بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
35 hadith
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ - قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ جَعَلَ يَفْتِكُ عَلَىَّ الْبَارِحَةَ لِيَقْطَعَ عَلَىَّ الصَّلاَةَ وَإِنَّ اللَّهَ أَمْكَنَنِي مِنْهُ فَذَعَتُّهُ فَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى جَنْبِ سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّى تُصْبِحُوا تَنْظُرُونَ إِلَيْهِ أَجْمَعُونَ - أَوْ كُلُّكُمْ - ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَ أَخِي سُلَيْمَانَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لاَ يَنْبَغِي لأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي ‏.‏ فَرَدَّهُ اللَّهُ خَاسِئًا ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ مَنْصُورٍ شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ‏.‏
Abu Huraira reported that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying:A highly wicked one amongst the Jinn escaped yesternight to interrupt my prayer, but Allah gave me power over him, so I seized him and intended to tie him to one of the pillars of the mosque in order that you, all together or all, might look at him, but I remembered the supplication of my brother Sulaiman:" My Lord, forgive me, give me such a kingdom as will not be possible for anyone after me" (Qur'an, xxxvii)
اسحاق بن ابراہیم اور اسحاق بن منصور نے کہا : ہمیں نضر بن شمیل نے خبر دی ، انھوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے خبر دی ، انھوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے خبر دی ، انھوں نے کہا : ہمیں محمد نے ، جو ابن زیاد ہے ، حدیث سنائی ، انھوں نے کہا ، میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ‘ ‘ گزشتہ رات ایک سرکش جن مجھ پر حملے کرنے لگا تا کہ میری نماز توڑ دے ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے میرے قابو میں کر دیا تو میں نے زور سے اس کا گلا گھونٹا اور یہ ارادہ کیا کہ اسے مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ باندھ دوں تاکہ صبح کو تم سب دیکھ سکو ، پھر مجھے اپنے بھائی سلیمان علیہ السلام کا یہ قول یاد آگیا : ‘ ‘ اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی حکومت دے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو ’’ ( تو میں نے اسے چھوڑ دیا ) اور اللہ نے اس ( جن ) کو رسوا کر کے لوٹا دیا ۔ ’’ ابن منصور نے کہا : شعبہ نے محمد بن زیاد سے روایت کی ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنِ الصُّنَابِحِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ فِي الْمَوْتِ فَبَكَيْتُ فَقَالَ مَهْلاً لِمَ تَبْكِي فَوَاللَّهِ لَئِنِ اسْتُشْهِدْتُ لأَشْهَدَنَّ لَكَ وَلَئِنْ شُفِّعْتُ لأَشْفَعَنَّ لَكَ وَلَئِنِ اسْتَطَعْتُ لأَنْفَعَنَّكَ ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ مَا مِنْ حَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَكُمْ فِيهِ خَيْرٌ إِلاَّ حَدَّثْتُكُمُوهُ إِلاَّ حَدِيثًا وَاحِدًا وَسَوْفَ أُحَدِّثُكُمُوهُ الْيَوْمَ وَقَدْ أُحِيطَ بِنَفْسِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ شَهِدَ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ النَّارَ ‏"‏ ‏.‏
It is narrated on the authority of Sunabihi that he went to Ubada b. Samit when he was about to die. I burst into tears. Upon this he said to me:Allow me some time (so that I may talk with you). Why do you weep? By Allah, if I am asked to bear witness, I would certainly testify for you (that you are a believer). Should I be asked to intercede, I would certainly intercede for you, and if I have the power, I would certainly do good to you, and then observed: By Allah, never did I hear anything from the Messenger of Allah (ﷺ) which could have been a source of benefit to you and then not conveyed it to you except this single hadith. That I intend to narrate to you today, since I am going to breathe my last. I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: He who testifies that there is no god but Allah and that Muhammad is the messenger of Allah, Allah would prohibit the fire of Hell for him
حضرت عباد بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے جنادہ بن ابی امیہ کے بجائے ( ابو عبداللہ عبدالرحمٰن بن عسیلہ ) صنابحی نے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں حضرت عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی موت کے وقت ان کے پاس حاضر ہوا ۔ میں رونے لگا تو انہوں نے فرمایا : ٹھہرو! روتے کیوں ہو؟ اللہ کی قسم ! اگر مجھ سے گواہی مانگی گئی تو میں ضرور تمہارے حق میں گواہی دوں گا او راگر مجھے سفارش کا موقع دیا گیا تو میں ضرور تمہاری سفارش کروں گا اوراگر میرے بس میں ہوا تو میں ضرور تمہیں نفع پہنچاؤں گا ، پھر کہا : اللہ کی قسم ! کوئی ایسی حدیث نہیں جو میں نے رسول اکرمﷺ سے سنی ، اور اس میں تمہاری بھلائی کی کوئی بات تھی اور وہ میں نے تمہیں نہ سنا دی ہو ، سوائےایک حدیث کے ۔ آج جب میری جان قبض کی جانے لگی ہے تو وہ حدیث بھی تمہیں سنائے دیتا ہوں ۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ’’جس شخص نے اس حقیقت کی گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ، اللہ تعالیٰ نے اس پر جہنم کی آگ حرام کر دی ۔
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُسَبِّحُ عَلَى الرَّاحِلَةِ قِبَلَ أَىِّ وَجْهٍ تَوَجَّهَ وَيُوتِرُ عَلَيْهَا غَيْرَ أَنَّهُ لاَ يُصَلِّي عَلَيْهَا الْمَكْتُوبَةَ ‏.‏
Salim b. 'Abdullah reported on the authority of his father that the Messenger of Allah (may peace be. upon him) used to observe Nafl (supererogatory) prayer on his ride no matter in what direction it turned its face, and he observed Witr too on it, but did not observe obligatory prayer on it
سالم بن عبداللہ نے اپنے والد ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر نفل پڑھتے جدھر بھی آپ کا رخ ہوجاتا اور اسی پر وتر بھی پڑھتے ، البتہ آپ فرض نماز اس پر نہیں پڑھتے تھے ۔
وَحَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي الطَّحَّانَ - عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ سَالِمٍ، وَأَبِي، سُفْيَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَدِمَتْ سُوَيْقَةٌ قَالَ فَخَرَجَ النَّاسُ إِلَيْهَا فَلَمْ يَبْقَ إِلاَّ اثْنَا عَشَرَ رَجُلاً أَنَا فِيهِمْ - قَالَ - فَأَنْزَلَ اللَّهُ ‏{‏ وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا‏}‏ إِلَى آخِرِ الآيَةِ ‏.‏
Jabir b. Abdullah reported:I was along with the Messenger of Allah (ﷺ) on Friday when a caravan arrived. The people went to it, and none but twelve persons were left behind and I was one of them; and it was on this occasion that this verse was revealed:" And when they see merchandise or sport away to it, and leave thee standing" (lxii. 1 1). they break
خالد طحان نے حصین سے روایت کی ، انھوں نے سالم اور ابو سفیان سے اور انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم جمعے کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک چھوٹا سا بازار ( سامان بیچنے والوں کا قافلہ ) آگیا تو لوگ اس کی طرف نکل گئے اور ( صرف ) بارہ آدمیوں کے سوا کوئی نہ بچا ، میں بھی ان میں تھا ، کہا : اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری : " اور جب وہ تجارت یاکوئی مشغلہ دیکھتے ہیں تو اس کی طرف ٹوٹ پڑتے ہیں اور آ پ کو کھڑا چھوڑ دیتے ہیں " آیت کے آخر تک ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، ‏.‏ بِنَحْوِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ ثَلاَثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتْ حَفْصَةُ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ وَجَعَلْنَا رَأْسَهَا ثَلاَثَةَ قُرُونٍ ‏.‏
A hadith like this has been transmitted by Hafsa on the authority of Umm 'Atiyya with the exception (of these words that the Prophet asked them to wash her dead body):" three times, five times, seven times, or more than that, if you deem fit:" Hafsa (further) said on the authority of Umm 'Atiyya: We braided (the hair) of her head in three plaits
۔ حماد نے ایوب سے ، انھوں نے حفصہ سے اور انھوں نے حجرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اس ( سابقہ حدیث ) کی طرح روایت بیان کی ، اس کے سوا کہ آپ نے فر ما یا : " تین ، پانچ سات یا اگر تمھاری رائے ہو تو اس سے زائد بار ( غسل دینا ۔ ) حفصہ نے ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا : ہم نے ان کے سر ( کے بالوں ) کی تین گندھی ہو ئی لٹیں بنا دیں ۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ الْكِنَانِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ خَيْثَمَةَ، قَالَ كُنَّا جُلُوسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو إِذْ جَاءَهُ قَهْرَمَانٌ لَهُ فَدَخَلَ فَقَالَ أَعْطَيْتَ الرَّقِيقَ قُوتَهُمْ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ فَانْطَلِقْ فَأَعْطِهِمْ ‏.‏ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يَحْبِسَ عَمَّنْ يَمْلِكُ قُوتَهُ ‏"‏ ‏.‏
Khaithama reported:While we were sitting in the company of 'Abdullah b. 'Umar there came in his steward. He (Ibn 'Umar) said: Have you supplied the provision to the slaves? He said: No. Upon this he said: Go and give (the provision) to them, for the Messenger of Allah (ﷺ) has said: This sin is enough for a man that he withholds the subsistence from one whose master he is
خیثمہ سے روایت ہے کہا : ہم حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھے ہو ئے تھے کہ اچا نک ان کا کا رندہ ( مینیجر ) ان کے پاس آیا وہ اندر داخل ہوا تو انھوں نے پو چھا : ( کیا ) تم نے غلا موں کو ان کا روزینہ دے دیا ہے؟ اس نے جواب دیا نہیں انھوں نے کہا : جا ؤ انھیں دو ۔ ( کیونکہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " انسان کے لیے اتنا گناہ ہی کا فی ہے کہ وہ جن کی خوراک کا مالک ہے انھیں نہ دے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ، إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، وَالْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، كِلاَهُمَا عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ وَانْتَهَى حَدِيثُ الْمُعْتَمِرِ عِنْدَ قَوْلِهِ ‏"‏ يُنَبِّهُ نَائِمَكُمْ وَيَرْجِعُ قَائِمَكُمْ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ إِسْحَاقُ قَالَ جَرِيرٌ فِي حَدِيثِهِ ‏"‏ وَلَيْسَ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا وَلَكِنْ يَقُولُ هَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي الْفَجْرَ هُوَ الْمُعْتَرِضُ وَلَيْسَ بِالْمُسْتَطِيلِ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Sulaiman Taimi with the same chain of transmitters and, at the end, it was said that the first Adhan was meant to awaken those who were in slumber amongst them and in order to make them turn who stand in (prayer) among them (towards food at the commencement of the fast). Jarir (one of the narrators) said that the Messenger (ﷺ) did not say like this but he said like it (true dawn) that the streaks of (true dawn ) are horizontal and not vertical
ابو بکر ابن ابی شیبہ ، معتمر بن سلیمان ، اسحاق بن ابراہیم ، جریر ، معتمر بن سلیمان ، اس سند کے ساتھ حضرت سلیمان تیمی سے اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے ۔ اس میں ہے کہ حضرت بلال کی اذان اس وجہ سے ہوتی ہے کہ تم میں سے جو سورہا ہو وہ بیدار ہوجائے اور جو نماز پڑھ رہا ہو وہ لوٹ جائے ۔ اسحاق نے کہا : جریر نے اپنی حدیث میں کہا ہے کہ صبح اس طرح نہیں ہے مطلب یہ کہ چوڑائی میں ہے لمبائی میں نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الأَسْوَدِ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ رضى الله عنها كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الْمِسْكِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ مُحْرِمٌ ‏.‏
A'isha (Allah be pleased with her) reported:I still seem to see the glistening of musk (in the parting of the head) of the Messenger of Allah (ﷺ) while he was in the state of Ihram
حسن بن عبد اللہ سے روایت ہے کہا ہمیں ابرا ہیم نے اسود سے حدیث بیان کی کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فر ما یا : ایسا لگتا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں کستوری کی چمک دیکھ رہی ہوں اور آپ احرا م باند ھے ہو ئے ہیں ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، أَنَّفَقَالَ أَبَانٌ سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ وَلاَ يُنْكَحُ وَلاَ يَخْطُبُ ‏"‏ ‏.‏
Nubaih b. Wahb reported that 'Umar b. Ubaidullah intended to marry Talha b. 'Umar with the daughter of Shaiba b. Jubair; so he sent a messenger to Aban b. Uthman to attend the marriage, and he was at that time the Amir of Hajj. Aban said:I heard 'Uthman b. 'Affan say that Allah's Messenger (ﷺ) had stated: A Muhrim must neither marry himself, nor arrange the marriage of another one, nor should he make the proposal of marriage
امام مالک نے نافع سے ، انہوں نے نُبَیہ بن وہب سے روایت کی کہ عمر بن عبیداللہ ( بن معمر جہنی ) نے ارادہ کیا کہ اپنے بیٹے طلحہ بن عمر کی شادی شیبہ بن جبیر ( بن عثمان جہنی ) کی بیٹی سے کر دیں ، تو انہوں نے ابان بن عثمان کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ بھی آئیں ، وہ امیر الحج بھی تھے ۔ ابان نے کہا : میں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : محرم ( احرام باندھنے والا ) نہ ( خود ) نکاح کرے اور نہ اس کا نکاح کرایا جائے اور نہ وہ نکاح کا پیغام بھیجے
وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَمَّا ابْنُ مَنْصُورٍ فَقَالَ عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَمَّا، عَبْدُ الأَعْلَى فَقَالَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَوْ عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَقَالَ، زُهَيْرٌ عَنْ سَعِيدٍ، أَوْ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَحَدُهُمَا أَوْ كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَقَالَ، عَمْرٌو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، مَرَّةً عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، وَأَبِي، سَلَمَةَ وَمَرَّةً عَنْ سَعِيدٍ، أَوْ أَبِي سَلَمَةَ وَمَرَّةً عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي، هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَعْمَرٍ ‏.‏
A hadith like this is narrated on the authority of Abu Huraira
سعید بن منصور ، زہیر بن حرب ، عبدالاعلیٰ بن حماد اور عمرو ناقد سب نے کہا : ہمیں سفیان نے زہری سے خبر دی ۔ ابن منصور نے کہا : سعید نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ عبدالاعلی نے کہا : ابوسلمہ سے یا سعید سے روایت ہے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ زہیر نے کہا : سعید یا ابوسلمہ نے ان دونوں میں سے ایک نے یا دونوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ اور عمرو نے ایک بار کہا : ہمیں سفیان نے زہری کے حوالے سے سعید اور ابوسلمہ سے ، اور ایک بار کہا : سعید یا ابوسلمہ سے ، اور ایک بار کہا : سعید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ ۔ ۔ ( آگے ) جس طرح معمر کی حدیث ہے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، ح وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَ كَتَبْتُ ذَلِكَ مِنْ فِيهَا كِتَابًا قَالَتْ كُنْتُ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ فَطَلَّقَنِي الْبَتَّةَ فَأَرْسَلْتُ إِلَى أَهْلِهِ أَبْتَغِي النَّفَقَةَ ‏.‏ وَاقْتَصُّوا الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ‏.‏ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ‏ "‏ لاَ تَفُوتِينَا بِنَفْسِكِ ‏"‏ ‏.‏
Fatima bint Qais reported:I had been married to a person from Banu Makhzum and he divorced me with irrevocable divorce. I sent a message to his family asking for maintenance allowance, and the rest of the hadith has been transmitted with a slight change of words
یحییٰ بن ایوب ، قتیبہ بن سعید اور ابن حجر نے ہمیں حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : ہمیں اسماعیل ، یعنی ابن جعفر نے محمد بن عمرو سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ہمیں ابوسلمہ سے ، انہوں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کی ۔ اسی طرح ہمیں ابوبکر بن ابی شیبہ نے حدیث بیان کی ۔ ( کہا : ) ہم سے محمد بن بشر نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہم سے محمد بن عمرو نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حدیث بیان کی : ( ابوسلمہ نے ) کہا : میں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے منہ سے سن کر یہ حدیث لکھی ، انہوں نے کہا : میں بنو مخزوم کے ایک آدمی کے ہاں تھی ۔ اس نے مجھے تین طلاقیں دے دیں تو میں نے اس کے گھر والوں کے ہاں پیغام بھیجا ، میں خرچ کا مطالبہ کر رہی تھی ۔ ۔ ۔ آگے ان سب نے ابوسلمہ سے یحییٰ بن کثیر کی حدیث کے مانند بیان کیا ، البتہ محمد بن عمرو کی حدیث میں ہے : " اپنے ( نکاح کے ) معاملے میں ( ہمارے ساتھ مشورہ کیے بغیر ) ہمیں پیچھے نہ چھوڑ دینا
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِذَا ابْتَعْتَ طَعَامًا فَلاَ تَبِعْهُ حَتَّى تَسْتَوْفِيَهُ ‏"‏ ‏.‏
Jabir b. Abdullah (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When you purchase foodgrains, do not sell them until you have taken possession of them
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے : " جب تم غلہ خریدو تو اسے پوری طرح قبضے میں لینے سے پہلے نہ بیچو
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ، بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، كِلاَهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ مِثْلَهُ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ اللَّيْثِ مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ رُمْحٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا مَسْعُودٍ ‏.‏
A hadith like this is reported on the authority of Abu Mas'ud through another chain of transmitters
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رُمح نے لیث بن سعد سے روایت کی ، نیز ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث سنائی ، ان دونوں ( لیث بن سعد اور سفیابن بن عیینہ ) نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔ ابن رمح کی روایت کردہ لیث کی حدیث میں ہے کہ انہوں ( ابوبکر بن عبدالرحمان ) نے حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ سے سماعت کی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لأَبِي بَكْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ يَسَافٍ، قَالَ عَجِلَ شَيْخٌ فَلَطَمَ خَادِمًا لَهُ فَقَالَ لَهُ سُوَيْدُ بْنُ مُقَرِّنٍ عَجَزَ عَلَيْكَ إِلاَّ حُرُّ وَجْهِهَا لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مِنْ بَنِي مُقَرِّنٍ مَا لَنَا خَادِمٌ إِلاَّ وَاحِدَةٌ لَطَمَهَا أَصْغَرُنَا فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نُعْتِقَهَا ‏.‏
Hilal b. Yasaf reported that a person got angry and slapped his slave-girl. Thereupon Suwaid b. Muqarrin said to him:You could find no other part (to slap) but the prominent part of her face. See I was one of the seven sons of Muqarrin, and we had but only one slave-girl. The youngest of us slapped her, and Allah's Messenger (ﷺ) commanded us to set her free
ابن ادریس نے ہمیں حصین سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ہلال بن یساف سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ایک بوڑھے نے جلدی کی اور اپنے خادم کو طمانچہ دے مارا ، تو حضرت سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا : تمہیں اس کے شریف چہرے کے سوا اور کوئی جگہ نہ ملی؟ میں نے اپنے آپ کو مقرن کے بیٹوں میں سے ساتواں بیٹا پایا ، ہمارے پاس صرف ایک خادمہ تھی ، ہم میں سے سب سے چھوٹے نے اسے طمانچہ مارا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کو آزاد کر دینے کا حکم دیا
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي، هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي جَنِينِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي لِحْيَانَ سَقَطَ مَيِّتًا بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ ثُمَّ إِنَّ الْمَرْأَةَ الَّتِي قُضِيَ عَلَيْهَا بِالْغُرَّةِ تُوُفِّيَتْ فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِأَنَّ مِيرَاثَهَا لِبَنِيهَا وَزَوْجِهَا وَأَنَّ الْعَقْلَ عَلَى عَصَبَتِهَا ‏.‏
Abu Huraira reported that Allah's Messenger (ﷺ) gave judgment in case of the abortion of a woman of Banu Lihyan (that the offender and near relative should give compensation in the form of) good quality of a slave or a slave-girl. And the woman about whom the judgment was given for compensation died and thereupon Allah's Messenger (ﷺ) gave judgment that her inheritance goes to her sons and her husband, and the payment of the blood-wit lies with the family of (one who struck her)
لیث نے ابن شہاب سے ، انہوں نے ابن مسیب سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو لحیان ( جو قبیلہ ہذیل کی شاخ ہے ) کی ایک عورت کے پیٹ کے بچے کے بارے میں ، جو مردہ ضائع ہوا تھا ، ایک غلام یا لونڈی دیے جانے کا فیصلہ کیا ، پھو رہ عورت ( بھی ) فوت ہو گئی جس کے خلاف آپ نے غلام ( بطور دیت دینے ) کا فیصلہ کیا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ اس کی وراثت ( جو بھی ہے ) اس کے بیٹوں اور شوہر کے لیے ہے اور ( اس کی طرف سے ) دیت ( کی ادائیگی ) اس کے باپ کی طرف سے مرد رشتہ داروں پر ہے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، كِلاَهُمَا عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ح وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ، بْنُ زَيْدٍ ح وَحَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، كُلُّ هَؤُلاَءِ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ أَنَّ ابْنَ إِسْحَاقَ قَالَ فِي حَدِيثِهِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي جَلْدِ الأَمَةِ إِذَا زَنَتْ ثَلاَثًا ‏ "‏ ثُمَّ لْيَبِعْهَا فِي الرَّابِعَةِ ‏"‏ ‏.‏
This hadith his been narrated on the authority of Abu Huraira through another chain of transmitters with a slight variation of words
ایوب بن موسیٰ ، عبیداللہ بن عمر ، اسامہ بن زید اور محمد بن اسحاق سب نے سعید مقبری سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، البتہ ابن اسحاق نے اپنی حدیث میں کہا : سعید نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لونڈی کو ، جب وہ تین بار زنا کرے ، کوڑے لگانے کی بات روایت کی ، ( آگے فرمایا ) " پھر چوتھی بار اسے فروخت کر دے
وَحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ، يَقُولُ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ، مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ حُنَيْنٍ فَلَمَّا الْتَقَيْنَا كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ ‏.‏ قَالَ فَرَأَيْتُ رَجُلاً مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ عَلاَ رَجُلاً مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَاسْتَدَرْتُ إِلَيْهِ حَتَّى أَتَيْتُهُ مِنْ وَرَائِهِ فَضَرَبْتُهُ عَلَى حَبْلِ عَاتِقِهِ وَأَقْبَلَ عَلَىَّ فَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ ثُمَّ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ فَأَرْسَلَنِي فَلَحِقْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَالَ مَا لِلنَّاسِ فَقُلْتُ أَمْرُ اللَّهِ ‏.‏ ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ رَجَعُوا وَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ مَنْ قَتَلَ قَتِيلاً لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقُمْتُ فَقُلْتُ مَنْ يَشْهَدُ لِي ثُمَّ جَلَسْتُ ثُمَّ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ فَقَالَ فَقُمْتُ فَقُلْتُ مَنْ يَشْهَدُ لِي ثُمَّ جَلَسْتُ ثُمَّ قَالَ ذَلِكَ الثَّالِثَةَ فَقُمْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا لَكَ يَا أَبَا قَتَادَةَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ سَلَبُ ذَلِكَ الْقَتِيلِ عِنْدِي فَأَرْضِهِ مِنْ حَقِّهِ ‏.‏ وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ لاَهَا اللَّهِ إِذًا لاَ يَعْمِدُ إِلَى أَسَدٍ مِنْ أُسُدِ اللَّهِ يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ وَعَنْ رَسُولِهِ فَيُعْطِيكَ سَلَبَهُ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ صَدَقَ فَأَعْطِهِ إِيَّاهُ ‏"‏ ‏.‏ فَأَعْطَانِي قَالَ فَبِعْتُ الدِّرْعَ فَابْتَعْتُ بِهِ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلِمَةَ فَإِنَّهُ لأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ فِي الإِسْلاَمِ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ اللَّيْثِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ كَلاَّ لاَ يُعْطِيهِ أُضَيْبِعَ مِنْ قُرَيْشٍ وَيَدَعُ أَسَدًا مِنْ أُسُدِ اللَّهِ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ اللَّيْثِ لأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ ‏.‏
Abu Qatada reported:We accompanied the Messenger of Allah (my peace be upon him) on an expedition in the year of the Battle of Hunain. When we encountered the enemy, (some of the Muslims turned back (in fear). I saw that a man from the polytheists overpowered one of the Muslims. I turned round and attacked him from behind giving a blow between his neck and shoulder. He turned towards me and grappled with me in such a way that I began to see death staring me in the face. Then death overtook him and left me alone. I joined 'Umar b. al-Khattab who was saying: What has happened to the people (that they are retreating)? I said: It is the Decree of Allah. Then the people returned. (The battle ended in a victory for the Muslims) and the Messenger of Allah (ﷺ) sat down (to distribute the spoils of war). He said: One who has killed an enemy and can bring evidence to prove it will get his belongings. So I stood up and said: Who will give evidence for me? Then I sat down. Then he (the Holy Prophet) said like this. I stood up (again) and said: Who will bear witness for me? He (the Holy Prophet) made the same observation the third time, and I stood up (once again). Now the Messenger of Allah (ﷺ) said: What has happened to you, O Abu Qatada? Then I related the (whole) story, to him. At this, one of the people said: He has told the truth. Messenger of Allah 1 The belongings of the enemy killed by him are with me. Persuade him to forgo his right (in my favour). (Objecting to this proposal) Abu Bakr said: BY Allah, this will not happen. The Messenger of Allah (ﷺ) will not like to deprive one of the lions from among the lions of Allah who fight in the cause of Allah and His Messenger and give thee his share of the booty. So the Messenger of Allah (may peace he upon him) said: He (Abu Bakr) has told the truth, and so give the belongings to him (Abu Qatada). So he gave them to me. I sold the armour (which was a part of my share of the booty) and bought with the sale proceeds a garden in the street of Banu Salama. This was the first property I acquired after embracing Islam. In a version of the hadith narrated by Laith, the words uttered by Abu Bakr are:" No, never! He will not give it to a fox from the Quraish leaving aside a lion from the lions of Allah among...." And the hadith is closed with the words:" The first property I acquired
امام مالک بن انس کہتے ہیں : مجھے یحییٰ بن سعید نے عمر بن کثیر بن افلح سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ ابومحمد سے اور انہوں نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حنین کے سال ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ، جب ( دشمن سے ) ہمارا سامنا ہوا تو مسلمانوں میں بھگدڑ مچی ۔ کہا : میں نے مشرکوں میں سے ایک آدمی دیکھا جو مسلمانوں کے ایک آدمی پر غالب آ گیا تھا ، میں گھوم کر اس کی طرف بڑھا حتی کہ اس کے پیچھے آ گیا اور اس کی گردن کے پٹھے پر وار کیا ، وہ ( اسے چھوڑ کر ) میری طرف بڑھا اور مجھے اس زور سے دبایا کہ مجھے اس ( دبانے ) سے موت کی بو محسوس ہونے لگی ، پھر اس کو موت نے آ لیا تو اس نے مجھے چھوڑ دیا ، اس کے بعد میری حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی ، انہوں نے پوچھا : لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ میں نے کہا : اللہ کا حکم ہے ۔ پھر لوگ واپس پلٹے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے تو آپ نے فرمایا : "" جس نے کسی کو قتل کیا ، ( اور ) اس کے پاس اس کی کوئی دلیل ( نشانی وغیرہ ) ہو تو اس ( مقتول ) سے چھینا ہوا سامان اسی کا ہو گا ۔ "" کہا : تو میں کھڑا ہوا اور کہا : میرے حق میں کون گواہی دے گا؟ پھر میں بیٹھ گیا ۔ پھر آپ نے اسی طرح ارشاد فرمایا ۔ کہا : تو میں کھڑا ہوا اور کہا : میرے حق میں کون گواہی دے گا؟ پھر میں بیٹھ گیا ۔ پھر آپ نے تیسری بار یہی فرمایا ۔ کہا : میں پھر کھڑا ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ابوقتادہ! تمہارا کیا معاملہ ہے؟ "" تو میں نے آپ کو یہ واقعہ سنایا ۔ اس پر لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا : اے اللہ کے رسول! اس نے سچ کہا ہے ۔ اس مقتول کا چھینا ہوا سامان میرے پاس ہے ، آپ انہیں ان کے حق سے ( دستبردار ہونے پر ) مطمئن کر دیجیے ۔ اس پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا : نہیں ، اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر سے ، جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لڑائی کرتا ہے ، نہیں چاہیں گے کہ وہ اپنے مقتول کا چھینا ہوا سامان تمہیں دے دیں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" انہوں نے سچ کہا : وہ انہی کو دے دو ۔ "" تو اس نے ( وہ سامان ) مجھے دے دیا ، کہا : میں نے ( اسی سامان میں سے ) زرہ فروخت کی اور اس ( کی قیمت ) سے ( اپنی ) بنو سلمہ ( کی آبادی ) میں ایک باغ خرید لیا ۔ وہ پہلا مال تھا جو میں نے اسلام ( کے زمانے ) میں بنایا ۔ لیث کی حدیث میں ہے : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : ہرگز نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر کو چھوڑ کر قریش کے ایک چھوٹے سے لگڑ بگھے کو عطا نہیں کریں گے ۔ لیث کی حدیث میں ہے : ( انہوں نے کہا ) وہ پہلا مال تھا جو میں نے بنایا
وَحَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، مِنْ فِيهِ إِلَى فِيَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ح. وَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ جَعْفَرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، سَمِعَ أَبَا عَلْقَمَةَ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ حَدِيثِهِمْ ‏
This hadith has been narrated on the authority of Abu Huraira by more than one chain of transmitters
ابو عوانہ اور شعبہ نے یعلیٰ بن عطاء سے روایت کی ، انہوں نے علقمہ سے ( حدیث ) سنی ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سابقہ حدیث کی طرح روایت کی
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَيْبَرَ أَصَبْنَا حُمُرًا خَارِجًا مِنَ الْقَرْيَةِ فَطَبَخْنَا مِنْهَا فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَلاَ إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْهَا فَإِنَّهَا رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ ‏.‏ فَأُكْفِئَتِ الْقُدُورُ بِمَا فِيهَا وَإِنَّهَا لَتَفُورُ بِمَا فِيهَا ‏.‏
Anas reported:When Allah's Messenger (ﷺ) conquered Khaibar, we caught hold of the asses outside the village. We cooked them (their flesh). Then the announcer of Allah's Messenger (ﷺ) made the announcement: Listen, verily Allah and His Messenger have prohibited you (the eating of) their (flesh), for it is a loathsome evil of Satan's doing. Then the earthen pots were turned over along with what was in them, and these were brimming (with flesh) at that time
ایوب نے محمد ( بن سیرین ) سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبیر فتح کر لیا تو ہم نے بستی سے باہر نکلنے والے گدھے پکڑ لیے اور ان کا گو شت پکا نے لگے ، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے یہ اعلا ن کر دیا : سنو!اللہ اور اس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم کو ان ( گدھوں کا گوشت پکا نے ، کھانے ) سے منع کرتے ہیں ۔ کیونکہ یہ نجس ہے اور شیطان کا عمل ہے ۔ پھر ہانڈیوں کو گوشت سمیت الٹ دیا گیا جبکہ وہ اس کے ساتھ ابل رہی تھیں ۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ، - يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ - حَدَّثَنَا ثُمَامَةُ بْنُ، حَزْنٍ الْقُشَيْرِيُّ قَالَ لَقِيتُ عَائِشَةَ فَسَأَلْتُهَا عَنِ النَّبِيذِ، فَحَدَّثَتْنِي أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلُوا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنِ النَّبِيذِ فَنَهَاهُمْ أَنْ يَنْتَبِذُوا فِي الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ وَالْحَنْتَمِ ‏.‏
Thumama b. Hazn Al-Qushairi reported:I met 'A'isha and asked her (about the utensils in which) Nabidh (may be prepared). She narrated to me that a group of 'Abd al-Qais came to Allah's Apostle (ﷺ) and asked: Allah's Apostle (ﷺ) about Nabidh. He (the Holy Prophet) forbade them to prepare Nabidh in varnished jar, hollow stumps and gourd and green pitcher
ثمامہ بن حزن قشیری نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضری دی تو میں نے ان سے نبیذ کے متعلق سوال کیا ، انھوں نے مجھے حدیث سنائی کہ ( بنو ) عبدالقیس کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نبیذ کے متعلق سوال کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کدوکے ( بنے ہوئے ) برتن ، کھوکھلی لکڑی کے برتنوں ، روغن زفت ملے ہوئے برتنوں اور سبز گھڑوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ ابْنَ مَعْدَانَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ جُبَيْرَ بْنَ نُفَيْرٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَخْبَرَهُ قَالَ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَىَّ ثَوْبَيْنِ مُعَصْفَرَيْنِ فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّ هَذِهِ مِنْ ثِيَابِ الْكُفَّارِ فَلاَ تَلْبَسْهَا ‏"‏ ‏.‏
Abdullah b. 'Amr b. al-As reported:Allah's Messenger (ﷺ) saw me wearing two clothes dyed in saffron. whereupon he said: These are the clothes (usually worn by) the non-believers, so do not wear them
معاذ بن ہشام نے ہمیں بیان کیا ، کہا : مجھے میرے والد نے یحییٰ ( بن ابی کثیر ) سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے محمد بن ابراہیم بن حارث نے حدیث سنا ئی کہ ابن معدان نے انھیں بتا یا کہ انھیں جبیر بن نفیر نے خبر دی کہ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے گیروے رنگ کے دو کپڑے پہنے ہو ئے دیکھا تو آپ نے فرما یا : " یہ کا فروں کے کپڑے ہیں تم انھیں مت پہنو ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ، نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ - كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَابْنُ، رُمْحٍ عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، وَأَبُو كَامِلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ أَيُّوبَ بْنَ مُوسَى، كُلُّ هَؤُلاَءِ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ ‏.‏
This hadith has been reported on the authority of lbn 'Umar through two different chains of transmitters
عبیداللہ ، لیث بن اسعد ، ایوب ( سختیانی ) اور ایوب بن موسیٰ ان سب نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مالک کی حدیث کے ہم معنی روایت کی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، - وَاللَّفْظُ لِوَاصِلٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ تَرِدُ عَلَىَّ أُمَّتِي الْحَوْضَ وَأَنَا أَذُودُ النَّاسَ عَنْهُ كَمَا يَذُودُ الرَّجُلُ إِبِلَ الرَّجُلِ عَنْ إِبِلِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَتَعْرِفُنَا قَالَ ‏"‏ نَعَمْ لَكُمْ سِيمَا لَيْسَتْ لأَحَدٍ غَيْرِكُمْ تَرِدُونَ عَلَىَّ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ وَلَيُصَدَّنَّ عَنِّي طَائِفَةٌ مِنْكُمْ فَلاَ يَصِلُونَ فَأَقُولُ يَا رَبِّ هَؤُلاَءِ مِنْ أَصْحَابِي فَيُجِيبُنِي مَلَكٌ فَيَقُولُ وَهَلْ تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported the Messenger of Allah (ﷺ) said:My people would come to me on the Cistern and I would drive away persons (from it) just as a person drives away other people's camels from his camels. They (the hearers) said: Apostle of Allah, would you recognize us? He replied: Yea, you would have a mark which other people will not have. You would come to me with a white blaze on your foreheads and white marks on your feet because of the traces of ablution. A group among you would be prevented from coming to me, and they would not meet me, and I would say: O my Lord, they are my companions. Upon this an angel would reply to me saying: Do you know what these people did after you
(مروان کے بجائے ) ابن فضیل نے ابو مالک اشجعی سے ، انہوں نے ابو حازم سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’میری امت میرے پاس حوض پر آئے گی اور میں اسی طرح ( دوسرے ) لوگوں کو اس ( حوض ) سے دور ہٹاؤں گا جیسےایک آدمی دوسرے آدمی کے اونٹوں کو اپنے اونٹوں سے ہٹاتا ہے ۔ ‘ ‘ صحابہ کرام نے عرض کی : اے اللہ کے نبی !کیا آپ ہمیں پہچانیں گے؟ آپ نے فرمایا : ’’ہاں ، تمہاری ایک نشانی ہو گی جو تمہارے سوا کسی اور کی نہیں ہو گی ، تم میرے پا س وضو کےاثرات سے روشن چہرے اور چمکدارہاتھ پاؤں کے ساتھ آؤ گے ۔ تم میں سےایک گروہ کو زبردستی میرے پاس آنے سےروک دیا جائے گا ، تو وہ مجھ تک نہیں پہنچ سکیں گے ۔ اس پر میں کہوں گا : اے میرے رب !یہ میرے ساتھیوں میں سے ہیں ۔ ایک فرشتہ مجھے جواب دے گا او رکہے گا : کیا آپ جانتے ہیں انہوں نےآپ کے بعد کیا کیا کام ایجاد کیے تھے؟ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ أَمَامَكُمْ حَوْضًا كَمَا بَيْنَ جَرْبَا وَأَذْرُحَ فِيهِ أَبَارِيقُ كَنُجُومِ السَّمَاءِ مَنْ وَرَدَهُ فَشَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا ‏"‏ ‏.‏
Abdullah reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There would be before you a Cistern (as extensive) as there is the distance between Jarba' and Adhruh and there would be jugs like stars in the sky; he who would come to that and drink from it would never feel thirsty after that
عمر بن نافع سے ، انھوں نے حضرت عبد اللہ ( بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : : " تمھا رے سامنے ایسا حوض ہے جتنا جرباء اور اذرح کے درمیان کی مسافت ہے اس میں آسمان کے ستاروں جتنے کو زے ہیں جو اس تک پہنچے گا اور اس میں سے پیے گا وہ اس کے بعد کبھی پیاسا نہیں ہو گا ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters
معاذ نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند سے حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِيَانِ ابْنَ زَيْدٍ - عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَفِي حَدِيثِ سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ عَائِدُ الْمَرِيضِ فِي مَخْرَفَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Rabi' reported directly from Allah's Apostle (may peace upon him) as saying:The one who visits the sick is in fact like one who is in the fruit garden of Paradise so long as he does not return
سعید بن منصور اور ابوربیع زہرانی سے کہا : ہمیں حماد بن زید نے ایوب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوقلابہ سے ، انہوں نے ابواسماء سے ، انہوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ ۔ ابو ربیع نے کہا : انہوں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعا بیان کیا ۔ ۔ اور سعید کی حدیث میں ہے : ( ثوبان رضی اللہ عنہ نے ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مریض کی عیادت کرنے والا واپس آنے تک جنت کے درمیان گزرنے والی روش پر ہوتا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لأَبِي بَكْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَشْكُرِيِّ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اللَّهُمَّ أَمْتِعْنِي بِزَوْجِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَبِأَبِي أَبِي سُفْيَانَ وَبِأَخِي مُعَاوِيَةَ ‏.‏ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ قَدْ سَأَلْتِ اللَّهَ لآجَالٍ مَضْرُوبَةٍ وَأَيَّامٍ مَعْدُودَةٍ وَأَرْزَاقٍ مَقْسُومَةٍ لَنْ يُعَجِّلَ شَيْئًا قَبْلَ حِلِّهِ أَوْ يُؤَخِّرَ شَيْئًا عَنْ حِلِّهِ وَلَوْ كُنْتِ سَأَلْتِ اللَّهَ أَنْ يُعِيذَكِ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ أَوْ عَذَابٍ فِي الْقَبْرِ كَانَ خَيْرًا وَأَفْضَلَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَذُكِرَتْ عِنْدَهُ الْقِرَدَةُ قَالَ مِسْعَرٌ وَأُرَاهُ قَالَ وَالْخَنَازِيرُ مِنْ مَسْخٍ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَجْعَلْ لِمَسْخٍ نَسْلاً وَلاَ عَقِبًا وَقَدْ كَانَتِ الْقِرَدَةُ وَالْخَنَازِيرُ قَبْلَ ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏
Abdullah reported that Umm Habiba, the wife of Allah's Apostle (ﷺ), said:0 Allah, enable me to derive benefit from my husband, the Messenger of Allah (ﷺ), and from my father Abu Sufyan and from my brother Mu'awiya. Allah's Apostle (ﷺ) said: You have asked from Allah about durations of life already set, and the length of days already allotted and the sustenances the share of which has been fixed. Allah would not do anything earlier before its due time, or He would not delay anything beyond its due time. And if you were to ask Allah to provide you refuge from the torment of the HellFire, or from the torment of the grave, it would have good in store for you and better for you also. He (the narrator) further said: Mention was made before him about monkeys, and Mis'ar (one of the narrators) said: I think that (the narrator) also (made a mention) of the swine, which had suffered metamorphosis. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Verily, Allah did not cause the race of those which suffered metamorphosis to grow or they were not survived by young ones. Monkeys and swine had been in existence even before (the metamorphosis of the human beings)
ابن بشر نے مسعر سے اسی سند کے ساتھ خبر دی ، مگر ابن بشر اور وکیع دونوں سے ان کی ( روایت کردہ ) حدیث میں یہ الفاظ منقول ہیں : " آگ میں دیے جانے والے اور قبر میں دیے جانے والے عذاب سے ( پناہ مانگتی تو بہتر تھا ۔ ) " ( " یا " کی بجائے " اور " ہے ۔)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَاهُ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ أَبِي أُسَامَةَ لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ التَّيْسِيرِ عَلَى الْمُعْسِرِ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Abu Huraira through another chain of transmitters but with a slight variation of wording
عبداللہ بن نمیر اور ابواسامہ نے کہا : ہمیں اعمش نے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جس طرح ابومعاویہ کی حدیث ہے ، مگر ابواسامہ کی حدیث میں تنگدست کے لیے آسانی کرنے کا ذکر نہیں ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ أَصَابَ رَجُلٌ مِنِ امْرَأَةٍ شَيْئًا دُونَ الْفَاحِشَةِ فَأَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَعَظَّمَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَتَى أَبَا بَكْرٍ فَعَظَّمَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَزِيدَ وَالْمُعْتَمِرِ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Sulaiman Taimi with the same chain of transmitters that a person had taken liberty with a woman less than fomication. He came to 'Umar b. Khattab and he took it to be a serious offence. Then he came to Abu Bakr and he also took it to be a serious offence. Then he came the Allahs Apostle (ﷺ) and he made a mention of this to him. The rest of the hadith is the same
شعبہ نے سماک بن حرب سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے ابراہیم کو اپنے ماموں اسود سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ابو احوص کی حدیث کے ہم معنی روایت کی ، انہوں نے اپنی حدیث میں کہا : تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اللہ کے رسول! کیا یہ خاص اسی کے لیے ہے یا عمومی طور پر ہم سب کے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بلکہ تم سب کے لیے عام ہے ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْخَامَةِ مِنَ الزَّرْعِ تُفِيئُهَا الرِّيَاحُ تَصْرَعُهَا مَرَّةً وَتَعْدِلُهَا حَتَّى يَأْتِيَهُ أَجَلُهُ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ مَثَلُ الأَرْزَةِ الْمُجْذِيَةِ الَّتِي لاَ يُصِيبُهَا شَىْءٌ حَتَّى يَكُونَ انْجِعَافُهَا مَرَّةً وَاحِدَةً ‏"‏ ‏.‏
Ka'b b. Malik reported on the authority of his father that the similitude of a believer is that of a standing crop. The wind sometimes shakes it and sometimes raises it up and then it comes to its destined end. And the similitude of a hypocrite is that of a cypress tree which is not affected by anything but is uprooted once for all
زہیر بن حرب نے مجھے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں بشر بن سری اور عبدالرحمان بن مہدی نے حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں سفیان بن عینیہ نے سعد بن ابراہیم سے ، انھوں نے عبدالرحمان بن کعب بن مالک سے ، انھوں نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " مومن کی مثال کھیتی کے تیلی نمانرم تنے کی سی ہے جس کو ہوا موڑتی رہتی ہے ، کبھی اس کو لٹا دیتی ہے اور کبھی کھڑا کردیتی ہے ، حتیٰ کہ اس ( کے پک کرکٹنے ) کا وقت آجاتا ہے ، اور منافق کی مثال ویودار کے مضبوط جڑوں والے درخت کی طرح ہے ، اس پر ( ایسی ) کوئی مشکل نہیں آتی ، حتیٰ کہ ایک ہی دفعہ وہ جڑوں سے اکھڑ ( کرگر ) جاتا ہے ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ - أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، قَالَ سَمِعْتُ أَنسًا، يَقُولُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ يَبْقَى مِنَ الْجَنَّةِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَبْقَى ثُمَّ يُنْشِئُ اللَّهُ تَعَالَى لَهَا خَلْقًا مِمَّا يَشَاءُ ‏"‏ ‏.‏
Anas reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:There would be left some space in Paradise as Allah would like that to be left. Then Allah would create another creation as He would like
ثابت نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جنت میں سے جس حصے کے بارے میں اللہ تعالیٰ چاہے گا کہ باقی بچ جائے وہ باقی بچ جائے گا ، پھر اللہ تعالیٰ اس کے لیے ، جہاں سے چاہے گا ، مخلوق پیدا کردے گا ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، كِلاَهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَغْتَسِلُ فِي الْقَدَحِ وَهُوَ الْفَرَقُ وَكُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَهُوَ فِي الإِنَاءِ الْوَاحِدِ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ ‏.‏ قَالَ قُتَيْبَةُ قَالَ سُفْيَانُ وَالْفَرَقُ ثَلاَثَةُ آصُعٍ ‏.‏
A'isha reported:The Messenger of Allah (ﷺ) took a bath from the vessel (which contained seven to eight seers, i. e. fifteen to sixteen pounds) of water And I and he (the Holy Prophet) took a bath from the same vessel. And in the hadith narrated by Sufyan the words are:" from one vessel". Qutaiba said: Al-Faraq is three Sa' (a cubic measuring of varying magnitude)
قتیبہ بن سعید اور ابن رمح نے لیث سے ، اسی طرح قتیبہ بن سعید ، ابوبکر بن ابی شیبہ ، عمرو ناقد اورزہیر بن حرب نے سفیان سے حدیث بیان کی ، ان دونوں ( لیث اور سفیان ) نے زہری سے ، انہوں نے عروہ سے ، انہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ ایک بڑے پیالے سے ، جو ایک فرق کی مقدارجتنا تھا ، غسل فرماتے ۔ میں اور آپ ایک برتن میں ( سے ) غسل کرتے تھے ۔ سفیان کی حدیث میں ( في الإنا ء الواحدکے بجائے ) من إناء واحد ( ایک برتن سے ) ہے ۔ قتیبہ نے کہا ، سفیان نے کہا : فرق تین صاع کا ہوتا ہے ۔
وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ - حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، - يَعْنِي ابْنَ هِلاَلٍ - عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ كُنْتُ فِي بَيْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَالْبَيْتُ مَلآنُ - قَالَ - فَهَاجَتْ رِيحٌ حَمْرَاءُ بِالْكُوفَةِ ‏.‏ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ ‏.‏
Jabir reported:I was in the house of 'Abdullah b. Mas'ud and the house was fully packed that a red storm blew in Kufah
شیبان بن فروخ نے کہا : ہمیں سلیمان بن مغیرہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حمید بن ہلال نے ابو قتادہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اسیر بن جابرسے روایت کی ، کہا : ہم حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر میں تھے جبکہ گھر بھرا ہوا تھا ۔ کہا : اس وقت کوفہ میں سرخ آندھی چلی ، پھر ابن علیہ کی حدیث کے مانند روایت کی ۔
حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّاسَ نَزَلُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْحِجْرِ أَرْضِ ثَمُودَ فَاسْتَقَوْا مِنْ آبَارِهَا وَعَجَنُوا بِهِ الْعَجِينَ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُهَرِيقُوا مَا اسْتَقَوْا وَيَعْلِفُوا الإِبِلَ الْعَجِينَ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَسْتَقُوا مِنَ الْبِئْرِ الَّتِي كَانَتْ تَرِدُهَا النَّاقَةُ ‏.‏
Abdullah b. 'Umar reported that the people encamped along with Allah's Messenger (ﷺ) in the valley of Hijr, the habitations of Thamud, and they quenched their thirst from the wells thereof and kneaded the flour with it. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) commanded that the water collected for drinking should be spilt and the flour should be given to the camels and commanded them that the water for drinking should be taken from that well where the she-camel (of Hadrat Salih) used to come
شعیب بن اسحٰق نے کہا : ہمیں عبید اللہ نے نافع سے خبر دی انھیں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ( سفر کرنے والے لوگ سرزمین ثمود حجر میں اتر گئے اور وہاں کے کنوؤں سے پانی حاصل کیا اور اس کے ساتھ آٹا ( بھی ) گوندھ لیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم دیاکہ انھوں نے جو پانی بھراہے وہ بہادیں اورگندھا ہوا آٹا اونٹوں کو کھلا دیں اور ان سے کہا : کہ وہ اس کنویں سے پانی حاصل کریں جہاں ( حضرت صالح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ) اونٹنی پانی پینے کے لیے آیا کرتی تھی ۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، قَالَ سَعِيدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الظُّهْرِ - أَوِ الْعَصْرِ - فَقَالَ ‏"‏ أَيُّكُمْ قَرَأَ خَلْفِي بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا وَلَمْ أُرِدْ بِهَا إِلاَّ الْخَيْرَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا ‏"‏ ‏.‏
lmrin b. Husain reported:The Messenger of Allah (may peace beupon him) led us In Zuhr or 'Asr prayer (noon or the afternoon prayer). (On concluding it) he said: Who recited behind me (the verses): Sabbih Isma Rabbik al-a'la (Glorify the name of thy Lord, the Most High)? There upon a person said: It was I, but I in- tended nothing but goodness. I felt that some one of you was disputing with me in it (or he was taking out from my tongue what I was reciting), said the Prophet (ﷺ)
ابو عوانہ نے قتادہ سے ، انہوں نے زرارہ بن اوفیٰ سے اور انہوں نے حضرت عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے ہمیں ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی ، پھر فرمایا : ’’ تم میں سے کس نے میرے پیچھے ﴿سبح اسم ربك الأعلى﴾ پڑھی؟ ‘ ‘ تو ایک آدمی نے کہا : میں نے ، اور خیر کے سوا اس سے میں اورکچھ نہیں چاہتا تھا ۔ آپ نے فرمایا : ’’مجھے علم ہو گیا کہ تم میں سے کوئی مجھے اس ( یعنی قراءت ) میں الجھا رہا ہے ۔ ‘ ‘