بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
35 hadith
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَنِي لِحَاجَةٍ ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ وَهُوَ يَسِيرُ - قَالَ قُتَيْبَةُ يُصَلِّي - فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَأَشَارَ إِلَىَّ فَلَمَّا فَرَغَ دَعَانِي فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّكَ سَلَّمْتَ آنِفًا وَأَنَا أُصَلِّي ‏"‏ ‏.‏ وَهُوَ مُوَجِّهٌ حِينَئِذٍ قِبَلَ الْمَشْرِقِ ‏.‏
Jabir reported:The Messenger of Allah (ﷺ) sent me on an errand. I (having done the business assigned to me came back and) joined him as he was going (on a ride). Qutaiba said that he was saying prayer while he rode. I greeted him. He gestured to me. When he completed the prayer. he called me and said: You greeted me just now while I was engaged in prayer. (Qutaiba said): His (Prophet's face) was towards the east, as he was praying
قتیبہ بن سیعد اور محمد بن رمح نے اپنی اپنی سند کے ساتھ لیث ( بن سعد ) سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابوزبیر سے اور انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے مجھے کسی ضرورت ے لیے بیھجا ، پھر میں آپ کو آ کر ملا ، آپ سفر میں تھے قتیبہ نے کہا : آپ نے نماز پڑھ رہے تھے میں نے آپ کو سلام کہا ، آ پ نے مجھے اشارہ فرمایا ۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے بلوایا اور فرمایا : ‘ ‘ ابھی تم نے سلام کہا جبکہ میں نماز پڑھ رہا تھا ۔ ’’ اور اس وقت ( ساری پر نماز پڑھتے ہوئے ) آپ کا رخ مشرق کی طرف تھا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ، هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الأَشْجَعِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي مَسِيرٍ - قَالَ - فَنَفِدَتْ أَزْوَادُ الْقَوْمِ قَالَ حَتَّى هَمَّ بِنَحْرِ بَعْضِ حَمَائِلِهِمْ - قَالَ - فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ جَمَعْتَ مَا بَقِيَ مِنْ أَزْوَادِ الْقَوْمِ فَدَعَوْتَ اللَّهَ عَلَيْهَا ‏.‏ قَالَ فَفَعَلَ - قَالَ - فَجَاءَ ذُو الْبُرِّ بِبُرِّهِ وَذُو التَّمْرِ بِتَمْرِهِ - قَالَ وَقَالَ مُجَاهِدٌ وَذُو النَّوَاةِ بِنَوَاهُ - قُلْتُ وَمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ بِالنَّوَى قَالَ كَانُوا يَمُصُّونَهُ وَيَشْرَبُونَ عَلَيْهِ الْمَاءَ ‏.‏ قَالَ فَدَعَا عَلَيْهَا - قَالَ - حَتَّى مَلأَ الْقَوْمُ أَزْوِدَتَهُمْ - قَالَ - فَقَالَ عِنْدَ ذَلِكَ ‏ "‏ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ لاَ يَلْقَى اللَّهَ بِهِمَا عَبْدٌ غَيْرَ شَاكٍّ فِيهِمَا إِلاَّ دَخَلَ الْجَنَّةَ ‏"‏ ‏.‏
It is narrated on the authority of Abu Huraira:We were accompanying the Apostle (ﷺ) in a march (towards Tabuk). He (the narrator) said: The provisions with the people were almost depleted. He (the narrator) said: (And the situation became so critical) that they (the men of the army) decided to slaughter some of their camels. He (the narrator) said: Upon this Umar said: Messenger of Allah, I wish that you should pool together what has been left out of the provisions with the people and then invoke (the blessings of) Allah upon it. He (the narrator) said: He (the Holy Prophet) did it accordingly. He (the narrator) said: The one who had wheat in his possession came there with wheat. He who had dates with him came there with dates. And Mujahid said: He who possessed stones of dates came there with stones. I (the narrator) said: What did they do with the date-stones. They said: They (the people) sucked them and then drank water over them. He (the narrator said): He (the Holy Prophet) invoked the blessings (of Allah) upon them (provisions). He (the narrator) said: (And there was such a miraculous increase in the stocks) that the people replenished their provisions fully. He (the narrator) said: At that time he (the Holy Prophet) said: I bear testimony to the fact that there is no god but Allah, and I am His messenger. The bondsman who would meet Allah without entertaining any doubt about these (two fundamentals) would enter heaven
طلحہ بن مصرف نے ابو صالح سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے ورایت کی ، کہا : ہم ایک سفر میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے ، لوگوں کے زاد راہ ختم ہو گئے حتیٰ کہ آپ ﷺ نے لوگوں کی کچھ سواریاں ( اونٹوں ) کو ذبح کرنے کا ارادہ فرما لیا اس پرعمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کہنے لگے : اللہ کے رسول ! لوگوں کا جو زاد راہ بچ گیا ہے اگر آپ اسے جمع فرما لیں اور اللہ تعالیٰ سے اس پر برکت کی دعا فرمائیں ( تو بہتر ہو گا ) ، کہا : آپﷺ نے ایسا ہی کیا ۔ گندم والا اپنی گندم لایا اور کھجور والا اپنی کھجور لایا ۔ طلحہ بن مصرف نے کہا : مجاہد نے کہا : جس کے پاس گٹھلیاں تھیں ، وہ گٹھلیاں ہی لے آیا ۔ میں نے ( مجاہدسے ) پوچھا : گٹھلیاں کا لوگ کیا کرتے تھے؟ کہا : ان کو چوس کر پانی پی لیتے تھے ۔ ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : اس ( تھوڑے سے زاد راہ ) پر آپ ﷺ نے دعا فرمائی تو پھر یہاں تک ہوا کہ لوگوں نے زاد راہ کے اپنے لیے برتن بھر لیے ( ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا ) اس وقت آپ ﷺ نے فرمایا : ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں ۔ جو بندہ بھی ان دونوں ( شہادتوں ) کے ساتھ ، ان میں شک کیے بغیر اللہ سے ملے گا ، وہ ( ضرور ) جنت میں داخل ہو گا ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ وَهُوَ مُوَجِّهٌ إِلَى خَيْبَرَ ‏.‏
Ibn 'Umar reported:I saw the Messenger of Allah (ﷺ) praying (Nafl prayer) on a donkey's back while his face was turned towards Khaibar
عمرو بن یحییٰ مازنی نے سعید بن یسار سے اور انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گدھے پر نمازپڑھتے دیکھا جبکہ آپ نے خیبر کا رخ کیا ہوا تھا ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ كَانَتْ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم خُطْبَتَانِ يَجْلِسُ بَيْنَهُمَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيُذَكِّرُ النَّاسَ ‏.‏
Jabir b. Samura said:The Apostle of Allah (ﷺ) gave two sermons between which he sat, recited the Qur'an and exhorted the people
ابو احوص نے سماک سے اور انھوں نے حضرت جابر بن سمرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو خطبے ہوتے تھے جن کے درمیان آپ بیٹھتے تھے ۔ آپ قرآن پڑھتے اور لوگوں کو نصیحت اور تذکیر فرماتے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، كِلاَهُمَا عَنْ هِشَامٍ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ نُهِينَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا ‏.‏
Umm 'Atiyya reported:We were refrained from following the bier, but it was not made absolute on us
حفصہ نے حجرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روا یت کی ، انھوں نے کہا : ہمیں جنازوں کے ساتھ جا نے سے رو کا گیا لیکن ہمیں سختی کے ساتھ حکم نہیں دیا گیا ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَا ابْنَ آدَمَ أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْكَ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ ‏"‏ يَمِينُ اللَّهِ مَلأَى - وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ مَلآنُ - سَحَّاءُ لاَ يَغِيضُهَا شَىْءٌ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying that Allah, the Most Blessed and High, said:O son of Adam, spend. I will spend on you. The right hand of Allah is full and overflowing and in nothing would diminish it, by overspending day and night
زہیر بن حرب اور محمد بن عبد اللہ بن نمیر نے کہا : سفیان بن عیینہ نے ہمیں ابو زنا د سے حدیث بیان کی انھوں نے اعراج سے اور انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت کی وہ اس ( سلسلہ سند ) کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک لے جا تے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" اللہ تعا لیٰ نے فر ما یا ہے اے آدم کے بیٹے !تو خرچ کر میں تجھ پر خرچ کروں گا ۔ اور آپ نے فر ما یا : "" اللہ کا دایاں ہاتھ ( اچھی طرح ) بھرا ہوا ہے ۔ ابن نمیر نے ملاي کے بجا ئے ملان ( کا لفظ ) کہا ۔ ۔ اس کا فیض جا ری رہتا ہے دن ہو یا را ت کو ئی چیز اس میں کمی نہیں کرتی ۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ ‏.‏
A hadith like this has been transmitted on the authority of 'A'isha (Allah be pleased with her)
ابن نمیر ، عبیداللہ ، قاسم ، سید عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، وَعَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ لَكَأَنِّي أَنْظُرُ ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ وَكِيعٍ ‏.‏
A'isha (Allah be pleased with her) reported:I still seem to see; the rest of the hadith is the same
مسلم نے مسروق سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا لگتا ہے کہ میں دیکھ رہی ہوں ( آگے ) وکیع کی حدیث کے مانند ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ وَلاَ يَسُومُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ وَلاَ تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَلاَ عَلَى خَالَتِهَا وَلاَ تَسْأَلُ الْمَرْأَةُ طَلاَقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ صَحْفَتَهَا وَلْتَنْكِحْ فَإِنَّمَا لَهَا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهَا ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:A man must not make proposal of marriage to a woman when his brother has done so already. And he must not offer a price for a thing for which his brother had already offered a price; and a woman must not be combined in marriage with her father's sister, nor with her mother's sister, and a woman must not ask to have her sister divorced in order to deprive her of what belongs to her, but she must marry, because she will have what Allah has decreed for her
ہشام نے محمد بن سیرین سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی آدمی اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر ( اپنے ) نکاح کا پیغام نہ دے ، اور نہ اپنے بھائی کے سودے پر سودا کرے ، اور نہ کسی عورت سے اس کی پھوپھی اور خالہ کی موجودگی میں نکاح کیا جائے اور نہ کوئی عورت اپنی ( مسلمان ) بہن کی طلاق کا مطالبہ کرے تاکہ اس کی پلیٹ کو ( اپنے لیے ) انڈیل لے ۔ اسے ( پہلی بیوی کی طلاق کا مطالبہ کیے بغیر ) نکاح کر لینا چاہئے ، بات یہی ہے کہ جو اللہ نے اس کے لیے لکھا ہوا ہے وہی اس کا ہے
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏
Qatada reported a hadith like this with the same chain of transmitters
سعید نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، مَوْلَى الأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ، طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ وَهُوَ غَائِبٌ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا وَكِيلُهُ بِشَعِيرٍ فَسَخِطَتْهُ فَقَالَ وَاللَّهِ مَا لَكِ عَلَيْنَا مِنْ شَىْءٍ ‏.‏ فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ ‏"‏ لَيْسَ لَكِ عَلَيْهِ نَفَقَةٌ ‏"‏ ‏.‏ فَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ تِلْكَ امْرَأَةٌ يَغْشَاهَا أَصْحَابِي اعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ فَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَلَمَّا حَلَلْتُ ذَكَرْتُ لَهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَأَبَا جَهْمٍ خَطَبَانِي ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَلاَ يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتَقِهِ وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لاَ مَالَ لَهُ انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ‏"‏ ‏.‏ فَكَرِهْتُهُ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ انْكِحِي أُسَامَةَ ‏"‏ ‏.‏ فَنَكَحْتُهُ فَجَعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا وَاغْتَبَطْتُ بِهِ ‏.‏
Fatima bint Qais reported that Abu 'Amr b. Hafs divorced her absolutely when he was away from home, and he sent his agent to her with some barley. She was displeased with him and when he said:I swear by Allah that you have no claim on us. she went to Allah's Messenger (ﷺ) and mentioned that to him. He said: There is no maintenance due to you from him, and he commanded her to spend the 'Idda in the house of Umm Sharik, but then said: That is a woman whom my companions visit. So better spend this period in the house of Ibn Umm Maktum, for he is a blind man and yon can put off your garments. And when the 'Idda is over, inform me. She said: When my period of 'Idda was over, I mentioned to him that Mu'awiya b. Abu Sufyan and Jahm had sent proposal of marriage to me, whereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: As for Abu Jahm, he does not put down his staff from his shoulder, and as for Mu'awiya, he is a poor man having no property; marry Usama b. Zaid. I objected to him, but he again said: Marry Usama; so I married him. Allah blessed there in and I was envied (by others)
اسود بن سفیان کے مولیٰ عبداللہ بن یزید نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے ، انہوں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ابو عمرو بن حفص رضی اللہ عنہ نے انہیں طلاق بتہ ( حتمی ، تیسری طلاق ) دے دی ، اور وہ خود غیر حاضر تھے ، ان کے وکیل نے ان کی طرف سے کچھ جَو ( وغیرہ ) بھیجے ، تو وہ اس پر ناراض ہوئیں ، اس ( وکیل ) نے کہا : اللہ کی قسم! تمہارا ہم پر کوئی حق نہیں ۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں ، اور یہ بات آپ کو بتائی ۔ آپ نے فرمایا : " اب تمہارا خرچ اس کے ذمے نہیں ۔ " اور آپ نے انہیں حکم دیا کہ وہ ام شریک رضی اللہ عنہا کے گھر میں عدت گزاریں ، پھر فرمایا : " اس عورت کے پاس میرے صحابہ آتے جاتے ہیں ، تم ابن مکتوم رضی اللہ عنہ کے ہاں عدت گزر لو ، وہ نابینا آدمی ہیں ، تم اپنے ( اوڑھنے کے ) کپڑے بھی اتار سکتی ہو ۔ تم جب ( عدت کی بندش سے ) آزاد ہو جاؤ تو مجھے بتانا ۔ " جب میں ( عدت سے ) فارغ ہوئی ، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ معاویہ بن ابی سفیان اور ابوجہم رضی اللہ عنہم دونوں نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا ہے ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ابوجہم تو اپنے کندھے سے لاٹھی نہیں اتارتا ، اور رہا معاویہ تو وہ انتہائی فقیر ہے ، اس کے پاس کوئی مال نہیں ، تم اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے نکاح کر لو ۔ " میں نے اسے ناپسند کیا ، آپ نے پھر فرمایا : " اسامہ سے نکاح کر لو ۔ " تو میں نے ان سے نکاح کر لیا ، اللہ نے اس میں خیر ڈال دی اور اس کی وجہ سے مجھ پر رشک کیا جانے لگا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ الْكَلأُ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Excess water must not be withheld so that the growth of herbage may be hindered
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " زائد پانی کو نہ روکا جائے کہ اس کے ذریعے سے گھاس روکی جائے ۔
حَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ، فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ ذَكْوَانَ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ، قَالَ أَتَيْتُ ابْنَ عُمَرَ وَقَدْ أَعْتَقَ مَمْلُوكًا - قَالَ - فَأَخَذَ مِنَ الأَرْضِ عُودًا أَوْ شَيْئًا فَقَالَ مَا فِيهِ مِنَ الأَجْرِ مَا يَسْوَى هَذَا إِلاَّ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ لَطَمَ مَمْلُوكَهُ أَوْ ضَرَبَهُ فَكَفَّارَتُهُ أَنْ يُعْتِقَهُ ‏"‏
Zadhan Abl Umar reported:I came to Ibn 'Umar as he had granted freedom to a stave. He (the narrator further) said: He took hold of a wood or something like it from the earth and said: It (freedom of a slave) has not the reward evert equal to it, but the fact that I heard Allah's Messenger (way peace be upon him) say: He who slaps his slave or beats him, the expiation for it is that he should set him free
ابوعوانہ نے فراس سے ، انہوں نے ابوصالح ذکوان سے اور انہوں نے ابو عمر زاذان سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ہاں آیا جبکہ انہوں نے ایک غلام کو آزاد کیا تھا ۔ کہا : انہوں نے زمین سے لکڑی یا کوئی چیز پکڑی اور کہا : اس میں اتنا بھی اجر نہیں جو اس کے برابر ہو اس کے سوا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " جس نے اپنے غلام کو تھپڑ مارا یا اسے زد و کوب کیا تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے آزاد کرے " ( اس حکم کو ماننے کا اجر ہو سکتا ہے)
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، وَعَنْ رَجُلٍ، آخَرَ هُوَ فِي نَفْسِي أَفْضَلُ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ وَأَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا قُرَّةُ بِإِسْنَادِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ - وَسَمَّى الرَّجُلَ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ ‏"‏ أَىُّ يَوْمٍ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ وَسَاقُوا الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ غَيْرَ أَنَّهُ لاَ يَذْكُرُ ‏"‏ وَأَعْرَاضَكُمْ ‏"‏ ‏.‏ وَلاَ يَذْكُرُ ثُمَّ انْكَفَأَ إِلَى كَبْشَيْنِ وَمَا بَعْدَهُ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ ‏"‏ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا إِلَى يَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ أَلاَ هَلْ بَلَّغْتُ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ اشْهَدْ ‏"‏ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Abu Bakra through another chain of transmitters (and the words are):" Allah's Messenger (ﷺ) addressed us on the day of Nahr (Sacrifice) and said: What day is this? And the rest of the hadith is the same except that he did not make mention of" your honour," and also did not make mention of this: He then turned his attention towards two rams and what follows, and in a hadith (the words pertaining to sacred- ness are recorded in this way):" Like the sacredness of this day of yours, in this month of yours, in this city of yours to the day when you will meet your Lord. Behold, have I not conveyed (the Message of God)? They said: Yes. He said: O Allah, bear witness
یحییٰ بن سعید نے کہا : ہمیں قرہ بن خالد نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں محمد بن سیرین نے عبدالرحمان بن ابی بکرہ سے اور ایک اور آدمی سے ، جو میرے خیال میں عبدالرحمان بن ابی بکرہ سے افضل ہے ، حدیث بیان کی ، نیز ابو عامر عبدالملک بن عمرو نے کہا : ہمیں قرہ نے یحییٰ بن سعید کی ( مذکورہ ) سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔ ۔ اور انہوں ( ابو عامر ) نے اس آدمی کا نام حمید بن عبدالرحمان بتایا ( یہ بصرہ کے فقیہ ترین راوی ہیں ) ۔ ۔ انہوں نے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قربانی کے دن خطبہ دیا اور پوچھا : " یہ کون سا دن ہے؟ " ۔ ۔ اور انہوں ( قرہ ) نے ابن عون کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ، البتہ انہوں نے " عزت و ناموس " کا تذکرہ نہیں کیا اور نہ ہی : " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھوں کی طرف مڑے " اور اس کے بعد والا حصہ بیان کیا ۔ انہوں نے ( اپنی ) حدیث میں کہا : " جیسے تمہارے اس شہر میں ، تمہارے اس مہینے میں تمہارا یہ دن اس وقت تک قابل احترام ہے جب تم اپنے رب سے ملو گے ۔ سنو! کیا میں نے ( اللہ کا پیغام ) پہنچا دیا؟ " لوگوں نے کہا : جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اے اللہ! گواہ رہنا
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ رَجَمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً مِنْ أَسْلَمَ وَرَجُلاً مِنَ الْيَهُودِ وَامْرَأَتَهُ ‏.‏
Jabir b. 'Abdullah reported that Allah's Apostle (ﷺ) stoned (to death) a person from Banu Aslam, and a Jew and his wife
حجاج بن محمد نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ابن جریج نے کہا : مجھے ابوزبیر نے خبر دی کہ انہون نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ اسلم کے ایک مرد اور یہود کے ایک مرد اور اس کی ( آشنا ) عورت کو رجم کروایا
وَحَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، ح وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، كِلاَهُمَا عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ بَلَغَنِي عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ نَفَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَرِيَّةً بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ رَجَاءٍ ‏.‏
Ibn Shihab reported:It reached me through Ibn Umar that Allah's Messenger (ﷺ) gave a share of spoils to the troop. The rest of the hadith is the same
ابن مبارک اور ابن وہب دونوں نے یونس کے حوالے سے زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : مجھ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث پہنچی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دستے کو زائد دیا ۔ ۔ ابن رجاء کی حدیث کی طرح
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ نَزَلَ ‏{‏ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأَمْرِ مِنْكُمْ‏}‏ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَدِيٍّ السَّهْمِيِّ بَعَثَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي سَرِيَّةٍ ‏.‏ أَخْبَرَنِيهِ يَعْلَى بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏
It has been narrated on the authority of Ibn Juraij that the Qur'anic injunction:" 0 you who believe, obey Allah, His Apostle and those in authority from amongst You" (iv. 59) -was revealed in respect of 'Abdullah b. Hudhafa b. Qais b. Adi al-Sahmi who was despatched by the Prophet (ﷺ) as leader of a military campaign. The narrator said: He was informed of this fact by Ya'la b. Muslim who was informed by Sa'id b. Jubair who in turn was informed by Ibn Abbas
ابن جریج نے بیان کیا کہ قرآن مجید کی آیت : " اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور ان کی جو تم میں سے اختیار والے ہیں " حضرت عبداللہ بن حذافہ بن قیس بن عدی سہمی رضی اللہ عنہ کے متعلق نازل ہوئی ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک لشکر میں ( امیر بنا کر ) روانہ کیا تھا ( ابن جریج نے کہا ) مجھے یعلیٰ بن مسلم نے سعید بن جبیر سے خبر دی ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی
وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، - يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ - عَنْ عَاصِمٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of 'Asim with the same chain of transmitters
حفص بن غیاث نے عاصم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي، نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ لاَ تَأْكُلُوا لُحُومَ الأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلاَثٍ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ ‏.‏ فَشَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّ لَهُمْ عِيَالاً وَحَشَمًا وَخَدَمًا فَقَالَ ‏"‏ كُلُوا وَأَطْعِمُوا وَاحْبِسُوا أَوِ ادَّخِرُوا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى شَكَّ عَبْدُ الأَعْلَى ‏.‏
Abu Sa'id al-Khudri reported Allah's Messenger (ﷺ) having said:O people of Medina, do not eat the flesh of sacrificed animals beyond three days. Ibn al-Muthanni said: Three days. They (the Companions of the Holy Prophet) complained to the Messenger of Allah (may peace he upon him) that they had children and servants of theirs (to feed), whereupon he said: Eat, and feed others, and store, and make it a provision of food
ابو بکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں عبدالاعلیٰ نے جریری سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابونضرہ سے ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، نیز محمد بن مثنیٰ نے کہا : ہمیں عبدالاعلیٰ نے حدیث بیان کی ، ہمیں سعید نے قتادہ سے ، انھوں نے ابو نضرہ سے ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتھا : "" مدینہ والو!قربانیوں کا گوشت تین ( دنوں ۔ راتوں ) سے زیادہ نہ کھاتے رہو ۔ "" ابن مثنیٰ نے ( صراحت سے ) "" تین دن ( سے زیادہ ) "" کہا ۔ صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ شکایت کی کہ ہمارے بال بچے اور نوکر چاکر ہیں ۔ آپ نے فرمایا : "" کھاؤ اور کھلاؤ اور روک کر رکھو یا ( فرمایا : ) ذخیرہ کرو ۔ "" ابن مثنیٰ نے کہا : عبدالاعلیٰ کو ( ان دو لفظوں میں ) شک ہے ( کہ آپ نے "" روک کررکھو "" فرمایا ، یا "" ذخیرہ کرو "" فرمایا)
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنْ شُعْبَةَ، كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُنْتَبَذَ فِي الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ ‏.‏ هَذَا حَدِيثُ جَرِيرٍ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ عَبْثَرٍ وَشُعْبَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ ‏.‏
Ali reported that Allah's Messenger (ﷺ) forbade to prepare Nabidh in gourd and varnished jar. This hadith has been narrated through another chain of transmitters with a slight variation of wording
عبشر ، جریر اور شعبہ سب نے اعمش سے ، انھوں نے ابراہیم تیمی سے ، انھوں نے حارث بن سوید سے اور انھوں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کے بنے ہوئے اور روغن زفت ملے ہوئے برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ۔ یہ جریر کی روایت ہے ۔ عبثر اور شعبہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کے ( بنے ہوئے ) برتن اور روغن زفت ملے برتن سے منع فرمایا ہے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ فِي السَّفَرِ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Sa'd with the same chain of transmitters but there is no mention of the word" journey
محمد بن بشر نے کہا : ہمیں سعید نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور سفر میں " کا ذکر کیا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، وَسَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالاَ سَمِعْنَاهُ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ‏.‏ بِمَعْنَى حَدِيثِ بِشْرِ بْنِ مُفَضَّلٍ عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ، ‏.‏
This hadith bu been narrated on the authority of Abu Sa'id Khudri through another chain of transmitters
شعبہ نے ابو سلمہ جریری اور سعید بن یزید سے حدیث بیان کی ، جریری اور سعید بن یزید دونوں نے ابو نضر ہ سے روایت کی ، دونوں نے کہا : ہم نے انھیں ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کر تے ہو ئے سنا ، جس طرح بشر بن مفضل نے ابو سلمہ سے روایت کی ہے ۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُخَنَّثٌ فَكَانُوا يَعُدُّونَهُ مِنْ غَيْرِ أُولِي الإِرْبَةِ - قَالَ - فَدَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا وَهُوَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ وَهُوَ يَنْعَتُ امْرَأَةً قَالَ إِذَا أَقْبَلَتْ أَقْبَلَتْ بِأَرْبَعٍ وَإِذَا أَدْبَرَتْ أَدْبَرَتْ بِثَمَانٍ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَلاَ أَرَى هَذَا يَعْرِفُ مَا هَا هُنَا لاَ يَدْخُلَنَّ عَلَيْكُنَّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَحَجَبُوهُ ‏.‏
A'isha reported that a eunuch used to come to the wives of Allah's Apostle (ﷺ) and they did not And anything objectionable in his visit considering him to be a male without any sexual desire. Allah's Apostle (ﷺ) one day came as he was sitting with some of his wives and he was busy in describing the bodily characteristics of a lady and saying:As the comes in front tour folds appear on her front side and as she turns her back eight folds appear on the back side. Thereupon Allah's Apostle (ﷺ) said: I me that he knows these things; do not, therefore. allow him to cater. She (" A'isha) said: Then they began to observe veil from him
عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے پاس ایک مخنث آیا کرتا تھا اور ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہا اسے جنسی معاملا ت سے بے بہر ہ سمجھا کرتی تھیں ۔ فرما یا : " ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا اور وہ آپ کی ایک اہلیہ کے ہاں بیٹھا ہوا ایک عورت کی تعریف کررہا تھا وہ کہنے لگا : جب وہ آتی ہے تو چار سلوٹوں کے ساتھ آتی ہے اور جب پیٹھ پھیرتی ہے تو آٹھ سلوٹوں کے ساتھ پیٹھ پھیرتی ہے ۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : کیا میں دیکھ نہیں رہا کہ جو کچھ یہاں ہے اسے سب پتہ ہے ، یہ لوگ تمھا رے پاس نہ آیا کریں ۔ " " تو انھوں ( امہات المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے اس سے پردہ کر لیا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ، - وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ - حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ حُمْرَانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ جَسَدِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِهِ ‏"‏ ‏.‏
Uthman b. 'Affan reported:The Messenger of Allah (way peace be upon him) said: He who performed ablution well, his sins would come out from his body, even coming out from under his nails
حضرت عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جس نے وضو کیا اور خوب اچھی طرح وضو کیا ، تو اس کے جسم سے اس کےگناہ خارج ہو جاتے ہیں حتی کہ اس کے ناخنوں کےنیچے سے بھی نکل جاتے ہیں ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ - حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ أَمَامَكُمْ حَوْضًا مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْهِ كَمَا بَيْنَ جَرْبَا وَأَذْرُحَ ‏"‏ ‏.‏
Ibn 'Umar reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There is before you a Cistern and the distance between its two sides is as it is between Jarba' and Adhruh
ایوب نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تمھا رے آگے ( جس منزل کی طرف تم جا رہے ہو ) حوض ہے اس کے دو کناروں کے درمیان جرباء اور اذرح ( شام اور فلسطین کے دو مقام ) کے درمیان جتنا فاصلہ ہے ۔
حَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، حَدَّثَنِي شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ حَدَّثَنِي أَبُو مُوسَى الأَشْعَرِيُّ، هَا هُنَا - وَأَشَارَ لِي سُلَيْمَانُ إِلَى مَجْلِسِ سَعِيدٍ نَاحِيَةَ الْمَقْصُورَةِ - قَالَ أَبُو مُوسَى خَرَجْتُ أُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَوَجَدْتُهُ قَدْ سَلَكَ فِي الأَمْوَالِ فَتَبِعْتُهُ فَوَجَدْتُهُ قَدْ دَخَلَ مَالاً فَجَلَسَ فِي الْقُفِّ وَكَشَفَ عَنْ سَاقَيْهِ وَدَلاَّهُمَا فِي الْبِئْرِ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ حَسَّانَ وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ سَعِيدٍ فَأَوَّلْتُهَا قُبُورَهُمْ ‏.‏
Abu Musa. reported:I set out with the intention (of meeting) Allah's Messenger (ﷺ) and came to know that he had gone to the gardens (in the suburb of Medina). I followed him and found him in a garden sitting upon an elevated place round the well with his shanks uncovered which had been dangling in the well. The rest of the hadith is the same but with this variation that there is no mention of the words of Sa'id: all drew a conclusion from it pertaining to their graves
سعید بن عفیر نے کہا : مجھے سلیمان بن بلال نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے شریک بن عبداللہ بن ابی نمر نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے سعید بن مسیب کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ مجھے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس جگہ ۔ اور سلیمان نے سعید بن مسیب کے بیٹھنے کی جگہ کی جانب اشارہ کیا ۔ حدیث سنائی ۔ ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری کے لئے نکلا ۔ میں نے دیکھا کہ آپ ( لوگوں کے ) باغات کے اندر سے گزر کرگئے ہیں ۔ میں آپ کے پیچھے ہولیا ، میں نے دیکھا کہ آپ ایک باغ کے اندر تشریف لے گئے ہیں ، کنویں کی منڈیر پر بیٹھ گئے ہیں اور اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹا کر انھیں کنویں میں لٹکا لیا ہے ، پھر یحییٰ بن حسان کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی اور ( اس میں ) حضرت سعید بن مسیب کا قول : " میں نے ان کی قبریں مراد لیں " بیان نہیں کیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ، أَنَسٍ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ تُعْرَضُ أَعْمَالُ النَّاسِ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّتَيْنِ يَوْمَ الاِثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ إِلاَّ عَبْدًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ فَيُقَالُ اتْرُكُوا - أَوِ ارْكُوا - هَذَيْنِ حَتَّى يَفِيئَا ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraim reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying The deeds of people would be presented every week on two days, viz. Monday and Thursday, and every believing servant would be granted pardon except the one in whose (heart) there is rancour against his brother and it would he said:Leave them and put them off until they are turned to reconciliation
امام مالک بن انس نے مسلم بن ابی مریم سے ، انہوں نے ابوصالح سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " لوگوں کے اعمال ہر ہفتے میں دو بار پیش کیے جاتے ہیں ، پیر کے دن اور جمعرات کے دن اور ہر ایمان رکھنے والے بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہے ، اس بندے کے سوا کہ اس کے اور اس کے بھائی کے درمیان عداوت اور بغض ہوتا ہے ۔ تو ( ان کے بارے میں ) کہا جاتا ہے : ان دونوں کو چھوڑ دو ، یا مؤخر کر دو یہاں تک کہ دونوں ( عداوت چھوڑ کر ایک دوسرے کی طرف ) واپس آ جائیں ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَقَبَةَ، بْنِ مَسْقَلَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ الْغُلاَمَ الَّذِي قَتَلَهُ الْخَضِرُ طُبِعَ كَافِرًا وَلَوْ عَاشَ لأَرْهَقَ أَبَوَيْهِ طُغْيَانًا وَكُفْرًا ‏"‏ ‏.‏
Ubayy b. Ka'b reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:The young man whom Khadir killed was a non-believer by his very nature and had he survived he would have involved his parents in defiance and unbelief
فضیل بن عمرو نے عائشہ بنت طلحہ سے اور انہوں نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ایک بچہ فوت ہوا تو میں نے کہا : اس کے لیے خوش خبری ہو ، وہ تو جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم نہیں جانتی کہ اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا کیا اور دوزخ کو پیدا کیا اور اس کے لیے بھی اس میں جانے والے بنائے اور اُس کے لیے بھی اس میں رہنے والے بنائے؟
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَزْهَرَ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ الرَّجُلُ إِذَا أَسْلَمَ عَلَّمَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الصَّلاَةَ ثُمَّ أَمَرَهُ أَنْ يَدْعُوَ بِهَؤُلاَءِ الْكَلِمَاتِ ‏ "‏ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَعَافِنِي وَارْزُقْنِي ‏"‏ ‏.‏
Abu Malik reported on the authority of his father that when a person embraced Islam, Allah's Messenger (ﷺ) used to teach him how to observe prayer and then commanded him to supplicate in these words:" O Allah, grant me pardon, have mercy upon me, direct me to the path of righteousness, grant me protection and provide me sustenance
ابومعاویہ نے کہا؛ ہمیں ابومالک اشجعی نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، کہا : جب کوئی شخص مسلمان ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کو نماز سکھاتے ، پھر اس کو حکم دیتے کہ ان کلمات کے ساتھ دعا کیا کرے : اللهم اغفرلى وارحمنى واهدنى وعافنى وارزقنى
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْمُؤْمِنُ يَغَارُ وَاللَّهُ أَشَدُّ غَيْرًا ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (may peace be upon him ) as saying:A believer is self-respecting and Allah is extremely self-respecting
عبدالعزیز بن محمد نے علاء سے ، انہوں نے اپنے والد ( عبدالرحمٰن ) سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مومن ( دوسرے ) مومن کے لیے غیرت کرتا ہے ( کہ اس کی حرمت پامال نہ کی جائے ) اور اللہ تعالیٰ تو غیرت میں اس سے بڑھ کر ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَى حَدِيثِهِمَا ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Anas b. Malik through another chain of transmitters
سعید ( بن ابی عروبہ ) نے قتادہ سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان دونوں ( ہمام اور سلیمان ) کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔
وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ احْتَجَّتِ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ ‏"‏ ‏.‏ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ إِلَى قَوْلِهِ ‏"‏ وَلِكِلَيْكُمَا عَلَىَّ مِلْؤُهَا ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ مِنَ الزِّيَادَةِ ‏.‏
Abu Sa'id al-Khudri reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:The Paradise and the Hell disputed with each other. The rest of the hadith is the same as transmitted by Abu Huraira up to the words'." It is essential for Me to fill up both of you
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جنت اور دوزخ نے ایک دوسرے کے سامنے دلائل دیے ۔ " پھرانہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان : " تم دونوں کو بھرنا میری ذمہ داری ہے " تک بیان کیا اور اس کے بعدکے مزید الفاظ ذکر نہیں کیے ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ وَالأَشَجُّ وَإِسْحَاقُ كُلُّهُمْ عَنْ وَكِيعٍ، ح وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا إِفْرَاغُ ثَلاَثِ حَفَنَاتٍ عَلَى الرَّأْسِ وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ وَصْفُ الْوُضُوءِ كُلِّهِ يَذْكُرُ الْمَضْمَضَةَ وَالاِسْتِنْشَاقَ فِيهِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ ذِكْرُ الْمِنْدِيلِ ‏.‏
This hadith is narrated by A'mash with the same chain of transmitters, but in the hadith narrated by Yahya b. Yahya and Abu Kuraib there is no mention of:" Pouring of three handfuls of water on the head." and in the hadith narrated by Waki' all the features of ablution have been recorded: rinsing (of mouth), snuffing of water (in the nostrils) ; and in the hadith transmitted by Abu Mu'awyia, there is no mention of a towel
وکیع اور ابو معاویہ نے اعمش کی سابقہ سندکے ساتھ یہ روایت بیان کی لیکن ان دونوں کی حدیث میں سر پر تین لپ ڈالنے کا ذکر نہیں ہے ۔ وکیع کی حدیث میں پورے وضو کی کیفیت کا بیان ہے ۔ اس میں ( انہوں نے ) کلی اور ناک میں پانی ڈالنے کا ذکر کیا ، اور ابو معاویہ کی حدیث میں تولیے کا ذکر نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ، بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُلَىٍّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ الْمُسْتَوْرِدُ الْقُرَشِيُّ عِنْدَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ تَقُومُ السَّاعَةُ وَالرُّومُ أَكْثَرُ النَّاسِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ عَمْرٌو أَبْصِرْ مَا تَقُولُ ‏.‏ قَالَ أَقُولُ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَئِنْ قُلْتَ ذَلِكَ إِنَّ فِيهِمْ لَخِصَالاً أَرْبَعًا إِنَّهُمْ لأَحْلَمُ النَّاسِ عِنْدَ فِتْنَةٍ وَأَسْرَعُهُمْ إِفَاقَةً بَعْدَ مُصِيبَةٍ وَأَوْشَكُهُمْ كَرَّةً بَعْدَ فَرَّةٍ وَخَيْرُهُمْ لِمِسْكِينٍ وَيَتِيمٍ وَضَعِيفٍ وَخَامِسَةٌ حَسَنَةٌ جَمِيلَةٌ وَأَمْنَعُهُمْ مِنْ ظُلْمِ الْمُلُوكِ ‏.‏
Mustaurid al-Qurashi reported:I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: The Last Hour would come (when) the Romans would form a majority amongst people. 'Amr said to him (Mustaurid Qurashi): See what you are saying? He said: I say what I heard from Allah's Messenger (ﷺ). Thereupon he said: If you say that, it is a fact for they have four qualities. They have the patience to undergo a trial and immediately restore themselves to sanity after trouble and attack again after flight. They (have the quality) of being good to the destitute and the orphans, to the weak and, fifthly, the good quality in them is that they put resistance against the oppression of kings
موسیٰ بن علی نے اپنے والد سے روایت کی انھوں نے کہا : حضرت مستورد قرشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " قیامت آئے گی تورومی ( عیسائی ) لوگوں میں سب سے زیادہ ہوں گے ۔ : " حضرت عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا : دیکھ لوتم کیا کہہ رہے ہو ۔ انھوں نے کہا : میں وہی کہہ رہا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سناہے ۔ ( حضرت عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : اگر تم نے یہ کہا ہے تو ان میں چار خصلتیں ہیں وہ آزمائش کے وقت سب لوگوں سے زیادہ برد بار ہیں اور مصیبت کے بعد سب لوگوں کی نسبت جلد اس سے سنبھلتے ہیں اور پیچھے ہٹنے کے بعد سب لوگوں کی نسبت جلد دوبارہ حملہ کرتے ہیں اور مسکینوں یتیموں اور کمزوروں کے لیے سب لوگوں کی نسبت بہتر ہیں اور پانچویں خصلت بہت اچھی اور خوبصورت ہے وہ سب لوگوں سے بڑھ کر بادشاہوں کے ظلم کو روکنے والے ہیں ۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو - قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فِي كُلِّ الصَّلاَةِ يَقْرَأُ فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَسْمَعْنَاكُمْ وَمَا أَخْفَى مِنَّا أَخْفَيْنَا مِنْكُمْ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ إِنْ لَمْ أَزِدْ عَلَى أُمِّ الْقُرْآنِ فَقَالَ إِنْ زِدْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ خَيْرٌ وَإِنِ انْتَهَيْتَ إِلَيْهَا أَجْزَأَتْ عَنْكَ ‏.‏
Ata' narrated on the authority of Abu Huraira who said that one should recite (al-Fatiha) in every (rak'ah of) prayer. What we heard (i. e. recitation) from the Messenger of Allah (ﷺ), we made you listen to that. And that which he (recited) inwardly, we (recited) inwardly for you. A person said to him:If I add nothing to the (recitation) of the Umm al Qur'an (Surat al-Fatiha), would it make the prayer incomplete? He (AbuHuraira) said: If you add to that (if you recite some of verses of the Qur'an along with Surat at-Fatiha) that is better for you. But if you are contented with it (Surat al-Fatiha) only, it is sufficient for you
۔ ابن جریج نے عطا سے خبر دی ، کہا : حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : ( نماز پڑھنے والا ) پوری نماز میں ( ہر رکعت میں ) قراءت کرے ۔ رسول اللہﷺ نے جو ( قراءت ) ہمیں ( بلند آواز سے ) سنائی ، ہم نے بھی تمہیں سنائی اور جو آ پ نے ہم سے ( آواز آہستہ کر کے ) مخفی رکھی ہم نے اسے تم سے مخفی رکھا ۔ ایک آدمی نے ان سے کہا : اگر میں ام القرآن سے زیادہ نہ پڑھوں؟ تو انہوں نے کہا : اگر اس سے زیادہ پڑھو تو بہتر ہے اور اگر اس ( فاتحہ ) پر رک جاؤ تو وہ تمہیں کفایت کرے گی ۔