بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
32 hadith
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ، - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، - عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَكَّهَا بِحَصَاةٍ ثُمَّ نَهَى أَنْ يَبْزُقَ الرَّجُلُ عَنْ يَمِينِهِ أَوْ أَمَامَهُ وَلَكِنْ يَبْزُقُ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى ‏.‏
Abu Sa'id al-Khudri reported:The Apostle of Allah (ﷺ) saw sputum sticking to the Qibla of the mosque. He scratched it off with a pebble and then forbade spitting on the right side or in front, but (it is permissible) to spit on the left side or under the left foot
سفیان بن عیینہ نے زہری سے ، انھوں نے حمید بن عبدالرحمن سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے مسجد کے قبلے ( کی سمت ) میں بلغم دیکھا تو آپ نے اسے ایک کنکر کے ذریعے سے کھر چ ڈالا ، پھر آپ نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی شخص اپنے دائیں یا سامنے تھوکے ، البتہ وہ ( اگر کچی زمین یا ریت پر نماز پڑ ھ رہا ہے تو ) اپنی بائیں جانب یا بائیں پاؤں کے نیچے تھوک سکتا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا السَّوَّارِ، يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ الْحَيَاءُ لاَ يَأْتِي إِلاَّ بِخَيْرٍ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ إِنَّهُ مَكْتُوبٌ فِي الْحِكْمَةِ أَنَّ مِنْهُ وَقَارًا وَمِنْهُ سَكِينَةً ‏.‏ فَقَالَ عِمْرَانُ أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَتُحَدِّثُنِي عَنْ صُحُفِكَ ‏.‏
It is narrated on the authority of 'Imran b. Husain that the Prophet (may peace and blessings be upon him) said:Modesty brings forth nothing but goodness. Bushair b. Ka'b said: It is recorded in the books of wisdom, there lies sobriety in it and calmness of mind in it, Imran said: I am narrating to you the tradition of the Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) and you talk of your books
نضر ( بن شمیل ) نے کہا : ہمیں ابو نعامہ عدوی نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نےحجیر بن ریبع عدوی سےسنا ، وہ کہتے تھے : عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ۔ ( جس طرح ) حماد بن زید کی حدیث ہے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ أَبُو الطُّفَيْلِ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، قَالَ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَبَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ ‏.‏ قَالَ فَقُلْتُ مَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ قَالَ فَقَالَ أَرَادَ أَنْ لاَ يُحْرِجَ أُمَّتَهُ ‏.‏
Mu'adh b. Jabal reported:The Messenger of Allah (ﷺ) combined in the expedition to Tabuk the noon prayer with the afternoon prayer and the sunset prayer with the 'Isha' prayer. He (one of the narrators) said: What prompted him to do that? He (Mu'adh) replied that he (the Holy Prophet) wanted that his Ummah should not be put to (unnecessary) hardship
قرہ بن خالد نے کہا : ہمیں ابو زبیر نے حدیث بیا ن کی ، کہا : ہمیں عامر بن واثلہ ابو طفیل نے حدیث بیا ن کی ، کہا : ہمیں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک میں ظہر ، عصر کو اور مغرب ، عشاء کو جمع کیا ۔ ( عامر بن واثلہ نے ) کہا : میں نے ( حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ) پوچھا : آپ نے ایسا کیوں کیا؟تو انھوں نے کہا : آپ نے چاہا کہ اپنی امت کو دشواری میں نہ ڈالیں ۔
وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ أُخْتٍ، لِعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَانَتْ أَكْبَرَ مِنْهَا ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ ‏.‏
The daughter of Haritha b. Nu'man said:I did not memorise (Surah) Qaf but from the mouth of the Messenger of Allah (ﷺ) as he used to deliver the. sermon along with it on every Friday. She also added: Our oven and that of the Messenger of Allah (ﷺ) was one
یحییٰ بن ایوب نے یحییٰ بن سعید سے ، انھوں نے عمرہ سے اور انھوں نے اپنی بہن سے جو عمر میں ان سے بڑی تھیں ، روایت کی ۔ ۔ ۔ سلیمان بن بلال کی حدیث کے مانند ۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَطَبَ يَوْمًا فَذَكَرَ رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِهِ قُبِضَ فَكُفِّنَ فِي كَفَنٍ غَيْرِ طَائِلٍ وَقُبِرَ لَيْلاً فَزَجَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُقْبَرَ الرَّجُلُ بِاللَّيْلِ حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهِ إِلاَّ أَنْ يُضْطَرَّ إِنْسَانٌ إِلَى ذَلِكَ وَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا كَفَّنَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُحَسِّنْ كَفَنَهُ ‏"‏ ‏.‏
Jabir b. 'Abdullah reported:Allah's Messenger (ﷺ) one day in the course of his sermon made mention of a person among his Companions who had died and had been wrapped in a shroud not long (enough to cover his whole body) and was buried during the night. The Apostle of Allah (ﷺ) reprimanded (the audience) that a person was buried during the night (in a state that) funeral prayer could not be offered (over him by the Messenger of Allah). (And this is permissible only) when it becomes a dire necessity for a man. The Apostle of Allah (ﷺ) also said: When any one of you shrouds his brother, he should shroud him well
حضرت جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کر تے ہیں کہ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا ، آپ نے اپنے اصحاب میں سے ایک آدمی کا تذکرہ فر ما یا جو فوت ہوا تو اس کو معمولی ( کپڑے میں ) کفن دیا گیا اور رات ہی کو دفن کر دیا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی آدمی کو رات کو دفن کرنے سے ڈانٹ کر روکا یہاں تک کہ اس کی ( شان شایان طریقے سے ) نماز جنازہ ادا کی جا ئے اولاًیہ کہ کو ئی انسان اس پر مجبور ہو جا ئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جب تم میں سے کو ئی شخص اپنے بھا ئی کو کفن دے تو اسے اچھا کفن دے ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَجُلاً، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّيَ افْتُلِتَتْ نَفْسَهَا وَلَمْ تُوصِ وَأَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ أَفَلَهَا أَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا قَالَ ‏ "‏ نَعَمْ ‏"‏.‏
A'isha said that a person came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said:My mother died suddenly without having made any will. I think she would have definitely given Sadaqa if she had been able to speak. Would she have a reward if I gave Sadaqa on her behalf? He (the Holy Prophet) said: Yes
محمد بن بشر نے کہا : ہم سے ہشام نے اپنے والد کے حوالے سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث بیان کی کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میری والدہ اچانک وفات پاگئی ہیں اور انھوں نے کوئی وصیت نہیں کی ، میرا ان کے بارے میں گمان ہے کہ اگر بولتیں تو وہ ضرور صدقہ کرتیں ، اگر ( اب ) میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا انھیں اجر ملے گا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہاں
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ، عَلَى عَائِشَةَ - رضى الله عنها - فَقَالَ لَهَا مَسْرُوقٌ رَجُلاَنِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم كِلاَهُمَا لاَ يَأْلُو عَنِ الْخَيْرِ أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الْمَغْرِبَ وَالإِفْطَارَ وَالآخَرُ يُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ وَالإِفْطَارَ ‏.‏ فَقَالَتْ مَنْ يُعَجِّلُ الْمَغْرِبَ وَالإِفْطَارَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ‏. فَقَالَتْ هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصْنَعُ ‏.‏
Abu 'Atiyya reported:I and Misruq went to 'A'isha (Allah be pleased with her) and Masruq said to her: There are two persons among the Companions of Muhammad (ﷺ) none of whom abandons the good, but one of them hastens to observe sunset prayer and break the fast, and the other delays in observing the sunset prayer and in breaking the fast, whereupon she said: Who hastens to observe sunset prayer and break the fast? He said: It is 'Abdullah. Upon this she said: This is how the Messenger of Allah (ﷺ) used to do
ابن ابی زوائد ، اعمش ، عمارہ ، حضرت ابو عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں اور حضرت مسروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ سے حضرت مسروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے دو ایسے ہیں جو بھلائی کے بارے میں کمی نہیں کرتے ان میں سے ایک مغرب کی نماز اورافطاری میں جلدی کرتا ہے ۔ دوسرا مغرب کی نماز اور افطاری میں تاخیر کرتاہے ۔ تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ مغرب کی نماز اور افطاری میں کون جلدی کرتا ہے؟مسروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ حضرت عبداللہ تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کیا کرتے تھے ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، - رضى الله عنه - فِي حِمَارِ الْوَحْشِ ‏.‏ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي النَّضْرِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ هَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَىْءٌ ‏"‏ ‏.‏
This hadith pertaining to the wild ass is reported on the authority of Abu Qatada. The rest of the hadith is the same but with this (variation of words) that the Messenger of Allah (ﷺ) said:" Is there with you some of its flesh?
زید بن اسلم نے عطا ء بن یسار سے انھوں نے سے ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ابو نضر کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی البتہ زید بن اسلم کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " کیا تمھا رے پاس اس کے گو شت میں سے کچھ باقی ہے؟
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، جَمِيعًا عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ ‏ "‏ وَلاَ يَزِدِ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ ‏"‏ ‏.‏
A hadith like this has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters but with a slight alteration
معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ، البتہ معمر کی حدیث میں ہے : " اور نہ کوئی آدمی اپنے بھائی کی بیع پر اضافہ ( کی پیش کش ) کرے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ أَنَّ سَوْدَةَ، لَمَّا كَبِرَتْ ‏.‏ بِمَعْنَى حَدِيثِ جَرِيرٍ وَزَادَ فِي حَدِيثِ شَرِيكٍ قَالَتْ وَكَانَتْ أَوَّلَ امْرَأَةٍ تَزَوَّجَهَا بَعْدِي ‏.‏
A hadith like this has been transmitted on the authority of Hisham with the same chain of narrators (and the words are):When Sauda became old (the rest of the hadith is the same) and in the narration of Sharik there is an addition (of these words:" She was the first woman whom he (Allah's Apostle) married after me
عقبہ بن خالد ، زہیر اور شریک ، ان سب نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا جب بوڑھی ہو گئیں ۔ ۔ ۔ آگے جریر کی حدیث کے ہم معنی ہے اور شریک کی حدیث میں یہ اضافہ ہے : وہ پہلی خاتون تھیں جن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے بعد نکاح کیا
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ، قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو سَلَمَةَ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ زَمَنَ ابْنِ الزُّبَيْرِ فَحَدَّثَتْنَا أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا طَلاَقًا بَاتًّا ‏.‏ بِنَحْوِ حَدِيثِ سُفْيَانَ ‏.‏
Abu Bakr reported:I and Abu Salama came to Fatima bint Qais (Allah be pleased with her) during the time of Ibn Zubair (Allah be pleased with him) and she narrated to us that her husband gave her an irrevocable divorce. (The rest of the hadith is the same)
شعبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ابوبکر ( بن ابی جہم ) نے مجھے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں اور ابوسلمہ ، ابن زبیر کے زمانہ خلافت میں ، فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس گئے تو انہوں نے ہمیں حدیث بیان کی کہ ان کے شوہر نے انہیں تین طلاقیں دیں ، آگے سفیان کی حدیث کی طرح ہے
وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَزْهُوَ وَعَنِ السُّنْبُلِ حَتَّى يَبْيَضَّ وَيَأْمَنَ الْعَاهَةَ نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ ‏.‏
Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) reported that Allah's Messenger (ﷺ) forbade the sale of palm-trees (i. e. their trults) until the dates began to ripen, and ears of corn until they were white and were safe from blight. He forbade the seller and the buyer
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی بیع سے منع فرمایا حتی کہ وہ سرخ یا زرد ہو جائے اور کِھیل ( سٹہ ) ( کی بیع ) سے حتی کہ وہ ( دانے بھر کر ) سفید اور آفات سے محفوظ ہو جائے ۔ آپ نے بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو منع فرمایا
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا إِلاَّ كَلْبَ صَيْدٍ أَوْ مَاشِيَةٍ نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ ‏"‏ ‏.‏
Salim reported on the authority of his father that Allah's Apostle (ﷺ) said:He who kept a dog other than one meant for hunting or for watching the herd, lost two qirat of his reward every day
زہری نے سالم سے ، انہوں نے اپنے والد ( حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ) سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " جس نے شکار یا مویشیوں کے کتے کے سوا کتا رکھا اس کے اجر میں سے ہر روز دو قیراط کم ہوں گے ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو، بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ الأَشَجِّ، حَدَّثَهُ عَنِ الْعَجْلاَنِ، مَوْلَى فَاطِمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ لِلْمَمْلُوكِ طَعَامُهُ وَكِسْوَتُهُ وَلاَ يُكَلَّفُ مِنَ الْعَمَلِ إِلاَّ مَا يُطِيقُ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:It is essential to feed the slave, clothe him (properly) and not burden him with work which is beyond his power
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : طعام اور لباس غلام کا حق ہے اور اس پر کام کی اتنی ذمہ داری نہ ڈالی جائے جو اس کے بس میں نہ ہو ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ، قَالَ بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ إِذْ جَاءَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَابِرٍ فَحَدَّثَهُ فَأَقْبَلَ، عَلَيْنَا سُلَيْمَانُ فَقَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَابِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لاَ يُجْلَدُ أَحَدٌ فَوْقَ عَشَرَةِ أَسْوَاطٍ إِلاَّ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Barda Ansari reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:None should be given more than ten lashes, but in case of any Hadd out of the Huded of Allah
حضرت ابوبردہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " حدوداللہ میں سے کسی حد کے علاوہ کسی کو دس سے زیادہ کوڑے نہ مارے جائیں
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ قَالاَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ - حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَأَلَتْ أَبَا بَكْرٍ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَقْسِمَ لَهَا مِيرَاثَهَا مِمَّا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ ‏.‏ فَقَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَعَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سِتَّةَ أَشْهُرٍ وَكَانَتْ فَاطِمَةُ تَسْأَلُ أَبَا بَكْرٍ نَصِيبَهَا مِمَّا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ خَيْبَرَ وَفَدَكٍ وَصَدَقَتِهِ بِالْمَدِينَةِ فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ عَلَيْهَا ذَلِكَ وَقَالَ لَسْتُ تَارِكًا شَيْئًا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَعْمَلُ بِهِ إِلاَّ عَمِلْتُ بِهِ إِنِّي أَخْشَى إِنْ تَرَكْتُ شَيْئًا مِنْ أَمْرِهِ أَنْ أَزِيغَ فَأَمَّا صَدَقَتُهُ بِالْمَدِينَةِ فَدَفَعَهَا عُمَرُ إِلَى عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ فَغَلَبَهُ عَلَيْهَا عَلِيٌّ وَأَمَّا خَيْبَرُ وَفَدَكُ فَأَمْسَكَهُمَا عُمَرُ وَقَالَ هُمَا صَدَقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَتَا لِحُقُوقِهِ الَّتِي تَعْرُوهُ وَنَوَائِبِهِ وَأَمْرُهُمَا إِلَى مَنْ وَلِيَ الأَمْرَ قَالَ فَهُمَا عَلَى ذَلِكَ إِلَى الْيَوْمِ ‏.‏
It has been narrated by 'Urwa b Zubair on the authority of 'A'isha, wife of the Prophet (ﷺ), that Fatima, daughter of the Messenger of Allah (ﷺ), requested Abu Bakr, after the death of the Messenger of Allah (may peace he upon him), that he should set apart her share from what the Messenger of Allah (ﷺ) had left from the properties that God had bestowed upon him. Abu Bakr said to her:The Messenger of Allah (ﷺ) said:" We do not have any heirs; what we leave behind is Sadaqa (charity)." The narrator said: She (Fatima) lived six months after the death of the Messenger of Allah (ﷺ) and she used to demand from Abu Bakr her share from the legacy of the Messenger of Allah (ﷺ) from Khaibar, Fadak and his charitable endowments at Medina. Abu Bakr refused to give her this, and said: I am not going to give up doing anything which the Messenger of Allah (ﷺ) used to do. I am afraid that it I go against his instructions in any matter I shall deviate from the right course. So far as the charitable endowments at Medina were concerned, 'Umar handed them over to 'Ali and Abbas, but 'Ali got the better of him (and kept the property under his exclusive possession). And as far as Khaibar and Fadak were concerned 'Umar kept them with him, and said: These are the endowments of the Messenger of Allah (ﷺ) (to the Umma). Their income was spent on the discharge of the responsibilities that devolved upon him on the emergencies he had to meet. And their management was to be in the hands of one who managed the affairs (of the Islamic State). The narrator said: They have been managed as such up to this day
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہا رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم کی صاحبزادی نے رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم کی وفات کے بعد ابوبکر رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اپناحصہ مانگا رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم کے ترکہ سے جو اﷲ تعالیٰ نے آپ کو دیا تھا۔ حضرت ابوبکر رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم نے تو یہ فرمایا ہے ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا اور جو ہم چھوڑ جاویں وہ صدقہ ہے اور حضرت فاطمہ رضی ‌اللہ ‌عنہ رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم کی وفات کے بعد صرف چھ مہینے تک زندہ رہیں اور وہ اپنا حصہ مانگتی تھیں خیبر اور فدک اور مدینہ کے صدقہ میں سے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے نہ دیا اور یہ کہا کہ میں کوئی کام جس کو رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم کرتے تھے چھوڑنے والا نہیں میں ڈرتا ہوں کہیں گمراہ نہ ہوجاؤں۔ پھر مدینہ کا صدقہ حضرت عمر رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے زمانے میں حضرت علی رضی ‌اللہ ‌عنہ اور عباس رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دے دیا لیکن حضرت علی رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عباس رضی ‌اللہ ‌عنہ پر غلبہ کیا ( یعنی اپنے قبضہ میں رکھا ) او رخیبر اور فدک کو حضرت عمر رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے قبضہ میں رکھا اور یہ کہا کہ یہ دونوں صدقہ تھے رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم کے جو صرف ہوتے آپ کے حقوق او رکاموں میں جو پیش آتے آپ کو اور یہ دونوں اس کے اختیار میں رہیں گے جو حاکم ہو مسلمانوں کا پھر آج تک ایسا ہی رہا ( یعنی خیبر اور فدک ہمیشہ خلیفہ وقت کے قبضہ میں رہے۔ حضرت علی رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اپنی خلاف میں ان کو تقسیم نہیں کیا۔ پس شیعوں کا اعتراض حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہم پر لغو ہوگیا ) ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّعليه وسلم بَعَثَ جَيْشًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلاً فَأَوْقَدَ نَارًا وَقَالَ ادْخُلُوهَا ‏.‏ فَأَرَادَ نَاسٌ أَنْ يَدْخُلُوهَا وَقَالَ الآخَرُونَ إِنَّا قَدْ فَرَرْنَا مِنْهَا ‏.‏ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لِلَّذِينَ أَرَادُوا أَنْ يَدْخُلُوهَا ‏"‏ لَوْ دَخَلْتُمُوهَا لَمْ تَزَالُوا فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ لِلآخَرِينَ قَوْلاً حَسَنًا وَقَالَ ‏"‏ لاَ طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ ‏"‏ ‏.‏
It has been narrated on the authority of Abu 'Abd al-Rahman from 'Ali that the Messenger of Allah (ﷺ) sent a force (on a mission) and appointed over them a man. He kindled a fire and said:Enter it. Some people made up their minds to enter it (the fire), (carrying out the order of their commander), but the others said: We fled from the fire (that's why we have come into the fold of Islam). The matter was reported to the Messenger of Allah (ﷺ). He said to those who Contemplated entering (the fire at the order of their commander): If you had entered it, you would have remained there until the Day of Judgment. He commanded the act of the latter group and said: There is no submission in matters involving God's disobedience or displeasure. Submission is obligatory only in what is good (and reasonable)
زبید نے سعد بن عبیدہ سے ، انہوں نے ابوعبدالرحمٰن سے ، انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور ایک شخص کو ان کا امیر بنایا ، اس ( امیر ) شخص نے آگ جلائی اور لوگوں سے کہا : اس میں داخل ہو جاؤ ۔ کچھ لوگوں نے اس میں داخل ہونے کا ارادہ کر لیا اور کچھ لوگوں نے کہا : ہم آگ ہی سے تو بھاگے ہیں ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس واقعے کا ذکر کیا گیا تو آپ نے ان لوگوں سے جو آگ میں داخل ہونا چاہتے تھے ، فرمایا : " اگر تم آگ میں داخل ہو جاتے تو قیامت تک اسی میں رہتے ۔ " اور دوسروں کے حق میں اچھی بات فرمائی اور فرمایا : " اللہ تعالیٰ کی معصیت میں کسی کی اطاعت نہیں ، اطاعت صرف نیکی میں ہے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْتَ مَيْمُونَةَ فَأُتِيَ بِضَبٍّ مَحْنُوذٍ فَأَهْوَى إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ فَقَالَ بَعْضُ النِّسْوَةِ اللاَّتِي فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ أَخْبِرُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَا يُرِيدُ أَنْ يَأْكُلَ ‏.‏ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ فَقُلْتُ أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏ "‏ لاَ وَلَكِنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ خَالِدٌ فَاجْتَرَرْتُهُ فَأَكَلْتُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْظُرُ ‏.‏
Abdullah b. 'Abbas reported:I and Khalid b. Walid went to the apartment of Maimuna along with Allah's Messenger (ﷺ), and there was presented to him a roasted lizard. Allah's Messenger (ﷺ) stretched his hand towards It, whereupon some of the women who had been in the house of Maimuna said: Inform Allah's Messenger (ﷺ) what he intends to eat. Allah's Messenger (ﷺ) lifted his hand. I said: Messenger of Allah, Is it forbidden? He said: No. It is not found in the land of my people, and I feel that I have no liking for it. Khalid said: I then chewed and ate it, while, Allah's Messenger (ﷺ) was looking (at me)
امام مالک نے ابن شہاب سے انھوں نے ابو امامہ بن سہل بن حنیف سے ، انھوں نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ میں اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر گئے ، اتنے میں ایک بھنا ہوا سانڈا لا یا گیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف ہاتھ بڑھانے کا قصد کیا ، حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر جو عورتیں تھیں ۔ ان میں سے کسی نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو چیز کھانے لگے ہیں وہ آپ کو بتا دو ، ( یہ سنتے ہی ) آپ نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ۔ میں نے پوچھا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہ حرا م ہے؟ آپ نے فر ما یا : "" نہیں لیکن یہ ( جا نور ) میری قوم کی سر زمین میں نہیں ہو تا ، اس لیے میں خود کو اس سے کرا ہت کرتے ہو ئے پاتا ہوں ۔ "" حضرت خالد ( بن ولید ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : پھر میں نے اس کو ( اپنی طرف ) کھینچا اور کھا لیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَابْنُ، رُمْحٍ عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، وَأَبُو كَامِلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، جَمِيعًا عَنْ أَيُّوبَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، عَنِ الثَّقَفِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي، ابْنَ عُثْمَانَ ح وَحَدَّثَنِي هَارُونُ الأَيْلِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ، كُلُّ هَؤُلاَءِ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ ‏.‏ إِلاَّ مَالِكٌ وَأُسَامَةُ ‏.‏
This hadith has been reported on the authority of Ibn 'Umar with different chains of transmitters but they have not mentioned:" In one of his expeditions" except Malik and Usama
لیث بن سعد ، ایوب ، عبیداللہ ، یحییٰ بن سعید ، ضحاک بن عثمان اور اسامہ ان سب نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مالک کی حدیث کے مانند روایت کی ، مالک اور اسامہ کے سوا ان میں سے کسی نے " ایک غزوے کے دوران میں " کے الفاظ نہیں کہے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، كِلاَهُمَا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالاَ ضِجَاعُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ يَنَامُ عَلَيْهِ ‏.‏
This hadith has been reported on the authority of Hisham b. 'Urwa with a slight variation of wording
ابن نمیر اور ابو معاویہ دونوں نے ہمیں ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ خبر دی اور کہا : " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استراحت کا بچھونا ۔ " اور ابو معاویہ کی حدیث میں ہے ۔ جس پر آپ سوتے تھے ۔
وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا عَادَ مَرِيضًا يَقُولُ ‏ "‏ أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ اشْفِهِ أَنْتَ الشَّافِي لاَ شِفَاءَ إِلاَّ شِفَاؤُكَ شِفَاءً لاَ يُغَادِرُ سَقَمًا ‏"‏ ‏.‏
A'isha reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When Allah's Messenger (ﷺ) visited the sick he would say: Lord of the people. remove the disease, cure him, for Thou art the great Curer, there is no cure but through Thine healing Power, which leaves nothing of the disease
ابوعوانہ نے منصور سے ، انھوں نےابراہیم سے ، انھوں نے مسروق سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ بلا شبہ رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مریض کی عیادت کرتے تھے تو فرماتے : " تکلیف دور کردے ، اے سب لوگوں کے پالنے والے!اس کو شفا عطا کر ، تو شفا دینے والا ہے ، تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں ، ایسی شفا ( دے ) جو ( ذرہ برابر ) بیماری کو نہ چھوڑے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، بَاتَ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَخَرَجَ فَنَظَرَ فِي السَّمَاءِ ثُمَّ تَلاَ هَذِهِ الآيَةَ فِي آلِ عِمْرَانَ ‏{‏ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ‏}‏ حَتَّى بَلَغَ ‏{‏ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ‏}‏ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْبَيْتِ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ثُمَّ اضْطَجَعَ ثُمَّ قَامَ فَخَرَجَ فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ فَتَلاَ هَذِهِ الآيَةَ ثُمَّ رَجَعَ فَتَسَوَّكَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ‏.‏
Ibn 'Abbas reported that he spent a night at the house of the Messenger of Allah (ﷺ), The Apostle of Allah (way peace be upon him) got up for prayer in the latter part of the night. He went out and looked towards the sky and then recited this verse (190th) of AI-i-'Imran:" Verily in the creation of the heavens and the earth and the alternation of night and day." up to the (words)" save us from the torment of Hell." He then returned to his house, used the tooth-stick, performed the ablution, and then got up and offered the prayer. He than lay down on the bed. and again got up and went out and looked towards the sky and recited this verse (mentioned above), then returned, used the tooth-stick, performed ablution and again offered the prayer
حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ابو متوکل کو بتایا کہ انہوں نے ایک رات اللہ کے نبی ﷺ کے ہاں گزاری ۔ اللہ کے نبی ﷺ رات کے آخری حصے میں اٹھے ، باہر نکلے اور آسمان پر نظر ڈالی پھر سورہ آل عمران کی آیت : ﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ﴾تلاوت کی اور﴿فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾تک پہنچے ۔ پھر گھر لوٹے اور اچھی طرح مسواک کی اور وضو فرمایا ، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی ، پھر لیٹ گئے ، پھر کھڑے ہوئے ، باہر آسمان کی طرف دیکھا ، پھر ( دوبارہ ) یہ آیت پڑھی ، پھر واپس آئے ، مسواک کی اور وضو فرمایا ، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ رَأَيْتُ عَنْ يَمِينِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعَنْ شِمَالِهِ يَوْمَ أُحُدٍ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا ثِيَابُ بَيَاضٍ مَا رَأَيْتُهُمَا قَبْلُ وَلاَ بَعْدُ ‏.‏ يَعْنِي جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ ‏.‏
Sa`d reported that on the Day of Uhud I saw on the right side of Allah's Messenger (ﷺ) and on his left side two persons dressed in white clothes and whom I did not see before nor after that, and they were Gabriel and Michael (Allah be pleased with both of them)
مسعرنے سعد بن ابرا ہیم سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں اور بائیں دوآدمیوں کو دیکھا وہ سفید لباس میں تھے ، ان کو نہ میں نے اس سے پہلے کبھی دیکھا تھا نہ بعد میں یعنی حضرت جبرئیل علیہ السلام اور مکائیل علیہ السلام کو ۔
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، - يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ - عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ مَا جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبَوَيْهِ لأَحَدٍ غَيْرَ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ فَإِنَّهُ جَعَلَ يَقُولُ لَهُ يَوْمَ أُحُدٍ ‏ "‏ ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ‏"‏ ‏.‏
Abdullah b. Shaddad reported that he heard `Ali saying:Allah's Messenger (ﷺ) did not gather his parents except in case of Sa`d b. Malik that he said to him on the Day of Uhud: Shoot an arrow, may my father and mother be taken as ransom for you
منصور بن ابی مزاحم نے کہا : ہمیں ابرا ہیم بن سعد نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عبد اللہ بن شداد سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہ حضرت سعد بن مالک ( سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے سوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کے لیے اکٹھا اپنے ماں باپ کا نام نہیں لیا ۔ جنگ اُحد کے دن آپ بار بار ان سے کہہ رہے تھے ۔ " تیر چلا ؤ تم پرمیرے ماں باپ فداہوں ۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَا مِنْ مُصِيبَةٍ يُصَابُ بِهَا الْمُسْلِمُ إِلاَّ كُفِّرَ بِهَا عَنْهُ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا ‏"‏ ‏.‏
A'isha reported:Allah's Messenger (ﷺ) said: There is no trouble that comes to a believer except that it obliterates from his sins, even if it is the pricking of a thorn
ابن شہاب نے عروہ بن زبیر سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی بھی مصیبت نہیں جس میں کوئی مسلمان مبتلا ہو مگر اس کی بنا پر اس کا کوئی گناہ اس سے ہٹا دیا جاتا ہے حتی کہ وہ کانٹا بھی جو اسے چبھتا ہے ( اور کسی گناہ کا کفارہ بن جاتا ہے ۔)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلِّمْنِي دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِي صَلاَتِي قَالَ ‏ "‏ قُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَبِيرًا - وَقَالَ قُتَيْبَةُ كَثِيرًا - وَلاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ‏"‏ ‏.‏
Abu Bakr reported that he said to Allah's Messenger (ﷺ):Teach me a supplication which I should recite in my prayer. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Recite:" O Allah, I have done great wrong to myself." According to Qutaiba (the words were: ) much (wrong) -there is none to forgive the sins but Thou only, say:" Grant me pardon from Thyself, have mercy upon me for Thou art much Forgiving and Compassionate
ابو بکر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے انہوں نے رسول اﷲ ﷺ سے عرض کیا یارسول اﷲ ﷺ مجھے ایک دعا سکھلائیے جس کو میں پڑھا کروں اپنی نماز میں آپ نے فرمایا یہ کہا کر یااﷲ میں نے اپنے نفس پر بڑا ظلم کیا ہے یا بہت ظلم کیا ہے اور گناہوں کو کوئی نہیں بخشتا سوا تیرے تو بخش دے مجھے اپنے پاس کی بخشش سے اور رحم کر مجھ پر تو بخشنے والا مہربان ہے ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، - يَعْنِيَانِ ابْنَ مَهْدِيٍّ - عَنْ سُفْيَانَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ، كِلاَهُمَا عَنْ مَنْصُورٍ، بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ ‏.‏ مِثْلَ حَدِيثِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ ‏ "‏ وَقَدْ وُكِّلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنَ الْجِنِّ وَقَرِينُهُ مِنَ الْمَلاَئِكَةِ ‏"‏ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Mansiir with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording
سفیان اور عمار بن رزیق دونوں نے منصور سے جریر کی سند کے ساتھ انھی کی حدیث کے مانند روایت کی ، مگر سفیان کی حدیث میں ہے : " ہر شخص کے لیے ایک ساتھی جنوں میں سے اور ایک ساتھی فرشتوں میں سے مقرر کر دیاہے ۔ ( جن اسے برائی کی طرف مائل کرتا ہے اور فرشتہ نیکی کی طرف ۔ فیصلہ خود اسی کو کرنا ہوتا ہے ۔)
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ صِنْفَانِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ لَمْ أَرَهُمَا قَوْمٌ مَعَهُمْ سِيَاطٌ كَأَذْنَابِ الْبَقَرِ يَضْرِبُونَ بِهَا النَّاسَ وَنِسَاءٌ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ مُمِيلاَتٌ مَائِلاَتٌ رُءُوسُهُنَّ كَأَسْنِمَةِ الْبُخْتِ الْمَائِلَةِ لاَ يَدْخُلْنَ الْجَنَّةَ وَلاَ يَجِدْنَ رِيحَهَا وَإِنَّ رِيحَهَا لَتُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ كَذَا وَكَذَا ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Two are the types amongst the denizens of Hell, the one possessing whips like the tail of an ox and they flog people with their help. (The second one) the women who would be naked in spite of their being dressed, who are seduced (to wrong paths) and seduce others with their hair high like humps. These women would not get into Paradise and they would not perceive the odour of Paradise, although its frag- rance can be perceived from such and such distance (from great distance)
سہیل کے والد ( ابو صالح ) نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اہل جہنم کے دو قسمیں ایسی ہیں جن کو ( دنیوی زندگی میں ) میں نے ( خود ) نہیں دیکھا ۔ ایک گروہ وہ ہے جس کے پاس گایوں کی دموں کی طرح سے کوڑے ہوں گے جن سے وہ لوگوں کوماریں گے اور ( دوسرے گروہ میں ) وہ عورتیں ہیں جو لباس پہنے ہوئے ( بھی ) ننگی ہوں گی ، دوسروں کو ( گناہ پر ) مائل کرنے والی ، خود مائل ہونے والی ہوں گی ان کے سر ( علاقہ ) بخت کی اونٹنیوں کے ایک طرف جھکے ہوئے کوہانوں جیسے ہوں گے ۔ یہ عورتیں جنت میں داخل ہوں گی نہ اسکی خوشبو سونگھیں گی ۔ حالانکہ اس کی خوشبو اتنے اتنے ( لمبے ) فاصلے سےمحسوس ہوتی ہوگی ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، وَأَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ أَبَانَ - قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، بْنِ عُمَرَ يَقُولُ يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ مَا أَسْأَلَكُمْ عَنِ الصَّغِيرَةِ وَأَرْكَبَكُمْ لِلْكَبِيرَةِ سَمِعْتُ أَبِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ إِنَّ الْفِتْنَةَ تَجِيءُ مِنْ هَا هُنَا ‏"‏ ‏.‏ وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ ‏"‏ مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ ‏"‏ ‏.‏ وَأَنْتُمْ يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ وَإِنَّمَا قَتَلَ مُوسَى الَّذِي قَتَلَ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ خَطَأً فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ ‏{‏ وَقَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّيْنَاكَ مِنَ الْغَمِّ وَفَتَنَّاكَ فُتُونًا‏}‏ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ سَالِمٍ لَمْ يَقُلْ سَمِعْتُ ‏.‏
Ibn Fudail reported on the authority of his father that he heard Salim b. `Abdullah b. `Umar as saying:O people of Iraq, how strange it is that you ask about the minor sins but commit major sins? I heard from my father `Abdullah b. `Umar, narrating that he heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying while pointing his hand towards the east: Verily, the turmoil would come from this side, from where appear the horns of Satan and you would strike the necks of one another; and Moses killed a person from among the people of Pharaoh unintentionally and Allah, the Exalted and Glorious, said: "You killed a person but We relieved you from the grief and tried you with (many a) trial" (xx. 40). Ahmad b. `Umar reported this hadith from Salim, but he did not make a mention of the words: "I heard
عبداللہ بن عمر بن ابان ، واصل بن عبدالاعلیٰ اور احمد بن عمر وکیعی نے ہمیں حدیث بیان کی ، الفاظ ابن ابان کے ہیں ۔ انھوں نے کہا : ہمیں ابن فضیل نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے سالم بن عبداللہ بن عمرسے سنا ، کہہ رہے تھے : " اے عراق والو! میں تم سے چھوٹے گناہ نہیں پوچھتا نہ اس کو پوچھتا ہوں جو کبیرہ گناہ کرتا ہو میں نے اپنے والد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ فتنہ ادھر سے آئے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا ، جہاں شیطان کے دونوں سینگ نکلتے ہیں ۔ اور تم ایک دوسرے کی گردن مارتے ہو ( حالانکہ مومن کی گردن مارنا کتنا بڑا گناہ ہے ) اور موسیٰ علیہ السلام فرعون کی قوم کا ایک شخص غلطی سے مار بیٹھے تھے ( نہ بہ نیت قتل کیونکہ گھونسے سے آدمی نہیں مرتا ) ، تو اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ”تو نے ایک خون کیا ، پھر ہم نے تجھے غم سے نجات دی اور تجھ کو آزمایا جیسا آزمایا تھا“ ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ ذُكِرَ عِنْدَهُ الْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ فَقَالَ ‏ "‏ أَمَّا أَنَا فَأُفْرِغُ عَلَى رَأْسِي ثَلاَثًا ‏"‏ ‏.‏
Jubair b. Mut'im reported it from the Messenger of Allah (ﷺ) that a mention was made before him about bathing because of sexual intercourse and he said:I pour water over my head thrice
شعبہ نے ابو ا سحاق سے ، انہوں نے سلیمان بن صرد سے ، انہوں نے حضرت جبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے نبیﷺ سے روایت کی کہ آپ کے پاس غسل جنابت کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا : ’’ لیکن میں ، میں تو اپنے سر پر تین بار پانی بہاتا ہوں ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الصَّدُوقُ الأَمِينُ الْوَلِيدُ بْنُ حَرْبٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
Abu Sufyan reported like that as as-Saduq al-Amin al-Walid b. Harb narrated with the same chain of transmitters
اور یہی حدیث ہمیں ابن ابی عمر نے بیان کی کہا : ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی کہا : ہمیں سچے امانتدار شخص ولید بن حرب نے اسی سند کے ساتھ روایت کی ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، يَقُولُ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَخْبَرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم التَّشَهُّدَ كَفِّي بَيْنَ كَفَّيْهِ كَمَا يُعَلِّمُنِي السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ ‏.‏ وَاقْتَصَّ التَّشَهُّدَ بِمِثْلِ مَا اقْتَصُّوا ‏.‏
Ibn Mas'ud is reported to have said:The Messenger of Allah (ﷺ) taught me tashahhud taking my hand within his palms, in the same way as he taught me a Sura of the Qur'an, and he narrated it as narrated above
۔ عبد اللہ بن سخبرہ نے کہا : میں نے حضرت ابن مسعود سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہﷺ نے مجھے تشہد سکھایا ، میری ہتھیلی آپ کی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان تھی ، ( بالکل اسی طرح ) جیسے آپ مجھے قرآنی سورت کی تعلیم دیتے تھے ۔ اور انہوں نے ( ابن سخبرہ ) نے تشہد اسی طرح بیان کیا جس طرح سابقہ راویوں نے بیان کیا ۔