حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ بُكَيْرٍ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ الأَنْصَارِيَّ، يَقُولُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي لِلنَّاسِ وَأُمَامَةُ بِنْتُ أَبِي الْعَاصِ عَلَى عُنُقِهِ فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَهَا .
Abu Qatada reported:I saw the Messenger of Allah (ﷺ) leading the people in prayer with Umama daughter of Abu'l-'As on his neck; and when he prostrated he put her down
بکیر ( بن عبداللہ ) نے عمرو بن سلیم زرقی سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ، آپ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور ابو العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ کی گردن پر تھیں ، جب آپ سجدہ کرتے تو انھیں اتار دیتے ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ كُنَّا قُعُودًا حَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَنَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فِي نَفَرٍ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِنَا فَأَبْطَأَ عَلَيْنَا وَخَشِينَا أَنْ يُقْتَطَعَ دُونَنَا وَفَزِعْنَا فَقُمْنَا فَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ فَزِعَ فَخَرَجْتُ أَبْتَغِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى أَتَيْتُ حَائِطًا لِلأَنْصَارِ لِبَنِي النَّجَّارِ فَدُرْتُ بِهِ هَلْ أَجِدُ لَهُ بَابًا فَلَمْ أَجِدْ فَإِذَا رَبِيعٌ يَدْخُلُ فِي جَوْفِ حَائِطٍ مِنْ بِئْرٍ خَارِجَةٍ - وَالرَّبِيعُ الْجَدْوَلُ - فَاحْتَفَزْتُ كَمَا يَحْتَفِزُ الثَّعْلَبُ فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَبُو هُرَيْرَةَ " . فَقُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " مَا شَأْنُكَ " . قُلْتُ كُنْتَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فَقُمْتَ فَأَبْطَأْتَ عَلَيْنَا فَخَشِينَا أَنْ تُقْتَطَعَ دُونَنَا فَفَزِعْنَا فَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ فَزِعَ فَأَتَيْتُ هَذَا الْحَائِطَ فَاحْتَفَزْتُ كَمَا يَحْتَفِزُ الثَّعْلَبُ وَهَؤُلاَءِ النَّاسُ وَرَائِي فَقَالَ " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ " . وَأَعْطَانِي نَعْلَيْهِ قَالَ " اذْهَبْ بِنَعْلَىَّ هَاتَيْنِ فَمَنْ لَقِيتَ مِنْ وَرَاءِ هَذَا الْحَائِطِ يَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ فَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ لَقِيتُ عُمَرُ فَقَالَ مَا هَاتَانِ النَّعْلاَنِ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ . فَقُلْتُ هَاتَانِ نَعْلاَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَنِي بِهِمَا مَنْ لَقِيتُ يَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ بَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ . فَضَرَبَ عُمَرُ بِيَدِهِ بَيْنَ ثَدْيَىَّ فَخَرَرْتُ لاِسْتِي فَقَالَ ارْجِعْ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَجْهَشْتُ بُكَاءً وَرَكِبَنِي عُمَرُ فَإِذَا هُوَ عَلَى أَثَرِي فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا لَكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ " . قُلْتُ لَقِيتُ عُمَرَ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي بَعَثْتَنِي بِهِ فَضَرَبَ بَيْنَ ثَدْيَىَّ ضَرْبَةً خَرَرْتُ لاِسْتِي قَالَ ارْجِعْ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا عُمَرُ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ " . قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَبَعَثْتَ أَبَا هُرَيْرَةَ بِنَعْلَيْكَ مَنْ لَقِيَ يَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ بَشَّرَهُ بِالْجَنَّةِ . قَالَ " نَعَمْ " . قَالَ فَلاَ تَفْعَلْ فَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَتَّكِلَ النَّاسُ عَلَيْهَا فَخَلِّهِمْ يَعْمَلُونَ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَخَلِّهِمْ " .
It is reported on the authority of Abu Huraira:We were sitting around the Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him). Abu Bakr and Umar were also there among the audience. In the meanwhile the Messenger of Allah got up and left us, He delayed in coming back to us, which caused anxiety that he might be attacked by some enemy when we were not with him; so being alarmed we got up. I was the first to be alarmed. I, therefore, went out to look for the Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) and came to a garden belonging to the Banu an-Najjar, a section of the Ansar went round it looking for a gate but failed to find one. Seeing a rabi' (i. e. streamlet) flowing into the garden from a well outside, drew myself together, like a fox, and slinked into (the place) where God's Messenger was. He (the Holy Prophet) said: Is it Abu Huraira? I (Abu Huraira) replied: Yes, Messenger of Allah. He (the Holy Prophet) said: What is the matter with you? replied: You were amongst us but got up and went away and delayed for a time, so fearing that you might be attacked by some enemy when we were not with you, we became alarmed. I was the first to be alarmed. So when I came to this garden, I drew myself together as a fox does, and these people are following me. He addressed me as Abu Huraira and gave me his sandals and said: Take away these sandals of mine, and when you meet anyone outside this garden who testifies that there is no god but Allah, being assured of it in his heart, gladden him by announcing that he shall go to Paradise. Now the first one I met was Umar. He asked: What are these sandals, Abu Huraira? I replied: These are the sandals of the Messenger of Allah with which he has sent me to gladden anyone I meet who testifies that there is no god but Allah, being assured of it in his heart, with the announcement that he would go to Paradise. Thereupon 'Umar struck me on the breast and I fell on my back. He then said: Go back, Abu Huraira, So I returned to the Messenger of Allah (ﷺ), and was about to break into tears. 'Umar followed me closely and there he was behind me. The Messenger of Allah (may peace and blessings be on him) said: What is the matter with you, Abu Huraira? I said: I happened to meet 'Umar and conveyed to him the message with which you sent me. He struck me on my breast which made me fall down upon my back and ordered me to go back. Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) said: What prompted you to do this, 'Umar? He said: Messenger of Allah, my mother and father be sacrificed to thee, did you send Abu Huraira with your sandals to gladden anyone he met and who testified that there is no god but Allah, and being assured of it in his heart, with the tidings that he would go to Paradise? He said: Yes. Umar said: Please do it not, for I am afraid that people will trust in it alone; let them go on doing (good) deeds. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Well, let them
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : ہم رسول اللہ ﷺ کے چاروں طرف ایک جماعت ( کی صورت ) میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ ہمارے ساتھ حضرت ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے ۔ رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان سے اٹھے ( اور کسی طرف چلے گئے ) ، پھر آپ نے ہماری طرف ( واپسی میں ) بہت تاخیر کر دی تو ہم ڈر گئے کہ کہیں ہمارے بغیر آپ کو کوئی گزند نہ پہنچائی جائے ۔ اس پر ہم بہت گھبرائے اور ( آپ کی تلاش میں نکل ) کھڑے ہوئے ۔ سب سے پہلے میں ہی گھبرایا اور رسول اللہ ﷺ کو ڈھونڈ نے نکلا یہاں تک کہ میں انصار کے خاندان بنو نجاز کے چار دیواری ( فصیل ) سے گھرے ہوئے ایک باغ تک پہنچا اور میں نے اس کے ارد گرد چکر لگایا کہ کہیں پر دروازہ مل جائے لیکن مجھے نہ ملا ۔ اچانک پانی کی ایک گزر گاہ دکھائی دی جو باہر کے کنوئیں سے باغ کے اندر جاتی تھی ( ربیع آب پاشی کی چھوٹی سی نہر کو کہتے ہیں ) میں لومڑی کی طرح سمٹ کر داخل ہوا اور رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچ گیا ۔ آپ نے پوچھا : ’’ ابو ہریرہ ہو ؟ ‘ ‘ میں نے عرض کی : جی ہاں ، اے اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ’’تمہیں کیا معاملہ درپیش ہے ؟ ‘ ‘ میں نے عرض کی : آپ ہمارے درمیان تشریف فرماتھے ، پھر وہاں سے اٹھ گئے ، پھر آپ نے ہماری طرف ( واپس ) آنے میں دیر کر دی تو ہمیں خطرہ لاحق ہوا کہ آپ ہم سے کاٹ نہ دیے جائیں ۔ اس پر ہم گھبرا گئے ، سب سے پہلے میں گھبرا کر نکلا تو اس باغ تک پہنچا اور اس طرح سمٹ کر ( اندر گھس ) آیا ہوں جس طرح لومڑی سمٹ کر گھستی ہے اور یہ دوسرے لوگ میرے پیچھے ( آرہے ) ہیں ۔ تب آپﷺ نے فرمایا : ’’اے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ! ‘ ‘ او رمجھے اپنے نعلین ( جوتے ) عطا کیے اور ارشاد فرمایا : ’’میرے یہ جوتے لے جاؤ اور اس چار دیواری کی دوسری طرف تمہیں جو بھی ایسا آدمی ملے جو دل کے پورے یقین کے ساتھ لا اله الاالله کی شہادت دیتا ہو ، اسے جنت کی خوش خبری سنا دو ۔ ‘ ‘ سب سے پہلے میری ملاقات عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، انہوں نے نے کہا : ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ! ( تمہاری ہاتھ میں ) یہ جوتے کیسے ہیں ؟ میں نے کہا : یہ رسول اللہ ﷺ کے نعلین ( مبارک ) ہیں ۔ آپ نے مجھے یہ نعلین ( جوتے ) دے کر بھیجا ہے کہ جس کسی کو ملوں جو دل کے یقین کے ساتھ لا اله الاالله کی شہادت دیتا ہو ، اسے جنت کی بشارت دے دوں ۔ عمر رضی اللہ عنہ نےمیرے سینے پر اپنے ہاتھ سے ایک ضرب لگائی جس سے میں اپنی سرینوں کے بل گر پڑا اور انہوں نے کہا : اے ابو ہریرہ! پیچھے لوٹو ۔ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس اس عالم میں واپس آیا کہ مجھے رونا آرہا تھا اور عمر رضی اللہ عنہ میرے پیچھے لگ کر چلتے آئے تو اچانک میرے عقب سے نمودار ہو گئے ۔ رسول اللہ ﷺ نے ( مجھ سے ) کہا : ’’ اے ابوہریرہ !تمہیں کیا ہوا ؟ میں نے عرض کی : میں نے عرض : میں عمر سے ملا اور آپ نے مجھے جو پیغام دے کر بھیجا تھا ، میں نے انہیں بتایا تو انہوں نے میرے سینے پر ایک ضرب لگائی ہے جس سے میں اپنی سرینوں کے بل گر پڑا ، اور مجھ سے کہا کہ پیچھے لوٹو ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ عمر! تم نے جو کیا اس کا سبب کیا ہے ؟ ‘ ‘ انہوں نے عرض کی : اللہ کے رسول! آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں ! کیا آپ نے ابوہریرہ کو اس لیے نعلین دے کر بھیجا تھا کہ دل کے یقین کے ساتھ لا اله الااللهکی شہادت دینے والے جس کسی کو ملے ، اسے جنت کی بشارت دے ؟ آپﷺ نے فرمایا : ’’ہاں ۔ ‘ ‘ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : تو ایسا نہ کیجیے ، مجھے ڈر ہے کہ لوگ بس اسی ( شہادت ) پر بھروسا کر بیٹھیں گے ، انہیں چھوڑ دیں کہ وہ عمل کرتے رہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اچھا تو ان کو چھوڑ دو ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، - قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، - عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَجْمَعُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ .
Salim reported from his father to be saying:I saw the Messenger of Allah (ﷺ) combining the sunset and Isha' prayers when he was in a hurry on a journey
سفیان نے ( ابن شہاب ) زہری سے ، انھوں نے سالم سے اور انھوں نے اپنے والد ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت کی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، جب آپ کو چلنے کی جلدی ہوتی تو آپ مغرب اور عشاء کو جمع کرلیتے تھے ۔)
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، حَدَّثَنِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ كُنْتُ أُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الصَّلَوَاتِ فَكَانَتْ صَلاَتُهُ قَصْدًا وَخُطْبَتُهُ قَصْدًا . وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ زَكَرِيَّاءُ عَنْ سِمَاكٍ
Jabir b. Samura reported:I used to observe prayer with the Messenger of Allah (ﷺ) and his prayer was of moderate length and his sermon too was of moderate length
ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابن نمیر نے کہا : ہمیں محمد بن بشر نے حدیث بیان کی ، ہمیں زکریا نے حدیث بیان کی کہا : مجھ سے سماک بن حرب نے حضرت جا بر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نماز یں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتا تھا تو آپ کی نماز در میانی ہو تی تھی اور آپ کا خطبہ بھی درمیانہ ہو تا تھا ابو بکر بن ابی شیبہ کی روا یت میں ( زکریا نے کہا : ( حدثني سماك بن حرب ) " مجھے سماک بن حرب نے حدیث بیان کی " کے بجائے ) زكريا نےمجھے سماک سے روایت کی " کے الفا ظ ہیں ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، - عَنْ خَالِدٍ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُنَّ فِي غَسْلِ ابْنَتِهِ " ابْدَأْنَ بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ مِنْهَا " .
Umm 'Atiyya reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said to them (the women) in regard to the washing of his daughter to start from the right side and with those parts of the body over which Wudu' is performed
اسماعیل ابن علیہ نے خالد سے انھوں نے حفصہ سے اور انھوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روا یت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی کے غسل کے بارے میں ان سے فر ما یا : " ان کی دائیں جا نب سے اور ان کے وضو کے اعضاء سے آغاز کرو ۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، أَنَّهَا أَعْتَقَتْ وَلِيدَةً فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " لَوْ أَعْطَيْتِهَا أَخْوَالَكِ كَانَ أَعْظَمَ لأَجْرِكِ " .
Maimuna bint Harith reported that she set free a slave-girl during the lifetime of the Messenger of Allah (ﷺ) and she made a mention of that to the Messenger of Allah (ﷺ) and he said:Had you gives her to your maternal uncles, you would have a greater reward
(ام المومنین ) حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اپنی ایک لونڈی کو آزاد کیا ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کا تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر تم اسے اپنے ماموؤں کو دے دیتیں تو یہ ( کام ) تمھارے اجر کو بڑا کردیتا ۔
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي سَوَادَةُ بْنُ حَنْظَلَةَ، الْقُشَيْرِيُّ قَالَ سَمِعْتُ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدَبٍ، - رضى الله عنه - يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَذَكَرَ هَذَا .
A hadith like this has been narrated on the authority of Samura b. Jundub
ابو داود ( طیالسی ) نے شعبہ سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔ ۔ ۔ اس کے بعد یہی ( حدیث ) بیان کی ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، وَسُفْيَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ، الْمُنْتَشِرِ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - يَقُولُ لأَنْ أُصْبِحَ مُطَّلِيًا بِقَطِرَانٍ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ أَنْ أُصْبِحَ مُحْرِمًا أَنْضَخُ طِيبًا - قَالَ - فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ - رضى الله عنها - فَأَخْبَرْتُهَا بِقَوْلِهِ فَقَالَتْ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَطَافَ فِي نِسَائِهِ ثُمَّ أَصْبَحَ مُحْرِمًا .
Muhammad b. al-Muntashir reported on the authority of his father:I heard from Ibn 'Umar having said this:" It is dearer to me to rub tar (on my body) than to enter upon the state of Ihram (in a state) of shaking off the perfume." He (the narrator) said: I went to 'A'isha and told her about this statement of his (of Ibn 'Umar). Thereupon she said: I applied perfume to the Messenger of Allah (ﷺ) and he then went round his wives and then entered upon the state of Ihram in the morning
سفیان نے ابرا ہیم بن محمد بن منتشر سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی انھوں نے کہا میں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہو ئے سنا انھوں نے کہا یہ بات کہ میں تار کو ل مل لوں ۔ مجھے اس کی نسبت زیادہ پسند ہے کہ میں احرا م باندھوں اور مجھ سے خوشبو پھوٹ رہی ہو ۔ ( محمد نے کہا : میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوااور آپ کو ان ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کی بات بتا ئی ۔ انھوں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگا ئی پھر آپ اپنی تمام بیویوں کے ہاں تشر یف لے گئے پھر آپ محرم ہو گئے ( احرا م کی نیت کر لی ۔ ) باب : 8 ۔ جس نے حج و عمرے کا الگ الگ یا اکٹھا احرا م باندھا ہوا ہواس کے لیے کسی کھا ئے جا نے والے جا نور کا شکار جو خشک زمین پر رہتا ہو یا بنیادی طور پر خشکی سے تعلق رکھتا ہو حرا م ہے
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ وَإِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، - قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، - عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، أَنَّ ابْنَ، عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ . زَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ فَحَدَّثْتُ بِهِ الزُّهْرِيَّ فَقَالَ أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ الأَصَمِّ أَنَّهُ نَكَحَهَا وَهُوَ حَلاَلٌ .
Ibn Abbas (Allah be pleased with them) reported that Allah's Apostle (ﷺ) married Maimuna in the state of Ihram. Ibn Numair made this addition:" I narrated it to Zuhri and he said: Yazid b. al-Asamm (Allah be pleased with him) told me that he (the Holy Prophet) married her when he was not a muhrim
ابوبکر بن ابی شیبہ ، ابن نمیر اور اسحاق حنظلی سب نے سفیان بن عیینہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عمرو بن دینار سے ، انہوں نے ابوشعثاء سے روایت کی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو آپ احرام میں تھے ۔ ابن نمیر نے یہ اضافہ کیا : میں نے یہ حدیث زہری کو سنائی تو انہوں نے کہا : مجھے یزید بن اصم نے خبر دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا ) سے اس حالت میں نکاح کیا جبکہ آپ احرام کے بغیر تھے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - وَاللَّفْظُ لأَبِي بَكْرٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلاَثًا وَقَالَ " إِنَّهُ لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ سَبَّعْتُ لِنِسَائِي "
Abd al-Malik b. Abu Bakr b. Abd al-Rahman b. al-Harith b. Hisham reported on the authority of his father from Umm Salama (Allah be pleased with her) that when Allah's Messenger (ﷺ) married Umm Salama, he stayed with her for three nights, and said:There is no lack of estimation on the part of your husband for you. If you wish I can stay with you for a week, but in case I stay with you for a week, then I shall have to stay for a week with all my wives
محمد بن ابوبکر نے عبدالملک بن ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام سے ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو ان کے ہاں تین دن قیام کیا اور فرمایا : " اپنے اہل ( شوہر ) کے نزدیک تمہاری قدر و منزلت میں کسی طرح کی کمی نہیں ، اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس ( قیام کے لیے ) سات دن رکھ لیتا ہوں اور اگر میں نے تمہارے ہاں سات دن قیام کیا تو اپنی ساری بیویوں کے ہاں سات سات دن قیام کروں گا
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، وَدَاوُدَ، وَمُغِيرَةَ، وَإِسْمَاعِيلَ، وَأَشْعَثَ عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ . بِمِثْلِ حَدِيثِ زُهَيْرٍ عَنْ هُشَيْمٍ
A hadith like this has been trarismitted on the authority of Hushaim through another chain of narrators
یحییٰ بن یحییٰ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ہشیم نے حصین ، داود ، مغیرہ ، اسماعیل اور اشعث سے ، انہوں نے شعبی سے خبر دی کہ انہوں نے کہا : میں فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس گیا ۔ ۔ ۔ ( آگے ) ہشیم سے زہیر کی روایت کردہ حدیث کے مانند ہے
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " إِذَا تَبَايَعَ الرَّجُلاَنِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا وَكَانَا جَمِيعًا أَوْ يُخَيِّرُ أَحَدُهُمَا الآخَرَ فَإِنْ خَيَّرَ أَحَدُهُمَا الآخَرَ فَتَبَايَعَا عَلَى ذَلِكَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ وَإِنْ تَفَرَّقَا بَعْدَ أَنْ تَبَايَعَا وَلَمْ يَتْرُكْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا الْبَيْعَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ "
Ibn 'Umar (Allah be pleased with thcm) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When two persons enter into a transaction, each of them has the right to annul it so long as they are not separated and are together (at the place of transaction) ; or if one gives the other the right (to annul the transaction) But if one gives the other the option, the transaction is made on this condition (i. e. one has the right to annul the transaction), it becomes binding. And if they are separated after they have made the bargain and none of them annulled it, even then the transaction is binding
لیث نے ہمیں نافع سے خبر دی ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " جب دو آدمی باہم بیع کریں تو دونوں میں سے ہر ایک کو ( سودا ختم کرنے کا ) اختیار ہے جب تک وہ دونوں جدا نہ ہو جائیں اور اکٹھے ہوں ۔ یا ان دونوں میں سے ایک دوسرے کو اختیار دے ، اگر ان میں سے ایک دوسرے کو اختیار دے اور اسی پر دونوں بیع کر لیں تو بیع لازم ہو گئی ، اور اگر باہم بیع کرنے کے بعد دونوں جدا ہوئے اور ان میں سے کسی نے بیع کو ترک نہیں کیا تو بھی بیع لازم ہو گئی
حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَالسِّنَّوْرِ، قَالَ زَجَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ .
Abu Zubair said:I asked Jabir about the price of a dog and a cat; he said: Allah's Messenger (ﷺ) disapproved of that
ابوزبیر سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کتے اور بلی کی قیمت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےاس سے جھڑک کر روکا ہے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، - وَهُوَ الْمَعْمَرِيُّ - عَنْ سُفْيَانَ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ، الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ، بِإِسْنَادِ عَبْدِ الْوَاحِدِ . نَحْوَ حَدِيثِهِ . غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ فَسَقَطَ مِنْ يَدِي السَّوْطُ مِنْ هَيْبَتِهِ .
This hadith has been narrated on the authorityo A'mash but with this variation of words:" There fell from my hand the whip on account of his (the Prophet's) awe
جریر ، سفیان اور ابوعوانہ سب نے اعمش سے عبدالواحد کی ( سابقہ ) سند کے ساتھ اس کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ، مگر جریر کی حدیث میں ہے : آپ کی ہیبت کی وجہ سے میرے ہاتھ سے کوڑا گر گیا
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَ مَعْنَى حَدِيثِ جَرِيرٍ وَمُفَضَّلٍ .
This hadith has been narrated on the authority of Mansur with the same chain of transmitters
سفیان نے منصور سے اسی سند کے ساتھ جریر اور مفضل کی حدیث کے ہم معنیٰ روایت کی
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنِ السُّدِّيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ مَنْ أَحْصَنَ مِنْهُمْ وَمَنْ لَمْ يُحْصِنْ . وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ " اتْرُكْهَا حَتَّى تَمَاثَلَ " .
This hadith has been narrated on the authority of as-Suddi with the same chain of trznsmitters, but he did not mention:" Those who are married and those who are not married." There is also an addition in it:" I spare her until she is all right
اسرائیل نے سُدی سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور انہوں نے یہ بیان کیا : " جو ان میں سے شادی شدہ ہوں اور جو شادی شدہ نہ ہوں ۔ " اور انہوں نے حدیث میں یہ اضافہ کیا : " اس ( کنیز ) کو چھوڑ دو یہاں تک کہ وہ صحت مند ہو جائے
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، غَزَوْنَا فَزَارَةَ وَعَلَيْنَا أَبُو بَكْرٍ أَمَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَيْنَا فَلَمَّا كَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْمَاءِ سَاعَةٌ أَمَرَنَا أَبُو بَكْرٍ فَعَرَّسْنَا ثُمَّ شَنَّ الْغَارَةَ فَوَرَدَ الْمَاءَ فَقَتَلَ مَنْ قَتَلَ عَلَيْهِ وَسَبَى وَأَنْظُرُ إِلَى عُنُقٍ مِنَ النَّاسِ فِيهِمُ الذَّرَارِيُّ فَخَشِيتُ أَنْ يَسْبِقُونِي إِلَى الْجَبَلِ فَرَمَيْتُ بِسَهْمٍ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْجَبَلِ فَلَمَّا رَأَوُا السَّهْمَ وَقَفُوا فَجِئْتُ بِهِمْ أَسُوقُهُمْ وَفِيهِمُ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ عَلَيْهَا قِشْعٌ مِنْ أَدَمٍ - قَالَ الْقِشْعُ النِّطَعُ - مَعَهَا ابْنَةٌ لَهَا مِنْ أَحْسَنِ الْعَرَبِ فَسُقْتُهُمْ حَتَّى أَتَيْتُ بِهِمْ أَبَا بَكْرٍ فَنَفَّلَنِي أَبُو بَكْرٍ ابْنَتَهَا فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا فَلَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي السُّوقِ فَقَالَ " يَا سَلَمَةُ هَبْ لِي الْمَرْأَةَ " . فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ أَعْجَبَتْنِي وَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا ثُمَّ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْغَدِ فِي السُّوقِ فَقَالَ لِي " يَا سَلَمَةُ هَبْ لِي الْمَرْأَةَ لِلَّهِ أَبُوكَ " . فَقُلْتُ هِيَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَوَاللَّهِ مَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا فَبَعَثَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ فَفَدَى بِهَا نَاسًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ كَانُوا أُسِرُوا بِمَكَّةَ .
It has been narrated on the authority of Salama (b. al-Akwa') who said:We fought against the Fazara, and Abu Bakr was the commander over us. He had been appointed by the Messenger of Allah (ﷺ). When we were only at an hour's distance from the water of the enemy, Abu Bakr ordered us to attack. We made a halt during the last part of the night to rest and then we attacked from all sides and reached their watering-place where a battle was fought. Some of the enemies were killed and some were taken prisoners. I saw a group of persons that consisted of women and children. I was afraid lest they should reach the mountain before me, so I shot an arrow between them and the mountain. When they saw the arrow, they stopped. So I brought them, driving them along. Among them was a woman from Banu Fazara. She was wearing a leather coat. With her was her daughter who was one of the prettiest girls in Arabia. I drove them along until I brought them to Abu Bakr who bestowed that girl upon me as a prize. So we arrived in Medina. I had not yet disrobed her when the Messenger of Allah (ﷺ) met me in the street and said: Give me that girl, O Salama. I said: Messenger of Allah, she has fascinated me. I had not yet disrobed her. When on the next day the Messenger of Allah (ﷺ) again met me in the street, he said: O Salama, give me that girl, may God bless your father. I said: She is for you, Messenger of Allah! By Allah. I have not yet disrobed her. The Messenger of Allah (ﷺ) sent her to the people of Mecca, and surrendered her as ransom for a number of Muslims who had been kept as prisoners at Mecca
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے کہا : ہم نے بنوفزارہ سے جنگ لڑی ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمارے سربراہ تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہمارا امیر بنایا تھا ، جب ہمارے اور چشمے کے درمیان ایک گھڑی کی مسافت رہ گئی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہمیں حکم دیا اور رات کے آخری حصے میں ہم اتر پڑے ، پھر انہوں نے دھاوا بول دیا اور پانی پر پہنچ گئے ، میں نے ان لوگوں کی ایک قطار سی دیکھی ، اس میں عورتیں اور بچے تھے ، مجھے خدشہ محسوس ہوا کہ وہ مجھ سے پہلے پہاڑ تک پہنچ جائیں گے ، چنانچہ میں نے ان کے اور پہاڑ کے درمیان ایک تیر پھینکا ، جب انہوں نے تیر دیکھا تو ٹھہر گئے ( انہیں یقین ہو گیا کہ وہ تیر کا نشانہ بنیں گے ) ، میں انہیں ہانکتا ہوا لے آیا ، ان میں بنوفزارہ کی ایک عورت تھی ، اس ( کے جسم ) پر رنگے ہوئے چمڑے کی چادر تھی ۔ ۔ قَشع ، چمڑے کی بنی ہوئی چادر ہوتی ہے ۔ ۔ اس کے ساتھ اس کی بیٹی تھی جو عرب کی حسین ترین لڑکیوں میں سے تھی ۔ میں نے انہیں آگے لگایا حتی کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا ، انہوں نے اس کی بیٹی مجھے انعام میں دے دی ۔ ہم مدینہ آئے اور میں نے ( ابھی تک ) اس کا کپڑا نہیں کھولا تھا کہ بازار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات ہوئی ، آپ نے فرمایا : " سلمہ! وہ عورت مجھے ہبہ کر دو ۔ " میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! وہ مجھے بہت اچھی لگی ہے اور ( ابھی تک ) میں نے اس کا کپڑا بھی نہیں کھولا ، پھر اگلے دن بازار ( ہی ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات ہوئی تو آپ نے مجھ سے فرمایا : " سلمہ! وہ عورت مجھے ہبہ کر دو ، اللہ تمہارے باپ کو برکت دے! " میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! وہ آپ کے لیے ہے ۔ اللہ کی قسم! میں نے اس کا کپڑا بھی نہیں کھولا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مکہ بھیج دیا اور اس کے بدلے مسلمانوں میں سے کچھ لوگوں کو چھڑا لیا جو مکہ میں قید کیے گئے تھے
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، بْنُ شُمَيْلٍ جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالاَ فِي الْحَدِيثِ عَبْدًا حَبَشِيًّا مُجَدَّعَ الأَطْرَافِ .
In another version of the tradition, we have the wording:" An Abyssinian slave maimed and disabled
محمد بن جعفر اور نضر بن شمیل نے ہمیں شعبہ سے ، انہوں نے ابوعمران سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور حدیث میں کہا : چاہے وہ ( امیر ) کٹے ہوئے اعضاء والا حبشی غلام ( ہی کیوں نہ ہو)
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، وَوَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ نَحَرْنَا فَرَسًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَكَلْنَاهُ .
Asma' reported:We slaughtered a horse and ate it during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ)
عبد اللہ بن نمیر ، حفص بن غیاث اور وکیع نے ہشام سے ، انھوں نے ( اپنی اہلیہ ) فاطمہ سے ، انھوں نے ( اپنی دادی ) حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ہم نے ایک گھوڑا ذبح کیا اور اسے ( پکا کر ) کھا یا ۔
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، تَرْفَعُهُ قَالَ " إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ وَعِنْدَهُ أُضْحِيَّةٌ يُرِيدُ أَنْ يُضَحِّيَ فَلاَ يَأْخُذَنَّ شَعْرًا وَلاَ يَقْلِمَنَّ ظُفُرًا " .
Umm Salama reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:If anyone of you intends to offer sacrifice he should not get his hair cut or nails trimmed
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے مالک بن انس سے حدیث بیا ن کی ، انھوں نے عمر یا عمرو بن مسلم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ وَأَنْ يُخْلَطَ الْبَلَحُ بِالزَّهْوِ .
Ibn Abbas reported that Allah's Messenger (ﷺ) forbade, the preparation of Nabidh in gourd, in varnished jar, hollow stump and from mixing up ripe dates with nearly ripe dates
حبیب بن ابی عمرہ نے سعید بن جبیر سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھوکھلے کدو ، سبز گھڑوں ، روغن زفت ملے ہوئے برتنوں ( میں نبیذ بنانے ) سے اور کچی اور نیم پ پختہ کھجوروں کو ( مشروب بناتے ہوئے باہم ) ملانے سے منع فرمایا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ التَّخَتُّمِ بِالذَّهَبِ وَعَنْ لِبَاسِ الْقَسِّيِّ وَعَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَعَنْ لِبَاسِ الْمُعَصْفَرِ .
Ali b. Abu Talib reported:Allah's Messenger (ﷺ) forbade me to use gold rings. to wear silk clothes and to recite the Qur'an in ruku' and sajda (prostration), and to wear yellow garments
معمر نے زہری سے ، انھوں نے ابرا ہیم بن عبد اللہ حنین سے انھوں نے اپنے والد حضرت علی بن ابی طا لب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی پہننےسے ریشم کے کپڑے پہننے سے رکو ع اور سجود میں قرآن مجید پڑھنے سے اور گیروے رنگ کا لبا س پہننے سے منع فرما یا ۔
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّأَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلاً اطَّلَعَ مِنْ جُحْرٍ فِي بَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِدْرًى يُرَجِّلُ بِهِ رَأْسَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تَنْظُرُ طَعَنْتُ بِهِ فِي عَيْنِكَ إِنَّمَا جَعَلَ اللَّهُ الإِذْنَ مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ " .
Sahl b. Sa'd as-Sa'idi reported that a person peeped through the hole of the door of Allah's Messenger (ﷺ) and he had with him some pointed thing with which he had been adjusting (the hair of his head). Allah's Messenger (ﷺ) said to him:If I were to know that you had been peeping. I would have thrust it in your eyes. Allah has prescribed seeking permission because of protection against glance
یو نس نے ابن شہاب سے روایت کی کہ سہل بن سعدانصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتا یا کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے میں بن جا نے والی جھری میں سے جھا نکا ، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بال درست کرنے والا لوہے کا ایک آلہ تھا جس سے آپ سر کے بالوں کو سنوار رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فر ما یا : " اگر میں جان لیتا کہ تو واقعی مجھے دیکھ رہے ہو تو میں اس کو تمھا ری آنکھوں میں چبھو دیتا ۔ اللہ نے اجازت لینے کا طریقہ آنکھ ہی کے لیے تو رکھا ہے ۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلاَلٍ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ جِبْرِيلَ، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ اشْتَكَيْتَ فَقَالَ " نَعَمْ " . قَالَ بِاسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَىْءٍ يُؤْذِيكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ أَوْ عَيْنِ حَاسِدٍ اللَّهُ يَشْفِيكَ بِاسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ .
Abu Sa'id reported that Gabriel came to Allah's Messenger (ﷺ) and said:Muhammad, have you fallen ill? Thereupon he said: Yes. He (Gabriel) said: "In the name of Allah I exorcise you from everything and safeguard you from every evil that may harm you and from the eye of a jealous one. Allah would cure you and I invoke the name of Allah for you
ابونضرہ نے حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا : اے محمد!کیا آپ بیمار ہوگئے ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہاں ۔ " حضرت جبرائیل علیہ السلام نے یہ کلمات کہے : " میں اللہ کے نام سے آپ کو دم کرتاہوں ، ہر چیز سے ( حفاظت کے لئے ) جو آپ کو تکلیف دے ، ہر نفس اور ہر حسد کرنے والی آنکھ کے شر سے ، اللہ آپ کو شفا دے ، میں اللہ کے نام سے آ پ کو دم کر تا ہوں ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، - قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - أَخْبَرَنِي الْعَلاَءُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَلاَ أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ " . قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارُ الصَّلاَةِ بَعْدَ الصَّلاَةِ فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ " .
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: Should I not suggest to you that by which Allah obliterates the sins and elevates the ranks (of a man). They (the hearers) said: Yes, Messenger of Allah. He said: Performing the ablution thoroughly despite odds, tranverside of more paces towards the mosque, and waiting for the next prayer after observing a prayer, and that is mindfulness
اسماعیل نے بیان کیا کہ انہیں علاء نے خبر دی ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سےروایت کی کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : ’’کیا میں تمہیں ایسی جیز سے آگاہ نہ کروں جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ گناہ مٹا دیتا ہے او ر درجات بلند فرماتا ہے ؟ ‘ ‘ صحابہ نے عرض کی : اے اللہ کےر سول کیوں نہیں ! آپ نے فرمایا : ’’ناگواریوں باوجود اچھی طرح وضوکرنا ، مساجد تک زیادہ قدم چلنا ، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ، سو یہی رباط ( شیطان کے خلاف جنگ کی چھاؤنی ( ہے ۔ ‘ ‘)
وَحَدَّثَنِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
This hadith has been narrated on the authority of Abu Huraira through another chain ot transmitters
شعبہ نے محمد بن زیاد سےروایت کی ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا ، اسی کے مانند ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، - يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي، عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، قَالَ كَانَ عَلِيٌّ قَدْ تَخَلَّفَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي خَيْبَرَ وَكَانَ رَمِدًا فَقَالَ أَنَا أَتَخَلَّفُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَخَرَجَ عَلِيٌّ فَلَحِقَ بِالنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا كَانَ مَسَاءُ اللَّيْلَةِ الَّتِي فَتَحَهَا اللَّهُ فِي صَبَاحِهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ - أَوْ لَيَأْخُذَنَّ بِالرَّايَةِ - غَدًا رَجُلٌ يُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَوْ قَالَ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيْهِ " . فَإِذَا نَحْنُ بِعَلِيٍّ وَمَا نَرْجُوهُ فَقَالُوا هَذَا عَلِيٌّ . فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الرَّايَةَ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ .
Salama b. Akwa' reported that it was 'Ali whom Allah's Apostle (ﷺ) left behind him (in the charge of his family and the Islamic State) on the occasion of the campaign of Khaibar, and his eyes were inflamed and he said:Is it for me to remain behind Allah's Messenger (ﷺ)? So he went forth and rejoined Allah's Apostle (ﷺ) and on the evening of that night (after which) next morning Allah granted victory. Allah's Messenger (ﷺ) said: I will certainly give this standard to a man whom Allah and His Messenger love. or he said: Who loves Allah or His Messenger and Allah will grant him victory through him, and, lo, we saw 'Ali whom we least expected (to be present on that occasion). They (the Companions) said: Here is 'Ali. Thereupon Allah's Messenger (may peace be upon hin) gave him the standard. Allah granted victory at his hand
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : غزوہ خیبر میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے ، انھیں آشوب چشم تھا ۔ پھر انھوں نے کہا : میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے رہ گیا!چنانچہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( وہاں سے ) نکلے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آملے ، جب اس رات کی شام آئی جس کی صبح کو اللہ تعالیٰ نے خیبر فتح کرایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کل میں جھنڈا اس کودوں گایا ( فرمایا : ) کل جھنڈا وہ شخص لے گا جس سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو محبت ہے یا فرمایا : جواللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتاہے ، اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح دے گا ۔ " پھر اچانک ہم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا اور ہمیں اس کے بارے میں کوئی توقع نہیں تھی تو صحابہ رضوان للہ عنھم اجمعین نے کہا : یہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جھنڈا عطا کردیا اور اللہ نے ان کے ہاتھ پرفتح عطا کردی ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَا ابْنَ آدَمَ مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِي . قَالَ يَا رَبِّ كَيْفَ أَعُودُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ . قَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِي فُلاَنًا مَرِضَ فَلَمْ تَعُدْهُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ عُدْتَهُ لَوَجَدْتَنِي عِنْدَهُ يَا ابْنَ آدَمَ اسْتَطْعَمْتُكَ فَلَمْ تُطْعِمْنِي . قَالَ يَا رَبِّ وَكَيْفَ أُطْعِمُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ . قَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهُ اسْتَطْعَمَكَ عَبْدِي فُلاَنٌ فَلَمْ تُطْعِمْهُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ أَطْعَمْتَهُ لَوَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي يَا ابْنَ آدَمَ اسْتَسْقَيْتُكَ فَلَمْ تَسْقِنِي . قَالَ يَا رَبِّ كَيْفَ أَسْقِيكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ قَالَ اسْتَسْقَاكَ عَبْدِي فُلاَنٌ فَلَمْ تَسْقِهِ أَمَا إِنَّكَ لَوْ سَقَيْتَهُ وَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Verily, Allah, the Exalted and Glorious, would say on the Day of Resurrection: O son of Adam, I was sick but you did not visit Me. He would say: O my Lord; how could I visit Thee whereas Thou art the Lord of the worlds? Thereupon He would say: Didn't you know that such and such servant of Mine was sick but you did not visit him and were you not aware of this that if you had visited him, you would have found Me by him? O son of Adam, I asked food from you but you did not feed Me. He would say: My Lord, how could I feed Thee whereas Thou art the Lord of the worlds? He said: Didn't you know that such and such servant of Mine asked food from you but you did not feed him, and were you not aware that if you had fed him you would have found him by My side? (The Lord would again say: ) O son of Adam, I asked drink from you but you did not provide Me. He would say: My Lord, how could I provide Thee whereas Thou art the Lord of the worlds? Thereupon He would say: Such and such of servant of Mine asked you for a drink but you did not provide him, and had you provided him drink you would have found him near Me
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت کے دن اللہ عزوجل فرمائے گا : آدم کے بیٹے! میں بیمار ہوا تو نے میری عیادت نہ کی ۔ وہ کہے گا : میرے رب! میں کیسے تیری عیادت کرتا جبکہ تو رب العالمین ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا تمہیں معلوم نہ تھا کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا ، تو نے اس کی عیادت نہ کی ۔ تمہیں معلوم نہیں کہ اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا ، اے ابن آدم! میں نے تجھ سے کھانا مانگا ، تو نے مجھے کھانا نہ کھلایا ۔ وہ شخص کہے گا : اے میرے رب! میں تجھے کیسے کھانا کھلاتا جبکہ تو خود ہی سارے جہانوں کو پالنے والا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا تجھے معلوم نہیں کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تھا : تو نے اسے کھانا نہ کھلایا اگر تو اس کو کھلا دیتا تو تمہیں وہ ( کھانا ) میرے پاس مل جاتا ۔ اے ابن آدم! میں نے تجھ سے پانی مانگا تھا ، تو نے مجھے پانی نہیں پلایا ۔ وہ شخص کہے گا : میرے رب! میں تجھے کیسے پانی پلاتا جبکہ تو خود ہی سارے جہانوں کو پالنے والا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگا تھا تو نے اسے پانی نہ پلایا ، اگر تو اس کو پانی پلا دیتا تو ( آج ) اس کو میرے پاس پا لیتا ۔
حَدَّثَنَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ .
This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters
عبیداللہ کے والد معاذ ، ابوداؤد اور عبدالرحمٰن بن مہدی نے شعبہ سے اسی سند سے ( یہی ) روایت کی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ رَجُلٌ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَسَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الأَرْضِ فَدُلَّ عَلَى رَاهِبٍ فَأَتَاهُ فَقَالَ إِنَّهُ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَهَلْ لَهُ مِنَ تَوْبَةٍ فَقَالَ لاَ . فَقَتَلَهُ فَكَمَّلَ بِهِ مِائَةً ثُمَّ سَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الأَرْضِ فَدُلَّ عَلَى رَجُلٍ عَالِمٍ فَقَالَ إِنَّهُ قَتَلَ مِائَةَ نَفْسٍ فَهَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ فَقَالَ نَعَمْ وَمَنْ يَحُولُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ التَّوْبَةِ انْطَلِقْ إِلَى أَرْضِ كَذَا وَكَذَا فَإِنَّ بِهَا أُنَاسًا يَعْبُدُونَ اللَّهَ فَاعْبُدِ اللَّهَ مَعَهُمْ وَلاَ تَرْجِعْ إِلَى أَرْضِكَ فَإِنَّهَا أَرْضُ سَوْءٍ . فَانْطَلَقَ حَتَّى إِذَا نَصَفَ الطَّرِيقَ أَتَاهُ الْمَوْتُ فَاخْتَصَمَتْ فِيهِ مَلاَئِكَةُ الرَّحْمَةِ وَمَلاَئِكَةُ الْعَذَابِ فَقَالَتْ مَلاَئِكَةُ الرَّحْمَةِ جَاءَ تَائِبًا مُقْبِلاً بِقَلْبِهِ إِلَى اللَّهِ . وَقَالَتْ مَلاَئِكَةُ الْعَذَابِ إِنَّهُ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ . فَأَتَاهُمْ مَلَكٌ فِي صُورَةِ آدَمِيٍّ فَجَعَلُوهُ بَيْنَهُمْ فَقَالَ قِيسُوا مَا بَيْنَ الأَرْضَيْنِ فَإِلَى أَيَّتِهِمَا كَانَ أَدْنَى فَهُوَ لَهُ . فَقَاسُوهُ فَوَجَدُوهُ أَدْنَى إِلَى الأَرْضِ الَّتِي أَرَادَ فَقَبَضَتْهُ مَلاَئِكَةُ الرَّحْمَةِ " . قَالَ قَتَادَةُ فَقَالَ الْحَسَنُ ذُكِرَ لَنَا أَنَّهُ لَمَّا أَتَاهُ الْمَوْتُ نَأَى بِصَدْرِهِ .
Abu Sa'id al-Khudri reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There was a person before you who had killed ninety-nine persons and then made an inquiry about the learned persons of the world (who could show him the way to salvation). He was directed to a monk. He came to him and told him that he had killed ninety-nine persons and asked him whether there was any scope for his repentance to be accepted. He said: No. He killed him also and thus completed one hundred. He then asked about the learned persons of the earth and he was directed to a scholar, and he told him that he had killed one hundred persons and asked him whether there was any scope for his repentance to be accepted. He said: Yes; what stands between you and the repentance? You better go to such and such land; there are people devoted to prayer and worship and you also worship along with them and do not come to the land of yours since it was an evil land (for you). So he went away and he had hardly covered half the distance when death came to him and there was a dispute between the angels of mercy and the angels of punishment. The angels of mercy said: This man has come as a penitant and remorseful to Allah and the angels of punishment said: He has done no good at all. Then there came another angel in the form of a human being in order to decide between them. He said: You measure the land to which he has drawn near. They measured it and found him nearer to the land where he intended to go (the land of piety), and so the angels of mercy took possession of it. Qatada said that Hasan told him that it was said to them that as death approached him, he crawled upon his chest (and managed) to slip in the land of mercy
ہشام نے قتادہ سے ، انہوں نے ابوصدیق سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک شخص تھا اس نے ننانوے قتل کیے ، پھر اس نے زمین پر بسنے والوں میں سے سب سے بڑے عالم کے بارے میں پوچھا ( کہ وہ کون ہے ۔ ) اسے ایک راہب کا پتہ بتایا گیا ۔ وہ اس کے پاس آیا اور پوچھا کہ اس نے ننانوے قتل کیے ہیں ، کیا اس کے لیے توبہ ( کی کوئی سبیل ) ہے؟ اس نے کہا : نہیں ۔ تو اس نے اسے بھی قتل کر دیا اور اس ( کے قتل ) سے سو قتل پورے کر لیے ۔ اس نے پھر اہل زمین میں سے سب سے بڑے عالم کے بارے میں دریافت کیا ۔ اسے ایک عالم کا پتہ بتایا گیا ۔ تو اس نے ( جا کر ) کہا : اس نے سو قتل کیے ہیں ، کیا اس کے لیے توبہ ( کا امکان ) ہے؟ اس ( عالم ) نے کہا : ہاں ، اس کے اور توبہ کے درمیان کون حائل ہو سکتا ہے؟ تم فلاں فلاں سرزمین پر چلے جاؤ ، وہاں ( ایسے ) لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں ، تم بھی ان کے ساتھ اللہ کی عبادت میں مشغول ہو جاؤ اور اپنی سرزمین پر واپس نہ آو ، یہ بُری ( باتوں سے بھری ہوئی ) سرزمین ہے ۔ وہ چل پڑا ، یہاں تک کہ جب آدھا راستہ طے کر لیا تو اسے موت آ لیا ۔ اس کے بارے میں رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے جھگڑنے لگے ۔ رحمت کے فرشتوں نے کہا : یہ شخص توبہ کرتا ہوا اپنے دل کو اللہ کی طرف متوجہ کر کے آیا تھا اور عذاب کے فرشتوں نے کہا : اس نے کبھی نیکی کا کوئی کام نہیں کیا ۔ تو ایک فرشتہ آدمی کے روپ میں ان کے پاس آیا ، انہوں نے اسے اپنے درمیان ( ثالث ) مقرر کر لیا ۔ اس نے کہا : دونوں زمینوں کے درمیان فاصلہ ماپ لو ، وہ دونوں میں سے جس زمین کے زیادہ قریب ہو تو وہ اسی ( زمین کے لوگوں ) میں سے ہو گا ۔ انہوں نے مسافت کو ماپا تو اسے اس زمین کے قریب تر پایا جس کی طرف وہ جا رہا تھا ، چنانچہ رحمت کے فرشتوں نے اسے اپنے ہاتھوں میں لے لیا ۔ "" قتادہ نے کہا : حسن ( بصری ) نے کہا : ( اس حدیث میں ) ہمیں بتایا گیا کہ جب اسے موت نے آ لیا تھا تو اس نے اپنے سینے سے ( گھسیٹ کر ) خود کو ( گناہوں بھری زمین سے ) دور کر لیا تھا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَمَا سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ حَدِيثًا وَاحِدًا قَالَ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأُتِيَ بِجُمَّارٍ . فَذَكَرَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمَا .
Mujahid said:(I have had the privilege) of accompanying Ibn 'Umar up to Medina but I did not hear him narrate anything from Allah's Messenger (ﷺ) except one hadith. And he said: We were in the presence of Allah's Messenger (ﷺ) that there was brought to him the kernel of a date. The rest of the hadith is the same
ابن ابی نجیح نے مجاہد سے روایت کی ، کہا : میں مدینہ تک حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ رہا ، میں نے انھیں ایک حدیث کے سوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے نہیں سنا ۔ انھوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے تو آپ کے پاس کھجور کے تنے کانرم گودا لایا گیا ۔ پھر ان دونوں ( ابوخلیل ضبعی اورعبداللہ بن دینار ) کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ هَارُونَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ضِرْسُ الْكَافِرِ أَوْ نَابُ الْكَافِرِ مِثْلُ أُحُدٍ وَغِلَظُ جِلْدِهِ مَسِيرَةُ ثَلاَثٍ " .
It is transmitted on the authority of Abu Huraira that Allah's Messenger (ﷺ) said:The molar tooth of an unbeliever or the canine teeth of an unbeliever will be like Uhud and the thickness of his skin a three night's journey
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کافر کی داڑھ یا ( فرمایا : ) کافر کا کچلی دانت اُحد پہاڑ جتنا ہوجائے گا اور اس کی کھال کی موٹائی تین دن چلنے کی مسافت کے برابر ہوگی ۔
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ فُرَاتٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ، قَالَ كُنَّا نَتَحَدَّثُ فَأَشْرَفَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . بِنَحْوِ حَدِيثِ مُعَاذٍ وَابْنِ جَعْفَرٍ . وَقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ، الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ، بِنَحْوِهِ قَالَ وَالْعَاشِرَةُ نُزُولُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ . قَالَ شُعْبَةُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ .
Another chain of transmitters reports the like of the previous two chains. Abu Sariha reported:We were discussing (the Last Hour) that Allah's Apostle (ﷺ) looked towards us. The rest of the hadith is the same and the tenth (sign) was the descent of Jesus Christ son of Mary, and Shu'ba said: 'Abd al-'Aziz did not trace it directly to Allah's Apostle (ﷺ)
محمد بن مثنیٰ نے بھی ہمیں یہی ( حدیث ) بیان کی ، کہا : ابو نعمان حکم بن عبداللہ عجلی نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : شعبہ نے ہمیں فرات سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے ابو طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ حضرت ابوسریحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کررہے تھے ، کہا : ہم باتیں کررہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر سے جھانک کرہمیں دیکھا ، ( اس کے بعد ) معاذ اور ابن جعفر کی حدیث ہے ۔ ابن مثنیٰ نے کہا : ہمیں ابو نعمان حکیم بن عبداللہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے عبدالعزیز بن رفیع سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے حضرت ابو سریحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسی طرح روایت کی ، کہا : دسویں ( علامت ) حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نزول ہے ۔ شعبہ نے کہا : عبدالعزیز نےاسے مر فوع بیان نہیں کیا ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ مُعَاذَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ، صلى الله عليه وسلم مِنْ إِنَاءٍ - بَيْنِي وَبَيْنَهُ - وَاحِدٍ فَيُبَادِرُنِي حَتَّى أَقُولَ دَعْ لِي دَعْ لِي . قَالَتْ وَهُمَا جُنُبَانِ .
A'isha reported:I and the Messenger of Allah (ﷺ) took a bath from one vessel which was placed between me and him and he would get ahead of me, so that I would say: Spare (some water for) me, spare (some water for) me; and she said that they had had sexual intercourse
(حضرت عائشہ کی شاگرد ) معاذہ بنت عبد اللہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، انہوں نے کہا میں اور رسول اللہ ﷺ ایک برتن سے ، جو میرے اور آپ کے درمیان ہوتا ، غسل کرتے ۔ آپ میری نسبت جلد پانی لیتے حتی کہ میں کہتی : میرے لیے چھوڑیے ، میرے لیے چھوڑیے ۔ وہ ( معاذہ ) کہتی ہے اوروہ دونوں جنبی ہوتے ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، كِلاَهُمَا عَنِ الضَّحَّاكِ، - قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، أَرَادَ بِنَاءَ الْمَسْجِدِ فَكَرِهَ النَّاسُ ذَلِكَ وَأَحَبُّوا أَنْ يَدَعَهُ عَلَى هَيْئَتِهِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ بَنَى مَسْجِدًا لِلَّهِ بَنَى اللَّهُ لَهُ فِي الْجَنَّةِ مِثْلَهُ " .
Mahmud b. Labid reported that 'Uthman b. 'Affan decided to rebuild the mosque (of Allah's Apostle in Medina) but the people did not like this idea and they wished that it should be preserved in the same (old) form. Thereupon he (Hadrat 'Uthman) said:I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: He who builds a mosque for Allah, Allah would build for him (a house) in Paradise like it
ضحاک بن مخلد نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عبد الحمید بن جعفر نے خبر دی کہا : ہمیں میرے والد نے محمود بن لبید سے حدیث بیان کی کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسجد بنانے کا ارداہ کیا تو لوگوں نے اس کو ناپسند کیا ۔ وہ چاہتے تھے کہ اس ( مسجد ) کو اس کی اصل حالت پر رہنے دیا جائے تو انھوں ( عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " جس نے اللہ کے لیے مسجد بنائی اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں اس کے مانند گھر بنائے گا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَبْدَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَانَ يَجْهَرُ بِهَؤُلاَءِ الْكَلِمَاتِ يَقُولُ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ تَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلاَ إِلَهَ غَيْرُكَ . وَعَنْ قَتَادَةَ أَنَّهُ كَتَبَ إِلَيْهِ يُخْبِرُهُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ فَكَانُوا يَسْتَفْتِحُونَ بِـ { الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} لاَ يَذْكُرُونَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فِي أَوَّلِ قِرَاءَةٍ وَلاَ فِي آخِرِهَا .
Abda reported:'Umar b. al-Khattab used to recite loudly these words: Subhanak Allahumma wa bi hamdika wa tabarakasmuka wa ta'ala jadduka wa la ilaha ghairuka [Glory to Thee,0 Allah, and Thine is the Praise, and Blessed is Thy Name. and Exalted is Thy Majesty. and there is no other object of worship beside Thee]. Qatada informed in writing that Anas b. Malik had narrated to him: I observed prayer behind the Messenger of Allah (ﷺ) and Abu Bakr and Umar and 'Uthman. They started (loud recitation) with: AI-hamdu lillahi Rabb al-'Alamin [All Praise is due to Allah, the Lord of the worlds] and did not recite Bismillah ir- Rahman-ir-Rahim (loudly) at the beginning of the recitation or at the end of it
وزاعی نے عبدہ سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ یہ کلمات بلند آواز سے پڑھتے تھے : سبحانك اللهم! وبحمدك ، تبارك اسمك وتعالى جدك ، ولا إله غيرك ’’اے اللہ! تو اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے ۔ تیرا نام بڑا بابرکت ہے اور تیری عظمت وشان بڑی بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں ۔ ‘ ‘ ( نیز اوزاعی ہی کی ) قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ( اپنی ) روایت کی خبر دیتے ہوئے ان ( اوزاعی ) کی طرف لکھ بھیجا کہ انہوں نے ( انس رضی اللہ عنہ ) نے قتادہ کو حدیث سنائی ، کہا : میں نے نبیﷺ ، ابو بکر ، عمر اورعثمان رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی ہے ، وہ ( نماز کا ) آغاز الحمد لله رب العالمين سے کرتے تھے ، وہ بسم الله الرحمن الرحيم ( بلند آواز سے ) نہیں کہتے تھے ، نہ قراءت کے شروع میں اور نہ اس کے آخر میں ہی ( دوسری سورت کے آغاز پر)