حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى بُصَاقًا فِي جِدَارِ الْقِبْلَةِ فَحَكَّهُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلاَ يَبْصُقْ قِبَلَ وَجْهِهِ فَإِنَّ اللَّهَ قِبَلَ وَجْهِهِ إِذَا صَلَّى " .
Abdullah b. Umar reported:The Messenger of Allah (ﷺ) saw spittle on the wall towards Qibla, and scratched it away and then turning to the people said: When any one of you prays, he must not spit in front of him, for Allah is in front of him when he is engaged in prayer
امام مالک نے نافع سے اور انھوں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ( مسجد کی ) قبلے والی دیوار ( کی سمت ) میں بلغم ملا تھوک لگا ہو ا دیکھا تو اسے کھرچ دیا ، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : ‘ ‘ جب تم میں سے کوئی نماز میں ہو تو اپنے سامنے نہ تھوکے کیونکہ جب وہ وہ نماز پڑھتا ہے تو اللہ اس کے سامنے ہوتا ہے ۔ ’’
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، سَمِعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ فَقَالَ " الْحَيَاءُ مِنَ الإِيمَانِ " .
Salim reported on the authority of his father that the Prophet (may peace and blessings be upon him) heard a man censuring his brother regarding modesty. Upon this the Prophet remarked:Modesty is part of Iman (faith)
سفیان بن عیینہ نے زہری سے حدیث سنائی ، انہوں نے سالم سے اور انہوں نے اپنے والد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سےروایت کی کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک آدمی سے سنا جو اپنے بھائی کو حیا کے بارے میں نصیحت کر رہا تھا تو آپ نے فرمایا : ’’ ( حیا سے مت روکو ) حیا ایمان میں سے ہے ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا قُرَّةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَمَعَ بَيْنَ الصَّلاَةِ فِي سَفْرَةٍ سَافَرَهَا فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَجَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ . قَالَ سَعِيدٌ فَقُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ مَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ قَالَ أَرَادَ أَنْ لاَ يُحْرِجَ أُمَّتَهُ .
Ibn 'Abbas reported that the Messenger of Allah (ﷺ) combined the prayers as he set on a journey in the expedition to Tabuk. He combined the noon prayer with the afternoon prayer and the sunset prayer with the 'Isha' prayer. Sa'id (one of the rawis) said to Ibn 'Abbas:What prompted him to do this? He said: He wanted that his Ummah should not be put to (unnecessary) hardship
قزہ بن خالد نے کہا : ہمیں ابو زبیر نے حدیث بیا ن کی ، کہا : ہمیں سعید بن جبیر نے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : ہمیں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیا ن کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے دوران ایک سفر میں نمازوں کو جمع کیا ، ظہراورعصر کو اکھٹا پڑھا اور مغرب اور عشاء کو اکھٹا پڑھا ۔ سعید نے کہا میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیوں کیا تھا؟انھوں نے کہا : آپ نے چاہا اپنی امت کو حرج ( اور تنگی ) میں نہ ڈالیں ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، - قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، - عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ عَطَاءً، يُخْبِرُ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ، يَعْلَى عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ عَلَى الْمِنْبَرِ { وَنَادَوْا يَا مَالِكُ}
Safwan b. Ya'la reported on the authority of his father that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) reciting (verses of the Qur'an) on the pulpit. and" They cried:0 Malik
صفوان کے والد حضرت یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ منبر پر پڑھ رہے تھے : وَنَادَوْا يَا مَالِكُ " اور وہ پکاریں گے : اے مالک! " ( الزخرف 77 :)
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنِي وَقَالَ، الآخَرَانِ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ - حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ، شِهَابٍ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ سُجِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ مَاتَ بِثَوْبِ حِبَرَةٍ .
A'isha reported:When the Messenger of Allah (may peace be upom him) died, he was covered with a Yamani wrapper
صالح ( بن کیسان ) نے ابن شہاب ( زہری سے روایت کی ، انھیں ابو سلمہ بن عبد الرحمان نے خبردی کہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو ئے تو آپ کو دھاری دار یمنی چادر سے ڈھا نپا گیا ۔)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ عَلَىَّ وَهْىَ رَاغِبَةٌ - أَوْ رَاهِبَةٌ - أَفَأَصِلُهَا قَالَ " نَعَمْ " .
Asma' daughter of Abu Bakr reported:I said: Messenger of Allah, my mother, who is inclined or scared has come to me. Should I (even An her position of being opposed to Islam) treat her well? He said: Yes
عبداللہ بن ادریس نے ہشام بن عروہ سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، اور انھوں نے حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میرے والدہ میرے پاس آئی ہیں اور ( صلہ رحمی کی ) خواہش مند ہیں ۔ یا ( خالی ہاتھ واپسی سے ) خائف ہیں ۔ کیا میں ان سے صلہ رحمی کروں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہاں ۔
وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ، كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، - رضى الله عنه - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
A hadith like this has been transmitted by Sahl b. Sa'd
قتیبہ ، یعقوب ، زہیر بن حرب ، عبدالرحمٰن ابن مہدی ، سفیان ، حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث مبارکہ کی طرح روایت نقل کی ہے ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي، عُمَرَ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مُحَمَّدٍ، مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ، يَقُولُ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْقَاحَةِ فَمِنَّا الْمُحْرِمُ وَمِنَّا غَيْرُ الْمُحْرِمِ إِذْ بَصُرْتُ بِأَصْحَابِي يَتَرَاءَوْنَ شَيْئًا فَنَظَرْتُ فَإِذَا حِمَارُ وَحْشٍ . فَأَسْرَجْتُ فَرَسِي وَأَخَذْتُ رُمْحِي ثُمَّ رَكِبْتُ فَسَقَطَ مِنِّي سَوْطِي فَقُلْتُ لأَصْحَابِي وَكَانُوا مُحْرِمِينَ نَاوِلُونِي السَّوْطَ . فَقَالُوا وَاللَّهِ لاَ نُعِينُكَ عَلَيْهِ بِشَىْءٍ . فَنَزَلْتُ فَتَنَاوَلْتُهُ ثُمَّ رَكِبْتُ فَأَدْرَكْتُ الْحِمَارَ مِنْ خَلْفِهِ وَهُوَ وَرَاءَ أَكَمَةٍ فَطَعَنْتُهُ بِرُمْحِي فَعَقَرْتُهُ فَأَتَيْتُ بِهِ أَصْحَابِي فَقَالَ بَعْضُهُمْ كُلُوهُ . وَقَالَ بَعْضُهُمْ لاَ تَأْكُلُوهُ . وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَمَامَنَا فَحَرَّكْتُ فَرَسِي فَأَدْرَكْتُهُ فَقَالَ " هُوَ حَلاَلٌ فَكُلُوهُ " .
Abu Qatada reported:We went with the Messenger of Allah (ﷺ) till we reached al-Qaha (a place three stages away from Medina). Some of us were in the state of Ihram and some of us were not. I saw my companions looking towards something, and as I saw I found It to be a wild ass. I saddled my horse and took up my spear and then mounted upon (the horse) and my whip, fell down. I said to my companions as they were in the state of Ihram to pick up the whip for me but they said: By Allah, we cannot help you in any (such) thing (i. e. hunting). So i dismounted (the horse) and picked it (whip) up and mounted again and caught the wild ass after chasing it. It was behind a hillock and I attacked it with my spear and killed it. Then I brought it to my companions. Some of them said: Eat it, while others said: Do not eat it. The Apostle of Allah (ﷺ) was in front of us. I moved my horse and came to him (and asked him), whereupon he said: It is permissible, so eat it
صالح بن کیسان نے کہا : میں نے ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مولیٰ ابو محمد سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے کہ میں ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہو ئے سنا ، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے حتی کہ جب ہم ( مدینہ سے تین منزل دو ر وادی ) قاحہ میں تھے تو ہم میں سے بعض احرا م کی حا لت میں تھے اور کوئی بغیر احرام کے تھا ۔ اچا نک میری نگا ہ اپنے ساتھیوں پر پڑی تو وہ ایک دوسرے کو کچھ دکھا رہے تھے میں نے دیکھا تو ایک زیبرا تھا میں نے ( فوراً ) اپنے گھوڑے پر زین کسی اپنا نیز ہ تھا مااور سوار ہو گیا ۔ ( جلدی میں ) مجھ سے میرا کو ڑا گر گیا میں نے اپنے ساتھیوں سے جو احرا م باند ھے ہو ئے تھے کہا : مجھے کو ڑا پکڑا دو انھوں نے کہا : اللہ کی قسم !ہم اس ( شکار ) میں تمھاری کوئی مدد نہیں کریں گے ۔ بالآخر میں اترا اسے پکڑا ۔ پھر سوار ہوا اور زیبرے کو اس کے پیچھے سے جا لیا اور وہ ایک ٹیلے کے پیچھے تھا ۔ میں نے اسے اپنے نیزے کا نشانہ بنا یا اور اسے گرا لیا ۔ پھر میں اسے ساتھیوں کے پاس لے آیا ۔ ان میں سے کچھ نے کہا : اسے کھا لو اور کچھ نے کہا : اسے مت کھانا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ( کچھ فاصلے پر ) ہم سے آگے تھے ۔ میں نے اپنے گھوڑے کو حرکت دی اور آپ کے پاس پہنچ گیا ( اور اس کے بارے میں پوچھا ) آپ نے فر ما یا : "" وہ حلال ہے اسے کھا لو ۔
وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ أَوْ يَتَنَاجَشُوا أَوْ يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ أَوْ يَبِيعَ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ وَلاَ تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلاَقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي إِنَائِهَا أَوْ مَا فِي صَحْفَتِهَا . زَادَ عَمْرٌو فِي رِوَايَتِهِ وَلاَ يَسُمِ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Apostle (ﷺ) as having forbidden a dweller of the town selling the merchandise of a villager or outbidding in a sale (in order that another might fall into a snare), or a person making the proposal of marriage when his brother has already made such a proposal, or entering into a transaction when his brother has already entered; and a woman asking the divorce of her sister in order to deprive her of what belongs to her. 'Amr made this addition:" The person should not purchase in opposition to his brother
عمرو ناقد ، زہیر بن حرب اور ابن ابی عمر نے حدیث بیان کی ۔ زہیر نے کہا : سفیان بن عیینہ نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سعید بن مسیب سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے سودا بیچے یا لوگ ( خریداری کی نیت کے بغیر ) بڑھ چڑھ کر قیمت لگائیں یا کوئی آدمی اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر نکاح کا پیغام بھیجے ، یا کوئی آدمی اپنے بھائی کی بیع پر بیع کرے ۔ اور نہ ہی کوئی عورت ( اس غرض سے ) اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ کرے کہ جو کچھ اس کے برتن میں ہے یا اس کی پلیٹ میں ہے وہ اسے ( اپنے لیے ) انڈیل لے ۔ عمرو نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا : اور نہ کوئی آدمی اپنے بھائی کے کیے جانے سودے پر سودا بازی کرے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تِسْعُ نِسْوَةٍ فَكَانَ إِذَا قَسَمَ بَيْنَهُنَّ لاَ يَنْتَهِي إِلَى الْمَرْأَةِ الأُولَى إِلاَّ فِي تِسْعٍ فَكُنَّ يَجْتَمِعْنَ كُلَّ لَيْلَةٍ فِي بَيْتِ الَّتِي يَأْتِيهَا فَكَانَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ فَجَاءَتْ زَيْنَبُ فَمَدَّ يَدَهُ إِلَيْهَا فَقَالَتْ هَذِهِ زَيْنَبُ . فَكَفَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ . فَتَقَاوَلَتَا حَتَّى اسْتَخَبَتَا وَأُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَمَرَّ أَبُو بَكْرٍ عَلَى ذَلِكَ فَسَمِعَ أَصْوَاتَهُمَا فَقَالَ اخْرُجْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَى الصَّلاَةِ وَاحْثُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ . فَخَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ عَائِشَةُ الآنَ يَقْضِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم صَلاَتَهُ فَيَجِيءُ أَبُو بَكْرٍ فَيَفْعَلُ بِي وَيَفْعَلُ . فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم صَلاَتَهُ أَتَاهَا أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ لَهَا قَوْلاً شَدِيدًا وَقَالَ أَتَصْنَعِينَ هَذَا
Anas (Allah be pleased with him) reported that Allah's Apostle (ﷺ) had nine wives. So when he divided (his stay) with them, the turn of the first wife did not come but on the ninth (day). They (all the wives) used to gather every night in the house of one where he had to come (and stay that night). It was (the night when he had to stay) in the house of 'A'isha (Allah be pleased with her), when Zainab came there. He (the Holy Prophet) stretched his hand towards her (Zainab), whereupon she ('A'isha) said:It is Zainab. Allah's Apostle (ﷺ) withdrew his hand. There was an altercation between the two until their voices became loud (and it was at that time) when Iqama was pronounced for prayer. There happened to come Abu Bakr and he heard their voices and said: Messenger of Allah, (kindly) come for prayer, and throw dust in their mouths. So the Prophet (ﷺ) went out. 'A'isha said: When Allah's Apostle (ﷺ) would finish his prayer there would also come Abu Bakr and he would do as he does (on such occasions, i.e. reprimanding). When Allah's Apostle (ﷺ) had finished his prayer, there came to her Abu Bakr, and spoke to her ('A'isha) in stern words and said: Do you behave like this?
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نو بیویاں تھیں ، جب آپ ان میں باری تقسیم فرماتے تو پہلی باری والی بیوی کے پاس نویں رات ہی پہنچتے ۔ وہ سب ہر رات اس ( بیوی کے ) گھر میں جمع ہو جاتی تھیں جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوتے ، حضرت زینب رضی اللہ عنہا آئیں تو آپ نے اپنا ہاتھ ان کی طرف پھیلایا ۔ انہوں ( عائشہ رضی اللہ عنہا ) نے کہا : یہ زینب ہیں آپ نے اپنا ہاتھ روک لیا ، اس پر ان دونوں میں تکرار ہو گئی حتی کہ ان کی آوازیں بلند ہو گئیں ، اور ( اسی دوران میں ) نماز کی اامت ہو گئی ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا وہاں سے گزر ہوا ، انہوں نے ان کی آوازیں سنیں تو کہا : اے اللہ کے رسول! آپ نماز کے لیے تشریف لائیے اور ان کے منہ میں مٹی ڈالیے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : ابھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز پوری کریں گے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ آئیں گے وہ مجھے ایسے ایسے ( ڈانٹ ڈپٹ ) کریں گے ۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی ، ابوبکر رضی اللہ عنہ ان ( حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ) کے پاس آئے اور انہیں سخت سرزنش کی ۔ اور کہا : کیا تم ایسا کرتی ہو؟
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ، أَبِي الْجَهْمِ قَالَ سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ، تَقُولُ أَرْسَلَ إِلَىَّ زَوْجِي أَبُو عَمْرِو بْنُ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ بِطَلاَقِي وَأَرْسَلَ مَعَهُ بِخَمْسَةِ آصُعِ تَمْرٍ وَخَمْسَةِ آصُعِ شَعِيرٍ فَقُلْتُ أَمَا لِي نَفَقَةٌ إِلاَّ هَذَا وَلاَ أَعْتَدُّ فِي مَنْزِلِكُمْ قَالَ لاَ . قَالَتْ فَشَدَدْتُ عَلَىَّ ثِيَابِي وَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " كَمْ طَلَّقَكِ " . قُلْتُ ثَلاَثًا . قَالَ " صَدَقَ لَيْسَ لَكِ نَفَقَةٌ . اعْتَدِّي فِي بَيْتِ ابْنِ عَمِّكِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ ضَرِيرُ الْبَصَرِ تُلْقِي ثَوْبَكِ عِنْدَهُ فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُكِ فَآذِنِينِي " . قَالَتْ فَخَطَبَنِي خُطَّابٌ مِنْهُمْ مُعَاوِيَةُ وَأَبُو الْجَهْمِ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ مُعَاوِيَةَ تَرِبٌ خَفِيفُ الْحَالِ وَأَبُو الْجَهْمِ مِنْهُ شِدَّةٌ عَلَى النِّسَاءِ - أَوْ يَضْرِبُ النِّسَاءَ أَوْ نَحْوَ هَذَا - وَلَكِنْ عَلَيْكِ بِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ " .
Fatima bint Qais (Allah be pleased with her) reported:My husband Abu 'Amr b. Hafs b. al-Mughira sent 'Ayyish b. Abu Rabi'a to me with a divorce, and he also sent through him five si's of dates and five si's of barley. I said: Is there no maintenance allowance for me but only this, and I cannot even spend my 'Idda period in your house? He said: No. She said: I dressed myself and came to Allah's Messenger (ﷺ). He said: How many pronouncements of divorce have been made for you? I said: Three. He said what he ('Ayyish b. Abu Rabi'a) had stated was true. There is no maintenance allowance for you. Spend 'Idda period in the house of your cousin, Ibn Umm Maktum. He is blind and you can put off your garment in his presence. And when you have spent your Idda period, you inform me. She said: Mu'awiya and Abu'l-Jahm (Allah be pleased with them) were among those who had given me the proposal of marriage. Thereupon Allah's Apostle (ﷺ) said: Mu'awiya is destitute and in poor condition and Abu'l-Jahm is very harsh with women (or he beats women, or like that), you should take Usama b. Zaid (as your husband)
عبدالرحمٰن نے ہمیں سفیان سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوبکر بن ابی جہم سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے سنا وہ کہہ رہی تھیں : میرے شوہر ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ رضی اللہ عنہ نے عیاش بن ابی ربیعہ کو میری طلاق کا پیغام دے کر بھیجا اور اس کے ساتھ پانچ صاع کھجوریں اور پانچ صاع جَو بھی بھیجے ۔ میں نے کہا : کیا میرے لیے صرف یہی خرچ ہے؟ کیا میں تم لوگوں کے گھر میں عدت نہیں گزاروں گی؟ اس نے جواب دیا : نہیں ۔ انہوں نے کہا : میں نے اپنے کپڑے سمیٹے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ نے پوچھا : " وہ تمہیں کتنی طلاقیں دے چکے ہیں؟ " میں نے جواب دیا : تین ۔ آپ نے فرمایا : " اس نے سچ کہا ، تمہارے لیے خرچ نہیں ہے ۔ اپنے چچا زاد عمرو بن ام مکتوم کے گھر عدت گزارو ، وہ نابینا ہیں تم ان کے ہاں اپنا اوڑھنے کا کپڑا اتار سکو گی ۔ جب تمہاری عدت ختم ہو جائے تو مجھے اطلاع دینا ۔ " انہوں نے ( آکر ) کہا : مجھے کئی لوگوں نے نکاح کا پیغام بھیجا ہے ، ان میں معاویہ اور ابوجہم بھی ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " معاویہ تو فقیر اور مفلوک الحال ہے ، اور رہے ابوجہم تو وہ عورتوں پر بہت سختی کرتے ہیں ۔ ۔ یا وہ عورتوں کو مارتے ہیں ، یا اس طرح کی کوئی اور بات کہی ۔ ۔ البتہ تم اسامہ بن زید کو قبول کر لو
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهَا نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُبْتَاعَ
Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) reported that Allah's Messenger (ﷺ) forbade the sale of fruits until they were clearly in good condition, he forbade it both to the seller and to the buyer
امام مالک نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس وقت تک درختوں پر لگے ہوئے ) پھلوں کی بیع سے منع فرمایا یہاں تک کہ ان کی ( پکنے کی ) صلاحیت ظاہر ہو جائے ۔ آپ نے بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں کو ( ایسی بیع سے ) منع فرمایا
وَحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ، حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . وَقَالَ ابْنُ حَاتِمٍ فِي حَدِيثِهِ عَنْ يَحْيَى، وَرَخَّصَ، فِي كَلْبِ الْغَنَمِ وَالصَّيْدِ وَالزَّرْعِ .
In the hadith transmitted on the authority of Yahya, he (the Holy Prophet) permitted the keeping of dogs for (the protection of) herds, for hunting and (the protection of) cultivated land
یحییٰ بن حبیب نے کہا : ہمیں خالد بن حارث نے حدیث بیان کی ۔ محمد بن حاتم نے کہا : ہمیں یحییٰ بن سعید نے حدیث سنائی ۔ محمد بن ولید نے کہا : ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی ۔ اسحٰق بن ابراہیم نے کہا : ہمیں نضر نے خبر دی ۔ محمد بن مثنیٰ نے کہا : ہمیں وہب بن جریر نے حدیث بیان کی ، ( خالد بن حارث ، یحییٰ بن سعید ، محمد بن جعفر ، نضر اور وہب بن جریر ) سب نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ۔ ابن حاتم نے اپنی حدیث میں کہا : یحییٰ سے روایت ہے ۔ ( اور آگے یہ کہا : ) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکریوں کی رکھوالی ، شکار اور کھیت کی حفاظت کرنے والے کتے کی اجازت دے دی ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَزَادَ فِي حَدِيثِ زُهَيْرٍ وَأَبِي مُعَاوِيَةَ بَعْدَ قَوْلِهِ " إِنَّكَ امْرُؤٌ فِيكَ جَاهِلِيَّةٌ " . قَالَ قُلْتُ عَلَى حَالِ سَاعَتِي مِنَ الْكِبَرِ قَالَ " نَعَمْ " . وَفِي رِوَايَةِ أَبِي مُعَاوِيَةَ " نَعَمْ عَلَى حَالِ سَاعَتِكَ مِنَ الْكِبَرِ " . وَفِي حَدِيثِ عِيسَى " فَإِنْ كَلَّفَهُ مَا يَغْلِبُهُ فَلْيَبِعْهُ " . وَفِي حَدِيثِ زُهَيْرٍ " فَلْيُعِنْهُ عَلَيْهِ " . وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ " فَلْيَبِعْهُ " . وَلاَ " فَلْيُعِنْهُ " . انْتَهَى عِنْدَ قَوْلِهِ " وَلاَ يُكَلِّفْهُ مَا يَغْلِبُهُ " .
This hadith has been narrated on the authority of A'mash but with a slight variation of words, e. g. in the hadith transmitted on the authority of Zuhair and Abu Mu'awiya after his words (these words of the Holy Prophet):" You are a person having the remnants of Ignorance in him." (these words also occur, that Abu Dharr) said: Even up to this time of my old age? He (the Holy Prophet) said: Yes. In the tradition transmitted on the authority of Abu Mu'awiya (the words are):" Yes, in this time of your old age." In the tradition transmitted on the authority of 'Isa (the words are):" If you burden him (with an unbearable burden), you should sell him (and get another slave who can easily undertake this burden)." In the hadith transmitted on the authority of Zuhair (the words are):" Help him in that (work)." In the hadith transmitted by Abu Mu'awiya (separately) there is no such word: Then sell him or help him." This hadith concludes with these words:" Do not burden him beyond his capacity
زہیر ، ابومعاویہ اور عیسیٰ بن یونس سب نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، زہیر اور ابو معاویہ کی حدیث میں آپ کے فرمان : " تم ایسے آدمی ہو جس میں جاہلیت ہے " کے بعد یہ اضافہ ہے ، انہوں نے کہا : میں نے عرض کی : بڑھاپے کی اس گھڑی کے باوجود بھی ( جاہلیت کی عادت باقی ہے؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہاں ۔ " ابو معاویہ کی روایت میں ہے : " ہاں ، تمہارے بڑھاپے کی اس گھڑی کے باوجود بھی " عیسیٰ کی حدیث میں ہے : " اگر وہ اس پر ایسی ذمہ داری ڈال دے جو اس کی طاقت سے باہر ہے تو ( بہتر ہے ) اسے بیچ دے ۔ " ( غلام پر ظلم کے گناہ سے بچ جائے ۔ ) زہیر کی حدیث میں ہے : " تو وہ اس ( کام ) میں اس کی اعانت کرے ۔ " ابو معاویہ کی حدیث میں وہ اسے بیچ دے اور وہ اس کی اعانت کرے کے الفاظ نہیں ہیں اور ان کی حدیث آپ کے فرمان : اس پر ایسی ذمہ داری نہ ڈالے جو اس کے بس سے باہر ہوپر ختم ہو گئی
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ مَا كُنْتُ أُقِيمُ عَلَى أَحَدٍ حَدًّا فَيَمُوتَ فِيهِ فَأَجِدَ مِنْهُ فِي نَفْسِي إِلاَّ صَاحِبَ الْخَمْرِ لأَنَّهُ إِنْ مَاتَ وَدَيْتُهُ لأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَسُنَّهُ .
Ali reported:If I impose Hadd on anyone, and he (in course of punish ment) dies, I would not mind except in case of a drunkard. If he dies. I would pay indemnity for him because the Messenger of Allah (ﷺ) has laid down no rule for it
یزید بن زریع نے کہا : ہمیں سفیان ثوری نے ابوحصین سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عمیر بن سعد سے اور انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں کسی شخص پر حد نہیں لگاتا کہ وہ اس میں مر جائے تو میں اس سے اپنے دل میں کوئی ملال محسوس کروں ، سوائے شراب پینے والے کے ، وہ اگر مر جائے تو میں اس کی دیت ادا کروں گا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طریقے ( اسی کوڑوں کی سزا ) کو جاری نہیں کیا
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، أَخْبَرَنَا حُجَيْنٌ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ وَفَدَكٍ وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمْسِ خَيْبَرَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ - صلى الله عليه وسلم - فِي هَذَا الْمَالِ " . وَإِنِّي وَاللَّهِ لاَ أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ حَالِهَا الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى فَاطِمَةَ شَيْئًا فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فِي ذَلِكَ - قَالَ - فَهَجَرَتْهُ فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ وَعَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سِتَّةَ أَشْهُرٍ فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ لَيْلاً وَلَمْ يُؤْذِنْ بِهَا أَبَا بَكْرٍ وَصَلَّى عَلَيْهَا عَلِيٌّ وَكَانَ لِعَلِيٍّ مِنَ النَّاسِ وِجْهَةٌ حَيَاةَ فَاطِمَةَ فَلَمَّا تُوُفِّيَتِ اسْتَنْكَرَ عَلِيٌّ وُجُوهَ النَّاسِ فَالْتَمَسَ مُصَالَحَةَ أَبِي بَكْرٍ وَمُبَايَعَتَهُ وَلَمْ يَكُنْ بَايَعَ تِلْكَ الأَشْهُرَ فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنِ ائْتِنَا وَلاَ يَأْتِنَا مَعَكَ أَحَدٌ - كَرَاهِيَةَ مَحْضَرِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - فَقَالَ عُمَرُ لأَبِي بَكْرٍ وَاللَّهِ لاَ تَدْخُلْ عَلَيْهِمْ وَحْدَكَ . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَمَا عَسَاهُمْ أَنْ يَفْعَلُوا بِي إِنِّي وَاللَّهِ لآتِيَنَّهُمْ . فَدَخَلَ عَلَيْهِمْ أَبُو بَكْرٍ . فَتَشَهَّدَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ثُمَّ قَالَ إِنَّا قَدْ عَرَفْنَا يَا أَبَا بَكْرٍ فَضِيلَتَكَ وَمَا أَعْطَاكَ اللَّهُ وَلَمْ نَنْفَسْ عَلَيْكَ خَيْرًا سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْكَ وَلَكِنَّكَ اسْتَبْدَدْتَ عَلَيْنَا بِالأَمْرِ وَكُنَّا نَحْنُ نَرَى لَنَا حَقًّا لِقَرَابَتِنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَلَمْ يَزَلْ يُكَلِّمُ أَبَا بَكْرٍ حَتَّى فَاضَتْ عَيْنَا أَبِي بَكْرٍ فَلَمَّا تَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحَبُّ إِلَىَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي وَأَمَّا الَّذِي شَجَرَ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنْ هَذِهِ الأَمْوَالِ فَإِنِّي لَمْ آلُ فِيهِ عَنِ الْحَقِّ وَلَمْ أَتْرُكْ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصْنَعُهُ فِيهَا إِلاَّ صَنَعْتُهُ . فَقَالَ عَلِيٌّ لأَبِي بَكْرٍ مَوْعِدُكَ الْعَشِيَّةُ لِلْبَيْعَةِ . فَلَمَّا صَلَّى أَبُو بَكْرٍ صَلاَةَ الظُّهْرِ رَقِيَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَتَشَهَّدَ وَذَكَرَ شَأْنَ عَلِيٍّ وَتَخَلُّفَهُ عَنِ الْبَيْعَةِ وَعُذْرَهُ بِالَّذِي اعْتَذَرَ إِلَيْهِ ثُمَّ اسْتَغْفَرَ وَتَشَهَّدَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَعَظَّمَ حَقَّ أَبِي بَكْرٍ وَأَنَّهُ لَمْ يَحْمِلْهُ عَلَى الَّذِي صَنَعَ نَفَاسَةً عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَلاَ إِنْكَارًا لِلَّذِي فَضَّلَهُ اللَّهُ بِهِ وَلَكِنَّا كُنَّا نَرَى لَنَا فِي الأَمْرِ نَصِيبًا فَاسْتُبِدَّ عَلَيْنَا بِهِ فَوَجَدْنَا فِي أَنْفُسِنَا فَسُرَّ بِذَلِكَ الْمُسْلِمُونَ وَقَالُوا أَصَبْتَ . فَكَانَ الْمُسْلِمُونَ إِلَى عَلِيٍّ قَرِيبًا حِينَ رَاجَعَ الأَمْرَ الْمَعْرُوفَ .
It is narrated on the authority of Urwa b. Zubair who narrated from A'isha that she informed him that Fatima, daughter of the Messenger of Allah (ﷺ), sent someone to Abu Bakr to demand from him her share of the legacy left by the Messenger of Allah (ﷺ) from what Allah had bestowed upon him at Medina and Fadak and what was left from one-filth of the income (annually received) from Khaibar. Abu Bakr said:The Messenger of Allah (ﷺ) said:" We (prophets) do not have any heirs; what we leave behind is (to be given in) charity." The household of the Messenger of Allah (ﷺ) will live on the income from these properties, but, by Allah, I will not change the charity of the Messenger of Allah (ﷺ) from the condition in which it was in his own time. I will do the same with it as the Messenger of Allah (may peace be upun him) himself used to do. So Abu Bakr refused to hand over anything from it to Fatima who got angry with Abu Bakr for this reason. She forsook him and did not talk to him until the end of her life. She lived for six months after the death of the Messenger of Allah (ﷺ). When she died, her husband. 'Ali b. Abu Talib, buried her at night. He did not inform Abu Bakr about her death and offered the funeral prayer over her himself. During the lifetime of Fatima, 'All received (special) regard from the people. After she had died, he felt estrangement in the faces of the people towards him. So he sought to make peace with Abu Bakr and offer his allegiance to him. He had not yet owed allegiance to him as Caliph during these months. He sent a person to Abu Bakr requesting him to visit him unaccompanied by anyone (disapproving the presence of Umar). 'Umar said to Abu Bakr: BY Allah, you will not visit them alone. Abu Bakr said: What will they do to me? By Allah, I will visit them. And he did pay them a visit alone. 'All recited Tashahhud (as it is done in the beginning of a religious sermon) ; then said: We recognise your moral excellence and what Allah has bestowed upon you. We do not envy the favour (i. e. the Catiphate) which Allah nas conferred upon you; but you have done it (assumed the position of Caliph) alone (without consulting us), and we thought we had a right (to be consulted) on account of our kinship with the Messenger of Allah (ﷺ). He continued to talk to Abu Bakr (in this vein) until the latter's eyes welled up with tears. Then Abd Bakr spoke and said: By Allah, in Whose Hand is my life, the kinship of the Messenger of Allah (ﷺ) is dearer to me than the kinship of my own people. As regards the dispute that has arisen between you and me about these properties, I have not deviated from the right course and I have not given up doing about them what the Messenger of Allah (ﷺ) used to do. So 'Ali said to Abu Bakr: This aftetnoon is (fixed) for (swearing) allegiance (to you). So when Abu Bakr had finished his Zuhr prayer, he ascended the pulpit and recited Tashahhud, and described the status of 'Ali, his delay in swearing allegiance and the excuse which lie had offered to him (for this delay). (After this) he asked for God's forgiveness. Then 'Ali b. Abu Talib recited the Tashahhud. extolled the merits of Abu Bakr and (said that) his action was nott prompted by any jealousy of Abu Bakr on his part or his refusal to accept the high position which Allah had conferred upon him, (adding: ) But we were of the opinion that we should have a share in the government, but the matter had been decided without taking us into confidence, and this displeased us. (Hence the delay in offering allegiance. The Muslims were pleased with this (explanation) and they said: You have done the right thing. The Muslims were (again) favourably inclined to 'Ali since he adopted the proper course of action
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس کسی کو بھیجا اپنا ترکہ مانگنے کو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان مالوں میں سے جو اﷲ تعالیٰ نے دئیے آپ کو مدینہ میں اور فدک میں اور جو کچھ بچتا تھا خیبر کے خمس میں سے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا اور جو ہم چھوڑ جاویں وہ صدقہ ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد اسی مال میں سے کھاوے گی اور میں تو قسم خدا کی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقہ کو کچھ بھی نہیں بدلوں گا اس حال سے جیسے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں تھا اور میں اس میں وہی کام کروں گا جو جناب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے۔ غرضیکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انکار کیا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کو کچھ دینے اور حضرت فاطمہ کو غصہ آیا انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملاقات چھوڑ دی اور بات نہ کی یہاں تک کہ وفات ہوئی ان کی ( نوویؒ نے کہا یہ ترک ملاقات وہ ترک نہیں جو شرع میں حرام ہے او روہ یہ ہے کہ ملاقات کے وقت سلام نہ کرے یا سلام کا جواب نہ دے ) اور وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صرف چھ مہینہ زندہ رہیں۔ ( بعضوں نے کہا آٹھ مہینے یا نو مہینے یا دو مہینے یا ستر دن ) بہرحال تین تاریخ رمضان مبارک ۱۱ھ مقدس کو انہوں نے انتقال فرمایا۔ جب ان کا انتقال ہوا ت وان کے خاوند حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ان کو رات کو دفن کیااور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خبر نہ کی ( اس سے معلوم ہوا کہ رات کو دفن کرنا بھی جائز ہے اور دن کو افضل ہے اگر کوئی عذر نہ ہو ) اور نماز پڑھی ان پر حضرت علی کرم اﷲ وجہہ نے اور جب تک حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہ زندہ تھیں تب تک لوگ حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کی طرف مائل تھے ( بوجہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کے ) ۔ جب وہ انتقال کرگئیں تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دیکھا لوگ میری طرف سے پھر گئے۔ انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے صلح کرلینا چاہا اور ان سے بیعت کرلینا مناسب سمجھا اور ابھی تک کئی مہینے گزرے تھے انہوں نے بیعت نہیں کی تھی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا او ریہ کہلا بھیجا کہ آپ اکیلے آئیے آپ کے ساتھ کوئی نہ آوے کیونکہ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا آنا ناپسند کرتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا قسم خدا کی تم اکیلے ان کے پاس نہ جاؤگے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا وہ میرے ساتھ کیا کریں گے قسم خدا کی میں تو اکیلا جاؤں گا۔ آخر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تشہد پڑھا ( جیسے خطبہ کے شروع میں پڑھتے ہیں ) پھر کہا ہم نے پہچانا اے ابوبکر رضی اللہ عنہ تمہاری فضیلت کو اور جو اﷲ نے تم کو دیا اور ہم رشک نہیں کرتے اس نعمت پر جو اﷲ نے تم کو دی ( یعنی خلافت او رحکومت ) لیکن تم نے اکیلے اکیلے یہ کام کرلیا اور ہم سمجھتے تھے کہ ہمارا بھی حق ہے اس میں کیونکہ ہم قرابت رکھتے تھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ پھر برابر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے باتیں کرتے رہے یہاں تک کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی آنکھیں بھر آئیں۔ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے گفتگو شروع کی تو کہا قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جناب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت کا لحاظ مجھ کو اپنی قرابت سے زیادہ ہے اور یہ جو مجھ میں اور تم میں ان باتوں کی بابت ( یعنی فدک اور نضیر او رخمس خیبر وغیرہ ) اختلاف ہوا تو میں نے حق کو نہیں چھوڑا او رمیں نے وہ کوئی کام نہیں چھوڑا جس کو میں نے دیکھا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے بلکہ اس کو میں نے کیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا اچھا آج سہ پہر کو ہم آپ سے بیعت کریں گے۔ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ظہر کی نماز سے فارغ ہوئے تو منبر پر چڑھے اور تشہد پڑھا او رحضرت علی رضی اللہ عنہ کا قصہ بیان کیا اور ان کے دیر کرنے کا بیعت سے اور جو عذر انہوں نے بیان کیا تھا وہ بھی کہا پھر دعا کی مغفرت کی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تشہد پڑھا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی فضیلت بیان کی اور یہ کہا کہ میرا دیر کرنا بیعت میں اس وجہ سے نہ تھا کہ مجھ کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر شک ہے یا ان کی بزرگی اور فضیلت کا مجھے انکار ہے بلکہ ہم یہ سمجھتے تھے کہ اس خلافت میں ہمارا بھی حصہ ہے اور حضرت ابوبکر نے اکیلے بعیر صلاح کے یہ کام کرلیا اس وجہ سے ہمارے دل کو یہ رنج ہوا۔ یہ سن کر مسلمان خوش ہوئے اور سب نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا تم نے ٹھیک کام کیا۔ اس روز سے مسلمان حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف مائل ہوگئے جب انہوں نے واجبی امر کو اختیار کیا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ فِيمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ إِلاَّ أَنْ يُؤْمَرَ بِمَعْصِيَةٍ فَإِنْ أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلاَ سَمْعَ وَلاَ طَاعَةَ " .
It has been narrated on the authority of Ibn 'Umar that the Prophet (ﷺ) said:It is obligatory upon a Muslim that he should listen (to the ruler appointed over him) and obey him whether he likes it or not, except that he is ordered to do a sinful thing. If he is ordered to do a sinful act, a Muslim should neither listen to him nor should he obey his orders
لیث نے عبیداللہ سے ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مسلمان شخص پر حاکم کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا واجب ہے ، وہ بات اس کو پسند ہو یا ناپسند ، سوائے اس کے کہ اسے گناہ کا حکم دیا جائے ، اگر اسے گناہ کا حکم دیا جائے تو اس میں سننا ( روا ) ہے نہ ماننا
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ، سَمِعَ الشَّعْبِيَّ، سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ مَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ سَعْدٌ وَأُتُوا بِلَحْمِ ضَبٍّ فَنَادَتِ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَاءِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كُلُوا فَإِنَّهُ حَلاَلٌ وَلَكِنَّهُ لَيْسَ مِنْ طَعَامِي " .
Ibn 'Umar reported that there were some persons with Allah's Apostle (ﷺ) from among his Companions, Sa'd being one of them. There was brought to them the flesh of the lizard when a lady amongst the wives of Allah's Apostle (ﷺ) said:It is the flesh of the lizard. Thereupon Allah's Messenger (way peace be upon him) said: Eat, for it is lawful, but it is not my diet
عبید اللہ کے والد معاذ نے کہا : ہمیں شعبہ نے تو بہ عنبری سے حدیث بیان کی ، انھوں نے شعبی سے سنا ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے کچھ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین تھے ۔ ان میں حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے ۔ اتنے میں سانڈے کا گو شت لا یا گیا : اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ نے یہ آواز دی کہ یہ سانڈے کا گوشت ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " کھاؤ ، بلا شبہ حلال ہے لیکن یہ میرے کھانے میں ( شامل ) نہیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ عَنْ مَنْصُورِ، بْنِ حَيَّانَ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ قُلْنَا لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبِرْنَا بِشَىْءٍ، أَسَرَّهُ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ مَا أَسَرَّ إِلَىَّ شَيْئًا كَتَمَهُ النَّاسَ وَلَكِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ " لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَيْهِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ الْمَنَارَ " .
Abu Tufail reported:We said to 'Ali b. Abi Talib: Inform us about something which Allah's Messenger (ﷺ) told you in secret, whereupon he said: He told me nothing in secret which he bid from people, but I heard him say: Allah cursed him who sacrificed for anyone besides Allah; and cursed him who accommodated an innovator; and Allah cursed him who cursed his parents and Allah cursed him who changed the boundary lines (of the land possessed by him)
ابوخالد احمر سلیمان بن حیان نے منصور بن حیان سے انھوں نے ابو طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی : کہا : ہم نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کی ، ہمیں کو ئی ایسی چیز بتا ئیے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے راز داری سے آپ کو بتا ئی ہو ۔ انھوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے راز داری سے کو ئی بات نہیں بتا ئی جو لوگوں سے چھپائی ہو البتہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرما تے ہو ئے سنا : " جس شخص نے غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا اس پر اللہ لعنت کرے ۔ اور اللہ اس پر لعنت کرے جس نے کسی بدعتی کو پناہ دی اور اللہ اس پر لعنت کرے ۔ جس نے اپنے والدین پر لعنت کی اور اللہ اس پر لعنت کرے کرے جس نے ( زمین کی حد بندی کا ) نشان تبدیل کیا ۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، - يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ - حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ، فَقَالَ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَبِيذَ الْجَرِّ . فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ أَلاَ تَسْمَعُ مَا يَقُولُ ابْنُ عُمَرَ قَالَ وَمَا يَقُولُ قُلْتُ قَالَ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَبِيذَ الْجَرِّ . فَقَالَ صَدَقَ ابْنُ عُمَرَ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَبِيذَ الْجَرِّ . فَقُلْتُ وَأَىُّ شَىْءٍ نَبِيذُ الْجَرِّ فَقَالَ كُلُّ شَىْءٍ يُصْنَعُ مِنَ الْمَدَرِ .
Sa'id b. Jubair reported:I asked Ibn 'Umar about (the preparation of) Nabidh in a green pitcher (besmeared with pitch), whereupon he said that Allah's Messenger (ﷺ) forbade the (preparation of) Nabidh in green pitcher (besmeared with pitch). I then came to Ibn Abbas and said: Do you hear what Ibn 'Umar has said? Thereupon he said: What does he say? I said: He stated that Allah's Messenger (ﷺ) has forbidden the (preparation of) Nabidh in a green pitcher (besmeared with pitch), whereupon he said: Ibn 'Umar has told the truth. Allah's Messenger (ﷺ) declared unlawful the preparation of Nabidh in a green pitcher (besmeared with pitch). I said: What is this thing, the Nabidh of a pitcher (Nabidh prepared in a pitcher)? Thereupon, he said: Everything that is prepared in earthen pitcher
یعلیٰ بن حکیم نے سعید بن جبیر سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے گھڑوں کی نبیذ کے متعلق سوال کیا ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑوں میں بنائی ہوئی نبیذ کوحرام قرار دیا ہے ۔ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا اور کہا : کہا آپ نے نہیں سنا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیا فرماتے ہیں؟انھوں نےکہا : وہ کیا کہتے ہیں؟میں نے کہا : وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑوں میں نبیذ بنانے کو حرام کر دیا ہے ۔ تو انھوں ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سچ کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑوں میں بنائی ہوئی نبیذ کو حرام کردیا ہے ۔ میں نے پوچھا : گھڑوں کی نبیذسے کیا مراد ہے؟انھوں نے کہا : ہر وہ برتن جو مٹی سے بنایا جائے ۔ ( اس میں بنائی گئی نبیذ)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ وِسَادَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الَّتِي يَتَّكِئُ عَلَيْهَا مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ .
A'isha reported that the pillow on which Allah's Messenger (ﷺ) reclined was of leather stuffed with palm fibre
عبد ہ بن سلیمان نے ہمیں ہشام بن عروہ سے حدیث سنائی ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تکیہ جس کے ساتھ آپ ٹیک لگا تے تھے چمڑے کا بنا ہوا تھا جس میں کھجور کی چھا ل بھری ہو ئی تھی ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ، زُهَيْرٌ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا اشْتَكَى مِنَّا إِنْسَانٌ مَسَحَهُ بِيَمِينِهِ ثُمَّ قَالَ " أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لاَ شِفَاءَ إِلاَّ شِفَاؤُكَ شِفَاءً لاَ يُغَادِرُ سَقَمًا " . فَلَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَثَقُلَ أَخَذْتُ بِيَدِهِ لأَصْنَعَ بِهِ نَحْوَ مَا كَانَ يَصْنَعُ فَانْتَزَعَ يَدَهُ مِنْ يَدِي ثُمَّ قَالَ " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَاجْعَلْنِي مَعَ الرَّفِيقِ الأَعْلَى " . قَالَتْ فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ فَإِذَا هُوَ قَدْ قَضَى .
A'isha reported:When any person amongst us fell ill, Allah's Messenger (may peace he upon him) used to rub him with his right band and then say: O Lord of the people, grant him health, heal him, for Thou art a Greet Healer. There is no healere, but with Thy healing Power one is healed and illness is removed. She further added: When Allah's Messenger (ﷺ) fell ill, and his illness took a serious turn I took hold of hie hand to that I should do with it what he ward to do with that (i. e. I would rub his body with his sacred hand). But he withdrew his hand from my hand and then said: O Allah, pardon me and make me join the companion. ship on She said. I was gazing at him constantly whereas he had passed away
جریر نے اعمش سے ، انھوں نے ابوضحیٰ سے ، انھوں نے مسروق سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : جب ہم میں سے کوئی شخص بیمار ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس ( کےمتاثرہ حصے ) پر اپنا دایاں ہاتھ پھیرتے ، پھر فرماتے : "" تکلیف کو دور کردے ، اے تمام انسانوں کے پالنے والے!شفا دے ، تو ہی شفا دینے والا ہے ، تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں ، ایسی شفا جو بیماری کو ( ذرہ برابر باقی ) نہیں چھوڑتی ۔ "" پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے اورآپ کے لیے اعضاء کو حرکت دینا مشکل ہوگیا تو میں نے آپ کا دست مبارک تھاماتاکہ جس طرح خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیاکرتے تھے ، میں بھی اسی طرح کروں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ سے چھڑا لیا ، پھر فرمایا : "" اے میرے اللہ!مجھے بخش دے اور مجھے رفیق اعلیٰ کی معیت عطا کردے ۔ "" انھوں نے کہا : پھر میں دیکھنے لگی تو آپ رحلت فرماچکے تھے ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ، كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ . بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَقُولُوا لِيَتَهَجَّدَ .
This hadith is reported from Hudaifa by another chain of transmitters. Whenever he (the Holy Prophet) got up in the night, they (the transmitters) have not mentioned the words:for offering Tahajjud prayer
منصور اور اعمش دونوں نے ابو وائل سے ، انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ جب رات کو اٹھتے ...... آگے سابقہ روایت کی طرح ہے لیکن انہوں نے ’’تہجد کے لیے ‘ ‘ کے الفاظ روایت نہیں کیے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ سَهِرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَقْدَمَهُ الْمَدِينَةَ لَيْلَةً فَقَالَ " لَيْتَ رَجُلاً صَالِحًا مِنْ أَصْحَابِي يَحْرُسُنِي اللَّيْلَةَ " . قَالَتْ فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ سَمِعْنَا خَشْخَشَةَ سِلاَحٍ فَقَالَ " مَنْ هَذَا " . قَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا جَاءَ بِكَ " . قَالَ وَقَعَ فِي نَفْسِي خَوْفٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجِئْتُ أَحْرُسُهُ . فَدَعَا لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ نَامَ . وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ رُمْحٍ فَقُلْنَا مَنْ هَذَا
A'isha reported that Allah's Messenger (may peace he upon him) laid down on bed during one night on his arrival at Medina and said:Were there a pious person from amongst my Companions who should keep a watch for me durin. the night? She (A'isha) reported: We were in this state that we heard the clanging noise of arms. lie (the Holy Prophet) said: Who is it? He said: This is Sa'd b. Abi Waqqas. Allah's Messenger (ﷺ) said to him: What brings you here? Thereupon he said: I harboured fear (lest any harm should come to) Allah's Messenger (ﷺ), so I came to serve as your sentinel. Allah's Messenger (ﷺ) invoked blessings upon him. He then slept. This hadith has been transmitted on the authority of Ibn Rumh with a slight variation of wording
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے لیث سے حدیث بیان کی ، انھوں نے یحییٰ بن سعید سے ، انھوں نے عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا : کہ ایک رات مدینہ کے راستے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ کھل گئی اور نیند اچاٹ ہو گئی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کاش میرے اصحاب میں سے کوئی نیک بخت رات بھر میری حفاظت کرے ۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اتنے میں ہمیں ہتھیاروں کی آواز معلوم ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کون ہے؟ آواز آئی کہ یا رسول اللہ! سعد بن ابی وقاص ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم کیوں آئے؟ وہ بولے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنے نفس میں ڈر ہوا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کرنے کو آیا ہوں ۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے دعا کی اور پھر سو رہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُصِيبُ الْمُؤْمِنَ شَوْكَةٌ فَمَا فَوْقَهَا إِلاَّ قَصَّ اللَّهُ بِهَا مِنْ خَطِيئَتِهِ " .
A'isha reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:A believer does not undergo (the trouble) of running a thorn or more than that when Allah effaces his sins
محمد بن بشر نے کہا : ہمیں ہشام نے اپنے والد ( عروہ ) سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک مومن کو جب بھی کوئی کانٹا چبھتا ہے یا اس سے بڑھ کر کوئی تکلیف ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے ۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزَاةٍ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ " وَالَّذِي تَدْعُونَهُ أَقْرَبُ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ عُنُقِ رَاحِلَةِ أَحَدِكُمْ " . وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِ ذِكْرُ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ .
Abu Musa, reported. We were along with Allah's Messenger (ﷺ) in an expedition. The rest of the hadith is the same (and there is an addi- tion of these words in that):" He (the Holy Prophet) said: He Whom you are sup- plicating is nearer to every one of you than the neck of his camel." And there is no mention of these words:" There is no might and no power but that of Allah
خالد حذاء نے ابوعثمان سے اور انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم ایک غزوے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، پھر اس حدیث کو بیان کیا اور اس میں کہا : ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) " تم جس کو پکار رہے ہو وہ تم میں سے کسی کی اونٹنی کی گردن کی نسبت بھی اس کے زیادہ قریب ہے ۔ " اور ان ( خالد حذاء ) کی حدیث میں " لا حول ولا قوة الا بالله " کا ذکر نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، قَالَ قَالَ رَجُلٌ لاِبْنِ عُمَرَ كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ فِي النَّجْوَى قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ " يُدْنَى الْمُؤْمِنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى يَضَعَ عَلَيْهِ كَنَفَهُ فَيُقَرِّرُهُ بِذُنُوبِهِ فَيَقُولُ هَلْ تَعْرِفُ فَيَقُولُ أَىْ رَبِّ أَعْرِفُ . قَالَ فَإِنِّي قَدْ سَتَرْتُهَا عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا وَإِنِّي أَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ . فَيُعْطَى صَحِيفَةَ حَسَنَاتِهِ وَأَمَّا الْكُفَّارُ وَالْمُنَافِقُونَ فَيُنَادَى بِهِمْ عَلَى رُءُوسِ الْخَلاَئِقِ هَؤُلاَءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى اللَّهِ " .
Safwan b. Muhriz reported that a person said to Ibn 'Umar:How did you hear Allah's Messenger (ﷺ) as saying something about intimate conversation? He said: I heard him say: A believer will be brought to his Lord, the Exalted and Glorious, on the Day of Resurrection and He would place upon him His veil (of Light) and make him confess his faults and say: Do you recognise (your faults)? He would say: My Lord, I do recognise (them). He (the Lord) would say: I concealed them for you in the world. And today I forgive them. And he would then be given the Book containing (the account of his) good deeds. And so far as the non-believers and hypocrites are concerned, there would be general announcement about them before all creation telling them that these (people, i. e. non-believers and hypocrites) told a lie about Allah
قتادہ نے صفوان بن محرز سے روایت کی کہ ایک شخص نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا : آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نجویٰ ( مومن سے اللہ کی سرگوشی ) کے متعلق کس طرح سنا تھا؟ انہوں نے کہا : میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " مومن کو قیامت کے دن اس کے رب عزوجل کے قریب کیا جائے گا ، حتی کہ اللہ تعالیٰ اس پر اپنا پردہ ڈال دے گا ( تاکہ کوئی اور اس کے راز پر مطلع نہ ہو ) ، پھر اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کرائے گا اور فرمائے گا : کیا تو ( ان سب گناہوں کو ) پہچانتا ہے؟ وہ کہے گا : میرے رب! میں ( ان سب گناہوں کو ) پہچانتا ہوں ۔ ( اللہ تعالیٰ ) فرمائے گا : میں نے دنیا میں تم پر ( رحم کرتے ہوئے ) ان گناہوں کو چھپا لیا تھا اور آج ( تم پر رحم کرتے ہوئے ) تمہارے لیے ان سب کو معاف کرتا ہوں ، پھر اسے ( محض ) اس کی نیکیوں کا صحیفہ پکڑا دیا جائے گا اور رہے کفار اور منافقین تو ساری مخلوقات کے سامنے بلند آواز سے انہیں کہا جائے گا : یہی ہیں جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا ۔
حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " يَبْعَثُ الشَّيْطَانُ سَرَايَاهُ فَيَفْتِنُونَ النَّاسَ فَأَعْظَمُهُمْ عِنْدَهُ مَنْزِلَةً أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً " .
Jabir reported that Allah's Apostle (may peace be upqn him) said:The Satan sends detachments of his own in order to put people to trial and the highest in rank, in his eyes, is one who is most notorious in sowing the seed of dissension
ابو زبیر نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " شیطان اپنے لشکروں کو بھیجتا ہے اور وہ لوگوں کو فتنوں میں ڈالتے ہیں اس کے نزدیک ان میں سے بڑے مرتبے والا وہ ہو تا ہے جو زیادہ بڑا فتنہ ڈالتا ہے ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ لُحَىِّ بْنِ قَمَعَةَ بْنِ خِنْدِفَ أَبَا بَنِي كَعْبٍ هَؤُلاَءِ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as say- ing:I saw 'Amr b. Luhayy b. Qam'a b. Khindif, brother of Bani Ka'b, dragging his Intestines in Fire
سہیل کے والد ( ابوصالح ) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے عروہ بن لحی بن قمعہ بن خندف ، ان بنو کعب والوں کے جذ اعلیٰ کو دیکھا ، وہ جہنم میں اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہا تھا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ بَيْتِ عَائِشَةَ فَقَالَ " رَأْسُ الْكُفْرِ مِنْ هَا هُنَا مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ " . يَعْنِي الْمَشْرِقَ .
Ibn Umar reported that Allah's Messenger (ﷺ) came out from the house of 'Aisha and said:It would be from this side that there would appear the height of unbelief, viz. where appear the horns of Satan, i.e. the east
عکرمہ بن عمار نے سالم سے اور انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر سے باہر تشریف لائے اور فرمایا : " کفر کاسر ادھر سے ظاہر ہوگا جہاں سے شیطان کا سینگ نمودار ہوتاہے ۔ " آپ کی مراد مشرق ( کی سمت ) سے تھی ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، ح وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ، عَنْ سَفِينَةَ، - قَالَ أَبُو بَكْرٍ - صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ وَيَتَطَهَّرُ بِالْمُدِّ . وَفِي حَدِيثِ ابْنِ حُجْرٍ أَوْ قَالَ وَيُطَهِّرُهُ الْمُدُّ . وَقَالَ وَقَدْ كَانَ كَبِرَ وَمَا كُنْتُ أَثِقُ بِحَدِيثِهِ .
Safina reported that Abu Bakr, the Companion of the Messenger of Allah (way peace be upon him), observed:The Messenger of Allah (ﷺ) took a bath with one Sa' of water and performed ablution with one Mudd (of water) ; and in the hadith narrated by Ibn Hujr the words are: One Mudd sufficed for his (Holy Prophet's) ablution. And Ibn Hujr said that (his Shaikh) Isma'il was much advanced in age, and it was because of this that he could not fully rely on him for this tradition
ابو بکر بن ابی شیبہ اورعلی بن حجر نے اسماعیل بن علیہ سے ، انہوں نے ابو ریحانہ سے ، انہوں نےحضرت سفینہؓ سے ( ابو بکر نےکہا : ) رسول اللہ ﷺ کے صحابی ( حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، انہوں نےکہا : رسول اللہ ﷺ ایک صاع پانی سے غسل فرماتے اور ایک مد پانی سے وضو فرمالیتے ۔ ( علی ) ابن حجر کی روایت میں ہے کہ یا ( ابو ریحانہ نے ایک مد سے وضو فرما لیتے تھے کے بجائے ) ’’ایک مدپانی سے آپ کا وضو ہو جاتاتھا ‘ ‘ کہا ۔ ابو ریحانہ نے کہا : سفینہ رضی اللہ عنہ عمر رسیدہ ہو گئے تھے ، اس لیے مجھے ان کی حدیث پر اعتماد و وثوق نہیں ہے ۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْمُلاَئِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَزَادَ وَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا غَيْرَهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Sufyan reported this hadith with the same chain of transmitters and he made this addition:" I did not hear anyone saying besides him that it was Allah's Messenger (ﷺ) who had said so
ملائی نے کہا : ہمیں سفیان نے اسی سند کے ساتھ حدیث کی ، اور مزید کہا : اور میں ( سلمہ بن کُہیل ) نے ( اس حدیث میں ) ان کے سواکسی کو ( صراحت سے ) یہ کہتے ہوئے نہیں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِهِمَا وَذَكَرَ فِي الْحَدِيثِ " ثُمَّ لْيَتَخَيَّرْ بَعْدُ مِنَ الْمَسْأَلَةِ مَا شَاءَ أَوْ مَا أَحَبَّ " .
This hadith has been narrated on the authority of Mansur with the same chain of transmitters and he made a mention of this:" Then he may choose any supplication which pleases him or which he likes
منصور کے ایک اور شاگرد زائدہ نے ان سے اسی سند کے ساتھ ان دونوں ( جریر اور شعبہ ) کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی ، لیکن آخری کلمات میں ماشاء ( جو چاہے ) کی جگہ ما أحب ( جو پسند کرے ) کے الفاظ کہے ۔