وَحَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى الْقَنْطَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ جَمِيعًا عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ مُخْتَصِرًا . وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Abu Huraira reported from the Messenger of Allah (ﷺ) that he forbade keeping one's hand on one's waist while praying, and in the narration of Abu Bakr (the words are):The Messenger of Allah (ﷺ) forbade to do so
حکم بن موسیٰ قنطری نے کہا : ہمیں عبداللہ بن مبارک نے حدیث سنائی ، نیز ابو بکر ابن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں ابو خالد اور ابو اسامہ نے حدیث سنائی ، ان سب نے ہشام سے ، انھوں نے محمد ( بن سیرین ) سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے س بات سے منع فرمایا کہ کوئی آدمی پہلو پر ہاتھ رکھے ہوئے نماز پڑھے ۔ امام مسلم کے استاد ابو بکر کی روایت میں ( نبی ﷺ کے بجائے ) ‘ ‘ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ’’ کے الفاظ ہیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، وَبِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ - الدَّرَاوَرْدِيُّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " ذَاقَ طَعْمَ الإِيمَانِ مَنْ رَضِيَ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولاً "
It is narrated on the authority of 'Abbas b. 'Abdul-Muttalib that he heard the Messenger of Allah saying:He has found the taste of faith (iman) who is content with Allah as his Lord, with Islam as his religion (code of life) and with Muhammad (ﷺ) as his Prophet
حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’اس شخص نے ایمان کا مزہ چکھ لیا جو اللہ کے رب ، اسلام کو دین اور محمدﷺ کے رسول ہونے پر ( دل سے ) راضی ہو گیا ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِذَا عَجِلَ عَلَيْهِ السَّفَرُ يُؤَخِّرُ الظُّهْرَ إِلَى أَوَّلِ وَقْتِ الْعَصْرِ فَيَجْمَعُ بَيْنَهُمَا وَيُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعِشَاءِ حِينَ يَغِيبُ الشَّفَقُ .
Anas reported that when the Messenger of Allah (ﷺ) had to set out on a journey hurriedly, he delayed the noon prayer to the earlier time for the afternoon prayer, and then he would combine them, and he would delay the sunset prayer to the time when the twilight would disappear and then combine it with the 'Isha' prayer
جابر بن اسماعیل نے بھی عقیل بن خالد سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب سفر میں جلدی ہوتی تو ظہر کو عصر کے اول وقت تک موخر کردیتے ، پھر دونوں کو جمع کرلیتے اور مغرب کو موخر کرتے اور عشاء کے ساتھ اکٹھا کرکے پڑھتے جب شفق غائب ہوجاتی ۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، كِلاَهُمَا عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى، - قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنِي عَبْدُ الأَعْلَى، وَهُوَ أَبُو هَمَّامٍ - حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ضِمَادًا، قَدِمَ مَكَّةَ وَكَانَ مِنْ أَزْدِ شَنُوءَةَ وَكَانَ يَرْقِي مِنْ هَذِهِ الرِّيحِ فَسَمِعَ سُفَهَاءَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ يَقُولُونَ إِنَّ مُحَمَّدًا مَجْنُونٌ . فَقَالَ لَوْ أَنِّي رَأَيْتُ هَذَا الرَّجُلَ لَعَلَّ اللَّهَ يَشْفِيهِ عَلَى يَدَىَّ - قَالَ - فَلَقِيَهُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي أَرْقِي مِنْ هَذِهِ الرِّيحِ وَإِنَّ اللَّهَ يَشْفِي عَلَى يَدِي مَنْ شَاءَ فَهَلْ لَكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلاَ مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلاَ هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ أَمَّا بَعْدُ " . قَالَ فَقَالَ أَعِدْ عَلَىَّ كَلِمَاتِكَ هَؤُلاَءِ . فَأَعَادَهُنَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَلاَثَ مَرَّاتٍ - قَالَ - فَقَالَ لَقَدْ سَمِعْتُ قَوْلَ الْكَهَنَةِ وَقَوْلَ السَّحَرَةِ وَقَوْلَ الشُّعَرَاءِ فَمَا سَمِعْتُ مِثْلَ كَلِمَاتِكَ هَؤُلاَءِ وَلَقَدْ بَلَغْنَ نَاعُوسَ الْبَحْرِ - قَالَ - فَقَالَ هَاتِ يَدَكَ أُبَايِعْكَ عَلَى الإِسْلاَمِ - قَالَ - فَبَايَعَهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَعَلَى قَوْمِكَ " . قَالَ وَعَلَى قَوْمِي - قَالَ - فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَرِيَّةً فَمَرُّوا بِقَوْمِهِ فَقَالَ صَاحِبُ السَّرِيَّةِ لِلْجَيْشِ هَلْ أَصَبْتُمْ مِنْ هَؤُلاَءِ شَيْئًا فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ أَصَبْتُ مِنْهُمْ مِطْهَرَةً . فَقَالَ رُدُّوهَا فَإِنَّ هَؤُلاَءِ قَوْمُ ضِمَادٍ .
Ibn 'Abbas reported:Dimad came to Mecca and he belonged to the tribe of Azd Shanu'a, and he used to protect the person who was under the influence of charm. He heard the foolish people of Mecca say that Muhammad (ﷺ) was under the spell. Upon this he said: If 1 were to come across this man, Allah might cure him at my hand. He met him and said: Muhammad, I can protect (one) who is under the influence of charm, and Allah cures one whom He so desires at my hand. Do you desire (this)? Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) said: Praise is due to Allah, we praise Him, ask His help; and he whom Allah guides aright there is none to lead him astray, and he who is led astray there is none to guide him, and I bear testimony to the fact that there is no god but Allah, He is One, having no partner with Him, and that Muhammad is His Servant and Messenger. Now after this he (Dimad) said: Repeat these words of yours before me, and the messenger of Allah (ﷺ) repeated these to him thrice; and he said I have heard the words of soothsayers and the words of magicians, and the words of poets, but I have never heard such words as yours, and they reach the depth (of the ocean of eloquence) ; bring forth your hand so that I should take oath of fealty to you on Islam. So he took an oath of allegiance to him. The Messenger of Allah (ﷺ) said: It (this allegiance of yours) is on behalf of your people too. He said: It is on behalf of my people too. The Messenger of Allah (ﷺ) sent an expedition and the flying column passed by his people. The leader of the flying column said to the detachment: Did you find anything from these people? One of the people said: I found a utensil for water. Upon this he (the commander) said: Return it, for he is one of the people of Dimad
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ضمادمکہ آیا ، وہ ( قبیلہ ) از دشنوء سے تھا اور آسیب کا دم کیا کرتا تھا ( جسے لوگ ریح کہتے تھے ، یعنی ایسی ہوا جو نظرنہیں آتی ، اثر کرتی ہے ) اس نے مکہ کے بے وقوفوں کو یہ کہتے سنا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو جنون ہوگیا ہے ( نعوذ باللہ ) اس نے کہا : اگر میں اس آدمی کو دیکھ لوں تو شاید اللہ تعالیٰ اسے میرے ہاتھوں شفا بخش دے ۔ کہا : وہ آپ سے ملا اور کہنے لگا : اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !میں اس نظر نہ آنے والی بیماری ( ریح ) کو زائل کرنے کے لئے دم کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے میرے ہاتھوں شفا بخشتا ہے تو آپ کیا چاہتے ہیں ( کہ میں دم کروں؟ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( جواب میں ) کہا : " ان الحمد لله نحمده ونستعينه من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له واشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له وان محمدا عبده ورسوله اما بعد " یقیناً تمام حمد اللہ کے لیے ہے ، ہم اسی کی حمد کرتے ہیں اور اسی سے مدد مانگتے ہیں ، جس کو اللہ سیدھی راہ پرچلائے ، اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا اور جسے وہ گمراہ چھوڑ دے ، اسے کوئی راہ راست پر نہیں لاسکتا اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سواکوئی سچا معبود نہیں ، وہی اکیلا ( معبود ) ہے ، ا س کا کوئی شریک نہیں اور بلاشبہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کا بندہ اور اس کا رسول ہے ، اس کے بعد! " کہا : وہ بول اٹھا : اپنے یہ کلمات مجھے دوبارہ سنائیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہ کلمات اس کے سامنے دہرائے ۔ اس پر اس نے کہا : میں نے کاہنوں ، جادوگروں اور شاعروں ( سب ) کے قول سنے ہیں ، میں نے آپ کے ان کلمات جیسا کوئی کلمہ ( کبھی ) نہیں سنا ، یہ تو بحر ( بلاغت ) کہ تہ تک پہنچ گئے ہیں اور کہنے لگا : ہاتھ بڑھایئے!میں آپ کے ساتھ اسلام پر بیعت کرتا ہوں ۔ کہا : تو اس نے آپ کی بیعت کرلی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اور تیری ( طرف سے تیری ) قوم ( کے اسلام ) پر بھی ( تیری بیعت لیتاہوں ) " اس نے کہا : اپنی قوم ( کے اسلام ) پر بھی ( بیعت کرتاہوں ) اس کے بعد آپ نے ایک سریہ ( چھوٹا لشکر ) بھیجا ، وہ ان کی قوم کے پاس سے گزرے تو امیر لشکر نے لشکر سے پوچھا : کیا تم نے ان لوگوں سے کوئی چیز لی ہے؟تو لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا : میں نے ان سے ایک لوٹا لیا ہے اس نے کہا : اسے واپس کردو کیونکہ یہ ( کوئی اور نہیں بلکہ ) ضماد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قوم ہے ۔
وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أُدْرِجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حُلَّةٍ يَمَنِيَّةٍ كَانَتْ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ثُمَّ نُزِعَتْ عَنْهُ وَكُفِّنَ فِي ثَلاَثَةِ أَثْوَابٍ سُحُولٍ يَمَانِيَةٍ لَيْسَ فِيهَا عِمَامَةٌ وَلاَ قَمِيصٌ فَرَفَعَ عَبْدُ اللَّهِ الْحُلَّةَ فَقَالَ أُكَفَّنُ فِيهَا . ثُمَّ قَالَ لَمْ يُكَفَّنْ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأُكَفَّنُ فِيهَا . فَتَصَدَّقَ بِهَا
A'isha reported that the Messenger of Allah (ﷺ) was wrapped in a Yamani wrapper which belonged to 'Abdullah b Abu Bakr; then it was removed from him, and he was shrouded in three cotton sheets of white Yamani stuff from Sahul among which was neither a shirt nor a turban. 'Abdullah took up the Hullah and said:I would be shrouded in it, but then said: How is it that I should be shrouded in it in which the Messenger of Allah (ﷺ) was not shrouded! So he gave it in charity
علی بن مسہر نے کہا : ہمیں ہشام بن عروہ نے اپنے والد ( عروہ ) سے حدیث سنا ئی انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عبد اللہ بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایک یمنی حلے میں لپیٹا ( کفن دیا ) گیا پھر اس کو اتاردیا گیا اور آپ کو سحول کے تین سفید یمنی کپڑوں میں کفن دیا گیا جن میں نہ قمیص تھی اور نہ عمامہ ۔ عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ حلہ اٹھا لیا اور کہا : مجھے اس میں کفن دیا جا ئے گا پھر کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں کفن نہیں دیا گیا تو مجھے اس میں کفن دیا جا ئے گا !چنانچہ انھوں نے اس کو صدقہ کردیا ۔
وَحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ح وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، جَمِيعًا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ .
This hadith has been narrated by Ibn 'Urwa with the same chain of transmitters
علی بن مسہر اور معمر ( راشد ) دونوں نے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ ہشام بن عروہ سے اسی کے مانند ر وایت کی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، - رضى الله عنه - قَالَ تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الصَّلاَةِ . قُلْتُ كَمْ كَانَ قَدْرُ مَا بَيْنَهُمَا قَالَ خَمْسِينَ آيَةً .
Zaid b. Thabit (Allah be pleased with him) said:We took meal shortly before dawn along with the Messenger of Allah (ﷺ). We then stood up for prayer. I said: How much span of time was there between the two (acts, i. e. taking of Sahri and observing of prayer)? He said (a span of reciting) fifty verses
ہشام ، قتادہ ، انس ، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی پھر نماز کےلئے کھڑے ہوئے میں نے عرض کیا کہ سحری کھانے اور نماز کے درمیان کتنا وقفہ تھا آپ نے فرمایا پچاس آیات کے برابر ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - قَالَ أَهْدَى الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِمَارَ وَحْشٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَرَدَّهُ عَلَيْهِ وَقَالَ " لَوْلاَ أَنَّا مُحْرِمُونَ لَقَبِلْنَاهُ مِنْكَ " .
Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) reported that al-Sa'b b. Jaththama presented to the Messenger of Allah (ﷺ) a wild ass as he was in a state of Ihram, and he returned it to him saying:If we were not in a state of Ihram, we would have accepted it from you
اعمش نے حبیب بن ابی ثابت سے انھوں نے سعید بن جبیر سے انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا صعب بن جثامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیتاً زبیراپیش کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم احرا م میں تھے سو آپ نے اسے لو ٹا دیا اور فر ما یا : اگر ہم احرا م کی حالت میں نہ ہو تے تو ہم اسے تمھا ری طرف سے ( ضرور ) قبول کرتے ۔
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَبِعِ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ وَلاَ يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ إِلاَّ أَنْ يَأْذَنَ لَهُ " .
Ibn Umar (Allah be pleased with them) reported Allah's Apostle (ﷺ) as having said this:A person should not enter into a transaction when his brother (had already entered into but not finalised), and he should not make proposal of marriage upon the proposal already made by his brother, until he permits it
یحییٰ نے ہمیں عبیداللہ سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے خبر دی ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی آدمی اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے اور نہ اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر پیغام بھیجے الا یہ کہ وہ اسے اجازت دے
حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا حَفْصٌ، - يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ - عَنْ عَبْدِ، الْوَاحِدِ بْنِ أَيْمَنَ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، ذَكَرَ أَنَّصلى الله عليه وسلم تَزَوَّجَهَا وَذَكَرَ أَشْيَاءَ هَذَا فِيهِ قَالَ " إِنْ شِئْتِ أَنْ أُسَبِّعَ لَكِ وَأُسَبِّعَ لِنِسَائِي وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ سَبَّعْتُ لِنِسَائِي " .
Umm Salama (Allah be pleased with her) reported that Allah's Messenger (ﷺ) married her, and he (the narrator) made mention of so many things in this connection (and one of them was this) that he said:If you desire that I spend a week with you, I shall have to spend a week with my (other) wives, and if spend a week with you, I shall have to spend a week with my (other) wives
عبدالواحد بن ایمن نے ابوبکر بن عبدالرحمٰن سے ، انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں ( عبدالواحد ) نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( ام سلمہ رضی اللہ عنہا ) سے شادی کی ، اور بہت سی باتوں کا ذکر کیا ، ان میں یہ بات بھی تھی : آپ نے فرمایا : " اگر تم چاہو کہ میں تمہارے ہاں سات سات دن قیام کروں ( تو ہو سکتا ہے ) اور اگر میں نے تمہارے ہاں سات دن قیام کیا تو اپنی ساری بیویوں کے ہاں سات سات دن قیام کروں گا
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ كُنْتُ مَعَ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ الأَعْظَمِ وَمَعَنَا الشَّعْبِيُّ فَحَدَّثَ الشَّعْبِيُّ بِحَدِيثِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَجْعَلْ لَهَا سُكْنَى وَلاَ نَفَقَةً ثُمَّ أَخَذَ الأَسْوَدُ كَفًّا مِنْ حَصًى فَحَصَبَهُ بِهِ . فَقَالَ وَيْلَكَ تُحَدِّثُ بِمِثْلِ هَذَا قَالَ عُمَرُ لاَ نَتْرُكُ كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّنَا صلى الله عليه وسلم لِقَوْلِ امْرَأَةٍ لاَ نَدْرِي لَعَلَّهَا حَفِظَتْ أَوْ نَسِيَتْ لَهَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { لاَ تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلاَ يَخْرُجْنَ إِلاَّ أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ} .
Abu Ishaq reported:I was with al-Aswad b. Yazid sitting in the great mosque, and there was with us al-Sha'bi, and he narrated the narration of Fatima bint Qais (Allah be pleased with her) that Allah's Messenger (ﷺ) did not make any provision for lodging and maintenance allowance for her. Al-Aswad caught hold of some pebbles in his fist and he threw them towards him saying: Woe be to thee, you narrate like it, whereas Umar said: We cannot abandon the Book of Allah and the Sunnah of our Apostle (ﷺ) for the words of a woman. We do not know whether she remembers that or she forgets. For her, there is a provision of lodging and maintenance allowance. Allah, the Exalted and Majestic, said:" Turn them not from their houses nor should they themselves go forth unless they commit an open indecency" (lxv)
ابواحمد نے ہمیں خبر دی ، ( کہا : ) عمار بن رزیق نے ہمیں ابواسحاق سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں اسود بن یزید ( نخعی ) کے ساتھ ( کوفہ کی ) بڑی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا ، شعبی بھی ہمارے ساتھ تھے ، تو شعبی نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رہائش اور خرچ ( کا حق ) نہیں دیا ۔ پھر اسود نے مٹھی بھر کنکریاں لیں اور انہیں دے ماریں اور کہا : تم پر افسوس! تم اس طرح کی حدیث بیان کر رہے ہو؟ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا : ہم ایک عورت کے قول کی وجہ سے اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کو نہیں چھوڑ سکتے ، ہم نہیں جانتے کہ اس نے ( اس مسئلے کو ) یاد رکھا ہے یا بھول گئی ، اس کے لیے رہائش اور خرچ ہے ۔ ( اور یہ آیت تلاوت کی ) اللہ عزوجل نے فرمایا : " تم انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو ، اور نہ وہ خود نکلیں ، مگر یہ کہ وہ کوئی کھلی بے حیائی کریں
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ، يُحَدِّثُ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِهِ . قَالَ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ وُلِدَ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ فِي جَوْفِ الْكَعْبَةِ وَعَاشَ مِائَةً وَعِشْرِينَ سَنَةً .
A hadith like this has been transmitted on the authority of Hakim b. Hizam (Imam Muslim) said:Hakim b. Hizam was born inside the Ka'ba and lived for one hundred and twenty years
ابوتیاح سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے عبداللہ بن حارث سے سنا ، وہ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔ امام مسلم بن حجاج رحمۃ اللہ علیہ نے کہا : حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے 120 سال زندگی پائی
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلاَبِ إِلاَّ كَلْبَ صَيْدٍ أَوْ كَلْبَ غَنَمٍ أَوْ مَاشِيَةٍ . فَقِيلَ لاِبْنِ عُمَرَ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ أَوْ كَلْبَ زَرْعٍ . فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ إِنَّ لأَبِي هُرَيْرَةَ زَرْعًا
Ibn Umar (Allah be pleased with them) reported that Allah's Messenger (may peace be, upon him) ordered the killing of dogs except the dog tamed for hunting, or watching of the herd of sheep or other domestic animals. It was said to Ibn Umar (Allah be pleased with them) that Abu Huraira (Allah be pleased with him) talks of (exception) about the dog for watching the field, whereupon he said:Since Abu Huraira (Allah be pleased with him) possessed land
عمرو بن دینار نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شکاری کتے ، بکریوں یا مویشیوں ( کی حفاظت ) کے کتے کے سوا ( باقی ) تمام کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : یا کھیت کی حفاظت کرنے والے کتے کے ۔ تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : بے شبہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا کھیت بھی ہے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ، نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي نُعْمٍ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ قَذَفَ مَمْلُوكَهُ بِالزِّنَا يُقَامُ عَلَيْهِ الْحَدُّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ كَمَا قَالَ " .
Abu Huraira reported that Abu'l-Qasim (one of the names of Allah's Messenger [may peace be upon him]) said:He who accused his slave of adultery, punishment would be imposed upon him on the Day of Resurrection, except in case the accusation was as he had said
عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں فضیل بن غزوان نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے عبدالرحمان بن ابی نعم سے سنا ( کہا : ) مجھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے اپنے غلام پر زنا کی تہمت لگائی اسے قیامت کے دن حد لگائی جائے گی ، الا یہ کہ وہ ( غلام ) ویسا ہو جیسا اس نے کہا ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ
This hadith has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters
یحییٰ بن سعید نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ مَالِكَ بْنَ أَوْسٍ، حَدَّثَهُ قَالَ أَرْسَلَ إِلَىَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَجِئْتُهُ حِينَ تَعَالَى النَّهَارُ - قَالَ - فَوَجَدْتُهُ فِي بَيْتِهِ جَالِسًا عَلَى سَرِيرٍ مُفْضِيًا إِلَى رِمَالِهِ مُتَّكِئًا عَلَى وِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ . فَقَالَ لِي يَا مَالُ إِنَّهُ قَدْ دَفَّ أَهْلُ أَبْيَاتٍ مِنْ قَوْمِكَ وَقَدْ أَمَرْتُ فِيهِمْ بِرَضْخٍ فَخُذْهُ فَاقْسِمْهُ بَيْنَهُمْ - قَالَ - قُلْتُ لَوْ أَمَرْتَ بِهَذَا غَيْرِي قَالَ خُذْهُ يَا مَالُ . قَالَ فَجَاءَ يَرْفَا فَقَالَ هَلْ لَكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فِي عُثْمَانَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَالزُّبَيْرِ وَسَعْدٍ فَقَالَ عُمَرُ نَعَمْ . فَأَذِنَ لَهُمْ فَدَخَلُوا ثُمَّ جَاءَ . فَقَالَ هَلْ لَكَ فِي عَبَّاسٍ وَعَلِيٍّ قَالَ نَعَمْ . فَأَذِنَ لَهُمَا فَقَالَ عَبَّاسٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ هَذَا الْكَاذِبِ الآثِمِ الْغَادِرِ الْخَائِنِ . فَقَالَ الْقَوْمُ أَجَلْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَاقْضِ بَيْنَهُمْ وَأَرِحْهُمْ . فَقَالَ مَالِكُ بْنُ أَوْسٍ يُخَيَّلُ إِلَىَّ أَنَّهُمْ قَدْ كَانُوا قَدَّمُوهُمْ لِذَلِكَ - فَقَالَ عُمَرُ اتَّئِدَا أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالأَرْضُ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ " . قَالُوا نَعَمْ . ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الْعَبَّاسِ وَعَلِيٍّ فَقَالَ أَنْشُدُكُمَا بِاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالأَرْضُ أَتَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَاهُ صَدَقَةٌ " . قَالاَ نَعَمْ . فَقَالَ عُمَرُ إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَزَّ كَانَ خَصَّ رَسُولَهُ صلى الله عليه وسلم بِخَاصَّةٍ لَمْ يُخَصِّصْ بِهَا أَحَدًا غَيْرَهُ قَالَ { مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ} مَا أَدْرِي هَلْ قَرَأَ الآيَةَ الَّتِي قَبْلَهَا أَمْ لاَ . قَالَ فَقَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَكُمْ أَمْوَالَ بَنِي النَّضِيرِ فَوَاللَّهِ مَا اسْتَأْثَرَ عَلَيْكُمْ وَلاَ أَخَذَهَا دُونَكُمْ حَتَّى بَقِيَ هَذَا الْمَالُ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْخُذُ مِنْهُ نَفَقَةَ سَنَةٍ ثُمَّ يَجْعَلُ مَا بَقِيَ أُسْوَةَ الْمَالِ . ثُمَّ قَالَ أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالأَرْضُ أَتَعْلَمُونَ ذَلِكَ قَالُوا نَعَمْ . ثُمَّ نَشَدَ عَبَّاسًا وَعَلِيًّا بِمِثْلِ مَا نَشَدَ بِهِ الْقَوْمَ أَتَعْلَمَانِ ذَلِكَ قَالاَ نَعَمْ . قَالَ فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجِئْتُمَا تَطْلُبُ مِيرَاثَكَ مِنَ ابْنِ أَخِيكَ وَيَطْلُبُ هَذَا مِيرَاثَ امْرَأَتِهِ مِنْ أَبِيهَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ " . فَرَأَيْتُمَاهُ كَاذِبًا آثِمًا غَادِرًا خَائِنًا وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّهُ لَصَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ ثُمَّ تُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ وَأَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَوَلِيُّ أَبِي بَكْرٍ فَرَأَيْتُمَانِي كَاذِبًا آثِمًا غَادِرًا خَائِنًا وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنِّي لَصَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ فَوَلِيتُهَا ثُمَّ جِئْتَنِي أَنْتَ وَهَذَا وَأَنْتُمَا جَمِيعٌ وَأَمْرُكُمَا وَاحِدٌ فَقُلْتُمَا ادْفَعْهَا إِلَيْنَا فَقُلْتُ إِنْ شِئْتُمْ دَفَعْتُهَا إِلَيْكُمَا عَلَى أَنَّ عَلَيْكُمَا عَهْدَ اللَّهِ أَنْ تَعْمَلاَ فِيهَا بِالَّذِي كَانَ يَعْمَلُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخَذْتُمَاهَا بِذَلِكَ قَالَ أَكَذَلِكَ قَالاَ نَعَمْ . قَالَ ثُمَّ جِئْتُمَانِي لأَقْضِيَ بَيْنَكُمَا وَلاَ وَاللَّهِ لاَ أَقْضِي بَيْنَكُمَا بِغَيْرِ ذَلِكَ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ فَإِنْ عَجَزْتُمَا عَنْهَا فَرُدَّاهَا إِلَىَّ .
It is reported by Zuhri that this tradition was narrated to him by Malik b. Aus who said:Umar b. al-Khattab sent for me and I came to him when the day had advanced. I found him in his house sitting on his bare bed-stead, reclining on a leather pillow. He said (to me): Malik, some people of your tribe have hastened to me (with a request for help). I have ordered a little money for them. Take it and distribute it among them. I said: I wish you had ordered somebody else to do this job. He said: Malik, take it (and do what you have been told). At this moment (his man-servant) Yarfa' came in and said: Commander of the Faithful, what do you say about Uthman, Abd al-Rabman b. 'Auf, Zubair and Sa'd (who have come to seek an audience with you)? He said: Yes, and permitted them. so they entered. Then he (Yarfa') came again and said: What do you say about 'Ali and Abbas (who are present at the door)? He said: Yes, and permitted them to enter. Abbas said: Commander of the Faithful, decide (the dispute) between me and this sinful, treacherous, dishonest liar. The people (who were present) also said: Yes. Commander of the Faithful, do decide (the dispute) and have mercy on them. Malik b. Aus said: I could well imagine that they had sent them in advance for this purpose (by 'Ali and Abbas). 'Umar said: Wait and be patient. I adjure you by Allah by Whose order the heavens and the earth are sustained, don't you know that the Messenger of Allah (ﷺ) said:" We (prophets) do not have any heirs; what we leave behind is (to be given in) charity"? They said: Yes. Then he turned to Abbas and 'Ali and said: I adjure you both by Allah by Whose order the heavens and earth are sustained, don't you know that the Messenger of Allah (ﷺ) said:" We do not have any heirs; what we leave behind is (to be given in) charity"? They (too) said: Yes. (Then) Umar said: Allah, the Glorious and Exalted, had done to His Messenger (ﷺ) a special favour that He has not done to anyone else except him. He quoted the Qur'anic verse:" What Allah has bestowed upon His Apostle from (the properties) of the people of township is for Allah and His Messenger". The narrator said: I do not know whether he also recited the previous verse or not. Umar continued: The Messenger of Allah (ﷺ) distrbuted among you the properties abandoned by Banu Nadir. By Allah, he never preferred himself over you and never appropriated anything to your exclusion. (After a fair distribution in this way) this property was left over. The Messenger of Allah (ﷺ) would meet from its income his annual expenditure, and what remained would be deposited in the Bait-ul-Mal. (Continuing further) he said: I adjure you by Allah by Whose order the heavens and the earth are sustained. Do you know this? They said: Yes. Then he adjured Abbas and 'All as he had adjured the other persons and asked: Do you both know this? They said: Yes. He said: When the Messenger of Allah (ﷺ) passed away, Abu Bakr said:" I am the successor of the Messenger of Allah (ﷺ)." Both of you came to demand your shares from the property (left behind by the Messenger of Allah). (Referring to Hadrat 'Abbas), he said: You demanded your share from the property of your nephew, and he (referring to 'Ali) demanded a share on behalf of his wife from the property of her father. Abu Bakr (Allah be pleased with him) said: The Messenger of Allah (ﷺ) had said:" We do not have any heirs; what we leave behind is (to be given in) charity." So both of you thought him to be a liar, sinful, treacherous and dishonest. And Allah knows that he was true, virtuous, well-guided and a follower of truth. When Abu Bakr passed away and (I have become) the successor of the Messenger of Allah (ﷺ) and Abu Bakr (Allah be pleased with him), you thought me to be a liar, sinful, treacherous and dishonest. And Allah knows that I am true, virtuous, well-guided and a follower of truth. I became the guardian of this property. Then you as well as he came to me. Both of you have come and your purpose is identical. You said: Entrust the property to us. I said: If you wish that I should entrust it to you, it will be on the condition that both of you will undertake to abide by a pledge made with Allah that you will use it in the same way as the Messenger of Allah (ﷺ) used it. So both of you got it. He said: Wasn't it like this? They said: Yes. He said: Then you have (again) come to me with the request that I should adjudge between you. No, by Allah. I will not give any other judgment except this until the arrival of the Doomsday. If you are unable to hold the property on this condition, return it to me
امام مالک نے زہری سے روایت کی کہ انہیں مالک بن اوس نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے میری طرف قاصد بھیجا ، دن چڑھ چکا تھا کہ میں ان کے پاس پہنچا ۔ کہا : میں نے ان کو ان کے گھر میں اپنی چارپائی پر بیٹھے ہوئے پایا ، انہوں نے اپنا جسم کھجور سے بنے ہوئے بان کے ساتھ لگایا ہوا تھا اور چمڑے کے تکیے سے ٹیک لگائی ہوئی تھی ، تو انہوں نے مجھ سے کہا : اے مال ( مالک ) ! تمہاری قوم میں سے کچھ خاندان لپکتے ہوئے آئے تھے تو میں نے ان کے لیے تھوڑا سا عطیہ دینے کا حکم دیا ہے ، اسے لو اور ان میں تقسیم کر دو ۔ کہا : میں نے کہا : اگر آپ میرے سوا کسی اور کو اس کا حکم دے دیں ( تو کیسا رہے؟ ) انہوں نے کہا : اے مال! تم لے لو ۔ کہا : ( اتنے میں ان کے مولیٰ ) یرفا ان کے پاس آئے اور کہنے لگے : امیر المومنین! کیا آپ کو عثمان ، عبدالرحمان بن عوف ، زبیر اور سعد رضی اللہ عنہم ( کے ساتھ ملنے ) میں دلچسپی ہے؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔ تو اس نے ان کو اجازت دی ۔ وہ اندر آ گئے ، وہ پھر آیا اور کہنے لگا : کیا آپ کو عباس اور علی رضی اللہ عنہما ( کے ساتھ ملنے ) میں دلچسپی ہے؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔ تو اس نے ان دونوں کو بھی اجازت دے دی ۔ تو عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : امیر المومنین! میرے اور اس جھوٹے ، گناہ گار ، عہد شکن اور خائن کے درمیان فیصلہ کر دیں ۔ کہا : اس پر ان لوگوں نے کہا : ہاں ، امیر المومنین! ان کے درمیان فیصلہ کر کے ان کو ( جھگڑے کے عذاب سے ) راحت دلا دیں ۔ ۔ مالک بن اوس نے کہا : میرا خیال ہے کہ انہوں نے ان لوگوں کو اسی غرض سے اپنے آگے بھیجا تھا ۔ ۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : تم دونوں رکو ، میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے حکم سے آسمان اور زمین قائم ہیں! کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : " ہمارا کوئی وارث نہیں بنے گا ، ہم جو چھوڑیں گے وہ صدقہ ہو گا " ؟ ان سب نے کہا : ہاں ۔ پھر وہ حضرت عباس اور علی رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا : میں تم دونوں کو اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے حکم سے آسمان اور زمین قائم ہیں! کیا تم دونوں جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : " تمہارا کوئی وارث نہیں ہو گا ، ہم جو کچھ چھوڑیں گے ، صدقہ ہو گا " ؟ ان دونوں نے کہا : ہاں ۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خاص چیز عطا کی تھی جو اس نے آپ کے علاوہ کسی کے لیے مخصوص نہیں کی تھی ، اس نے فرمایا ہے : " جو کچھ بھی اللہ نے ان بستیوں والوں کی طرف سے اپنے رسول پر لوٹایا وہ اللہ کا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے " ۔ ۔ مجھے پتہ نہیں کہ انہوں نے اس سے پہلے والی آیت بھی پڑھی یا نہیں ۔ ۔ انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنونضیر کے اموال تم سب میں تقسیم کر دیے ، اللہ کی قسم! آپ نے ( اپنی ذات کو ) تم پر ترجیح نہیں دی اور نہ تمہیں چھوڑ کر وہ مال لیا ، حتی کہ یہ مال باقی بچ گیا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے اپنے سال بھر کا خرچ لیتے ، پھر جو باقی بچ جاتا اسے ( بیت المال کے ) مال کے مطابق ( عام لوگوں کے فائدے کے لیے ) استعمال کرتے ۔ انہوں نے پھر کہا : میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے حکم سے آسمان اور زمین قائم ہیں! کیا تم یہ بات جانتے ہو؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔ پھر انہوں نے عباس اور علی رضی اللہ عنہ کو وہی قسم دی جو باقی لوگوں کو دی تھی ( اور کہا ) : کیا تم دونوں یہ بات جانتے ہو؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ۔ پھر کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جانشیں ہوں تو آپ دونوں آئے ، آپ اپنے بھتیجے کی وراثت مانگ رہے تھے اور یہ اپنی بیوی کی ان کے والد کی طرف سے وراثت مانگ رہے تھے ۔ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : " ہمارا کوئی وارث نہیں ہو گا ، ہم جو چھوڑیں گے ، صدقہ ہے ۔ " تو تم نے انہیں جھوٹا ، گناہ گار ، عہد شکن اور خائن خیال کیا تھا اور اللہ جانتا ہے وہ سچے ، نیکوکار ، راست رَو اور حق کے پیروکار تھے ۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ فوت ہوئے اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا جانشیں بنا تو تم نے مجھے جھوٹا ، گناہ گار ، عہد شکن اور خائن خیال کیا اور اللہ جانتا ہے کہ میں سچا ، نیکوکار ، راست رَو اور حق کی پیروی کرنے والا ہوں ، میں اس کا منتظم بنا ، پھر تم اور یہ میرے پاس آئے ، تم دونوں اکٹھے ہو اور تمہارا معاملہ بھی ایک ہے ۔ تم نے کہا : یہ ( اموال ) ہمارے سپرد کر دو ۔ میں نے کہا : اگر تم چاہو تو میں اس شرط پر یہ تم دونوں کے حوالے کر دیتا ہوں کہ تم دونوں پر اللہ کے عہد کی پاسداری لازمی ہو گی ، تم بھی اس میں وہی کرو گے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے تو تم نے اس شرط پر اسے لے لیا ۔ انہوں نے پوچھا : کیا ایسا ہی ہے؟ ان دونوں نے جواب دیا ۔ ہاں ۔ انہوں نے کہا : پھر تم ( اب ) دونوں میرے پاس آئے ہو کہ میں تم دونوں کے درمیان فیصلہ کروں ۔ نہیں ، اللہ کی قسم! میں قیامت کے قائم ہونے تک تمہارے درمیان اس کے سوا اور فیصلہ نہیں کروں گا ۔ اگر تم اس کے انتظام سے عاجز ہو تو وہ مال مجھے واپس کر دو
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ عَبْدًا حَبَشِيًّا مُجَدَّعًا .
In other versions of the above tradition, the wordings are" an Abyssinian slave." and" a maimed Abyssinian slave
وکیع بن جراح نے ہمیں شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور کہا : " کٹے ہوئے اعضاء والا حبشی غلام ہو
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ عَنْ أَكْلِ الضَّبِّ فَقَالَ " لاَ آكُلُهُ وَلاَ أُحَرِّمُهُ " .
Ibn 'Umar reported that a person asked Allah's Messenger (ﷺ) as he was sitting on the pulpit about the eating of the lizard, whereupon he said:I neither eat it, nor do I prohibit it
عبد اللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں عبید اللہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تھے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سانڈا کھا نے کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرما یا : " میں اس کو کھاتا ہو ں نہ حرا م کرتاہوں ۔
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عَمَّارٍ اللَّيْثِيُّ، قَالَ كُنَّا فِي الْحَمَّامِ قُبَيْلَ الأَضْحَى فَاطَّلَى فِيهِ نَاسٌ فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْحَمَّامِ إِنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَكْرَهُ هَذَا أَوْ يَنْهَى عَنْهُ فَلَقِيتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي هَذَا حَدِيثٌ قَدْ نُسِيَ وَتُرِكَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَى حَدِيثِ مُعَاذٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو .
Amr b. Muslim b. 'Ammar al-Laithi reported:While we were in a bathroom just before 'Id al-Adha some of the persons tried to remove the hair with the help of hair-removing chemicals. Thereupon some of the people owning the bath (or some of the people sitting therein) said that Sa'id b. Musayyib did not approve of it, or he prohibited it. Then I met Sa'id b. Musayyib and made a mention of that to him, whereupon he said: O my nephew, this is the hadith which has been forgotten, and abandoned. Umm Salama, the wife of Allah's Apostle (ﷺ), narrated to me Allah's Messenger (ﷺ) having said as narrated above
ابواسامہ نے کہا : مجھے محمد بن عمرو نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عمرو بن مسلم بن عمارہ لیثی نے حدیث بیان کی ، کہا : عیدالاضحیٰ سے کچھ پہلے حمام میں تھے ، بعض لوگوں نے چونے سے اپنے بال صاف کیے ، اہل حمام میں سے کسی شخص نے کہا : سعید بن مسیب اس فعل ( عیدالاضحیٰ کی نماز پڑھنے اور قربانی کرنے سے پہلے جسم پر سے بال وغیرہ کاٹنے یا مونڈنے ) کو مکروہ قرار دیتے ہیں یا اس سے منع کرتے ہیں ۔ میری سعید بن مسیب سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے اس بات کا ذکر کیا ۔ انھوں نے کہا : بھتیجے!یہ حدیث بھلا دی گئی اور ترک کردی گئی ہے ۔ ، ( یہ پابندی ملحوظ نہیں رکھی جاتی ویسے ) مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ۔ ۔ آگے محمد بن عمر و سے معاذ کی حدیث کےہم معنی حدیث بیان کی ۔
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ يُنْتَبَذَ . فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
This hadith has been reported on the authority of Qatada with the same chain of transmitters that Allah's Apostle (ﷺ) forbade (the preparation of) Nabidh, the rest of the hadith is the same
ہشام نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ان برتنوں میں ) نبیذ بنانے سے منع فرمایا ۔ ۔ ۔ اسی ( سابقہ روایت ) کے مانند بیان کیا ۔
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، قَالَ ابْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ أَخْرَجَتْ إِلَيْنَا عَائِشَةُ إِزَارًا وَكِسَاءً مُلَبَّدًا فَقَالَتْ فِي هَذَا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ فِي حَدِيثِهِ إِزَارًا غَلِيظًا .
Abu Burda reported that A'isha brought out for us the lower garment and the upper garment made of the Mulabbada cloth and said:It was in these (clothes) that Allah's Messenger (ﷺ) died. Ibn Hatim (one of the narrators) in his narration Wd: The lower garment of coarse cloth
علی بن حجر سعدی محمد بن حاتم اور یعقوب بن ابرا ہیم نے ( اسماعیل ) ابن علیہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ایوب سے ، انھوں نے حمید بن ہلال سے ، انھوں نے ابو بردہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ہمیں ایک تہبنداور ایک پیوند لگی ہو ئی مو ٹی چا در نکا ل کر دکھا اور فرما یا : " انھی دوکپڑوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو ئی تھی ۔ ابن حاتم نے اپنی حدیث میں کہا : مو ٹا تہبند ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَوْ أَنَّ رَجُلاً اطَّلَعَ عَلَيْكَ بِغَيْرِ إِذْنٍ فَخَذَفْتَهُ بِحَصَاةٍ فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ مَا كَانَ عَلَيْكَ مِنْ جُنَاحٍ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:If a person were to cast a glance in your (house) without permission, and you had in your hand a staff and you would have thrust that in his eyes, there is no harm for you
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اگر کو ئی شخص اجازت کے بغیر تمھا رے ہاں جھا نکے اور تم کنکری مارکر اس کی آنکھ پھوڑدو تو تم پر کو ئی گناہ نہیں ہے ( کو ئی سزایا جرمانہ نہیں ۔)
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ سُحِرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . وَسَاقَ أَبُو كُرَيْبٍ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ وَقَالَ فِيهِ فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْبِئْرِ فَنَظَرَ إِلَيْهَا وَعَلَيْهَا نَخْلٌ . وَقَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَخْرِجْهُ . وَلَمْ يَقُلْ أَفَلاَ أَحْرَقْتَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ " فَأَمَرْتُ بِهَا فَدُفِنَتْ " .
A'isha reported that Allah's Messenger (ﷺ) was affected with a spell, the rest of the hadith is the same but with this variation of wording:" Allah's Messenger (ﷺ) went to the well and looked towards it and there were trees of date-palm near it. I ('A'isha) said: I asked Allah'& Messenger (ﷺ) to bring it out, and 1 did not say: Why did not you burn it?" And there is no mention of these words:" I commanded (to bury them and they buried)
ابو کریب نے کہا : ہمیں ابو اسامہ نے حدیث بیان کی ، کہا ، ہمیں ہشام نے اپنے والد سے حدیث بیا ن کی ، انھوں نےحضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا ۔ اسکے بعد ابو کریب نے واقعے کی تفصیلات سمیت ابن نمیر کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور اس میں کہا : پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کنویں کی طرف تشریف لئے گئے ، اسے دیکھا ، اس کنویں پر کھجور کے درخت تھے ( جنھیں کسی زمانے میں کنویں کے پانی سےسیراب کیاجاتا ہوگا ) انھوں ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے کہا : میں نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اسے نکالیں ( اور جلادیں ) ابو کریب نے : " آپ نے اسے جلا کیوں نہ دیا؟ " کے الفاظ نہیں کہے اور یہ الفاظ ( بھی ) بیان نہیں کیے؛ " میں نے اس کے بار ے میں حکم دیا تو اس کو پاٹ دیاگیا ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ بَدَأَ بِالسِّوَاكِ .
A'isha reported:Whenever Allah's Messenger (ﷺ) entered his house, he used tooth-stick first of all
سفیان نے مقدام بن شریح سے باقی ماندہ سابقہ سند سے حضرت عائشہ ؓؓؓؓؓؓؓؓؓؓؓؓؓؓسے روایت کی کہ نبی ﷺجب اپنے گھر تشریف لاتے تو مسواک سے آغاز فرماتے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ، - يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ - عَنْ سَعِيدٍ، - وَهُوَ ابْنُ مَسْرُوقٍ - عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ دَخَلْنَا عَلَيْهِ فَقُلْنَا لَهُ لَقَدْ رَأَيْتَ خَيْرًا . لَقَدْ صَاحَبْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَصَلَّيْتَ خَلْفَهُ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي حَيَّانَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " أَلاَ وَإِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ ثَقَلَيْنِ أَحَدُهُمَا كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ هُوَ حَبْلُ اللَّهِ مَنِ اتَّبَعَهُ كَانَ عَلَى الْهُدَى وَمَنْ تَرَكَهُ كَانَ عَلَى ضَلاَلَةٍ " . وَفِيهِ فَقُلْنَا مَنْ أَهْلُ بَيْتِهِ نِسَاؤُهُ قَالَ لاَ وَايْمُ اللَّهِ إِنَّ الْمَرْأَةَ تَكُونُ مَعَ الرَّجُلِ الْعَصْرَ مِنَ الدَّهْرِ ثُمَّ يُطَلِّقُهَا فَتَرْجِعُ إِلَى أَبِيهَا وَقَوْمِهَا أَهْلُ بَيْتِهِ أَصْلُهُ وَعَصَبَتُهُ الَّذِينَ حُرِمُوا الصَّدَقَةَ بَعْدَهُ .
Yazid b. Hayyan reported:We went to him (Zaid b. Arqam) and said to him. You have found goodness (for you had the honour) to live in the company of Allah's Messenger (ﷺ) and offered prayer behind him, and the rest of the hadith is the same but with this variation of wording that lie said: Behold, for I am leaving amongst you two weighty things, one of which is the Book of Allah, the Exalted and Glorious, and that is the rope of Allah. He who holds it fast would be on right guidance and he who abandons it would be in error, and in this (hadith) these words are also found: We said: Who are amongst the members of the household? Aren't the wives (of the Holy Prophet) included amongst the members of his house hold? Thereupon he said: No, by Allah, a woman lives with a man (as his wife) for a certain period; he then divorces her and she goes back to her parents and to her people; the members of his household include his ownself and his kith and kin (who are related to him by blood) and for him the acceptance of Zakat is prohibited
سعید بن مسروق نے یزید بن حیان سے ، انھوں نے زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم ان ( زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے پاس آئے اور اُن سے عرض کی : آپ نے بہت خیر دیکھی ہے ۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نمازیں پڑھیں ہیں ، اور پھر ابو حیان کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی ، مگرانھوں نے ( اس طرح ) کہا : ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) " دیکھو ، میں تمھارے درمیان دو عظیم چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ۔ ایک اللہ کی کتاب ہے وہ اللہ کی رسی ہے جس نے ( اسے تھام کر ) اس کا اتباع کیا وہ سیدھی راہ پر رہے گا اور جو اسے چھوڑ دے گا وہ گمراہی پر ہوگا ۔ " اور اس میں یہ بھی ہے کہ ہم نے ان سے پوچھا : آپ کے اہل بیت کون ہیں؟ ( صرف ) آپ کی ازواج؟انھوں نے کہا : نہیں ، اللہ کی قسم!عورت اپنے مرد کے ساتھ زمانے کا بڑا حصہ رہتی ہے ، پھر وہ اسے طلاق دے دیتا ہے تو وہ اپنے باپ اور اپنی قوم کی طرف واپس چلی جاتی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کے اہل بیت وہ ( بھی ) ہیں جو آپ کے خاندان سے ہیں ، آپ کے وہ ددھیال رشتہ دار جن پر صدقہ حرام ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، وَيَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ، كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ، بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ . نَحْوَ حَدِيثِهِ وَزَادَ فِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ قَالَ " نَعَمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا عَلَى الأَرْضِ مُسْلِمٌ " .
This hadith has been transmitted on the authority of jarir and the hadith transmitted on the authority of Abu Mu'awiya there is an addition of these words:He said: Yes, by Him in Whose Hand is my life, there is no Muslim upon the earth." The rest of the hadith is the same
ابومعاویہ ، سفیان ، عیسیٰ بن یونس اور یحییٰ بن عبدالملک بن ابی غنیہ سب نے اعمش سے جریر کی سند کے ساتھ ، اسی کی حدیث کے مانند روایت کی اور ابومعاویہ کی حدیث میں مزید ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہاں ، مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! روئے زمین پر کوئی مسلمان نہیں ۔ ۔ ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُمْ يَصْعَدُونَ فِي ثَنِيَّةٍ - قَالَ - فَجَعَلَ رَجُلٌ كُلَّمَا عَلاَ ثَنِيَّةً نَادَى لاَ إِلَهَ إِلاَ اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ - قَالَ - فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّكُمْ لاَ تُنَادُونَ أَصَمَّ وَلاَ غَائِبًا " . قَالَ فَقَالَ " يَا أَبَا مُوسَى - أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ - أَلاَ أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ " . قُلْتُ مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ " .
Abu Musa reported that he (and his other companions) were climbing upon the hillock along with Allah's Messenger (ﷺ) and when any person climbed up, he pronounced (loudly):" There is no god but Allah, Allah is the Greatest." Thereupon Allah's Apostle (ﷺ) said: Verily, you are not supplicating One Who is deaf or absent. He said: Abu Musa or Abdullah b Qais, should I not direct you to the words (which form) the treasure of Paradise? I said: Allah's Messenger, what are these? He said:" There is no might and no power but that of Allah
یزید بن زُریع نے کہا : ہمیں ( سلیمان ) تیمی نے ابوعثمان سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ لوگ ( صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور وہ ایک گھاٹی پر چڑھ رہے تھے ، کہا : ایک آدمی جب بھی اونچائی پر چڑھتا زور سے پکارنا شروع کر دیتا : " لا اله الا لله والله اكبر " ( ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ) کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم لوگ کسی بہرے کو یا اسے جو غائب ہو ، نہیں پکار رہے ۔ " کہا : پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ابوموسیٰ! یا ( فرمایا : ) عبداللہ بن قیس! کیا تمہیں ایسا کلمہ نہ بتاؤں جو جنت کے خزانے میں سے ہے؟ " میں نے عرض کی ، اللہ کے رسول! وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " لا حول ولا قوة الا بالله " ( گناہوں سے بچنے کی ) کوئی کوشش اور ( نیکی کرنے کی ) کوئی قوت اللہ کے سوا کسی سے حاصل نہیں ہوتی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، أَنَّ عَوْنًا، وَسَعِيدَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ، حَدَّثَاهُ أَنَّهُمَا، شَهِدَا أَبَا بُرْدَةَ يُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَمُوتُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ إِلاَّ أَدْخَلَ اللَّهُ مَكَانَهُ النَّارَ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا " . قَالَ فَاسْتَحْلَفَهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِاللَّهِ الَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَحَلَفَ لَهُ - قَالَ - فَلَمْ يُحَدِّثْنِي سَعِيدٌ أَنَّهُ اسْتَحْلَفَهُ وَلَمْ يُنْكِرْ عَلَى عَوْنٍ قَوْلَهُ .
Abu Burda reported on the authority of his father that Allah's Apostle (ﷺ) said:No Muslim would die but Allah would admit in his stead a Jew or a Christian in Hell-Fire. 'Umar b. Abd al-'Aziz took an oath: By One besides Whom there is no god but He, thrice that his father had narrated that to him from Allah's Messenger (ﷺ)
عفان بن مسلم نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ہمام نے قتادہ سے حدیث بیان کی کہ عون ( بن عبداللہ ) اور سعید بن ابی بردہ نے انہیں حدیث بیان کی ، وہ دونوں ابو بردہ کے سامنے موجود تھے جب وہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کو اپنے والد سے حدیث بیان کر رہے تھے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " جو مسلمان بھی فوت ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی جگہ پر ایک یہودی یا ایک نصرانی کو دوزخ میں داخل کر دیتا ہے ۔ " کہا : عمر بن عبدالعزیز نے حضرت ابوبُردہ کو تین بار اس اللہ کی قسم دی جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں کہواقعی ان کے والد نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کی تھی ۔ انہوں نے ان ( عمر بن عبدالعزیز ) کے سامنے قسم کھائی ۔ ( قتادہ نے ) کہا : سعید نے مجھ سے یہ بیان نہیں کیا کہ انہوں نے ان سے قسم لی اور نہ انہوں نے عون کی ( بتائی ہوئی ) بات پر کوئی اعتراض کیا ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ .
This hadith has been narrated on the authority of A'mash with the same chain of transmitters
وکیع اور ابو معاویہ دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ الْخُزَاعِيَّ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعَّفٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لأَبَرَّهُ أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ كُلُّ جَوَّاظٍ زَنِيمٍ مُتَكَبِّرٍ " .
Haritha b. Wahb al-KhuzaIi reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:May I not inform you about the inmates of Paradise? (And then informing about them) said: Every meek person who is considered to be humble and if they were to adjure in the name of Allah, Allah would certainly fulfil it. May I not inform you about the inmates of Hell-Fire? They are all proud, mean and haughty
سفیان نے ہمیں معبد بن خالد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا میں تمھیں اہل جنت کی خبر نہ دوں؟ہر کمزور جسے کمزور اور لاچار سمجھا جاتا ہے ۔ ( لیکن ایساکہ ) اگر اللہ پر ( اعتماد کرتے ہوئے ) قسم کھالے تو وہ اسے پوری کردے ۔ کیا میں تمھیں اہل جہنم کے بارے میں خبر نہ دوں؟ہر مال سمیٹنے والا اور اسے خرچ نہ کرنے والا ، بد اصل ، متکبر ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ مُسْتَقْبِلُ الْمَشْرِقِ يَقُولُ " أَلاَ إِنَّ الْفِتْنَةَ هَا هُنَا أَلاَ إِنَّ الْفِتْنَةَ هَا هُنَا مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ " .
Ibn 'Umar reported that he heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying (in a state) that he had turned his face towards the east:Behold, turmoil would appear from this side, from where the horns of Satan would appear
لیث نے ہمیں نافع سے خبر دی ، انھوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سناجبکہ آپ مشرق کارخ کیے ہوئے فرمارہے تھے : " سنو! فتنہ یہاں ہوکا ، سنو!یہاں ہوکا جہاں سے شیطان کا سینگ نمودار ہوتاہے ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، - يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ - قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَغْتَسِلُ بِخَمْسِ مَكَاكِيكَ وَيَتَوَضَّأُ بِمَكُّوكٍ . وَقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى بِخَمْسِ مَكَاكِيَّ . وَقَالَ ابْنُ مُعَاذٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنَ جَبْرٍ .
Anas reported that the Messenger of Allah (may peace he upon him) took a bath with five Makkuks of water and performed ablution with one Makkuk. Ibn Muthanna has used the words five Makakiyya, and Ibn Mu'adh narrated it from 'Abdullah b. 'Abdullah and he made no mention of Ibn Jabr
عبید اللہ بن معاذ نے بیان کی کہ ان کے والد نے انہیں حدیث سنائی اور ابن مثنی نے عبد الرحمان ، یعنی ابن مہدی سے حدیث بیان کی ، ان دونوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے عبد اللہ بن عبداللہ بن جبر سے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسو ل اللہ ﷺ پانچ مکوک سے غسل فرماتے اورایک مکوک سے وضو فرماتے ۔ ( ایک مکوک سوا صاع کے برابر ہوتا ہے ۔ ) ابن مثنی نے مکاییک کی جگہ مکاکی ( تخفیف کے ساتھ وہی ) لفظ بولا ۔ عبید اللہ بن معاذ نے عبد اللہ بن عبد اللہ کہا اور ابن جبر کا ذکر نہیں کیا ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنَا أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ مَنْ عَمِلَ عَمَلاً أَشْرَكَ فِيهِ مَعِي غَيْرِي تَرَكْتُهُ وَشِرْكَهُ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as stating that Allah the Most High and Exalted said:I am the One, One Who does not stand in need of a partner. If anyone does anything in which he associates anyone else with Me, I shall abandon him with one whom he associates with Allah
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ شریک بنائے جانے والوں میں سب سے زیادہ میں شراکت سے مستغنی ہوں ۔ جس شخص نے بھی کوئی عمل کیا اور اس میں میرے ساتھ کسی اور کوشریک کیا تو میں اسے اس کے شرک کے ساتھ اکیلاچھوڑدیتا ہوں ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، وَمَوْلًى، لَهُمْ أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ عَنْ أَبِيهِ، وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ دَخَلَ فِي الصَّلاَةِ كَبَّرَ - وَصَفَ هَمَّامٌ حِيَالَ أُذُنَيْهِ - ثُمَّ الْتَحَفَ بِثَوْبِهِ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ أَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنَ الثَّوْبِ ثُمَّ رَفَعَهُمَا ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ فَلَمَّا قَالَ " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " . رَفَعَ يَدَيْهِ فَلَمَّا سَجَدَ سَجَدَ بَيْنَ كَفَّيْهِ .
Wa'il b. Hujr reported:He saw the Messenger of Allah (ﷺ) raising his hands at the time of beginning the prayer and reciting takbir, and according to Hammam (the narrator), the hands were lifted opposite to ears. He (the Holy Prophet) then wrapped his hands in his cloth and placed his right hand over his left hand. And when he was about to bow down, he brought out his hands from the cloth, and then lifted them, and then recited takbir and bowed down, and when (he came back to the erect position) he recited:" Allah listened to him who praised Him." And when he prostrated, he prostrated between his two palms
ہمام نے کہا : ہمیں محمد بن جحادہ نے حدیث سنائی ، کہا : مجھے عبد الجبار بن وائل نے حدیث سنائی ، انہوں نے علقمہ بن وائل اور ان کے آزادہ کردہ غلام سے روایت کی کہ ان دونوں نے ان کے والد حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے نبیﷺ کو دیکھا ، آپ نے نماز میں جاتے وقت اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے ، تکبیر کہی ( ہمام نے بیان کیا : کانوں کے برابر بلند کیے ) پھر اپنا کپڑا اوڑھ لیا ( دونوں ہاتھ کپڑے کے اندر لے گئے ) ، پھر اپنا دایاں ہاتھ بائیں پر رکھا ، پھر جب رکوع کرنا چاہا تو اپنے دونوں ہاتھ کپڑے سے نکالے ، پھر انہیں بلند کیا ، پھر تکبیر کہی اور رکوع کیا ، پھر جب سمع الله لمن حمده کہا تو اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے ، پھر جب سجدہ کیا تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان سجدہ کیا ۔