن معن نے حارثہ بن نعمان کی بیٹی ( ام ہشام ) سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے سورہ ق ( کسی اور سے نہیں براہ راست ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے سن کر یاد کی ، آپ ہر جمعے میں اسےپڑھ کر خطاب فرماتے تھے ۔ انھوں نے کہا : ہمارا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تندور ایک ہی تھا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، - عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَسْرِعُوا بِالْجَنَازَةِ فَإِنْ تَكُ صَالِحَةً فَخَيْرٌ - لَعَلَّهُ قَالَ - تُقَدِّمُونَهَا عَلَيْهِ وَإِنْ تَكُنْ غَيْرَ ذَلِكَ فَشَرٌّ تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:Make haste at a funeral; if the dead person was good, it is a good state to which you are sending him on; but if he was otherwise it is an evil of which you are ridding yourselves
سفیان بن عیینہ نے زہری سے انھوں نے سعید ( بن مسیب ) سے انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فر ما یا جنا زے ( کو لے جا نے ) میں جلدی کرو ، اگر وہ ( میت ) نیک ہے تو جس کی طرف تم اس کو لے جا رہے ہو وہ خیرہے اگر وہ اس کے سوا ہے تو پھر وہ شر ہے جسے تم اپنی گردنوں سے اتاردو گے ۔
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ح حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ وَلَمْ تُوصِ ‏.‏ كَمَا قَالَ ابْنُ بِشْرٍ وَلَمْ يَقُلْ ذَلِكَ الْبَاقُونَ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters. And in the hadith transmitted by Abu Usama the words are:" She did not make any will," as it has been reported by Ibn Bishr, but it was not reported by the rest of the narrators
یحییٰ بن سعید ، ابو اسامہ علی بن مسہر اور شعیب بن اسحاق سب نے ہشام سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ ( اسی کی طرح ) روایت بیان کی ۔ ابو اسامہ کی حدیث میں ولم توص ( اس نے وصیت نہیں کی ) کے الفاظ ہیں ، جس طرح ابن بشر نے کہا ہے ۔ ( جبکہ ) باقی راویوں نے یہ الفاظ بیان نہیں کئے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ - وَاتَّفَقُوا فِي اللَّفْظِ - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي وَقَالَ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، جَمِيعًا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ وَأَدْبَرَ النَّهَارُ وَغَابَتِ الشَّمْسُ فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ‏"‏ ‏.‏ لَمْ يَذْكُرِ ابْنُ نُمَيْرٍ ‏"‏ فَقَدْ ‏"‏ ‏.‏
Umar (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When the night approaches and the day retreates and the sun sinks down, then the observer of the fast should break it. Ibn Numair made no mention of the word" then
یحییٰ بن یحییٰ ، ابو کریب ، ابن نمیر ، یحییٰ ، ابو معاویہ ، ابن نمیر ، ابو کریب ، اسامہ ، ہشام ، عروہ ، عاصم ، ابن عمر ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا کہ جب رات آجائے اور دن چلا جائے اور سورج غروب ہوجائے تو روزہ رکھنے والے کو روزہ افطار کرلیناچاہیے ۔ ابن نمیر نے فقد ( حقیقتاً ) کا لفظ بیان نہیں کیا ۔
وَحَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مِسْمَارٍ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى، بْنِ أَبِي كَثِيرٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ انْطَلَقَ أَبِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فَأَحْرَمَ أَصْحَابُهُ وَلَمْ يُحْرِمْ وَحُدِّثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّ عَدُوًّا بِغَيْقَةَ فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ - فَبَيْنَمَا أَنَا مَعَ أَصْحَابِهِ يَضْحَكُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ إِذْ نَظَرْتُ فَإِذَا أَنَا بِحِمَارِ وَحْشٍ فَحَمَلْتُ عَلَيْهِ فَطَعَنْتُهُ فَأَثْبَتُّهُ فَاسْتَعَنْتُهُمْ فَأَبَوْا أَنْ يُعِينُونِي فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهِ وَخَشِينَا أَنْ نُقْتَطَعَ فَانْطَلَقْتُ أَطْلُبُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُرَفِّعُ فَرَسِي شَأْوًا وَأَسِيرُ شَأْوًا فَلَقِيتُ رَجُلاً مِنْ بَنِي غِفَارٍ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ فَقُلْتُ أَيْنَ لَقِيتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ تَرَكْتُهُ بِتِعْهِنَ وَهُوَ قَائِلٌ السُّقْيَا فَلَحِقْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَصْحَابَكَ يَقْرَءُونَ عَلَيْكَ السَّلاَمَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ وَإِنَّهُمْ قَدْ خَشُوا أَنْ يُقْتَطَعُوا دُونَكَ انْتَظِرْهُمْ ‏.‏ فَانْتَظَرَهُمْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَدْتُ وَمَعِي مِنْهُ فَاضِلَةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِلْقَوْمِ ‏ "‏ كُلُوا ‏"‏ ‏.‏ وَهُمْ مُحْرِمُونَ ‏.‏
Abdullah b. Abu Qatada reported:My father went with the Messenger of Allah (ﷺ) in the year of Hudaibiya. His Companions entered upon the state of Ihram whereas he did not, for it was conveyed to the Messenger of Allah (ﷺ) that the enemy (was hiding at) Ghaiqa. The Messenger of Allah (ﷺ) went forward. He (Abu Qatada) said: Meanwhile I was along with his Companions, some of them smiled (to one another) As I cast a glance I saw a wild ass. I attacked It with a spear and held it, and begged for their (i. e. of his companions) assistance, but they refused to help me and we ate its meat. But we were afraid lest we should be separated (from the Messenger of Allah). So I proceeded on (with a view to) seeking the Messenger of Allah (ﷺ). Some- times I'dashed my horse and sometimes I made it run at a leisurely pace (keeping pace with others). (In the meanwhile) I met a person from Banfu Ghifar in the middle of the night. I said to him: Where did you meet the messenger of Allah (ﷺ)? He said: I left him at Ta'bin and he intended to halt at Suqya to spend the afternoon. I met him and said: Messenger of Allah. your Companions convey salutations and benedictions of Allah to you and they fear that they may not be separated from you (and the enemy may do harm to you), so wait for them, and he (the Holy Prophet) waited for them. I said: Messenger of Allah, I killed a game and there is left with me (some of the meat). The Apostle of Allah (ﷺ) said to his people: Eat it. And they were in the state of Ihram
(یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت ہے انھوں نے کہا : ) مجھ سے عبد اللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہا : میرے والد حدیبیہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہو ئے ان کے ساتھیوں نے ( عمرے ) کا احرام باندھا لیکن انھوں نے نہ باندھا ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا یا گیا کہ غیقہ مقام پر دشمن ( گھا ت میں ) ہے ( مگر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چل پڑے ۔ ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے ہمرا ہ تھا وہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ہنس رہے تھے ۔ اتنے میں میں نے دیکھا تو میری نظر زیبرے پر پڑی میں نے اس پر حملہ کر دیا اور اسے نیزہ مار کر بے حرکت کر دیا پھر میں نے ان سے مدد چا ہی تو انھوں نے میری مدد کرنے سے انکا ر کر دیا ۔ پھر ہم نے اس کا گو شت تناول کیا ۔ اور ہمیں اندیشہ ہوا کہ ہم ( آپ سے ) کاٹ ( کر الگ کر ) دیے جا ئیں گے ۔ تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلا ش میں روانہ ہوا کبھی میں گھوڑے کو بہت تیز تیز دوڑاتا تو کبھی ( آرام سے ) چلا تا آدھی را ت کے وقت مجھے بنو غفار کا ایک شخص ملا میں نے اس سے پو چھا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا ں ملے تھے؟ اس نے کہا : میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تعهن کے مقام پر چھورا ہے آپ فر ما رہے تھے سُقیا ( پہنچو ) چنانچہ میں آپ سے جا ملا اور عرض کی : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ کے صحابہ کرا م رضوان اللہ عنھم اجمعین آپ کو سلام عرض کرتے ہیں اور انھیں ڈر ہے کہ انھیں آپ سے کا ٹ ( کر الگ کر ) دیا جا ئے گا ۔ آپ ان کا انتظار فر ما لیجیے ۔ تو آپ نے ( وہاں ) انکا انتظار فر ما یا ۔ پھر میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں نے شکار کیا تھا اور اس کا بچا ہوا کچھ ( حصہ ) میرے پاس باقی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فر ما یا ۔ " کھا لو " جبکہ وہ سب احرا م کی حا لت میں تھے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، - قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - أَخْبَرَنِي الْعَلاَءُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَسُمِ الْمُسْلِمُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ وَلاَ يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَتِهِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The Muslim should not purchase in opposition to his brother, and he should not make the proposal of marriage on the proposal already made by his brother
علاء کے والد ( عبدالرحمٰن بن یعقوب ) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی مسلمان کسی مسلمان کے سودے پر سودا نہ کرے ، اور نہ اس کے پیغامِ نکاح پر نکاح کا پیغام بھیجے
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنْتُ أَغَارُ عَلَى اللاَّتِي وَهَبْنَ أَنْفُسَهُنَّ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَقُولُ وَتَهَبُ الْمَرْأَةُ نَفْسَهَا فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ‏}‏ قَالَتْ قُلْتُ وَاللَّهِ مَا أَرَى رَبَّكَ إِلاَّ يُسَارِعُ لَكَ فِي هَوَاكَ
A'isha (Allah be pleased with her) reported:I felt jealous of the women who offered themselves to Allah's Messenger (ﷺ) and said: Then when Allah, the Exalted and Glorious, revealed this:" You may defer any one of them you wish, and take to yourself any you wish; and if you desire any you have set aside (no sin is chargeable to you)" (xxxiii. 51), I ('A'isha.) said: It seems to me that your Lord hastens to satisfy your desire
ابواسامہ نے ہمیں ہشام سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد ( عروہ ) سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں ان عورتوں پر غیرت کرتی تھی جو اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بطور ہبہ پیش کرتی تھیں ، میں کہتی : کیا کوئی عورت بھی خود کو ہبہ کر سکتی ہے؟ جب اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا : " آپ ان عورتوں میں سے جسے چاہیں پیچھے کر دیں اور جسے چاہیں اپنے پاس جگہ دیں اور جسے آپ نے الگ کر دیا تھا ان میں سے بھی جسے آپ کا دل چاہے لائیں ۔ " کہا : تو میں نے کہا : اللہ کی قسم! میں آپ کے رب کو نہیں دیکھتی مگر وہ آپ کے لیے آپ کی خواہش ( کو پورا کرنے ) میں جلدی کرتا ہے
وَحَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنِ الْبَهِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلاَثًا فَلَمْ يَجْعَلْ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُكْنَى وَلاَ نَفَقَةً ‏.‏
Fatima bint Qais (Allah be pleased with her) reported:My husband divorced me with three pronouncements and Allah's Messenger (ﷺ) made no provision for lodging and maintenance allowance
(عبداللہ بن یسار ) بہی نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے رہائش اور خرچ نہیں رکھا
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ تَبْتَاعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهُ وَتَذْهَبَ عَنْهُ الآفَةُ قَالَ يَبْدُوَ صَلاَحُهُ حُمْرَتُهُ وَصُفْرَتُهُ ‏.‏
Ibn Umar (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Do not buy fruit until its good condition becomes clear, and (the danger) of blight is no more. He said: Its good condition becoming clear implies that it becomes red or yellow
جریر نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم پھل مت خریدو حتی کہ ان کی صلاحیت ظاہر ہو جائے اور اس سے آفت ( کا امکان ) ختم ہو جائے ۔ "" ( ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ) کہا : اس کی صلاحیت ( ظاہر ہونے ) سے اس کی سرخی اور زردی مراد ہے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ - قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهْوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا إِلاَّ كَلْبَ ضَارِيَةٍ أَوْ مَاشِيَةٍ نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ ‏"‏ ‏.‏
Ibn 'Umar reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying He who kept a dog other than one meant for hunting or for watching the herd lost out of his deeds (equal to) two qirat every day
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے شکار یا مویشیوں کے کتے کے سوا کتا رکھا اس کے عمل میں س ہر روز دو قیراط کم ہوں گے ۔
وَحَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا صَنَعَ لأَحَدِكُمْ خَادِمُهُ طَعَامَهُ ثُمَّ جَاءَهُ بِهِ وَقَدْ وَلِيَ حَرَّهُ وَدُخَانَهُ فَلْيُقْعِدْهُ مَعَهُ فَلْيَأْكُلْ فَإِنْ كَانَ الطَّعَامُ مَشْفُوهًا قَلِيلاً فَلْيَضَعْ فِي يَدِهِ مِنْهُ أُكْلَةً أَوْ أُكْلَتَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ دَاوُدُ يَعْنِي لُقْمَةً أَوْ لُقْمَتَيْنِ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When the slave of anyone amongst you prepares food for him and he serves him after having sat close to (and undergoing the hardship of) heat and smoke, he should make him (the slave) sit along with him and make him eat (along with him), and if the food seems to run short, then he should spare some portion for him (from his own share) - (another narrator) Dawud said:" i. e. a morsel or two
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کسی کا خادم اس کے لیے کھانا تیار کرے ، پھر اس کے سامنے پیش کرے اور اسی نے ( آگ کی ) تپش اور دھواں برداشت کیا ہے تو وہ اسے اپنے ساتھ بٹھائے اور وہ ( غلام بھی اس کے ساتھ ) کھائے اور اگر کھانا بہت سے لوگوں نے کھانا لیا ہو ، ( یعنی ) کم ہو تو اس کے ہاتھ میں ایک یا دو لقمے ( ضرور ) دے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ نُمَيْرٍ كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، - وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مَجْلِسٍ فَقَالَ ‏ "‏ تُبَايِعُونِي عَلَى أَنْ لاَ تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا وَلاَ تَزْنُوا وَلاَ تَسْرِقُوا وَلاَ تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ فَمَنْ وَفَى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ وَمَنْ أَصَابَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَعُوقِبَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ وَمَنْ أَصَابَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَسَتَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ فَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ إِنْ شَاءَ عَفَا عَنْهُ وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ ‏"‏ ‏.‏
Ubida b. as-Samit reported:While we were in the company of Allah's Messenger (may peace be upoi him) he said: Swear allegiance to me that you will not associate anything with Allah, that you will not commit adultery, that you will not steal, that you will not take any life which it is forbidden by Allah to take but with (legal) justification; and whoever among you fulfils it, his reward is with Allah and he who commits any such thing and is punished for it, that will be all atonement for it And if anyone commits anything and Allah conceals (his faultfls), his matter rests with Allah. He may forgive if He likes, and He may punish him if He likes
عبادہ بن صامتؓ سے روایت ہے رسول اﷲ ﷺ کے ساتھ بیٹھے تھے آپ نے فرمایا بیعت کرو مجھ سے اس اقرار پر کہ اﷲ تعالیٰ کا شریک کسی کو نہیں کرنے کے اور زنا اور چوری اور ناحق خون جس کو اﷲ تعالیٰ نے حرام کیا نہیں کریں گے ۔ پھر جو کوئی اپنے اقرار کو پورا کرے گااس کا ثواب اﷲ تعالیٰ پر ہوگااور جو کوئی کام ان میں سے کر بیٹھے گا پھر اس کو دنیا میں اس کی سزا ملے گی ( یعنی حد لگے گی ) تو وہی اس کیگ ناہ کا کفارہ ہے اور جو دنیا میں اﷲ تعالیٰ اس کے کام کو چھپالے تو ( عاقبت میں ) اﷲ تعالیٰ کو اختیار ہے چاہے اس کو معاف کردے چاہے عذاب کرلے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَقْتَسِمُ وَرَثَتِي دِيِنَارًا مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي وَمَئُونَةِ عَامِلِي فَهُوَ صَدَقَةٌ ‏"‏ ‏.‏
It has been narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (ﷺ) said:My heirs cannot share even a dinar (from my legacy) ; what I leave behind after paving maintenance allowance to my wives and remuneration to my manager is (to go in) charity
حضرت ‌ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے ‌روایت ‌ہے ‌رسول ‌اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌نے ‌فرمایا ‌میرے ‌وارث ‌ایك ‌دینار ‌بھی ‌بانٹ ‌نہیں ‌سكتے ‌جو ‌چھوڑ ‌جاؤں ‌اپنی ‌عورتوں ‌كے ‌خرچ ‌كے ‌بعد ‌اور ‌منتظم ‌كی ‌اجرت ‌كے ‌بعد ‌بچے ‌تو ‌وہ ‌صدقہ ‌ہے ‌
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ - وَتَقَارَبُوا فِي اللَّفْظِ - قَالُوا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَرِيَّةً وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَسْمَعُوا لَهُ وَيُطِيعُوا فَأَغْضَبُوهُ فِي شَىْءٍ فَقَالَ اجْمَعُوا لِي حَطَبًا ‏.‏ فَجَمَعُوا لَهُ ثُمَّ قَالَ أَوْقِدُوا نَارًا ‏.‏ فَأَوْقَدُوا ثُمَّ قَالَ أَلَمْ يَأْمُرْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ تَسْمَعُوا لِي وَتُطِيعُوا قَالُوا بَلَى ‏.‏ قَالَ فَادْخُلُوهَا ‏.‏ قَالَ فَنَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ فَقَالُوا إِنَّمَا فَرَرْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ النَّارِ ‏.‏ فَكَانُوا كَذَلِكَ وَسَكَنَ غَضَبُهُ وَطُفِئَتِ النَّارُ فَلَمَّا رَجَعُوا ذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ لَوْ دَخَلُوهَا مَا خَرَجُوا مِنْهَا إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ ‏"‏ ‏.‏
It has been narrated on the authority of 'All who said:The Mersenger of Allah (ﷺ) sent an expeditionand appointed over the Mujahids a man from the Ansar. (While making the appointment), he ordered that his work should be listened to and obeyed. They made him angry in a matter. He said: Collect for me dry wood. They collected it for him. Then he said: Kindle a fire. They kindled (the fire). Then he said: Didn't the Messenger of Allah (ﷺ) order you to listen to me and obey (my orders)? They said: Yes. He said: Enter the fire. The narrator says: (At this), they began to look at one another and said: We fled from the fire to (find refuge with) the Messenger of Allah (ﷺ) (and now you order us to enter it). They stood quiet until his anger cooled down and the fire went out. When they returned, they related the incident to the Messenger of Allah (ﷺ). He said: If they had entered it, they would not have come out. Obedience (to the commander) is obligatory only in what is good
ہمیں محمد بن عبداللہ بن نمیر ، زہیر بن حرب اور ابوسعید اشج نے حدیث بیان کی ، الفاظ سب کے ملتے جلتے ہیں ، ( تینوں نے ) کہا : ہمیں وکیع نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سعد بن عبیدہ سے ، انہوں نے ابو عبدالرحمٰن سے ، انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور انصار میں سے ایک آدمی کو ان کا امیر بنایا اور لشکر کو یہ حکم دیا کہ وہ اس کے احکام سنیں اور اس کی اطاعت کریں ، ( اتفاق سے ) اہل لشکر نے کسی بات میں امیر کو ناراض کر دیا ، اس نے کہا : میرے لیے لکڑیاں جمع کرو ۔ لشکر نے لکڑیاں جمع کیں ، پھر اس نے کہا : آگ جلاؤ ، انہوں نے آگ جلائی ، پھر کہا : کیا تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا حکم سننے اور ماننے کا حکم نہیں دیا تھا؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ، اس نے کہا : آگ میں داخل ہو جاؤ ، انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور کہا : ہم آگ ہی سے بھاگ کر تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے ۔ وہ اسی موقف پر قائم رہے حتی کہ اس کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا اور آگ بجھا دی گئی ، جب وہ لوٹے تو یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی ، آپ نے فرمایا : اگر یہ لوگ اس ( آگ ) میں داخل ہو جاتے تو پھر اس سے باہر نہ نکلتے ، اطاعت صرف معروف ( قابل قبول کاموں ) میں ہے
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ حَرْمَلَةُ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ، بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ الَّذِي يُقَالُ لَهُ سَيْفُ اللَّهِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهِيَ خَالَتُهُ وَخَالَةُ ابْنِ عَبَّاسٍ فَوَجَدَ عِنْدَهَا ضَبًّا مَحْنُوذًا قَدِمَتْ بِهِ أُخْتُهَا حُفَيْدَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ مِنْ نَجْدٍ فَقَدَّمَتِ الضَّبَّ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ قَلَّمَا يُقَدَّمُ إِلَيْهِ طَعَامٌ حَتَّى يُحَدَّثَ بِهِ وَيُسَمَّى لَهُ فَأَهْوَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ إِلَى الضَّبِّ فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَ النِّسْوَةِ الْحُضُورِ أَخْبِرْنَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَا قَدَّمْتُنَّ لَهُ ‏.‏ قُلْنَ هُوَ الضَّبُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ فَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ أَحَرَامٌ الضَّبُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏ "‏ لاَ وَلَكِنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ خَالِدٌ فَاجْتَرَرْتُهُ فَأَكَلْتُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْظُرُ فَلَمْ يَنْهَنِي ‏.‏
Abdullah b. 'Abbas reported that Khalid b. Walid who is called the Sword of Allah had informed him that he visited Maimuna, the wife of Allah's Apostle (ﷺ), in the company of Allah's Messenger (ﷺ), and she was the sister of his mother (that of Khalid) and that of 'Ibn Abbas, and he found with her a roasted lizard which her sister Hufaida the daughter of al-Harith had brought from Najd, and she presented that lizard to Allah's Messenger (ﷺ). It was rare that some food was presented to the Prophet (ﷺ) and it was not mentioned or named. While Allah's Messenger (ﷺ) was about to stretch forth his hand towards the lizard, a woman from amongst the women present there informed the Messenger of Allah (ﷺ) what they had presented to him. They said:Messenger of Allah, it is a lizard. Allah's Messenger (ﷺ) withdrew his hand, whereupon Khalid b. Walid said: Messenger of Allah, is a lizard forbidden? There opon he said: No, but it is not found in the land of my people, and I feel that I have no liking for it. Khalid said: I then chewed and ate it, and Allah's Messenger (ﷺ) was looking at me and he did not forbid (me to eat it)
یو نس نے ابن شہاب سے ، انھوں نے ابو امامہ بن سہل بن حنیف انصاری سے روایت کی کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتا یا کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جنھیں سیف اللہ کہا جا تا ہے ، انھیں خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمرا ہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں گئے وہ ان ( حضرت خالد ) اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خالہ تھیں ۔ ان کے ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بھنا ہوا سانڈا دیکھا جو ان کی بہن حفیدہ بنت حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہا نجد سے لا ئی تھیں ۔ انھوں نے وہ سانڈا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا ، ایسا کم ہو تا کہ آپ کسی کھانے کی طرف ہاتھ بڑھا تے یہاں تک کہ آپ کو اس کے بارے میں بتا یا جا تا اور آپ کے سامنے اس کا نام لیا جا تا ۔ ( اس روز ) آپ نے سانڈے کی طرف ہاتھ بڑھانا چا ہا تو وہاں مو جود خواتین میں سے ایک خاتون نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتاؤ کہ آپ لوگوں نے انھیں کیا پیش کیا ہے ۔ تو انھوں نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ سانڈا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہا تھ اوپر کر لیا تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پو چھا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا سانڈا حرام ہے؟ آپ نے فر ما یا : "" نہیں لیکن یہ میری قوم کے علاقے میں نہیں ہو تا ، میں خود کو اس سے کرا ہت کرتے ہو ئے پا تا ہوں ۔ حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : پھر میں نے اس کو ( اپنی طرف ) کھینچا اور کھا لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے لیکن آپ نے مجھے منع نہیں فر ما یا ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عُمَرَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ قَالَ فَقَالَ قَدْ زَعَمُوا ذَاكَ ‏.‏ قُلْتُ أَنَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ قَدْ زَعَمُوا ذَاكَ ‏.‏
Thabit reported:I said to Ibn 'Umar that Allah's Messenger (ﷺ) had forbidden the preparation of Nabidh in the green pitcher (besmeared with pitch). He said: This is what they stated. I said: Did Allah's Messenger (ﷺ) forbid this? He said: They said so
ثابت سے روایت ہے ، کہا : میں نےحضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی کے گھڑوں کی نبیذ سے منع فرمایا تھا؟حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : لوگوں نے یہی کہا ہے ، میں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( قسم کے گھڑوں کی نبیذ ) سے منع فرمایاتھا؟حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : لوگوں نے یہی کہا ہے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو - قَالَ عَمْرٌو وَقُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا وَقَالَ، إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا تَزَوَّجْتُ ‏"‏ أَتَّخَذْتَ أَنْمَاطًا ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ وَأَنَّى لَنَا أَنْمَاطٌ قَالَ ‏"‏ أَمَا إِنَّهَا سَتَكُونُ ‏"‏ ‏.‏
Jabir reported:When I was married, Allah's Messenger (may peace he upon him) asked me if I had got the carpet. I said: How can we have carpets? (i. e. I am so poor that I cannot even think of carpets). whereupon he said: You shall soon possess them
قتیبہ بن سعید ، عمروناقد اور اسحٰق بن ابرا ہیم نے کہا : ہمیں سفیان نے ابن منکدرسے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : جب میں نے شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پو چھا : " کہا تم نے بچھونوں کے غلا ف بنا ئے ہیں ؟ " میں نے عرض کی ، ہمارے پاس غلا ف کہاں سے آئے ؟ آپ نے فرما یا : " اب عنقریب ہو ں گے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَتَى الْمَرِيضَ يَدْعُو لَهُ قَالَ ‏"‏ أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لاَ شِفَاءَ إِلاَّ شِفَاؤُكَ شِفَاءً لاَ يُغَادِرُ سَقَمًا ‏"‏ ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ فَدَعَا لَهُ وَقَالَ ‏"‏ وَأَنْتَ الشَّافِي ‏"‏ ‏.‏
A'isha reported that when Allah's Messenger (ﷺ) came to visit any sick he supplicated for him and said:Lord of the people, remove the malady, cure him for Thou art a great Curer. There is no cure but through Thine healing Power which leaves no trouble, and in the narration transmitted on the authority of Abu Bakr there is a slight variation of wording
ابو بکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں جریر نے منصور سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو ضحیٰ سے ، انھوں نے مسروق سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مریض کے پاس تشریف لاتے تواس کے لئے دعا فرماتے ہوئے کہتے : " تکلیف دور کردے ، اے سب انسانوں کے پالنے والے! اور شفا عطا کرتو ہی شفا دینے والا ہے ، شفا عطا کر ، تیری شفا کے سوا ( کہیں ) کوئی شفا نہیں ، ایسی شفا سے جو بیماری کو ( باقی ) نہ چھوڑے ۔ " ابوبکر ( ابن ابی شیبہ ) کی روایت میں ہے : آپ اس کے لئے دعا فرماتے اور کہتے : " اور تو ہی شفا دینے والا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ، - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، - عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْفِطْرَةُ خَمْسٌ - أَوْ خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ - الْخِتَانُ وَالاِسْتِحْدَادُ وَتَقْلِيمُ الأَظْفَارِ وَنَتْفُ الإِبْطِ وَقَصُّ الشَّارِبِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported:Five are the acts quite akin to the Fitra, or five are the acts of Fitra: circumcision, shaving the pubes, cutting the nails, plucking the hair under the armpits and clipping the moustache
ابن عیینہ نے زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سعید بن مسیب سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : ’’فطرت ( کے خصائل ) پانچ ہیں ( یا پانچ چیزیں فطرت کا حصہ ہیں ) : ختنہ کرانا ، زیر ناف بال مونڈنا ، ناخن تراشنا ، بغل کے بال اکھیڑنا اور مونچھ کترنا ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا سَعْدٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ يَوْمَ أُحُدٍ عَنْ يَمِينِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعَنْ يَسَارِهِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا ثِيَابٌ بِيضٌ يُقَاتِلاَنِ عَنْهُ كَأَشَدِّ الْقِتَالِ مَا رَأَيْتُهُمَا قَبْلُ وَلاَ بَعْدُ ‏.‏
Sa'd b. Abu Waqqas reported:I saw on the right side of Allah's Messenger (ﷺ) and on his left side two persons with white clothes on the Day of Uhtid fighting a desperate fight, and I saw them neither before nor after that
ابرا ہیم بن سعد نے کہا : ہمیں سعد نے اپنے والد ( ابراہیم ) سے انھوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں اور بائیں سفید کپڑوں میں ملبوس دوآدمی دیکھے وہ آپ کی طرف سے شدت کے ساتھ جنگ کر رہے تھے ۔ میں نے ان کو نہ اس سے پہلے دیکھا تھا نہ بعد میں کبھی دیکھا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَإِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ، كُلُّهُمْ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of 'Ali through another chain of transmitters
شعبہ ، وکیع اور مسعر ، سب نے سعد بن ابرا ہیم سے ، انھوں نے عبد اللہ بن شدادسے ، انھوں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ مُصِيبَةٍ حَتَّى الشَّوْكَةِ إِلاَّ قُصَّ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ أَوْ كُفِّرَ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ ‏"‏ ‏.‏ لاَ يَدْرِي يَزِيدُ أَيَّتُهُمَا قَالَ عُرْوَةُ ‏.‏
A'isha said:No trouble comes to a believer even if it is the pricking of a thorn that it becomes (the means) whereby his sins are effaced or his sins are obliterated. Yazid says: He does not know which word 'Urwa said (whether he said Qussa or Kuffira)
امام مالک بن انس نے یزید بن خُصَیفہ سے ، انہوں نے عروہ بن زبیر سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مسلمان پر کوئی بھی مصیبت نہیں آتی ، چاہے ایک کانٹا ہی ( چبھا ) ہو مگر اس کی وجہ سے اس کی غلطیاں معاف کر دی جاتی ہیں یا اس کو اس کی کچھ غلطیوں کا کفارہ بنا دیا جاتا ہے ۔ "" یزید کو پتہ نہیں کہ عروہ نے ان دونوں میں سے کون سا جملہ بولا تھا ۔
وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي رَجُلٌ، سَمَّاهُ وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، يَقُولُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلِّمْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِي صَلاَتِي وَفِي بَيْتِي ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ ظُلْمًا كَثِيرًا ‏"‏ ‏.‏
This hadith has been transmitted on the authority of 'Amr b. al-'As that Abu Bakr Siddiq said to Allah's Messenger (ﷺ) Allah's Messenger, teach me a supplication which I should make in my prayer and in my house. The rest of the hadith is the same except with this variation that he said:Much wrong (Zulman Kathira)
عبداللہ بن وہب نے ہمیں خبر دی ، کہا : ہمیں ایک آدمی نے جس کا انہوں نے نام لیا اور عمرو بن حارث نے یزید بن ابی حبیب سے خبر دی اور انہوں نے ابوالخیر سے روایت کی ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہتے تھے : حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی : اللہ کے رسول! آپ مجھے ایک ایسی دعا سکھائیے جس کو میں اپنی نماز میں بھی مانگا کروں اور اپنے گھر میں بھی مانگا کروں ۔ ۔ پھر لیث کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔ مگر انہوں نے ( بغیر شک کے ) " ظلما كثيرا " ( بہت ظلم کیا ) کہا ۔
وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، - وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ - عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عَمِّهِ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ حِينَ أُصِيبَ بَصَرُهُ وَكَانَ أَعْلَمَ قَوْمِهِ وَأَوْعَاهُمْ لأَحَادِيثِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ سَمِعْتُ أَبِي كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ وَهُوَ أَحَدُ الثَّلاَثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ يُحَدِّثُ أَنَّهُ لَمْ يَتَخَلَّفْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا قَطُّ غَيْرَ غَزْوَتَيْنِ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ وَغَزَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِنَاسٍ كَثِيرٍ يَزِيدُونَ عَلَى عَشْرَةِ آلاَفٍ وَلاَ يَجْمَعُهُمْ دِيوَانُ حَافِظٍ ‏.‏
It is reported on the authority of Abdullah b. K'ab and he was the guide of Ka'b as he lost his eyesight and he was the greatest scholar amongst his people and he retained in his mind many ahadith of the Companions of Allah's Messenger (ﷺ). He said:I heard my father Ka'b b. Malik, and he fas one of those three whose repentance was accepted (by Allah). He transmitted that He never lagged behind Allah's Messenger (ﷺ) from any expedition that he undertook except two expeditions; the rest of the hadith is the same, and in the tradition narrated through another chain of transmitters the words are:" That Allah's Messenger (ﷺ) set out on an expedition with a large number of persons more than ten thousand and this could not be recorded in the census register
معقل بن عبیداللہ نے زہری سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک نے اپنے چچا عبیداللہ بن کعب سے روایت کی اور جب حضرت کعب رضی اللہ عنہ کی آنکھیں جاتی رہیں تو وہی ان کا ہاتھ پکڑ کر ان کی رہنما کرتے تھے ۔ وہ اپنی قوم میں سب سے بڑے عالم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی احادیث کے سب سے بڑے حافظ تھے ، انہوں نے کہا : میں نے اپنے والد حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ ان تین لوگوں میں سے ایک تھے جن کی توبہ قبول کی گئی ، وہ حدیث بیان کرتے تھے کہ وہ دو غزووں کو چھوڑ کر کبھی کسی غزوے میں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑا ، آپ سے پیچھے نہیں رہے ۔ انہوں نے ( سابقہ حدیث کی طرح ) حدیث بیان کی اور اس میں کہا : " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی بہت بڑی تعداد کے ساتھ ، جو دس ہزار سے زیادہ تھے اور کسی محفوظ رکھنے والے کے دیوان ( رجسٹر ) میں ان سب کے نام درج نہ تھے ، اس جنگ کے لیے نکلے ۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنِ ابْنِ، قُسَيْطٍ حَدَّثَهُ أَنَّ عُرْوَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا لَيْلاً ‏.‏ قَالَتْ فَغِرْتُ عَلَيْهِ فَجَاءَ فَرَأَى مَا أَصْنَعُ فَقَالَ ‏"‏ مَا لَكِ يَا عَائِشَةُ أَغِرْتِ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ وَمَا لِي لاَ يَغَارُ مِثْلِي عَلَى مِثْلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَقَدْ جَاءَكِ شَيْطَانُكِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَمَعِيَ شَيْطَانٌ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ وَمَعَ كُلِّ إِنْسَانٍ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ وَمَعَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ وَلَكِنْ رَبِّي أَعَانَنِي عَلَيْهِ حَتَّى أَسْلَمَ ‏"‏ ‏.‏
A'isha the wife of Allah's Apostle (ﷺ), reported that one day Allah's Messenger (ﷺ) came out of her (apartment) during the night and she felt jealous. Then he came and he saw me (in what agitated state of mind) I was. He said:A'isha, what has happened to you? Do you feel jealous? Thereupon she said: How can it be (that a woman like me) should not feel jealous in regard to a husband like you. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: It was your devil who had come to you, and she said: Allah's Messenger, is there along with me a devil? He said: Yes. I said: Is a devil attached to everyone? He said: Yes. I (Aisha) again said: Allah's Messenger, is it with you also? He said: Yes, but my Lord has helped me against him and as such I am absolutely safe from his mischief
عروہ نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انھیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات ان کے پاس سے اٹھ کر باہر نکل گئے ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : مجھے آپ کے معاملے میں شدید غیرت محسوس ہوئی ، پھر آپ واپس آئے اور دیکھا کہ میں کیا کر رہی ہوں ( شدید غصے کے عالم میں ہوں ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا !تمھیں کیاہوا ہے کیا تم غیرت میں مبتلا ہو گئی ہو؟ " میں نے کہا : مجھے کیا ہوا ہے کہ مجھ جیسی عورت کو ( جس کی کئی سو کنیں ہوں ) آپ جیسے مرد پر ( جو ایک کو ایک سے بڑھ کر محبوب ہو ) غیرت نہ آئے " تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تمھارے پاس تمھارا شیطان آیا تھا ( اور اس نے تمھیں شک میں مبتلا کیا؟ ) " ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !کیا میرے ساتھ شیطان بھی ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہاں ۔ " میں نے کہا : ہر انسان کے ساتھ شیطان ہوتا ہے؟ آپ نے فرمایا : " ہاں ۔ " میں نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ کے ساتھ بھی ہے؟آپ نے فرمایا : " ہاں لیکن میرے رب نے اس پر ( قابو پانے میں ) میری مددفرمائی اور وہ اسلام لے آیا ہے ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا زَيْدٌ، - يَعْنِي ابْنَ حُبَابٍ - حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يُوشِكُ إِنْ طَالَتْ بِكَ مُدَّةٌ أَنْ تَرَى قَوْمًا فِي أَيْدِيهِمْ مِثْلُ أَذْنَابِ الْبَقَرِ يَغْدُونَ فِي غَضَبِ اللَّهِ وَيَرُوحُونَ فِي سَخَطِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:If you survive for a time you would certainly see people who would have whips in their hands like the tail of an ox. They would get up in the morning under the wrath of Allah and they would get into the evening with the anger of Allah
زید بن حباب نے کہا : ہمیں افلح بن سعید نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کےآزاد کردہ غلام عبداللہ بن رافع نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " قریب ہے کہااگر تمھیں لمبی مدت مل گئی تو تم ایسے لوگوں کودیکھو گے جن کے ہاتھ میں گایوں کی دموں جیسے ( کوڑے ) ہوں گے ، وہ اللہ کےغضب میں صبح گزاریں گے اور اللہ کی سخت ناراضگی میں شام بسر کریں گے ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَضْطَرِبَ أَلَيَاتُ نِسَاءِ دَوْسٍ حَوْلَ ذِي الْخَلَصَةِ ‏"‏ ‏.‏ وَكَانَتْ صَنَمًا تَعْبُدُهَا دَوْسٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ بِتَبَالَةَ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The Last Hour would not come until the women of the tribe of Daus would be seen going round Dhi al-Khalasa (for worship) and Dhi al-Khalasa is a place in Tabala, where there was a temple in which the people of the tribe of Daus used to worship the idol
حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کیا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" قیامت نہیں آئے گی یہاں تک کہ دوس کی عورتوں کے سرین ، ذوالخلصہ کے ارد گرد ( دوران طواف ) منکیں گے ۔ "" وہ ( ذوالخلصہ ) تبالہ میں ایک بت تھا ، جاہلی دور میں قبیلہ دوس اس کی پوجا کیاکرتا تھا ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ وَفْدَ، ثَقِيفٍ سَأَلُوا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ بَارِدَةٌ فَكَيْفَ بِالْغُسْلِ فَقَالَ ‏ "‏ أَمَّا أَنَا فَأُفْرِغُ عَلَى رَأْسِي ثَلاَثًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ سَالِمٍ فِي رِوَايَتِهِ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ وَقَالَ إِنَّ وَفْدَ ثَقِيفٍ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏
Jabir b. Abdullah reported:A delegation of the Thaqif said to the Messenger of Allah (ﷺ): Our land is cold; what about our bathing then? He (the Holy Prophet) said: I pour water thrice over my head. Ibn Salim in his narration reported:" The delegation of the Thaqif said: Messenger of Allah
یحییٰ بن یحییٰ اور اسماعیل بن سالم نے کہا : ہمیں ہشیم نے خبر دی ، انہوں نے ابو بشر سے ، انہوں نے ابو سفیان سے ، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےروایت کی کہ ثقیف کے وفد نے بنی ﷺ سے پوچھا ، او رکہا : ہمارا علاقہ ایک ٹھنڈا علاقہ ہے تو غسل کیسے ہو؟ آپ نے فرمایا : ’’لیکن میں ، میں تو اپنے سر پر تین بارپانی بہاتا ہوں ۔ ‘ ‘ ابن سالم نے اپنی روایت میں کہا : ہم سے ہشیم نے بیان کیا ، انہوں ابو بشر نے بتایااور کہا : بلاشبہ ثقیف کے وفد نے ( سوال پوچھتے ہوئے آپﷺ کو مخاطب کر کے ) کہا : اے اللہ کے رسول
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ - عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ، بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ يَنْزِلُ بِهَا فِي النَّارِ أَبْعَدَ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported that he heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The servant speaks words for which he is sent down to the Hell-Fire farther than the distance between the east and the west
بکر بن مضر نے ابن باد سے انھوں نے محمد بن ابرا ہیم سے انھوں نے عیسیٰ بن طلحہ سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " ( بعض اوقات ) بندہ کوئی کلمہ کہہ دیتا ہے جس کی وجہ سے دوزخ میں اس سے بھی زیادہ دور اتر جاتا ہےجتنی دوری مشرق اور مغرب کے درمیان ہے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَعَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ فَكَانَ يَقُولُ ‏ "‏ التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ رُمْحٍ كَمَا يُعَلِّمُنَا الْقُرْآنَ ‏.‏
Ibn `Abbas reported:The Messenger of Allah (ﷺ) used to teach us tashahhud just as he used to teach us a Surah of the Qur'an, and he would say: All services rendered by words, acts of worship, and all good things are due to Allah. Peace be upon you, O Prophet, and Allah's mercy and blessings. Peace be upon us and upon Allah's upright servants. I testify that there is no god but Allah, and I testify that Muhammad is the Messenger of Allah. In the narration of Ibn Rumh (the words are): "As he would teach us the Qur'an
امام مسلم نے قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح بن مہاجر کی سندوں سے لیث سے ، انہوں نے ابو زبیر سے ، انہوں نے سعید بن جبیر اور طاؤس سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ ہمیں تشہد اسی طرح سکھاتے جس طرح قرآن کی کوئی سورت سکھاتے تھے ، چنانچہ آپ فرماتے تھے : ’’بقا وبادشاہت ، عظمت و اختیار اور کثرت خیر ، ساری دعائیں اور ساری پاکیزہ چیزیں اللہ ہی کےلیے ہیں ۔ آپ پر سلام ہو اے نبی! اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں ۔ ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں ۔ ‘ ‘