حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ - وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ - قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ فِي الصَّلاَةِ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِي سَلَّمْنَا عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْنَا فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَيْكَ فِي الصَّلاَةِ فَتَرُدُّ عَلَيْنَا . فَقَالَ " إِنَّ فِي الصَّلاَةِ شُغُلاً " .
Abdullah (b. Masu'd) reported:We used to greet the Messenger of Allah (ﷺ) while he was engaged in prayer and he would respond to our greeting. But when we returned from the Negus we greeted him and he did not respond to us; so we said: Messenger of Allah. we used to greet you when you were engaged in prayer and you would respond to us. He replied: Prayer demands whole attention
ابن فضیل نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اعمش نے ابراہیم سے حدیث سنائی ، انھوں نے علقمہ سے اور انھوں نے حضرت عبدااللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم رسول اللہ ﷺ کو ، جب آب نماز میں ہوتے تھے سلام کہا کرتے تھے اور آپ ہمار ے سلام کا جواب دیتے تھے جب ہم نجاشی کے ہاں سے واپس آئے ، ہم نے آپ کو ( نماز میں ) سلام کہا تو آپ نے ہمیں جواب نہ دیا ۔ ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! ہم نماز میں آپ کو سلام کہا کرتے تھے اور آ پ ہمیں جواب دیا کرتے تھے ۔ آپ نے فرمایا : ’’ نماز میں ( اس کی اپنی ) مشغولیت ہوتی ہے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، عَنْ يَزِيدَ، - وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ - عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِعَمِّهِ عِنْدَ الْمَوْتِ " قُلْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ لَكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . فَأَبَى فَأَنْزَلَ اللَّهُ { إِنَّكَ لاَ تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ} الآيَةَ .
It is narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah said to his uncle at the time of his death:Make a profession of it that there is no god but Allah and I will bear testimony (of your being a Muslim) on the Day of judgment. But he (Abu Talib) refused to do so. Then Allah revealed this verse: " Verily thou canst not guide to the right path whom thou lovest. And it is Allah Who guideth whom He will and He knoweth best who are the guided" (xxviii)
مروان بن یزید سے ، جو کیسان کے بیٹے ہیں ، حدیث سنائی ، انہوں نے ابو حازم سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے اپنےچچا کی موت کے وقت ان سے کہا : ’’لا اله الا الله کہہ دیں ، میں قیامت کے دن آپ کے لیے اس کے بارے میں گواہی دوں گا ۔ ‘ ‘ لیکن انہوں نے ا نکار کر دیا ۔ کہا : اس پر ا للہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری ، ﴿إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ﴾ ’’بے شک آپ جسے چاہیں راہ راست پر نہیں لا سکتے ... ‘ ‘ آیت کے آخر تک ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي سُبْحَتَهُ حَيْثُمَا تَوَجَّهَتْ بِهِ نَاقَتُهُ .
Ibn 'Umar reported that the Messenger of Allah (ﷺ) used to say Nafl prayer on (the back of) his camel in whatever direction it took him
محمد بن عبداللہ بن نمیر نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عبیداللہ نے نافع سے انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( سفر میں سواری پر ) اپنی نفل نماز پڑھتے تھے آپ کی اونٹنی جس طرف بھی آپ کو لئے ہوئے رخ کرلیتی ۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، وَيَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلٍ، قَالَ مَا كُنَّا نَقِيلُ وَلاَ نَتَغَدَّى إِلاَّ بَعْدَ الْجُمُعَةِ - زَادَ ابْنُ حُجْرٍ - فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Sahl b. Said said:We did not have a siesta or lunch till after the Friday prayer. (Ibn Hajr added: ) "During the lifetime of the Messenger of Allah (ﷺ)
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب ، یحییٰ بن یحییٰ اور علی بن حجر میں سے یحییٰ نے کہا : ہمیں خبر دی اور دوسرے دونوں نے کہا : ہم سے حدیث بیا ن کی عبدالعزیز بن ابی حازم نے اپنے والد ابوحازم سے ، انھوں نے حضرت سہیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم جمعہ کے بعد ہی قیلولہ کرتے اور کھانا کھاتے تھے ۔ ( علی ) ابن حجر نے اضافہ کیا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ۔
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَ الْبَيْعَةِ أَلاَّ نَنُوحَ فَمَا وَفَتْ مِنَّا امْرَأَةٌ إِلاَّ خَمْسٌ أُمُّ سُلَيْمٍ وَأُمُّ الْعَلاَءِ وَابْنَةُ أَبِي سَبْرَةَ امْرَأَةُ مُعَاذٍ أَوِ ابْنَةُ أَبِي سَبْرَةَ وَامْرَأَةُ مُعَاذٍ .
Umm 'Atiyya reported:The Messenger of Allah (ﷺ) took a promise from us along with the oath of Allegiance that we would not lament. But only five among us fulfilled the promise (and they are) Umm Sulaim, and Umm al-'Ala', and the daughter of Abu Sabra the wife of Mu'adh, or daughter of Abu Sabra and wife of Mu'adh
محمد ( بن سیرین ) نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت کے ساتھ ہم سے یہ عہد لیا کہ ہم نو حہ نہیں کریں گی تو ہم میں سے ان پانچ عورتوں : ام سلیم ، امعلاء ابو سیر ہ کی بیٹی ، معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی یا ابو سیرہ کی بیٹی اور معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی کے سواکسی نے ( کماحقہ ) اس کی پاسداری نہیں کی ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو كُرَيْبٍ كُلُّهُمْ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، - عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي، ذَرٍّ قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي حَرَّةِ الْمَدِينَةِ عِشَاءً وَنَحْنُ نَنْظُرُ إِلَى أُحُدٍ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا أَبَا ذَرٍّ " . قَالَ قُلْتُ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " مَا أُحِبُّ أَنَّ أُحُدًا ذَاكَ عِنْدِي ذَهَبٌ أَمْسَى ثَالِثَةً عِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ إِلاَّ دِينَارًا أُرْصِدُهُ لِدَيْنٍ إِلاَّ أَنْ أَقُولَ بِهِ فِي عِبَادِ اللَّهِ هَكَذَا - حَثَا بَيْنَ يَدَيْهِ - وَهَكَذَا - عَنْ يَمِينِهِ - وَهَكَذَا - عَنْ شِمَالِهِ " . قَالَ ثُمَّ مَشَيْنَا فَقَالَ " يَا أَبَا ذَرٍّ " . قَالَ قُلْتُ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " إِنَّ الأَكْثَرِينَ هُمُ الأَقَلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلاَّ مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا " . مِثْلَ مَا صَنَعَ فِي الْمَرَّةِ الأُولَى قَالَ ثُمَّ مَشَيْنَا قَالَ " يَا أَبَا ذَرٍّ كَمَا أَنْتَ حَتَّى آتِيَكَ " . قَالَ فَانْطَلَقَ حَتَّى تَوَارَى عَنِّي - قَالَ - سَمِعْتُ لَغَطًا وَسَمِعْتُ صَوْتًا - قَالَ - فَقُلْتُ لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عُرِضَ لَهُ - قَالَ - فَهَمَمْتُ أَنْ أَتَّبِعَهُ قَالَ ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَهُ " لاَ تَبْرَحْ حَتَّى آتِيَكَ " . قَالَ فَانْتَظَرْتُهُ فَلَمَّا جَاءَ ذَكَرْتُ لَهُ الَّذِي سَمِعْتُ - قَالَ - فَقَالَ " ذَاكَ جِبْرِيلُ أَتَانِي فَقَالَ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِكَ لاَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ " . قَالَ قُلْتُ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قَالَ " وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ " .
Abu Dharr reported:I walked with the Messenger of Allah (ﷺ) on the stony ground of Medina in the afternoon and we were looking at Uhud. The Messenger of Allah (way peace by upon him) said: Abu Dharr! I said: Messenger of Allah, I am here at thy beck and call. He said: What I desire is that Uhud be gold with me and three nights should pass and there is left with me any dinar but one coin which I would keep to pay debt. (I love) to spend it among the servants of Allah like this and he pointed in front of him, and on his right side and on his left side. We then proceeded on and he said: Abu Dharr. I said: At thy beck and call, Messenger of Allah. He (the Holy Prophet) said: The rich would be poor on the Day of Resurrection, but he who spent like this and like this and like this, and he pointed as at the first time. We again went on when he said. Abu Dharr, stay where you are till I come back to you. He (the Holy Prophet) then moved on till he disappeared from my sight He (Abu Dharr) said: I heard a sound and I heard a noise. I said (to myself): The Messenger of Allah (ﷺ) might have met (mishap or an enemy). I wished to follow him but I remembered his command for not departing till he would come back. So I waited for him, and when he came I made a mention of what I heard. He said: it was Gabriel, who came to me and said:" He who dies among your Ummah without associating Anything with Allah would enter Paradise. I said: Even if he committed fornication or theft? He said: Even if he committed fornication or theft
اعمش نے زید بن وہب سے اور انھوں نے حضرت ابوزر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ( ایک رات ) عشاء کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کی کالی پتھریلی زمین پر چل ر ہا تھا اور ہم احد پہاڑ کو دیکھ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " ابو زر رضی اللہ تعالیٰ عنہ !میں نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم حاضر ہوں!فرمایا : " مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ یہ ( کوہ ) احد میرے پاس سونے کا ہو اور میں اس حالت میں تیسری شام کروں کہ میرے پاس اس میں سے ایک دینار بچا ہوا موجود ہو سوائے اس دینار کے جو میں نے قرض ( کی ادائیگی ) کے لئے بچایا ہو ، اور میں اسے اللہ کے بندوں میں اس طرح ( خرچ ) کروں ۔ آپ نے اپنے سامنے دونوں ہاتھوں سے بھر کر ڈالنے کا اشارہ کیا ۔ اس طرح ( خرچ ) کروں ۔ دائیں طرف سے ۔ ۔ ۔ اس طرح ۔ ۔ ۔ بائیں طرف سے ۔ ۔ ۔ " ( ابو زر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : پھر ہم چلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ابو زر! رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم حاضر ہوں!آپ نے فرمایا : " یقیناً زیادہ مالدار ہی قیامت کے دن کم ( مایہ ) ہوں گے ، مگر وہ جس نے اس طرح ، اس طرح اور اس طرح ( خرچ ) کیا ۔ " جس طرح آپ نے پہلی بار کیاتھا ۔ ابوزر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ہم پھر چلے ۔ آپ نے فرمایا : " ابو زر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! میرے واپس آنے تک اسی حالت میں ٹھہرے رہنا ۔ " کہا : آپ چلے یہاں تک کہ میری نظروں سے اوجھل ہوگئے ۔ میں نے شور سا سنا آواز سنی تو میں نے دل میں کہا شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی چیز پیش آگئی ہے ، چنانچہ میں نے پیچھے جانے کا ارادہ کرلیا پھر مجھے آپ کا یہ فرمان یاد آگیا : " میرے آنے تک یہاں سے نہ ہٹنا " تو میں نے آپ کاانتظار کیا ، جب آپ و اپس تشریف لائے تو میں نے جو ( کچھ ) سنا تھا آپ کو بتایا ۔ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ جبرائیل علیہ السلام تھے ، میرے پاس آئے اور بتایا کہ آپ کی امت کاجو فرد اس حال میں فوت ہوگا کہ کسی چیز کو اللہ کے ساتھ شرک نہ کرتاتھا وہ جنت میں داخل ہوگا ۔ میں نے پوچھا : چاہے اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟انھوں نے کہا : چاہے اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا أَبُو غَسَّانَ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، - رضى الله عنه - قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ { وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ} قَالَ فَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا أَرَادَ الصَّوْمَ رَبَطَ أَحَدُهُمْ فِي رِجْلَيْهِ الْخَيْطَ الأَسْوَدَ وَالْخَيْطَ الأَبْيَضَ فَلاَ يَزَالُ يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُ رِئْيُهُمَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ بَعْدَ ذَلِكَ { مِنَ الْفَجْرِ} فَعَلِمُوا أَنَّمَا يَعْنِي بِذَلِكَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ .
Sahl b. Sa'd (Allah be pleased with him) said:When this verse was revealed." Eat and drink till the white streak becomes distinct from the dark streak for you," the person who decided to observe fast tied on one of his feet a black thread and on the other a white thread. And he went on eating and drinking till he could distinguish (between their colour) on seeing them. It was after this that Allah reveal- ed (the words): min al-fajr. And they (the Muslims) came to know that (the word khait) refers to the night and day
ابو غسان ، ابو حازم ، سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو بعض آدمی جب ان میں سے کسی کا روزہ رکھنے کا ارادہ ہوتا تو ا پنے دونوں پاؤں میں سیاہ اور سفید دھاگے باندھ لیتے اور جب تک دونوں دھاگوں میں واضح امتیاز نظر نہ آتا تو کھاتے اور پیتے رہتے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے لفظ " مِنَ الْفَجْرِ " نازل فرمایا تو تب معلوم ہوا کہ سیاہ وسفید دھاگے سے رات اور دن مراد ہے ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - أَنَّهَا قَالَتْ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِحُرْمِهِ حِينَ أَحْرَمَ وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ بِأَطْيَبِ مَا وَجَدْتُ .
A'isha (Allah be pleased with her) reported:I applied the best available perfume I could find to the Messenger of Allah (ﷺ) before he entered upon the state of Ihram and after he was free from it
ابو الرجال ( محمد بن عبد الر حمان بن حارثہ انصاری ) نے اپنی والد ہ ( عمرہ بنت عبد الرحمان رضی اللہ تعالیٰ عنہا بن سعد زرارہ انصار یہ ) سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرا م باند ھتے وقت جب آپ احرا م کا ارادہ فرماتے اور طواف افاضہ کرنے سے پہلے احرا م کھو لتے وقت جو سب سے عمدہ خوشبو پا ئی وہ لگا ئی ۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، - قَالَ ابْنُ مَسْلَمَةَ مَدَنِيٌّ مِنَ الأَنْصَارِ مِنْ وَلَدِ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ - عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ تُنْكَحُ الْعَمَّةُ عَلَى بِنْتِ الأَخِ وَلاَ ابْنَةُ الأُخْتِ عَلَى الْخَالَةِ " .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported:I heard Allah's Messenger (ﷺ) say: Father's sister should not be combined with her brother's daughter, nor the daughter of a sister with her mother's sister
عبدالرحمٰن بن عبدالعزیز نے ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے قبیصہ بن ذؤیب سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " بھائی کی بیٹی پر پھوپھی کو نہ بیاہا جائے اور نہ خالہ کے ہوتے ہوئے بھانجی سے نکاح کیا جائے ۔ " ( اصل مقصود یہی ہے کہ یہ اکٹھی ایک شخص کے نکاح میں نہ آئیں)
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ، بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ الْهَاشِمِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ حُنَيْنٍ بَعَثَ جَيْشًا إِلَى أَوْطَاسٍ فَلَقُوا عَدُوًّا فَقَاتَلُوهُمْ فَظَهَرُوا عَلَيْهِمْ وَأَصَابُوا لَهُمْ سَبَايَا فَكَأَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَحَرَّجُوا مِنْ غِشْيَانِهِنَّ مِنْ أَجْلِ أَزْوَاجِهِنَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ { وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلاَّ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ} أَىْ فَهُنَّ لَكُمْ حَلاَلٌ إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهُنَّ .
Abu Sa'id al-Khudri (Allah her pleased with him) reported that at the Battle of Hanain Allah's Messenger (ﷺ) sent an army to Autas and encountered the enemy and fought with them. Having overcome them and taken them captives, the Companions of Allah's Messenger (may peace te upon him) seemed to refrain from having intercourse with captive women because of their husbands being polytheists. Then Allah, Most High, sent down regarding that:" And women already married, except those whom your right hands possess (iv. 24)" (i. e. they were lawful for them when their 'Idda period came to an end)
یزید بن زُرَیع نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سعید بن ابوعروبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوخلیل صالح سے ، انہوں نے ابوعلقمہ ہاشمی سے اور انہوں نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حنین کے دن ( جنگ میں فتح حاصل کرنے کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوطاس کی جانب ایک لشکر بھیجا ، ان کا دشمن سے سامنا ہوا ، انہوں نے ان ( دشمنوں ) سے لڑائی کی ، پھر ان پر غالب آ گئے اور ان میں سے کنیزیں حاصل کر لیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے بعض لوگوں نے ان کے مشرک خاوندوں ( کی موجودگی ) کی بنا پر ان سے مجامعت کرنے میں حرج محسوس کیا ، اس پر اللہ عزوجل نے اس کے بارے میں ( یہ آیت ) نازل فرمائی : " اور شادی شدہ عورتیں ( بھی حرام ہیں ) سوائے ان ( لونڈیوں ) کے جن کے مالک تمہارے دائیں ہاتھ ہوں ۔ " یعنی جب ان کی عدت پوری ہو جائے تو ( تمہاری لونڈیاں بن جانے کی بنا پر ) وہ تمہارے لیے حلال ہیں
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ بِلاَلٍ - أَخْبَرَنِي يَحْيَى، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ بْنُ حُنَيْنٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، يُحَدِّثُ قَالَ مَكَثْتُ سَنَةً وَأَنَا أُرِيدُ، أَنْ أَسْأَلَ، عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَنْ آيَةٍ، فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْلَهُ حَتَّى خَرَجَ حَاجًّا فَخَرَجْتُ مَعَهُ فَلَمَّا رَجَعَ فَكُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ عَدَلَ إِلَى الأَرَاكِ لِحَاجَةٍ لَهُ فَوَقَفْتُ لَهُ حَتَّى فَرَغَ ثُمَّ سِرْتُ مَعَهُ فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَنِ اللَّتَانِ تَظَاهَرَتَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ أَزْوَاجِهِ فَقَالَ تِلْكَ حَفْصَةُ وَعَائِشَةُ . قَالَ فَقُلْتُ لَهُ وَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ لأُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْ هَذَا مُنْذُ سَنَةٍ فَمَا أَسْتَطِيعُ هَيْبَةً لَكَ . قَالَ فَلاَ تَفْعَلْ مَا ظَنَنْتَ أَنَّ عِنْدِي مِنْ عِلْمٍ فَسَلْنِي عَنْهُ فَإِنْ كُنْتُ أَعْلَمُهُ أَخْبَرْتُكَ - قَالَ - وَقَالَ عُمَرُ وَاللَّهِ إِنْ كُنَّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مَا نَعُدُّ لِلنِّسَاءِ أَمْرًا حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِيهِنَّ مَا أَنْزَلَ وَقَسَمَ لَهُنَّ مَا قَسَمَ قَالَ فَبَيْنَمَا أَنَا فِي أَمْرٍ أَأْتَمِرُهُ إِذْ قَالَتْ لِي امْرَأَتِي لَوْ صَنَعْتَ كَذَا وَكَذَا فَقُلْتُ لَهَا وَمَا لَكِ أَنْتِ وَلِمَا هَا هُنَا وَمَا تَكَلُّفُكِ فِي أَمْرٍ أُرِيدُهُ فَقَالَتْ لِي عَجَبًا لَكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ مَا تُرِيدُ أَنْ تُرَاجَعَ أَنْتَ وَإِنَّ ابْنَتَكَ لَتُرَاجِعُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى يَظَلَّ يَوْمَهُ غَضْبَانَ . قَالَ عُمَرُ فَآخُذُ رِدَائِي ثُمَّ أَخْرُجُ مَكَانِي حَتَّى أَدْخُلَ عَلَى حَفْصَةَ فَقُلْتُ لَهَا يَا بُنَيَّةُ إِنَّكِ لَتُرَاجِعِينَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى يَظَلَّ يَوْمَهُ غَضْبَانَ . فَقَالَتْ حَفْصَةُ وَاللَّهِ إِنَّا لَنُرَاجِعُهُ . فَقُلْتُ تَعْلَمِينَ أَنِّي أُحَذِّرُكِ عُقُوبَةَ اللَّهِ وَغَضَبَ رَسُولِهِ يَا بُنَيَّةُ لاَ يَغُرَّنَّكِ هَذِهِ الَّتِي قَدْ أَعْجَبَهَا حُسْنُهَا وَحُبُّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِيَّاهَا . ثُمَّ خَرَجْتُ حَتَّى أَدْخُلَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ لِقَرَابَتِي مِنْهَا فَكَلَّمْتُهَا فَقَالَتْ لِي أُمُّ سَلَمَةَ عَجَبًا لَكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ قَدْ دَخَلْتَ فِي كُلِّ شَىْءٍ حَتَّى تَبْتَغِي أَنْ تَدْخُلَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَزْوَاجِهِ . قَالَ فَأَخَذَتْنِي أَخْذًا كَسَرَتْنِي عَنْ بَعْضِ مَا كُنْتُ أَجِدُ فَخَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهَا وَكَانَ لِي صَاحِبٌ مِنَ الأَنْصَارِ إِذَا غِبْتُ أَتَانِي بِالْخَبَرِ وَإِذَا غَابَ كُنْتُ أَنَا آتِيهِ بِالْخَبَرِ وَنَحْنُ حِينَئِذٍ نَتَخَوَّفُ مَلِكًا مِنْ مُلُوكِ غَسَّانَ ذُكِرَ لَنَا أَنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَسِيرَ إِلَيْنَا فَقَدِ امْتَلأَتْ صُدُورُنَا مِنْهُ فَأَتَى صَاحِبِي الأَنْصَارِيُّ يَدُقُّ الْبَابَ وَقَالَ افْتَحِ افْتَحْ . فَقُلْتُ جَاءَ الْغَسَّانِيُّ فَقَالَ أَشَدُّ مِنْ ذَلِكَ اعْتَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَزْوَاجَهُ . فَقُلْتُ رَغِمَ أَنْفُ حَفْصَةَ وَعَائِشَةَ . ثُمَّ آخُذُ ثَوْبِي فَأَخْرُجُ حَتَّى جِئْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ يُرْتَقَى إِلَيْهَا بِعَجَلَةٍ وَغُلاَمٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَسْوَدُ عَلَى رَأْسِ الدَّرَجَةِ فَقُلْتُ هَذَا عُمَرُ . فَأُذِنَ لِي . قَالَ عُمَرُ فَقَصَصْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هَذَا الْحَدِيثَ فَلَمَّا بَلَغْتُ حَدِيثَ أُمِّ سَلَمَةَ تَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَإِنَّهُ لَعَلَى حَصِيرٍ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ شَىْءٌ وَتَحْتَ رَأْسِهِ وِسَادَةٌ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ وَإِنَّ عِنْدَ رِجْلَيْهِ قَرَظًا مَضْبُورًا وَعِنْدَ رَأْسِهِ أُهُبًا مُعَلَّقَةً فَرَأَيْتُ أَثَرَ الْحَصِيرِ فِي جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَبَكَيْتُ فَقَالَ " مَا يُبْكِيكَ " . فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ كِسْرَى وَقَيْصَرَ فِيمَا هُمَا فِيهِ وَأَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ لَهُمَا الدُّنْيَا وَلَكَ الآخِرَةُ " .
Abdullah b. Abbas (Allah be pleased with tlicm) reported:I intended to ask 'Umar b. al-Khattab (Allah be pleased with him) about a verse, but I waited for one year to ask him out of his fear, until he went out for Pilgrimage and I also accompanied him. As he came back and we were on the way he stepped aside towards an Arak tree to ease himself. I waited for him until he was free. I then walked along with him and said: Commander of the Faithful, who are the two among the wives of Allah's Messenger (ﷺ) who backed up one another (in their demand for extra money)? He said: They were Hafsa and 'A'isha (Allah be pleased with them). I said to him: It is for one year that I intended to ask you about this matter but I could not date so on account of the awe for you. He said: Don't do that. If you think that I have any knowledge, do ask me about that. And if I were to know that, I would inform you. He (the narrator) stated that 'Umar had said: By Allah, during the days of ignorance we had no regard for women until Allah the Exalt- ed revealed about them what He has revealed, and appointed (turn) for them what he appointed. He said: It so happened that I was thinking about some matter that my wife said: I wish you had done that and that. I said to her: It does not concern you and you should not feel disturbed in a matter which I intend to do. She said to me: How strange is it that you, O son of Khattab, do not like anyone to retort upon you, whereas your daughter retorts upon Allah's Messenger (may peace be upou him) until he spends the day in vexation. 'Umar said: I took hold of my cloak, then came out of my house until I visited Hafsa and said to her: O daughter, (I heard) that you retort upon Allah's Messenger (ﷺ) until he spends the day in vexation, whereupon Hafsa said: By Allah, we do retort upon him. I said: You should bear in mind, my daughter, that I warn you against the punishment of Allah and the wrath of His Messenger (ﷺ). You may not be misled by one whose beauty has fascinated her, and the love of Allah's Messenger (ﷺ) for her. I ('Umar) then visited Umm Salama because of my relationship with her and I talked to her. Umm Salama said to me: Umar b. al-Khattab, how strange is it that you meddle with every matter so much so that you are anxious to interfere between Allah's Messenger (ﷺ) and his wives, and this perturbed me so much that I refrained from saying what I had to say, so I came out of her apartment, and I had a friend from the Anar. When I had been absent (from the company of the Holy Prophet) he used to bring me the news and when he had been absent I used to bring him the news, and at that time we dreaded a king of Ghassan. It was mentioned to us that he intended to attack us, and our minds were haunted by him. My friend, the Ansari, came to me, and he knocked at the door and said: Open it, open it. I said: Has the Ghassani come? He said: (The matter is) more serious than that. The Messenger of Allah (ﷺ) has separated himself from his wives. I said: Let the nose of Hafsa and 'A'isha be besmeared with dust. I then took hold of my cloth and went out until I came and found Allah's Messenger (ﷺ) in his attic to which he climbed by means of a ladder made of date-palm, and the servant of Allah's Messenger (ﷺ) who was black had been sitting at the end of the ladder. I said: This is Umar. So permission was granted to me. I narrated this news to Allah's Messenger (ﷺ) and as I narrated the news concerning Umm Salama, Allah's Messenger (ﷺ) smiled. He was lying on the mat and there was nothing between him and that (mat), and under his head there was a pillow made of leather and it was stuffed with plam fibres and at his feet were lying a heap of sant tree (acacia niloctica, meant for dyeing) and near his head there was hanging a hide. And I saw the marks of the maton the side of Allah's Messenger (ﷺ), and so I wept. He said: What makes you weep? I said: Messenger of Allah, the Khusrau and the Ceasars (spendd their lives in) the midst of (luxuries), whereas you being Allah's Messenger (are leading your life in this poverty). Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Don't you like that they should have riches of their world, and you have the Hereafter
سلیمان بن بلال نے کہا : مجھے یحییٰ نے عبید بن حنین سے خبر دی کہ انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا وہ حدیث بیان کر رہے تھے ، انہوں نے کہا : میں نے سال بھر کے انتظار کیا ، میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ایک آیت کے بارے میں دریافت کرنا چاہتا تھا مگر ان کی ہیبت کی وجہ سے ان سے سوال کرنے کی ہمت نہ پاتا تھا ، حتی کہ وہ حج کرنے کے لیے روانہ ہوئے ، میں بھی ان کے ساتھ نکلا ، جب لوٹے تو ہم راستے میں کسی جگہ تھے کہ وہ قضائے حاجت کے لیے پیلو کے درخت کی طرف چلے گئے ، میں ان کے انتظار میں ٹھہر گیا ، حتی کہ وہ فارغ ہو گئے ، پھر میں ان کے ساتھ چل پڑا ، میں نے عرض کی : امیر المومنین! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے وہ کون سی دو خواتین تھیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ایکا کر لیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا : وہ حفصہ اور عائشہ رضی اللہ عنہن تھیں ۔ میں نے کہا : اللہ کی قسم! میں ایک سال سے اس کے بارے میں آپ سے پوچھنا چاہتا تھا مگر آپ کے رعب کی وجہ سے ہمت نہ پاتا تھا ۔ انہوں نے کہا : ایسا نہیں کرنا ، جو بات بھی تم سمجھو کہ مجھے علم ہے ، اس کے بارے میں مجھ سے پوچھ لیا کرو ، اگر میں جانتا ہوا تو تمہیں بتا دوں گا ۔ کہا : اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم! جب ہم جاہلیت کے زمانے میں تھے تو عورتوں کو کسی شمار میں نہ رکھتے تھے ، حتی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں جو نازل کیا ، سو نازل کیا ، اور جو ( مرتبہ ) انہیں دینا تھا سو دیا ۔ انہوں نے کہا : ایک مرتبہ میں کسی معاملے میں لگا ہوا تھا ، اس کے متعلق سوچ بچار کر رہا تھا کہ مجھے میری بیوی نے کہا : اگر آپ ایسا ایسا کر لیں ( تو بہتر ہو گا ۔ ) میں نے اسے جواب دیا : تمہیں اس سے کیا سروکار؟ اور یہاں ( اس معاملے میں ) تمہیں کیا دلچسپی ہے؟ اور ایک کام جو میں کرنا چاہتا ہوں اس میں تمہارا تکلف ( زبردستی ٹانگ اڑانا ) کیسا؟اس نے مجھے جواب دیا : ابن خطاب! آپ پر تعجب ہے! آپ یہ نہیں چاہتے کہ آپ کے بارے آگے بات کی جائے ، جبکہ آپ کی بیٹی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے پلٹ کر جواب دیتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دن بھر اس سے ناراض رہتے ہیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں ( اسی وقت ) اپنی چادر پکڑتا ہوں اور اپنی جگہ سے نکل کھڑا ہوتا ہوں ، یہاں تک کہ حفصہ کے پاس پہنچتا ہوں ۔ جا کر میں نے اس سے کہا : بٹیا! تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے جواب دیتی ہو کہ وہ سارا دن ناراض رہتے ہیں ۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا : اللہ کی قسم! ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دے لیتی ہیں ۔ میں نے کہا : جان لو میں تمہیں اللہ کی سزا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضی سے ڈرا رہا ہوں ، میری بیٹی! تمہیں وہ ( عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے رویے کی بنا پر ) دھوکے میں نہ ڈال دے جسے اپنے حسن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے سے محبت پر ناز ہے ۔ پھر میں نکلا حتی کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں آیا ، کیونکہ میری ان سے قرابت داری تھی ۔ میں نے ان سے بات کی تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے مجھے جواب دیا : ابن خطاب تم پر تعجب ہے! تم ہر کام میں دخل اندازی کرتے ہو حتی کہ تم چاہتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی ازواج کے مابین بھی دخل دو؟ انہوں نے مجھے اس طرح آڑے ہاتھوں لیا کہ جو ( عزم ) میں ( دل میں ) پا رہا تھا ( کہ میں ازواجِ مطہرات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جواب دینے سے روک لوں گا ) مجھے توڑ کر اس سے الگ کر دیا ۔ چنانچہ میں ان کے ہاں سے نکل آیا ۔ میرا ایک انصاری ساتھی تھا ، جب میں ( آپ کی مجلس سے ) غیر حاضر ہوتا تو وہ میرے پاس ( وہاں کی ) خبر لاتا اور جب وہ غیر حاضر ہوتا تو میں اس کے پاس خبر لے آتا ۔ ہم اس زمانے میں غسان کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ سے ڈر رہے تھے ۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ وہ ہم پر چڑھائی کرنا چاہتے ہے ۔ اس ( کی وجہ ) سے ہمارے سینے ( اندیشوں سے ) بھرے ہوئے تھے ۔ ( اچانک ایک دن ) میرا انصاری دوست آ کر دروازہ کھٹکھٹانے لگا اور کہنے لگا : کھولو ، کھولو! میں نے پوچھا : غسانی آ گیا ہے؟ اس نے کہا : اس سے بھی زیادہ سنگین معاملہ ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے علیحدگی اختیار کر لی ہے ۔ میں نے کہا : حفصہ اور عائشہ رضی اللہ عنھن کی ناک خاک آلود ہو! پھر میں اپنے کپرے لے کر نکل کھڑا ہوا ، حتی کہ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ) حاضر ہوا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالا خانے میں تھے جس پر سیڑھی کے ذریعے چڑھ کر جانا ہوتا تھا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک سیاہ فام غلام سیڑھی کے سرے پر بیٹھا ہوا تھا ۔ میں نے کہا : یہ عمر ہے ( خدمت میں حاضری کی اجازت چاہتا ہے ) ، تو مجھے اجازت عطا ہوئی ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ ساری بات بیان کی ، جب میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی بات پر پہنچا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے ۔ آپ ایک چٹائی پر ( لیٹے ہوئے ) تھے ، آپ کے ( جسم مبارک ) اور اس ( چٹائی ) کے درمیان کچھ نہ تھا ۔ آپ کے سر کے نیچے چمڑے کا ایک تکیہ تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی ۔ آپ کے پاؤں کے قریب کیکر کی چھال کا چھوٹا سا گٹھا پڑا تھا اور آپ کے سر کے قریب کچھ کچے چمڑے لٹکے ہوئے تھے ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو پر چٹائی کے نشان دیکھے تو رو پڑا ۔ آپ نے پوچھا : " تمہیں کیا رلا رہا ہے؟ " عرض کی : اے اللہ کے رسول! کسریٰ اور قیصر دونوں ( کفر کے باوجود ) اُس ناز و نعمت میں ہیں جس میں ہیں اور آپ تو اللہ کے رسول ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تمہیں پسند نہیں کہ ان کے لیے ( صرف ) دنیا ہو اور تمہارے لیے آخرت ہو
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كُنَّا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَبْتَاعُ الطَّعَامَ فَيَبْعَثُ عَلَيْنَا مَنْ يَأْمُرُنَا بِانْتِقَالِهِ مِنَ الْمَكَانِ الَّذِي ابْتَعْنَاهُ فِيهِ إِلَى مَكَانٍ سِوَاهُ قَبْلَ أَنْ نَبِيعَهُ .
Ibn Umar (Allah be pleased with them) reported:We used to buy foodgrains during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ). He (the Holy Prophet) would then send to us one who commanded us to take them (the foodgrains) to a place other than the one where we had bought them before we sold it
یحییٰ بن یحییٰ نے سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم غلہ خریدا کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم پر ایسے آدمی مقرر فرماتے جو ہمیں حکم دیتے کہ اسے فروخت کرنے سے پہلے اس جگہ سے جہاں ہم نے اسے خریدا تھا ، کسی دوسری جگہ منتقل کریں
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، . أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ " .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Delay (in the payment of debt) on the part of a rich man is injustice, and when one of you is retired to a rich man, he should follow him
اعرج ( عبدالرحمٰن بن ہرمز مدنی ) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " غنی آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب تم میں سے کسی کو کسی مال دار ( سے وصولی ) پر لگایا جائے تو اسے لگ جانا چاہئے ۔
وَحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " مِيرَاثٌ لأَهْلِهَا " . أَوْ قَالَ " جَائِزَةٌ " .
This hadith is narrated on the authority of Qatada with the same chain of transmitters
سعید نے ہمیں قتادہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، البتہ انہوں ( قتادہ ) نے کہا : " اس کے خاندان کی وراثت " کہا یا " جائز " کہا
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، أَنَّ أَيُّوبَ، حَدَّثَهُ أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةِ بَعْدَ أَنْ رَجَعَ مِنَ الطَّائِفِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ أَعْتَكِفَ يَوْمًا فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَكَيْفَ تَرَى قَالَ " اذْهَبْ فَاعْتَكِفْ يَوْمًا " . قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ أَعْطَاهُ جَارِيَةً مِنَ الْخُمْسِ فَلَمَّا أَعْتَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَبَايَا النَّاسِ سَمِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَصْوَاتَهُمْ يَقُولُونَ أَعْتَقَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَقَالَ مَا هَذَا فَقَالُوا أَعْتَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَبَايَا النَّاسِ . فَقَالَ عُمَرُ يَا عَبْدَ اللَّهِ اذْهَبْ إِلَى تِلْكَ الْجَارِيَةِ فَخَلِّ سَبِيلَهَا .
Abdullah b. 'Umar reported that 'Umar b. Khattab asked the Messenger of Allah (ﷺ) as he was at ji'rana (a town near Mecca) on his way back from Ta'if:Messenger of Allah, I had taken a vow during the days of Ignorance that I would observe I'tikaf for one day in the Sacred Mosque. So what is your opinion? He said: Go and observe I'tikaf for a day. And Allah's Messenger (ﷺ) gave him a slave girl out of the one-fifth (of the spoils of war meant for the Holy Prophet). And when Allah's Messenger (inay peace be upon him) set the war prisoners free. 'Umar b. Khattab heard their voice as they were saying: Allah's Messenger (ﷺ) has set as free. He (Hadrat 'Umar) said: What is this? They said: Allah's Messenger (ﷺ) has set free the prisoners of war (which had fallen to the lot of people). Thereupon he (Hadrat 'Umar) said: Abdullah, go to that slave-girl and set her free
جریر بن حازم نے ہمیں حدیث سنائی کہ ایوب نے انہیں حدیث بیان کی ، انہیں نافع نے حدیث سنائی ، انہیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا ، آپ اس وقت طائف سے لوٹنے کے بعد جعرنہ میں ( ٹھہرے ہوئے ) تھے ، انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! میں نے جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ میں ایک دن مسجد حرام میں اعتکاف کروں گا ، آپ کی کیا رائے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جاؤ اور ایک دن کا اعتکاف کرو ۔ "" کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خُمس سے ایک لونڈی عطا فرمائی تھی ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے قیدیوں کو آزاد کیا ، تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کی آوازیں سنیں ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں آزاد کر دیا ہے ۔ تو انہوں نے پوچھا : کیا ماجرا ہے؟ لوگوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے قیدیوں کو آزاد کر دیا ہے ۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ( اپنے بیٹے سے ) کہا : عبداللہ! اس لونڈی کے پاس جاؤ اور اسے آزاد کر دو ۔ ( یہ حنین کا موقع تھا)
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - ح وَحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ، الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّ بَعْضَهُمْ قَالَ عَنْ شُعْبَةَ " يُقْضَى " . وَبَعْضُهُمْ قَالَ " يُحْكَمُ بَيْنَ النَّاسِ " .
This hadith has been narrated on the authority of 'Abdullah through another chain of transmitters with a slight variation of words
معاذ بن معاذ ، خالد بن حارث ، محمد بن جعفر اور ابن ابی عدی سب نے شعبہ سے روایت کی ، انہوں نے اعمش سے ، انہوں نے ابووائل سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ، البتہ ان میں سے بعض نے شعبہ سے روایت کرتے ہوئے يقضى کا لفظ کہا اور بعض نے يحكم بين الناس کہا ( معنی وہی ہے)
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ - عَنْ أَيُّوبَ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي رِجَالٌ، مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْهُمْ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ أَنَّ نَافِعًا، أَخْبَرَهُمْ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجَمَ فِي الزِّنَى يَهُودِيَّيْنِ رَجُلاً وَامْرَأَةً زَنَيَا فَأَتَتِ الْيَهُودُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِهِمَا . وَسَاقُوا الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ .
Ibn Umar reported that Allah's Messenger (ﷺ) stoned to death the Jews, both male and female, who had committed adultery. The Jews brought them to Allah's Messenger (may peace he upon him). The rest of the hadith is the same
ابن علیہ نے ہمیں ایوب سے خبر دی ، نیز عبداللہ بن وہب نے کہا : مجھے اہل علم میں سے بہت سے آدمیوں نے جن میں امام مالک بن انس رحمۃ اللہ علیہ بھی شامل ہیں ، خبر دی کہ انہیں نافع نے بتایا ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زنا ( کی حد ) میں دو یہودیوں ، ایک مرد اور ایک عورت کو ، جنہوں نے زنا کیا تھا ، رجم کرایا ۔ یہود انہیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے ۔ ۔ آگے اسی ( سابقہ حدیث کی ) طرح حدیث بیان کی
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَعَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَرِيَّةً إِلَى نَجْدٍ فَخَرَجْتُ فِيهَا فَأَصَبْنَا إِبِلاً وَغَنَمًا فَبَلَغَتْ سُهْمَانُنَا اثْنَىْ عَشَرَ بَعِيرًا وَنَفَّلَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعِيرًا بَعِيرًا .
It has been narrated by Ibn 'Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) sent an expedition to Najd, and I (also) went with the troops. We got camels and goats as spoils of war, and our share amounted to twelve camels per head, and the Messenger of Allah (ﷺ) gave an extra camel to each of us
علی بن مسہر اور عبدالرحیم بن سلیمان نے عبیداللہ بن عمر سے ، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی جانب ایک دستہ بھیجا ، میں بھی اس میں گیا ۔ ہمیں اونٹ اور بکریاں ملیں تو ہمارے حصے بارہ بارہ اونٹوں تک پہنچ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایک اونٹ زائد بھی دیا
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ذَكْوَانَ، - وَهُوَ أَبُو الزِّنَادِ - عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَعْمَلَ رَجُلاً عَلَى الصَّدَقَةِ فَجَاءَ بِسَوَادٍ كَثِيرٍ فَجَعَلَ يَقُولُ هَذَا لَكُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ إِلَىَّ . فَذَكَرَ نَحْوَهُ قَالَ عُرْوَةُ فَقُلْتُ لأَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ أَسَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ مِنْ فِيهِ إِلَى أُذُنِي .
It has been narrated on the authority of Abu Humaid as-Sa'idi that the Messenger of Allah (ﷺ) appointed a man in charge of Sadaqa (authorising him to receive charity from the people on behalf of the State). He came (back to the Holy prophet) with a large number of things and started saying:This is for you and this has been presented to me as a gift. Here follows the tradition that has gone before except that 'Urwa (one of the narrators in the chain of transmitters) asked Abu Humaid: Did you hear it from the Messenger of Allah (himself) (ﷺ)? He replied: My ears heard it from his mouth
عبداللہ بن ذکوان یعنی ابوزناد سے روایت ہے انہوں نے عروہ بن زبیر سے ، انہوں نے ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو صدقات پر عامل مقرر کیا ، وہ بہت زیادہ مال لے کر آیا اور کہنے لگا : یہ آپ لوگوں کا ہے اور یہ مجھے بطور ہدیہ ملا ہے ، پھر اسی ( سابقہ حدیث کی ) طرح بیان کیا ۔ عروہ نے کہا : میں نے حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا آپ نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی؟ انہوں نے کہا : براہِ راست آپ کے دہن مبارک سے اپنے کانوں تک ( آتی ہوئی آواز سے سنی)
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ، - وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ - قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى، يَقُولاَنِ أَصَبْنَا حُمُرًا فَطَبَخْنَاهَا فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اكْفَئُوا الْقُدُورَ .
Adi (he was the son of Thabit) said:I heard al-Bara' and 'Abdullah b. Abu Aufa say: We found domestic asses and we cooked them. Then the announcer of Allah's Messenger (ﷺ) made an announcement that the earthen pots should be turned over
عدی بن ثابت نے کہا : میں نے حضرت براء اورحضرت عبداللہ بن اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، دونوں کہتے تھے کہ ہم نے گدھے پکڑے ۔ ان کو پکانے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کردیا کہ ( ان ) ہانڈیوں کو الٹ دو ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلاَثٍ ثُمَّ قَالَ بَعْدُ " كُلُوا وَتَزَوَّدُوا وَادَّخِرُوا " .
Jabir reported that Allah's Apostle (ﷺ) forbade eating of the flesh of sacrificed animals beyond three (days). but afterwards said:Eat, make a provision, and keep it
۔ ابو زبیر نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن کے بعد قربانیوں کا گوشت کھا نے سے منع فر ما یا تھا پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فر ما یا : " کھا ؤ اور زاددراہ بنا ؤ اور رکھو ۔
وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِ .
The above hadith is narrated through a different chain with slight variation in wording
سفیان بن عینیہ نے زہری سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو ( کے بنے ہوئے ) اور روغن زفت ملے ہوئے برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ۔
وَحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ الدِّمَشْقِيُّ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنِي شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الآخِرَةِ " .
Abu Umama reported Allah's Messenger (ﷺ) having said:He who wore silk in this world would not wear it in the Hereafter
حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " جس شخص نے دنیا میں ریشم پہنا وہ آخرت میں ا س کو نہیں پہنے گا ۔
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا - وَاللَّهِ، - يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ كُنْتُ جَالِسًا بِالْمَدِينَةِ فِي مَجْلِسِ الأَنْصَارِ فَأَتَانَا أَبُو مُوسَى فَزِعًا أَوْ مَذْعُورًا . قُلْنَا مَا شَأْنُكَ قَالَ إِنَّ عُمَرَ أَرْسَلَ إِلَىَّ أَنْ آتِيَهُ فَأَتَيْتُ بَابَهُ فَسَلَّمْتُ ثَلاَثًا فَلَمْ يَرُدَّ عَلَىَّ فَرَجَعْتُ فَقَالَ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَنَا فَقُلْتُ إِنِّي أَتَيْتُكَ فَسَلَّمْتُ عَلَى بَابِكَ ثَلاَثًا فَلَمْ يَرُدُّوا عَلَىَّ فَرَجَعْتُ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ ثَلاَثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَلْيَرْجِعْ " . فَقَالَ عُمَرُ أَقِمْ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةَ وَإِلاَّ أَوْجَعْتُكَ . فَقَالَ أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ لاَ يَقُومُ مَعَهُ إِلاَّ أَصْغَرُ الْقَوْمِ . قَالَ أَبُو سَعِيدٍ قُلْتُ أَنَا أَصْغَرُ الْقَوْمِ . قَالَ فَاذْهَبْ بِهِ .
Abu Sa'id Khudri reported:I was sitting in Medina in the company of the Ansar when Abu Musa came trembling with fear. We said to him: What is the matter? He said: 'Umar (Allah be pleased with him) sent for me. I went to him and paid him salutation thrice at (his) door but he made no response to me and so I came back. Thereupon he ('Umar) said: What stood in your way that you did not turn up? I said: I did come to you and paid you salutations at your door three times but I was not given any response, so I came back as the Messenger of Allah (ﷺ) has said: When any one of you seeks permission three times and he is not granted permission, he should come back. Umar said: Bring a witness to support that you say, otherwise I shall take you to task. Ubayy b. Ka'b said: None should stand with him (as a witness) but the youngest amongst the people. Abu Sa'id said: I am the youngest amongst the people, whereupon he said: Then you go with him (to support his contention)
عمرو بن محمد بن بکیر ناقد نے کہا : ہمیں سفیان بن عینیہ نے حدیث بیان کی ، کہا : اللہ کی قسم!ہمیں یزید بن خصیفہ نے بسر بن سعید سے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : میں مدینہ منورہ میں انصار کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا اتنے میں ابو موسیٰ ڈرے سہمے ہوئے آئے ، ہم نے ان سے پوچھا آپ کو کیا ہوا؟ انھوں نے بتایا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میری طرف پیغام بھیجا ہے کہ میں ان کے پاس آؤں ، میں ان کے دروازے پر گیا اور تین مرتبہ سلام کیا انھوں نے مجھے سلام کا جواب نہیں دیا تو میں لوٹ آیا ، انھوں نے کہا : آپ کو ہمارے پاس آنے سے کس بات نے روکا؟میں نے کہا : میں آیا تھا ، آپ کے دروازے پر کھڑے تین بار سلام کیا ، آپ لوگوں نے مجھے جواب نہیں دیا ، اس لئے میں لوٹ گیا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : "" جب تم میں سے کوئی شخص تین باراجازت مانگے اور اسے اجازت نہ دی جائے تو وہ لوٹ جائے ۔ "" حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : اس پر گواہی پیش کرو ورنہ میں تم کو سزا دوں گا ۔ حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ان کے ساتھ صرف وہ شخص جا کرکھڑا ہوگا جو قوم میں سے سب سے کم عمر ہے ، حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے کہا کہ میں سب سے کم عمر ہوں توانھوں نے کہا : تم ان کے ساتھ جاؤ ( اور گواہی دو)
وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
This hadith hilt been reported on the authority of Ma'mar with the same chain of transmitters
عبد الرزاق نے کہا : معمر نے ہمیں اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند خبر دی ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ رَأَى قَوْمًا يَتَوَضَّئُونَ مِنَ الْمِطْهَرَةِ فَقَالَ أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " وَيْلٌ لِلْعَرَاقِيبِ مِنَ النَّارِ " .
Abu Huraira reported:He saw people perform ablution with the help of a water jar and he said: Complete the Wudu for i heard Abu al-Qasim (ﷺ) say: Woe to the hamstrings because of hell-fire
شعبہ نےمحمد بن زیاد سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سےروایت کی کہ انہوں نے کچھ لوگوں کو وضو کے برتن سے وضو کرتے دیکھا تو کہا : وضواچھی طرح کرو میں نے حضرت ابو القاسم ( محمد ) ﷺ سےسنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’کونچوں کے لیے آگ کاعذاب ہے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِهِ فَقَالَ " هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمُ الْبَارِحَةَ رُؤْيَا " .
Samura b. Jundab reported that when Allah's Messenger (ﷺ) had performed his dawn prayer he turned his face towards them (that is towards his Companions) and said:Did any one of you see any vision last night?
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھنے کےبعد لوگوں کی طرف رخ کرتے اور فرماتے : " تم میں سے کسی نے گزشتہ رات کوئی خواب دیکھا؟
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، كِلاَهُمَا عَنْ جَرِيرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، جَمِيعًا عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ، اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . بِنَحْوِ حَدِيثِ الأَعْمَشِ وَفِي حَدِيثِ شُعْبَةَ عَنْ مُغِيرَةَ، سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، .
This hadith has been narrated on the authority of 'Abdullah through another chain of transmitters
جریر اور شعبہ نے مغیرہ سے ، انھوں نے ابو وائل سے ، انھوں نے حضرت عبد اللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اعمش کی حدیث کے مانند روایت کی ۔ شعبہ کی مغیرہ سے روایت ( کی سند ) میں یہ الفا ظ ہیں : میں نے ابو وائل سے سنا ۔
حَدَّثَنَاهُ عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، كُلُّهُمْ عَنْ يَعْقُوبَ، بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يَحْيَى، بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُثْمَانَ وَعَائِشَةَ حَدَّثَاهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عُقَيْلٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ .
This hadith has been transmitted on the authority of Uthman and A'isha with the same wording
صالح بن کیسان نے ابن شہاب سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے یحییٰ بن سعید بن عاص نے بتایا ، انھیں سعید بن عاص نے خبر دی کہ حضرت عثمان اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انھیں حدیث سنائی کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( حاضر ہونے کی ) اجازت طلب کی ، پھر زہری سے عقیل کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ أُسَامَةَ، - وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ - أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ، مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ كُرَيْزٍ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا، هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ دَاوُدَ وَزَادَ وَنَقَصَ وَمِمَّا زَادَ فِيهِ " إِنَّ اللَّهَ لاَ يَنْظُرُ إِلَى أَجْسَادِكُمْ وَلاَ إِلَى صُوَرِكُمْ وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ " . وَأَشَارَ بِأَصَابِعِهِ إِلَى صَدْرِهِ .
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Huraira with some addition (and it is this):" Verily Allah does not look to your bodies nor to your faces but He looks to your hearts," and he pointed towards the heart with his fingers
اسامہ بن زید سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عامر بن کریز کے آزاد کردہ غلام ابوسعید کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاَ اس کے بعد داؤد کی حدیث کی طرح بیان کیا ، کچھ چیزیں زیادہ بیان کیں اور کچھ کم ، زائد بیان کردہ باتوں میں سے ایک یہ ہے : " اللہ تعالیٰ تمہارے جسموں کو دیکھتا ہے نہ تمہاری صورتوں کو لیکن وہ تمہارے دلوں کی طرف دیکھتا ہے ۔ " اور آپ نے اپنی انگلیوں سے اپنے سینے کی طرف اشارہ کیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، وَيُونُسُ، عَنِ ابْنِ، شِهَابٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنْ أَوْلاَدِ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ " .
Abu Huraira reported that Allah's Messenger (ﷺ) was asked about the children of the polytheists, whereupon he said:It is Allah Who knows best what they would be doing
معمر ، شعیب اور معقل بن عبیداللہ نے زہری سے یونس اور ابن ابی ذئب کی سند کے ساتھ ان دونوں کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ، مگر شعیب اور معقل کی حدیث میں ( مشرکین کی اولاد کی بجائے ) " مشرکین کے چھوٹے بچوں " کے الفاظ ہیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ الْبَجَلِيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Two are the expressions which are light on the tongue, but heavy in scale, dear to the Compassionate One:" Hallowed be Allah and praise is due to Him" ;" Hallowed be Allah, the Great
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دو کلمے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں اور میزان میں بھاری ہیں اور اللہ کو بہت محبوب ہیں : " سبحان الله وبحمده سبحان العظيم " اللہ ہر اس چیز سے پاک ہے جو اس کے شایان شان نہیں اور سب حمد اسی کو سزاوار ہے ، اللہ ہر اس چیز سے پاک ہے جو اس کے شایان شان نہیں اور عظمت کی ہر صفت سے متصف ہے ۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَبِي، عُثْمَانَ قَالَ قَالَ يَحْيَى وَحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ يَغَارُ وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَغَارُ وَغَيْرَةُ اللَّهِ أَنْ يَأْتِيَ الْمُؤْمِنُ مَا حَرَّمَ عَلَيْهِ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Allah is self-respecting and a believer is also self-respecting and the respect of Allah is injured if a believer does what He has forbidden him to do
حجاج بن ابی عثمان نے کہا : یحییٰ ( بن ابی کثیر ) نے کہا : مجھے ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ غیرت فرماتا ہے اور بےشک مومن بھی غیرت کرتا ہے ۔ اللہ کی غیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ مومن ایسے کام کا ارتکاب کرے جو اس نے اس پر حرام کیا ہے ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا يُونُسُ، بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلاً، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ يُحْشَرُ الْكَافِرُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ " أَلَيْسَ الَّذِي أَمْشَاهُ عَلَى رِجْلَيْهِ فِي الدُّنْيَا قَادِرًا عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قَالَ قَتَادَةُ بَلَى وَعِزَّةِ رَبِّنَا .
Anas b. Malik reported that a person said:Allah's Messenger, how the non-believers be made to assemble on the Day of Resurrection (by crawling) on their faces? Thereupon he said: Is He Who is powerful to make them walk on their feet not powerful enough to make them (crawl) upon their faces on the Day of Resurrection? Qatada said: Of course, it is so. (He adjured): By the might of our Lord
شیبان نے ہمیں قتادہ سے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کے روز کافر کو کس طرح منہ کے بل میدان حشر میں لایا جائے گا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کہ جس نے دنیا میں پاؤں کے بل چلایا ہےوہ اس بات پر قادر نہیں کہ قیامت کے دن اسے منہ کے بل چلائے؟ "" قتادہ نے ( حدیث سنانے کے بعد ) کہا : کیوں نہیں ، ہمارے رب کی عزت کی قسم! ( وہ قادر ہے)
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " احْتَجَّتِ النَّارُ وَالْجَنَّةُ فَقَالَتْ هَذِهِ يَدْخُلُنِي الْجَبَّارُونَ وَالْمُتَكَبِّرُونَ . وَقَالَتْ هَذِهِ يَدْخُلُنِي الضُّعَفَاءُ وَالْمَسَاكِينُ فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِهَذِهِ أَنْتِ عَذَابِي أُعَذِّبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ - وَرُبَّمَا قَالَ أُصِيبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ - وَقَالَ لِهَذِهِ أَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا مِلْؤُهَا " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as say- ing:There was a dispute between the Hell and the Paradise and it (the Hell) said: The haughty and the proud would find abode in me. And the Paradise said: The meek and the humble would find their abode in me. Thereupon Allah, the Exalted and Glorious, (addressing the Hell) said: You are (the means) of My punishment by which I punish those of My servants whom I wish. (And addressing the Paradise) He said: You are only My Mercy by means of which 1 shall show mercy to those whom I wish, but each one of you would be full
سفیان نے ابو زناد سے ، انھوں نے اعرج سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دوزخ اور جنت میں مباحثہ ہوا تو اس ( دوزخ ) نے کہا : میرے اندر جبار اور متکبر داخل ہوں گے ۔ اور اس ( جنت ) نے کہا : میرے اندر ( اسباب دنیا ک اعتبار سے ) ضعیف اور مسکین لوگ داخل ہوں گے ۔ اللہ عزوجل نے اس ( دوزخ ) سے کہا : تم میرا عذاب ہو ، تمہارے ذریعے سے میں جنھیں چاہوں گا عذاب دوں گا ۔ یا شاید فرمایا : جنھیں چاہوں گا مبتلا کروں گا ۔ اور اس ( جنت ) سے کہا : تو میری رحمت ہے اور تمہارے ذریعے سے جس پرچاہوں گا رحم کروں گا اور تم دونوں کے لئے وہ مقدار ہوگی جو اس کو بھر دے گی ۔
وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمْ غَسْلُ الرِّجْلَيْنِ .
This hadith is narrated by Abu Kuraib. Ibn Numair and others, all on the authority of Hisham with the same chain of transmitters, but in their narration these words are not there:" washed his feet
جریر ، علی بن مسہر اور ابن نمیر نے ہشام کی اسی سند کے ساتھ ( یہ ) حدیث روایت کی لیکن ان ( تینوں ) کی حدیث میں پاؤں دھونے کا ذکر نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يُوشِكُ الْفُرَاتُ أَنْ يَحْسِرَ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ فَمَنْ حَضَرَهُ فَلاَ يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The Euphrates would soon uncover a mountain of gold but he who is present there should not take anything from that
عبد الرحمٰن اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " عنقریب دریائے فرات سونے کے ایک پہاڑ کو ظاہر کردےگا ۔ جو شخص وہاں موجود ہووہ اس میں سے کچھ نہ لے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ صَلَّى صَلاَةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهْىَ خِدَاجٌ - ثَلاَثًا - غَيْرُ تَمَامٍ " . فَقِيلَ لأَبِي هُرَيْرَةَ إِنَّا نَكُونُ وَرَاءَ الإِمَامِ . فَقَالَ اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " قَالَ اللَّهُ تَعَالَى قَسَمْتُ الصَّلاَةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ فَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ { الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} . قَالَ اللَّهُ تَعَالَى حَمِدَنِي عَبْدِي وَإِذَا قَالَ { الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} . قَالَ اللَّهُ تَعَالَى أَثْنَى عَلَىَّ عَبْدِي . وَإِذَا قَالَ { مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ} . قَالَ مَجَّدَنِي عَبْدِي - وَقَالَ مَرَّةً فَوَّضَ إِلَىَّ عَبْدِي - فَإِذَا قَالَ { إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ} . قَالَ هَذَا بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ . فَإِذَا قَالَ { اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ * صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ} . قَالَ هَذَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ " . قَالَ سُفْيَانُ حَدَّثَنِي بِهِ الْعَلاَءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ دَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ مَرِيضٌ فِي بَيْتِهِ فَسَأَلْتُهُ أَنَا عَنْهُ .
Abu Huraira reported:The Apostle of Allah (ﷺ) said: If anyone observes prayer in which he does not recite Umm al-Qur'an, It is deficient [he said this three times] and not complete. It was said to Abu Huraira: At times we are behind the Imam. He said: Recite it inwardly, for he had heard the Messenger of Allah (ﷺ) declare that Allah the Exalted had said: I have divided the prayer into two halves between Me and My servant, and My servant will receive what he asks. When the servant says: Praise be to Allah, the Lord of the universe, Allah the Most High says: My servant has praised Me. And when he (the servant) says: The Most Compassionate, the Merciful, Allah the Most High says: My servant has lauded Me. And when he (the servant) says: Master of the Day of judg- ment, He remarks: My servant has glorified Me. and sometimes He would say: My servant entrusted (his affairs) to Me. And when he (the worshipper) says: Thee do we worship and of Thee do we ask help, He (Allah) says: This is between Me and My servant, and My servant will receive what he asks for. Then, when he (the worshipper) says: Guide us to the straight path, the path of those to whom Thou hast been Gracious not of those who have incurred Thy displeasure, nor of those who have gone astray, He (Allah) says: This is for My servant, and My servant will receive what he asks for. Sufyan said: 'Ala b. 'Abd al-Rahman b. Ya'qub narrated it to me when I went to him and he was confined to his home on account of illness, and I asked him about it
سفیان بن عیینہ نے علاء بن عبد الرحمن سے خبر دی ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبیﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : ’’جس نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں ام القریٰ کی قراءت نہ کی تو ناقص ہے ۔ ‘ ‘ تین مرتبہ فرمایا ، یعنی پوری ہی نہیں ۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا : ہم امام کے پیچھے ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہا : اس کو اپنے دل میں پڑھ لو کیونکہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں نے نماز اپنے اور اپنے بندے کے درمیان آدھی آدھی تقسیم کی ہے اور میرے بندے نے جو مانگا ، اس کا ہے جب بندہ ﴿الحمد لله رب العالمين﴾ ’’سب تعریف اللہ ہی کے لیے جو جہانوں کا رب ہے ۔ ‘ ‘ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندے نے میری تعریف کی ۔ اور جب وہ کہتا ہے : ﴿الرحمن الرحيم﴾ ’’سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہمیشہ مہربانی کرنے والا ۔ ‘ ‘ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندے نے میری ثنا بیان کی ۔ پھر جب وہ کہتا ہے : ﴿ مالك يوم الدين﴾ ’’جزا کے دن کا مالک ۔ ‘ ‘ تو ( اللہ ) فرماتا ہے : میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی ۔ اور ایک دفعہ فرمایا : میرے بندے نے ( اپنے معاملات ) میرے سپرد کر دیے ۔ پھر جب وہ کہتا ہے : ﴿إياك نعبد وإياك نستعين﴾ ’’ہم تیری ہی بندگی کرتے اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں ۔ ‘ ‘ تو ( اللہ ) فرماتا ہے : یہ ( حصہ ) میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرے بندے نے جو مانگا ، اس کا ہے اور جب وہ کہتا ہے : ﴿إهدنا الصراط المستقيم صراط الذين أنعمت عليهم غير المغضوب عليهم والا الضالين﴾ ’’ہمیں راہ راست دکھا ، ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام فرمایا ، نہ غضب کیے گئے لوگوں کی ہو اور نہ گمراہوں کی ۔ ‘ ‘ تو ( اللہ ) فرماتا ہے : یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کا ہے جو اس نے مانگا ۔ سفیان نے کہا : مجھے یہ روایت علاء بن عبد الرحمن بن یعقوب نے سنائی ، میں ان کے پاس گیا ، وہ گھر میں بیمار تھے ۔ میں نے ان سے اس حدیث کے بارے میں سوال کیا ( تو انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی ۔)