بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
37 hadith
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ شِنْظِيرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَاجَةٍ ‏.‏ بِمَعْنَى حَدِيثِ حَمَّادٍ ‏.‏
This hadith that the Messenger of Allah (ﷺ) sent Jabir on an errand has been reported by him through another chain of transmitters
عبدالوارث بن سعید نے کہا : ہمیں کثر بن شنظیر نے حدیث سنائی ، انھوں نے عطاء سے اور انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے مجھے کسی کام کی غرض سے بھیجا .........آگے حماد بن زید کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔
وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ عَلَى مَا كَانَ مِنْ عَمَلٍ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ ‏"‏ مِنْ أَىِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ شَاءَ ‏"‏ ‏.‏
It is narrated on the authority of Umar b. Hani with the same chain of transmitters with the exception of these words:Allah would make him (he who affirms these truths) enter Paradise through one of the eight doors which he would like
عمیر بن ہانی سے ( عبد الرحمٰن بن یزید ) ابن جابر کے بجائے اوزاعی کے واسطے سے یہی حدیث بیان کی گئی ہے ، البتہ انہوں نے اس طرح کہا : ’’ اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا ، اس کے عمل جیسے بھی ہوں ۔ ‘ ‘ اور ’’ اسے جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس سےچاہے گا ( داخل کر دے گا ) ‘ ‘ کا ذکر نہیں کیا ۔
وَحَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُوتِرُ عَلَى رَاحِلَتِهِ ‏.‏
Abdullah b. 'Umar reported that the Messenger of Allah (ﷺ) used to observe Witr prayer on his ride
ابن ہاد نے عبداللہ بن دینا ر سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر وتر ادا کرتے تھے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ حُصَيْنٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ ‏.‏ وَلَمْ يَقُلْ قَائِمًا ‏.‏
This hadith has been narrated by Husain with the same chain of transmitters but with this alteration that he did not make mention of the standing position
عبداللہ بن ادریس نے حصین سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، کہا : ( جب تجارتی قافلہ آیاتو ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے ۔ یہ نہیں کہا : کھڑے ہوئے ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَقُتَيْبَةُ، بْنُ سَعِيدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، كُلُّهُمْ عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ قَالَتْ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ مَالِكٍ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ تُوُفِّيَتِ ابْنَتُهُ ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ‏.‏
Umm 'Atiyya reported:One of the daughters of the Messenger of Allah (ﷺ) died. And in the hadith transmitted by Ibn 'Ulayya (the words are): The Messenger of Allah (ﷺ) came to us and we were washing his daughter. And in the hadith transmitted by Malik (the words are): There came in (our apartment) the Messenger of Allah (way peace be upon him) when his daughter died. The rest of the hadith is the same as narrated by Yazid b. Zurai' from Ayyub from Muhammad from Umm 'Atiyya
مالک بن انس ، حماد اور ابن علیہ نے ایوب سے انھوں نے محمد سے اور انھوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیوں میں سے ایک وفات پاگئیں ۔ ابن علیہ کی حدیث میں ( یوں ) ہے ( ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لا ئے اور ہم آپ کی بیٹی کو غسل دے رہی تھیں اور مالک کی حدیث میں ہے کہا : جب آپ کی بیٹی وفات پا گئیں تو آپ ہمارے پاس تشریف لا ئے ۔ ۔ ۔ ( اس سے آگے ) ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے محمد ، ان سے ایوب اور ان سے یزید کی حدیث کے مانند ہے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لأَبِي كُرَيْبٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُزَاحِمِ بْنِ زُفَرَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ دِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ فِي رَقَبَةٍ وَدِينَارٌ تَصَدَّقْتَ بِهِ عَلَى مِسْكِينٍ وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ عَلَى أَهْلِكَ أَعْظَمُهَا أَجْرًا الَّذِي أَنْفَقْتَهُ عَلَى أَهْلِكَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Of the dinar you spend as a contribution in Allah's path, or to set free a slave, or as a sadaqa given to a needy, or to support your family, the one yielding the greatest reward is that which you spent on your family
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا " ( جن دیناروں پر اجر ملتا ہے ان میں سے ) ایک دینا وہ ہے جسےتو نے اللہ کی راہ میں خرچ کیا ایک دیناروہ ہے جسے تو نے کسی کی گردن ( کی آزادی ) کے لیے خرچ کیا ایک دینا ر وہ ہے جسے تو نے مسکین پر صدقہ کیا اور ایک دینار وہ ہے جسے تو نے اپنے گھر والوں پر صرف کیا ان میں سب سے عظیم اجر اس دینار کا ہے جسے تو نے اپنے اہل پر خرچ کیا ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، - يَعْنِي الأَحْمَرَ - عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ إِنَّ الْفَجْرَ لَيْسَ الَّذِي يَقُولُ هَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ وَجَمَعَ أَصَابِعَهُ ثُمَّ نَكَسَهَا إِلَى الأَرْضِ ‏"‏ وَلَكِنِ الَّذِي يَقُولُ هَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ وَوَضَعَ الْمُسَبِّحَةَ عَلَى الْمُسَبِّحَةِ وَمَدَّ يَدَيْهِ ‏.‏
This hadith has been narrated by Sulaiman al-Taimi with the same chain of transmitters (but with a slight variation of words) that he (the Holy Prophet) said:The dawn is not like it as it is said; he then gathered his fingers and lowered them. But he said, it is like this (and he placed the index finger upon the other one and spread his hand)
خالداحمر نے ، سلیمان تیمی ، سے اس سند کے ساتھ حضرت سلیمان تیمی سے یہ روایت اسی طرح نقل کی گئی ہے سوائے اس کے کہ اس میں انہوں نے فرمایا کہ فجر وہ نہیں جو اس طرح ہو اور آپ نے انگلیوں کو ملایا پھر انہیں زمین کی طرف جھکایا اور فرمایا کہ فجر وہ ہے جو اس طرح ہو اور شہادت کی انگلی کو شہادت کی انگلی پر رکھ کر دونوں ہاتھوں کو پھیلایا ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، - وَهُوَ السَّلُولِيُّ - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ، - وَهُوَ ابْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيُّ - عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي، إِسْحَاقَ سَمِعَ ابْنَ الأَسْوَدِ، يَذْكُرُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَرَادَ أَنْ يُحْرِمَ يَتَطَيَّبُ بِأَطْيَبِ مَا يَجِدُ ثُمَّ أَرَى وَبِيصَ الدُّهْنِ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ بَعْدَ ذَلِكَ ‏.‏
A'isha (Allah be pleased with her) reported that when the Messenger of Allah (ﷺ) intended to enter upon the state of Ihram he perfumed himself with the best of perfumes which he could find and after that I saw the glistening of oil on his head and beard
ابو اسحاق نے ( عبد الرحمٰن ) بن اسود کو اپنے والد ( اسود بن یزید ) سے روایت کرتے ہو ئے سنا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے انھوں نے کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احرا م باندھنے کا ارادہ فر ما تے تو ( اس وقت ) جو بہترین خوشبو آپ کو میسر ہو تی اسے لگا تے اس کے بعد میں ( آپ کے احرا م باندھنے کے بعد ) آپ کے سراور داڑھی میں ( خوشبو کے ) تیل کی چمک دیکھتی
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.‏
A hadith like this has been transmitted on the authority of Amr b. Dinar
ورقاء نے عمرو بن دینار سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، - قَالَ ابْنُ رَافِعٍ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي، سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The child is to be attributed to one on whose bed he is born, and for a fornicator there is stoning
معمر نے زہری سے خبر دی ، انہوں نے ابن مسیب اور ابوسلمہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بچہ بستر والے کا ہے اور زانی کے لیے پتھر ( ناکامی اور محرومی ) ہے
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، - وَهُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ - أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ، أُخْتَ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أَبَا حَفْصِ بْنَ الْمُغِيرَةِ الْمَخْزُومِيَّ طَلَّقَهَا ثَلاَثًا ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ لَهَا أَهْلُهُ لَيْسَ لَكِ عَلَيْنَا نَفَقَةٌ ‏.‏ فَانْطَلَقَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فِي نَفَرٍ فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ فَقَالُوا إِنَّ أَبَا حَفْصٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاَثًا فَهَلْ لَهَا مِنْ نَفَقَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَيْسَتْ لَهَا نَفَقَةٌ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ ‏"‏ ‏.‏ وَأَرْسَلَ إِلَيْهَا ‏"‏ أَنْ لاَ تَسْبِقِينِي بِنَفْسِكِ ‏"‏ ‏.‏ وَأَمَرَهَا أَنْ تَنْتَقِلَ إِلَى أُمِّ شَرِيكٍ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْهَا ‏"‏ أَنَّ أُمَّ شَرِيكٍ يَأْتِيهَا الْمُهَاجِرُونَ الأَوَّلُونَ فَانْطَلِقِي إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الأَعْمَى فَإِنَّكِ إِذَا وَضَعْتِ خِمَارَكِ لَمْ يَرَكِ ‏"‏ ‏.‏ فَانْطَلَقَتْ إِلَيْهِ فَلَمَّا مَضَتْ عِدَّتُهَا أَنْكَحَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُسَامَةَ بْنَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ
Abu Salama reported that Fatima bint Qais, the sister of al-Dahhak b. Qais informed him that Abu Hafs b. Mughira al-Makhzumi divorced her three times and then he proceeded on to the Yemen. The members of his family said to her:There is no maintenance allowance due to you from us. Khalid b. Walid along with a group of persons visited Allah's Messenger (ﷺ) in the house of Maimuna and they said: Abu Hafs has divorced his wife with three pronouncements; is there any maintenance allowance due to her? Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: No maintenance allowance is due to her, but she is required to spend the 'Idda; and he sent her the message that she should not be hasty in making a decision about herself and commanded her to move to the house of Umm Sharik, and then sent her the message that as the first immigrants (frequently) visit the house of Umm Sharik, she should better go to the house of Ibn Umm Maktum, the blind, (and further said: In case you put off your head-dress, he (Ibn Umm Makhtum) will not see you. So she went to his house, and when the 'Idda was over, Allah's Messenger (ﷺ) married her to Usama b. Zaid b. Haritha
یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت ہے ، ( کہا : ) مجھے ابوسلمہ نے خبر دی کہ ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ ابوحفص بن مغیرہ مخزومی نے اسے تین طلاقیں دے دیں ، پھر یمن کی طرف طلا گیا ، تو اس کے عزیز و اقارب نے اسے کہا : تمہارا خرچ ہمارے ذمے نہیں ہے ۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ چند ساتھیوں کے ہمراہ آئے ، حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : ابوحفص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں ، کیا اس ( کی سابقہ بیوی ) کے لیے خرچہ ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس کے لیے خرچہ نہیں ہے جبکہ اس کے لیے عدت ( گزارنا ) ضروری ہے ۔ " اور آپ نے اس کی طرف پیغام بھیجا : " اپنے بارے میں مجھ سے ( مشورہ کرنے سے پہلے ) سبقت نہ کرنا ۔ " اور اسے حکم دیا کہ ام شریک رضی اللہ عنہا کے ہاں منتقل ہو جائے ، پھر اسے پیغام بھیجا : " ام شریک کے ہاں اولین مہاجرین آتے ہیں ، تم ابن مکتوم اعمیٰ کے ہاں چلی جاؤ ، جب ( کبھی ) تم اپنی اوڑھنی اتارو گی تو وہ تمہیں نہیں دیکھ سکیں گے ۔ " وہ ان کے ہاں چلی گئیں ، جب ان کی عدت پوری ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نکاح اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہا سے کر دیا
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ، بْنُ عُثْمَانَ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ لِمَرْوَانَ أَحْلَلْتَ بَيْعَ الرِّبَا ‏.‏ فَقَالَ مَرْوَانُ مَا فَعَلْتُ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَحْلَلْتَ بَيْعَ الصِّكَاكِ وَقَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ بَيْعِ الطَّعَامِ حَتَّى يُسْتَوْفَى ‏.‏ قَالَ فَخَطَبَ مَرْوَانُ النَّاسَ فَنَهَى عَنْ بَيْعِهَا ‏.‏ قَالَ سُلَيْمَانُ فَنَظَرْتُ إِلَى حَرَسٍ يَأْخُذُونَهَا مِنْ أَيْدِي النَّاسِ ‏.‏
Abu Huraira (Allah be please with him) is reported to have said to Marwan:Have you made lawful the transactions involving interest? Thereupon Marwan said: I have not done that. Thereupon Abu Huraira (ﷺ) said: You have made lawful the transactions with the help of documents only, whereas Allah's Messenger (ﷺ) forbade the transaction of foodgrains until full possession is taken of them. Marwan then addressed the people and forbade them to enter into such transactions (as are done with the help of documents). Sulaiman said: I saw the sentinels snatching (these documents) from the people
عبداللہ بن حارث مخزومی نے ہمیں خبر دی ، کہا : ہمیں ضحاک بن عثمان نے بکیر بن عبداللہ بن اشج سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سلیمان بن یسار سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے مروان سے کہا : تم نے سودی تجارت حلال کر دی ہے؟ مروان نے جواب دیا : میں نے ایسا کیا کیا ہے؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : تم نے ادائیگی کی دستاویزات ( چیکوں ) کی بیع حلال قرار دی ہے حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکمل قبضہ کرنے سے پہلے غلے کو بیچنے سے منع فرمایا ہے ۔ کہا : اس پر مروان نے لوگوں کو خطبہ دیا اور ان ( چیکوں ) کی بیع سے منع کر دیا ۔ سلیمان نے کہا : میں نے محافظوں کو دیکھا وہ انہیں لوگوں کے ہاتھوں سے واپس لے رہے تھے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَمَهْرِ الْبَغِيِّ وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ ‏"‏ ‏.‏
Aba Mas'ud al-Ansari (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger (ﷺ) forbade the charging of price of the dog, and earnings of a prostitute and sweets offered to a kahin
امام مالک نے ابن شہاب سے ، انہوں نے ابوبکر بن عبدالرحمٰن سے اور انہوں نے حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت ، زانیہ کے معاوضے اور کاہن کے نذرانے سے منع فرمایا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ لَطَمْتُ مَوْلًى لَنَا فَهَرَبْتُ ثُمَّ جِئْتُ قُبَيْلَ الظُّهْرِ فَصَلَّيْتُ خَلْفَ أَبِي فَدَعَاهُ وَدَعَانِي ثُمَّ قَالَ امْتَثِلْ مِنْهُ ‏.‏ فَعَفَا ثُمَّ قَالَ كُنَّا بَنِي مُقَرِّنٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْسَ لَنَا إِلاَّ خَادِمٌ وَاحِدَةٌ فَلَطَمَهَا أَحَدُنَا فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ أَعْتِقُوهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لَيْسَ لَهُمْ خَادِمٌ غَيْرُهَا قَالَ ‏"‏ فَلْيَسْتَخْدِمُوهَا فَإِذَا اسْتَغْنَوْا عَنْهَا فَلْيُخَلُّوا سَبِيلَهَا ‏"‏ ‏.‏
Mu'awiya b. Suwaid reported:I slapped a slave belonging to us and then fled away. I came back just before noon and offered prayer behind my father. He called him (the slave) and me and said: Do as he has done to you. He granted pardon. He (my father) then said: We belonged to the family of Muqarrin during the lifetime of Allah's Messenger (may peace be upon him. and had only one slave-girl and one of us slapped her. This news reached Allah's Apostle (ﷺ) and he said: Set her free. They (the members of the family) said: There is no other servant except she. Thereupon he said: Then employ her and when you can afford to dispense with her services, then set her free
معاویہ بن سوید ( بن مُقرن ) سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے اپنے ایک غلام کو طمانچہ مارا اور بھاگ گیا ، پھر میں ظہر سے تھوڑی دیر پہلے آیا اور اپنے والد کے پیچھے نماز پڑھی ، انہوں نے اسے اور مجھے بلایا ، پھر ( غلام سے ) کہا : اس سے پورا بدلہ لے لو تو اس نے معاف کر دیا ۔ پھر انہوں ( میرے والد ) نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ہم بنی مقرن کے پاس صرف ایک خادمہ تھی ، ہم میں سے کسی نے اسے طمانچہ مار دیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا : اسے آزاد کر دو ۔ لوگوں نے کہا : ان کے پاس اس کے علاوہ اور خادم نہیں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ ( فی الحال ) اس سے خدمت لیں ، جب اس سے بے نیاز ہو جائیں ( دوسرا انتظام ہو جائے ) تو اس کا راستہ چھوڑ دیں ( اسے آزاد کر دیں)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ امْرَأَتَيْنِ، مِنْ هُذَيْلٍ رَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى فَطَرَحَتْ جَنِينَهَا فَقَضَى فِيهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ ‏.‏
Abu Huraira reported that among two women of the tribe of Hudhail one flung a stone upon the other causing an abortion to her so Allah's Apostle (may peace he upon him) gave judgment that a male or a female slave of best quality be given as compensation
امام مالک نے ابن شہاب سے ، انہوں نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ( قبیلہ ) ہذیل کی دو عورتوں میں سے ایک نے دوسری کو ( پتھر ) مارا اور اس کے پیٹ کے بچے کا اسقاط کر دیا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں ایک غلام ، مرد یا عورت ( بطور تاوان ) دینے کا فیصلہ فرمایا
وَحَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِذَا زَنَتْ أَمَةُ أَحَدِكُمْ فَتَبَيَّنَ زِنَاهَا فَلْيَجْلِدْهَا الْحَدَّ وَلاَ يُثَرِّبْ عَلَيْهَا ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَلْيَجْلِدْهَا الْحَدَّ وَلاَ يُثَرِّبْ عَلَيْهَا ثُمَّ إِنْ زَنَتِ الثَّالِثَةَ فَتَبَيَّنَ زِنَاهَا فَلْيَبِعْهَا وَلَوْ بِحَبْلٍ مِنْ شَعَرٍ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported that he heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When the slave-woman of any of you commits adultery and this (offence of hers) becomes clear, she should be flogged (as the prescribed) punishment, but hurl no reproach at her. If she commits adultery again, she should (again be punished) by flogging, but hurl no reproach upon her. If she commits fornication for the third time and it becomes clear, then he should sell her, even if only for a rope of hair
لیث نے سعید بن ابی سعید سے ، انہوں نے اپنے والد سے خبر دی ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے ( ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ) یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : " جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کرے اور اس کا زنا ( کسی دلیل سے ) واضح ( ثابت ) ہو جائے تو وہ ( مالک ) اس پر حد لگائے اور اسے ملامت نہ کرتا رہے ، پھر اگر وہ زنا کرے تو اس کو حد لگائے اور اسے ملامت نہ کرتا رہے ، پھر اگر وہ تیسری بار زنا کرے اور اس کا زنا واضھ ہو جائے تو اسے فروخت کر دے ، چاہے بالوں کی ایک رسی ہی کے عوض کیوں نہ بِکے
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ، مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ، قَالَ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ ‏.‏
Abu Muhammad, the freed slave of Abu Qatada reported on the authority of Abu Qatda and narrated the hadith
لیث نے یحییٰ بن سعید سے ، انہوں نے عمر بن کثیر بن افلح سے ، انہوں نے ابومحمد ( المعروف بہ ) مولیٰ ابوقتادہ سے روایت کی کہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا ۔ ۔ اور حدیث بیان کی
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ زِيَادٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ سَوَاءً ‏
This hadith has been narrated on the authority of Abu Huraira through another chain of transmitters
زیاد ( بن سعد ) سے روایت ہے ، انہوں نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ بالکل اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، وَصَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ، كُلُّهُمْ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
This hadith has been transmitted on the authority of Yazid b. Abu Ubaid
حماد بن مسعدہ ، صفوان بن عیسیٰ اور ابو عاصم نبیل سب نے یزید بن ابی عبید سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ، رَافِعٍ قَالاَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، كِلاَهُمَا عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Mu'awiya b. Salih with the same chain of transmitters
زید بن حباب اور عبدالرحمان بن مہدی دونوں نے معاویہ بن صالح سے اسی سند کے ساتھ رویت کی ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ الْقَطَّانُ - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، وَشُعْبَةُ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، وَسُلَيْمَانُ، وَحَمَّادٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ ‏.‏
The above hadith has been narrated likewise through another chain of transmitters
منصور ، سلیمان اور حماد نے ابراہیم سے ، انھوں نے اسود سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، أَنَّ أَنَسًا، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ وَالزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ شَكَوَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْقَمْلَ فَرَخَّصَ لَهُمَا فِي قُمُصِ الْحَرِيرِ فِي غَزَاةٍ لَهُمَا ‏.‏
Anas b. Malik reported that 'Abd al-Rahman b. Auf and Zu'bair. b. 'Awwam complained to Allah's Messenger (ﷺ) about lice; he granted them concession to wear shirts of silk
ہمام نے حدیث بیان کی کہا : ہمیں قتادہ نے حدیث سنا ئی کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتا یا : حضرت عبد الرحمان بن عوف اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جوؤں ( کی خارش ) کی شکا یت کی تو آپ نے ان دونوں کو انھیں پیش آنے والی جنگ کے دورا ن میں ریشم پہننے کی اجادت دے دی ۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا طَلْحَةُ بْنُ، يَحْيَى عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، قَالَ جَاءَ أَبُو مُوسَى إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ ‏.‏ فَلَمْ يَأْذَنْ لَهُ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ هَذَا أَبُو مُوسَى السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ هَذَا الأَشْعَرِيُّ ‏.‏ ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ رُدُّوا عَلَىَّ رُدُّوا عَلَىَّ ‏.‏ فَجَاءَ فَقَالَ يَا أَبَا مُوسَى مَا رَدَّكَ كُنَّا فِي شُغْلٍ ‏.‏ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ الاِسْتِئْذَانُ ثَلاَثٌ فَإِنْ أُذِنَ لَكَ وَإِلاَّ فَارْجِعْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لَتَأْتِيَنِّي عَلَى هَذَا بِبَيِّنَةٍ وَإِلاَّ فَعَلْتُ وَفَعَلْتُ ‏.‏ فَذَهَبَ أَبُو مُوسَى قَالَ عُمَرُ إِنْ وَجَدَ بَيِّنَةً تَجِدُوهُ عِنْدَ الْمِنْبَرِ عَشِيَّةً وَإِنْ لَمْ يَجِدْ بَيِّنَةً فَلَمْ تَجِدُوهُ ‏.‏ فَلَمَّا أَنْ جَاءَ بِالْعَشِيِّ وَجَدُوهُ قَالَ يَا أَبَا مُوسَى مَا تَقُولُ أَقَدْ وَجَدْتَ قَالَ نَعَمْ أُبَىَّ بْنَ كَعْبٍ ‏.‏ قَالَ عَدْلٌ ‏.‏ قَالَ يَا أَبَا الطُّفَيْلِ مَا يَقُولُ هَذَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ذَلِكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ فَلاَ تَكُونَنَّ عَذَابًا عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ إِنَّمَا سَمِعْتُ شَيْئًا فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَتَثَبَّتَ ‏.‏
Abu Musa Ash'ari reported that he went to 'Umar b. Khattab and greeted him by saying:As-Salamu-'Alaikum, here is 'Abdullah b. Qais, but he did not permit him (to get in). He (Abu Musa Ash'ari) again greeted him with as-Salamu-'Alaikum and said: Here is Abu Musa, but he (Hadrat 'Umar) did not permit him (to get in). He again said: As-Salam-u-'Alaikum, (and said) here is Ash'ari, (then receiving no response he came back). He (Hadrat 'Umar) said: Bring him back to me, bring him back to me So he went there (in the presence of Hadrat 'Umar) and he said to him: Abu Musa, what made you go back, while we were busy in some work? He said: I heard Allah's Messenger (may. peace be upon him) as saying: Permission should be sought thrice. And if you are permitted, (then get in), otherwise go back. He said: Bring witness to this fact, otherwise I shall do this and that, i. e. I shall punish you. Abu Musa went away and 'Umar said to him (on his departure): It he (Abu Musa) finds a witness he should meet him by the side of the pulpit in the evening and it he does not find a witness you would not find him there. When it was evening he (Hadrat 'Umar) found him (Abu Musa) there. He (Hadrat 'Umar) said: Abu Musa, have you been able to find a witness to what you have said? He said: Yes. Here is Ubayy bin Ka'b, whereupon he (Hadrat 'Umar) said: Yes, he is an authentic (witness). He (Hadrat 'Umar) said: Abu Tufail (the kunya of Ubayy b. Ka'b), what does he (Abu Musa say? Thereupon he said: Ibn Khattab, I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying so. Do not prove to be a hard (task-master) for the Companions of Allah's Messenger (ﷺ), whereupon he Hadrat 'Umar said: Hallowed be Allah. I had heard something (in this connection), but I wished it to be established (as an undeniable fact)
افضل بن موسیٰ نے کہا : ہمیں طلحہ بن یحییٰ نے ابو بردہ سے خبر دی ، انھوں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور کہا : السلام علیکم ، عبد اللہ بن قیس ( حاضر ہوا ) ہے ، انھوں نے آنے کی اجازت نہ دی ۔ انھوں نے پھر کہا : السلام علیکم ، یہ ابو موسیٰ ہے ، السلام علیکم ، یہ اشعری ہے ، اس کے بعد چلے گئے ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ان کو میرے پاس واپس لا ؤ ۔ میرے پاس واپس لا ؤ ۔ وہ آئے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ابو موسیٰ !آپ کو کس بات نے لوٹا دیا ؟ ہم کا م میں مشغول تھے ۔ انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ نے فر ما یا : "" اجازت تین بار طلب کی جا ئے ، اگر تم کو اجازت دے دی جا ئے ( توآ جاؤ ) ورنہ لوٹ جا ؤ ۔ "" حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : یا تو آپ اس پر گواہ لا ئیں گے یا پھر میں یہ کروں گا تو حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ چلے گئے ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ابو موسیٰ کو گواہ مل گیا تو شام کو وہ تمھیں منبر کے پاس ملیں گے اور اگر ان کو گواہ نہیں ملا تو وہ تمھیں نہیں ملیں گے ، جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ شام کو آئے تو انھوں نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو موجود پا یا ، انھوں نے کہا ابو موسیٰ !کیا کہتے ہیں ؟آپ کو گواہ مل گیا ؟ انھوں نے کہا : ہاں! ابی بن کعب ہیں انھوں ( حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : وہ قابل اعتماد گواہ ہیں ۔ ( پھر ابو طفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر ) کہا : ابو طفیل !یہ ( ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کیا کہتے ہیں ؟ انھوں ( حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : ابن خطاب !میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ یہی فر ما رہے تھے ۔ لہٰذا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین پر عذاب نہ بنیں ۔ انھوں نے کہا : سبحان اللہ !میں نے ایک چیز سنی اور چاہا کہ اس کا ثبوت حاصل کروں ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا كَانَ ثَلاَثَةٌ فَلاَ يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ وَاحِدٍ ‏"‏ ‏.‏
Ibn Umar reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When there are three (persons), two should not converse secretly between themselves to the exclusion of the (third) one
مالک نےنافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تین شخص ( موجود ) ہوں تو ایک کو چھوڑ کر دو آدمی آ پس میں سرگوشی نہ کریں ۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنْ مَرْوَانَ الْفَزَارِيِّ، - قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، - عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّ حَوْضِي أَبْعَدُ مِنْ أَيْلَةَ مِنْ عَدَنٍ لَهُوَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ الثَّلْجِ وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ بِاللَّبَنِ وَلآنِيَتُهُ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ النُّجُومِ وَإِنِّي لأَصُدُّ النَّاسَ عَنْهُ كَمَا يَصُدُّ الرَّجُلُ إِبِلَ النَّاسِ عَنْ حَوْضِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَعْرِفُنَا يَوْمَئِذٍ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ لَكُمْ سِيمَا لَيْسَتْ لأَحَدٍ مِنَ الأُمَمِ تَرِدُونَ عَلَىَّ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported:Verily Allah's Messenger (ﷺ) said: My Cistern has its dimensions wider than the distance between Aila and Aden, and its water is whiter than ice and sweeter than the honey diluted with milk, and its cups are more numerous than the numbers of the stars. Verily I shall prevent the (faithless) people therefrom just as a man prevents the camels of the people from his fountain. They said: Messenger of Allah, will you recognise us on that day? He said: Yes, you will have distinctive marks which nobody among the peoples (except you) will have; you would come to me with blazing forehead and bright hands and feet on account of the traces of ablution
مروان نے ابو مالک اشجعی سعد بن طارق سے ، انہوں نے ابو حازم سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’میرا حوض عدن سے ایلہ تک کے فاصلے سے زیادہ وسیع ہے اور ( اس کا پانی ) برف سے زیادہ سفید اور شہد سے ملے دودھ سے زیادہ شیریں ہے اور اس کے برتن ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہیں ، ( یہ خالصتاً میری امت کے لیے ہے ، اس لیے ) میں ( امت کے علاوہ دوسرے ) لوگوں کو اس سے روکوں گا ، جیسےآدمی اپنےحوض سے لوگوں کے اونٹوں کو روکتا ہے ۔ ‘ ‘ صحابہ کرام نے پوچھا : اے اللہ کے رسول !کیا اس دن آپ ہمیں پہچانیں گے؟ آپ نے فرمایا : ’’ہاں ، تمہاری ایک علامت ہو گی جو دوسری کسی امت کی نہیں ہو گی ، تم وضو کے اثر سے چمکتے ہوئے چہرے اور ہاتھ پاؤں کے ساتھ میرے پاس آؤ گے ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ ‏.‏
A hadith like this has been narrated on the authority of Ibn Umar through another chain of transmitters
موسیٰ بن عقبہ نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عبیداللہ کی حدیث کے مانند روایت کی ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ، أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ خَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُخَلِّفُنِي فِي النِّسَاءِ وَالْصِّبْيَانِ فَقَالَ ‏ "‏ أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى غَيْرَ أَنَّهُ لاَ نَبِيَّ بَعْدِي ‏"‏ ‏.‏
Sa'd b. Abi Waqqas reported that Allah's Messenger (ﷺ) left 'Ali b. Abi Talib behind him (as he proceeded) to the expedition of Tabuk, whereupon he ('Ali) said:Allah's Messenger, are you leaving me behind amongst women and children? Thereupon he (the Holy Prophet) said: Aren't you satisfied with being unto me what Aaron was unto Moses but with this exception that there would be no prophet after me?
محمد بن جعفر ( غندر ) نے کہا : ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے مصعب بن سعد بن ابی وقاص سے روایت کی ، انھوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے موقعہ پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ( مدینہ میں ) خلیفہ بنایا ، تو انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑے جاتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم اس بات سے خوش نہیں ہوتے کہ تمہارا درجہ میرے پاس ایسا ہو جیسے موسیٰ علیہ السلام کے پاس ہارون علیہ السلام کا تھا ، لیکن میرے بعد کوئی پیغمبر نہیں ہے ۔
قَالَ الشَّيْخُ أَبُو أَحْمَدَ أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ زَنْجُويَهْ الْقُشَيْرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ، الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Hammid b. Salama with the same of transmitters
ابوبکر بن محمد بن زنجویہ قشیری نے کہا : ہمیں عبدالاعلیٰ بن حماد نرسی نے حماد بن سلمہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، ح وَحَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، ح وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، كِلاَهُمَا عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، بِإِسْنَادِ وَكِيعٍ نَحْوَ حَدِيثِهِ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Yahya with the same chain of transmitters
وکیع نے ہمیں معمر سے حدیث بیان کی ، انہوں نے علقمہ بن مرثد سے ، انہوں نے مغیرہ بن عبداللہ یشکری سے ، انہوں نے معرور بن سوید سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے یہ دعا کی : اے اللہ! مجھے اپنے خاوند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے والد حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ اور اپنے بھائی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ( کی زندگیوں ) سے مستفید فرما! ( حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ) کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم نے عمروں کی ایسی مدتوں کا ، جو مقرر کر دی گئی ہیں اور ان دنوں کا جو گنے جا چکے ہیں اور ایسے رزقوں کا جو بانٹے جا چکے ہیں ، سوال کیا ہے ۔ اگر تم اللہ سے یہ مانگتی کہ تمہیں آگ میں دیے جانے والے یا قبر میں دیے جانے والے عذاب سے پناہ عطا فرما دے تو یہ زیادہ اچھا اور زیادہ افضل ہوتا ۔ "" ( عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ) کہا : آپ کے سامنے بندروں کے بارے میں بات چیت ہوئی ، مسعر نے کہا : میرا خیال ہے کہ انہوں ( حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ ) نے کہا : خنزیروں کا بھی ( ذکر کیا گیا کہ وہ ) مسخ ہو کر بنے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ تعالیٰ نے مسخ ہونے والوں کی نہ نسل بنائی ہے نہ اولاد ، بندر اور خنزیر اس ( مسخ ہونے کے واقعے ) سے پہلے بھی ہوتے تھے ( جو موجودہ ہیں وہ انہی کی نسلیں ہیں ۔)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ الْهَمْدَانِيُّ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ إِلاَّ نَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ وَحَفَّتْهُمُ الْمَلاَئِكَةُ وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ وَمَنْ بَطَّأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who alleviates the suffering of a brother out of the sufferings of the world, Allah would alleviate his suffering from the sufferings of the Day of Resurrection, and he who finds relief for one who is hard-pressed, Allah would make things easy for him in the Hereafter, and he who conceals (the faults) of a Muslim, Allah would conceal his faults in the world and in the Hereafter. Allah is at the back of a servant so long as the servant is at the back of his brother, and he who treads the path in search of knowledge, Allah would make that path easy, leading to Paradise for him and those persons who assemble in the house among the houses of Allah (mosques) and recite the Book of Allah and they learn and teach the Qur'an (among themselves) there would descend upon them tranquility and mercy would cover them and the angels would surround them and Allah mentions them in the presence of those near Him, and he who is slow-paced in doing good deeds, his (high) lineage does not make him go ahead
ابومعاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس شخص نے کسی مسلمان کی دنیاوی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کی ، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کرے گا اور جس شخص نے کسی تنگ دست کے لیے آسانی کی ، اللہ تعالیٰ اس کے لیے دنیا اور آخرت میں آسانی کرے گا اور جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی ، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پشی کرے گا اور اللہ تعالیٰ اس وقت تک بندے کی مدد میں لگا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے اور جو شخص اس راستے پر چلتا ہے جس میں وہ علم حاصل کرنا چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے ، اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں لوگوں کا کوئی گروہ اکٹھا نہیں ہوتا ، وہ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور اس کا درس و تدریس کرتے ہیں مگر ان پر سکینت ( اطمینان و سکون قلب ) کا نزول ہوتا ہے اور ( اللہ کی ) رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے اور فرشتے ان کو اپنے گھیرے میں لے لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے مقربین میں جو اس کے پاس ہوتے ہیں ان کا ذکر کرتا ہے اور جس کے عمل نے اسے ( خیر کے حصول میں ) پیچھے رکھا ، اس کا نسب اسے تیز نہیں کر سکتا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ، عَنِ ابْنِ، مَسْعُودٍ أَنَّ رَجُلاً، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَنَّهُ أَصَابَ مِنِ امْرَأَةٍ إِمَّا قُبْلَةً أَوْ مَسًّا بِيَدٍ أَوْ شَيْئًا كَأَنَّهُ يَسْأَلُ عَنْ كَفَّارَتِهَا - قَالَ - فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَزِيدَ ‏.‏
Ibn Mas'ud reported that a person came to Allah's Messenger (ﷺ) and told him that he had kissed a woman or touched her with his hand or did something like this. He inquired of him about its expiation. It was (on this occasion) that Allah, the Exalted and Glorious, revealed this verse (as mentioned above)
ابو احوص نے سماک سے ، انہوں نے ابراہیم سے ، انہوں نے علقمہ اور اسود سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو اس نے کہا : اللہ کے رسول! میں نے مدینہ کے آخری حصے میں ایک عورت کو قابو کر لیا اور اس کے علاوہ کہ میں اس سے جماع کروں میں نے اس سے اور سب کچھ حاصل کر لیا ۔ تو ( اب ) میں آپ کے سامنے حاضر ہوں ، آپ میرے بارے میں جو چاہیں فیصلہ کر لیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا : اللہ نے تمہارا پردہ رکھا ، کاش! تم خود بھی اپنا پردہ رکھتے ۔ ( حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا ۔ تو ( کچھ دیر بعد ) وہ شخص اٹھا اور چل دیا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پیچھے ایک آدمی بھیج کر اسے بلایا اور اس کے سامنے یہ آیت پڑھی : " دن کے دونوں حصوں اور رات کے کچھ حصوں میں نماز قائم کرو ، بےشک نیکیاں برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں ۔ یہ ان کے لیے یاددہانی ہے جو اچھی بات کو یاد رکھنے والے ہیں ۔ " اس پر لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا : اللہ کے نبی! کیا یہ خاص اسی کے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " بلکہ تمام لوگوں کے لیے ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي ابْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، كَعْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْخَامَةِ مِنَ الزَّرْعِ تُفِيئُهَا الرِّيحُ وَتَصْرَعُهَا مَرَّةً وَتَعْدِلُهَا أُخْرَى حَتَّى تَهِيجَ وَمَثَلُ الْكَافِرِ كَمَثَلِ الأَرْزَةِ الْمُجْذِيَةِ عَلَى أَصْلِهَا لاَ يُفِيئُهَا شَىْءٌ حَتَّى يَكُونَ انْجِعَافُهَا مَرَّةً وَاحِدَةً ‏"‏ ‏.‏
Ka'b reported that Allah's Messenger (ﷺ) said that the similitude of a believer is that of a standing crop in a field which is shaken by wind and then it comes to its original position but it stands at its roots. The similitude of a non-believer is that of a cypress tree which stands on its roots and nothing shakes it but it is uprooted (with) one (violent stroke)
زکریا بن ابی زائدہ نے سعد بن ابراہیم سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے نے اپنے والد کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مومن کی مثال کھیتی کے باریک تیلی جیسے تنے کی ہے ۔ ہوا اسے موڑ دیتی ، ایک مرتبہ زمین پر لٹادیتی ہے اور دوسری مرتبہ اسے سیدھا کریتی ہے ، یہاں تک کہ وہ پیلا ہوکر خشک ہوجاتا ہے اور کافر کی مثال ویودار درخت کی سی ہے جو اپنی جڑوں پر تن کر کھڑا ہوتا ہے ، اسے کوئی چیز موڑ نہیں سکتی ، یہاں تک کہ اس کا اکھڑ کاگرنا ایک ہی بار ہوتا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ يَوْمَ نَقُولُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلأْتِ وَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ‏}‏ فَأَخْبَرَنَا عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ لاَ تَزَالُ جَهَنَّمُ يُلْقَى فِيهَا وَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ حَتَّى يَضَعَ رَبُّ الْعِزَّةِ فِيهَا قَدَمَهُ فَيَنْزَوِي بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ وَتَقُولُ قَطْ قَطْ بِعِزَّتِكَ وَكَرَمِكَ ‏.‏ وَلاَ يَزَالُ فِي الْجَنَّةِ فَضْلٌ حَتَّى يُنْشِئَ اللَّهُ لَهَا خَلْقًا فَيُسْكِنَهُمْ فَضْلَ الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏
Abd al-Wahhab b. Ata' reported in connection with the words of Allah, the Exalted and the Glorious:We would say to Hell on the Day of Ressurection: Have you been completely filled up? and it would say: Is there anything -more? And he stated on the authority of Anas b. Malik that Allah's Apostle (ﷺ) said: (The sinners) would be thrown therein and it would continue to say: Is there anything more, until Allah, the Exalted and Glorious, would keep His foot there- in and some of its part would draw close to the other and it would say: Enough, enough, by Thy Honour and by Thy Dignity, and there would be enough space in Paradise until Allah would create a new creation and He would make them accommo- date that spare place in Paradise
عبدالوہاب بن عطا نے ہمیں اس ( اللہ ) عزوجل کے اس فرمان؛ " جس دن ہم جہنم سے کہیں کے کیا تو بھر گئی اور وہ کہے گی : کیا اور زیادہ ہے؟ " کے بارے میں حدیث بیان کی ، انھوں نے ہمیں سعید سے خبر دی ، انھوں نے قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " جہنم میں مسلسل ( لوگوں کو ) ڈالا جاتا رہے گا اور ہو کہتی رہے گی : کیا اور ہے؟یہاں تک کہ رب العزت اس میں اپنا پاؤں رکھ دے گا ، تو اس کا بعض بعض کی طرف سمٹ جائے گا اور وہ کہے گی : تیری عزت اور تیرے کرم کی قسم! بس بس اور جنت میں مسلسل گنجائش رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک خلقت پیدا کردے گا اور انھیں جنت کی بچی ہوئی جگہ میں بسا دے گا ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَغْتَسِلُ مِنْ إِنَاءٍ هُوَ الْفَرَقُ مِنَ الْجَنَابَةِ ‏.‏
A'isha reported:The Messenger of Allah (ﷺ) washed himself with water from a vessel (measuring seven to eight seers) because of sexual intercourse
امام مالک نے ابن شہاب ( زہری ) سے ، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نےحضرت عائشہ ؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ ایک ہی برتن سے ، جو ایک فرق ( تین صاع یا ساڑھےتیرہ لٹر ) کا تھا ، غسل جنابت فرمایا کرتے تھے
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ، هِلاَلٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ يُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ مَسْعُودٍ فَهَبَّتْ رِيحٌ حَمْرَاءُ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ ‏.‏ وَحَدِيثُ ابْنُ عُلَيَّةَ أَتَمُّ وَأَشْبَعُ ‏.‏
Jabir reported:I was in the company of Ibn Mas'ud that there blew a red storm. The rest of the hadith is the same
حماد بن زید نے ایوب سے ، انھوں نے حمید بن ہلال سے ، انھوں نے ابو قتادہ سے اور انھوں نے یسیرین جابر سے روایت کی ، کہا : میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھا کہ سرخ آندھی آئی ، پھر اسی کے مطابق حدیث بیان کی ، البتہ ابن علیہ کی روایت مکمل اورسیر حاصل ہے ۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، - وَهُوَ يَذْكُرُ الْحِجْرَ مَسَاكِنَ ثَمُودَ - قَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ مَرَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْحِجْرِ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ إِلاَّ أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ حَذَرًا أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ زَجَرَ فَأَسْرَعَ حَتَّى خَلَّفَهَا ‏.‏
Ibn Shihab reported, and he had been talking about the stony abodes of Thamud, and he said:Salim b. 'Abdullah reported that 'Abdullah b. Umar said: We were passing along with Allah's Messenger (ﷺ) through the habitations of Hijr, and Allah's Messenger (ﷺ) said: Do not enter but weepingly the habitations of these persons who committed tyranny among themselves, lest the same calamity should fall upon you as it fell upon them. He then urged his mount to proceed quickly and pass through that valley hurriedly
سالم بن عبد اللہ نے کہا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حجر ( قوم ثمود کی اجڑی ہوئی بستی ) کے پاس سے گزرے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : " جن لوگوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے ان کی رہائش گا ہوں میں داخل نہ ہونا مگر اس طرح کہ تم رورہے ہو ۔ ڈرہے کہ تمھیں بھی وہی عذاب نہ آئےجس نے انھیں آلیا تھا " پھر آپ نے زور سے سواری کو ہانکا رفتار تیز کی یہاں تک کہ اس جگہ کو پیچھے چھوڑ دیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي قَالاَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلاً، دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي نَاحِيَةٍ وَسَاقَا الْحَدِيثَ بِمِثْلِ هَذِهِ الْقِصَّةِ وَزَادَا فِيهِ ‏ "‏ إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلاَةِ فَأَسْبِغِ الْوُضُوءَ ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ فَكَبِّرْ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported:A person entered the mosque and said prayer while the Messenger of Allah (ﷺ) was sitting in a nook (of the mosque), and the rest of the hadith is the same as mentioned above, but with this addition:" When you get up to pray, perform the ablution completely, and then turn towards the Qibla and recite takbir (Allah o Akbar =Allah is the Most Great)
ابو اسامہ او رعبد اللہ بن نمیر نے عبید اللہ سے ، انہوں نے سعید بن ابی سعید سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ ایک آدمی نے مسجد میں داخل ہو کر نماز پڑھی ، رسول اللہﷺ ایک جانب ( تشریف فرما ) تھے ...... پھر دونوں نے اسی واقعے کی مانند حدیث بیان کی اور ( حدیث کے حصے ) میں ان دونوں نے یہ اضافہ کیا : ’’ جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو خوب اچھی طرح وضو کرو ، پھر قبلے کی طرف رخ کرو ، پھر تکبیر کہو ۔ ‘ ‘