حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ كُنَّا نَتَكَلَّمُ فِي الصَّلاَةِ يُكَلِّمُ الرَّجُلُ صَاحِبَهُ وَهُوَ إِلَى جَنْبِهِ فِي الصَّلاَةِ حَتَّى نَزَلَتْ { وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ} فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ وَنُهِينَا عَنِ الْكَلاَمِ .
Zaid b. Arqam reported:We used to talk while engaged in prayer and a person talked with a companion on his side in prayer till (this verse) was revealed:" And stand before Allah in devout obedience" (ii, 238) and we were commanded to observe silence (in prayer) and were forbidden to speak
ہشیم نے اسماعیل بن ابی خالد سے ، انھوں نے حارث بن شبیل سے ، انھوں نے ابوعمر و شیبانی سے اور انھوں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم نماز میں بات چیت کر لیا کرتے تھے ، ایک آدمی نماز میں اپنے ساتھی سے گفتگو کرلیتا تھا یہاں تک کہ یہ آیت اتری ، ( وقوم للہ قنتین ) ’’ اللہ کے حضور انتہائی خشوع و خضوع کے عالم میں کھٹرے ہو’’ تو ہمیں خاموش رہنے کاحاکم دیا گیا ہمیں گفتگوکرنے سے روک دیا گیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، كِلاَهُمَا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، - عَنْ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ حُمْرَانَ، عَنْ عُثْمَانَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
It is narrated on the authority of 'Uthman that the Messenger of Allah (ﷺ) said. He who died knowing (fully well) that there is no god but Allah entered Paradise
اسماعیل بن ابراہیم ( ابن علیہ ) نے خالد ( حذاء ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے ولید بن مسلم نے حمران سے ، انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جو شخص مر گیا اور وہ ( یقین کے ساتھ ) جانتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، وہ جنت میں داخل ہو گا ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي وَهُوَ مُقْبِلٌ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ عَلَى رَاحِلَتِهِ حَيْثُ كَانَ وَجْهُهُ - قَالَ - وَفِيهِ نَزَلَتْ { فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ}
Ibn 'Umar reported that the Messenger of Allah (ﷺ) used to say prayer on his camel while coming from Mecca to Medina, in whatever direction his face had turned; and its was (in this context) that this verse was revealed:" So whether you turn thither is Allah's face" (ii)
یحییٰ بن سعید نے عبدالملک بن ابی سلیمان سے روایت کی ، کہا : ہمیں سعید بن جبیر نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے مدینہ کی طرف آرہے ہوتے ، اپنی سواری پر نماز پڑھتے تھے ، جس طرف بھی آپ کا رخ ہوجاتا ۔ کہا : اسی کے بارے میں یہ آیت اتری : " سو جس طرف تم رخ کرو ، وہیں اللہ کا چہرہ ہے ۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْجُمُعَةَ فَنَرْجِعُ وَمَا نَجِدُ لِلْحِيطَانِ فَيْئًا نَسْتَظِلُّ بِهِ .
Iyas b. Salama b. Akwa' reported on the authority of his father, saying:We used to observe the Friday prayer with the Messenger of Allah (ﷺ), and when we returned we did not find the shadow of the walls in which we could take protection (from the heat of the sun)
ہشام بن عبدالملک نے یعلیٰ بن حارث سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ روایت کی ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ پڑھتے پھر لوٹتے تو ہمیں دیواروں کا اتنا بھی سایہ نہ ملتا کہ ہم ( سورج سے ) اس کی اوٹ لے سکیں ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، - قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ، - حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ، عَطِيَّةَ قَالَتْ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ { يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لاَ يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا} { وَلاَ يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ} قَالَتْ كَانَ مِنْهُ النِّيَاحَةُ . قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلاَّ آلَ فُلاَنٍ فَإِنَّهُمْ كَانُوا أَسْعَدُونِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلاَ بُدَّ لِي مِنْ أَنْ أُسْعِدَهُمْ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِلاَّ آلَ فُلاَنٍ " .
Hafsa narrated on the authority of Umm 'Atiyya that she said:When this verse was revealed:" When believing women came to thee giving thee a pledge that they will not associate aught with Allah, and will not disobey thee in good" (lx. 12), she (Umm Atiyya) said: In (this pledge) was also included wailing. I said: Messenger of Allah, except members of such a tribe who helped me (in lamentation) during pre-Islamic days, there is left no alternative for me, but that I should also help them. Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) said: (Yes) but only in case of the members of such a tribe
عاصم نے حفصہ سے اور انھوں نے حضرت اُم عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : جب یہ آیت نازل ہو ئی : " عورتیں آپ سے بیعت کریں کہ وہ اللہ تعا لیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی ۔ ۔ ۔ اور کسی نیک کا م میں آپ کی مخالفت نہیں کریں گی ۔ " کہا : اس ( عہد ) میں سے ایک نو حہ گری ( کی شق ) بھی تھی تو میں نے کہا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !فلا ں خاندان کے سوا کیونکہ انھوں نے جا ہلیت کے دور میں ( نوھہ کرنے پر ) میرے ساتھ تعاون کیا تھا تو اب میرے لیے بھی لا زمی ہے کہ میں ( ایک بار ) ان کے ساتھ تعاون کروں ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " فلاں کے خاندان کے سوا ۔
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي، الْعَلاَءِ عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَبَيْنَا أَنَا فِي، حَلْقَةٍ فِيهَا مَلأٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ أَخْشَنُ الثِّيَابِ أَخْشَنُ الْجَسَدِ أَخْشَنُ الْوَجْهِ فَقَامَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ بَشِّرِ الْكَانِزِينَ بِرَضْفٍ يُحْمَى عَلَيْهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَيُوضَعُ عَلَى حَلَمَةِ ثَدْىِ أَحَدِهِمْ حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ نُغْضِ كَتِفَيْهِ وَيُوضَعُ عَلَى نُغْضِ كَتِفَيْهِ حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ حَلَمَةِ ثَدْيَيْهِ يَتَزَلْزَلُ قَالَ فَوَضَعَ الْقَوْمُ رُءُوسَهُمْ فَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنْهُمْ رَجَعَ إِلَيْهِ شَيْئًا - قَالَ - فَأَدْبَرَ وَاتَّبَعْتُهُ حَتَّى جَلَسَ إِلَى سَارِيَةٍ فَقُلْتُ مَا رَأَيْتُ هَؤُلاَءِ إِلاَّ كَرِهُوا مَا قُلْتَ لَهُمْ . قَالَ إِنَّ هَؤُلاَءِ لاَ يَعْقِلُونَ شَيْئًا إِنَّ خَلِيلِي أَبَا الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم دَعَانِي فَأَجَبْتُهُ فَقَالَ " أَتَرَى أُحُدًا " . فَنَظَرْتُ مَا عَلَىَّ مِنَ الشَّمْسِ وَأَنَا أَظُنُّ أَنَّهُ يَبْعَثُنِي فِي حَاجَةٍ لَهُ فَقُلْتُ أَرَاهُ . فَقَالَ " مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي مِثْلَهُ ذَهَبًا أُنْفِقُهُ كُلَّهُ إِلاَّ ثَلاَثَةَ دَنَانِيرَ " . ثُمَّ هَؤُلاَءِ يَجْمَعُونَ الدُّنْيَا لاَ يَعْقِلُونَ شَيْئًا . قَالَ قُلْتُ مَا لَكَ وَلإِخْوَتِكَ مِنْ قُرَيْشٍ لاَ تَعْتَرِيهِمْ وَتُصِيبُ مِنْهُمْ . قَالَ لاَ وَرَبِّكَ لاَ أَسْأَلُهُمْ عَنْ دُنْيَا وَلاَ أَسْتَفْتِيهِمْ عَنْ دِينٍ حَتَّى أَلْحَقَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ .
Ahnaf b. Qais reported:I came to Medina and when I was in the company of the grandees of Quraish a man with a crude body and an uncouth face wearing coarse clothes came there. He stood up before them and said: Give glad tidings to those whom who amass riches of the stones which would be heated in the Fire of Hell, and would be placed at the tick of the chest till it would project from the shoulder bone and would he put on the shoulder bone till it would project from the tick of his chest, and it (this stone) would continue passing and repassing (from one side to the other). He (the narrator) said: Then people hung their heads and I saw none among them giving any answer. He then returned and I followed him till he sat near a pillar. I said: I find that these (people) disliked what you said to them and they do not understand anything. My friend Abu'l-Qasim (Muhammad) (may peace he upon him) called me and I responded to him, and he said: Do you see Uhud? I saw the sun (shining) on me and I thought that he would send me on an errand for him. So I said: I see it. Upon this he said: Nothing would delight me more than this that I should have gold like it (equal to the bulk of Uhud), and I should spend it all except three dinars. (How sad it is) that they hoard worldly riches, and they know nothing. I said: What about you and your brothers Quraish? You do not go to thein for any need and do not accept anything from them. He said: By Allah, I neither beg anything from them (from worldly goods), nor do I ask them anything about religion till I meet my Allah and His Messenger
ابو علاء نے حضرت احنف بن قیس ؒسے روایت کی انھوں نے کہا : میں مدینہ آیا تو میں قریشی سر داروں کے ایک حلقے میں بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک کھردرے کپڑوں گٹھے ہو ئے جسم اور سخت چہرے والا ایک آدمی آیا اور ان کے سر پر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا ۔ مال و دولت جمع کرنے والوں کو اس تپتے ہو ئے پتھر کی بشارت سنا دو جس کو جہنم کی آگ میں گرم کیا جا ئے گا اور اسے ان کے ایک فرد کی نو ک پستان پر رکھا جائے گا حتیٰ کہ وہ اس کے دونوں کندھوں کی باریک ہڈیوں سے لہراتا ہوا نکل جا ئے گا اور اسے اس کے شانوں کی باریک ہڈیوں پر رکھا جا ئے گا حتیٰ کہ وہ اس کے پستانوں کے سروں سے حرکت کرتا ہوا نکل جا ئے گا ۔ ( احنف نے ) کہا : اس پر لو گوں نے اپنے سر جھکا لیے اور میں نے ان میں سے کسی کو نہ دیکھا کہ اسے کو ئی جواب دیا ہو کہا پھر وہ لو ٹا اور میں نے اس کا پیچھا کیا حتیٰ کہ وہ ایک ستون کے ساتھ ( ٹیک لگا کر ) بیٹھ گیا میں نے کہا : آپ نے انھیں جو کچھ کہا ہے میں نے انھیں اس کو نا پسند کرتے ہو ئے ہی دیکھا ہے انھوں نے کہا : یہ لو گ کچھ سمجھتے نہیں میرے خلیل ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا یا میں نے لبیک کہا تو آپ نے فر ما یا : " کیا تم احد ( پہاڑ ) کو دیکھتے ہو؟ میں نے دیکھا کہ مجھ پر کتنا سورج باقی ہے میں سمجھ رہا تھا کہ آپ مجھے اپنی کسی ضرورت کے لیے بھیجنا چا ہتے ہیں چنا نچہ میں نے عرض کی میں اسے دیکھ رہا ہوں تو آپ نے فر مایا : " میرے لیے یہ بات باعث مسرت نہ ہو گی کہ میرے پا س اس کے برا برا سونا ہو اور میں تین دیناروں کے سوا اس سارے ( سونے ) کو خرچ ( بھی ) کر ڈالوں ۔ پھر یہ لو گ ہیں دنیا جمع کرتے ہیں کچھ عقل نہیں کرتے ۔ میں نے ان سے پو چھا آپ کا اپنے ( حکمران ) قریشی بھائیوں کے ساتھ کیا معاملہ ہے آپ اپنی ضرورت کے لیے نہ ان کے پاس جا تے ہیں اور نہ ان سے کچھ لیتے ہیں ؟ انھوں نے جواب دیا نہیں تمھا رے پرودیگار کا قسم! نہ میں ان سے دنیا کی کو ئی چیز مانگوں گا نہ ہی ان سے کسی دینی مسئلے کے بارے میں پو چھوں گا یہاں تک کہ میں اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملوں ۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ بِلاَلاً يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى تَسْمَعُوا أَذَانَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ " .
Abdullah b. 'Umar (Allah be pleased with both of them) reported:I heard the Messenger of Allah (ﷺ) as saying: Bilal announces Adhan during the night, so you eat and drink, till you hear the Adhan of Ibn Umm Maktum
یونس ، ابن شہاب ، سالم بن عبداللہ ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ رات کے وقت ہی اذان دے دیتے ہیں ۔ لہذا تم کھاتے اور پیتے رہو یہاں تک کہ تم حضرت ابن مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اذان سنو ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، - عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يُهِلُّ .
A'isha (Allah be pleased with her) reported:I still seem to see the glistening of the perfume where the hair parted on Allah's Messenger's (ﷺ) head and he was free from Ihram
اعمش نے ابرا ہیم سے انھوں نے اسود سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے ایسے لگتا ہے کہ میں ( اب بھی ) آپ کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلند آواز سے لبیک پکا ر رہے ہیں ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، أَنَّهُ كَتَبَ إِلَيْهِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَلاَ عَلَى خَالَتِهَا " .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:One should not combine in marriage a woman with her father's sister, or her mother's sister
ہشام نے ہمیں یحییٰ سے حدیث بیان کی کہ انہوں ( یحییٰ ) نے ان ( ہشام ) کی طرف ابوسلمہ سے ( اپنی ) روایت کردہ حدیث لکھ کر بھیجی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کسی عورت سے اس کی پھوپھی اور اس کی خالہ کی موجودگی میں نکاح نہ کیا جائے
وَحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ أَصَابُوا سَبْيًا يَوْمَ أَوْطَاسٍ لَهُنَّ أَزْوَاجٌ فَتَخَوَّفُوا فَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ { وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلاَّ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ} .
This hadith has been reported on the authority of AbuSa'id (al-Khudri) (Allah be pleased with him) through another chain of transmitters and the words are:They took captives (women) on the day of Autas who had their husbands. They were afraid (to have sexual intercourse with them) when this verse was revealed:" And women already married except those whom you right hands posses" (iv)
شعبہ نے ہمیں قتادہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوخلیل سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : اوطاس کے دن صحابہ کو لونڈیاں ملیں جن کے خاوند بھی تھے ، اس پر وہ ( ان سے تعلقات ، قائم کرتے ہوئے ) ڈرے ( کہ یہ گناہ نہ ہو ) اس پر یہ آیت نازل کی گئی : " اور شادی شدہ عورتیں ( بھی حرام ہیں ) سوائے ان ( لونڈیوں ) کے جن کے تمہارے دائیں ہاتھ مالک ہو جائیں
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لأَبِي بَكْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ حُنَيْنٍ، - وَهُوَ مَوْلَى الْعَبَّاسِ - قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ كُنْتُ أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَ، عُمَرَ عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ اللَّتَيْنِ تَظَاهَرَتَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَبِثْتُ سَنَةً مَا أَجِدُ لَهُ مَوْضِعًا حَتَّى صَحِبْتُهُ إِلَى مَكَّةَ فَلَمَّا كَانَ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ ذَهَبَ يَقْضِي حَاجَتَهُ فَقَالَ أَدْرِكْنِي بِإِدَاوَةٍ مِنْ مَاءٍ فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَلَمَّا قَضَى حَاجَتَهُ وَرَجَعَ ذَهَبْتُ أَصُبُّ عَلَيْهِ وَذَكَرْتُ فَقُلْتُ لَهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَنِ الْمَرْأَتَانِ فَمَا قَضَيْتُ كَلاَمِي حَتَّى قَالَ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ .
Ibn Abbas (Allah be pleased with them) is reported to have said:I intended to ask Umar about those two ladies who had pressed for (worldly riches) during the lifetime of the Prophet (ﷺ), and I kept waiting for one year, but found no suitable opportunity with him until I happened to accompany him to Mecca. And as he reached Marr al Zahran he went away to answer the call of nature, and he said (to me): Bring me a jug of water, and I took that to him. After having answered the call of nature, as he came back, I began to pour water (over his hands and feet), and I remembered (this event of separation of Allah's Apostle [may peace be upon him] from his wives). So I said to him: Commander of the Faithful, who are the two ladies (who had pressed the Prophet [may peace be upon him] for providing comforts of life) and I had not yet finished my talk when he said: They were 'A'isha and Hafsa
سفیان بن عیینہ نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبید بن حنین سے سنا ، وہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے ۔ انہوں نے کہا : میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ان دو عورتوں کے بارے میں پوچھنا چاہتا تھا جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایکا کیا تھا ، میں سال بھر منتظر رہا ، مجھے کوئی مناسب موقع نہ مل رہا تھا ، حتی کہ میں مکہ کے سفر میں ان کے ساتھ گیا ، جب ہم مر الظہران پہنچے تو وہ قضائے حاجت کے لیے گئے اور کہا : میرے پاس پانی کا ایک لوٹا لے آنا ، میں نے انہیں لا دیا ۔ جب وہ اپنی حاجت سے فارغ ہو کر لوٹے ، میں جا کر ان ( کے ہاتھوں ) پر پانی ڈالنے لگا ، تو مجھے ( سوال ) یاد آ گیا ، میں نے ان سے پوچھا : اے امیر المومنین! وہ کون سی دو عورتیں تھیں؟ میں نے ابھی اپنی بات ختم نہ کی تھی کہ انہوں نے جواب دیا : وہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنھن تھیں
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنِ اشْتَرَى طَعَامًا فَلاَ يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ وَيَقْبِضَهُ " .
Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who bought foodgrain should not sell it until he had taken full possession of it (after measuring it)
نیز انہوں ( حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ ) نے کہا : ہم اہل قافلہ سے بغیر ماپ ( اور وزن ) کے غلہ خریدا کرتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع فرمایا کہ ہم اسے ، اس کی جگہ سے منتقل کرنے سے پلے ، آگے فروخت کریں
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ .
Jabir b. 'Abdullah (, Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger (ﷺ) forbade the sale of excess water
وکیع اور یحییٰ بن سعید نے ابن جریج سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوزبیر سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچ جانے والے پانی کو فروخت کرنے سے منع فرمایا ۔
وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ ذُكِرَ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ عُمْرَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْجِعْرَانَةِ فَقَالَ لَمْ يَعْتَمِرْ مِنْهَا - قَالَ - وَكَانَ عُمَرُ نَذَرَ اعْتِكَافَ لَيْلَةٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ . ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ وَمَعْمَرٍ عَنْ أَيُّوبَ .
Nafi' reported:A mention of Allah's Messenger (ﷺ) observing 'Umra from ja'rina was made before Ibn 'Umar. He said: He did not enter into the state of Ihram from that (place), and Umar had taken a vow of observing I'tikaf for a night during the days of Ignorance. The rest of the hadith is the same
حماد بن زید نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ایوب نے نافع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جعرانہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمرے کا تذکرہ کیا گیا تو انہوں نے کہا : آپ نے وہاں سے عمرہ نہیں کیا ۔ کہا : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جاہلیت میں ایک رات کے اعتکاف کی نذر مانی تھی ۔ ۔ پھر انہوں نے ایوب سے جریر بن حازم اور معمر کی روایت کردہ حدیث کے ہم معنیٰ بیان کیا
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَمَّا كَانَ ذَلِكَ الْيَوْمُ قَعَدَ عَلَى بَعِيرِهِ وَأَخَذَ إِنْسَانٌ بِخِطَامِهِ فَقَالَ " أَتَدْرُونَ أَىَّ يَوْمٍ هَذَا " . قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ . فَقَالَ " أَلَيْسَ بِيَوْمِ النَّحْرِ " . قُلْنَا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " فَأَىُّ شَهْرٍ هَذَا " . قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ " أَلَيْسَ بِذِي الْحِجَّةِ " . قُلْنَا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " فَأَىُّ بَلَدٍ هَذَا " . قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ - قَالَ - حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ . قَالَ " أَلَيْسَ بِالْبَلْدَةِ " . قُلْنَا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ " . قَالَ ثُمَّ انْكَفَأَ إِلَى كَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ فَذَبَحَهُمَا وَإِلَى جُزَيْعَةٍ مِنَ الْغَنَمِ فَقَسَمَهَا بَيْنَنَا .
Abu Bakra reported that when it was that day (the 10th of Dhu'l-Hijja) he mounted his camel and a person caught its nosestring, whereupon he said:Do you know which day is this? They said: Allah and His Messenger know best. (The Prophet [may peace be upon him] kept silent) until we thought that he would give that another name. He said: Is it not the day of Nahr (Sacrifice) (10th of Dhu'l- Hijja)? We said: Allah's Messenger, yes. He (again) said: Which month is it? We said: Allah and His Messenger knows best. He said: Is it not Dhu'l-Hijja? We said: Allah's Messenger, yes. He said: Which city is this? We said: Allah and His Messenger know best. He (the narrator) said (that the Prophet kept silent until we thought that he would give it another name besides its (original) name. He said: Is it not Balda (the city of Mecca)? We said: Yes, Allah's Messenger. He (then) said: Verily your blood (lives) and your property and your honour are as sacred unto you as sacred is this day of yours, in this month of yours, in this city of yours. Let him who is present convey it to one who is absent. He then turned his attention towards two multicoloured (black and white) rams and slaughtered them, and two goats, and distributed them amongst us
یزید بن زریع نے کہا : ہمیں عبداللہ بن عون نے محمد بن سیرین سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبدالرحمان بن ابی بکرہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جب وہ دن تھا ، ( جس کا آگے ذکر ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر بیٹھے اور ایک انسان نے اس کی لگام پکڑ لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سا دن ہے؟ "" لوگوں نے کہا : اللہ اور اس کا رسول زیادہ جاننے والے ہیں ۔ حتی کہ ہم نے خیال کیا کہ آپ اس کے نام کے سوا اسے کوئی اور نام دیں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کیا یہ قربانی کا دن نہیں؟ "" ہم نے کہا : کیوں نہیں ، اللہ کے رسول! فرمایا : یہ کون سا مہینہ ہے؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ جاننے والے ہیں ، فرمایا : "" کیا یہ ذوالحجہ نہیں؟ "" ہم نے کہا : کیوں نہیں ، اللہ کے رسول! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : "" یہ کون سا شہر ہے؟ "" ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ جاننے والے ہیں ۔ کہا : ہم نے خیال کیا کہ آپ اس کے ( معروف ) نام کے سوا اسے کوئی اور نام دیں گے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کیا یہ البلدہ ( حرمت والا شہر ) نہیں؟ "" ہم نے کہا : کیوں نہیں ، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" بلاشبہ تمہارے خوب ، تمہارے مال اور تمہاری ناموس ( عزتیں ) تمہارے لیے اسی طرح حرمت والے ہیں جس طرح اس شہر میں ، اس مہینے میں تمہارا یہ دن حرمت والا ہے ، یہاں موجود شخص غیر موجود کو یہ پیغام پہنچا دے ۔ "" کہا : پھر آپ دو چتکبرے ( سفید و سیاہ ) مینڈھوں کی طرف مڑے ، انہیں ذبح کیا اور بکریوں کے گلے کی طرف ( آئے ) اور انہیں ہمارے درمیان تقسیم فرمایا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِيَهُودِيٍّ مُحَمَّمًا مَجْلُودًا فَدَعَاهُمْ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " هَكَذَا تَجِدُونَ حَدَّ الزَّانِي فِي كِتَابِكُمْ " . قَالُوا نَعَمْ . فَدَعَا رَجُلاً مِنْ عُلَمَائِهِمْ فَقَالَ " أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى أَهَكَذَا تَجِدُونَ حَدَّ الزَّانِي فِي كِتَابِكُمْ " . قَالَ لاَ وَلَوْلاَ أَنَّكَ نَشَدْتَنِي بِهَذَا لَمْ أُخْبِرْكَ نَجِدُهُ الرَّجْمَ وَلَكِنَّهُ كَثُرَ فِي أَشْرَافِنَا فَكُنَّا إِذَا أَخَذْنَا الشَّرِيفَ تَرَكْنَاهُ وَإِذَا أَخَذْنَا الضَّعِيفَ أَقَمْنَا عَلَيْهِ الْحَدَّ قُلْنَا تَعَالَوْا فَلْنَجْتَمِعْ عَلَى شَىْءٍ نُقِيمُهُ عَلَى الشَّرِيفِ وَالْوَضِيعِ فَجَعَلْنَا التَّحْمِيمَ وَالْجَلْدَ مَكَانَ الرَّجْمِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ إِنِّي أَوَّلُ مَنْ أَحْيَا أَمْرَكَ إِذْ أَمَاتُوهُ " . فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ لاَ يَحْزُنْكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ} إِلَى قَوْلِهِ { إِنْ أُوتِيتُمْ هَذَا فَخُذُوهُ} يَقُولُ ائْتُوا مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم فَإِنْ أَمَرَكُمْ بِالتَّحْمِيمِ وَالْجَلْدِ فَخُذُوهُ وَإِنْ أَفْتَاكُمْ بِالرَّجْمِ فَاحْذَرُوا . فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى { وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ} { وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ} { وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ} فِي الْكُفَّارِ كُلُّهَا .
Al-Bara' b. 'Azib reported:There happened to pass by Allah's Apostle (ﷺ) a Jew blackened and lashed. Allah's Apostle (ﷺ) called them (the Jews) and said: Is this the punishment that you find in your Book (Torah) as a prescribed punishment for adultery? They said: Yes. He (the Holy Prophet) called one of the scholars amongst them and said: I ask you in the name of Allah Who sent down the Torah on Moses if that is the prescribed punishment for adultery that you find in your Book. He said: No. Had you not asked me in the name of Allah, I would not have given you this information. We find stoning to death (as punishment prescribed in the Torah). But this (crime) became quite common amongst our aristocratic class. So when we caught hold of any rich person (indulging in this offence) we spared him, but when we caught hold of a helpless person we imposed the prescribed punishment upon him. We then said: Let us argree (on a punishment) which we can inflict both upon the rich and the poor. So We decided to blacken the face with coal and flog as a substitute punishment for stoning. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: O Allah, I am the first to revive Thy command when they had made it dead. He then commanded and he (the offender) was stoned to death. Allah, the Majestic and Glorious, sent down (this verse):" O Messenger, (the behaviour of) those who vie with one another in denying the truth should not grieve you..." up to" is vouchsafed unto you, accept it" (v. 41) 2176 It was said (by the Jews): Go to Muhammad; it he commands you to blacken the face and award flogging (as punishment for adultery), then accept it, but it he gives verdict for stoning, then avoid it. It was (then) that Allah, the Majestic and Great, sent down (these verses):" And they who do not judge in accordance with what Allah has revealed are, indeed, deniers of the truth" (v. 44) ;" And they who do not judge in accordance with what Allah has revealed-they, they indeed are the wrongdoers" (v. 45) ;" And they who do not judge in accordance with what God has revealed-they are the iniquitous (v. 47). (All these verses) were revealed in connection with the non-believers
ابومعاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے عبداللہ بن مرہ سے اور انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ایک یہودی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے گزارا گیا جس کا منہ کالا کیا ہوا تھا اسے کوڑے لگائے گئے تھے ، آپ نے انہیں ( ان کے عالموں کو ) بلایا اور پوچھا : " کیا تم اپنی کتاب میں زانی کی حد اسی طرح پاتے ہو؟ " انہوں نے کہا : جی ہاں ۔ ( بعد ازاں آپ کے حکم سے تورات منگوائی گئی ۔ انہوں نے آیت رجم چھپا لی ، وہ ظاہر ہو گئی ۔ اس کے بعد ) آپ نے ان کے علماء میں سے ایک آدمی کو بلایا اور فرمایا : " میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل کی! کیا تم لوگ اپنی کتاب میں زانی کی حد اسی طرح پاتے ہو؟ " اس نے جواب دیا : نہیں ، اور اگر آپ مجھے یہ قسم نہ دیتے تو میں آپ کو نہ بتاتا ۔ ( ہم کتاب مین ) رجم ( کی سزا لکھی ہوئی ) پاتے ہیں ۔ لیکن ہمارے اشراف میں زنا بہت بڑھ گیا ۔ ( اس وجہ سے ) ہم جب کسی معزز کو پکڑتے تھے تو اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب کسی کمزور کو پکڑتے تو اس پر حد نافذ کر دیتے تھے ۔ ہم نے ( آپس میں ) کہا : آؤ! کسی ایسی چیز ( سزا ) پر جمع ہو جائیں جسے ہم معزز اور معمولی آدمی ( دونوں ) پر لاگو کر سکیں ، تو ہم نے رجم کے بجائے منہ کالا کرنے اور کوڑے لگانے ( کی سزا ) بنا لی ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اے اللہ! میں وہ پہلا شخص ہوں جس نے تیرے حکم کو زندہ کیا جبکہ انہوں نے اسے مردہ کر دیا تھا ۔ " پھر آپ نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے رجم کر دیا گیا ۔ اس پر اللہ عزوجل نے ( یہ آیت ) نازل فرمائی : " اے رسول! آپ ان لوگوں کے پیچھے نہ کڑھیے جو تیزی سے کفر میں داخل ہوتے ہیں ۔ ۔ " اس فرمان تک : " اگر تمہیں یہی حکم دیا جائے تو قبول کر لینا ۔ " ( النائدہ : 41 : 5 ) ( ان کو مشورہ دینے والا ) کہتا تھا : محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ ، اگر وہ تمہیں ( یہی ) منہ کالا کرنے اور کوڑے لگانے کا حکم دیں تو قبول کر لینا اور اگر رجم کا فتویٰ دیں تو احتراز کرنا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ( یہ آیت ) نازل فرمائی : " اور جو لوگ اس ( حکم ) کے مطابق فیصلہ نہ کریں جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہی لوگ کافر ہیں ۔ " ( المائدہ : 44 : 5 ) " اور جو اس کے مطابق فیصلہ نہ کریں جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہی لوگ ظالم ہیں ۔ " ( المائدۃ؛ 45 : 5 ) " اور جو اس کے مطابق فیصلہ نہ کریں جو اللہ نے اتارا ہے تو وہی لوگ فاسق ہیں ۔ " ( المائدہ : 47 : 5 ) یہ ساری آیات کفار کے بارے میں ہیں
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو الرَّبِيعِ، وَأَبُو كَامِلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ كَتَبْتُ إِلَى نَافِعٍ أَسْأَلُهُ عَنِ النَّفَلِ، فَكَتَبَ إِلَىَّ أَنَّ4661 - وَحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُوسَى، ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ .
Ibn Aun said:I wrote to Nafi' asking him about Nafl (spoils of war) and be wrote to me that Ibn 'Umar was among that expedition. (The rest of the hadith is the same)
ایوب نے ہمیں حدیث بیان کی ، اور ( ایک دوسری سند سے ) ابن عون نے کہا : میں نے غنیمت کے بارے میں پوچھنے کے لیے نافع کی طرف خط لکھا ، انہوں نے مجھے جواب بھی لکھا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ دستے میں تھے ۔ ۔ ۔ ، نیز موسیٰ اور اسامہ بن زید نے بھی حدیث بیان کی ، ان سب ( ایوب ، ابن عون ، موسیٰ اور اسامہ ) نے نافع سے اسی سند کے ساتھ انہی کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ، بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ .
This hadith has been narrated on the authority of Isma'il with the same chain of transmitters
عبداللہ بن نمیر ، محمد بن بشر اور ابواسامہ سبنے کہا : ہمیں اسماعیل نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مطابق حدیث بیان کی
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، يَقُولُ نُهِينَا عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ، .
Bara was heard saying:We were forbidden (to eat) the flesh of the domestic asses
ثابت بن عبید نے کہا : میں نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کویہ کہتے ہوئے سنا کہ ہمیں پالتو گدھوں کے گوشت ( کھانے ) سے منع کردیا گیا ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا لاَ نُمْسِكُ لُحُومَ الأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلاَثٍ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَتَزَوَّدَ مِنْهَا وَنَأْكُلَ مِنْهَا . يَعْنِي فَوْقَ ثَلاَثٍ .
Jabir b. 'Abdullah reported:We did not eat the flesh of sacrificed animals beyond three (days), but then Allah's Messenger (ﷺ) commanded us to make it a provision for journey and cat it (beyond three days)
زید بن ابی انیسہ نے عطاء بن ابی رباح سے ، انھوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم تین دن سے زیادہ قربانیوں کا گوشت نہیں رکھتے تھے ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اس میں سے زادراہ بنائیں اور اس سے کھائیں ، یعنی تین سے زیادہ ( دنوں تک)
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي، هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى عَنِ الْمُزَفَّتِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ . قَالَ قِيلَ لأَبِي هُرَيْرَةَ مَا الْحَنْتَمُ قَالَ الْجِرَارُ الْخُضْرُ .
Abu Huraira reported that Allah's Apostle (ﷺ) forbade (the preparation of Nabidh) in varnished jar, pitcher besmeared with green pitch and hollow stump. It was said to Abu Huraira:What that Hantama was? He said: It is green pitcher (besmeared with pitch)
سہیل کے والد ( ابوصالح ) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روغن زفت ملے ہوئے برتنوں ، سبز گھڑوں اور کھوکھلی ( کی ہوئی ) لکڑی کے برتنوں سے منع فرمایا ۔ ( ابو صالح نے ) کہا : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہاگیا کہ حنتم کیا ہے؟انھوں نے بتایا : سبز ( رنگ کے کپڑے ) گھڑے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ، - يَعْنِي أَبَا عَاصِمٍ - حَدَّثَنَا عَبْدُ، الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ .
This hadith has been narrated on the authority of azid b. Abu Habib with the same chain of transmitters
عبدالحمید نے جعفر نے کہا : مجھے یزید بن ابی حبیب نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ، أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ كُنَّا فِي مَجْلِسٍ عِنْدَ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ فَأَتَى أَبُو مُوسَى الأَشْعَرِيُّ مُغْضَبًا حَتَّى وَقَفَ فَقَالَ أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ هَلْ سَمِعَ أَحَدٌ مِنْكُمْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الاِسْتِئْذَانُ ثَلاَثٌ فَإِنْ أُذِنَ لَكَ وَإِلاَّ فَارْجِعْ " . قَالَ أُبَىٌّ وَمَا ذَاكَ قَالَ اسْتَأْذَنْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَمْسِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي فَرَجَعْتُ ثُمَّ جِئْتُهُ الْيَوْمَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَأَخْبَرْتُهُ أَنِّي جِئْتُ أَمْسِ فَسَلَّمْتُ ثَلاَثًا ثُمَّ انْصَرَفْتُ قَالَ قَدْ سَمِعْنَاكَ وَنَحْنُ حِينَئِذٍ عَلَى شُغْلٍ فَلَوْ مَا اسْتَأْذَنْتَ حَتَّى يُؤْذَنَ لَكَ قَالَ اسْتَأْذَنْتُ كَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَوَاللَّهِ لأُوجِعَنَّ ظَهْرَكَ وَبَطْنَكَ . أَوْ لَتَأْتِيَنَّ بِمَنْ يَشْهَدُ لَكَ عَلَى هَذَا . فَقَالَ أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ فَوَاللَّهِ لاَ يَقُومُ مَعَكَ إِلاَّ أَحْدَثُنَا سِنًّا قُمْ يَا أَبَا سَعِيدٍ . فَقُمْتُ حَتَّى أَتَيْتُ عُمَرَ فَقُلْتُ قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ هَذَا .
Abd Sa'id Khudri reported:We were in the company of Ubayy b. Ka'b that Abu Musa Ash'ari came there in a state of anger. He stood (before us) and said: I ask you to bear witness in the name of Allah whether anyone amongst you heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: Permission (for entering the house) should be sought three times and if permission is granted to you (then get in). otherwise go back. Ubayy b. Ka'b said: What is the iiiatter? He said: I sought permission yesterday from 'Umar b. Khattab three times but he did not permit me, so I came back; then I went to him today and visited him and informed him that I had come to him yesterday and greeted him thrice, then came back, whereupon he said: Yes, we did hear you but be were at that time busy, but why did you not seek permission (further and you must have never gone back until you were permitted to do so). He said: I sought permission (in the manner) that I heard Allah's Messenger (ﷺ) having said (in connection 'With the seeking of permission for entering the house of a stranger). Thereupon he (Hadrat Umar) said: By Allah, I shall torture your back and your stomach unless you bring one who may bear witness to what you state. 'Ubayy b. Ka'b said: By Allah, none should stand with you (to bear testimony) but the youngest amongst us. And he therefore, said to Abu Sa'id: Stand up. So I stood up until I came to Umar and said: I heard Allah's Messenger (ﷺ) say this
بکیر بن اشج سے روایت ہے کہ بسر بن سعید نے انھیں حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : ایک مجلس میں ہم حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پا س بیٹھےہوئے تھے ۔ اتنے میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ غصے کی حالت میں آئے اور کھڑے ہوگئے پھر کہنے لگے : میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ تم میں سے کسی شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : "" اجازت تین بار مانگی جاتی ہے ، اگر تمھیں اجازت مل جائے ( تو اندر آجاؤ ) ، نہیں تو لوٹ جاؤ؟حضرت ابی نے کہا معاملہ کیا ہے؟انھوں نے کہا : میں نے کل حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تین بار اجازت مانگی ، مجھے اجازت نہیں دی گئی تو میں لوٹ گیا پھر میں آج ان کے پاس آیاتو ان کے پا س حاضر ہوگیا ۔ میں نے انھیں بتایا کہ میں کل آیا تھا ، تین بار سلام کیا تھا ، پھر چلا گیا تھا ۔ کہنے لگے ہم نے سن لیاتھا ، اس وقت ہم کسی کام میں لگے ہوئے تھے تم کیوں نہ اجازت مانگتے رہے یہاں تک کہ تمھیں اجازت مل جاتی ۔ میں نے کہا : میں نے اسی طرح اجازت مانگی جس طرح میں نے ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا ۔ کہنے لگے : اللہ کی قسم!میں تمھاری پشت اور پیٹھ پر کوڑے ماروں گا پھر تم کوئی ایسا شخص لے آؤ جو تمہارے لئے اس پر گواہی دے ۔ حضرت ابی ابن کعب کہنے لگے : اللہ کی قسم!تمھارے ساتھ ہم میں سے صرف وہ کھڑاہوگا جو عمر میں سب سے چھوٹاہے ( بڑے تو بڑے ہیں یہ حدیث ہم میں سے کم عمر لوگوں نے بھی سنی ہے اور یادرکھی ہے ۔ ) ابو سعید !اٹھو ، ( انھوں نے کہا ) تو میں اٹھا ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ا س طرح فرماتے ہوئے سنا تھا ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، وَقَالَ، قُتَيْبَةُ أَيْضًا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - كِلاَهُمَا عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ " . وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ " مَنْ قَامَ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When anyone amongst you stands up, and in the badltb transmitted on the authority of Abu 'Awina, the words are:" He who stands in his place and (goes away) and then comes back to it, he his the greatest right (to occupy that)
ابو عوانہ اور عبد العزیز بن محمد دونوں نے سہیل سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جب تم میں سے کو ئی شخص کھڑا ہو " اور ابوعوانہ کی حدیث میں ہے " جب تم میں سے کو ئی شخص اپنی جگہ سے کھڑا ہو ۔ پھر اس جگہ لوٹ آئے تو وہی اس ( جگہ ) کا زیادہ حقدارہے ۔ ۔
حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، أَنَّ رَجُلاً، تَوَضَّأَ فَتَرَكَ مَوْضِعَ ظُفُرٍ عَلَى قَدَمِهِ فَأَبْصَرَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ " . فَرَجَعَ ثُمَّ صَلَّى .
Jabir reported:'Umar b. Khattab said that a person performed ablution and left a small part equal to the space of a nail (unwashed). The Apostle of Allah (ﷺ) saw that and said: Go back and perform ablution well. He then went back (performed ablution well) and offered the prayer
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سےروایت ہے ، انہوں نے کہا : مجھے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ایک شخص نے وضو کیا تو اپنے پاؤں پر ایک ناخن جتنی جگہ چھوڑ دی ، تو نبی ﷺ نے اس کو دیکھ لیا اور فرمایا : ’’واپس جاؤ اور اپنا وضو خوب اچھی طرح کرو- ‘ ‘ وہ واپس گیا ، ( حکم پر عمل کیا ) پھر نماز پڑھی ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَعْبَدِ، بْنِ خَالِدٍ عَنْ حَارِثَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " حَوْضُهُ مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَالْمَدِينَةِ " . فَقَالَ لَهُ الْمُسْتَوْرِدُ أَلَمْ تَسْمَعْهُ قَالَ " الأَوَانِي " . قَالَ لاَ . فَقَالَ الْمُسْتَوْرِدُ " تُرَى فِيهِ الآنِيَةُ مِثْلَ الْكَوَاكِبِ " .
Haritha reported that he heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying:His Cistern would be as extensive as the distance between San'a' and Medina. Mustaurid (one of the narrators) said: Did you not hear anything about the utensils? Thereupon he said. No. Mustaurid said: You would find that the utensils would be like stars
ابن ابی عدی نے شعبہ سے ، انھوں نے معبد بن خالد سے ، انھوں نے حضرت حارثہ ( بن وہب خزاعی ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ نے فر ما یا : " آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حوض ( اتنا چوڑا ہے ) جتنا صنعاءاور مدینہ کے درمیان ( کا فاصلہ ) ہے ۔ مستورد ( ابن شداد ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان ( حضرت حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے کہا : آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا ، کہ آپ نے فرما یا : " برتن " ؟انھوں نے کہا : نہیں تو مستورد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : " اس میں برتن ستاروں کی طرح نظر آئیں گے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ حَائِطًا وَأَمَرَنِي أَنْ أَحْفَظَ الْبَابَ . بِمَعْنَى حَدِيثِ عُثْمَانَ بْنِ غِيَاثٍ .
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Musa al-Ash'ari with a slight variation of wording
ایوب نے ابو عثمان نہدی سے ، انھوں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باغ میں گئے اور مجھے حکم دیا کہ میں دروازے کی حفاظت کروں ۔ ( پھر ) عثمان بن غیاث کی حدیث کے ہم معنی ( حدیث بیا ن کی ۔)
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَطْفَالِ الْمُشْرِكِينَ مَنْ يَمُوتُ مِنْهُمْ صَغِيرًا فَقَالَ " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ " .
Abu Huraira reported that Allahs Messenger (way peace be upon him) was asked about the children of the polytheists who die young. Thereupon Allah's Apostle (ﷺ) said:It is Allah Who knows what they would be doing
سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے بچوں کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ نے جب ان کو پیدا کیا تو وہ زیادہ جاننے والا ہے کہ وہ کیا عمل کرنے والے تھے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ عَنْ مُوسَى الْجُهَنِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُوسَى الْجُهَنِيُّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ عَلِّمْنِي كَلاَمًا أَقُولُهُ قَالَ " قُلْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ " . قَالَ فَهَؤُلاَءِ لِرَبِّي فَمَا لِي قَالَ " قُلِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي " . قَالَ مُوسَى أَمَّا عَافِنِي فَأَنَا أَتَوَهَّمُ وَمَا أَدْرِي . وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي حَدِيثِهِ قَوْلَ مُوسَى .
Mu'sab b. Sa'd reported on the authority of his father that a desert Arab came to Allah's Messenger (ﷺ) and said to him:Teach me the words which I should (often) utter. He said: Utter," There is no god but Allah, the One, having no partner with Him. Allah is the Greatest of the great and all praise is due to Him. Hallowed be Allah, the Lord of the worlds, there is no Might and Power but that of Allah, the All-Powerful and the Wise." He (that desert Arab) said: These all (glorify) my Lord. But what about me? Thereupon he (the Holy Prophet) said: You should say:" O Allah, grant me pardon, have mercy upon me, direct me to righteousness and provide me sustenance." Musa (one of the narrators) said: I think he also said:" Grant me safety." But I cannot say for certain whether he said this or not. Ibn Abi Shaiba has not made a mention of the words of Musa in his narration
ابوبکر بن ابی شیبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں علی بن مسہر اور ابن نمیر نے موسیٰ جہنی سے حدیث بیان کی ، اور ہمیں محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بھی یہی حدیث بیان کی ۔ ۔ الفاظ انہی کے ہیں ۔ ۔ انہوں نے کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں موسی جہنی نے معصب بن سعد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : مجھے کچھ کلمات سکھائیے جنہیں میں ( بطور ذکر ) کہا کروں ۔ آپ نے فرمایا : "" یہ کہا کرو : "" لا اله الا لله وحده لا شريك له الله اكبر كبيرا والحمدلله كثيرا وسبحان الله رب العالمين لا حول ولا قوة الا بالله العزيز الحكيم "" "" اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اللہ بڑائی میں سب سے بڑا ہے اور بے حد و حساب تعریف اللہ کی ہے ، اللہ ہر اس چیز سے پاک ہے جو اس کے شایان شان نہیں ، وہ سارے جہانوں کا پالنے والا ہے ، کسی میں برائی سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت نہیں مگر صرف اور صرف اللہ کی دی ہوئی جو سب پر غالب ہے ، بڑی حکمت والا ہے ۔ "" اس شخص نے کہا : یہ کلمات تو میرے رب کے لیے ہیں ، میرے لیے کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" یہ کہو : "" اللهم اغفرلى وارحمنى واهدنى وارزقنى "" اے اللہ! مجھے بخش دے ، مجھ پر رحم فرما ، مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق عطا فرما ۔ "" موسیٰ نے کہا : جہاں تک "" عافنى "" مجھے عافیت عطا کر "" کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں مجھے تھوڑا سا وہم ہے اور مجھے یقین نہیں ہے ، اور ابن ابی شیبہ نے اپنی حدیث میں موسیٰ کا یہ قول نقل نہیں کیا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، وَحَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِ رِوَايَةِ حَجَّاجٍ حَدِيثَ أَبِي هُرَيْرَةَ خَاصَّةً وَلَمْ يَذْكُرْ حَدِيثَ أَسْمَاءَ .
Abu Salama reported from Abu Huraira that he narrated that Allah's Messenger (may peace be upon hin) said:There is none more self-respecting than Allah, the Exalted and Glorious There is no mention of the narration of Asma
ابان بن یزید اور حرب بن شداد نے یحییٰ بن ابی کثیر سے ، انہوں نے ابوسلمہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حجاج کی روایت کے مانند صرف حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کی اور انہوں نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کی حدیث کا ذکر نہیں کیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ لاَ يَظْلِمُ مُؤْمِنًا حَسَنَةً يُعْطَى بِهَا فِي الدُّنْيَا وَيُجْزَى بِهَا فِي الآخِرَةِ وَأَمَّا الْكَافِرُ فَيُطْعَمُ بِحَسَنَاتِ مَا عَمِلَ بِهَا لِلَّهِ فِي الدُّنْيَا حَتَّى إِذَا أَفْضَى إِلَى الآخِرَةِ لَمْ تَكُنْ لَهُ حَسَنَةٌ يُجْزَى بِهَا " .
Anas b. Malik reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:Verily, Allah does not treat a believer unjustly in regard to his virtues. He would confer upon him (His blessing) in this world and would give him reward in the Hereafter. And as regards a non-believer, he would be made to taste the reward (of virtue in this world) what he has done for himself so much that when it would be the Hereafter, he would find no virtue for which he should be rewarded
ہمام بن یحییٰ نے قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بے شک اللہ تعالیٰ کسی مومن کے ساتھ ایک نیکی کے معاملے میں بھی ظلم نہیں فرماتا ۔ اس کے بدلے اسے دنیا میں بھی عطا کرتا ہے اور آخرت میں بھی اس کی جزا دی جاتی ہے ۔ رہا کافر ، اسے نیکیوں کے بدلے میں جو اس نے دنیا میں اللہ کے لئے کی ہوتی ہیں ، اسی دنیا میں کھلا ( پلا ) دیا جاتاہے حتیٰ کہ جب وہ آخرت میں پہنچتا ہے تو اس کے پاس کوئی نیکی باقی نہیں ہوتی جس کی اسے جزا دی جائے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ الْهِلاَلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو سُفْيَانَ، - يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ حُمَيْدٍ - عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " احْتَجَّتِ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ " . وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي الزِّنَادِ .
Abu Huraira reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:The Paradise and the Hell disputed with each other. The rest of the hadith is the same
ایوب نے ابن سیرین سے اور انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " جنت اور دوزخ نے ( اپنی اپنی برتری کے ) دلائل دیئے ۔ " پھر ابو زناد کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔
وَحَدَّثَنَاهُ عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ بَدَأَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ ثُمَّ تَوَضَّأَ مِثْلَ وُضُوئِهِ لِلصَّلاَةِ .
Urwa has narrated it on the authority of 'A'isha that when Allah's Messenger (ﷺ) took a bath because of sexual intercourse, he first washed his hands before dipping one of them into the basin, and then performed ablu- tion as is done for prayer
زائدہ نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ جب غسل جنابت فرماتے ( تو ) اس طرح آغاز کرتے کہ برتن میں ہاتھ داخل کرنے سے پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے ، پھر نماز کے لیے اپنے وضو کی طرح وضو فرماتے ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - وَاللَّفْظُ لِعُبَيْدٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، بْنُ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ مَوْلَى خَالِدِ بْنِ خَالِدٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنَعَتِ الْعِرَاقُ دِرْهَمَهَا وَقَفِيزَهَا وَمَنَعَتِ الشَّأْمُ مُدْيَهَا وَدِينَارَهَا وَمَنَعَتْ مِصْرُ إِرْدَبَّهَا وَدِينَارَهَا وَعُدْتُمْ مِنْ حَيْثُ بَدَأْتُمْ وَعُدْتُمْ مِنْ حَيْثُ بَدَأْتُمْ وَعُدْتُمْ مِنْ حَيْثُ بَدَأْتُمْ " . شَهِدَ عَلَى ذَلِكَ لَحْمُ أَبِي هُرَيْرَةَ وَدَمُهُ .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Iraq would withhold its dirhams and qafiz; Syria would withhold its mudd and dinar and Egypt would withhold its irdab and dinar and you would recoil to that position from where you started and you would recoil to that position from where you started and you would recoil to that position from where you started, the flesh and blood of Abu Huraira would bear testimony to it
ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ( میں دیکھ رہا ہوں کہ ) عراق نے اپنے درہم اور قفیر کو روک لیا ہے اور شام نے اپنا مدی اور دینار روک لیاہے اور مصر نے اپنا اردب اور دینار روک لیا ہے اور تم وہیں پہنچ گئے ہو جہاں سے تمھارا آغاز تھا اور تم وہیں پہنچ گئے ہو جہاں سے تمھارا آغاز تھا ۔ اور تم وہیں پہنچ گئےہو ۔ جہاں تمھارا آغاز تھا ۔ اس پر ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا گوشت اور خون گواہ ہے ۔
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَعْقِرِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ، أَخْبَرَنِي الْعَلاَءُ، قَالَ سَمِعْتُ مِنْ أَبِي وَمِنْ أَبِي السَّائِبِ، وَكَانَا، جَلِيسَىْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالاَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ صَلَّى صَلاَةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَهْىَ خِدَاجٌ " . يَقُولُهَا ثَلاَثًا بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ .
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: He who said his prayer, but did not recite the opening chapter of al-Kitab, his prayer is incomplete. He repeated it thrice
ابن جریج نے بتایا کہ ہمیں علاء بن عبد الرحمان نے خبر دی ، کہا : مجھے عبد اللہ بن ہشام بن زہرہ کے بیٹوں کے آزاد کردہ غلام ابو سائب نے بتایا کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’جس نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں ام القرآن نہ پڑھی ‘ ‘ ... آگے سفیان کی حدیث کے مانند ہے اور ( مالک بن انس اور ابن جریج ) دونوں کی روایت میں ہے : ’’ اللہ عزوجل نے فرمایا : میں نے نماز اپنے اور اپنے بندے کے درمیان آدھی آدھی تقسیم کی ہے ، اس کا آدھا حصہ میرے لیے ہے اور آدھا میرے بندے کے لیے ۔ ‘ ‘