حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَحْوَلِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ النَّاسُ يَنْصَرِفُونَ فِي كُلِّ وَجْهٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَنْفِرَنَّ أَحَدٌ حَتَّى يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِ بِالْبَيْتِ " . قَالَ زُهَيْرٌ يَنْصَرِفُونَ كُلَّ وَجْهٍ . وَلَمْ يَقُلْ فِي .
Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) reported that the people used to return through every path, whereupon Allah's Messenger (way peace be upon him) said:None amongst you should depart until he performs the last circumambulation round the House. Zuhair said (the words are): [ARABIC: YANSWARIFUWN KULLA WAJH] and the word [arabic: FIY] was not mentioned
سعید بن منصور اور زہیر بن حرب نے ہمیں حدیث بیان کی دونوں نے کہا : ہمیں سفیان نے سلیما ن احول سے حدیث بیان کی انھوں نے طا ؤس سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : لوگ ( حج کے بعد ) ہر سمت میں نکل ( کر چلے ) جا تے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " کو ئی بھی شخص ہر گز روانہ ہو یہاں تک کہ اس کی آخری حاضری ( بطور طواف ) بیت اللہ کی ہو زہیر نے کہا : ہر سمت " اور " ( ہر سمت ) میں نہیں کہا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا مَنْ لَهُ نَعْلاَنِ وَشِرَاكَانِ مِنْ نَارٍ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ كَمَا يَغْلِي الْمِرْجَلُ مَا يَرَى أَنَّ أَحَدًا أَشَدُّ مِنْهُ عَذَابًا وَإِنَّهُ لأَهْوَنُهُمْ عَذَابًا " .
Nu'man b. Bashir reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: Verily the least suffering for the inhabitants of Fire would be for him who would have two shoes and two laces of Fire (on his feet), and with these would boil his brain as boils the cooking vessel, and he would think that he would not see anyone in a more grievous torment than him, whereas he would be in the least torment
(شعبہ کے بجائے ) اعمش نے ابو اسحاق سے ، انہو ں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’دوزخیوں میں سے سب سے ہلکے عذاب والا شخص وہ ہو گا جس کےدونوں جوتے اور دونوں تسمے آگے کے ہوں گے ، ان سے اس کا دماغ اس طرح کھولے گا جس طرح ہنڈیا کھولتی ہے ، وہ نہیں سمجھے گا کہ کوئی بھی اس سے زیادہ عذاب میں ہے ، حالانکہ حقیقت میں وہ ان سب میں سے ہلکے عذاب میں ہو گا ۔ ‘ ‘