بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
56 hadith
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ فُضِّلْنَا عَلَى النَّاسِ بِثَلاَثٍ جُعِلَتْ صُفُوفُنَا كَصُفُوفِ الْمَلاَئِكَةِ وَجُعِلَتْ لَنَا الأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدًا وَجُعِلَتْ تُرْبَتُهَا لَنَا طَهُورًا إِذَا لَمْ نَجِدِ الْمَاءَ ‏"‏ ‏.‏ وَذَكَرَ خَصْلَةً أُخْرَى ‏.‏
Hudhaifa reported:The Messenger of Allah (may peace be npon him) said: We have been made to excel (other) people in three (things): Our rows have been made like the rows of the angels and the whole earth has been made a mosque for us, and its dust has been made a purifier for us in case water is not available. And he mentioned another characteristic too
حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے ‌روایت ‌ہے ‌كہ ‌رسول ‌اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌نے ‌فرمایا ‌ہم ‌لوگوں ‌كو ‌اور ‌لوگوں ‌پر ‌فضیلت ‌ملی ‌تین ‌باتوں ‌كی ‌وجہ ‌سے ‌ہماری ‌صفیں ‌فرشتوں ‌كی ‌صفوں ‌كی ‌طرح ‌كی ‌گئی ‌اور ‌ہمارے ‌لیے ‌ساری ‌زمین ‌نماز ‌كی ‌جگہ ‌ہے ‌اور ‌زمین ‌كی ‌خاك ‌ہم ‌كو ‌پاك ‌كرنے ‌والی ‌ہے ‌جب ‌پانی ‌نہ ‌ملے ‌اور ‌ایك ‌بات ‌اور ‌بیان ‌كی ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ إِدْرِيسَ ‏.‏
Ya'la b. Umayya reported:I said to 'Umar b. al-Khattab, and the rest of the hadlth is the same
یحییٰ نے ابن جریج سے سابقہ سند کے ساتھ حضرت یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا! میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کی ۔ ۔ ۔ ( بقیہ روایت ) ابن ادریس کی حدیث کی طرح ہے ۔
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، ‏.‏ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، بَيْنَا هُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَنَادَاهُ عُمَرُ أَيَّةُ سَاعَةٍ هَذِهِ فَقَالَ إِنِّي شُغِلْتُ الْيَوْمَ فَلَمْ أَنْقَلِبْ إِلَى أَهْلِي حَتَّى سَمِعْتُ النِّدَاءَ فَلَمْ أَزِدْ عَلَى أَنْ تَوَضَّأْتُ ‏.‏ قَالَ عُمَرُ وَالْوُضُوءَ أَيْضًا وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَأْمُرُ بِالْغُسْلِ ‏.‏
Abdullah (b. 'Umar) reported from his father that while he was addressing the people on Friday (sermon), a person, one of the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ), entered (the mosque). Umar said to him loudly:What is this hour (for attending the prayer)? He said: I was busy today and I did not return to my house when I heard the call (to Friday prayer), and I did no more but performed ablution only. Upon this Umar said: just ablution! You know that the Messenger of Allah (ﷺ) commanded (us) to take a bath (on Friday)
حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جمعے کے دن لوگوں کوخطاب فرمارہےتھے ( کہ اسی اثناء میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین میں سے ایک شخص داخل ہوا ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں آوازدی : ( آنےکی ) یہ کون سی گھڑی ہے؟انھوں نے کہا : میں آج مصروف ہوگیا ، گھر لوٹتے ہیں میں نے اذان سنی اور صرف وضو کیا ( اورحاضر ہوگیاہوں ) حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اور وہ بھی ( صرف ) وضو؟حالانکہ آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کرنے کاحکم دیتے تھے ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيِّ، قَالاَ لَمْ يَكُنْ يُؤَذَّنُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَلاَ يَوْمَ الأَضْحَى ‏.‏ ثُمَّ سَأَلْتُهُ بَعْدَ حِينٍ عَنْ ذَلِكَ فَأَخْبَرَنِي قَالَ أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ
Ibn 'Abbas and Jaibir b. 'Abdullah al-Ansari reported:There was no Adhan on the (occasion) of Id-ul-Fitr and Id-ul-Adha. I (Ibn Juraij) said: I asked him after some time about it. He ('Ata', one of the narrators) said: Jabir b. 'Abdullah al-Ansari told me: There is neither any Adhan on Id-ul-Fitr when the Imam comes out, nor even after his coming out; their is neither lqama nor call nor anything of the sort of calling on that day and nor Iqama
سیدنا ابن عباس اور سیدنا جابر ؓ نے کہا کہ اذان نہ عیدالفطر میں ہوتی تھی اور نہ عید الاضحیٰ میں ۔ پھر میں نے ان سے پوچھا تھوڑی دیر کے بعد اسی بات کو ، (یہ قول ہے ابن جریج راوی کا) تو انہوں نے کہا (یعنی ان کے شیخ عطاء نے) کہ خبر دی مجھے سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری ؓ نے کہ نہ اذان ہوتی تھی عیدالفطر میں جب نکلتا تھا اور نہ بعد اس کے نکلنے کے اور نہ تکبیر ہوتی ، نہ اذان اور نہ اور کچھ وہ دن ایسا ہے کہ اس دن نہ اذان ہے نہ تکبیر ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ ‏.‏
Anas reported:I saw the Messenger of Allah (ﷺ) raising his hands (high enough) in supplication (for rain) that the whiteness of his armpits became visible
شعبہ نے ثابت سے اورانھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ دعا کے لئے دونوں ہاتھ اٹھاتے حتیٰ کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آتی تھی ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ شِهَابٍ، يُخْبِرُ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم جَهَرَ فِي صَلاَةِ الْخُسُوفِ بِقِرَاءَتِهِ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ ‏.‏ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَأَخْبَرَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ ‏.‏
A'isha reported that the Messenger of Allah (ﷺ) recited loudly in the eclipse prayer, and he observed four rak'ahs in the form of two rak'ahs and four prostrations. Zuhri said:Kathir b. 'Abbas narrated on the authority of Ibn 'Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) observed four rak'ahs and four prostrations in two rak'ahs
عبدالرحمان بن نمر نے خبر دی کہ انھوں نے ابن شہاب سے سنا ، وہ عروہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے خبر دے رہے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صلاۃ الخسوف ( چاند یاسورج گرہن کی نماز ) میں بلند آوازسے قراءت کی اور دو رکعتوں میں چار رکوع اور چار سجدے کرکے نماز ادا کی ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ سَفِينَةَ، يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ سَلَمَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَا مِنْ عَبْدٍ تُصِيبُهُ مُصِيبَةٌ فَيَقُولُ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللَّهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا إِلاَّ أَجَرَهُ اللَّهُ فِي مُصِيبَتِهِ وَأَخْلَفَ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ كَمَا أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْلَفَ اللَّهُ لِي خَيْرًا مِنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Umm Salama, the wife of the Messenger of Allah (ﷺ), reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:If any servant (of Allah) who suffers a calamity says:" We belong to Allah and to Him shall we return; O Allah, reward me for my affliction and give me something better than it in exchange for it," ' Allah will give him reward for affliction, and would give him something better than it in exchange. She (Umm Salama) said: When Abu Salama died. I uttered (these very words) as I was commanded (to do) by the Messenger of Allah (ﷺ). So Allah gave me better in exchange than him. i. e. (I was taken as the wife of) the Messenger of Allah (ﷺ)
ابو اسامہ نے سعد بن سعید سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے عمر بن کثیر بن افلح نے خبر دی ، انھوں نے کہا : میں نے ابن سفینہ سے سنا ، وہ بیان کررہے تھے کہ انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ کو یہ کہتے ہوئے سناکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : "" کوئی بندہ نہیں جسے مصیبت پہنچے اور وہ کہے : بےشک ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔ اے اللہ!مجھے میری مصیبت کا اجردے اور مجھے اس کا بہتر بدل عطا فرما ، مگر اللہ تعالیٰ اسے اس کی مصیبت کا اجر دیتاہے اور اسے اس کا بہتر بدل عطا فرماتاہے ۔ "" ( حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : تو جب ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہوگئے ، میں نے اس طرح کہا جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں ان سے بہتر بدل عطا فرمادیا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ مِنْ تَمْرٍ وَلاَ حَبٍّ صَدَقَةٌ ‏"‏ ‏.‏
Abu Sa'id al-Khudri reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:No Sadaqa is payable on less than five wasqs of dates or grains
وکیع نے سفیان سے ، انھوں نے اسماعیل بن امیہ سے ، انھوں نے محمد بن یحییٰ بن حبان سے ، انھوں نے یحییٰ بن عمارہ سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نےکہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " پانچ وسق سے کم کھجور اور غلے میں صدقہ نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رضى الله عنهما أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَكَرَ رَمَضَانَ فَضَرَبَ بِيَدَيْهِ فَقَالَ ‏ "‏ الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا - ثُمَّ عَقَدَ إِبْهَامَهُ فِي الثَّالِثَةِ - فَصُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ ثَلاَثِينَ ‏"‏ ‏.‏
Ibn Umar reported that Allah's Messenger (ﷺ) made a mention of Ramadan and he with the gesture of his hand said:The month is thus and thus. (He then withdrew his thumb at the third time). He then said: Fast when you see it, and break your fast when you see it, and if the weather is cloudy calculate it (the months of Sha'ban and Shawwal) as thirty days
ابواسامہ نے کہا : عبیداللہ نے ہمیں نافع سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا ذکر کیا تو اپنے دونوں ہاتھوں سے سمجھاتے ہوئے فرمایا : " مہینہ اس طرح اور اس طرح اوراس طرح ہوتا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری بار اپنا انگوٹھا بند کرلیا ۔ ( یعنی 29 کی گنتی بتائی ) چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور اسے دیکھ کر روزے ختم کرو ، اگر تمھارا مطلع ابر آلود ہوجائے تو اس کے تیس دن پورے کرو ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ ‏.‏
A'isha (Allah be pleased with her) reported that the Messenger of Allah (may peace he upon him) used to observe i'tikif in the last ten days of Ramadan till Allah called him back (to his heavenly home). Then his wives observed i'tikaf after him
زہری نے عروہ کے واسطے سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کےآخری دس دنوں میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ( آخری عشرے میں ) اعتکاف کرتی رہیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، قَالاَ جَمِيعًا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ بِعَرَفَاتٍ ‏.‏ فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ ‏.‏
Amr b. Dinar narrated with the same chain of transmitters that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) delivering sermon at 'Arafat, and he made a mention of this hadith (as quoted above)
شعبہ نے عمرو بن دینار سے یہ روایت اسی سندکے ساتھ بیان کی کہ انھوں ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفات میں خطبہ دیتے سنا ، پھر یہی حدیث سنائی ۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ، عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ دَخَلْنَا عَلَيْهِ وَأَنَا أَحْدَثُ الْقَوْمِ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ وَلَمْ يَذْكُرْ فَلَمْ أَلْبَثْ حَتَّى تَزَوَّجْتُ ‏.‏
Abd al-Rahman b. Yazid reported on the authority of Abdullah:We went to him, and I was the youngest of all (of us), but he did not mention:" I lost no time in marrying
وکیع نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اعمش نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، ( عبدالرحمان بن یزید نے ) کہا : ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے ، میں سب سے کم عمر تھا ، آگے انہی کی حدیث کے مانند ہے ، ( مگر ) انہوں نے یہ نہیں کہا : " اس کے بعد میں نے زیادہ عرصہ توقف کیے بغیر شادی کر لی
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أَتَانِي عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ أَفْلَحُ بْنُ أَبِي قُعَيْسٍ ‏.‏ فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ وَزَادَ قُلْتُ إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ قَالَ ‏ "‏ تَرِبَتْ يَدَاكِ أَوْ يَمِينُكِ‏"‏ ‏.‏
A'isha (Allah be pleased with her) reported:There came to me Aflah b. Abu Qulais, my uncle by reason of fosterage; the rest of the hadith is the same (but with this) addition:" I ('A'isha) said (to the Holy Prophet): It was the woman who suckled me and not the man, whereupon he (Allah's Messenger) said: May your hands or your right hand be besmeared with dust (you were mistaken)
سفیان بن عیینہ نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عروہ سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میرے پاس میرے رضاعی چچا افلح بن ابی قعیس آئے ، ( آگے ) امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کی حدیث کے ہم معنی بیان کیا اور یہ اضافہ کیا : ( عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : ) میں نے عرض کی : مجھے تو عورت نے دودھ پلایا ہے ، مرد نے نہیں پلایا ۔ آپ نے فرمایا : " تیرے دونوں ہاتھ یا تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهْىَ حَائِضٌ فَسَأَلَ عُمَرُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَهُ أَنْ يَرْجِعَهَا ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً أُخْرَى ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ يُطَلِّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ يُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ ‏.‏ قَالَ فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ وَهْىَ حَائِضٌ يَقُولُ أَمَّا أَنْتَ طَلَّقْتَهَا وَاحِدَةً أَوِ اثْنَتَيْنِ ‏.‏ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَهُ أَنْ يَرْجِعَهَا ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً أُخْرَى ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ يُطَلِّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا وَأَمَّا أَنْتَ طَلَّقْتَهَا ثَلاَثًا فَقَدْ عَصَيْتَ رَبَّكَ فِيمَا أَمَرَكَ بِهِ مِنْ طَلاَقِ امْرَأَتِكَ ‏.‏ وَبَانَتْ مِنْكَ ‏.‏
Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) reported that he divorced his wife during the period of menses. 'Umar (Allah be, pleas'ed with him) asked Allah's Apostle (ﷺ), and he commanded him ('Abdullah b. 'Umar) to have her back and then allow her respite until she enters the period of the second menses, and then allow her respite until she is purified, then divorce her (finally) before touching her (having a sexual intercourse with her), for that is the prescribed period which Allah commanded (to be kept in view) for divorcing the women. When Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) was asked about the person who divorces his wife in the state of menses, he said:If you pronounced one divorce or two, Allah's Messenger (ﷺ) had commanded him to take her back, and then allow her respite until she enters the period of the second menses, and then allow her respite until she is purified, and then divorce her (finally) before touching her (having a sexual intercourse with her) ; and if you have pronounced (three divorces at one and the same time) you have in fact disobeyed your Lord with regard to what He commanded you about divorcing your wife. But she is however (finally separated from you)
ایوب نے نافع سے روایت کی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ( اس کے بارے میں ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا ، تو آپ نے انہیں حکم دیا کہ وہ ( ابن عمر رضی اللہ عنہ ) اس عورت سے رجوع کرے ، پھر اسے مہلت دے حتی کہ اسے دوسرا حیض آئے ، پھر اسے مہلت دے حتی کہ وہ پاک ہو جائے ، پھر اسے چھونے ( مجامعت کرنے ) سے پہلے طلاق دے ، یہی وہ عدت ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اس کے مطابق عورتوں کو طلاق دی جائے ۔ ( نافع نے ) کہا : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے جب اس آدمی کے بارے میں پوچھا جاتا جو اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دیتا ہے تو وہ کہتے : اگر تم نے ایک یا دو طلاقیں دی ہیں ( تو رجوع کر سکتے ہو کیو کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تھا کہ اس سے رجوع کریں ، پھر اسے مہلت دیں حتی کہ اسے دوسرا حیض آئے ، ( فرمایا : ) پھر اسے مہلت دیں حتی کہ وہ پاک ہو جائے ، پھر اس سے مجامعت کرنے سے پہلے اسے طلاق دیں ۔ اور اگر تم نے تین طلاقیں دی ہیں تو تم نے اپنے رب کے حکم میں جو اس نے تمہاری بیوی کی طلاق کے حوالے سے تمہیں دیا ہے ، اس کی نافرمانی کی ہے اور ( اب ) وہ تم سے ( مستقل طور پر ) جدا ہو گئی ہے
وَحَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ، أَبِي سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، قَالَ سُئِلْتُ عَنِ الْمُتَلاَعِنَيْنِ، زَمَنَ مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ فَلَمْ أَدْرِ مَا أَقُولُ فَأَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَقُلْتُ أَرَأَيْتَ الْمُتَلاَعِنَيْنِ أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ ‏.‏
A hadith like this is narrated by Ibn Numair with a slight variation of words
اس سند سے ہی مندرجہ بالا روایت نقل کی گئی ہے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، - يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ - عَنْ سَعِيدِ بْنِ، أَبِي عَرُوبَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَزَادَ ‏ "‏ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ قُوِّمَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ قِيمَةَ عَدْلٍ ثُمَّ يُسْتَسْعَى فِي نَصِيبِ الَّذِي لَمْ يُعْتِقْ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Sa'id b. Abu 'Aruba with the same chain of transmitters but with the addition:" If he (one of the joint owners emancipating the slave) has not (enough) money (to secure freedom for the other half) a fair price for the slave should be fixed, and he will be required to work to pay for his freedom, but must not be over-burdened
ترجمہ ‌دوسری ‌روایت ‌كا ‌بھی ‌وہی ‌ہے ‌جو ‌اوپر ‌گذرا ‌اس ‌میں ‌اتنا ‌زیادہ ‌ہے ‌كہ ‌اگر ‌وہ ‌آزاد ‌كرنے ‌والا ‌مال ‌دار ‌نہ ‌ہو ‌تو ‌غلام ‌كی ‌واجبی ‌قیمت ‌لگائی ‌جائے ‌اور ‌محنت ‌كرے ‌اپنے ‌باقی ‌حصے ‌كے ‌لیے ‌جو ‌آزاد ‌نہیں ‌ہوا ‌مگر ‌اس ‌پر ‌جبر ‌نہیں ‌ہوگا ۔ ‌
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو، بْنُ دِينَارٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ نُهِيَ عَنْ بَيْعَتَيْنِ، الْمُلاَمَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ ‏.‏ أَمَّا الْمُلاَمَسَةُ فَأَنْ يَلْمِسَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ثَوْبَ صَاحِبِهِ بِغَيْرِ تَأَمُّلٍ وَالْمُنَابَذَةُ أَنْ يَنْبِذَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ثَوْبَهُ إِلَى الآخَرِ وَلَمْ يَنْظُرْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا إِلَى ثَوْبِ صَاحِبِهِ‏.‏
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported:Two types of trarisactions have been forbidden (by the Holy Prophet), al-Mlulamasa and al-Munabadha. As far as Mulamasa transaction is concerned, it is that every one of them (the parties entering into transaction) should touch the garment of the other without careful consideration, and al-Munabadha is that every one of them should throw his cloth to the other and one of them should not see the cloth of his friend
عمرو بن دینار نے عطاء بن میناء سے روایت کی کہ انہوں نے ان ( عطاء ) کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے کہا : دو قسم کی بیعوں ( یعنی ) ملامسہ اور منابذہ سے منع کیا گیا ہے ۔ ملامسہ یہ ہے کہ دونوں ( بیچنے والے اور خریدنے والے ) میں سے ہر ایک بغیر سوچے ( اور غور کیے ) اپنے ساتھی کے کپڑے کو چھوئے ، اور منابذہ یہ ہے کہ دونوں میں سے ہر ایک اپنا کپڑا دوسرے کی طرف پھینکے اور کسی نے بھی اپنے ساتھی کے کپڑے کو ( جس کے ساتھ اس کے کپڑے کا تبادلہ ہو رہا ہے ) نہ دیکھا ہو ۔ ( اور اسی سے بیع کی تکمیل ہو جائے)
وَحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ، اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ دَفَعَ إِلَى يَهُودِ خَيْبَرَ نَخْلَ خَيْبَرَ وَأَرْضَهَا عَلَى أَنْ يَعْتَمِلُوهَا مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَلِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَطْرُ ثَمَرِهَا ‏.‏
Abdullah b. Umar (Allah be pleased with them) reported that Allah's Messenger (ﷺ) returned to the Jews of Khaibar the date-palms of Khaibar and its land on the condition that they should work upon them with their own wealth (seeds, implements), and give half of the yield to Allah's Messenger (ﷺ)
محمد بن عبدالرحمٰن نے نافع سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے خیبر کے نخلستان اور زمینیں اس شرط پر خیبر کے یہودیوں کے سپرد کیں کہ وہ اپنے اموال لگا کر اس ( کی زمینوں اور باغوں کی دیکھ بھال اور کھیتی باڑی ) کا کام کاج کریں گے اور اس کی پیداوار کا آدھا حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہو گا
وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ أَبُو كُرَيْبٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ يَحْيَى، بْنِ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ نَحْوَ حَدِيثِ وُهَيْبٍ وَرَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ ‏.‏
There is another chain of Tawus reporting like the reports that were mentioned before the previous hadith chain through Tawus (the chains of Wuhaib and Rowh bin Qasim)
یحییٰ بن ایوب نے ابن طاوس سے اسی سند کے ساتھ وہیب اور روح بن قاسم کی حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ، بْنَ الْخَطَّابِ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَوَجَدَهُ يُبَاعُ فَأَرَادَ أَنْ يَبْتَاعَهُ فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ ‏ "‏ لاَ تَبْتَعْهُ وَلاَ تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ ‏"‏ ‏.‏
Ibn 'Umar reported that 'Umar b. al-Khattib (Allah be pleased with him) donated a horse in the path of Allah and (later on) he found it being sold, and he decided to buy that. He asked the Messenger of Allah (ﷺ) about it. whereupon he (the Holy prophet) said:Don't buy that and do not get back what you gave in charity
امام مالک نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اللہ کی راہ میں ایک گھوڑا سواری کے طور پر دیا ، پھر انہوں نے اسے اس حالت میں پایا کہ اس کو فروخت کیا جا رہا تھا ، انہوں نے اسے خریدنے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اسے مت خریدو اور ( کبھی ) اپنا صدقہ واپس نہ لو
وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ح وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ نَحْوَ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters
یونس ، عقیل اور معمر سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ عمرو بن حارث کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى عَنِ النَّذْرِ وَقَالَ ‏ "‏ إِنَّهُ لاَ يَأْتِي بِخَيْرٍ وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ ‏"‏ ‏.‏
Ibn Umar reported that Allah's Apostle (ﷺ) forbade (people) taking vows, and said:It does not (necessarily) bring good (in the form of substantial, and tangible results), but it is the meant whereby something is extracted from the miserly persons
شعبہ نے ہمیں منصور سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبداللہ بن مرہ سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے نذر سے منع کیا اور فرمایا : " بلاشبہ یہ کوئی خیر لے کر نہیں آتی ، اس کے ذریعے سے تو بخیل سے ( کچھ ) نکلوایا جاتا ہے
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ الْقَطَّانُ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، ح وَحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ هِلاَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ، رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ، ‏.‏ كُلُّ هَؤُلاَءِ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، بِمِثْلِ هَذِهِ الْقِصَّةِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
This hadith is narrated on the authority of Ibn Umar through another chain of transmitters
عبداللہ بن نمیر ، عبیداللہ ، ایوب ، ولید بن کثیر ، اسماعیل بن امیہ ، ضحاک ، ابن ابی ذئب اور عبدالکریم ، ان سب کے شاگردوں نے ان سے اور انہوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی قصے کے مانند بیان کیا
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلِ بْنِ زَيْدٍ، وَمُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودِ بْنِ زَيْدٍ الأَنْصَارِيَّيْنِ، ثُمَّ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهِيَ يَوْمَئِذٍ صُلْحٌ وَأَهْلُهَا يَهُودُ فَتَفَرَّقَا لِحَاجَتِهِمَا فَقُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ فَوُجِدَ فِي شَرَبَةٍ مَقْتُولاً فَدَفَنَهُ صَاحِبُهُ ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَمَشَى أَخُو الْمَقْتُولِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَمُحَيِّصَةُ وَحُوَيِّصَةُ فَذَكَرُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَأْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَحَيْثُ قُتِلَ فَزَعَمَ بُشَيْرٌ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَمَّنْ أَدْرَكَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ لَهُمْ ‏"‏ تَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا وَتَسْتَحِقُّونَ قَاتِلَكُمْ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ ‏"‏ صَاحِبَكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا شَهِدْنَا وَلاَ حَضَرْنَا ‏.‏ فَزَعَمَ أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ نَقْبَلُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كُفَّارٍ فَزَعَمَ بُشَيْرٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَقَلَهُ مِنْ عِنْدِهِ ‏.‏
Bushair b. Yasar reported that 'Abdullah b. Sahl b. Zaid and Muhayyisa b. Mas'ud b. Zaid, both of them were Ansar belonging to the tribe of Banu Haritha, set out to Khaibar during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ). There was peace during those days and (this place) was inhabited by the Jews. They parted company for their (respective) needs. 'Abdullab b. Sahl was killed, and his dead body was found in a tank. His companion (Muhayyisa) buried him and came to Medina, and the brothers of the slain 'Abd al-Rahman b. Sahl. and Muhayyisa and Huwayyisa told Allah's Messenger (ﷺ) the case of 'Abdullah and the place where he had been murdered. Bushair reported on the authority of one who had seen Allah's Messenger (ﷺ) that he had said to them:You take fifty oaths and you are entitled to blood-wit of (one) slain among you (or your companion). They said: Messenger of Allah, we neither saw (with our own eyes this murder) nor were we present there. Thereupon (Allah's Messenger is reported to have said): Then the Jews will exonerate themselves by taking fifty oaths. They said: Allah's Messenger, how can we accept the oath of unbelieving people? Bushair said that Allah's Messenger (ﷺ) paid the blood-wit himself
سلیمان بن بلال نے یحییٰ بن سعید سے ، انہوں نے بشیر بن یسار سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں عبداللہ بن سہل بن زید انصاری اور محیصہ بن مسعود بن زید انصاری ، جن کا تعلق قبیلہ بنو حارثہ سے تھا ، خیبر کی طرف نکلے ، ان دنوں وہاں صلح تھی ، اور وہاں کے باشندے یہودی تھے ، تو وہ دونوں اپنی ضروریات کے پیش نظر الگ الگ ہو گئے ، بعد ازاں عبداللہ بن سہل قتل ہو گئے اور کھجور کے تنے کے ارد گرد بنائے گئے پانی کے ایک گڑھے میں مقتول حالت میں ملے ، ان کے ساتھی نے انہیں دفن کیا ، پھر مدینہ آئے اور مقتول کے بھائی عبدالرحمان بن سہل اور ( چچا زاد ) محیصہ اور حویصہ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عبداللہ اور ان کو قتل کیے جانے کی صورت حال اور جگہ بتائی ۔ بشیر کا خیال ہے اور وہ ان لوگوں سے حدیث بیان کرتے ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو پایا کہ آپ نے ان سے فرمایا : " کیا تم پچاس قسمیں کھا کر اپنے اتل ۔ ۔ یا اپنے ساتھی ۔ ۔ ( سے بدلہ/دیت ) کے حق دار بنو گے؟ " انہوں نے کہا : اللہ کے رسول! نہ ہم نے دیکھا ، نہ وہاں موجود تھے ۔ ان ( بشیر ) کا خیال ہے کہ آپ نے فرمایا : " تو یہود پچاس قسمیں کھا کر تمہیں ( اپنے دعوے کے استحقاق سے ) الگ کر دیں گے ۔ " انہوں نے کہا : اے اللہ کے رسول! ہم کافر لوگوں کی قسمیں کیسے قبول کریں؟ بشیر کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے اس کی دیت ادا فرما دی
حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، بْنِ الْهَادِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لاَ تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ إِلاَّ فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا ‏"‏ ‏.‏
A'isha reported that she heard Allah's Apostle (ﷺ) as saying:The hand of the thief may not be cut off but for a quarter of a dinar and upwards
عبدالعزیز بن محمد نے یزید بن عبداللہ بن ہاد سے ، انہوں نے ابوبکر بن محمد سے ، انہوں نے عمرہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ کے سوا چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ، نُمَيْرٍ كِلاَهُمَا عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters
صالح اور معمر دونوں نے زہری سے اسی سند کے ساتھ یونس کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی ۔ معمر کی حدیث میں ہے : انہوں ( ام سلمہ رضی اللہ عنہا ) نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے دروازے پر جھگڑنے والوں کا شور سنا
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ بِلاَلٍ - عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ يَزِيدَ، مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ، صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ اللُّقَطَةِ الذَّهَبِ أَوِ الْوَرِقِ فَقَالَ ‏"‏ اعْرِفْ وِكَاءَهَا وَعِفَاصَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ لَمْ تَعْرِفْ فَاسْتَنْفِقْهَا وَلْتَكُنْ وَدِيعَةً عِنْدَكَ فَإِنْ جَاءَ طَالِبُهَا يَوْمًا مِنَ الدَّهْرِ فَأَدِّهَا إِلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ وَسَأَلَهُ عَنْ ضَالَّةِ الإِبِلِ فَقَالَ ‏"‏ مَا لَكَ وَلَهَا دَعْهَا فَإِنَّ مَعَهَا حِذَاءَهَا وَسِقَاءَهَا تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَجِدَهَا رَبُّهَا ‏"‏ ‏.‏ وَسَأَلَهُ عَنِ الشَّاةِ فَقَالَ ‏"‏ خُذْهَا فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ ‏"‏ ‏.‏
Zaid b. Khalid al-Juhani, the Companion ot Allah's Messenger (ﷺ), said that Allah's Messenger (ﷺ) was asked about the picking up of stray gold or silver, whereupon he said:Recognise well the strap and the bag (containing) that and then make an announcement regarding that for one year, but if none recognises it, then spend that and it would be a trust with you; and if someone comes one day to make demand of that, then pay that to him. He (the inquirer) asked about the lost camel, whereupon he said: You have nothing to do with that. Leave that alone, for it has feet and also a leather bag, it drinks water, and eats (the leaves) of the trees. He asked him about sheep, whereupon he said: Take it, it is for you, or for your brother, or for the wolf
سلیمان بن بلال نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے منبعث کے مولیٰ یزید سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی کے گرے یا بھولے ہوئے سونے اور چاندی کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس کی تھیلی اور ( باندھنے کی ) رسی کی شناخت کر لو ، پھر ایک سال اس کی تشہیر کرو ، اگر ( کچھ بھی ) نہ جان پاؤ تو اسے خرچ کر لو اور وہ تمہارے پاس امانت ہو گی ، اگر کسی بھی دن اس کا طلب کرنے والا آ جائے تو اسے اس کی ادائیگی کر دو ۔ " اس شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ اونٹ کے بارے میں پوچھا : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمہارا اس سے کیا واسطہ؟ اس کا جوتا اور مشکیزہ اس کے ساتھ ہے ، وہ مالک کے پا لینے تک ( خود ہی ) پانی پر آتا اور درخت کھاتا ہے ۔ اس نے آپ سے بکری کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے پکڑ لو ، وہ تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی ہے یا بھیڑیے کی ہے
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا ‏.‏
This hadith has been transmitted on the authority of Shu'ba
حسین بن ولید نے شعبہ سے یہی حدیث روایت کی
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ح وَحَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْوَاسِطِيُّ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ الطَّحَّانَ - عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ ‏"‏ إِنَّ هَذَا الأَمْرَ لاَ يَنْقَضِي حَتَّى يَمْضِيَ فِيهِمُ اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ تَكَلَّمَ بِكَلاَمٍ خَفِيَ عَلَىَّ - قَالَ - فَقُلْتُ لأَبِي مَا قَالَ قَالَ ‏"‏ كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ ‏"‏ ‏.‏
It has been narrated on the authority of Jabir b. Samura who said:I joined the company of the Prophet (ﷺ) with my father and I heard him say: This Caliphate will not end until there have been twelve Caliphs among them. The narrator said: Then he (the Holy Prophet) said something that I could not follow. I said to my father: What did he say? He said: He has said: All of them will be from the Quraish
حصین ( بن عبدالرحمٰن ) نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں اپنے والد ( حضرت سمرہ بن جنادہ رضی اللہ عنہ ) کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " اس امر کا خاتمہ اس وقت تک نہ ہو گا جب تک اس میں بارہ جانشیں نہ گزریں ۔ " پھر آپ نے کوئی بات کی جو مجھ پر واضح نہ ہوئی ۔ میں نے اپنے والد سے پوچھا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا : آپ نے فرمایا ہے : " وہ سب قریش میں سے ہوں گے
وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ، أَبِي السَّفَرِ وَعَنْ نَاسٍ، ذَكَرَ شُعْبَةُ عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمِعْرَاضِ ‏.‏ بِمِثْلِ ذَلِكَ ‏.‏
This hadith has been transmitted on the authority of 'Adi b. Hatim with a slight variation of words
غندر نے کہا : ہمیں شعبہ نے عبداللہ بن ابی سفر سے ، انھوں نے اور کچھ دیگر لوگوں نے جن کا شعبہ نے ذکر کیا ، شعبی سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بغیر پر والے تیر کےمتعلق سوا ل کیا ، اسی کے مانند ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba through another chain of transmitters
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ، سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كُنْتُ سَاقِيَ الْقَوْمِ يَوْمَ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ فِي بَيْتِ أَبِي طَلْحَةَ وَمَا شَرَابُهُمْ إِلاَّ الْفَضِيخُ الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ ‏.‏ فَإِذَا مُنَادٍ يُنَادِي فَقَالَ اخْرُجْ فَانْظُرْ فَخَرَجْتُ فَإِذَا مُنَادٍ يُنَادِي أَلاَ إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ - قَالَ - فَجَرَتْ فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ اخْرُجْ فَاهْرِقْهَا ‏.‏ فَهَرَقْتُهَا فَقَالُوا أَوْ قَالَ بَعْضُهُمْ قُتِلَ فُلاَنٌ قُتِلَ فُلاَنٌ وَهِيَ فِي بُطُونِهِمْ - قَالَ فَلاَ أَدْرِي هُوَ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ - فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ‏}‏
Anas b. Malik reported:I was the cup-bearer of some people in the house of Abu Talha on the day when liquor was forbidden. Their liquor had been prepared from dry dates or fresh dates when the announcer made the announcement. He (Abu Talha) said to me: Go out and find out (what the announcement is). I got out (and found) an announcer making this announcement: Behold, liquor has been declared unlawful. He said: The liquor (was spilt and) flawed in the lanes of Medina. Abu Talha said to me: Go out and Spill it, and I spilt it. They said or some of them said: Such and such were killed, such and such were killed for (the wine) had been in their stomachs. He (the narrator) said. I do not know whether it is the narration transmitted by Anas, (or by someone else). Then Allah, the Exalted and Majestic, revealed:" There shall be no sin (imputed) unto those who have believed and done good works for what they may have eaten as long as they fear (Allah) and believe and do good works" (v)
ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : جس دن شرا ب حرام کی گئی ، میں حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر ( لو گوں کو ) شراب پلا رہا تھا ۔ ان کی شرا ب ادھ پکی اور خشک کھجوروں سے تیار شدہ شرا ب کے سوا اور کو ئی نہ تھی ، اتنے میں ایک اعلا ن کرنے والا پکا رنے لگا ۔ انھوں نے کہا : میں جاؤں اور دیکھوں تو ( دیکھا کہ وہاں ) ایک منا دی اعلا ن کر رہا تھا : ( لوگو ) سنو! شراب حرام کر دی گئی ۔ کہا : پھر مدینہ کی گلیوں میں شراب بہنے لگی ۔ ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے کہا : نکلو اور اسے بہا دو! میں نے وہ ( سب ) بہادی ۔ تو لو گوں نے کہا ۔ ۔ ۔ یا ان میں سے کچھ نے کہا ۔ ۔ ۔ فلا ں شہید ہوا تھا اور فلا ں شہید ہوا تھا تو یہ ( شراب ) ان کے پیٹ میں مو جو د تھی ۔ ۔ ۔ ( ایک راوی نے ) کہا : مجھے معلوم نہیں یہ ( بھی ) حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں سے ہے ( یا نہیں ) ۔ ۔ ۔ اس پر اللہ تعا لیٰ نے ( لَيْسَ عَلَى ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا وَعَمِلُوا ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوٓا إِذَا مَا ٱتَّقَوا وَّءَامَنُوا وَعَمِلُوا ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ ) نازل فرمائی : " جو لو گ ایمان لا ئے اور نیک کا م کیے جب انھوں نے تقوی اختیار کیا ایمان لا ئے اور نیک عمل کیے ( تو ) ان پر اس چیز کے سبب کوئی گناہ نہیں جس کو انھوں نے ( حرمت سے پہلے ) کھا یا پیا ( تھا ۔)
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَزِيدَ اللَّيْثِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ - رضى الله عنه - دَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ غَسَلَ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ لاَ يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَكَانَ عُلَمَاؤُنَا يَقُولُونَ هَذَا الْوُضُوءُ أَسْبَغُ مَا يَتَوَضَّأُ بِهِ أَحَدٌ لِلصَّلاَةِ ‏.‏
Humran, the freed slave of 'Uthman, said:Uthman b. 'Affan called for ablution water and this is how he performed the ablution. He washed his hands thrice. He then rinsed his mouth and cleaned his nose with water (three times). He then washed his face three times, then washed his right arm up to the elbow three times, then washed his left arm like that, then wiped his head; then washed his right foot up to the ankle three times, then washed his left foot like that, and then said: I saw the Messenger of Allah (ﷺ) perform ablution like this ablution of mine. Then the Messenger of Allah (ﷺ) said: He who performs ablution like this ablution of mine and then stood up (for prayer) and offered two rak'ahs of prayer without allowing his thoughts to be distracted, all his previous sins are expiated. Ibn Shihab said: Our scholars remarked: This is the most complete of the ablutions performed for prayer
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی کہ عطاء بن یزید نے انہیں خبر دی کہ حمران نے ، جوحضرت عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے آزاد کردہ غلام ہیں ، انہیں بتایا کہ حضرت عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے وضوکے لیے پانی منگوایا اور وضو کیا تو دونوں ہاتھوں کو تین بار دھویا ، پھر کلی کی اور ( ناک میں پانی ڈال کر ) ناک جھاڑی ، پھر تین بار چہرہ دھویا ، پھر تین بار دایاں بازو کہنیوں تک دھویا ، پھر اسی طرح بایاں دھویا ، پھر اپنے سر کا مسح کیا ، پھر تین بار اپنا دایاں پاؤں ٹخنوں تک دھویا ، پھر اسی طرح بایاں پاؤں دھویا ، پھر کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تھا کہ آپ نے اسی طرح وضو کیا جس طرح میں نے اب کیا ہے ، پھر رسول ا للہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس شخص نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا ، پھر اٹھ کر دو رکعتیں ادا کیں ، ان دونوں کے دوران میں اپنے آپ سے باتیں نہ کیں ، اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے ۔ ‘ ‘ ابن شہاب نے کہا : ہمارے علماء ( تابعین ) کہا کرتے تھے کہ یہ کامل ترین وضو ہے جو کوئی انسان نماز کے لیے کرتا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ إِلاَّ قَوْلَهُ وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ أَوِ الْمُقْسِمِ ‏.‏ فَإِنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ هَذَا الْحَرْفَ فِي الْحَدِيثِ وَجَعَلَ مَكَانَهُ وَإِنْشَادِ الضَّالِّ ‏.‏
This hadith has been reported on the authority of Ash'ath b. Sulaim with the same chain of transmitters but with a slight change of wording that he made no mention of:" to fulfil the vows" but substituted these words:" finding of the lost articles
ابو عوانہ نے ہمیں اشعث بن سلیم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث سنا ئی ، سوائے " اپنی قسم یا قسم دینے والے ( کی قسم ) " کے الفاظ کے ، انھوں نے حدیث میں یہ فقرہ نہیں کہا : اور اس کے بجا ئے گمشدہ چیز کا اعلا ن کرنے کا ذکر کیا ۔
حَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي الطَّحَّانَ - عَنْ حُصَيْنٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ ‏ "‏ فَإِنَّمَا بُعِثْتُ قَاسِمًا أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ ‏"‏ ‏.‏
This hadith has been reported on the authority of Husain With the same chain of transmitters but no mention is made of these words:" (I have been sent as a distributor), so I distribute amongst you
خالد طحان نے حصین سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور " میں قاسم ( تقسیم کرنے والا ) بنا کر بھیجا گیا ہوں ، تمھا رے درمیان تقسیم کرتا ہوں " کے الفا ظ ذکر نہیں کیے ۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ خَمْسٌ ‏"‏ ‏.‏ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ، الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ خَمْسٌ تَجِبُ لِلْمُسْلِمِ عَلَى أَخِيهِ رَدُّ السَّلاَمِ وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ وَإِجَابَةُ الدَّعْوَةِ وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ وَاتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ كَانَ مَعْمَرٌ يُرْسِلُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَأَسْنَدَهُ مَرَّةً عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Five are the rights of a Muslim over his brother: responding to salutation, saying Yarhamuk Allah when anybody sneezes and says al-Hamdulillah, visiting the sick. following the bier. ' Abd al-Razzaq said that this hadith has been transmitted as mursal hadith from Zuhri and he then substantiated it on the authority of Ibn Musayyib
یو نس نے ابن شہاب ( زہری ) سے انھوں نے ابن مسیب سے روایت کی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : مسلمان کے مسلمان پر پا نچ حق ہیں ۔ "" نیز عبد الرزاق نے کہا : ہمیں معمر نے ( ابن شہاب ) زہری سے خبر دی ، انھوں نے ابن مسیب سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : "" ایک مسلمان کے لیے اس کے بھا ئی پر پانچ چیزیں واجب ہیں : سلام کا جواب دینا چھینک مارنے والے کے لیے رحمت کی دعا کرنا دعوت قبول کرنا ، مریض کی عیادت کرنا اور جنازوں کے ساتھ جا نا ۔ "" عبدالرزاق نے کہا : معمر اس حدیث ( کی سند ) میں ارسال کرتے تھے ( تابعی اور صحابی کا نام ذکر نہیں کرتے تھے ) اور کبھی اسے ( سعید ) بن مسیب اور آگے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سند سے ( متصل مرفوع ) روایت کرتے تھے ۔
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تَسُبُّوا الدَّهْرَ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الدَّهْرُ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:Do not curse Time, for it is Allah Who is Time
ابن سیرین نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " زمانے کو برا مت کہو کیونکہ اللہ تعا لیٰ ہی زمانہ ( کا مالک ) ہے ۔
وَحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَصْدَقُ بَيْتٍ قَالَهُ الشَّاعِرُ أَلاَ كُلُّ شَىْءٍ مَا خَلاَ اللَّهَ بَاطِلٌ وَكَادَ ابْنُ أَبِي الصَّلْتِ أَنْ يُسْلِمَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The truest verse recited by a poet is: "Behold! apart from Allah everything is vain," and Ibn Abu Salt was almost a Muslim
زائد ہ نے عبد الملک بن عمیر سے ، انھوں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " کسی بھی شاعرکا کہا ہوا سب سے سچا شعر وہ ہے جو لبید نے کہا ہے ۔ " سنو اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے ۔ " اور قریب تھا کہ امیہ بن ابی صلت مسلمان ہو جا تا ۔
وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، كُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ الثَّقَفِيِّ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ فَإِنْ كُنْتُ لأَرَى الرُّؤْيَا ‏.‏ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ اللَّيْثِ وَابْنِ نُمَيْرٍ قَوْلُ أَبِي سَلَمَةَ إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ ‏.‏ وَزَادَ ابْنُ رُمْحٍ فِي رِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ ‏ "‏ وَلْيَتَحَوَّلْ عَنْ جَنْبِهِ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Salama reported:I used to see dreams, but the hadith transmitted on the authority of Laith b. Nu`man, the words of Abu Salama at the concluding part of the hadith are not mentioned. Ibn Rumh has reported in the hadith: "He (one who sleeps) should change the side on which he had been lying before
قتیبہ اور محمد بن رمح نے لیث بن سعد سے روایت کی ، محمد بن مثنیٰ نے کہا : ہمیں عبد لواہاب ثقفی نے حدیث بیان کی ، ابو بکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں عبد اللہ بن نمیر نے حدیث بیان کی ، ان سب ( لیث عبدالوہاب ثقفی ٰاور عبد اللہ بن نمیر ) نے یحییٰ بن سعید سے اسی سند کے ساتھ روایت بیان کی ، ثقفیٰ کی روایت میں ہے کہ ابو سلمہ نے کہا : میں خواب دیکھا کرتا تھا ۔ لیث اور ابن نمیر کی روایت میں حدیث کے آخر تک ابو سلمہ کا جو قول ( منقول ) ہے وہ موجود نہیں ، ابن رمح نے اس حدیث کی روایت میں مزید یہ کہا : ہے : " وہ جس کروٹ پر لیٹا ہواتھا اس سے دوسری کروٹ ہو جائے ۔
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَحَانَتْ صَلاَةُ الْعَصْرِ فَالْتَمَسَ النَّاسُ الْوَضُوءَ فَلَمْ يَجِدُوهُ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِوَضُوءٍ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي ذَلِكَ الإِنَاءِ يَدَهُ وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَتَوَضَّئُوا مِنْهُ - قَالَ - فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ تَحْتِ أَصَابِعِهِ فَتَوَضَّأَ النَّاسُ حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ ‏.‏
Anas b. Malik reported:I saw Allah's Messenger (ﷺ) during the time of the afternoon prayer and the people asking for water for performing ablution which they did not find. (A small quantity) of water was brought to Allah's Messenger (ﷺ) and he placed his hand in that vessel and commanded people to perform ablution. I saw water spouting from his fingers and the people performing ablution until the last amongst them performed it
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ عصر کا وقت آچکا تھا ، لوگوں نے وضو کا پانی تلاش کیا اور انھیں نہ ملا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کا کچھ پانی لایاگیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن میں اپنا دست مبارک رکھ دیا اور لوگوں کو اس پانی میں سے وضو کا حکم دیا ۔ کہا : تو میں نے د یکھا کہ پانی آپ کی انگلیوں کے نیچے سے پھوٹ رہا تھا اور لوگوں نے اپنے آخری آدمی تک ( اس سے ) وضو کرلیا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنْ أُمَّتِي أَحَدًا خَلِيلاً لاَتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ ‏"‏ ‏.‏
Abdullah reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:If I were to choose from my Umma anyone as my bosom friend, I would have chosen Abu Bakr
شعبہ نے ابو اسحاق سے ، انھوں نے ابو احوص سے ، انھوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابو بکر کو بناتا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ - عَنْ سُفْيَانَ، وَشُعْبَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا حَبِيبٌ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَسْتَأْذِنُهُ فِي الْجِهَادِ فَقَالَ ‏"‏ أَحَىٌّ وَالِدَاكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ ‏"‏ ‏.‏
Abdullah b. 'Amr reported that a person came to Allah's Apostle (ﷺ) and sought permission (to participate) in Jihad, whereupon he (the Holy Prophet) said:Are your parents living? He said: Yes. Thereupon he (the Holy Prophet) said: You should put in your best efforts (in their) service
وکیع نے سفیان سے اور یحییٰ بن سعید قطان نے سفیان اور شعبہ دونوں سے روایت کی ، دونوں نے کہا : ہمیں حبیب نے ابوعباس سے حدیث سنائی ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جہاد کی اجازت طلب کرنے کے لیے آیا تو آپ نے فرمایا : " کیا تمہارے والدین زندہ ہیں؟ " اس نے کہا : جی ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : جی ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " پھر ان ( کی خدمت بجا لانے ) میں جہاد کرو ۔ ( اپنی جان اور مال کو ان کی خدمت میں صرف کرو ۔)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّ أَبَا الطُّفَيْلِ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of 'Abdullah b. Mas'ud through another chain of transmitters
ابن جریج نے کہا : مجھے ابوزبیر نے خبر دی کہ ابوطفیل رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے اور عمرو بن حارث کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ قَالَ قَالَ لَنَا جُنْدَبٌ وَنَحْنُ غِلْمَانٌ بِالْكُوفَةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اقْرَءُوا الْقُرْآنَ ‏"‏ ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا ‏.‏
Abu Imran reported that Jundub told us as we we-re young boys living in Kilfa, that Allah's Messenger (ﷺ) had said:Recite the Qur'an. The rest of the hadith is the same
ابان نے کہا : ہمیں ابوعمران نے حدیث سنائی ، کہا : ہم کوفہ میں ( رہنے والے ) نوجوان لڑکے تھے جب حضرت جندب رضی اللہ عنہ نے ہمیں ( نصیحت کرتے ہوئے ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ( اس وقت تک ) قرآن پڑھو ۔ " جیسے ان دونوں ( ابوقدامہ حارث بن عبید اور ہمام ) کی حدیث ہے ۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ، - وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لِلَّهِ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ اسْمًا مَنْ حَفِظَهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَإِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ ‏"‏ مَنْ أَحْصَاهَا ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There are ninety-nine names of Allah; he who commits them to memory would get into Paradise. Verily, Allah is Odd (He is one, and it is an odd number) and He loves odd number. And in the narration of Ibn 'Umar (the words are):" He who enumerated them
عمرو ناقد ، زُہیر بن حرب اور ابن ابی عمر نے ہمیں سفیان سے حدیث بیان کی ۔ ۔ الفاظ عمرو کے ہیں ۔ ۔ انہوں نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے ابوزناد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اعرج سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں ، جس نے ان کی حفاظت کی وہ جنت میں داخل ہو جائے گا اور اللہ وتر ( طاق ) ہے ، وتر کو پسند کرتا ہے ۔ " اور ابن ابی عمر کی روایت میں ہے : " جس نے ان کو شمار کیا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ، حَدَّثَتْهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهَا قَالَتْ، بَيْنَمَا أَنَا مُضْطَجِعَةٌ، مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْخَمِيلَةِ إِذْ حِضْتُ فَانْسَلَلْتُ فَأَخَذْتُ ثِيَابَ حَيْضَتِي فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَنُفِسْتِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ فَدَعَانِي فَاضْطَجَعْتُ مَعَهُ فِي الْخَمِيلَةِ ‏.‏ قَالَتْ وَكَانَتْ هِيَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَغْتَسِلاَنِ فِي الإِنَاءِ الْوَاحِدِ مِنَ الْجَنَابَةِ ‏.‏
Umm Salama reported:While I was lying with the Messenger of Allah (ﷺ) in a bed cover I menstruated, so I slipped away and I took up the clothes (which I wore) in menses. Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) said: Have you menstruated? I said: Yes. He called me and I lay down
ابو سلمہ بن عبد الرحمن نے بیان کیا کہ حضرت ام سلمہ ؓ نے انہیں بتایا ، کہا : میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رؤئیں دار چادر میں لیٹی ہوئی تھی ، اس اثنا میں میرے ایام کا آغاز ہو گیا اور میں کھسک گئی اور ان ایام کے کپڑے لے لیے تو رسو ل اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا : ’’کیا تمہارے ایام شروع ہو گئے ؟ ‘ ‘ میں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ تو آپ نےمجھے پاس بلا لیا اور میں آپ کے ساتھ اوڑھنے کی ایک ہی روئیں دار چادر میں لیٹ گئی ۔ ام سلمہ نے بتایاکہ وہ اور رسول اللہﷺ اکٹھے ایک برتن میں غسل جنابت کر لیتے تھے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، سَمِعَ أَبَا رَجَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ مِثْلَهُ ‏.‏
This hadith is narrated likewise through another chain of transmitters
سعید بن ابی عروبہ سے روایت ہے ، انہوں نے ابورجاء سے سنا ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، پھر اسی کے مانند ذکر کیا ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ قُطْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ ‏ "‏ مِنْ رَجُلٍ بِدَاوِيَّةٍ مِنَ الأَرْضِ ‏"‏ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of A'mash through another chain of transmitters
قطبہ بن عبدالعزیز نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا : " اس آدمی کی نسبت ( زیادہ خوش ہوتا ہے ) جو زمین کے سنسان بے آب و گیاہ صحرا میں ہو ۔ " دوية کے بجائے داوية کا لفظ بولا ، معنی ایک ہی ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ الْقَطَّانُ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَزَادَ قَالَ فَتَرَكَ الصَّلاَةَ عَلَيْهِمْ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of 'Abdullah with the same chain of transmitters but with this addition:" He then abandoned offering (funeral) prayer for them
یحییٰ قطان نے عبیداللہ ( بن عمر بن حفص ) سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی اور مزید یہ کہا : چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر نماز جنازہ ترک کر دی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالاَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي، شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي، حَدِيثِهِمْ جَمِيعًا وَالشَّجَرَ عَلَى إِصْبَعٍ وَالثَّرَى عَلَى إِصْبَعٍ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ وَالْخَلاَئِقَ عَلَى إِصْبَعٍ ‏.‏ وَلَكِنْ فِي حَدِيثِهِ وَالْجِبَالَ عَلَى إِصْبَعٍ ‏.‏ وَزَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ تَصْدِيقًا لَهُ تَعَجُّبًا لِمَا قَالَ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of A'mash with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording
ابو معاویہ ، عیسی بن یونس اور جریر سب نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، مگران سب کی روایتوں میں ہے : " اور درختوں کو ایک انگلی پر اور گیلی مٹی کو ایک انگلی پر تھام لےگااور جریر کی حدیث میں یہ نہیں ہے " اور مخلوق کو ایک انگلی پر تھامے گا " لیکن اس کی حدیث میں یہ ہے : " اور پہاڑوں کو ایک انگلی پر تھام لے گا " اور انھوں نے جریر کی حدیث میں مذید یہ کہا : " اس کی بات کی تصدیق اور اس پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے ( آپ ہنسے ۔)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ، نُمَيْرٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيَ الصَّالِحِينَ مَا لاَ عَيْنٌ رَأَتْ وَلاَ أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلاَ خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ ‏.‏ ذُخْرًا بَلْهَ مَا أَطْلَعَكُمُ اللَّهُ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَرَأَ ‏{‏ فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ‏}‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) said that Allah, the Exalted and Glorious, said:I have prepared for My pious servants which the eye has seen not, and the ear has heard not and no human heart has ever perceived such bounties leaving aside those about which Allah has informed you. He then recited:" No soul knows what comfort has been hidden for thein
ابو صالح نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ عزوجل ارشاد فرماتاہے : میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے وہ نعمتیں تیارکرکے جمع کی ہیں جن کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ ان کا کسی بشر کے دل میں خیال گزرا ، ان نعمتوں کے علاوہ جن پر اللہ تعالیٰ نے تمھیں مطلع کردیا ہے ۔ "" پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہ آیت ) پڑھی : "" کسی کو معلوم نہیں کہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کےلیے کیا کچھ چھپا کررکھاگیاہے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ، اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ ‏"‏ ‏.‏ وَعَقَدَ وُهَيْبٌ بِيَدِهِ تِسْعِينَ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:Today the wall (barrier) of Gog and Magog has been opened so much, and Wuhaib (in order to explain it) made the figure of ninety with the help of his hand
احمد بن اسحاق نے کہا : ہمیں وہیب نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں عبداللہ بن طاوس نے ا پنے والد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابو ہریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " آج یاجوج ماجوج کی دیوار اتنی کھل گئی ہے ۔ " وہیب نے اپنی انگلی سے نوے کا نشان بنایا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَقَالاَ، جَمِيعًا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبِي كُلُّهُمْ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ هَمَّامٍ ‏.‏
Mutarrif reported on the authority of his father:I went to Allah's Apostle (ﷺ). The rest of the hadith is the same
شعبہ ، سعید ( بن ابی عروبہ ) اور ہشام سب نے قتادہ سے ، انھوں نے مطرف سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا ۔ ( آگے ) ہمام کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ، عَنْ قَيْسِ، بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ إِلَى عُمَرَ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ آيَةٌ فِي كِتَابِكُمْ تَقْرَءُونَهَا لَوْ عَلَيْنَا نَزَلَتْ مَعْشَرَ الْيَهُودِ لاَتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا ‏.‏ قَالَ وَأَىُّ آيَةٍ قَالَ ‏{‏ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِينًا‏}‏ فَقَالَ عُمَرُ إِنِّي لأَعْلَمُ الْيَوْمَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ وَالْمَكَانَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ نَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِعَرَفَاتٍ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ ‏.‏
Tariq b. Shihab reported that a Jew came to 'Umar and said:Commander of the Faithful, there is a verse in your Book, which you recite. Had it been revealed in connection with the Jews, we would have taken it as the day of rejoicing. Thereupon he said: Which verse do you mean? He replied:" This day I have perfected your religion for you and I have completed My favours upon you and I have chosen al-Islam as religion for you." Umar said, I know the day when it was revealed and the place where it was revealed. It was revealed to Allah's Messenger (ﷺ) at 'Arafat on Friday
ابو عمیس نے قیس بن مسلم سے اور انھوں نے طارق بن شہاب سے روایت کی ، کہا : یہودیوں میں سے ایک شخص حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا : امیر المومنین!آپ کی کتاب میں ایک ایسی آیت ہے ، آپ اسے پڑھتے ہیں ، اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوئی ہوتی تو ہم اس دن وعید قرار دیتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : وہ کون سی آیت ہے؟اس نے کہا : " آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کردی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کے طور پر پسند کرلیا ۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا : میں دو دن بھی جانتا ہوں جس میں یہ نازل ہوئی وہ جگہ بھی جہاں یہ نازل ہوئی ، یہ ( آیت ) عرفات میں جمعہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تھی ۔
وَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ أُمِرَ بِلاَلٌ أَنْ يَشْفَعَ، الأَذَانَ وَيُوتِرَ الإِقَامَةَ ‏.‏
Anas reported:Bilal was commanded (by the Holy Prophet) to repeat the phrases twice in Adhan, and once in lqama
۔ ایوب نے ابو قلابہ سے اور انہوں نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو حکم دیا گیا کہ دہری اذان اور اکہری قامت کہیں ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الإِيمَانُ قَالَ ‏"‏ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلاَئِكَتِهِ وَكِتَابِهِ وَلِقَائِهِ وَرُسُلِهِ وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ الآخِرِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الإِسْلاَمُ قَالَ ‏"‏ الإِسْلاَمُ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ وَلاَ تُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمَ الصَّلاَةَ الْمَكْتُوبَةَ وَتُؤَدِّيَ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ وَتَصُومَ رَمَضَانَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الإِحْسَانُ قَالَ ‏"‏ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنَّكَ إِنْ لاَ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى السَّاعَةُ قَالَ ‏"‏ مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكَ عَنْ أَشْرَاطِهَا إِذَا وَلَدَتِ الأَمَةُ رَبَّهَا فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا وَإِذَا كَانَتِ الْعُرَاةُ الْحُفَاةُ رُءُوسَ النَّاسِ فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا وَإِذَا تَطَاوَلَ رِعَاءُ الْبَهْمِ فِي الْبُنْيَانِ فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا فِي خَمْسٍ لاَ يَعْلَمُهُنَّ إِلاَّ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ تَلاَ صلى الله عليه وسلم ‏{‏ إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَىِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ‏}‏ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ أَدْبَرَ الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ رُدُّوا عَلَىَّ الرَّجُلَ ‏"‏ ‏.‏ فَأَخَذُوا لِيَرُدُّوهُ فَلَمْ يَرَوْا شَيْئًا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَذَا جِبْرِيلُ جَاءَ لِيُعَلِّمَ النَّاسَ دِينَهُمْ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported:One day the Messenger of Allah (ﷺ) appeared before the public so a man came to him and then said: Prophet of Allah, what is Iman? Upon this he (the Holy Prophet) replied: That you affirm your faith in Allah, His angels, His Books, His meeting, His Messengers and that you affirm your faith in the Resurrection hereafter. He said: Messenger of Allah, what is al-Islam? He replied: Al-Islam is that you worship Allah and do not associate anything with Him and you establish obligatory prayer and you pay the obligatory alms (Zakat) and you observe the fast of Ramadan. He said: Messenger of Allah, what is al-Ihsan? He replied: That you worship Allah as if you are seeing Him, and for if you fail to see Him. He said: Messenger of Allah, when is the Hour (of Doom)? He replied: The one who is asked about it is no better informed than the inquirer, however I will narrate some of its signs to you. When the slave-girl will give birth to her master, then that is from its signs. When the naked, barefooted would become the chiefs of the people, then that is from its signs. When the shepherds of the black (camels) would exult themselves in buildings, then that is from its signs. (The Hour is) Among one of the five which no one knows but Allah. Then he recited (the verse): "Verily Allah! with Him alone is the knowledge of the Hour and He it is Who sends down the rain and knows that which is in the wombs. And no soul knows what it shall earn tomorrow, and a soul knows not in what land it shall die. Verily Allah is Knowing, Aware." He (Abu Huraira) said: Then the person turned back and went away. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Bring that man back to me. They went to bring him back, but they saw nothing there. Upon this the Messenger of Allah remarked: he was Gabriel, who came to teach the people their religion
اسماعیل بن ابراہیم ( ابن علیہ ) نے ابو حیان سے ، انہوں نے ابو زرعہ بن عمرو بن جریر سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ ایک دن لوگوں کے سامنے ( تشریف فرما ) تھے ، ایک آدمی آپﷺ کے پاس آیا اور پوچھا : اے اللہ کے رسول ! ایمان کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’تم اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتاب ، ( قیامت کے روز ) اس سے ملاقات ( اس کے سامنے حاضری ) اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور آخری ( بار زندہ ہو کر ) اٹھنے پر ( بھی ) ایمان لے آؤ ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اسلام کیا ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا : ’’اسلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ ، لکھی ( فرض کی ) گئی نمازوں کی ‎پابندی کرو ، فرض کی گئی زکاۃ ادا کرو ۔ اور رمضان کے روزے رکھو ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! احسان کیا ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ہو تو وہ یقیناً تمہیں دیکھ رہا ہے ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! قیامت کب ( قائم ) ہو گی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’جس سے سوال کیا گیا ہے ، وہ ا س کے بارے میں پوچھنے والے سےزیادہ آگاہ نہیں ۔ لیکن میں تمہیں قیامت کی نشانیاں بتائے دیتا ہوں : جب لونڈی اپنا مالک جنے گی تو یہ اس کی نشانیوں میں سے ہے ، اور جب ننگے بدن اور ننگے پاؤں والے لوگوں کے سردار بن جائیں گے تو یہ اس کی نشانیوں میں سے ہے ، اور جب بھیڑ بکریاں چرانے والے ، اونچی اونچی عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کریں گے تو یہ اس کی علامات میں سے ہے ۔ ( قیامت کے وقت کا علم ) ان پانچ چیزوں میں سے ہے جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ہے ‘ ‘ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی : ’’بے شک اللہ تعالیٰ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے ، وہی بارش برساتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ ارحام ( ماؤں کے پیٹوں ) میں کیا ہے ، کوئی ذی روح نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا ، نہ کسی متنفس کویہ معلوم ہے کہ وہ زمین کے کس حصے میں فوت ہو گا ، بلاشبہ اللہ تعالیٰ علم والا خبردار ہے ۔ ‘ ‘ حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ) کہا : پھر وہ آدمی واپس چلا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ اس آ دمی کو میرے پاس واپس لاؤ ۔ ‘ ‘ صحابہ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ اسے واپس لانے کے لیے بھاک دوڑ کرنےلگے تو انہیں کچھ نظر نہ آیا ، رسول اللہ نے فرمایا : ’’یہ جبریل ‌علیہ ‌السلام ‌ تھے جو لوگوں کو ان کا دین سکھانے آئے تھے ۔ ‘ ‘