حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَوَكِيعٌ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، كُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
A hadith like this has been transmitted by Isma'il b. Abu Khalid
(ہشیم کے بجائے ) عبداللہ بن نمیر ، وکیع اور عیسیٰ بن یونس نے اسماعیل بن ابی خالد سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنِ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ حُمْرَانَ، يَقُولُ سَمِعْتُ عُثْمَانَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ مِثْلَهُ سَوَاءً .
It is narrated on the authority of Humran that he heard Uthman saying this:I heard the Messenger of Allah (ﷺ) uttering these words (as stated above)
ابن علیہ کے بجائے بشر بن مفضل نے بھی خالد حذاء سے یہی روایت بیان کی ، انہوں نے ولید ابو بشر سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حمران سے سنا ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سےسنا ، وہ کہتے تھے : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ..... اس کے بعد بالکل سابقہ روایت کی طرح بیان کیا ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، وَابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي كُلُّهُمْ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ . وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مُبَارَكٍ وَابْنِ أَبِي زَائِدَةَ ثُمَّ تَلاَ ابْنُ عُمَرَ { فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ} وَقَالَ فِي هَذَا نَزَلَتْ .
This hadith has been narrated by another chain of transmitters and in the one narrated by Ibn Mubarak and Ibn Abu Za'ida (these words are narrated). Ibn 'Umar then recited:" Whether you turn thither is Allah's face," and it was revealed in this context
ابن مبارک ، ابن ابی زائدہ اور ابن نمیر نے اپنے والد کے حوالے سے ، سب نے عبدالملک سے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث روایت کی اور ان میں سے ابن مبارک اور ابن ابی زائدہ کی روایت میں ہے کہ پھر حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےآیت تلاوت کی ( فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللہِہہہ ) " تم جس طرف بھی رخ کرو وہیں اللہ کا چہرہ ہے " اور کہا : یہ اسی کے بارے میں اتری ہے ۔
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ جَمِيعًا عَنْ خَالِدٍ، - قَالَ أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، - حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَائِمًا ثُمَّ يَجْلِسُ ثُمَّ يَقُومُ . قَالَ كَمَا يَفْعَلُونَ الْيَوْمَ .
Ibn 'Umar said that the Messenger of Allah (ﷺ) used to deliver the sermon on Friday while standing. He would then sit and then stand (for the second sermon) as they (the Muslims) do nowadays
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کے دن کھڑے ہوکر خطبہ ارشاد فرماتے ، پھر ( تھوڑی دیر ) بیٹھ جاتے ، پھر کھڑے ہوجاتے ۔ کہا : جس طرح آجکل ( خطبہ دینے والے ) کرتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ قَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ كُنَّا نُنْهَى عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا .
Umm 'Atiyya reported:We were forbidden to follow the bier, but it was not made absolute on us
محمد بن سیرین نے کہا : حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فر ما یا ہمیں جنازوں کے ساتھ جا نے سے روکا جا تا تھا لیکن ہمیں سختی کے ساتھ حکم نہیں دیا گیا ۔
وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْهَبِ، حَدَّثَنَا خُلَيْدٌ الْعَصَرِيُّ، عَنِ الأَحْنَفِ، بْنِ قَيْسٍ قَالَ كُنْتُ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَمَرَّ أَبُو ذَرٍّ وَهُوَ يَقُولُ بَشِّرِ الْكَانِزِينَ بِكَىٍّ فِي ظُهُورِهِمْ يَخْرُجُ مِنْ جُنُوبِهِمْ وَبِكَىٍّ مِنْ قِبَلِ أَقْفَائِهِمْ يَخْرُجُ مِنْ جِبَاهِهِمْ . - قَالَ - ثُمَّ تَنَحَّى فَقَعَدَ . - قَالَ - قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذَا أَبُو ذَرٍّ . قَالَ فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ مَا شَىْءٌ سَمِعْتُكَ تَقُولُ قُبَيْلُ قَالَ مَا قُلْتُ إِلاَّ شَيْئًا قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّهِمْ صلى الله عليه وسلم . قَالَ قُلْتُ مَا تَقُولُ فِي هَذَا الْعَطَاءِ قَالَ خُذْهُ فَإِنَّ فِيهِ الْيَوْمَ مَعُونَةً فَإِذَا كَانَ ثَمَنًا لِدِينِكَ فَدَعْهُ.
Ahnaf b. Qais reported:While I was in the company of the (elites) of Quraiah, Abu Dharr came there and he was saying: Give glad tidings to the hoarders of riches that their backs would be branded (so deeply) that (the hot Iron) would come out of their sides, and when the backs of their necks would be branded, it would come out of their foreheads. He (Abu Dharr) then went away and sat down. I asked who he was. They said: He is Abu Dharr. I went to him and said to him: What is this that I heard from you which you were saying before? He said: I said nothing but only that which I heard from their Prophet (ﷺ). I again said: What do you say about this gift? He said: Take it, for today it is a help. But when it becomes a price for your religion, then abandon it
خلید العصری نے حضرت احنف بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ؒ سے روایت کی انھوں نے کہا میں قریش کی ایک جماعت میں مو جو د تھا کہ ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ کہتے ہو ئے گزرے : مال جمع کرنے والوں کو ( آگ کے ) ان داغوں کی بشارت سنا دو جو ان کی پشتوں پر لگائے جا ئیں گے اور ان کے پہلوؤں سے نکلیں گے اور ان داغوں کی جو ان کی گدیوں کی طرف سے لگا ئے جا ئیں گے اور ان کی پیشا بیوں سے نکلیں گے کہا : پھر وہ الگ تھلگ ہو کر بیٹھ گئے میں نے پو چھا یہ صاحب کو ن ہیں ؟ لو گوں نے بتا یا یہ ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں میں اٹھ کر ان کے پا س چلا گیا اور پو چھا کیا با ت تھی تھوڑی دیر پہلے میں نے سنی آپ کہہ رہے تھے ؟انھوں نے جواب دیا میں نے اس بات کے سوا کچھ نہیں کہا جو میں نے ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ۔ کہا میں نے پو چھا ( حکومت سے ملنے والے ) عطیے ( وظیفے ) کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟ انھوں نے جواب دیا اسے لے لو کیونکہ آ ج یہ معونت ( مدد ) سے اور جب یہ تمھا رے دین کی قیمت ٹھہریں تو انھیں چھوڑ دینا ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - قَالَ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُؤَذِّنَانِ بِلاَلٌ وَابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ الأَعْمَى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ بِلاَلاً يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ " . قَالَ وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَهُمَا إِلاَّ أَنْ يَنْزِلَ هَذَا وَيَرْقَى هَذَا .
Ibn 'Umar (Allah be pleased with both of them) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) had two Mu'adhdhins, Bilal and son of Umm Maktum, the blind. The Messenger of Allah (ﷺ) said:Bilal announces Adhan at (the fag end of the) night (i. e. Sahri), so eat and drink till the son of Umm Maktum announces Adhan. And he (the narrator) said: And the (difference of time) between their (Adhans) was not more than this that one climbed down (from the minaret) and the other climbed up (to announce Adhan)
ابن نمیر ، عبیداللہ بن نافع ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو مؤذن تھے حضرت بلال اور حضرت عبداللہ ابن مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نابینا تھے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو رات کے و قت ہی اذان دے دیتے ہیں لہذا تم کھاتے اور پیتے رہو یہاں تک کہ حضرت ابن ام مکتوم اذان دیں راوی نے کہا کہ ان دونوں کی اذان میں کوئی فرق نہیں تھا ۔ سوائے اس کے کہ وہ ا ذان دے کر اترتے تھے اور یہ چڑھتے تھے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالُوا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يُلَبِّي.
A'isha (Allah be pleased with her) reported:I still seem to see the glistening of the perfume where the hair parted on Allah's Messenger's (ﷺ) head, while he was pronouncing Talbiya
ابو الضحی نے مسروق سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ایسے لگتا ہے جیسے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں اور آپ تلبیہ پکار رہے ہیں ۔
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ يَحْيَى، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ.
A hadith like this has been narrated on the authority of Abu Huraira (Allah be pleased with him) through another chain of transmitters
شیبان نے یحییٰ سے روایت کی ، کہا : مجھے ابوسلمہ نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ۔ ۔ ( آگے ) اسی کے مانند ہے
وَحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
Likewise, the above hadith has been narrated through another chain
شعبہ نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ، - وَتَقَارَبَا فِي لَفْظِ الْحَدِيثِ - قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا وَقَالَ، إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمْ أَزَلْ حَرِيصًا أَنْأَسْأَلَ عُمَرَ عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم اللَّتَيْنِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى {إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا} حَتَّى حَجَّ عُمَرُ وَحَجَجْتُ مَعَهُ فَلَمَّا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ عَدَلَ عُمَرُ وَعَدَلْتُ مَعَهُ بِالإِدَاوَةِ فَتَبَرَّزَ ثُمَّ أَتَانِي فَسَكَبْتُ عَلَى يَدَيْهِ فَتَوَضَّأَ فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَنِ الْمَرْأَتَانِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم اللَّتَانِ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمَا { إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا} قَالَ عُمَرُ وَاعَجَبًا لَكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ - قَالَ الزُّهْرِيُّ كَرِهَ وَاللَّهِ مَا سَأَلَهُ عَنْهُ وَلَمْ يَكْتُمْهُ - قَالَ هِيَ حَفْصَةُ وَعَائِشَةُ . ثُمَّ أَخَذَ يَسُوقُ الْحَدِيثَ قَالَ كُنَّا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ قَوْمًا نَغْلِبُ النِّسَاءَ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَجَدْنَا قَوْمًا تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ فَطَفِقَ نِسَاؤُنَا يَتَعَلَّمْنَ مِنْ نِسَائِهِمْ - قَالَ - وَكَانَ مَنْزِلِي فِي بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ زَيْدٍ بِالْعَوَالِي فَتَغَضَّبْتُ يَوْمًا عَلَى امْرَأَتِي فَإِذَا هِيَ تُرَاجِعُنِي فَأَنْكَرْتُ أَنْ تُرَاجِعَنِي . فَقَالَتْ مَا تُنْكِرُ أَنْ أُرَاجِعَكَ فَوَاللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَيُرَاجِعْنَهُ وَتَهْجُرُهُ إِحْدَاهُنَّ الْيَوْمَ إِلَى اللَّيْلِ . فَانْطَلَقْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ فَقُلْتُ أَتُرَاجِعِينَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ نَعَمْ . فَقُلْتُ أَتَهْجُرُهُ إِحْدَاكُنَّ الْيَوْمَ إِلَى اللَّيْلِ قَالَتْ نَعَمْ . قُلْتُ قَدْ خَابَ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ مِنْكُنَّ وَخَسِرَ أَفَتَأْمَنُ إِحْدَاكُنَّ أَنْ يَغْضَبَ اللَّهُ عَلَيْهَا لِغَضَبِ رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا هِيَ قَدْ هَلَكَتْ لاَ تُرَاجِعِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلاَ تَسْأَلِيهِ شَيْئًا وَسَلِينِي مَا بَدَا لَكِ وَلاَ يَغُرَّنَّكِ أَنْ كَانَتْ جَارَتُكِ هِيَ أَوْسَمَ وَأَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْكِ - يُرِيدُ عَائِشَةَ - قَالَ وَكَانَ لِي جَارٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَكُنَّا نَتَنَاوَبُ النُّزُولَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيَنْزِلُ يَوْمًا وَأَنْزِلُ يَوْمًا فَيَأْتِينِي بِخَبَرِ الْوَحْىِ وَغَيْرِهِ وَآتِيهِ بِمِثْلِ ذَلِكَ وَكُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ غَسَّانَ تُنْعِلُ الْخَيْلَ لِتَغْزُوَنَا فَنَزَلَ صَاحِبِي ثُمَّ أَتَانِي عِشَاءً فَضَرَبَ بَابِي ثُمَّ نَادَانِي فَخَرَجْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ حَدَثَ أَمْرٌ عَظِيمٌ . قُلْتُ مَاذَا أَجَاءَتْ غَسَّانُ قَالَ لاَ بَلْ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ وَأَطْوَلُ طَلَّقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم نِسَاءَهُ . فَقُلْتُ قَدْ خَابَتْ حَفْصَةُ وَخَسِرَتْ قَدْ كُنْتُ أَظُنُّ هَذَا كَائِنًا حَتَّى إِذَا صَلَّيْتُ الصُّبْحَ شَدَدْتُ عَلَىَّ ثِيَابِي ثُمَّ نَزَلْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ وَهْىَ تَبْكِي فَقُلْتُ أَطَلَّقَكُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ لاَ أَدْرِي هَا هُوَ ذَا مُعْتَزِلٌ فِي هَذِهِ الْمَشْرُبَةِ . فَأَتَيْتُ غُلاَمًا لَهُ أَسْوَدَ فَقُلْتُ اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ . فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَىَّ فَقَالَ قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ فَصَمَتَ فَانْطَلَقْتُ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى الْمِنْبَرِ فَجَلَسْتُ فَإِذَا عِنْدَهُ رَهْطٌ جُلُوسٌ يَبْكِي بَعْضُهُمْ فَجَلَسْتُ قَلِيلاً ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ ثُمَّ أَتَيْتُ الْغُلاَمَ فَقُلْتُ اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ . فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَىَّ . فَقَالَ قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ فَصَمَتَ . فَوَلَّيْتُ مُدْبِرًا فَإِذَا الْغُلاَمُ يَدْعُونِي فَقَالَ ادْخُلْ فَقَدْ أَذِنَ لَكَ فَدَخَلْتُ فَسَلَّمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا هُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى رَمْلِ حَصِيرٍ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِهِ فَقُلْتُ أَطَلَّقْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ نِسَاءَكَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَىَّ وَقَالَ " لاَ " . فَقُلْتُ اللَّهُ أَكْبَرُ لَوْ رَأَيْتَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكُنَّا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ قَوْمًا نَغْلِبُ النِّسَاءَ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَجَدْنَا قَوْمًا تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ فَطَفِقَ نِسَاؤُنَا يَتَعَلَّمْنَ مِنْ نِسَائِهِمْ فَتَغَضَّبْتُ عَلَى امْرَأَتِي يَوْمًا فَإِذَا هِيَ تُرَاجِعُنِي فَأَنْكَرْتُ أَنْ تُرَاجِعَنِي . فَقَالَتْ مَا تُنْكِرُ أَنْ أُرَاجِعَكَ فَوَاللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَيُرَاجِعْنَهُ وَتَهْجُرُهُ إِحْدَاهُنَّ الْيَوْمَ إِلَى اللَّيْلِ . فَقُلْتُ قَدْ خَابَ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ مِنْهُنَّ وَخَسِرَ أَفَتَأْمَنُ إِحْدَاهُنَّ أَنْ يَغْضَبَ اللَّهُ عَلَيْهَا لِغَضَبِ رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا هِيَ قَدْ هَلَكَتْ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ دَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ فَقُلْتُ لاَ يَغُرَّنَّكِ أَنْ كَانَتْ جَارَتُكِ هِيَ أَوْسَمُ مِنْكِ وَأَحَبُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْكِ . فَتَبَسَّمَ أُخْرَى فَقُلْتُ أَسْتَأْنِسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " نَعَمْ " . فَجَلَسْتُ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فِي الْبَيْتِ فَوَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ فِيهِ شَيْئًا يَرُدُّ الْبَصَرَ إِلاَّ أُهُبًا ثَلاَثَةً فَقُلْتُ ادْعُ اللَّهَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يُوَسِّعَ عَلَى أُمَّتِكَ فَقَدْ وَسَّعَ عَلَى فَارِسَ وَالرُّومِ وَهُمْ لاَ يَعْبُدُونَ اللَّهَ فَاسْتَوَى جَالِسًا ثُمَّ قَالَ " أَفِي شَكٍّ أَنْتَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ أُولَئِكَ قَوْمٌ عُجِّلَتْ لَهُمْ طَيِّبَاتُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا " . فَقُلْتُ اسْتَغْفِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ . وَكَانَ أَقْسَمَ أَنْ لاَ يَدْخُلَ عَلَيْهِنَّ شَهْرًا مِنْ شِدَّةِ مَوْجِدَتِهِ عَلَيْهِنَّ . حَتَّى عَاتَبَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ . قَالَ الزُّهْرِيُّ فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا مَضَى تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَدَأَ بِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ أَقْسَمْتَ أَنْ لاَ تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا وَإِنَّكَ دَخَلْتَ مِنْ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ أَعُدُّهُنَّ . فَقَالَ " إِنَّ الشَّهْرَ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ - ثُمَّ قَالَ - يَا عَائِشَةُ إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا فَلاَ عَلَيْكِ أَنْ لاَ تَعْجَلِي فِيهِ حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ " . ثُمَّ قَرَأَ عَلَىَّ الآيَةَ { يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ} حَتَّى بَلَغَ { أَجْرًا عَظِيمًا} قَالَتْ عَائِشَةُ قَدْ عَلِمَ وَاللَّهِ أَنَّ أَبَوَىَّ لَمْ يَكُونَا لِيَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ قَالَتْ فَقُلْتُ أَوَفِي هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَىَّ فَإِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الآخِرَةَ . قَالَ مَعْمَرٌ فَأَخْبَرَنِي أَيُّوبُ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لاَ تُخْبِرْ نِسَاءَكَ أَنِّي اخْتَرْتُكَ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ أَرْسَلَنِي مُبَلِّغًا وَلَمْ يُرْسِلْنِي مُتَعَنِّتًا " . قَالَ قَتَادَةُ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا مَالَتْ قُلُوبُكُمَا.
Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) reported. I had always been anxious to ask 'Umar (Allah be pleased with him) about the two ladies amongst the wives of Allah's Prophet (may peace be upon Lim) about whom Allah, the Exalted, said:" If you both turn in repentance to Allah, then indeed your hearts are inclined (to this)" (Ixvi. 4), until 'Umar (Allah be pleased with him) set out for Hajj and I also went along with him. And as we were going along a path, 'Umar (Allah be pleased with hiyn) went aside and I also went aside with him with a jug (of water). He answered the call of nature, and then came to me and I poured water over his hands and he performed ablution I said: Commander of the Faithful, who are the two ladies amongst the wives of Allah's Prophet (ﷺ) about whom Allah, the Exalted and Majestic, said: 'If you both turn to Allah in repentance, then indeed your heart are inclined to it"? 'Umar (Allah he pleased with him) said: How strange is it for you, Ibn 'Abbas! (Zuhri said: By Allah, he disliked what he asked about, but did not keep it a secret.) He ('Umar) said: They are Hafsa and 'A'isha; and he then began to narrate the hadith and said: We were such people among the Quraish who dominated women, and as we reached Medina we found there people who were dominated by their women, and our women began to learn (the habits) of their women. He further said: And my house was situated in the suburb of Aledina in the tribe of Banu Umayya b. Zaid. One day I became angry with my wife and she retorted upon me. I did not like that she should retort upon me. She said: You disapprove of my retorting upon you By Allah, the wives of Allah's Apostle (ﷺ) retort upon him, and one of them detaches herself from him for the day until the night. So I ('Umar) went out and visited Hafsa and said: Do you retort upon Allah's Messenger (ﷺ)? She said: Yes. I said; Does any one of you detach herself from him from the day to the night? She said: Yes. He said: She who did like it amongst you in fact failed and incurred loss. Does everyone amongst you not fear the wrath of Allah upon her due to the wrath of His Messenger (ﷺ), and (as a result thereof) she may perish? So do not retort upon Allah's Messenger (ﷺ) and do not ask him for anything, but ask me that which you desire, (and the frank behaviour) of your companion may not mislead you, if she is more graceful and is dearer to Allah's Messenger (ﷺ) than you (meaning 'A'isha) (Allah be pleased with her). He (Hadrat 'Umar further) said: I had a compalaion from the Ansar and, we used to remain in the company of the Messenger (ﷺ) turn by turn. He remained there for a day while I remained there on the other day, and he brought me the news about the revelation and other (matter), and I brought him (the news) like this. And we discussed that the Ghassanids were shoeing the horses in order to attack us. Id y companion once attended (the Apostle). and then came to me at night and knocked at my door and called me, and I came out to him, and he said: A matter of great importance has happened. I said: What is that? Have the Ghassanids come? He said: No, but even more serious and more significant than that: the Prophet (ﷺ) has divorced his wives. I said: Hafsa has failed and has incurred loss. and I feared that it would happen. When it was dawn I observed the dawn prayer and dressed myself, and then came there (in the house of the Holy Prophet) and visited Hafsa, and she was weeping. I said: Has Allah's Messenger (ﷺ) divorced you (all)? She said: I do not know. He has, however, separated himself in his attic. I came to a black servant and said to him: Seek permission for 'Umar. He went in and then came to me and said: I made mention of you to him, but he kept quiet. I then went to the pulpit and sat there, and there was a group of people sitting by it and some of then were weeping. I sat there for some time, until I was overpowered (by that very idea) which was in my mind. I then came back to the boy and said to him: Seek permission for Umar. He went in and came to me and said: I made mention of you to him but he kept quiet. I was about to turn back when the boy called me and said: Go in; permission has been granted to you. I went in and greeted Allah's Messenger (ﷺ) and he was reclining against the couch of mat and it had left its marks upon his side. I said: Messenger of Allah, have you divorced your wives? He raised his head towards me and said: No. I said: Allah is the Greatest. Messenger of Allah, I wish if you had seen how we the people of Quraish had domination over women but when we came to Medina we found people whom their women dominated. So our women began to learn from their women. One dily I became angry with my wife and she began to retort upon me. I did not approve that she should retort upon me. She said: You do not like that I should retort upon you, but, by Allah. the wives of Allah's Apostle (ﷺ) retort upon him and any one of them separates herself from him for a day until night. I said: He who did that amongst them in fact failed and incurred loss. Does any of them feel sate from the wrath of Allahupon her due to the wrath of Allah's Messenger (ﷺ), and she has certainly perished. Allah's Messtnger (ﷺ) smiled, I said: Messenger of Allah, I visited Hafsa and said: (The behaviour) of your companion ('A'isha) may not mislead you, If she is more graceful than you and is dearer to Allah's Messenger (ﷺ) than you. Allah's Messenger (ﷺ) smiled for the second time. I said: Allah's Messenger, way I talk to you about agreeable things? He said: Yes. I sat down and lifted my head (to see things) in the house and, by Allah, I did not see anything significant besides three hides. I said: Messenger of Allah, supplicate the Lord that He should make (life) prosperous for your Ummah as He has made plentiful for the people of Persia and Rome (in spite of the fact) that they do no, worship Allah, the Exalted and Majestic, whereupon he (Allah's Messenger) sat up an I then said: Ibn Khattab, do you doubt that they are a nation whom their nice things have been given immediately in the life of this world. I said: Allah's Messenger! seek pardon for me. And he (Allah's Messenger) had taken an oath that he would not visit them for a month due to extreme annoyance with them until Allah showed His displeasure to him (Allah's Messenger). Zuhri said: 'Urwa informed me that 'A'Isha (Allah be pleased with her) said: When twenty-nine nights were over, Allah's Messenger (ﷺ) visited me, and he began (his visit) with me. I said: Messenger of Allah, you had taken an oath that you would not visit us for a month, while you have visited after I have counted only twenty-nine (nights). Thereupon he said: The month may also be of twenty-nine (days). He then said: 'A'isha, I am going to talk to you about a matter, and you should not be hasty in it (and do not give your final decision) until you have consulted your parents. He then recited this verse to me:" O Prophet, say to your wives" till he reached" mighty reward" (xxxiii. 28). 'A'isha (Allah be pleased with her) said: By Allah, he knew that my parents would not allow me to separate from him. I said: Is there any need to consult my parents in this matter? I in fact choose Allah and His Messenger (ﷺ) and the abode in the Hereafter. Ma'mar said: Ayyub reported to me that 'A'isha said: Don't inform your wives that I have chosen you, whereupon Allah's Apostle (ﷺ) said: Verily Allah has sent me as a conveyer of message, and He has not sent me as a source of hardship (to others). Qatada said:" Saghat qulubukum" means" Your hearts have inclined
معمر نے زہری سے ، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن ابی ثور سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں شدت سے خواہش مند رہا تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے ان دو کے بارے میں سوال کروں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا : "" اگر تم دونوں اللہ سے توبہ کرتی ہو تو یقینا تمہارے دل آگے جھک گئے ہیں "" حتی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حج ( کا سفر ) کیا اور میں نے بھی ان کے ساتھ حج کیا ، ( واپسی پر ) ہم راستے کے ایک حصے میں تھے کہ عمر رضی اللہ عنہ ( اپنی ضرورت کے لیے راستے سے ) ایک طرف ہٹ گئے اور میں بھی پانی کا برتن لیے ان کے ساتھ ہٹ گیا ، وہ صحرا میں چلے گئے ، پھر میرے پاس آئے تو میں نے ان کے ہاتھوں پر پانی انڈیلا ، انہوں نے وضو کیا تو میں نے کہا : اے امیر المومنین! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے وہ دو کون سی تھیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "" اگر تم دونوں اللہ سے توبہ کرو تو یقینا تمہارے دل جھک گئے ہیں؟ "" عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : ابن عباس! تم پر تعجب ہے! ۔ ۔ ۔ زہری نے کہا : اللہ کی قسم! انہوں ( ابن عباس رضی اللہ عنہ ) نے جو سوال ان سے کیا ، وہ انہیں برا لگا اور انہوں نے ( اس کا جواب ) چھپایا بھی نہیں ۔ ۔ انہوں نے کہا : وہ حفصہ اور عائشہ رضی اللہ عنھن تھیں ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ بات سنانے لگے اور کہا : ہم قریش کے لوگ ایسی قوم تھے جو اپنی عورتوں پر غالب تھے ، جب ہم مدینہ آئے تو ہم نے ایسے لوگ پائے جن پر ان کی عورتیں غالب تھیں ، چنانچہ ہماری عورتوں نے بھی ان کی عورتوں سے سیکھنا شروع کر دیا ۔ ( مردوں کو پلٹ کر جواب دینے لگیں ۔ ) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میرا گھر بالائی علاقے بنی امیہ بن زید کے محلے میں تھا ، ایک دن میں اپنی بیوی پر ناراض ہوا ، تو وہ مجھے پلٹ کر جواب دینے لگی ، مجھے اس کا جواب دینا بڑا ناگوار گزرا تو اس نے کہا : تمہیں یہ ناگوار گزرتا ہے کہ میں تمہیں جواب دوں؟ اللہ کی قسم! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دے دیتی ہیں ، اور ان میں سے کوئی ایک تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات تک پورا دن چھوڑ بھی دیتی ہے ( روٹھی رہتی ہے ۔ ) میں چلا ، حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گیا اور کہا : کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پلٹ کر جواب دے دیتی ہو؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ۔ میں نے ( پھر ) پوچھا : کیا تم میں سے کوئی انہیں رات تک دن بھر کے لیے چھوڑ بھی دیتی ہے؟ انہوں نے کہا : جی ہاں! میں نے کہا : تم میں سے جس نے بھی ایسا کیا وہ ناکام ہوئی اور خسارے میں پڑی ۔ کیا تم میں سے کوئی اس بات سے بے خوف ہو جاتی ہے کہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضی کی وجہ سے اللہ ( بھی ) اس پر ناراض ہو جائے گا تو وہ تباہ و برباد ہو جائے گی؟ ( آیندہ ) تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دینا نہ ان سے کسی چیز کا مطالبہ کرنا ، تمہیں جو چاہئے مجھ سے مانگ لینا ۔ تمہیں یہ بات دھوکے میں نہ ڈال دے کہ تمہاری ہمسائی ( سوکن ) تم سے زیادہ خوبصورت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ محبوب ہے ۔ ۔ ان کی مراد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے تھی ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : ۔ ۔ انصار میں سے میرا ایک پڑوسی تھا ۔ ۔ ہم باری باری ( بالائی علاقے سے ) اتر کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے ۔ ایک دن وہ اترتا اور ایک دن میں اترتا ، وہ میرے پاس وحی وغیرہ کی خبریں لاتا اور میں بھی ( اپنی باری کے دن ) اس کے پاس اسی طرح کی خبریں لاتا ۔ اور ( ان دنوں ) ہم آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ غسانی ہمارے ساتھ لڑائی کرنے کے لیے گھوڑوں کو کھڑیاں لگا رہے تھے ، میرا ساتھی ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے عوالی سے ) اترا ، پھر عشاء کے وقت میرے پاس آیا ، میرا دروازہ کھٹکھٹایا ، پھر مجھے آواز دی ، میں باہر نکلا تو اس نے کہا : ایک بہت بڑا واقعہ رونما ہو گیا ہے ۔ میں نے پوچھا : کیا ہوا؟ کیا غسانی آ گئے؟ اس نے کہا : نہیں ، بلکہ وہ اس سے بھی بڑا اور لمبا چوڑا ( معاملہ ) ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے ۔ میں نے کہا : حفصہ تو ناکام ہوئی اور خسارے میں پڑ گئی ۔ میں تو ( پہلے ہی ) سمجھتا تھا کہ ایسا ہونے والا ہے ۔ ( دوسرے دن ) جب میں صبح کی نماز پڑھ چکا تو اپنے کپڑے پہنے ، مدینہ میں آیا اور حفصہ کے پاس گیا ، وہ رو رہی تھی ۔ میں نے پوچھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سب کو طلاق دے دی ہے؟ اس نے کہا : میں نہیں جانتی ، البتہ آپ الگ تھلگ اس بالاخانے میں ہیں ۔ میں آپ کے سیاہ فام غلام کے پاس آیا ، اور اسے کہا ، عمر کے لیے اجازت مانگو ۔ وہ گیا ، پھر میری طرف باہر آیا اور کہا : میں نے آُ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تمہارا ذکر کیا مگر آپ خاموش رہے ۔ میں چلا آیا حتی کہ منبر کے پاس آ کر بیٹھ گیا ، تو وہاں بہت سے لوگ بیٹھے تھے ، ان میں سے بعض رو رہے تھے ، میں تھوڑی دیر بیٹھا ، پھر جو کیفیت مجھ پر طاری تھی وہ مجھ پر غالب آ گئی ۔ میں پھر غلام کے پاس آیا اور کہا : عمر کے لیے اجازت مانگو ، وہ اندر داخل ہوا ، پھر میری طرف باہر آیا اور کہا : میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تمہارا ذکر کیا ، مگر آپ خاموش رہے ۔ میں پیٹھ پھیر کر مڑا تو اچانک غلام مجھے بلانے لگا ، اور کہا : اندر چلے جاؤ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں اجازت دے دی ہے ۔ میں اندر داخل ہوا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام عرض کیا تو دیکھا کہ آپ بنتی کی ایک چٹائی پر سہارا لے کر بیٹھے تھے ، جس نے آپ کے پہلو پر نشان ڈال دیے تھے ، میں نے عرض کی : کیا آپ نے اللہ کے رسول! اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟ آپ نے میری طرف ( دیکھتے ہوئے ) اپنا سر مبارک اٹھایا اور فرمایا : "" نہیں ۔ "" میں نے کہا : اللہ اکبر ۔ اللہ کے رسول! اگر آپ ہمیں دیکھتے تو ہم قریش ایسی قوم تھے جو اپنی بیویوں پر غالب رہتے تھے ۔ جب ہم مدینہ آئے تو ہم نے ایسی قوم کو پایا جن کی عورتیں ان پر غالب تھیں ، تو ہماری عورتوں نے بھی ان کی عورتوں ( کی عادت ) سے سیکھنا شروع کر دیا ، چنانچہ ایک دن میں اپنی بیوی پر برہم ہوا تو وہ مجھے پلٹ کر جواب دینے لگی ۔ مجھے اس کا جواب دینا انتہائی ناگوار گزرا ، اس نے کہا : تمہیں یہ ناگوار گزرتا ہے کہ میں تمہیں جواب دیتی ہوں؟ اللہ کی قسم! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی آپ کو جواب دے دیتی ہیں ، اور ان میں سے کوئی تو آپ کو رات تک چھوڑ بھی دیتی ( روٹھ بھی جاتی ) ہے ۔ تو میں نے کہا : ان میں سے جس نے ایسا کیا وہ ناکام ہوئی اور خسارے میں پڑی ۔ کیا ( یہ کام کر کے ) ان میں سے کوئی اس بات سے بے خوف ہو سکتی ہے کہ اپنے رسول کی ناراضی کی وجہ سے اللہ اس پر ناراض ہو جائے ( اگر ایسا ہوا ) تو وہ تباہ ہو گئی ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے تو میں نے کہا : اللہ کے رسول! میں حفصہ کے پاس گیا اور اس نے کہا : تمہیں یہ بات کسی دھوکے میں نہ ڈال دے کہ تمہاری ہمسائی ( سوکن ) تم سے زیادہ خوبصورت اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تم سے زیادہ محبوب ہے ۔ اس پر آپ دوبارہ مسکرائے تو میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! ( کچھ دیر بیٹھ کر ) بات چیت کروں ، آپ نے فرمایا : "" ہاں ۔ "" چنانچہ میں بیٹھ گیا اور میں نے سر اوپر کر کے گھر میں نگاہ دوڑائی تو اللہ کی قسم! اس میں تین چمڑوں کے سوا کچھ نہ تھا جس پر نظر پڑتی ، میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! دعا فرمائیے کہ اللہ آپ کی امت پر فراخی فرمائے ۔ فارسیوں اور رومیوں پر وسعت کی گئی ہے حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت نہیں کرتے ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے ہو کر بیٹھ گئے ، پھر فرمایا : "" ابن خطاب! کیا تم کسی شک میں مبتلا ہو؟ یہ ایسے لوگ ہیں جنہیں ان ( کے حصے ) کی اچھی چیزیں جلد ہی دنیا میں دے دی گئی ہیں ۔ "" میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! میرے لیے بخشش طلب کیجیے ۔ اور آپ نے ان ( ازواج ) پر سخت غصے کی وجہ سے قسم کھا لی تھی کہ ایک مہینہ ان کے پاس نہیں جائیں گے ۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر عتاب فرمایا ۔ ( کہ بیویوں کی بات پر آپ کیوں غمزدہ ہوتے اور حلال چیزوں سے دور رہنے کی قسم کھاتے ہیں)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَقَالَ عَلِيٌّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلاَ يَبِعْهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ " .
Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying,:He who bought foodgrain should not sell it until he had taken possession of it
عمر بن محمد نے نافع سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص غلہ خریدے تو اسے پورا کر لینے اور اپنے قبضے میں لینے سے پہلے فروخت نہ کرے
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ بَيْعِ ضِرَابِ الْجَمَلِ وَعَنْ بَيْعِ الْمَاءِ وَالأَرْضِ لِتُحْرَثَ . فَعَنْ ذَلِكَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم .
Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger (ﷺ) forbade the hiring of a Camel to cover a she-Camel and from selling water and land to be tilled. So from all this the Messenger of Allah (ﷺ) forbade
روح بن عبادہ نے ہمیں خبر دی ، کہا : ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے ابوزبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کی جفتی فروخت کرنے ، کاشتکاری کے لیے پانی اور زمین کو فروخت کرنے سے منع فرمایا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ساری باتوں سے منع فرمایا ہے ۔
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، كِلاَهُمَا عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، . بِهَذَا الْحَدِيثِ فِي النَّذْرِ وَفِي حَدِيثِهِمَا جَمِيعًا اعْتِكَافُ يَوْمٍ .
This hadith has been transmitted on the authority of Ibn Umar through another chain of transmitters but with a slight variation of words
ایوب اور محمد بن اسحاق دونوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نذر کے بارے میں یہی حدیث بیان کی اور ان دونوں کی حدیث میں ایک دن کے اعتکاف کا ذکر ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ قَالَ مُحَمَّدٌ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا كَانَ ذَلِكَ الْيَوْمُ جَلَسَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى بَعِيرٍ - قَالَ - وَرَجُلٌ آخِذٌ بِزِمَامِهِ - أَوْ قَالَ بِخِطَامِهِ - فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ .
Abu Bakra reported that when it was the day of (Dhu'l-Hijja) Allah's Apostle (ﷺ) mounted the camel and addressed and a person had been holding its nosestring. The rest of the hadith is the same
حماد بن مسعدہ نے ہمیں ابن عون سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : محمد ( بن سیرین ) نے کہا : عبدالرحمان بن ابی بکرہ نے اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے کہا : جب وہ دن تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر بیٹھے ۔ کہا : اور ایک آدمی نے اس کی باگ ۔ ۔ یا کہا : لگام ۔ ۔ تھام لی ۔ ۔ ۔ آگے یزید بن زریع کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . نَحْوَهُ إِلَى قَوْلِهِ فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَرُجِمَ . وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ مِنْ نُزُولِ الآيَةِ .
This hadith has been narrated on the authority of A'mash up to the words:" Allah's Apostle (ﷺ) pronounced judgment and he was stoned (to death)" And he mentioned nothing subsequent to that pertaining to the revelation of verses
وکیع نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اعمش نے اسی سند کے ساتھ اس قول تک ، اسی طرح حدیث بیان کی : " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اسے رجم کر دیا گیا ۔ " انہوں نے اس کے بعد کا ، آیات کے نازل ہونے والا حصہ بیان نہیں کیا
وَحَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، - وَاللَّفْظُ لِسُرَيْجٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ، اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ نَفَّلَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَفَلاً سِوَى نَصِيبِنَا مِنَ الْخُمْسِ فَأَصَابَنِي شَارِفٌ وَالشَّارِفُ الْمُسِنُّ الْكَبِيرُ
A hadith has been narrated by Salim who learnt it from his father and said:The Messenger of Allah (ﷺ) gave us an extra (camel) besides our share of Khums; (and in this extra share) I got a Sharif (and a Sharif is a big old camel)
عبداللہ بن رجاء نے یونس سے ، انہوں نے زہری سے ، انہوں نے سالم سے اور انہوں نے اپنے والد ( حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خمس سے ہمارے حصے کے سوا اضافی بھی دیا تو مجھے ایک شارف ملا ۔ ۔ اور شارف سے مراد پختہ عمر کا ( مضبوط ) اونٹ ہے
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، بْنُ أَبِي خَالِدٍ أَخْبَرَنَا قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ عَمِيرَةَ الْكِنْدِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ .
Adi b. 'Amira al-Kindi heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying (as) was narrated in the (above-mentioned) hadith
فضل بن موسیٰ نے کہا : ہمیں اسماعیل بن ابی خالد نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں قیس بن ابی حازم نے خبر دی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ، ان سب کی حدیث کے مانند
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نُلْقِيَ لُحُومَ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ نِيئَةً وَنَضِيجَةً ثُمَّ لَمْ يَأْمُرْنَا بِأَكْلِهِ .
Bara' b. 'Azib reported:Allah's Messenger (ﷺ) commanded us to throw away the flesh of domestic asses whether uncooked or cooked; he then never commanded us to eat that
جریر نے عاصم سے ، انھوں نے شعبی سے ، انھوں نے براء بن عاذب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم پالتو گدھوں کا گوشت پھینک دیں ، کچا ہو یا پکا ہوا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ہمیں ان کو کھانے کی اجازت نہیں دی ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كُنَّا نَتَزَوَّدُهَا إِلَى الْمَدِينَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Jabir reported:We made provision (out of the flesh of sacrificed animals for our journey) to Medina during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ)
عمرو ( بن دینار ) نے عطاء سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں قربانیوں کا گوشت زاد راہ کے طور پر مدینہ تک ساتھ لے جاتے تھے ۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِوَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ " أَنْهَاكُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُقَيَّرِ - وَالْحَنْتَمُ الْمَزَادَةُ الْمَجْبُوبَةُ - وَلَكِنِ اشْرَبْ فِي سِقَائِكَ وَأَوْكِهِ " .
Abu Huraira reported that Allah's Apostle (ﷺ) said to the group of Abd al-Qais:I forbid you (to prepare Nabidh) in gourd. and green pitcher, hollow stump and varnished jar and the waterskin having its upper end cut, but (prepare it) in your small waterskin, and tie its mouth
محمد نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالقیس کے وفدسےفرمایا : " میں تم کو کدو کے ( بنے ہوئے ) برتنوں ، حنتم ، کھوکھلی لکڑی کے برتنوں ، روغن قارملے ہوئے برتنوں سےمنع کرتا ہوں ۔ حنتم وہ مشکیزے ہیں جن کے منہ کٹے ہوئے ہوں ۔ لیکن اپنے مشکیزوں سے پیو اور ان کا منہ باندھ دیاکرو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، أَنْبَأَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَخَّصَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ فِي الْقُمُصِ الْحَرِيرِ فِي السَّفَرِ مِنْ حِكَّةٍ كَانَتْ بِهِمَا أَوْ وَجَعٍ كَانَ بِهِمَا .
Anas b. Malik reported to them (his companions) that Allah's Messnger (ﷺ) had granted concession to Abd al-Rahman b. *Anf and Zubair b. 'Awwam for the wearing of a silk shirt during the journey and because of itch which they both had or any other disease from which both of them had been suffering
ابو اسامہ نے ہمیں سعید بن ابی عروبہ سے حدیث بیان کی ، کہا : قتادہ نے ہمیں حدیث سنائی کہ انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتا یا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبد الرحمان بن عوف اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک سفر میں خارش کی بنا پر یا کسی اور تکلیف کی بنا پر جو انھیں لا حق ہو گئی تھی ۔ ریشم پہننے کی اجازت مرحمت فرمائی ۔ ( حالات میں یہی مداوامیسر تھا ۔)
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ - حَدَّثَنَا سَعِيدُ، بْنُ يَزِيدَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ أَبَا مُوسَى، أَتَى بَابَ عُمَرَ فَاسْتَأْذَنَ فَقَالَ عُمَرُ وَاحِدَةٌ . ثُمَّ اسْتَأْذَنَ الثَّانِيَةَ فَقَالَ عُمَرُ ثِنْتَانِ . ثُمَّ اسْتَأْذَنَ الثَّالِثَةَ فَقَالَ عُمَرُ ثَلاَثٌ . ثُمَّ انْصَرَفَ فَأَتْبَعَهُ فَرَدَّهُ فَقَالَ إِنْ كَانَ هَذَا شَيْئًا حَفِظْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَهَا وَإِلاَّ فَلأَجْعَلَنَّكَ عِظَةً . قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَأَتَانَا فَقَالَ أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الاِسْتِئْذَانُ ثَلاَثٌ " . قَالَ فَجَعَلُوا يَضْحَكُونَ - قَالَ - فَقُلْتُ أَتَاكُمْ أَخُوكُمُ الْمُسْلِمُ قَدْ أُفْزِعَ تَضْحَكُونَ انْطَلِقْ فَأَنَا شَرِيكُكَ فِي هَذِهِ الْعُقُوبَةِ . فَأَتَاهُ فَقَالَ هَذَا أَبُو سَعِيدٍ .
Abu Sa'id reported that Abu Musa al-Ash'ari came to the door of 'Umar and sought his permission (to get into his house). Umar said:That is once. He again sought permission for the second time and 'Umar said: It is twice. He again sought permission for the third time and Umar said: It is thrice. He (Abu Musa) then went back. He (Hadrat 'Umar) (sent someone) to pursue him so that he should be brought back. Thereupon he (Hadrat Umar) said: If this act (of yours is in accordance with the command of Allah's Messenger (ﷺ) you have preserved in your mind, then it is all right, otherwise (I shall give you such a severe punishment) that it will serve as an example to others. Abu Sa'id said: Then he (Abu Musa) came to us and said: Do you remember Allah's Messenger (ﷺ) having said this:" Permission is for three times"? They (Companions sitting in that cothpany) began to laugh, whereupon he (Abu Musa) said: There comes to you your Muslim brother who had been perturbed and you laugh. Abu Sa'id said: (Well), you go forth. I shall be your participant in this trouble of yours. So he came to him (Hadrat Umar) and said: Here is Abu Sa'id (to support my statement)
بشر بن مفضل نے کہا : ہمیں سعید بن یزید نے ابو نضرہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت کی کہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دروازے پر گئے اور اجازت طلب کی ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا : یہ ایک بار ہے ۔ پھر انھوں نے دوبارہ اجازت طلب کی ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : یہ دوسری بار ہے ۔ پھر انہوں نے تیسری باراجازت طلب کی ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : یہ تیسری بار ہے ، پھر وہ لوٹ گئے ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ( اگلے دن ) کسی کو ان کے پیچھے روانہ کیا اور انھیں دوبارہ بلا بھیجا ۔ پھر ( حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) ان سے کہا : اگر یہ ایسی بات ہے جو تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( سن کر ) یار رکھی ہے تو ٹھیک ہے ، اگر نہیں تو میں تمھیں ( دوسروں کے لیے نشان ) عبرت بنا دوں گا ۔ حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : تو وہ ہمارے ہاں آئے اور کہنے لگے : تمھیں علم نہیں ہے کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : " اجازت تین بار طلب کی جاتی ہے؟ " کہا : تو لوگ ہنسنے لگے ، کہا : میں نے ( لوگوں سے کہا : ) تمھارے پاس تمھارا مسلمان بھائی ڈرا ہوا آیا ہے اور تم ہنس رہے ہو؟ ( پھر حضرت موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا : ) چلیں میں اس سزا میں آپ کا حصہ دار بنوں گاپھر وہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور کہا : یہ ابو سعید ہیں ( یہ میرے گواہ ہیں ۔)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، أَيْضًا - وَاللَّفْظُ هَذَا - حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ، بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ مُخَنَّثًا، كَانَ عِنْدَهَا وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْبَيْتِ فَقَالَ لأَخِي أُمِّ سَلَمَةَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ الطَّائِفَ غَدًا فَإِنِّي أَدُلُّكَ عَلَى بِنْتِ غَيْلاَنَ فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ . قَالَ فَسَمِعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " لاَ يَدْخُلْ هَؤُلاَءِ عَلَيْكُمْ " .
Umm Salama reported that she had a eunuch (as a slave) in her house. Allah's Messenger imay peace be upon him) was once in the house that he (the eunuch) said to the brother of Umm Salama:Abdullahb. Aba Umayya. if Allah grants you victory in Ta'if on the next day, I will show you the daughter of Ghailan for she has four folds (upon her body) on the front side of her stomach and eight folds on the back. Allah's Messenger (ﷺ) heard this and he said: Such (people) should not visit you
زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ ایک مخنث ان کے ہاں مو جو دتھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی گھر پر تھے وہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بھا ئی سے کہنے لگا : عبد اللہ بن ابی امیہ! اگر کل ( کلاں کو ) اللہ تعا لیٰ تم لو گوں کو طا ئف پر فتح عطا فر ما ئے تو میں تمھیں غیلا ن کی بیٹی ( بادیہ بنت غیلا ن ) کا پتہ بتا ؤں گا وہ چار سلوٹوں کے ساتھ سامنے آتی ہے ( سامنے سے جسم پر چار سلوٹیں پڑتی ہیں ) اور آٹھ سلوٹوں کے ساتھ پیٹھ پھیر کر جا تی ہے ۔ ۔ ( انتہائی فربہ جسم کی ہے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی یہ بات سن لی تو آپ نے فر ما یا : " یہ ( مخنث ) تمھا رے ہاں داخل نہ ہو ا کریں ۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ - أَوِ الْمُؤْمِنُ - فَغَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَ مِنْ وَجْهِهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ نَظَرَ إِلَيْهَا بِعَيْنَيْهِ مَعَ الْمَاءِ - أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ - فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَ مِنْ يَدَيْهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ كَانَ بَطَشَتْهَا يَدَاهُ مَعَ الْمَاءِ - أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ - فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَجَتْ كُلُّ خَطِيئَةٍ مَشَتْهَا رِجْلاَهُ مَعَ الْمَاءِ - أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ - حَتَّى يَخْرُجَ نَقِيًّا مِنَ الذُّنُوبِ " .
Abu Huraira reported:Allah's Messenger (ﷺ) said: When a bondsman-a Muslim or a believer-washes his face (in course of ablution), every sin he contemplated with his eyes, will be washed away from his face along with water, or with the last drop of water; when he washes his hands, every sin they wrought will be effaced from his hands with the water, or with the last drop of water; and when he washes his feet, every sin towards which his feet have walked will be washed away with the water or with the last drop of water with the result that he comes out pure from all sins
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب ایک مسلم ( یامومن ) بندہ وضو کرتا ہے اور اپنا چہرہ دھوتا ہے تو پانی ( یاپانی کے آخری قطرے ) کے ساتھ اس کے چہرے سے وہ سارے گناہ ، جنہیں اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے کیا تھا ، خارج ہو جاتے ہیں اور جب وہ اپنے ہاتھ دھوتا ہے تو پانی ( یا پانی کے آخری قطرے ) کے ساتھ وہ سارے گناہ ، جو اس کے ہاتھوں نے پکڑ کر کیے تھے ، خارج ہو جاتے ہیں اور جب وہ اپنے دونوں پاؤں دھوتا ہے تو پانی ( یا پانی کے آخری قطرے ) کے ساتھ وہ تمام گناہ ، جو اس کے پیروں نے چل کر کیے تھے ، خارج ہو جاتے ہیں حتی کہ وہ گناہون سے پاک ہو کر نکلتا ہے ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ، حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ الْخُزَاعِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ . وَذَكَرَ الْحَوْضَ بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ الْمُسْتَوْرِدِ وَقَوْلَهُ .
Haritha b. Wahb al-Khuza'i reported Allah's Messeiiger's (ﷺ) words concerning the Cistern like it, but he made no mention of the words of Mustaurid
حرمی بن عمارہ نے کہا : ہمیں شعبہ نے معبد بن خالد سے حدیث بیان کی کہ انھوں نے حضرت حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فر ما تے ہو ئے سنا اور انھوں نے ( حرمی بن عمارہ ) نے حوض کا ذکر کیا ، اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند ۔ انھوں نے حضرت مستورد اور ان ( حضرت حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کا قول ذکر نہیں کیا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - وَهُوَ ابْنُ بِلاَلٍ - عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُوسَى الأَشْعَرِيُّ، أَنَّهُ تَوَضَّأَ فِي بَيْتِهِ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ لأَلْزَمَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلأَكُونَنَّ مَعَهُ يَوْمِي هَذَا . قَالَ فَجَاءَ الْمَسْجِدَ فَسَأَلَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا خَرَجَ . وَجَّهَ هَا هُنَا - قَالَ - فَخَرَجْتُ عَلَى أَثَرِهِ أَسْأَلُ عَنْهُ حَتَّى دَخَلَ بِئْرَ أَرِيسٍ - قَالَ - فَجَلَسْتُ عِنْدَ الْبَابِ وَبَابُهَا مِنْ جَرِيدٍ حَتَّى قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَاجَتَهُ وَتَوَضَّأَ فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَإِذَا هُوَ قَدْ جَلَسَ عَلَى بِئْرِ أَرِيسٍ وَتَوَسَّطَ قُفَّهَا وَكَشَفَ عَنْ سَاقَيْهِ وَدَلاَّهُمَا فِي الْبِئْرِ - قَالَ - فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ثُمَّ انْصَرَفْتُ فَجَلَسْتُ عِنْدَ الْبَابِ فَقُلْتُ لأَكُونَنَّ بَوَّابَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْيَوْمَ . فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَدَفَعَ الْبَابَ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ . فَقُلْتُ عَلَى رِسْلِكَ - قَالَ - ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ فَقَالَ " ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " . قَالَ فَأَقْبَلْتُ حَتَّى قُلْتُ لأَبِي بَكْرٍ ادْخُلْ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُبَشِّرُكَ بِالْجَنَّةِ - قَالَ - فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَجَلَسَ عَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَهُ فِي الْقُفِّ وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ كَمَا صَنَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَكَشَفَ عَنْ سَاقَيْهِ ثُمَّ رَجَعْتُ فَجَلَسْتُ وَقَدْ تَرَكْتُ أَخِي يَتَوَضَّأُ وَيَلْحَقُنِي فَقُلْتُ إِنْ يُرِدِ اللَّهُ بِفُلاَنٍ - يُرِيدُ أَخَاهُ - خَيْرًا يَأْتِ بِهِ . فَإِذَا إِنْسَانٌ يُحَرِّكُ الْبَابَ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ . فَقُلْتُ عَلَى رِسْلِكَ . ثُمَّ جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَقُلْتُ هَذَا عُمَرُ يَسْتَأْذِنُ فَقَالَ " ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " . فَجِئْتُ عُمَرَ فَقُلْتُ أَذِنَ وَيُبَشِّرُكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْجَنَّةِ - قَالَ - فَدَخَلَ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْقُفِّ عَنْ يَسَارِهِ وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ ثُمَّ رَجَعْتُ فَجَلَسْتُ فَقُلْتُ إِنْ يُرِدِ اللَّهُ بِفُلاَنٍ خَيْرًا - يَعْنِي أَخَاهُ - يَأْتِ بِهِ فَجَاءَ إِنْسَانٌ فَحَرَّكَ الْبَابَ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ . فَقُلْتُ عَلَى رِسْلِكَ - قَالَ - وَجِئْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ " ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ مَعَ بَلْوَى تُصِيبُهُ " . قَالَ فَجِئْتُ فَقُلْتُ ادْخُلْ وَيُبَشِّرُكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْجَنَّةِ مَعَ بَلْوَى تُصِيبُكَ - قَالَ - فَدَخَلَ فَوَجَدَ الْقُفَّ قَدْ مُلِئَ فَجَلَسَ وُجَاهَهُمْ مِنَ الشِّقِّ الآخَرِ . قَالَ شَرِيكٌ فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ فَأَوَّلْتُهَا قُبُورَهُمْ .
Abu Musa Ash'ari reported that he performed ablution in his house and then came out saying:I would remain with Allah's Messenger (ﷺ) the whole day long. He came to the mosque, and asked about Allah's Apostle (ﷺ). They (his Companions) said: He has gone in this direction. He (Abu Musa Ash'ari) said: I followed his steps asking about him until I came to Bi'r Aris (it is a well in the suburb of Medina). I sat by its wooden door until Allah's Messenger (ﷺ) had relieved himself and then performed ablution. I went to him and he was sitting with his shanks uncovered hp to the knees and his legs dangl- ing in that well. I offered him salutations. I then came back and sat at the door as if I had been a chamberlain at the door of Allah's Messenger (ﷺ) that day. There came Abu Bakr and knocked the door and I said: Who is it? He said: This is Abu Bakr. I said: Wait, please. I went and said: Allah's Messenger, here is Abu Bakr seeking permission. Thereupon he said: Admit him and give him glad tidings of Paradise. I came and I said to Abu Bakr to get in (and also told him) that Allah's Messenger (ﷺ) was giving him the glad tidings of Paradise. Abu Bakr got in and sat on the right side of Allah's Messenger (ﷺ) and dangled his feet in the well as Allah's Messenger (ﷺ) had done, and he uncovered his shanks. I then returned and sat there and I had left my brother as he had been performing ablution and he was to meet me and I said: If Allah would intend goodness for such and such he would intend goodness for his brother and He would bring him. I was thinking this that a person stirred the door. I said: Who is it. He said: This is Umar b., Khattab. I said: Wait. Then I came to Allah's Messenger (ﷺ), greeted him and said: Here is 'Umar seeking your. permission to get in. Thereupon he said: Let him come in and give him glad tid- ings of Paradise. I came to Umar and said: There is permission for you and glad tidings for you from Allah's Messenger (ﷺ) for Paradise. He got in and sat on the left side of Allah's Messenger (ﷺ) with his feet dangling in the well. I then returned and sat and said: If Allah would intend goodness for such and such (that is for his brother), He would bring him. And I was contemplat- ing over it that a man stirred the door and I said: Who is it? He said: This is Uthman b. Affan. I said: Wait, please. I then came to Allah's Messenger (ﷺ) and informed him. and he said: Admit him and give him glad tidings (and inform) him of the turmoil which he shall have to face. I came and said: Get in, Allah's Messenger (ﷺ) gives you the glad tidings of Paradise along with the trial which you shall have to face. He got in and saw the elevated plan round the well fully occupied. He sat on the other side. Sharik said that Sa'id b. al-Musayyib reported: I drew a conclusion from it that their groves would be (in this very state, the graves of Hadrat Abu Bakr, 'Umar Faruq by the tide of the Prophet [may peace be upon him] and the grave of Hadrat 'Uthman away from their graves
یحییٰ بن حسان نے کہا : ہمیں سلیمان بن بلال نے شریک بن ابی نمر سے ، انھوں نے سعید بن مسیب سے روایت کی ، کہا : کہ مجھے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے اپنے گھر میں وضو کیا ، پھر باہر نکلے ۔ سیدنا ابوموسیٰ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ آج میں دن بھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نہ چھوڑوں گا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہی رہوں گا ۔ کہتے ہیں کہ پھر مسجد میں آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پوچھا ۔ لوگوں نے کہا کہ باہر اس طرف تشریف لے گئے ہیں ۔ میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کے نشان پر چلا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں لوگوں سے پوچھتا جاتا تھا ۔ چلتے چلتے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقام اریس پر باغ میں گئے ہیں ۔ میں دروازے کے قریب بیٹھ گیا جو کھجور کی ڈالیوں کا بنا ہوا تھا ، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حاجت سے فارغ ہوئے اور وضو کر چکے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چل دیا ۔ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اریس کنوئیں کی منڈیر پر بیٹھے ہیں اور دونوں پنڈلیاں کھول کر کنوئیں میں لٹکا دی ہیں ۔ پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور پھر لوٹ کر دروازے کے قریب بیٹھ گیا ۔ میں نے ( دل میں ) کہا کہ میں آج نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دربان ، چوکیدار رہوں گا ۔ اتنے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور دروازے کو دھکیلا ۔ میں نے پوچھا کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ ابوبکر ہوں ، میں نے کہا ذرا ٹھہرو ۔ پھر میں گیا اور کہا کہ یا رسول اللہ! ابوبکر اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کو آنے دو اور جنت کی خوشخبری دو ۔ میں آیا اور سیدنا ابوبکر سے کہا کہ اندر داخل ہو ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو جنت کی خوشخبری دی ہے ۔ پس سیدنا ابوبکر داخل ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی داہنی طرف اسی منڈیر پر دونوں پاؤں لٹکا کر پنڈلیاں کھول کر جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تھے ، بیٹھ گئے ۔ میں لوٹ آیا اور پھر بیٹھ گیا اور میں اپنے بھائی ( عامر ) کو گھر میں وضو کرتے چھوڑ آیا تھا ، میں نے کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ کو فلاں ( یعنی ) میرے بھائی کی بھلائی منظور ہے تو اس کو یہاں لے آئے گا ۔ اتنے میں ( کیا دیکھتا ہوں کہ ) کوئی دروازہ ہلانے لگا ہے ۔ میں نے پوچھا کون ہے؟ جواب آیا کہ عمر بن خطاب ۔ میں نے کہا ٹھہر جا ۔ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، سلام کیا اور کہا کہ سیدنا عمر بن خطاب اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں؟ فرمایا کہ انہیں اجازت دو اور جنت کی خوشخبری بھی دو ۔ پس میں گیا اور کہا کہ اندر داخل ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجھے جنت کی خوشخبری دی ہے ۔ پس وہ بھی داخل ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف اسی منڈیر پر بیٹھ گئے اور دونوں پاؤں کنوئیں میں لٹکا دئیے ۔ پھر میں لوٹ آیا اور ( دروازے پر ) بیٹھ گیا ۔ میں نے کہا کہ اگر اللہ کو فلاں آدمی ( عامر ) کی بھلائی منظور ہے تو اس کو بھی لے آئے گا ۔ اتنے میں ایک اور آدمی نے دروازہ ہلایا ۔ میں نے کہا کہ کون ہے؟ جواب دیا کہ عثمان بن عفان ۔ میں نے کہا کہ ٹھہر جا ۔ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں اجازت دو اور جنت کی خوشخبری دو مگر وہ ایک مصیبت میں مبتلا ہوں گے ۔ میں آیا اور ان سے کہا کہ داخل ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجھے جنت کی خوشخبری دی ہے مگر ایک بلا کے ساتھ جو تم پر آئے گی ۔ پس وہ بھی داخل ہوئے اور دیکھا کہ منڈیر کا ایک حصہ بھر گیا ہے ، پس وہ دوسرے کنارے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گئے ۔ شریک نے کہا کہ سعید بن مسیب نے کہا کہ میں نے اس حدیث سے یہ نکالا کہ ان کی قبریں بھی اسی طرح ہوں گی ۔ ( ویسا ہی ہوا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اس حجرہ میں جگہ نہ ملی ، تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بقیع میں دفن ہوئے ) ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، رَفَعَهُ مَرَّةً قَالَ " تُعْرَضُ الأَعْمَالُ فِي كُلِّ يَوْمِ خَمِيسٍ وَاثْنَيْنِ فَيَغْفِرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ لِكُلِّ امْرِئٍ لاَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا إِلاَّ امْرَأً كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ فَيُقَالُ ارْكُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا ارْكُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا " .
Abu Huraira reported it as a marfu' hadith (and the words are):The deeds are presented on every Thursday and Monday and Allah, the Exalted and Glorious. grants pardon to every person who does not associate anything with Allah except the person in whose (heart) there is rancour against his brother. It would be said: Put both of them off until they are reconciled
سفیان نے مسلم بن ابی مریم سے ، انہوں نے ابوصالح سے روایت کی ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے ایک بار اس حدیث کو مرفوعا بیان کیا ، کہا : ہر پیر اور جمعرات کو اعمال پیش کیے جاتے ہیں ، اس دن اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کی مغفرت کر دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا ، اس شخص کے سوا کہ اس کے اور اس کے بھائی کے درمیان عداوت اور کینہ ہو ، تو ( ان کے بارے میں ) کہا جاتا ہے : ان دونوں کو رینے دو یہاں تک کہ یہ آپس میں صلح کر لیں ، ان دونوں کو رہنے دو یہاں تک کہ یہ آپس میں صلح کر لیں ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَطْفَالِ الْمُشْرِكِينَ قَالَ " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ إِذْ خَلَقَهُمْ " .
Ibn Abbas reported that Allah's Messenger (ﷺ) was asked about the children of the polytheists, whereupon he said:It is Allah alone Who knows what they would be doing according to their creation
سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس لڑکے کو حضرت خضر علیہ السلام نے قتل کیا تھا وہ طبعا کافر بنایا گیا تھا ، اگر وہ زندہ رہتا تو زبردستی اپنے ماں باپ کو سرکشی اور کفر کی طرف لے جاتا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، - يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ - حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُعَلِّمُ مَنْ أَسْلَمَ يَقُولُ " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي " .
Abu Malik Ashaja'i reported on the authority of his father that whenever a person embraced Islam, Allah's Messenger (ﷺ) instructed him to recilte:" O Allah, grant me pardon, have mercy upon me, direct me to the path of righteousness and provide me sustenance
عبدالواحد بن زیاد نے کہا : ہمیں ابو مالک اشجعی نے اپنے والد ( طارق بن اشیم اشجعی رضی اللہ عنہ ) سے حدیث بیان کی ، کہا : جو شخص اسلام قبول کرتا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو ان کلمات کی تعلیم دیتے تھے : " اللهم اغفرلى وارحمنى واهدنى وارزقنى " " اللہ! مجھے بخش دے ، مجھ پر رحم فرما ، مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق عطا فرما ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ يَحْيَى، بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " لاَ شَىْءَ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
Asma' reported that Allah's Apostle (ﷺ) said:There is none more self-respecting than Allah, the Exalted and Glorious
ہشام نے یحییٰ بن ابی کثیر سے ، انہوں نے ابوسلمہ سے ، انہوں نے عروہ سے ، انہوں نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ عزوجل سے بڑھ کر کوئی غیور نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الْكَافِرَ إِذَا عَمِلَ حَسَنَةً أُطْعِمَ بِهَا طُعْمَةً مِنَ الدُّنْيَا وَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَإِنَّ اللَّهَ يَدَّخِرُ لَهُ حَسَنَاتِهِ فِي الآخِرَةِ وَيُعْقِبُهُ رِزْقًا فِي الدُّنْيَا عَلَى طَاعَتِهِ " .
Anas b. Malik reported that Allah's Messenger (ﷺ) thus told him:When a non-believer does good he is made to taste Its reward in this world. And so far as the believer is concerned, Allah stores (the reward) of his virtues for the Hereafter and provides him sustenance in accordance with his obedience to Him
معتمر کے والد ( سلیمان ) نے کہا : ہمیں قتادہ نے انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کی : " بلاشبہ ایک کافر جب کوئی نیک کام کر تا ہے ۔ تو اس کے بدلے اسے دنیاکے کھانوں ( نعمتوں ) میں سے ایک لقمہ ( نعمت کی صورت میں ) کھلادیتاہے اور مومن اللہ تعالیٰ اس کی نیکیوں کا ذخیرہ آخرت میں کرتا جاتا ہے ۔ اور اس کی اطاعت شعاری پر دنیا میں ( بھی ) اسے رزق عطا فرماتا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَحَاجَّتِ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ فَقَالَتِ النَّارُ أُوثِرْتُ بِالْمُتَكَبِّرِينَ وَالْمُتَجَبِّرِينَ . وَقَالَتِ الْجَنَّةُ فَمَا لِي لاَ يَدْخُلُنِي إِلاَّ ضُعَفَاءُ النَّاسِ وَسَقَطُهُمْ وَغِرَّتُهُمْ قَالَ اللَّهُ لِلْجَنَّةِ إِنَّمَا أَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي . وَقَالَ لِلنَّارِ إِنَّمَا أَنْتِ عَذَابِي أُعَذِّبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي . وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا مِلْؤُهَا فَأَمَّا النَّارُ فَلاَ تَمْتَلِئُ حَتَّى يَضَعَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى رِجْلَهُ تَقُولُ قَطْ قَطْ قَطْ . فَهُنَالِكَ تَمْتَلِئُ وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ وَلاَ يَظْلِمُ اللَّهُ مِنْ خَلْقِهِ أَحَدًا وَأَمَّا الْجَنَّةُ فَإِنَّ اللَّهَ يُنْشِئُ لَهَا خَلْقًا " .
Hammam b. Munabbih reported that Abu Huraira narrated to them some ahadith of Allah's Messenger (ﷺ) and one of them is this that Allah's Messenger (ﷺ) said:The Paradise and the Hell fell into dispute and the Hell said: 1 have been distinguished for accommodating (the haughty and proud in me), and the Paradise said: What is the matter that the meek and the humble and the downtrodden and simple would find an abode in me? Thereupon Allah said to Paradise: You are a (means) of My Mercy. 1 shall show mercy through you to one whom I will from amongst My servants. And lie said to the Hell: You are a (sign) of My chastisement and I shall chastise through you anyone whom I will from amongst My servants and both of you, would be full. And as regards the Hell it would not be full until Allah, the Exalted and Glorious, places His foot therein, and it would say: Enough, enough, enough, and it would be then full and the one part would draw very close to the other one and Allah would not treat unjustly anyone amongst His creation and He would create another creation for the Paradise (to accommodate it)
معمر نے ہمیں ہمام بن منبہ سے حدیث بیان کی ، کہا : یہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، انھوں نے بہت سی احادیث بیان کیں ، ان میں سے ( ایک ) یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جنت اوردوزخ نے ( اپنے اپنے بارے میں ) ایک دوسرے کو دلائل دیئے ۔ دوزخ نے کہا : مجھے تکبر اور جبر کرنے والوں ( کا ٹھکانہ ہونے ) کی بناء پر ترجیح حاصل ہے ۔ جنت نے کہا : میرا کیا حال ہے کہ میرے اندر لوگوں میں سے کمزور خاک نشین اور سیدھے سادے لوگ داخل ہوں گے؟تو اللہ عزوجل نے جنت سے فرمایا : تو سراسر میری رحمت ہے ، تیرے ذریعے سے میں اپنے بندوں میں سے جس کو چاہوں گا رحمت سے نوازوں گا اور دوزخ سے کہا : تو صرف اور صرف میرا عذاب ہے ، تیرے ذریعے میں سے میں اپنے بندوں میں سے جس کو چاہوں گا عذاب میں ڈالوں گا اور تم دونوں میں سے ہر ایک کے لئے اتنے بندے ہیں جن سے وہ بھر جائے ، جہاں تک آگ کا تعلق ہے تو وہ نہیں بھرے گی یہاں تک کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ۔ اپنا قدم ( اس پر ) رکھ دے گا تو وہ کہے گی ۔ بس ۔ بس ۔ بس اس وقت وہ بھر جائے گی ، اس کے بعض حصے بعض کے ساتھ سمٹ جائیں گے ۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہیں کرے گا اور جہاں تک جنت کا تعلق ہے تو اللہ ( اس کے لیے ) ایک مخلوق تیار کردے گا ۔
وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ حَدَّثَتْنِي خَالَتِي، مَيْمُونَةُ قَالَتْ أَدْنَيْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غُسْلَهُ مِنَ الْجَنَابَةِ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ ثُمَّ أَفْرَغَ بِهِ عَلَى فَرْجِهِ وَغَسَلَهُ بِشِمَالِهِ ثُمَّ ضَرَبَ بِشِمَالِهِ الأَرْضَ فَدَلَكَهَا دَلْكًا شَدِيدًا ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ ثُمَّ أَفْرَغَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلاَثَ حَفَنَاتٍ مِلْءَ كَفِّهِ ثُمَّ غَسَلَ سَائِرَ جَسَدِهِ ثُمَّ تَنَحَّى عَنْ مَقَامِهِ ذَلِكَ فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِالْمِنْدِيلِ فَرَدَّهُ .
Ibn 'Abbas reported it on the authority of Maimuna, his mother's sister, that she said:I placed water near the Messenger of Allah (ﷺ) to take a bath because of sexual intercourse. He washed the palms of his bands twice or thrice and then put his hand In the basin and poured water over his private parts and washed them with his left hand. He then struck his hand against the earth and rubbed it with force and then performed ablution for the prayer and then poured three handfuls of water on his head and then washed his whole body after which he moved aside from that place and washed his feet, and then I brought a towel (so that he may wipe his body). but he returned it
عیسیٰ بن یونس نے ہم سے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہم سے اعمش نے حدیث بیان کی ، انہوں نے سالم بن ابی جعد سے ، انہوں نے کریب سے ، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : مجھے میری خالہ میمونہ ؓ نے بتایا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے غسل جنابت کے لیے آپ کے قریب پانی رکھا ، آپ نے اپنی دونوں ہتھیلیوں کو دو یا تین دفعہ دھویا ، پھر اپنا ( دایاں ) ہاتھ برتن میں داخل کیا اور اس کے ذریعے سے اپنی شرم گاہ پر پانی ڈالا اور اسے اپنے بائیں ہاتھ سے دھویا ، پھر اپنے بائیں ہاتھ کو زمین پر مار کر اچھی طرح رگڑ اور اپنا نماز جیسا وضو فرمایا ، پھر ہتھیلی بھر کر تین لپ پانی اپنے سر پر ڈالا ، پھر اپنے سارے جسم کو دھویا ، پھر اپنی اس جگہ سے دور ہٹ گئے اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے ، پھر میں تولیہ آپ کے پاس لائی تو آپ نے اسے واپس کر دیا ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَنْزِلَ الرُّومُ بِالأَعْمَاقِ أَوْ بِدَابِقَ فَيَخْرُجُ إِلَيْهِمْ جَيْشٌ مِنَ الْمَدِينَةِ مِنْ خِيَارِ أَهْلِ الأَرْضِ يَوْمَئِذٍ فَإِذَا تَصَافُّوا قَالَتِ الرُّومُ خَلُّوا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الَّذِينَ سَبَوْا مِنَّا نُقَاتِلْهُمْ . فَيَقُولُ الْمُسْلِمُونَ لاَ وَاللَّهِ لاَ نُخَلِّي بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ إِخْوَانِنَا . فَيُقَاتِلُونَهُمْ فَيَنْهَزِمُ ثُلُثٌ لاَ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ أَبَدًا وَيُقْتَلُ ثُلُثُهُمْ أَفْضَلُ الشُّهَدَاءِ عِنْدَ اللَّهِ وَيَفْتَتِحُ الثُّلُثُ لاَ يُفْتَنُونَ أَبَدًا فَيَفْتَتِحُونَ قُسْطُنْطِينِيَّةَ فَبَيْنَمَا هُمْ يَقْتَسِمُونَ الْغَنَائِمَ قَدْ عَلَّقُوا سُيُوفَهُمْ بِالزَّيْتُونِ إِذْ صَاحَ فِيهِمُ الشَّيْطَانُ إِنَّ الْمَسِيحَ قَدْ خَلَفَكُمْ فِي أَهْلِيكُمْ . فَيَخْرُجُونَ وَذَلِكَ بَاطِلٌ فَإِذَا جَاءُوا الشَّأْمَ خَرَجَ فَبَيْنَمَا هُمْ يُعِدُّونَ لِلْقِتَالِ يُسَوُّونَ الصُّفُوفَ إِذْ أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَيَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ فَأَمَّهُمْ فَإِذَا رَآهُ عَدُوُّ اللَّهِ ذَابَ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ فَلَوْ تَرَكَهُ لاَنْذَابَ حَتَّى يَهْلِكَ وَلَكِنْ يَقْتُلُهُ اللَّهُ بِيَدِهِ فَيُرِيهِمْ دَمَهُ فِي حَرْبَتِهِ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The Last Hour would not come until the Romans would land at al-A'maq or in Dabiq. An army consisting of the best (soldiers) of the people of the earth at that time will come from Medina (to counteract them). When they will arrange themselves in ranks, the Romans would say: Do not stand between us and those (Muslims) who took prisoners from amongst us. Let us fight with them; and the Muslims would say: Nay, by Allah, we would never get aside from you and from our brethren that you may fight them. They will then fight and a third (part) of the army would run away, whom Allah will never forgive. A third (part of the army) which would be constituted of excellent martyrs in Allah's eye, would be killed and the third who would never be put to trial would win and they would be conquerors of Constantinople. And as they would be busy in distributing the spoils of war (amongst themselves) after hanging their swords by the olive trees, the Satan would cry: The Dajjal has taken your place among your family. They would then come out, but it would be of no avail. And when they would come to Syria, he would come out while they would be still preparing themselves for battle drawing up the ranks. Certainly, the time of prayer shall come and then Jesus (peace be upon him) son of Mary would descend and would lead them. When the enemy of Allah would see him, it would (disappear) just as the salt dissolves itself in water and if he (Jesus) were not to confront them at all, even then it would dissolve completely, but Allah would kill them by his hand and he would show them their blood on his lance (the lance of Jesus Christ)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت قائم نہیں ہو گی ، یہاں تک کہ رومی ( عیسائی ) اعماق ( شام میں حلب اور انطاکیہ کے درمیان ایک پر فضا علاقہ جو دابق شہر سے متصل واقع ہے ) یا دابق میں اتریں گے ۔ ان کے ساتھ مقابلے کے لیے ( دمشق ) شہر سے ( یامدینہ سے ) اس وقت روئے زمین کے بہترین لوگوں کا ایک لشکر روانہ ہو گا جب وہ ( دشمن کے سامنے ) صف آراءہوں گے تو رومی ( عیسائی ) کہیں گے تم ہمارے اور ان لوگوں کے درمیان سے ہٹ جاؤ جنھوں نے ہمارے لوگوں کو قیدی بنایا ہوا ہے ہم ان سے لڑیں گے تو مسلمان کہیں گے ۔ اللہ کی قسم!نہیں ہم تمھارے اور اپنے بھائیوں کے درمیان سے نہیں ہٹیں گے ۔ چنانچہ وہ ان ( عیسائیوں ) سے جنگ کریں گے ۔ ان ( مسلمانوں ) میں سے ایک تہائی شکست تسلیم کر لیں گے اللہ ان کی توبہ کبھی قبول نہیں فرمائے گا اور ایک تہائی قتل کر دیے جائیں گے ۔ وہ اللہ کے نزدیک افضل ترین شہداء ہوں گے اور ایک تہائی فتح حاصل کریں گے ۔ وہ کبھی فتنے میں مبتلا نہیں ہوں گے ۔ ( ہمیشہ ثابت قدم رہیں گے ) اور قسطنطنیہ کو ( دوبارہ ) فتح کریں گے ۔ ( پھر ) جب وہ غنیمتیں تقسیم کر رہے ہوں گے اور اپنے ہتھیار انھوں نے زیتون کے درختوں سے لٹکائے ہوئے ہوں گے تو شیطان ان کے درمیان چیخ کر اعلان کرے گا ۔ مسیح ( دجال ) تمھارےپیچھے تمھارے گھر والوں تک پہنچ چکا ہے وہ نکل پڑیں گے مگر یہ جھوٹ ہو گا ۔ جب وہ شام ( دمشق ) پہنچیں گے ۔ تووہ نمودار ہو جا ئے گا ۔ اس دوران میں جب وہ جنگ کے لیے تیاری کررہے ہوں گے ۔ صفیں سیدھی کر رہے ہوں گے تو نماز کے لیے اقامت کہی جائے گی اس وقت حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اتریں گے تو ان کا رخ کریں گے پھر جب اللہ کا دشمن ( دجال ) ان کو دیکھے گاتو اس طرح پگھلےگا جس طرح نمک پانی میں پگھلتا ہے اگر وہ ( حضرت عیسیٰ علیہ السلام ) اسے چھوڑ بھی دیں تو وہ پگھل کر ہلاک ہوجائے گا لیکن اللہ تعالیٰ اسے ان ( حضرت عیسیٰ علیہ السلام ) کے ہاتھ سے قتل کرائے گااور لوگوں کو ان کے ہتھیارپر اس کا خون دکھائےگا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءً، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ صَلاَةَ إِلاَّ بِقِرَاءَةٍ " . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَمَا أَعْلَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْلَنَّاهُ لَكُمْ وَمَا أَخْفَاهُ أَخْفَيْنَاهُ لَكُمْ .
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: One is not credited with having observed the prayer without the recitation (of al-Fatiha). So said Abu Huraira: (The prayer in which) the Messenger of Allah (ﷺ) recited in a loud voice, we also recited that loudly for you (and the prayer in which) he recited inwardly we also recited inwardly for you (to give you a practical example of the prayer of the Holy Prophet)
حبیب بن شہید سے روایت ہے ، کہا : میں نے عطاء سے سنا ، وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’قراءت کے بغیر کوئی نماز نہیں ۔ ‘ ‘ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : جو ( نماز ) رسول اللہﷺ نے ہمارے لیے اونچی قراءت سے ادا کی ہم نے بھی تمہارے لیے وہ اونچی قراءت سے ادا کی اور جس ( نماز ) میں آپ نے ( قراءت کو ) مخفی رکھا ، ہم نے بھی اسے تمہارے لیے مخفی رکھا ۔