حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى رَجُلاً يَسُوقُ بَدَنَةً فَقَالَ " ارْكَبْهَا " . قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا بَدَنَةٌ . فَقَالَ " ارْكَبْهَا وَيْلَكَ " . فِي الثَّانِيَةِ أَوْ فِي الثَّالِثَةِ .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) rerorted that Allah's Messenger (ﷺ) saw a person who was driving a sacrificial camel (and told him to ride on it. Thereupon he said:Messenger of Allah, it is a sacrificial camel. He told him again to ride on it; (when he received the same reply) he said: Woe to you, (he uttered these words on the second or the third reply)
امام مالک نے ابو زناد سے انھوں نے اعرج سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا وہ قربانی کا اونٹ ہانک رہا ہے تو آپ نے فر ما یا : " اس پر سوار ہو جا ؤ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ قر بانی کا اونٹ ہے آپ نے فر ما یا : " تمھا ری ہلا کت !اس پر سوار ہو جاؤ ۔ دوسری یا تیسری مرتبہ ( یہ الفاظ کہے)
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ، وَزُهَيْرِ بْنِ عَمْرٍو، قَالاَ لَمَّا نَزَلَتْ { وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ} قَالَ انْطَلَقَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى رَضْمَةٍ مِنْ جَبَلٍ فَعَلاَ أَعْلاَهَا حَجَرًا ثُمَّ نَادَى " يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافَاهْ إِنِّي نَذِيرٌ إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ رَأَى الْعَدُوَّ فَانْطَلَقَ يَرْبَأُ أَهْلَهُ فَخَشِيَ أَنْ يَسْبِقُوهُ فَجَعَلَ يَهْتِفُ يَا صَبَاحَاهْ " .
Qabisa b. al-Mukhariq and Zuhair b. 'Amr reported:When this verse was revealed:" And warn thy nearest kindred," the Messenger of Allah (ﷺ) set off towards a rock of the hill and ascended the highest of the rocks and then called: 0 sons of 'Abd Manaf! I am a warner; my similitude and your similitude is like a man who saw the enemy and went to guard his people, but, being afraid they might get there before him, he shouted: Be on your guard
یزید بن زریع نے ( سلیمان ) تیمی سے ، انہوں نے ابو عثمان کے واسطے سے حضرت قبیصہ بن مخارق اور حضرت زہیر بن عمرو رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، دونوں نےکہا کہ جب آیت : ’’ اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے ‘ ‘ اتری ، کہا : تو اللہ کے نبی ﷺ ایک پہاڑی چٹان کی طرف تشریف لے گئے اور اس کے سب سے اونچے پتھروں والے حصے پر چڑھے ، پھر آواز دی : ’’ اے عبد مناف کی اولاد! میں ڈرانے والا ہوں ، میری اور تمہاری مثال اس آدمی کی ہے جس نے دشمن کو دیکھا تو وہ خاندان کو بچانے کے لیے چل پڑا اور اسے خطرہ ہوا کہ دشمن اس سے پہلے نہ پہنچ جائے تووہ بلند آواز سے پکارنے لگاؤ : وائے اس کی صبح ( کی تباہی! ) ‘ ‘