بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
35 hadith
حَدَّثَنِي ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ السَّلُولِيُّ، حَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ سُفْيَانَ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ نَحْوَهُ ‏.‏
This hadith has been reported by A'mash with the same chain of transmitters
اعمش سے ( ابن فضیل کے بجائے ) ہریم بن سفیان نے مذکورہ بالا سند کے ساتھ اسی کے مثل حدیث بیان کی
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِعَمِّهِ ‏"‏ قُلْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ لَكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لَوْلاَ أَنْ تُعَيِّرَنِي قُرَيْشٌ يَقُولُونَ إِنَّمَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ الْجَزَعُ لأَقْرَرْتُ بِهَا عَيْنَكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ ‏{‏ إِنَّكَ لاَ تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ‏}‏
It is narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah said to his uncle (at the time of his death):Make a profession of it that there is no god but Allah and I will bear testimony (of your being a Muslim) on the Day of judgment. He (Abu Talib) said: Were it not the fear of the Quraysh blaming me (and) saying that it was the fear of (approaching death) that induced me to do so, I would have certainly delighted your eyes. It was then that Allah revealed: " Verily thou canst not guide to the right path whom thou lovest. And it is Allah Who guideth whom He will and He knoweth best who are the guided" (xxviii)
یحییٰ بن سعید نے کہا : ہمیں یزید بن کیسان نے حدیث سنائی.... ( اس کے بعد مذکورہ سند کے ساتھ ) حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے چچا سے فرمایا : ’’لا اله الا الله کہہ دیجیے ، میں قیامت کے دن آپ کے لیے اس کےبارے میں گواہ بن جاؤں گا ۔ ‘ ‘ انہوں نے ( جواب میں ) کہا : اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ قریش مجھے عار دلائیں گے ( کہیں گے کہ اسے ( موت کی ) گھبراہٹ نےاس بات پر آمادہ کیا ہے ) تو میں یہ کلمہ پڑھ کر تمہاری آنکھیں ٹھنڈی کر دیتا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : ’’آپ جسے چاہتے ہوں اسے براہ راست پر نہیں لاسکتے لیکن اللہ تعالیٰ جسے چاہے راہ راست پر لے آتا ہے ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ ‏.‏
Ibn 'Umar reported that the Apostle (ﷺ) used to pray on (the back of) his camel in whatever direction it took him
ابو خالد احمر نے عبیداللہ سے انھوں نے نافع سے اور انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر نماز پڑھتے تھے ۔ وہ چاہے آپ کو لئے ہوئے جس طرف بھی رخ کرلیتی ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالاَ أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ يَعْلَى بْنِ، الْحَارِثِ الْمُحَارِبِيِّ عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا نُجَمِّعُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ نَرْجِعُ نَتَتَبَّعُ الْفَىْءَ ‏.‏
Iyas b. Salama b. al-Akwa' reported on the authority of his father:We used to observe the Friday prayer with the Messenger of Allah (ﷺ) when the sun passed the meridian. and we then returned and tried to find out afternoon shadow (of the walls for protecting themselves from the heat of the sun)
وکیع نے یعلیٰ بن حارث محاربی سے روایت کی ، انھوں نے ایاس بن سلمہ بن اکوع سے اور انھوں نے اپنے والد ( حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، انھوں نے کہا : جب سورج ڈھلتا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ پڑھتے ، پھر ہم سایہ تلاش کرتے ہوئے لوٹتے ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَسْبَاطٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْبَيْعَةِ أَلاَّ تَنُحْنَ فَمَا وَفَتْ مِنَّا غَيْرُ خَمْسٍ مِنْهُنَّ أُمُّ سُلَيْمٍ ‏.‏
Umm 'Atiyya reported that the Messenger of Allah (ﷺ) took pledge from us (including this promise) that we would not lament. Only five amongst us fulfilled the promise, and one of them (who fulfilled the promise) was Umm Sulaim
ہشام نے حفصہ سے اور انھوں نے حضرت عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت میں ہم سے یہ عہد لیا کہ تم نو حہ نہیں کرو گی ہم میں سے پانچ کے سوا کسی نے اس کی ( کماحقہ ) پاسداری نہیں کی ، ان ( پانچ ) میں سے ایک ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہیں ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، - وَهُوَ ابْنُ رُفَيْعٍ - عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ خَرَجْتُ لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمْشِي وَحْدَهُ لَيْسَ مَعَهُ إِنْسَانٌ قَالَ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَكْرَهُ أَنْ يَمْشِيَ مَعَهُ أَحَدٌ - قَالَ - فَجَعَلْتُ أَمْشِي فِي ظِلِّ الْقَمَرِ فَالْتَفَتَ فَرَآنِي فَقَالَ ‏"‏ مَنْ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ أَبُو ذَرٍّ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ يَا أَبَا ذَرٍّ تَعَالَهْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ الْمُكْثِرِينَ هُمُ الْمُقِلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلاَّ مَنْ أَعْطَاهُ اللَّهُ خَيْرًا فَنَفَحَ فِيهِ يَمِينَهُ وَشِمَالَهُ وَبَيْنَ يَدَيْهِ وَوَرَاءَهُ وَعَمِلَ فِيهِ خَيْرًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً فَقَالَ ‏"‏ اجْلِسْ هَا هُنَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَأَجْلَسَنِي فِي قَاعٍ حَوْلَهُ حِجَارَةٌ فَقَالَ لِيَ ‏"‏ اجْلِسْ هَا هُنَا حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَانْطَلَقَ فِي الْحَرَّةِ حَتَّى لاَ أَرَاهُ فَلَبِثَ عَنِّي فَأَطَالَ اللَّبْثَ ثُمَّ إِنِّي سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُقْبِلٌ وَهُوَ يَقُولُ ‏"‏ وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَلَمَّا جَاءَ لَمْ أَصْبِرْ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ مَنْ تُكَلِّمُ فِي جَانِبِ الْحَرَّةِ مَا سَمِعْتُ أَحَدًا يَرْجِعُ إِلَيْكَ شَيْئًا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ذَاكَ جِبْرِيلُ عَرَضَ لِي فِي جَانِبِ الْحَرَّةِ فَقَالَ بَشِّرْ أُمَّتَكَ أَنَّهُ مَنْ مَاتَ لاَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ ‏.‏ فَقُلْتُ يَا جِبْرِيلُ وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى قَالَ نَعَمْ وَإِنْ شَرِبَ الْخَمْرَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Dharr reported:I went out one night (and found) the Messenger of Allah (ﷺ) walking all alone. There was no man with him. I thought that he did not like anyone walking along with him. So I began to walk in the light of the moon. He, however turned his attention to me and saw me and said: Who is this? I said: It is Abu Dharr. Let Allah make me as ransom for you. He said: Abu Dharr, come on. He (Abu Dharr) said: So I walked along with him for some time and he said: The wealthy persons would have little (reward) on the Day of Resurrection, except upon whom Allah conferred goodness (wealth). He dispensed it to his right, left, in front of him and at his back (just as the wind diffuses fragrance) and did good with it (riches). I went along with him for some time when He said: Sit here. And he made me sit at a safe place and there were stones around it, and he said to me: Sit here till I come to you. He went away on the stony ground till I could not see him. He stayed away from me, and he prolonged his stay. Then I heard him as he came back and he was saying: Even if he committed theft and even if he committed fornication. When he came I could not help asking him: Apostle of Allah, let Allah make me ransom for you, whom were you speaking on the stony ground? I heard nobody responding to you. He (the Holy Prophet) said: It was Gabriel who met me by the side of the stony ground and said: Give glad tidings to your Ummah that he who died without associating ought with Allah would go into Paradise. I said: Gabriel, even if he committed theft and fornication? He said: Yes. I said: Even it he committed theft and fornication? He said: Yes, I again said: Even if he committed theft and fornication? He said: Yes, even if he drank wine
عبدالعزیز بن رفیع نے زید بن وہب سے اور انھوں نے ابو زر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں ایک رات ( گھرسے ) باہر نکلا تو اچانک دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے جارہے ہیں ، آپ کے ساتھ کوئی انسان نہیں تو میں نے خیال کیا کہ آپ اس بات کو ناپسند کررہے ہیں کہ کوئی آپ کے ساتھ چلے ، چنانچہ میں چاند کے سائے میں چلنے لگا ، آپ مڑے تو مجھے دیکھ لیا اور فرمایا : " یہ کون ہے؟ " میں نے عرض کی : ابو زر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہوں ، اللہ مجھے آپ پر قربان کرے!آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ابو زر ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) آجاؤ ۔ " کہا : میں کچھ دیر آپ کے ساتھ چلا تو آپ نے فرمایا : " بے شک زیادہ مال والے ہی قیامت کے دن کم ( مایہ ) ہوں گے ، سوائے ان کے جن کو اللہ نے مال عطا فرمایا : اور ا نھوں نے اسے دائیں ، بائیں اور آگے ، پیچھے اڑا ڈالا اور اس میں نیکی کے کام کئے ۔ " میں ایک گھڑی آپ کے ساتھ چلتا رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہاں بیٹھ جاؤ ۔ " آپ نے مجھے ایک ہموار زمین میں بٹھا دیا جس کے گرد پتھر تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا : " یہیں بیٹھے رہنا یہاں تک کہ میں تمھارے پاس لوٹ آؤں ۔ " آپ پتھریلے میدان ( حرے ) میں چل پڑے حتیٰ کہ میری نظروں سے اوجھل ہوگئے ، آپ مجھ سے دور رکے رہے اور زیادہ دیرکردی ، پھر میں نے آپ کی آواز سنی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف آتے ہوئے فرمارہے تھے : " خواہ اس نے چوری کی ہو یا زنا کیا ہو ۔ " جب آپ تشریف لئے آئے تو میں صبر نہ کرسکا میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !اللہ مجھے آپ پر نثار فرمائے!آپ سیاہ پتھروں کے میدان ( حرہ ) کے کنارے کس سے گفتگو فرمارہے تھے؟میں نے تو کسی کو نہیں سناجو آپ کو جواب دے رہا ہو ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ جبرئیل علیہ السلام تھے جو سیاہ پتھروں کے کنارے میرے سامنے آئے اور کہا : اپنی امت کو بشارت دے دیجئے کہ جو کوئی اس حالت میں مرے گا کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتا ہوگا وہ جنت میں داخل ہوگا ۔ میں نے کہا : اے جبرئیل علیہ السلام! چاہے اس نے چوری کی ہو یا زنا کیا ہو؟انھوں نےکہا : ہاں!فرمایا : میں نے پھر کہا : خواہ اس نے چوری کی ہو خواہ اس نے زنا کیا ہو؟انھوں نے کہا : ہاں ۔ میں نے پھر ( تیسری بار ) پوچھا : خواہ اس نے چوری کی ہو خواہ اس نے زنا کیا ہو؟انھوں نے کہا : ہاں ، خواہ اس نے شراب ( بھی ) پی ہو ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ، سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، - رضى الله عنه - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ إِنَّ بِلاَلاً يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى تَسْمَعُوا تَأْذِينَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ ‏"‏ ‏.‏
Abdullah b. Mas'ud (Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) had said:Bilal would pronounce Adhan (at the fag end of the night in order to inform the people about the time of the Sahri). So you eat and drink till you hear the Adhan of Ibn Umm Maktum (which was pro- nounced at the conclusion of the Sahri and the commencement of the fast)
لیث ، ابن شہاب ، سالم بن عبداللہ ، حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ رات کے و قت ہی اذان دے دیتے تھے لہذا تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ حضرت ابن مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اذان سنو ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَبُو الرَّبِيعِ، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، وَقُتَيْبَةُ، بْنُ سَعِيدٍ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ مُحْرِمٌ ‏.‏ وَلَمْ يَقُلْ خَلَفٌ وَهُوَ مُحْرِمٌ ‏.‏ وَلَكِنَّهُ قَالَ وَذَاكَ طِيبُ إِحْرَامِهِ ‏.‏
A'isha (Allah be pleased with her) reported:I still seem to see the glistening of the perfume where the hair parted on Allah's Messenger's (ﷺ) head as he was in the state of Ihram, and Khalaf (one of the narrators) did not say: As he was in the state of Ihram, but said: That was the perfume of Ihram
منصور نے ابرا ہیم سے انھوں نے اسود سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : مجھے ایسا لگتا ہے کہ جیسے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں جبکہ آپ احرا م باند ھ چکے ہیں ۔ خلف نے "" جبکہ آپ احرا م باند ھ چکے ہیں "" کے الفا ظ نہیں کہے ۔ لیکن انھوں نے یہ کہا وہ آپ کے احرا م کی خوشبو تھی ( جو آپ نے احرا م باند ھنے سے پہلے اپنے جسم کو لگوائی تھی)
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي قَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ الْكَعْبِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَجْمَعَ الرَّجُلُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا وَبَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا ‏.‏ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَنُرَى خَالَةَ أَبِيهَا وَعَمَّةَ أَبِيهَا بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ ‏.‏
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger (ﷺ) forbade a person to combine in marriage a womanarid her father's sister, and a woman and her mother's sister. Ibn Shihab said:So we regarded the paternal aunt of her (wife's) father and the maternal aunt of her (wife's) father at the same level
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی ، کہا : مجھے قبیصہ بن ذؤیب کعبی نے خبر دی کہ انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کوئی شخص کسی عورت اور اس کی پھوپھی کو اور کسی عورت اور اس کی خالہ کو ( اپنے نکاح میں ایک ساتھ ) جمع کرے ۔ ابن شہاب نے کہا : ہم اس ( منکوحہ عورت ) کے والد کی خالہ اور والد کی پھوپھی کو بھی اسی حیثیت میں دیکھتے ہیں
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ، الأَعْلَى عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، أَنَّ أَبَا عَلْقَمَةَ الْهَاشِمِيَّ، حَدَّثَ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُمْ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ يَوْمَ حُنَيْنٍ سَرِيَّةً ‏.‏ بِمَعْنَى حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ إِلاَّ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ مِنْهُنَّ فَحَلاَلٌ لَكُمْ وَلَمْ يَذْكُرْ إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهُنَّ ‏
Abu Sa'id al-Khudri (Allah be pleased with him) reported that Allah's Apostle (ﷺ) sent a small army. The rest of the hadith is the same except this that he said:Except what your right hands possess out of them are lawful for you; and he did not mention" when their 'idda period comes to an end
عبدالاعلی نے ہمیں سعید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے قتادہ سے ، انہوں نے ابوخلیل سے روایت کی کہ ابوعلقمہ ہاشمی نے حدیث بیان کی ، انہیں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے دن ایک سریہ بھیجا ۔ ۔ ۔ ( آگے ) یزید بن زریع کی حدیث کے ہم معنی ہے لیکن انہوں نے کہا : سوائے ان ( لونڈیوں ) کے جن کے مالک تمہارے دائیں ہاتھ ہوں ، وہ تمہارے لیے حلال ہیں ۔ اور انہوں نے " جب ان کی عدت پوری ہو جائے " کے الفاظ ذکر نہیں کیے ۔ ( اس سریہ میں جو کنیزیں ہاتھ آئیں یہ واقعہ ان کے بارے میں ہے)
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ، سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَقْبَلْتُ مَعَ عُمَرَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ كَنَحْوِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ قُلْتُ شَأْنُ الْمَرْأَتَيْنِ قَالَ حَفْصَةُ وَأُمُّ سَلَمَةَ ‏.‏ وَزَادَ فِيهِ وَأَتَيْتُ الْحُجَرَ فَإِذَا فِي كُلِّ بَيْتٍ بُكَاءٌ ‏.‏ وَزَادَ أَيْضًا وَكَانَ آلَى مِنْهُنَّ شَهْرًا فَلَمَّا كَانَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ نَزَلَ إِلَيْهِنَّ ‏.‏
Ibn Abbas (Allah be pleased with them) said:I came along with Umar until we reached Marr al-Zahran (the name of a place), and the rest of the hadith is the same as narrated by Sulaiman b. Bilal (except with) the variation (of words) that I said: (What) about these two women? He said: They were Hafsa and Umm Salama. And he made this addition: I came to the apartments and in every apartment there was (the noise) of weeping. And this addition was also made: And he (the Holy Prophet) had taken an oath of remaining away from them for a month, and when twenty-nine days had passed, he visited them
حماد بن سلمہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں یحییٰ بن سعید نے عبید بن حنین سے خبر دی ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ( حج سے ) واپس آیا حتی کہ جب ہم مرالظہران میں تھے ۔ ۔ ۔ آگے سلیمان بن بلال کی حدیث کے مانند پوری لمبی حدیث بیان کی ، مگر انہوں ( ابن عباس رضی اللہ عنہ ) نے کہا : میں نے عرض کی : دو عورتوں کا معاملہ کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا : ( وہ ) حفصہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنھن ( تھیں ۔ ) اور اس میں یہ اضافہ کیا : میں ( ازواج مطہرات کے ) حجروں کے پاس آیا تو ہر گھر میں رونے کی آواز تھی ، اور یہ بھی اضافہ کیا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ایک ماہ ایلاء کیا تھا ، جب 29 دن ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( بالا خانے سے ) اتر کر ان کے پاس تشریف لے آئے
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالاَ جَمِيعًا حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ ‏.‏
A hadith like this has been transmitted on the authority of Abu Huraira (Allah be pleased with him)
ہمام بن منبہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ ۔ اسی کے مانند
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ لَمَّا قَفَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنْ حُنَيْنٍ سَأَلَ عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ نَذْرٍ كَانَ نَذَرَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ اعْتِكَافِ يَوْمٍ ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ‏.‏
lbn 'Umar reported:When Allah's Apostle (ﷺ) came back from the Battle of Hunain, Umar asked Allah's Messenger (ﷺ) about the vow he had taken during the days of Ignorance that he would observe I'tikaf for a day. The rest of the hadith is the same
معمر نے ہمیں ایوب سے خبر دی ، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم حنین سے واپس ہوئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دن کے اعتکاف کی نذر کے متعلق پوچھا جو انہوں نے جاہلیت میں مانی تھی ۔ ۔ پھر جریر بن حازم کی حدیث کے ہم معنی بیان کیا
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَيَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، - وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ - قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِي، بَكْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ السَّنَةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ثَلاَثَةٌ مُتَوَالِيَاتٌ ذُو الْقَعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمُ وَرَجَبٌ شَهْرُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ - ثُمَّ قَالَ - أَىُّ شَهْرٍ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ - قَالَ - فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَلَيْسَ ذَا الْحِجَّةِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَا بَلَى ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَىُّ بَلَدٍ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ - قَالَ - فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَلَيْسَ الْبَلْدَةَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَا بَلَى ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَىُّ يَوْمٍ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ - قَالَ - فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ - قَالَ مُحَمَّدٌ وَأَحْسِبُهُ قَالَ - وَأَعْرَاضَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا وَسَتَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ فَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ فَلاَ تَرْجِعُنَّ بَعْدِي كُفَّارًا - أَوْ ضُلاَّلاً - يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ أَلاَ لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ فَلَعَلَّ بَعْضَ مَنْ يُبَلَّغُهُ يَكُونُ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضِ مَنْ سَمِعَهُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَلاَ هَلْ بَلَّغْتُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ حَبِيبٍ فِي رِوَايَتِهِ ‏"‏ وَرَجَبُ مُضَرَ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ ‏"‏ فَلاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي ‏"‏ ‏.‏
Abu Bakra reported that (in the Farewell Address) Allah's Apostle (ﷺ) said:Time has completed a cycle and come to the state of the day when Allah created the heavens and the earth. The year is constituted of twelve months, of which four are sacred; three of them consecutive, viz. Dhu'l-Qa'da, Dhu'l- Hijja and Muharram, and also Rajab the month of Mudar which comes between Jumada and Sha'ban. He (the Holy Prophet) then said: which month is this? We said Allah and His Messenger know best. He (the narrator) said: He (the Holy Prophet) remained silent for some time until we thought that he would give it a name other than that (by which it was known). He said: Is it not Dha'l-Hijja? We said: Yes. He (the Holy Prophet) said: Which city is this? We said: Allah and His Messenger know best. He (the Holy Prophety remained silent until we thought that he would give it another name. He (the Holy Prophet) said: Is it not the Balda (the city of Mecca)? We said: Yes. He said: What day is this? We said: Allah and His Messenger know best. He (the Holy Prophet) remained silent until we thought that he would give it another name. He said: Is it not the Day of Sacrifice? We said: Allah's Messenger. yes. Thereupon he said: Your blood, your property (Muhammad, one of the narrators, said: I think, he also said this) and your honour are sacred to you like the sacredness of this day of yours, in this city of yours, and in this month of yours. You will soon meet your Lord and He will ask you about your deeds. So do not turn after me unbelievers (or misguided), some of you striking the necks of the others. Behold I let him who is present convey to him who is absent, for many a one whom a message is conveyed has a more retentive memory than one who hears. He again said: Behold! have I not delivered (the message) to you? This hadith has been narrated through another chain of transmitters, but with a slight variation of words
ابوبکر بن ابی شیبہ اور یحییٰ بن حبیب حارثی ۔ ۔ دونوں کے الفاظ قریب قریب ہیں ۔ ۔ دونوں نے کہا : ہمیں عبدالوہاب ثقفی نے ایوب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابن سیرین سے ، انہوں نے ابن ابی بکرہ سے ، انہوں نے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" بلاشبہ زمانہ گھوم کر اپنی اسی حالت پر آ گیا ہے ( جو اس دن تھی ) جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تھا ۔ سال کے بارہ مہینے ہیں ، ان میں سے چار حرمت والے ہیں ، تین لگاتار ہیں : ذوالقعدہ ، ذوالحجہ اور محرم اور ( ان کے علاوہ ) رجب جو مضر کا مہینہ ہے ، ( جس کی حرمت کا قبیلہ مضر قائل ہے ) جو جمادیٰ اور شعبان کے درمیان ہے ۔ "" اس کے بعد آپ نے پوچھا : "" ( آج ) یہ کون سا مہینہ ہے؟ "" ہم نے کہا : اللہ اور اس کا رسول زیادہ جاننے والے ہیں ۔ کہا : آپ خاموش ہو گئے حتی کہ ہم نے خیال کیا کہ آپ اسے اس کے ( معروف ) نام کے بجائے کوئی اور نام دیں گے ۔ ( پھر ) آپ نے فرمایا : "" کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے؟ "" ہم نے جواب دیا : کیوں نہیں! ( پھر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : "" یہ کون سا شہر ہے؟ "" ہم نے جواب دیا : اللہ اور اس کا رسول سب سے بڑھ کر جاننے والے ہیں ۔ کہا : آپ خاموش رہے حتی کہ ہم نے خیال کیا کہ آپ اس کے ( معروف ) نام سے ہٹ کر اسے کوئی اور نام دیں گے ، ( پھر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : "" کیا یہ البلدہ ( حرمت والا شہر ) نہیں؟ "" ہم نے جواب دیا : کیوں نہیں! ( پھر ) آپ نے پوچھا : "" یہ کون سا دن ہے؟ "" ہم نے جواب دیا : اللہ اور اس کا رسول سب سے بڑھ کر جاننے والے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : "" کیا یہ یوم النحر ( قربانی کا دن ) نہیں ہے؟ "" ہم نے جواب دیا : کیوں نہیں ، اللہ کے رسول! ( پھر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" بلاشبہ تمہارے خون ، تمہارے مال ۔ ۔ محمد ( بن سیرین ) نے کہا : میرا خیال ہے ، انہوں نے کہا : ۔ ۔ اور تمہاری عزت تمہارے لیے اسی طرح حرمت والے ہیں جس طرح اس مہینے میں ، اس شہر میں تمہارا یہ دن حرمت والا ہے ، اور عنقریب تم اپنے رب سے ملو گے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں پوچھے گا ، تم میرے بعد ہرگز دوبارہ گمراہ نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو ، سنو! جو شخص یہاں موجود ہے وہ اس شخص تک یہ پیغام پہنچا دے جو یہاں موجود نہیں ، ممکن ہے جس کو یہ پیغام پہنچایا جائے وہ اسے اس آدمی سے زیادہ یاد رکھنے والا ہو جس نے اسے ( خود مجھ سے ) سنا ہے ۔ "" پھر فرمایا : "" سنو! کیا میں نے ( اللہ کا پیغام ) ٹھیک طور پر پہنچا دیا ہے؟ "" ابن حبیب نے اپنی روایت میں "" مضر کا رجب "" کہا : اور ابوبکر کی روایت میں ( "" تم میرے بعد ہرگز دوبارہ "" کے بجائے ) "" میرے بعد دوبارہ "" ( تاکید کے بغیر ) ہے
وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ، عُمَرَ أَنَّ الْيَهُودَ، جَاءُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِرَجُلٍ مِنْهُمْ وَامْرَأَةٍ قَدْ زَنَيَا ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ ‏.‏
Ibn 'Umar reported that the Jews brought to Allah's Messenger (ﷺ) a man and a woman who had committed adultery. The rest of the hadith is the same
موسیٰ بن عقبہ نے ہمیں نافع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ یہود اپنے ایک مرد اور ایک عورت کو ، جنہوں نے زنا کیا تھا ، لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ۔ ۔ آگے نافع سے عبیداللہ کی روایت کردہ حدیث کی طرح بیان کیا
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ الْقَطَّانُ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of 'Ubaidullah with the same chain of transmitters
ٰ قطان نے عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي، خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَمِيرَةَ الْكِنْدِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ مِنْكُمْ عَلَى عَمَلٍ فَكَتَمَنَا مِخْيَطًا فَمَا فَوْقَهُ كَانَ غُلُولاً يَأْتِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ أَسْوَدُ مِنَ الأَنْصَارِ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْبَلْ عَنِّي عَمَلَكَ قَالَ ‏"‏ وَمَا لَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ سَمِعْتُكَ تَقُولُ كَذَا وَكَذَا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَأَنَا أَقُولُهُ الآنَ مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ مِنْكُمْ عَلَى عَمَلٍ فَلْيَجِئْ بِقَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ فَمَا أُوتِيَ مِنْهُ أَخَذَ وَمَا نُهِيَ عَنْهُ انْتَهَى ‏"‏ ‏.‏
It has been reported on the authority of 'Adi b. 'Amira al-Kindi who said:I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Whosoever from you is appointed by us to a position of authority and he conceals from us a needle or something smaller than that, it would be misappropriation (of public funds) and will (have to) produce it on the Day of Judgment. The narrator says: A dark-complexioned man from the Ansar stood up - I can visualise him still - and said: Messenger of Allah, take back from me your assignment. He said: What has happened to you? The man said: I have heard you say so and so. He said: I say that (even) now: Whosoever from you is appointed by us to a position of authority, he should bring everything, big or small, and whatever he is given therefrom he should take, and he should restrain himself from taking that which is forbidden
وکیع بن جراح نے کہا : ہمیں اسماعیل بن ابی خالد نے قیس بن ابی حازم سے حدیث سنائی ، انہوں نے حضرت عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " ہم تم میں سے جس شخص کو کسی کام پر عامل مقرر کریں اور وہ ایک سوئی یا اس سے بڑی کوئی چیز ہم سے چھپا لے تو یہ خیانت ہو گی ، وہ شخص قیامت کے دن اسے ساتھ لے کر آئے گا ۔ " ( حضرت عدی رضی اللہ عنہ نے ) کہا : میں دیکھ رہا تھا ، ( یہ بات سن کر ) انصار میں سے کالے رنگ کا ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا : یا رسول اللہ! آپ مجھ سے اپنا کام واپس لے لیجئے! آپ نے فرمایا : " تمہیں کیا ہوا؟ " اس نے کہا : میں نے آپ کو اس اس طرح فرماتے ہوئے سنا ہے ( میں اس وعید سے ڈرتا ہوں ۔ ) آپ نے فرمایا : میں اب بھی یہی کہتا ہوں کہ ہم تم میں سے جس شخص کو کسی کام کا عامل بنائیں وہ ہر چھوٹی اور بڑی چیز کو لے کر آئے ، اس کے بعد اس میں سےجو چیز اس کو دی جائے وہ لے لے اور جو چیز اس سے روک لی جائے اس سے دور رہے
وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ قَالَ الْبَرَاءُ أَصَبْنَا يَوْمَ خَيْبَرَ حُمُرًا فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِ اكْفَئُوا الْقُدُورَ ‏.‏
Al-Bara' said:We found on the Day of Khaibar domestic asses, and the announcer of the Messenger of Allah (ﷺ) made an announcement that the earthen pots should be turned over
ابو اسحاق نے کہا : حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ خیبر کے دن ہم نے گدھے پکڑ لیے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کردیا کہ ہانڈیوں کو الٹ دو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ، عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ كُنَّا لاَ نَأْكُلُ مِنْ لُحُومِ بُدْنِنَا فَوْقَ ثَلاَثِ مِنًى فَأَرْخَصَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ كُلُوا وَتَزَوَّدُوا ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ لِعَطَاءٍ قَالَ جَابِرٌ حَتَّى جِئْنَا الْمَدِينَةَ قَالَ نَعَمْ ‏.‏
Jabir b. Abdullah reported:We did not eat the flesh of our sacrificial animals beyond three days in Mina. Then Allah's Messenger (ﷺ) permitted us saying: Eat and make it a provision (for journey). I asked 'Ata' whether Jabir had also said: Till we came to Medina. He said: Yes
۔ ابن جریج نے کہا : ہمیں عطاء نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت جابربن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : ( پہلے ) ہم منیٰ کے تین دنوں سے زیادہ اپنے اونٹوں کی قربانیوں کا گوشت نہیں کھاتے تھے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اجازت دے دی اور فرمایا : "" کھاؤ اور ساتھ لے جاؤ ۔ ( اور صدقہ کرو جس طرح دوسری احادیث میں ہے ۔ ) "" میں نے عطاء سے کہا : حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ کہا تھا کہ یہاں تک کہ ہم مدینہ آگئے؟ ( مدینہ تک پہنچنے کے آٹھ دنوں تک بطور زاد راہ استعمال کرتے رہے؟ ) انھوں نے کہا : ہاں ۔
قَالَ وَأَخْبَرَهُ أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَنْتَبِذُوا فِي الدُّبَّاءِ وَلاَ فِي الْمُزَفَّتِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاجْتَنِبُوا الْحَنَاتِمَ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Do not prepare Nabidh in gourd or jar or in a pitcher besmeared with pitch (known as green pitcher)
۔ ( گزشتہ سند سے روایت کرتے ہوئے سفیان بن عینیہ نے ) کہا : انھیں ابو سلمہ نے بتایا کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کدو کے ( بنے ہوئے ) برتن میں نبیذ نہ بناؤ اور نہ روغن زفت ملے ہوئے برتن میں ۔ " پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ کہتے تھے : سبز گھڑوں سے اجتناب کرو ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّهُ قَالَ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرُّوجُ حَرِيرٍ فَلَبِسَهُ ثُمَّ صَلَّى فِيهِ ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَزَعَهُ نَزْعًا شَدِيدًا كَالْكَارِهِ لَهُ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ لاَ يَنْبَغِي هَذَا لِلْمُتَّقِينَ ‏"‏.‏
Uqba b. 'Amir said:A silk go vn was presented to Allah's Messenger (ﷺ) and he wore it and observed prayer in it and then returned and put it off so violently as if he despised it. He then said: It does not befit the Godfearing persons
لیث نے یزید بن ابی حبیب سے ، انھوں نے ابو الخیر سے ، انھوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کہ کہ انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ریشم کی ایک کھلی قبا ہدیہ میں دی گئی ، آپ نے وہ پہنی اور نماز پڑھی ، پھر اس کو کھینچ کر اتار دیا ، جیسے آپ اسے ناپسند کررہے ہوں ، پھر فرمایا : " یہ ( عبا ) تقویٰ اختیار کرنے والوں کے لئے مناسب نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ وَزَادَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ فِي حَدِيثِهِ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَقُمْتُ مَعَهُ فَذَهَبْتُ إِلَى عُمَرَ فَشَهِدْتُ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Yazid b. Khusaifa with the same chain of transmitters but with this addition:Abu Sa'id said: So I stood up, and went to 'Umar and gave witness (to what Abu Musa had said)
قتیبہ بن سعید اور ابن ابی عمر نے کہا : " ہمیں سفیان نے یزید بن خصیفہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور ابن ابی عمر نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا : حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں ان کے ہمرا اٹھ کھڑا ہوا ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا اور گواہی دی ۔
وَحَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، - وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ - عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يُقِيمَنَّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ثُمَّ لْيُخَالِفْ إِلَى مَقْعَدِهِ فَيَقْعُدَ فِيهِ وَلَكِنْ يَقُولُ افْسَحُوا ‏"‏ ‏.‏
Jabir reported Allah's Apostle (may peace he upon him) as saying:None amongst you should make his brother stand on Friday (during the congregational prayer) and then occupy his-place. but he should only say to him (Accommodate me)
ابو زبیر نے حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فر ما یا : " تم میں سے کو ئی شخص جمعے کے دن اپنے بھا ئی کو کھڑا نہ کرے کہ پھر دوسری طرف سے آکر اس کی جگہ پر خود بیٹھ جائے ، بلکہ ( جوآئے وہ ) کہے " جگہ کشادہ کردو ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: Woe to the heels because of hell-fire
سہیل کے والد ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے
وَحَدَّثَنَاهُ سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي، شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، كِلاَهُمَا عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ حَدِيثِ الأَعْمَشِ وَمُغِيرَةَ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Hudhaifa through another chain of transmitters
عبثراور ابن فضیل دونوں نے حصین سے انھوں نے ابو وائل سے ، انھون نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، جس طرح اعمش اور مغیرہ کی روایت ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَائِطٍ مِنْ حَائِطِ الْمَدِينَةِ وَهُوَ مُتَّكِئٌ يَرْكُزُ بِعُودٍ مَعَهُ بَيْنَ الْمَاءِ وَالطِّينِ إِذَا اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ فَقَالَ ‏"‏ افْتَحْ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ فَفَتَحْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ - قَالَ - ثُمَّ اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ ‏"‏ افْتَحْ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَذَهَبْتُ فَإِذَا هُوَ عُمَرُ فَفَتَحْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ ثُمَّ اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ آخَرُ - قَالَ - فَجَلَسَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ افْتَحْ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى تَكُونُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَذَهَبْتُ فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ - قَالَ - فَفَتَحْتُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ - قَالَ - وَقُلْتُ الَّذِي قَالَ فَقَالَ اللَّهُمَّ صَبْرًا أَوِ اللَّهُ الْمُسْتَعَانُ ‏.‏
Abu Musa al-Ash'ari reported that while Allah's Messenger (ﷺ) was in one of the gardens of Medina, reclining against a pillow and fixing a stick in a mud, that a person came asking for the gate to be opened, whereupon he said:Open it for him and give him glad tidings of Paradise and, lo, it was Abu Bakr. I opened (the gate) for him and gave him the glad tidings of Paradise. Then another person asked for the door to be opened, whereupon he said: Open it and give him the glad tidings of Piradise. He said: I went away and, lo, it was 'Umar. I opened it for him and gave him the glad tidings of Paradise. Then still another man asked for the door to be opened, and thereupon Allah's Apostle (ﷺ) said: Open it and give him the glad tidings of Paradise after a trial would afflict him. I went and, lo, it was 'Uthman b. 'Affan. 1 opened the door and gave him the glad tidings of Paradise and informed him (what the Prophet had said). Thereupon he said: O Allah, grant me steadfastness. Allah is one Whose help is to be sought
عثمان بن غیاث نے ابو عثمان نہدی سے ، انھوں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے باغوں میں سے ایک باغ میں ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے تھے آپ کے پاس جو لکڑی تھی اس ( کی نوک ) کو پانی اور مٹی کے درمیان ماررہے تھے کہ ایک شخص نے ( باغ کا دروازہ ) کھولنے کی درخواست کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دروازہ کھول دو اور اس ( آنے والے ) کو جنت کی خوشخبری سنادو ۔ " ( ابو موسیٰ علیہ السلام نے ) کہا : وہ ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ، میں نے ان کے لئے دروازہ کھولا اور انھیں جنت کی بشارت دی ، کہا : پھر ایک اور شخص نے دروازہ کھولنے کی درخواست کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دروازہ کھول دو اور اسے ( بھی ) جنت کی خوشخبری سنادو ۔ " میں گیا تو وہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ۔ میں نے ان کے لیے دروازہ کھولا اور انھیں جنت کی بشارت دی ، اس کے بعد ایک اور شخص نے دروازہ کھولنے کی درخواست کی ، کہا : تو آپ ( سیدھے ہوکر ) بیٹھ گئے ، پھر فرمایا : " دروازہ کھولو اور فتنے پر جو ( برپا ) ہوگا ، انھیں جنت کی خوشخبری دے دو ۔ " کہا : میں گیا تو وہ عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ۔ کہا : میں نے دروازہ کھولا اور انھیں جنت کی خوشخبری دی اور آپ نے جو کچھ فرمایا تھا ، انھیں بتایا ۔ انھوں نے کہا : اے اللہ صبر عطا فرمانا اور اللہ ہی ہے جس سے مدد طلب کی جاتی ہے ۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ، الأَصَمِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ لاَ يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Verily Allah does not look to your faces and your wealth but He looks to your heart and to your deeds
یزید بن اصم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے اموال کی طرف نہیں دیکھتا ، لیکن وہ تمہارے دلوں اور اعمال کی طرف دیکھتا ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بَهْرَامَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، ح وَحَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، - وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ - كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِإِسْنَادِ يُونُسَ وَابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ‏.‏ مِثْلَ حَدِيثِهِمَا غَيْرَ أَنَّ فِي، حَدِيثِ شُعَيْبٍ وَمَعْقِلٍ سُئِلَ عَنْ ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ ‏.‏
This hadith has been transmitted on the authority of Shu'aib and Ma'qil with a slight variation of wording
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے بچوں کے بارے میں سوال کیا گیا ، ان میں سے جو چھوٹی عمر میں فوت ہو جائیں ( تو ان کا انجام کیا ہو گا؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرنے والے تھے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لأَنْ أَقُولَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The uttering of (these words):" Hallowed be Allah; all praise is due to Allah, there is no god but Allah and Allah is the Greatest," is dearer to me than anything over which the sun rises
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ بات کہ میں " سبحان الله والحمدلله ولا اله الا لله والله اكبر " کہوں ، مجھے ان تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے جن پر سورج طلوع ہوتا ہے ۔
قَالَ يَحْيَى وَحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا، سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لَيْسَ شَىْءٌ أَغْيَرَ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏"‏ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Asma' daughter of Abu Bakr, through another chain of transmitters
یحییٰ نے کہا : مجھے ابوسلمہ نے حدیث بیان کی ، انہٰن عروہ بن زبیر نے بیان کیا ، انہیں حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے حدیث سنائی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : " کوئی نہیں جو اللہ عزوجل سے زیادہ غیرت مند ہو ۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يُؤْتَى بِأَنْعَمِ أَهْلِ الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُصْبَغُ فِي النَّارِ صَبْغَةً ثُمَّ يُقَالُ يَا ابْنَ آدَمَ هَلْ رَأَيْتَ خَيْرًا قَطُّ هَلْ مَرَّ بِكَ نَعِيمٌ قَطُّ فَيَقُولُ لاَ وَاللَّهِ يَا رَبِّ ‏.‏ وَيُؤْتَى بِأَشَدِّ النَّاسِ بُؤْسًا فِي الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيُصْبَغُ صَبْغَةً فِي الْجَنَّةِ فَيُقَالُ لَهُ يَا ابْنَ آدَمَ هَلْ رَأَيْتَ بُؤْسًا قَطُّ هَلْ مَرَّ بِكَ شِدَّةٌ قَطُّ فَيَقُولُ لاَ وَاللَّهِ يَا رَبِّ مَا مَرَّ بِي بُؤُسٌ قَطُّ وَلاَ رَأَيْتُ شِدَّةً قَطُّ ‏"‏ ‏.‏
Anas b. Malik reported that Allah's Messenger (ﷺ) said that one amongst the denizens of Hell who had led a life of ease and plenty amongst the people of the world would be made to dip in Fire only once on the Day of Resurrection and then it would be said to him:O, son of Adam, did you find any comfort, did you happen to get any material blessing? He would say: By Allah, no, my Lord. And then that person from amongst the persons of the world be brought who had led the most miserable life (in the world) from amongst the inmates of Paradise. and he would be made to dip once in Paradise and it would be said to him. 0, son of Adam, did you face, any hardship? Or had any distress fallen to your lot? And he would say: By Allah, no,0 my Lord, never did I face any hardship or experience any distress
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قیامت کے دن اہل دوزخ میں سے اس شخص کو لایا جائے گا جو دنیا میں سب سے زیادہ آسودہ تر اور خوشحال تھا ، پس دوزخ میں ایک بار غوطہ دیا جائے گا ، پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ اے آدم کے بیٹے! کیا تو نے دنیا میں کبھی آرام دیکھا تھا؟ کیا تجھ پر کبھی چین بھی گزرا تھا؟ وہ کہے گا کہ اللہ کی قسم! اے میرے رب! کبھی نہیں اور اہل جنت میں سے ایک ایسا شخص لایا جائے گا جو دنیا میں سب لوگوں سے سخت تر تکلیف میں رہا تھا ، جنت میں ایک بار غوطہ دیا جائے گا ، پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ اے آدم کے بیٹے! تو نے کبھی تکلیف بھی دیکھی ہے؟ کیا تجھ پر شدت اور رنج بھی گزرا تھا؟ وہ کہے گا کہ اللہ کی قسم! مجھ پر تو کبھی تکلیف نہیں گزری اور میں نے تو کبھی شدت اور سختی نہیں دیکھی ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ تَحَاجَّتِ النَّارُ وَالْجَنَّةُ فَقَالَتِ النَّارُ أُوثِرْتُ بِالْمُتَكَبِّرِينَ وَالْمُتَجَبِّرِينَ ‏.‏ وَقَالَتِ الْجَنَّةُ فَمَا لِي لاَ يَدْخُلُنِي إِلاَّ ضُعَفَاءُ النَّاسِ وَسَقَطُهُمْ وَعَجَزُهُمْ ‏.‏ فَقَالَ اللَّهُ لِلْجَنَّةِ أَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي ‏.‏ وَقَالَ لِلنَّارِ أَنْتِ عَذَابِي أُعَذِّبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمْ مِلْؤُهَا فَأَمَّا النَّارُ فَلاَ تَمْتَلِئُ ‏.‏ فَيَضَعُ قَدَمَهُ عَلَيْهَا فَتَقُولُ قَطْ قَطْ ‏.‏ فَهُنَالِكَ تَمْتَلِئُ وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as say- ing:The Hell and the Paradise fell into dispute and the Hell said: I have been dis- tinguished by the proud and the haughty. And the Paradise said: What is the matter with me that the meek and the humble amongst people and the downtrodden and the simple enter me? Thereupon Allah said to the Paradise: You are (the means) of My Mercy whereby I show mercy to those of My servants whom 1 wish, and He said to the Hell: You are (the means) of punishment whereby 1 punish those of My servants whoml wish. Both of you will be full. The Hell will riot be filled up until Allah puts down His foot in it. The Hell would say: Enough, enough, enough, and at that time it will be filled up, all its parts integrated together
ورقاء نے مجھے ابو زناد سے ، انھوں نے اعرج سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دوزخ اور جنت نے باہم ( اپنی اپنی برتری کے ) دلائل دیے دوزخ نے کہا : مجھے جبر وتکبر کرنے و الوں ( کا ٹھکانہ ہونے ) کی بناء پر ترجیح حاصل ہے ۔ جنت نے کہا : مجھے کیا ہواہے کہ میرے اندر کمزور ، خاک نشین ، اورعاجز ولاچار لوگ ہی داخل ہوں گے؟ اللہ عزوجل نے جنت سے فرمایا : تو میری رحمت ہے میں اپنے بندوں میں سے جن پر چاہوں گا تیسرے ذریعے سے رحمت کروں گا اور دوزخ سے کہا : تو میرا عذاب ہے میں اپنے بندوں میں سے جس کو چاہوں گاتمہارے ذریعے دے عذاب دوں گااور تم دونوں کے لئے اتنی ( مخلوق ) ہے جس سے تم بھر جاؤ ۔ رہی آگ تو وہ پوری طرح سے نہیں بھرے گی چنانچہ وہ ( اللہ ) اس کے اوپر اپناقدم رکھے گا تو وہ کہے گی!بس بس! اس وقت وہ بھر جائے گی اور باہم سمٹ جائے گی ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ فَبَدَأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلاَثًا ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَلَمْ يَذْكُرْ غَسْلَ الرِّجْلَيْنِ ‏.‏
Hisham narrated it from his father, who narrated it on the authority of 'A'isha that when the Apostle (ﷺ) took a bath because of sexual inter-course, he first washed the palms of his hands three times, and then the whole hadith was transmitted like that based on the authority of Abu Mu'awyia, but no mention is made of the washing of feet
وکیع نے ہشام کی اسی سند کے ساتھ حضرت عائشہ ؓ سے حدیث بیان کی کہ رسو ل اللہ ﷺ نے جنابت سےغسل فرمایا ، آغاز کرتے ہوئے تین بار ہتھلیاں دھوئیں ..... پھر ابو معاویہ کی حدیث کی طرح بیان کیا ، تاہم پاؤں دھونے کا ذکر نہ کیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ وَأَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ - وَاللَّفْظُ لأَبِي مَعْنٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ، يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، قَالَ كُنْتُ وَاقِفًا مَعَ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ فَقَالَ لاَ يَزَالُ النَّاسُ مُخْتَلِفَةً أَعْنَاقُهُمْ فِي طَلَبِ الدُّنْيَا ‏.‏ قُلْتُ أَجَلْ ‏.‏ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ يُوشِكُ الْفُرَاتُ أَنْ يَحْسِرَ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ فَإِذَا سَمِعَ بِهِ النَّاسُ سَارُوا إِلَيْهِ فَيَقُولُ مَنْ عِنْدَهُ لَئِنْ تَرَكْنَا النَّاسَ يَأْخُذُونَ مِنْهُ لَيُذْهَبَنَّ بِهِ كُلِّهِ قَالَ فَيَقْتَتِلُونَ عَلَيْهِ فَيُقْتَلُ مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو كَامِلٍ فِي حَدِيثِهِ قَالَ وَقَفْتُ أَنَا وَأُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ فِي ظِلِّ أُجُمِ حَسَّانَ ‏.‏
Abdullah b. Harith b. Naufal reported:I was standing along with Ubayy b. Ka`b and he said: The opinions of the people differ in regard to the achievement of worldly ends. I said: Yes, of course. Thereupon he said: I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: The Euphrates would soon uncover a mountain of gold and when the people would bear of it they would flock towards it but the people who would possess that (treasure) (would say): If we allow these persons to take out of it they would take away the whole of it. So they would fight and ninety-nine out of one hundred would be killed. Abu Kamil in his narration said: I and Ubayy b. Ka`b stood under the shade of the battlement of Hassan
ابو کامل فضیل بن حسین اور ابو معن رقاشی نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ الفاظ ابومعن کے ہیں ۔ دونوں نے کہا : ہمیں خالد بن حارث نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عبد الحمید بن جعفر نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : مجھے میرے والد نے سلیمان بن یسار سے خبردی ، انھوں نے عبد اللہ بن حارث بن نوفل سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ کھڑا تھا تو انھوں نےکہا : دنیا کی طلب میں لوگوں کی گردنیں مسلسل ایک دوسرے سے مختلف ( اور باہمی جھگڑے اور عداوتیں جاری ) رہیں گی ۔ میں نے کہا : ہاں ( بالکل ایسے ہی ہو گا ) انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : "" ( وہ و قت ) قریب ہے کہ دریائےفرات سونے کے ایک پہاڑ کو ظاہر کرے گا ۔ جب لوگ اس کے بارے میں سنیں گے تو اس کی طرف چل نکلیں گے ۔ جو لوگ اس ( پہاڑ ) کے قریب ہوں گےوہ کہیں گے ۔ اگر ہم نے ( دوسرے ) لوگوں کو اس میں سے ( سونا ) لےجانے کی اجازت دے دی تو وہ سب کا سب لے جائیں گے کہا : وہ اس پر جنگ آزماہوں کے تو ہر سو میں سے ننانوے قتل ہو جائیں گے ۔ ابو کامل نے اپنی حدیث میں ( اس طرح ) کہا : انھوں نے کہا : میں اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ قلعہ حسان کے سائے میں ٹھہرے ہوئے تھے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا السَّائِبِ، مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي الْعَلاَءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ، أَنَّ أَبَا السَّائِبِ، مَوْلَى بَنِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ صَلَّى صَلاَةً فَلَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ ‏"‏ ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ سُفْيَانَ وَفِي حَدِيثِهِمَا ‏"‏ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى قَسَمْتُ الصَّلاَةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ فَنِصْفُهَا لِي وَنِصْفُهَا لِعَبْدِي ‏"‏ ‏.‏
It is naratted on the authority of Abu Huraira that he had heard the Messenger of Allah (ﷺ) say:He who observed prayer but he did not recite the Umm al-Qur'an in it, and the rest of the hadith is the same as transmitted by Sufyan, and in this hadith the words are:" Allah the Most High said: the prayer is divided into two halves between Me and My servant. The half of it is for Me and the half of it is for My servant
مالک بن انس نے علاء بن عبد الرحمان سے روایت کی ، انہوں نے ہشام بن زہرہ کے آزاد کردہ غلام ابو سائب سے سنا ، کہتے تھے : میں نے ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔ ( جس طرح پچھلی روایت ہے ۔)