بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
33 hadith
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيُّ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، أَنَّ رِجَالاً، أَتَوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ ح قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ أَتَوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ فَسَأَلُوهُ مِنْ أَىِّ شَىْءٍ مِنْبَرُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَسَاقُوا الْحَدِيثَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي حَازِمٍ ‏.‏
Abu Hazim reported:They (the people) came to Sahl b. Sa'd and they asked him of what thing the pulpit of the Messenger of Allah (ﷺ) was made, and the rest of the hadith is the same
یعقوب بن عبدالرحمن بن محمد بن عبداللہ بن عبد ، قار ی قرشی نے کہا : مجھے ابو حازم نے حدیث سنائی کہ کچھ لوگ حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے ، نیز سفیان بن عیینہ نے ابو حازم سے حدیث سنائی کہ لوگ سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور ان سے پوچھا : نبی اکرم ﷺ کا منبر کس ( لکڑی ) سے ( بنا ہوا ) ہے ....... ( آگے ) ابن ابی حازم کی روایت کی حدیث کی طرح ہے ۔
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عِتْبَانُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّهُ عَمِيَ فَأَرْسَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ تَعَالَ فَخُطَّ لِي مَسْجِدًا ‏.‏ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَجَاءَ قَوْمُهُ وَنُعِتَ رَجُلٌ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُمِ ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ‏.‏
It is narrated on the authority of Anas that 'Itban b. Malik told him that he became blind. He sent a message to the Messenger of Allah (ﷺ) that he should come and mark a place of worship for him. Thereupon came the Messenger of Allah (ﷺ) and his people and then there was a discussion among them about a man who was known as Malik b. Dukhshum, and subsequently the narrator described the hadith of Sulaiman b. Mughira as stated above
حماد نے کہا : ہمیں ثابت نےحضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : مجھے عتبان بن مالک نے بتایا کہ وہ نابینا ہو گئے تھے ، اس وجہ سے انہوں نےرسول اللہ ﷺ کی طرف پیغام بھیجا کہ آپ تشریف لائیں اور میرے لیے مسجد کی اکی جگہ متعین کر دیں ( تاکہ میں اس میں نماز پڑھ سکوں ) تو رسو ل اللہ ﷺ تشریف لائے اور ان ( عتبان ) کی قوم کےلوگ بھی آگئے ، ان میں سے ایک آدمی ، جسے مالک بن دخیشم کہا جاتا تھا ، غائب رہا.... اس کے بعد حماد نے بھی ( ثابت کے دوسرے شاگرد ) سلیمان بن مغیرہ کی طرح روایت بیان کی ۔
وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ الْمَدَايِنِيُّ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَرَادَ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ فِي السَّفَرِ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَدْخُلَ أَوَّلُ وَقْتِ الْعَصْرِ ثُمَّ يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا ‏.‏
Anas reported:When the Messenger of Allah (ﷺ) intended to combine two prayers on a journey, he delayed the noon prayer till came the early time of the afternoon prayer, and then combined the two
لیس بن سعد نے عقیل بن خالد سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں جب دو نمازوں کو جمع کرنا چاہتے توظہر کو موخر کرتے حتیٰ کہ عصر کا اول وقت ہوجاتا ، پھر آپ دونوں نمازوں کو جمع کرتے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ النَّاسَ يَحْمَدُ اللَّهَ وَيُثْنِي عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلاَ مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلاَ هَادِيَ لَهُ وَخَيْرُ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ الثَّقَفِيِّ ‏.‏
Jabir reported that the Messenger of Allah (ﷺ), while delivering the sermon' to the people, praised Allah, and lauded Him for what He deserves, and would then say:He whom Allah guides aright, there is none to mislead him, and he who is led astray, there is none to guide him (aright), and the best of the talk is embodied in the Book of Allah. And the rest of the hadith is the same
سفیان نے جعفر سے انھوں نے اپنے والد ( محمد باقر ) سے اور انھوں نے حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لو گوں کو ( اس طرح ) خطبہ دیتے پہلے اللہ کی شان کے مطابق اس کی حمد و ثنا ء بیان کرتے پھر فر ما تے ۔ " جسے اللہ سیدھی راہ پر چلا ئے اسے کو ئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ سیدھی راہ سے ہٹا دے اسے کو ئی ہدایت نہیں دے سکتا اور بہترین بات ( حدیث ) اللہ کی کتاب ہے ۔ ۔ ۔ " آگے ( عبد الوہاب بن عبد المجید ) ثقفی کی حدیث ( 2005 ) کے ما نند ہے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، - عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي ثَلاَثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سَحُولِيَّةٍ مِنْ كُرْسُفٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلاَ عِمَامَةٌ أَمَّا الْحُلَّةُ فَإِنَّمَا شُبِّهَ عَلَى النَّاسِ فِيهَا أَنَّهَا اشْتُرِيَتْ لَهُ لِيُكَفَّنَ فِيهَا فَتُرِكَتِ الْحُلَّةُ وَكُفِّنَ فِي ثَلاَثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سَحُولِيَّةٍ فَأَخَذَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ لأَحْبِسَنَّهَا حَتَّى أُكَفِّنَ فِيهَا نَفْسِي ثُمَّ قَالَ لَوْ رَضِيَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِيِّهِ لَكَفَّنَهُ فِيهَا ‏.‏ فَبَاعَهَا وَتَصَدَّقَ بِثَمَنِهَا ‏.‏
A'isha reported that the Messenger of Allah (ﷺ) was shrouded in three cotton garments of white Yamani stuff from Sahul, among which was neither a shirt nor a turban; and so far as Hullah is concerned there was some doubt about it in the minds of people, that it was brought for him in order to shroud him with it, but it was abandoned, and he was shrouded in three cotton garments of white Yamani stuff from Sahul. Then 'Abdullah b. Abu Bakr got it and said:I would keep it in order to shroud myself in it. He then said: If Allah, the Exalted and Majestic, would have desired it for His Apostle, he would have been shrouded with it. So he sold it and gave its price in charity
ابو معاویہ نے ہشام بن عروہ سے انھوں نے اپنے والد ( عروہ ) سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سحول ( یمن ) سے لا ئے جا نے والے تین سفید سوتی کپڑوں میں کفن دیا گیا ان میں نہ قمیص تھی اور نہ عمامہ البتہ حُلے ( ہم رنگ چادروں پر مشتمل جوڑے ) کے حوالے سے لو گ اشتباہ میں پڑگئے بلا شبہ وہ آپ کے لیے خرید ا گیا تھا تا کہ آپ کو اس میں کفن دیا جا ئے ۔ پھر اس حلے کو چھوڑ دیا گیا اور آپ کو سحول کے تین سفید کپڑوں میں کفن دیا گیا اور اس ( حلے ) کو عبد اللہ بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لے لیا اور کہا : میں اس کو ( اپنے پاس ) محفوظ رکھوں گا یہاں تک کہ اس میں خود اپنے کفن کا انتظام کروں گا بعد میں کہا : اگر اسکو اللہ تعا لیٰ اپنے نبی کے لیے پسند فر ماتا تو آپ کو اس میں کفن ( دینے کا بندوبست کر ) دیتا اس لیے انھوں نے اسے فروخت کردیا اور اس کی قیمت صدقہ کر دی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لِي أَجْرٌ فِي بَنِي أَبِي سَلَمَةَ أُنْفِقُ عَلَيْهِمْ وَلَسْتُ بِتَارِكَتِهِمْ هَكَذَا وَهَكَذَا إِنَّمَا هُمْ بَنِيَّ ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ نَعَمْ لَكِ فِيهِمْ أَجْرُ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ ‏"‏ ‏.‏
Umm Salama said:I asked the Messenger of Allah (ﷺ) whether there is a reward for me if I spend on Abu Salama's sons, and I am not going to abandon them in this state (of helplessness) for they are my sons. He (the Holy Prophet) said: Yes. For you is the reward for what you spend on them
ابواسامہ نے کہا : ہمیں ہشام بن عروہ نے اپنے و الد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اور انھوں نے ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !کیا ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد پر خرچ کرنے میں میرے لئے اجر ہے؟میں ان پر خرچ کر تی ہوں ، میں انھیں ایسے ، ایسے چھوڑنے والی نہیں ہوں ، وہ میرے بچے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہاں ، تمھارے لئے ان میں ، جو تم ان پر خرچ کروگی ، اجر ہے ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ جَمِيعًا عَنْ وَكِيعٍ، ح وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، كِلاَهُمَا عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَىٍّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ .‏
Musa b. 'Ali has narrated this hadith through the same chain of transmitters
وکیع اور وہب دونون نے موسیٰ بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسی طرح ر وایت نقل کی گئی ہے ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ أَهْدَيْتُ لَهُ مِنْ لَحْمِ حِمَارِ وَحْشٍ ‏.‏
It is narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters (the narrator having) said this:" I presented to him the flesh of a wild ass
سفیان بن عیینہ نے زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا : میں نے آپ کو زیبرے کا گو شت ہدیتاً پیش کیا ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ وَلاَ يَخْطُبْ بَعْضُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ بَعْضٍ ‏"‏ ‏.‏
Ibn Umar (Allah be pleased with them) reported Allah's Apostle (ﷺ) as having said this:None amongst you should outbid another in a transaction, nor should he make proposals of marriage upon the proposal made by someone else
لیث نے ہمیں نافع سے خبر دی ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کوئی شخص کسی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے اور نہ تم میں سے کوئی کسی ( اور ) کے پیغامِ نکاح پر نکاح کا پیغام بھیجے
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو ضَمْرَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.‏
A hadith like this has been narrated on the authority of Ibn Humaid
ابوضمرہ نے عبدالرحمٰن بن حمید سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ، رُزَيْقٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلاَثًا فَأَرَدْتُ النُّقْلَةَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ انْتَقِلِي إِلَى بَيْتِ ابْنِ عَمِّكِ عَمْرِو بْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَاعْتَدِّي عِنْدَهُ ‏"‏ ‏.‏
Fatima bint Qais (Allah be pleased with her) reported:My husband divorced me with three pronouncements. I decided to move (from his house to another place). So I came to Allah's Messenger (ﷺ), and he said: Move to the house of your cousin 'Amr b. Umm Maktum and spend your period of 'Idda there
یحییٰ بن آدم نے ہمیں خبر دی ، ( کہا : ) عمار بن رُزیق نے ہمیں ابواسحاق سے حدیث بیان کی ، انہوں نے شعبی سے اور انہوں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دیں تو میں نے ( وہاں سے ) نقل مکانی کا ارادہ کیا ۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ، تو آپ نے فرمایا : " تم اپنے چچا زاد عمرو بن ام مکتوم کے گھر منتقل ہو جاؤ ، اور ان کے ہاں عدت گزارو
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ، عَلِيٍّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا ‏"‏ ‏.‏
Hakim b. Hazim (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Both parties in a business transaction have the right to annul it so long as they have not separated; and if they speak the truth and make everything clear they will be blessed in their transaction; but if they tell a lie and conceal anything the blessing on their transaction will be blotted out
ابوخلیل نے عبداللہ بن حارث سے ، انہوں نے حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " بیع کرنے والے دونوں فریقوں کو اختیار ہے جب تک جدا نہ ہوں ۔ اگر وہ دونوں سچ بولیں اور حقیقت کو واضح کریں تو ان کی بیع میں برکت ڈالی جاتی ہے ، اور اگر وہ جھوٹ بولیں اور ( عیب وغیرہ ) چھپائیں تو ان کی بیع سے برکت مٹا دی جاتی ہے
وَحَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ أُمَيَّةَ - عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْكِلاَبِ فَنَنْبَعِثُ فِي الْمَدِينَةِ وَأَطْرَافِهَا فَلاَ نَدَعُ كَلْبًا إِلاَّ قَتَلْنَاهُ حَتَّى إِنَّا لَنَقْتُلُ كَلْبَ الْمُرَيَّةِ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ يَتْبَعُهَا ‏.‏
Abdullah (b. Umar) (Allah be pleased with them) reported:Allah's Messenger (ﷺ) ordered the killing of dogs and we would send (men) in Medina and its corners and we did not spare any dog that we did not kill, so much so that we killed the dog that accompanied the wet she-camel belonging to the people of the desert
اسماعیل بن امیہ نے ہمیں نافع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کتوں کو مارنے کا حکم دیتے تھے ۔ میں مدینہ اور اس کی اطراف میں تلاش کرتا ، ہم کوئی کتا نہ چھوڑتے مگر اسے مار ڈالتے ، حتی کہ ہم دیہات سے آنے والی عورت کے کتے کو بھی ، جو اس کے پیچھے آ جاتا تھا ، قتل کر دیتے تھے ۔
وَحَدَّثَنِيهِ بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ أَعُوذُ بِاللَّهِ أَعُوذُ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters, but made no mention of (these words) of his:I seek refuge with Allah, I seek refuge with Allah's Messenger (ﷺ)
محمد بن جعفر نے ہمیں شعبہ سے ، اسی سند کے ساتھ خبر دی اور انہوں نے یہ الفاظ بیان نہیں کیے : " میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں " ( اور ) " اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پناہ میں آتا ہوں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ، بْنِ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَلَدَ فِي الْخَمْرِ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ ثُمَّ جَلَدَ أَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ ‏.‏ فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ وَدَنَا النَّاسُ مِنَ الرِّيفِ وَالْقُرَى قَالَ مَا تَرَوْنَ فِي جَلْدِ الْخَمْرِ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا كَأَخَفِّ الْحُدُودِ ‏.‏ قَالَ فَجَلَدَ عُمَرُ ثَمَانِينَ ‏.‏
Anas b. Malik reported that Allah's Apostle (ﷺ) gave a beating with palm branches and shoes, and that Abu Bakr gave forty lashes. When Umar (became the Commander of the Faithful) and the people went near to pastures and towns, he said (to the Companions of the Holy Prophet). What is your opinion about lashing for drinking? Thereupon Abd al-Rahman b. Auf said:My opinion is that you fix it as the mildest punishment. Then 'Umar inflicted eighty stripes
معاذ بن ہشام نے کہا : مجھے میرے والد نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب میں کھجور کی ٹہنی اور جوتوں سے مارا ۔ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس ( کوڑے ) مارے ، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دور آیا اور لوگ سرسبز و شاداب مقامات اور بستیوں کے قریب جا بسے تو انہوں نے ( مشورہ کرتے ہوئے ) پوچھا : شراب کی سزا کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ تو حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا : میری رائے ہے کہ آپ اسے سب سے ہلکی حد کے برابر مقرر کر دیں ۔ کہا : اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسی کوڑے مارے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri
معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت کی
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ عَبْدًا حَبَشِيًّا ‏.‏
This hadith has been transmitted on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters, and he said:"An Abyssinian slave
ابن بشار نے ہمیں یہی حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں محمد بن جعفر اور عبدالرحمٰن بن مہدی نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث سنائی اور کہا : حبشی غلام ہو
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَكْلِ الضَّبِّ فَقَالَ ‏ "‏ لاَ آكُلُهُ وَلاَ أُحَرِّمُهُ ‏"‏ ‏.‏
Ibn 'Umar reported:A person asked Allah's Messenger (ﷺ) about the eating of the lizard, whereupon he said. I neither eat it, nor do I prohibit it
لیث نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سانڈا کھا نے کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرما یا : " نہ میں اس کو کھاتا ہوں ، نہ حرا م کرتا ہوں ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ ‏.‏
Abu Sa'id Khudri reported that Allah's Messenger (ﷺ) forbade (the preparation) of Nabidh in gourd, in pitcher besmeared with green pitch, in hollow stump and in varnished jar
سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے ، انھوں نے ابو نضرہ سے ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھوکھلے کدو ، سبزگھڑوں ، کھوکھلی لکڑی اور روغن زفت ملے ہوئے برتنوں سے منع فرمایا ۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَأَخْرَجَتْ إِلَيْنَا إِزَارًا غَلِيظًا مِمَّا يُصْنَعُ بِالْيَمَنِ وَكِسَاءً مِنَ الَّتِي يُسَمُّونَهَا الْمُلَبَّدَةَ - قَالَ - فَأَقْسَمَتْ بِاللَّهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قُبِضَ فِي هَذَيْنِ الثَّوْبَيْنِ ‏.‏
Abu Burda reported:I visited A'isha and she brought out for us the coarse lower garfnent (of Allah's Messenger) made in Yemen and clothes made out of Mulabbada cloth, and she swore in the name of Allah that Allah's Messenger (ﷺ) died in these two clothes
سلیمان بن مغیرہ نے کہا : ہمیں حمید نے ابو بردہ سے حدیث سنائی ، کہا : میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو انھوں نے ایک مو ٹا تہبند جو یمن میں بنایا جا تا ہے اور ایک اوپر کی چادر ( موٹی سخت اور پیوند لگےہو نے کی وجہ سے ) جسے مُلْبَدَہکہا : جا تا ہے نکال کر دکھا ئی ، کہا : انھوں نے اللہ کی قسم کھا ئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھی دوکپڑوں میں داعی اجل کو لبیک کہا تھا ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنِ اطَّلَعَ فِي بَيْتِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَقَدْ حَلَّ لَهُمْ أَنْ يَفْقَئُوا عَيْنَهُ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported having heard Allah's Messenger (ﷺ) say:He who peeped into the house of people without their consent, it is permissible for them to put out his eyes
سہیل کے والد ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فر ما یا : " جس نے اجازت کے بغیر لو گوں کے گھر میں تانک جھانک کی ، انھیں اجا زت ہے کہ وہ اس کی آنکھ پھوڑدیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ سَحَرَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَهُودِيٌّ مِنْ يَهُودِ بَنِي زُرَيْقٍ يُقَالُ لَهُ لَبِيدُ بْنُ الأَعْصَمِ - قَالَتْ - حَتَّى كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَفْعَلُ الشَّىْءَ وَمَا يَفْعَلُهُ حَتَّى إِذَا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَوْ ذَاتَ لَيْلَةٍ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ دَعَا ثُمَّ دَعَا ثُمَّ قَالَ ‏"‏ يَا عَائِشَةُ أَشَعَرْتِ أَنَّ اللَّهَ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ جَاءَنِي رَجُلاَنِ فَقَعَدَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي وَالآخَرُ عِنْدَ رِجْلَىَّ ‏.‏ فَقَالَ الَّذِي عِنْدَ رَأْسِي لِلَّذِي عِنْدَ رِجْلَىَّ أَوِ الَّذِي عِنْدَ رِجْلَىَّ لِلَّذِي عِنْدَ رَأْسِي مَا وَجَعُ الرَّجُلِ قَالَ مَطْبُوبٌ ‏.‏ قَالَ مَنْ طَبَّهُ قَالَ لَبِيدُ بْنُ الأَعْصَمِ ‏.‏ قَالَ فِي أَىِّ شَىْءٍ قَالَ فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ ‏.‏ قَالَ وَجُبِّ طَلْعَةِ ذَكَرٍ ‏.‏ قَالَ فَأَيْنَ هُوَ قَالَ فِي بِئْرِ ذِي أَرْوَانَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَأَتَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ يَا عَائِشَةُ وَاللَّهِ لَكَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ وَلَكَأَنَّ نَخْلَهَا رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلاَ أَحْرَقْتَهُ قَالَ ‏"‏ لاَ أَمَّا أَنَا فَقَدْ عَافَانِي اللَّهُ وَكَرِهْتُ أَنْ أُثِيرَ عَلَى النَّاسِ شَرًّا فَأَمَرْتُ بِهَا فَدُفِنَتْ ‏"‏ ‏.‏
A'isha reported:that a Jew from among the Jews of Banu Zuraiq who was called Labid b. al-A'sam cast a spell upon Allah's Messenger (ﷺ) with the result that he (under the influence of the spell) felt that he had been doing something whereas in fact he had not been doing that. (This state of affairs lasted) until one day or during one night Allah's Messenger (ﷺ) made supplication (to dispel its effects). He again made a supplication and he again did this and said to 'A'isha: "Do you know that Allah has told me what I had asked Him? There came to me two men and one amongst them sat near my head and the other one near my feet and he who sat near my head said to one who sat near my feet or one who sat near my feet said to one who sat near my head: What is the trouble with the man? He said: The spell has affected him. He said: Who has cast that? He (the other one) said: It was Labid b. A'sam (who has done it). He said: What is the thing by which he transmitted its effect? He said: By the comb and by the hair stuck to the comb and the spathe of the date-palm. He said: Where is that? He replied: In the well of Dhi Arwan." She said: Allah's Messenger (ﷺ) sent some of the persons from among his Companions there and then said: "'A'isha, by Allah, its water was yellow like henna and its trees were like heads of the devils." She said that she asked Allah's Messenger (ﷺ) as to why he did not burn that. He said: "No, Allah has cured me and I do not like that I should induce people to commit any high-handedness in regard (to one another), but I only commanded that it should be buried
ابن نمیر نے ہشام سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بنی زریق کے ایک یہودی لبید بن اعصم نے جادو کیا ۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال آتا کہ میں یہ کام کر رہا ہوں حالانکہ وہ کام کرتے نہ تھے ۔ ایک دن یا ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی ، پھر دعا کی ، پھر فرمایا کہ اے عائشہ! تجھے معلوم ہوا کہ اللہ جل جلالہ نے مجھے وہ بتلا دیا جو میں نے اس سے پوچھا؟ ۔ میرے پاس دو آدمی آئے ، ایک میرے سر کے پاس بیٹھا اور دوسرا پاؤں کے پاس ( وہ دونوں فرشتے تھے ) جو سر کے پاس بیٹھا تھا ، اس نے دوسرے سے کہا جو پاؤں کے پاس بیٹھا تھا اس نے سر کے پاس بیٹھے ہوئے سے کہا کہ اس شخص کو کیا بیماری ہے؟ وہ بولا کہ اس پر جادو ہوا ہے ۔ اس نے کہا کہ کس نے جادو کیا ہے؟ وہ بولا کہ لبید بن اعصم نے ۔ پھر اس نے کہا کہ کس میں جادو کیا ہے؟ وہ بولا کہ کنگھی میں اور ان بالوں میں جو کنگھی سے جھڑے اور نر کھجور کے گابھے کے ریشے میں ۔ اس نے کہا کہ یہ کہاں رکھا ہے؟ وہ بولا کہ ذی اروان کے کنوئیں میں ۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند اصحاب کے ساتھ اس کنوئیں پر گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عائشہ! اللہ کی قسم اس کنوئیں کا پانی ایسا تھا جیسے مہندی کا زلال اور وہاں کے کھجور کے درخت ایسے تھے جیسے شیطانوں کے سر ۔ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جلا کیوں نہیں دیا؟ ( یعنی وہ جو بال وغیرہ نکلے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے تو اللہ نے ٹھیک کر دیا ، اب مجھے لوگوں میں فساد بھڑکانا برا معلوم ہوا ، پس میں نے حکم دیا اور وہ دفن کر دیا گیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ قُلْتُ بِأَىِّ شَىْءٍ كَانَ يَبْدَأُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ قَالَتْ بِالسِّوَاكِ ‏.‏
Miqdam b. Shuraih narrated it from his father who said:I asked A'isha what Allah's Apostle (ﷺ) did first when he entered his house, and she replied: He used tooth-stick (first of all)
مسعر نے مقدام بن شریح سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا ، میں نے کہا : نبی ﷺ جب گھر تشریف لاتے تو کس بات ( کام ) سے آغاز فرماتے تھے ؟انہوں نے فرمایا : مسواک سے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي حَيَّانَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ نَحْوَ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ وَزَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ ‏ "‏ كِتَابُ اللَّهِ فِيهِ الْهُدَى وَالنُّورُ مَنِ اسْتَمْسَكَ بِهِ وَأَخَذَ بِهِ كَانَ عَلَى الْهُدَى وَمَنْ أَخْطَأَهُ ضَلَّ ‏"‏ ‏.‏
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Hayyan but with this addition:" The Book of Allah contains right guidance, the light, and whoever adheres to it and holds it fast, he is upon right guidance and whosoever deviates from it goes astray
ابو بکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں محمد بن فضیل نے حدیث بیان کی ، اسحاق بن ابراہیم نے کہا : ہمیں جریر نے خبر دی ، ان دونوں ( محمد بن فضیل اورجریر ) نے ابوحیان سے اسی سند کےساتھ اسماعیل کی حدیث کے مانند بیان کیا اور ( اسحاق بن ابراہیم نے ) جریر کی روایت میں مزید یہ بیان کیا : " اللہ کی کتاب جس میں ہدایت اورنور ہے ، جس نے اس کو مضبوطی سےتھام لیا اور اسے لےلیا وہ ہدایت پر ہوگا اور جو اس سے ہٹ گیا وہ گمراہ ہوجائے گا ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يُوعَكُ فَمَسِسْتُهُ بِيَدِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ لَتُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَجَلْ إِنِّي أُوعَكُ كَمَا يُوعَكُ رَجُلاَنِ مِنْكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقُلْتُ ذَلِكَ أَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَجَلْ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى مِنْ مَرَضٍ فَمَا سِوَاهُ إِلاَّ حَطَّ اللَّهُ بِهِ سَيِّئَاتِهِ كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا ‏"‏ ‏.‏ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ زُهَيْرٍ فَمَسِسْتُهُ بِيَدِي ‏.‏
Abdullah reported:I visited Allah's Messenger (ﷺ) as he was running a high temperature. I touched his body with my hand and said to him: Allah's Messenger, you are running a high temperature, whereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Yes, it is so. I comparatively have a more severe fever than any one of you. I said: Is it because there is a double reward in store for you? Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Yes, it is so. And Allah's Messenger (ﷺ) again said: When a Muslim falls ill, his compensation is that his minor sins are obliterated just as leaves fall (in autumn). In the hadith transmitted on the authority of Zubair there is (no mention of these words):" I touched his body with my hands
عثمان بن ابی شیبہ ، زہیر بن حرب اور اسحٰق بن ابراہیم نے کہا؛ ہمیں جریر نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابراہیم تیمی سے ، انہوں نے حارث بن سوید سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس وقت آپ کو بخار چڑھ رہا تھا ، میں نے آپ کو ہاتھ سے چھوا اور عرض کی : اللہ کے رسول! آپ کو تو بہت سخت بخار چڑھا ہوا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ہاں ، مجھے اتنا بخار چڑھتا ہے جتنا تم میں سے دو آدمیوں کو بخار چڑھتا ہے ۔ "" میں نے عرض کی : یہ اس لیے کہ آپ کے لیے دہرا اجر ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ہاں ، ( یہی بات ہے ۔ ) "" پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کوئی مسلمان نہیں جسے کوئی تکلیف پہنچے ، مرض ہو یا اس کے علاوہ کوئی اور تکلیف مگر اللہ اس کے سبب سے اس کی برائیاں ( گناہ ) جھاڑ دیتا ہے جس طرح درخت اپنے پتے جھاڑتا ہے ۔ "" زہیر کی حدیث میں یہ الفاظ نہیں : "" تو میں نے آپ کو ہاتھ سے چھوا ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ جَمِيعًا عَنْ حَفْصِ بْنِ، غِيَاثٍ عَنْ عَاصِمٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of 'Asim with the same chain of transmitters
حفص بن غیاث نے عاصم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِي، بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ دَفَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى كُلِّ مُسْلِمٍ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا فَيَقُولُ هَذَا فَكَاكُكَ مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Musa' reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:When it will be the Day of Resurrection Allah would deliver to every Muslim a Jew or a Christian and say: That is your rescue from Hell-Fire
طلحہ بن یحییٰ نے ابوبردہ سے اور انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب قیامت کا دن ہو گا تو اللہ تعالیٰ ( ایک مرحلے پر ) ہر مسلمان کو ایک یہودی یا نصرانی عطا کر دے گا ، پھر فرمائے گا : یہ جہنم سے تمہارے لیے چھٹکارے کا ذریعہ بنے گا ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ، عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يَعْبُدَهُ الْمُصَلُّونَ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَلَكِنْ فِي التَّحْرِيشِ بَيْنَهُمْ ‏"‏ ‏.‏
Jabir reported:I heard Allah's Apostle (ﷺ) as saying: Verily, the Satan has lost all hopes that the worshippers would ever worship (him) in the peninsula of Arabia, but he (is hopeful) that he would sow the seed of dissension amongst them
جریر نےاعمش سے ، انھوں نے ابو سفیان سے اور انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " شیطان اس بات سے ناامید ہوگیا ہے کہ جزیر ہ عرب میں نماز پڑھنے والے اس کی عبادت کریں گے لیکن وہ ان کے درمیان لڑائی جھگڑے کرانے سے ( مایوس نہیں ہوا ۔)
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ أَلاَ أَدُلُّكُمْ ‏"‏ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی مگر اس میں کہا : " کیا میں تمہاری رہنمائی نہ کروں؟
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَيْسَتِ السَّنَةُ بِأَنْ لاَ تُمْطَرُوا وَلَكِنِ السَّنَةُ أَنْ تُمْطَرُوا وَتُمْطَرُوا وَلاَ تُنْبِتُ الأَرْضُ شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The famine would not break out because of drought, but there would be famine despite heavy rainfall as nothing would grow from the earth
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قحط یہ نہیں ہے کہ تم پر بارش نہ ہو بلکہ قحط یہ ہے کہ بارش ہو ، پھر بارش ہو لیکن زمین کوئی چیز نہ اُگائے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ، حَدَّثَتْهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهَا قَالَتْ، كَانَتْ هِيَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَغْتَسِلاَنِ فِي الإِنَاءِ الْوَاحِدِ مِنَ الْجَنَابَةِ ‏.‏
Zainab bint Umm Salama (the wife of the Holy Prophet) reported that Umm Salama and the Messenger of Allah (ﷺ) took a bath from the same vessel
حضرت ام سلمہ ؓ نے بیان کیا کہ وہ اور رسول اللہ ﷺ ایک برتن میں ( سے ) غسل جنابت کرتے تھے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ وَأَجْعَلُ ثُلُثَهُ فِي الْمَسَاكِينِ وَالسَّائِلِينَ وَابْنِ السَّبِيلِ ‏"‏ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Wahb b. Kaisan with the same chain of transmitters but with this change that he said:" I earmark one-third for the poor, the needy and the wayfarers
ابو داود نے ہمیں خبر دی ہمیں عبد العزیز بن ابی سلمہ نے حدیث بیان کی انھوں نےکہا : ہمیں وہب بن کیسان نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی مگر انھوں نے ( اس طرح ) کہا : اس کا ایک تہائی مسکینوں سوال کرنے والوں اور مسافر کے لیے مختص کردیتا ہوں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ أَخْبَرَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ مُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ أَغْفَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِغْفَاءَةً ‏.‏ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ نَهْرٌ وَعَدَنِيهِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي الْجَنَّةِ عَلَيْهِ حَوْضٌ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ ‏"‏ آنِيَتُهُ عَدَدُ النُّجُومِ ‏"‏ ‏.‏
Mukhtar b. Fulful reported that he had heard Anas b. Malik say that the Messenger of Allah (ﷺ) dozed off, and the rest of the hadith is the same as transmitted by Mus-hir except for the words that he (the Holy Prophet) said:It (Kauthar) is a canal which my Lord the Exalted and the Glorious has promised me in Paradise. There is a tank over it, but he made no mention of the tumblers like the number of the stars
ابن فضیل نے مختار بن فلفل سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہﷺ نیند جیسی کیفیت میں چلے گئے ، ( آگے ) جس طرح ابن مسہر کی حدیث ہے ، البتہ انہوں ( ابن فضیل ) نے یہ الفاظ کہے : ’’ ایک نہر ہے جس کا میرے رب نے میرے ساتھ وعدہ کیا ہے اور اس پر ایک حوض ہے ۔ ‘ ‘ اور یہ نہیں کہا : ’’ اس کے برتنوں کی تعداد ستاروں کے برابر ہے ۔ ‘ ‘