بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
36 hadith
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ - وَتَقَارَبَا فِي لَفْظِ الْحَدِيثِ - قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ، قَالَ بَيْنَا أَنَا أُصَلِّي، مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقُلْتُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ ‏.‏ فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ فَقُلْتُ وَاثُكْلَ أُمِّيَاهْ مَا شَأْنُكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَىَّ ‏.‏ فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُصَمِّتُونَنِي لَكِنِّي سَكَتُّ فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَبِأَبِي هُوَ وَأُمِّي مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهُ وَلاَ بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ فَوَاللَّهِ مَا كَهَرَنِي وَلاَ ضَرَبَنِي وَلاَ شَتَمَنِي قَالَ ‏"‏ إِنَّ هَذِهِ الصَّلاَةَ لاَ يَصْلُحُ فِيهَا شَىْءٌ مِنْ كَلاَمِ النَّاسِ إِنَّمَا هُوَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ وَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالإِسْلاَمِ وَإِنَّ مِنَّا رِجَالاً يَأْتُونَ الْكُهَّانَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَلاَ تَأْتِهِمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَمِنَّا رِجَالٌ يَتَطَيَّرُونَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ذَاكَ شَىْءٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ فَلاَ يَصُدَّنَّهُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ الصَّبَّاحِ ‏"‏ فَلاَ يَصُدَّنَّكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ وَمِنَّا رِجَالٌ يَخُطُّونَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَكَانَتْ لِي جَارِيَةٌ تَرْعَى غَنَمًا لِي قِبَلَ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِيَّةِ فَاطَّلَعْتُ ذَاتَ يَوْمٍ فَإِذَا الذِّيبُ قَدْ ذَهَبَ بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِهَا وَأَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي آدَمَ آسَفُ كَمَا يَأْسَفُونَ لَكِنِّي صَكَكْتُهَا صَكَّةً فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَعَظَّمَ ذَلِكَ عَلَىَّ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلاَ أُعْتِقُهَا قَالَ ‏"‏ ائْتِنِي بِهَا ‏"‏ ‏.‏ فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَالَ لَهَا ‏"‏ أَيْنَ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فِي السَّمَاءِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَنْ أَنَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ ‏"‏ ‏.‏
Mu'awiya b. al-Hakam said:While I was praying with the Messenger of Allah (ﷺ), a man in the company sneezed. I said: Allah have mercy on you! The people stared at me with disapproving looks, so I said: Woe be upon me, why is it that you stare at me? They began to strike their hands on their thighs, and when I saw them urging me to observe silence (I became angry) but I said nothing. When the Messenger of Allah (ﷺ) had said the prayer (and I declare that neither before him nor after him have I seen a leader who gave better instruction than he for whom I would give my father and mother as ransom). I swear that he did not scold, beat or revile me but said: Talking to persons is not fitting during the prayer, for it consists of glorifying Allah, declaring his Greatness. and recitation of the Qur'an or words to that effect. I said: Messenger of Allah. I was till recently a pagan, but Allah has brought Islam to us; among us there are men who have recourse to Kahins. He said, Do not have recourse to them. I said. There are men who take omens. That is something which they find in their breasts, but let it not turn their way (from freedom of action). I said: Among us there are men who draw lines. He said: There was a prophet who drew lines, so if they do it as they did, that is allowable. I had a maid-servant who tended goats by the side of Uhud and Jawwaniya. One day I happened to pass that way and found that a wolf had carried a goat from her flock. I am after all a man from the posterity of Adam. I felt sorry as they (human beings) feel sorry. So I slapped her. I came to the Messenger of Allah (ﷺ) and felt (this act of mine) as something grievous I said: Messenger of Allah, should I not grant her freedom? He (the Holy Prophet) said: Bring her to me. So I brought her to him. He said to her: Where is Allah? She said: He is in the heaven. He said: Who am I? She said: Thou art the Messenger of Allah. He said: Grant her freedom, she is a believing woman
ہم سے ابو جعفرمحمد بن صباح اور ابو بکر بن ابی شیبہ نے حدیث بیان کی ۔ حدیث کے لفظوں میں بھی دونوں ایک دوسرے کے قریب ہیں ۔ دونوں نے کہا : ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے حدیث بیان کی ‘ انھوں نے حجاج صوّاف سے انھوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے ‘ انھوں نے ہلال بن ابی میمونہ سے ‘ انھوں نے عطاء بن یسار سے اور انھوں نے حضرت معاویہ بن ابی حکم سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی انھوں نے کہا : میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑ ھ رہاتھا کہ لوگوں میں سے ایک آدمی کو چھینک آئی تو میں نے کہا : یرحمک اللہ’’اللہ تجھ پر رحم کرے ۔ ‘ ‘ لوگوں نے مجھے گھورنا شروع کر دیا ۔ میں نے ( دل میں ) کہا : میری ماں مجھے گم پائے ‘ تم سب کو کیا ہو گیا؟ کہ مجھے گھور رہے ہو پھروہ اپنے ہاتھ اپنی رانوں پر مارنے لگے ۔ جب میں نے انھیں دیکھا کہ وہ مجھے چپ کرا رہے ہیں ( تو مجھے عجیب لگا ) لیکن میں خاموش رہا ‘ جب رسو ل اللہ نماز سے فارغ ہوئے ‘ میرے ماں باپ آپ پرقربان !میں نے آپ سےپہلے اور آپکے بعدآپ سے بہتر کوئی معلم ( سکھانےوالا ) نہیں دیکھا!اللہ کی قسم !نہ تو آپنے مجھے ڈانٹا ‘ نہ مجھے مارا اور نہ مجھے برا بھلا کہا ۔ آپنے فرمایا : ’’یہ نماز ہے اس میں کسی قسم کی گفتگو روانہیں ہے ‘ یہ تو بس تسبیح و تکبیر اور قرآن کی تلاوت ہے ۔ ‘ ‘ یا جیسے رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا ۔ میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول اللہ !ابھی تھوڑا عرصہ پہلے جاہلیت میں تھا ‘ اور اللہ نے اسلام سے نوازدیا ہے ‘ ہم میں سے کچھ لوگ ہیں جو کاہنوں ( پیش گوئی کرنے والے ) کے پاس جاتے ہیں ۔ آپنے فرمایا : ’’تم ان کے پاس نہ جانا ۔ ‘ ‘ میں نے عرض کی : ہم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو بدشگونی لیتےہیں ۔ آپن فرمایا : ’’یہ ایسی بات ہے جو وہ اپنے دلوں میں پاتے ہیں ( ایک طرح کا وہم ہے ) یہ ( وہم ) انھیں ( ان کے ) کسی کام سے نہ روکے ۔ ‘ ‘ ( محمد ) ابن صباح نے روایت کی : ’’یہ تمہیں کسی صورت ( اپنے کاموں سے ) نہ رزکے ۔ ‘ ‘ میں نے عرض کی : ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں کھینچھنے ہیں ۔ ‘ ‘ آپنے فرمایا : ’’سابقہ انبیاء میں سے ایک بنی لکیریں کھینچا کرتے تھے تو جس کی لکیریں ان کے موافق ہو جائیں وہ تو صحیح ہو سکتی ہیں ‘ ‘ ( لیکن اب اس کا جاننا مشکل ہے ۔ ) ( معاویہ بن حکم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ) کہا : میری ایک لونڈی تھی جو احد اور جوانیہ کے اطراف میں میری بکریا چراتی تھی ‘ ایک دن میں اس طرف جاانکلاتو بھیڑیا اس کی بکری لے جا چکا تھا ۔ میں بھی بنی آدم میں سے ایک آدمی ہوں ‘ مجھے بھی اسی طرح افسوس ہوتا ہے جس طرح ان کو ہوتا ہے ( مجھے صبر کرناچاہیے تھا ) لیکن میں نے اسے زور سے ایک تھپڑجڑدیا اس کے بعد رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہو اآپنے میری اس حرکت کو میرے لیے بڑی ( غلط ) حرکت قرار دیا ۔ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول !کیا میں اسے آزادنہ کردوں؟آپ نےفرمایا : ’’اسے میرےپاس لے آؤ ۔ ‘ ‘ میں اسے لےکر آپ کےپاس حاضر ہوا ، آپ نےاس سے پوچھا : ’’اللہ کہا ں ہے؟ ‘ ‘ اس نےکہا : آسمان میں ۔ آپ نےپوچھا : ’’میں کون ہوں؟ ‘ ‘ اس نےکہا : آپ اللہ کےرسول ہیں ۔ تو آپ نے فرمایا : ’’اسے آزاد کردو ، یہ مومنہ ہے
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ جَاءَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَوَجَدَ عِنْدَهُ أَبَا جَهْلٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا عَمِّ قُلْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ‏.‏ كَلِمَةً أَشْهَدُ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ يَا أَبَا طَالِبٍ أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ‏.‏ فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَعْرِضُهَا عَلَيْهِ وَيُعِيدُ لَهُ تِلْكَ الْمَقَالَةَ حَتَّى قَالَ أَبُو طَالِبٍ آخِرَ مَا كَلَّمَهُمْ هُوَ عَلَى مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ‏.‏ وَأَبَى أَنْ يَقُولَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَمَا وَاللَّهِ لأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْكَ ‏"‏ ‏.‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ‏}‏ ‏.‏ وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِي أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏{‏ إِنَّكَ لاَ تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ‏}‏‏.‏
It is reported by Sa'id b. Musayyib who narrated it on the authority of his father (Musayyib b. Hazm) that when Abu Talib was about to die, the Messenger of Allah (ﷺ) came to him and found with him Abu Jahl ('Amr b. Hisham) and 'Abdullah b. Abi Umayya ibn al-Mughirah. The Messenger of Allah (ﷺ) said:My uncle, you just make a profession that there is no god but Allah, and I will bear testimony before Allah (of your being a believer), Abu Jahl and 'Abdullah b. Abi Umayya addressing him said: Abu Talib, would you abandon the religion of 'Abdul-Muttalib? The Messenger of Allah (ﷺ) constantly requested him (to accept his offer), and (on the other hand) was repeated the same statement (of Abu Jahl and 'Abdullah b. Abi Umayya) till Abu Talib gave his final decision and be stuck to the religion of 'Abdul-Muttalib and refused to profess that there is no god but Allah. Upon this the Messenger of Allah remarked: By Allah, I will persistently beg pardon for you till I am forbidden to do so (by God), It was then that Allah, the Magnificent and the Glorious, revealed this verse: " It is not meet for the Prophet and for those who believe that they should beg pardon for the polytheists, even though they were their kith and kin, after it had been made known to them that they were the denizens of Hell" (ix. 113) And it was said to the Messenger of Allah (ﷺ): " Verily thou canst not guide to the right path whom thou lovest. And it is Allah Who guideth whom He will, and He knoweth best who are the guided" (xxviii)
یونس نے ابن شہاب سے ، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے اپنے والد سے ورایت کی کہ جب ابو طالب کی موت کا وقت آیا تو رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لا ئے ۔ آپ نے ان کے پاس ابو جہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ کو موجود پایا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ چچا ! ایک کلمہ لا اله ا لله الله کہہ دیں ، میں اللہ کے ہاں آب کے حق میں اس کا گواہ بن جاؤں گا ۔ ‘ ‘ ابو جہل اور عبد اللہ بن امیہ نے کہا : ابو طالب! آپ عبدالمطلب کے دین کو چھوڑ دیں گے ؟ رسول اللہ ﷺ مسلسل ان کویہی پیش کش کرتے رہے اور یہی بات دہراتے رہے یہاں تک کہ ابو طالب نے ان لوگوں سے آخری بات کرتے ہوئے کہا : ’’وہ عبدالمطلب کی ملت پر ( قائم ) ہیں ‘ ‘ اور لا ا له الا الله کہنے سے انکار کر دیا ۔ تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ اللہ کی قسم ! میں آپ کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعا کرتا رہوں گا جب تک کہ مجھے آپ ( کے حوالے ) سے روک نہ دیا جائے ۔ ‘ ‘ اس پر ا للہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : ’’نبی اور ایمان لانے والوں کے لیے جائز نہیں کہ مشرکین کے لیے مغفرت کی دعا کریں ، خواہ وہ ان کے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں جبکہ ان کے سامنے واضح ہو چکا کہ وہ ( مشرکین ) جہنمی ہیں ۔ ‘ ‘ اللہ تعالیٰ نے ابو طالب کے بارے میں یہ آیت بھی نازل فرمائی اور رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا : ’’ ( اے نبی ! ) بے شک آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے لیکن اللہ جس کو چاہے ہدایت دے دیتا ہے او روہ سیدھی راہ پانے والوں کے بارے میں زیادہ آگاہ ہے ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، كِلاَهُمَا عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، أَمَرَ مُؤَذِّنَهُ - فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ - فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ ‏.‏ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ وَذَكَرَ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ فَعَلَهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي ‏.‏ يَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Abdullah b. Harith reported that the Mu'adhdhin of Ibn 'Abba said Adhan on Friday (and then made the announcement to say prayer in houses) because it was a rainy day; as it has been narrated by Ma'mar and others, and in this hadith it was mentioned:He who did it, i. e. the Messenger of Allah (ﷺ), was better than I
شعبہ اور معمر دونوں نے ( اپنی اپنی سند سے روایت کرتے ہوئے ) عاصم احول سے اور انھوں نے عبداللہ بن حارث سے روایت کی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے موذن کو حکم دیا ۔ معمر کی روایت میں ہے : جمعے کے روز بارش کے دن ۔ ۔ ۔ ( آگے ) سابقہ راویوں کی روایت کی طرح ہے ۔ اور معمر کی حدیث میں یہ بھی ہے : یہ کام انھوں نے کیا جو مجھ سے بہت زیادہ بہتر ہیں ، یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى، بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ نَرْجِعُ فَنُرِيحُ نَوَاضِحَنَا ‏.‏ قَالَ حَسَنٌ فَقُلْتُ لِجَعْفَرٍ فِي أَىِّ سَاعَةٍ تِلْكَ قَالَ زَوَالَ الشَّمْسِ ‏.‏
Jabir b. 'Abdullah reported:We used to observe (Jumu'a) prayer with the Messenger of Allah (ﷺ) and then we returned and gave rest to our camels used for carrying water. Hassan[ (one of the narrators) said: I asked Ja'far what time that was. He said.. It is the time when the sun passes the meridian
حسن بن عیاش نے جعفر بن محمد سے ، انھوں نے اپنے والد ( محمد ) سے اور انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے ، پھر واپس آتے ، پھر اپنے پانی لانے والے اونٹوں کو آرام کا وقت دیتے ، حسن نےکہا : میں نے جعفر سے کہا : یہ ( نماز ) کس وقت ہوتی؟انھوں نے کہا : سورج کے ڈھلنے کے وقت ۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، يَقُولُ أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ، تَقُولُ لَمَّا جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَتْلُ ابْنِ حَارِثَةَ وَجَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُعْرَفُ فِيهِ الْحُزْنُ قَالَتْ وَأَنَا أَنْظُرُ مِنْ صَائِرِ الْبَابِ - شَقِّ الْبَابِ - فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ نِسَاءَ جَعْفَرٍ وَذَكَرَ بُكَاءَهُنَّ فَأَمَرَهُ أَنْ يَذْهَبَ فَيَنْهَاهُنَّ فَذَهَبَ فَأَتَاهُ فَذَكَرَ أَنَّهُنَّ لَمْ يُطِعْنَهُ فَأَمَرَهُ الثَّانِيَةَ أَنْ يَذْهَبَ فَيَنْهَاهُنَّ فَذَهَبَ ثُمَّ أَتَاهُ فَقَالَ وَاللَّهِ لَقَدْ غَلَبْنَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَتْ فَزَعَمَتْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ اذْهَبْ فَاحْثُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ مِنَ التُّرَابِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ أَرْغَمَ اللَّهُ أَنْفَكَ وَاللَّهِ مَا تَفْعَلُ مَا أَمَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَا تَرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْعَنَاءِ ‏.‏
A'isha reported that when the Messenger of Allah (ﷺ) was told that Ibn Haritha, Ja'far b. Abu Talib and Abdullah b. Rawaha were killed, he sat down, showing signs of grief. She (further) said:I was looking (at him) through the crevice of the door. A man came to him and mentioned that Ja'far's women were lamenting. He (the Holy Prophet) commanded him to go and forbid them (to do so). So he went away but came back and told (him) that they did not obey (him). He commanded him a second time to go and forbid them (to do so). He again went but came back to him and said: I swear by God, Messenger of Allah, that they have overpowered us. She ('A'isha) said that she thought the Messenger of Allah (ﷺ) had told (her) to throw dust in their mouths. Thereupon 'A'isha said: May Allah humble you! You did not do what Allah's Messenger (ﷺ) ordered you, nor did you stop annoying Allah's Messenger (ﷺ)
‏عبد الوہاب نے کہا : میں نے یحییٰ بن سعید سے سنا وہ کہہ رہے تھے مجھے عمرہ نے بتا یا کہ انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا وہ فر ما رہی تھیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زید بن حارثہ جعفر بن ابی طالب اور عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قتل ( شہید ) ہو نے کی خبر پہنچی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح ) مسجد میں ) بیٹھے کہ آپ ( کے چہرہ انور ) پر غم کا پتہ چل رہا تھا کہا : میں دروازے کی جھری ۔ ۔ ۔ دروازے کی درز ۔ ۔ ۔ ے دیکھ رہی تھی کہ آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !جعفر ( کے خاندان ) کی عورتیں اور اس نے ان کے رونے کا تذکرہ کیا آپ نے اسے حکم دیا کہ وہ جا کر انھیں روکے وہ چلا گیا وہ ( دوبارہ ) آپ کے پاس آیا اور بتا یا کہ انھوں نے اس کی بات نہیں مانی آپ نے اسے دوبارہ حکم دیا کہ وہ جا کر انھیں روکے وہ گیا اور پھر ( تیسری بار ) آپ کے پاس آکر کہنے لگا : اللہ کی قسم !اللہ کے رسول !وہ ہم پر غالب آگئی ہیں کہا : : ان ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جاؤ اور ان کے منہ میں مٹی ڈال دو ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : میں نے ( دل میں ) کہا : اللہ تیری ناک خاک آلود کرے !اللہ کی قسم !نہ تم وہ کا م کرتے ہو جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمھیں حکم دیا ہے اور نہ ہی تم نے ( باربار بتا کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف ( دینا ) ترک کیا ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلاَّمٍ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ، - يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي أُحُدًا ذَهَبًا تَأْتِي عَلَىَّ ثَالِثَةٌ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ إِلاَّ دِينَارٌ أُرْصِدُهُ لِدَيْنٍ عَلَىَّ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported that the Prophet (ﷺ) said:Nothing is more delighting to me than this that Uhud should be of gold for me, and no dinar is left with me out of it before three nights pass except a dinar which I would set aside for the repayment of debt upon me
ربیع بن مسلم نے محمد بن زیادسے اور انھوں نے حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میرے لئے یہ بات خوشی کاباعث نہیں کہ میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور تیسرا دن مجھ پر اس طرح آئے کہ میرے پاس اس میں سے کوئی دینار بچا ہوا موجود ہوسوائے اس دینار کے جس کو میں اپنا قرض چکانے کے لئے رکھ لوں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، - رضى الله عنه - قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ ‏{‏ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ‏}‏ قَالَ لَهُ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجْعَلُ تَحْتَ وِسَادَتِي عِقَالَيْنِ عِقَالاً أَبْيَضَ وَعِقَالاً أَسْوَدَ أَعْرِفُ اللَّيْلَ مِنَ النَّهَارِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ وِسَادَتَكَ لَعَرِيضٌ إِنَّمَا هُوَ سَوَادُ اللَّيْلِ وَبَيَاضُ النَّهَارِ ‏"‏ ‏.‏
Adi b. Hatim (Allah be pleased with him) reported that when (this verse) was revealed:" Until the white streak of the dawn becomes distinct from the dark streak" (ii. 187) Adi b. Hatim said: Messenger of Allah, verily I keep underneath my pillow two strings, one white and the other black, by which I distinguish night from dawn. Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) said: Your pillow seems to be very large. For the word khait implies the blackness of the night and the whiteness of the dawn
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ جب آیت حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ‌ نازل ہوئی ۔ تو حضرت عدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ سے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں نے اپنے تکیے کے نیچے سفید اور سیاہ رنگ کے دو دھاگے رکھ لئے ہیں ۔ جن کی وجہ سے میں رات اور دن میں امتیاز کرلیتا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا تکیہ بہت چوڑا ہے کہ جس میں رات اور دن سماگئے ہیں ۔ وہ ( د ھاگا ) تو رات کی سیاہی اور دن کی روشنی ہے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، - قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، - حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - بِأَىِّ شَىْءٍ طَيَّبْتِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ حِرْمِهِ قَالَتْ بِأَطْيَبِ الطِّيبِ‏.‏
Uthman b. 'Urwa reported on the authority of his father that he said:I asked 'A'isha with what thing she perfumed the Messenger of Allah (ﷺ) at the time of entering upon the state of Ihram. She said: With the best of perfume
سفیان نے ہمیں حدیث بیان کی کہا : ہمیں عثمان بن عروہ نے اپنے والد ( عروہ ) سے حدیث بیان کی کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سوال کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرا م باندھتے وقت کو ن سی خوشبو لگا ئی تھی ؟انھوں نے فر ما یا سب سے اچھی خوشبو ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ‏ "‏ لاَ يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا وَلاَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (may peace upon him) having said this:One should not combine a woman and her father's sister, nor a woman and her mother's sister in marriage
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کسی عورت اور اس کی پھوپھی کو ، اور کسی عورت اور اس کی خالہ کو ( نکاح میں ) اکٹھا نہ کیا جائے
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدِي رَجُلٌ قَاعِدٌ فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَرَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ ‏.‏ قَالَتْ فَقَالَ ‏ "‏ انْظُرْنَ إِخْوَتَكُنَّ مِنَ الرَّضَاعَةِ فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ‏
A'isha (Allah be pleased with her) reported:Allah's Messenger (ﷺ) visited me when a man was sitting near me, and he seemed to disapprove of that. And I saw signs of anger on his face and I said: Messenger of Allah, he is my brother by forsterage, whereupon he said: Consider who your brothers are because of fosterage since fosterage is through hunger (i. e. in infancy)
ابواحوص نے ہمیں اشعث سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے ، اور انہوں نے مسروق سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے جبکہ میرے پاس ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا ۔ یہبات آپ پر گراں گزری ، اور میں نے آپ کے چہرے پر غصہ دیکھا ، کہا : تو میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! یہ رضاعت ( کے رشتے سے ) میرا بھائی ہے ، کہا : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ( تم خواتین ) اپنے رضاعی بھائیوں ( کے معاملے ) کو دیکھ لیا کرو ( اچھی طرح غور کر لیا کرو ) کیونکہ رضاعت بھوک ہی سے ( معتبر ) ہے
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَوَجَدَ النَّاسَ جُلُوسًا بِبَابِهِ لَمْ يُؤْذَنْ لأَحَدٍ مِنْهُمْ - قَالَ - فَأُذِنَ لأَبِي بَكْرٍ فَدَخَلَ ثُمَّ أَقْبَلَ عُمَرُ فَاسْتَأْذَنَ فَأُذِنَ لَهُ فَوَجَدَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم جَالِسًا حَوْلَهُ نِسَاؤُهُ وَاجِمًا سَاكِتًا - قَالَ - فَقَالَ لأَقُولَنَّ شَيْئًا أُضْحِكُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ رَأَيْتَ بِنْتَ خَارِجَةَ سَأَلَتْنِي النَّفَقَةَ فَقُمْتُ إِلَيْهَا فَوَجَأْتُ عُنُقَهَا ‏.‏ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ ‏"‏ هُنَّ حَوْلِي كَمَا تَرَى يَسْأَلْنَنِي النَّفَقَةَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى عَائِشَةَ يَجَأُ عُنُقَهَا فَقَامَ عُمَرُ إِلَى حَفْصَةَ يَجَأُ عُنُقَهَا كِلاَهُمَا يَقُولُ تَسْأَلْنَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا لَيْسَ عِنْدَهُ ‏.‏ فَقُلْنَ وَاللَّهِ لاَ نَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَيْئًا أَبَدًا لَيْسَ عِنْدَهُ ثُمَّ اعْتَزَلَهُنَّ شَهْرًا أَوْ تِسْعًا وَعِشْرِينَ ثُمَّ نَزَلَتْ عَلَيْهِ هَذِهِ الآيَةُ ‏{‏ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ‏}‏ حَتَّى بَلَغَ ‏{‏ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا‏}‏ قَالَ فَبَدَأَ بِعَائِشَةَ فَقَالَ ‏"‏ يَا عَائِشَةُ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَعْرِضَ عَلَيْكَ أَمْرًا أُحِبُّ أَنْ لاَ تَعْجَلِي فِيهِ حَتَّى تَسْتَشِيرِي أَبَوَيْكِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ وَمَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَتَلاَ عَلَيْهَا الآيَةَ قَالَتْ أَفِيكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَسْتَشِيرُ أَبَوَىَّ بَلْ أَخْتَارُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الآخِرَةَ وَأَسْأَلُكَ أَنْ لاَ تُخْبِرَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِكَ بِالَّذِي قُلْتُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لاَ تَسْأَلُنِي امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ إِلاَّ أَخْبَرْتُهَا إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَبْعَثْنِي مُعَنِّتًا وَلاَ مُتَعَنِّتًا وَلَكِنْ بَعَثَنِي مُعَلِّمًا مُيَسِّرًا ‏"‏ ‏.‏
Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with them) reported:Abu Bakr (Allah be pleased with him) came and sought permission to see Allah's Messenger (ﷺ). He found people sitting at his door and none amongst them had been granted permission, but it was granted to Abu Bakr and he went in. Then came 'Umar and he sought permission and it was granted to him, and he found Allah's Apostle (ﷺ) sitting sad and silent with his wives around him. He (Hadrat 'Umar) said: I would say something which would make the Prophet (ﷺ) laugh, so he said: Messenger of Allah, I wish you had seen (the treatment meted out to) the daughter ofKhadija when you asked me some money, and I got up and slapped her on her neck. Allah's Messenger (mav peace be upon him) laughed and said: They are around me as you see, asking for extra money. Abu Bakr (Allah be pleased with him) then got up went to 'A'isha (Allah be pleased with her) and slapped her on the neck, and 'Umar stood up before Hafsa and slapped her saying: You ask Allah's Messenger (ﷺ) which he does not possess. They said: By Allah, we do not ask Allah's Messenger (ﷺ) for anything he does not possess. Then he withdrew from them for a month or for twenty-nine days. Then this verse was revealed to him:" Prophet: Say to thy wives... for a mighty reward" (xxxiii. 28). He then went first to 'A'isha (Allah be pleased with her) and said: I want to propound something to you, 'A'isha, but wish no hasty reply before you consult your parents. She said: Messenger of Allah, what is that? He (the Holy Prophet) recited to her the verse, whereupon she said: Is it about you that I should consult my parents, Messenger of Allah? Nay, I choose Allah, His Messenger, and the Last Abode; but I ask you not to tell any of your wives what I have said He replied: Not one of them will ask me without my informing her. God did not send me to be harsh, or cause harm, but He has sent me to teach and make things easy
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت مانگ رہے تھے ۔ انہوں نے لوگوں کو آپ کے دروازے پر بیٹھے ہوئے پایا ۔ ان میں سے کسی کو اجازت نہیں ملی تھی ۔ کہا : ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اجازت ملی تو وہ اندر داخل ہو گئے ، پھر عمر رضی اللہ عنہ آئے ، انہوں نے اجازت مانگی ، انہیں بھی اجازت مل گئی ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غمگین اور خاموش بیٹھے ہوئے پایا ، آپ کی بیویاں آپ کے ارد گرد تھیں ۔ کہا : تو انہوں ( ابوبکر رضی اللہ عنہ ) نے کہا : میں ضرور کوئی ایسی بات کروں گا جس سے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنساؤں گا ۔ انہوں نے کہا : اللہ کے رسول! کاش کہ آپ بنت خارجہ کو دیکھتے جب اس نے مجھ سے نفقہ کا سوال کیا تو میں اس کی جانب بڑھا اور اس کی گردن دبا دی ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے ۔ اور فرمایا : "" یہ بھی میرے اردگرد بیٹھی ہیں ، جیسے تم دیکھ رہے ہو ، اور مجھ سے نفقہ مانگ رہی ہیں ۔ "" ابوبکر رضی اللہ عنہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی جانب اٹھے اور ان کی گردن پر ضرب لگانا چاہتے تھے اور عمر رضی اللہ عنہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی جانب بڑھے اور وہ ان کی گردن پر مارنا چاہتے تھے ، ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو اس سے روک دیا ۔ مسند احمد : 3/328 ) اور دونوں کہہ رہے تھے : تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کا سوال کرتی ہو جو ان کے پاس نہیں ہے ۔ وہ کہنے لگیں : اللہ کی قسم! آج کے بعد ہم کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی چیز کا مطالبہ نہیں کریں گی جو آپ کے پاس نہ ہو گی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ یا انتیس دن تک کے لیے ان سے علیحدگی اختیار کر لی ۔ پھر آپ پر یہ آیت نازل ہوئی : "" اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! آپ اپنی بیویوں سے کہہ دو ۔ "" حتی کہ یہاں پہنچ گئے : "" تم میں سے نیکی کرنے والیوں کے لیے بڑا اجر ہے ۔ "" ( جابر رضی اللہ عنہ نے ) کہا : آپ نے ابتدا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کی اور فرمایا : "" اے عائشہ! میں تمہارے سامنے ایک معاملہ پیش کر رہا ہوں اور پسند کرتا ہوں کہ تم ، اپنے والدین سے مشورہ کر لینے تک اس میں جلدی نہ کرنا ۔ "" انہوں نے کہا : کیا میں آپ کے بارے میں ، اللہ کے رسول! اپنے والدین سے مشورہ کروں گی! بلکہ میں تو اللہ ، اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو چنتی ہوں ، اور آپ سے یہ درخواست کرتی ہو کہ جو میں نے کہا ہے ، آپ اپنی بیویوں میں سے کسی کو اس کی خبر نہ دیں ۔ آپ نے فرمایا : "" مجھ سے جو بھی پوچھے گی میں اسے بتا دوں گا ، اللہ تعالیٰ نے مجھے سختی کرنے والا اور لوگوں کے لیے مشکلات ڈھونڈنے والا بنا کر نہیں بھیجا ، بلکہ اللہ نے مجھے تعلیم دینے والا اور آسانی کرنے والا بنا کر بھیجا ہے
حَدَّثَنَا أَبُو الْهَيْثَمِ، خَالِدُ بْنُ خِدَاشِ بْنِ عَجْلاَنَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ، طَلَبَ غَرِيمًا لَهُ فَتَوَارَى عَنْهُ ثُمَّ وَجَدَهُ فَقَالَ إِنِّي مُعْسِرٌ ‏.‏ فَقَالَ آللَّهِ قَالَ آللَّهِ ‏.‏ قَالَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُنْجِيَهُ اللَّهُ مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلْيُنَفِّسْ عَنْ مُعْسِرٍ أَوْ يَضَعْ عَنْهُ ‏"‏ ‏.‏
Abdullah b. Abu Qatada reported that Abu Qatada (Allah be pleased with him) demanded (the payment of his debt) from his debtor but he disappeared; later on he found him and he said:I am hard up financially, whereupon he said: (Do you state it) by God? He said: By God. Upon this he (Qatada) said: I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: He who loves that Allah saves him from the torments of the Day of Resurrection should give respite to the insolvent or remit (his debt)
حماد بن زید نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اور انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے روایت کی کہ حضرت ابو قتادہ نے اپنے ایک قرض دار کو تلاش کیا تو وہ ان سے چھپ گیا ، پھر ( بعد میں ) انہوں نے اسے پا لیا تو اس نے کہا : میں تنگ دست ہوں ۔ انہوں نے کہا : اللہ کی قسم؟ اس نے جواب دیا : اللہ کی قسم! انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : " جسے یہ بات اچھی لگے کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن کی سختیوں سے نجات دے تو وہ تنگ دست کو سہولت دے یا اسے معاف کر دے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ الْعُمْرَى مِيرَاثٌ لأَهْلِهَا ‏"‏ ‏.‏
Jabir b. Abdullah (Allah be pleased with them) reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:Life grant is the heritage of one upon whom it is conferred
سعید نے ہمیں قتادہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عطاء سے ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " عمریٰ اس کے خاندان ( میں سے وراثت کے حقداروں ) کی میراث ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ أَعْتَكِفَ لَيْلَةً فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ فَأَوْفِ بِنَذْرِكَ ‏"‏ ‏.‏
Ibn 'Umar reported that Umar (b. Khattab) said:Messenger of Allah, I had taken a vow during the days of Ignorance (Jahiliyya) that I would observe I'tikaf for a night in the Sacred Mosque. He (the Holy Prophet) said: Fulfil your vow
یحییٰ بن سعید قطان نے ہمیں عبیداللہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول! میں نے جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ میں ایک رات مسجد حرام میں اعتکاف کروں گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اپنی نذر پوری کرو
وَحَدَّثَنَاهُ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ جَرِيرٍ وَعِيسَى بْنِ يُونُسَ ‏ "‏ لأَنَّهُ سَنَّ الْقَتْلَ ‏"‏ ‏.‏ لَمْ يَذْكُرَا أَوَّلَ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Jarir and 'Isa b. Yunus with a slight variation of words
جریر ، عیسیٰ بن یونس اور سفیان سب نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور جریر اور عیسیٰ بن یونس کی حدیث میں ہے : " کیونکہ اس نے قتل کا طریقہ نکالا تھا ۔ " ان دونوں نے " اول " کا لفظ بیان نہیں کیا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم سَرِيَّةً وَأَنَا فِيهِمْ قِبَلَ نَجْدٍ فَغَنِمُوا إِبِلاً كَثِيرَةً فَكَانَتْ سُهْمَانُهُمُ اثْنَى عَشَرَ بَعِيرًا أَوْ أَحَدَ عَشَرَ بَعِيرًا وَنُفِّلُوا بَعِيرًا بَعِيرًا ‏.‏
It has been narrated on the authority of Ibn Umar that the Prophet (ﷺ) sent an expedition to Najd and I was among the troops. They got a large number of camels as a booty. Eleven or twelve camels fell to the lot of every fighter and each of them also got one extra camel
امام مالک نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک دستہ بھیجا ، میں بھی ان میں تھا ، انہوں نے بہت سے اونٹ غنیمت میں حاصل کیے تو ان کا حصہ بارہ بارہ اونٹ یا گیارہ گیارہ اونٹ تھا اور انہیں ایک ایک اونٹ زائد دیا گیا تھا
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ اسْتَعْمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً مِنَ الأَزْدِ عَلَى صَدَقَاتِ بَنِي سُلَيْمٍ يُدْعَى ابْنَ الأُتْبِيَّةِ فَلَمَّا جَاءَ حَاسَبَهُ قَالَ هَذَا مَالُكُمْ وَهَذَا هَدِيَّةٌ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَهَلاَّ جَلَسْتَ فِي بَيْتِ أَبِيكَ وَأُمِّكَ حَتَّى تَأْتِيَكَ هَدِيَّتُكَ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ خَطَبَنَا فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَسْتَعْمِلُ الرَّجُلَ مِنْكُمْ عَلَى الْعَمَلِ مِمَّا وَلاَّنِي اللَّهُ فَيَأْتِي فَيَقُولُ هَذَا مَالُكُمْ وَهَذَا هَدِيَّةٌ أُهْدِيَتْ لِي ‏.‏ أَفَلاَ جَلَسَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ حَتَّى تَأْتِيَهُ هَدِيَّتُهُ إِنْ كَانَ صَادِقًا وَاللَّهِ لاَ يَأْخُذُ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْهَا شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ إِلاَّ لَقِيَ اللَّهَ تَعَالَى يَحْمِلُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَلأَعْرِفَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ لَقِيَ اللَّهَ يَحْمِلُ بَعِيرًا لَهُ رُغَاءٌ أَوْ بَقَرَةً لَهَا خُوَارٌ أَوْ شَاةً تَيْعِرُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رُئِيَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ ‏"‏ ‏.‏ بَصُرَ عَيْنِي وَسَمِعَ أُذُنِي ‏.‏
It has been reported on the authority of Abu Humaid as-Sa'idi who said:The Messenger of Allah (ﷺ) appointed a man from the Azd tribe called Ibn al-Utbiyya, in charge of Sadaqat to be received from Banu Sulaim. When he came (back), the Messenger of Allah (ﷺ) asked him to render his account. He said: This wealth is for you (i.e. for the public treasury) and this is a gift (presented to me). The Messenger of Allah (ﷺ) said: You should have remained in the house of your father and your mother, until your gift came to you if you spoke the truth; then he addressed us. He praised God and extolled Him, and afterwards said: I appoint a man from you to a responsible post sharing with him authority that God has entrusted to me, and he comes to me saying: This wealth is for you (i.e. for the public treasury) and this is a gift presented to me. Why did he not remain in the house of his father and his mother and his gift came to him, if he was truthful? By God, any one of you will not take anything from (the public funds) without any justification, but will meet his Lord carrying it on himself on the Day of judgment. I will recognise any one of you meeting Allah and carrying a growling camel, or a cow bellowing or a goat bleating. Then he raised his hands so high that whiteness of his armpits could be seen. Then he said: O my Lord, I have conveyed (Thy Commandments). The narrator says: My eyes saw (the Prophet standing in that pose) and my ears heard (what he said)
ہشام نے اپنے والد سے ، انہوں نے ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو اسد کے ایک شخص کو بنو سلیم کے صدقات وصول کرنے کے لیے عامل بنایا ، اسے ابن اُتبیہ کہا جاتا تھا ۔ جب وہ مال وصول کر کے آیا تو ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) اس کے ساتھ حساب کیا ۔ وہ کہنے لگا : یہ آپ لوگوں کا مال ہے اور یہ ہدیہ ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر تم سچے ہو تو اپنے باپ یا اپنی ماں کے گھر میں جا کر کیوں نہ بیٹھ گئے تاکہ تمہارا ہدیہ تمہارے پاس آ جاتا ۔ " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا ، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی ، پھر فرمایا : " اما بعد! میں تم میں سے کسی شخص کو کسی ایسے کام پر عامل بناتا ہوں جس کی تولیت ( انتظام ) اللہ تعالیٰ نے میرے سپرد کی ہے اور وہ شخص آتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ تم لوگوں کا مال ہے اور یہ ہدیہ ہے جو مجھے ملا ہے ۔ وہ شخص اگر سچا ہے تو اپنے باپ یا اپنی ماں کے گھر میں کیوں نہ بیٹھ گیا تاکہ اس کا ہدیہ اس کے پاس آتا ، اللہ کی قسم! تم میں سے جو شخص بھی اس مال میں سے کوئی چیز اپنے حق کے بغیر لے گا ، وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے اس حال میں پیش ہو گا کہ وہ چیز اس نے اپنی گردن پر اٹھا رکھی ہو گی ، میں تم میں سے کسی بھی شخص کو ضرور پہچان لوں گا جو اللہ تعالیٰ کے سامنے اس حال میں پیش ہو گا کہ اس نے اونٹ اٹھایا ہو گا جو بلبلا رہا ہو گا ، یا گائے اٹھا رکھی ہو گی جو ڈکرا رہی ہو گی ، یا بکری اٹھائی ہو گی جو ممیا رہی ہو گی ، " پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اتنا اوپر اٹھایا کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی ، ( اس وقت ) آپ فرما رہے تھے : " اے اللہ! کیا میں نے ( تیرا پیگام ) پہنچا دیا؟ " ( ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ سب ) میری آنکھوں نے دیکھا اور میرے کانوں نے سنا
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ، فَقَالَ أَصَابَتْنَا مَجَاعَةٌ يَوْمَ خَيْبَرَ وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ أَصَبْنَا لِلْقَوْمِ حُمُرًا خَارِجَةً مِنَ الْمَدِينَةِ فَنَحَرْنَاهَا فَإِنَّ قُدُورَنَا لَتَغْلِي إِذْ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِ اكْفَئُوا الْقُدُورَ وَلاَ تَطْعَمُوا مِنْ لُحُومِ الْحُمُرِ شَيْئًا فَقُلْتُ حَرَّمَهَا تَحْرِيمَ مَاذَا قَالَ تَحَدَّثْنَا بَيْنَنَا فَقُلْنَا حَرَّمَهَا أَلْبَتَّةَ وَحَرَّمَهَا مِنْ أَجْلِ أَنَّهَا لَمْ تُخَمَّسْ ‏.‏
Shaibani reported:I asked 'Abdullah b. Abu Aufa about (the lawfulness or unlawfulness of) the flesh of the domestic asses. He said: We experienced hunger on the Day of Khaibar as we were with the Messenger of Allah (ﷺ). We found domestic asses in the exterior of Medina. We slaughtered them and our earthen pots were boiling when the announcer of the Messenger of Allah (ﷺ) made an announcement that the earthen pots should be turned upside down and nothing of the flesh of the domestic asses should be eaten. I said: What kind of prohibition is it that he (the Holy Prophet) has made? He said: We discussed it amongst -ourselves. Some of us aaid that it has been declared unlawful for ever, (whereas others said) it has been declared unlawful since one-fifth (of the booty) has not been given (to the treasury, as is legally required)
علی بن مسہر نے شیبانی سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت عبداللہ بن اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پالتو گدھوں کے گوشت کے متعلق دریافت کیا ، انھوں نے کہا : خیبر کے دن ہم بھوک کا شکار تھے ، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے ، ہمیں ان لوگوں ( یہودیوں ) کے گدھے شہر سے باہر نکلتے ہوئے مل گئے ۔ ہم نے ان کو ذبح کرلیا ، ہماری ہانڈیاں ( ان کے پکتے ہوئے گوشت سے ) ابل رہی تھیں کہ اچانک ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے یہ اعلان کیا : ہانڈیاں الٹ دو اور گدھوں کے گوشت میں سے کوئی چیز نہ کھاؤ ۔ میں نے پوچھا : آپ نے ان کو کیسا حرام کیا تھا ( قطعی یاغیرقطعی؟ ) انھوں نے کہا : ( اس حوالے ) سے ہماری آپس میں بات چیت ہوتی تھی تو ہ ہم ( باہم یہی کہتے کہ آپ نے ان کو قطعی طور پر حرام کیا اور اس وجہ سے ( انھیں ہمیشہ کے لئے ) حرام کیاتھا کہ ان کے پانچ حصے نہیں کیے گئے تھے ( خمس الگ نہیں کیا گیا تھا)
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا وَقَالَ عَبْدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ تُؤْكَلَ لُحُومُ الأَضَاحِي بَعْدَ ثَلاَثٍ ‏.‏ قَالَ سَالِمٌ فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ لاَ يَأْكُلُ لُحُومَ الأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلاَثٍ ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ بَعْدَ ثَلاَثٍ ‏.‏
Ibn 'Umar reported that Allah's Messenger (ﷺ) forbade that the flesh of sacrificial animals be eaten beyond three (days) Salim (son of Ibn Umar) said:Ibn 'Umar did not eat the flesh of the sacrificial animals beyond three (days). Ibn Abu 'Umar said:" Beyond three days
ابن ابی عمر اور عبد بن حمید نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : عبد الرزاق نے کہا : معمر نے ہمیں زہری سے خبر دی ، انھوں نے سالم سے انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس بات سے ) منع کیا کہ تین دن کے بعد قربانی کا گو شت کھا یا جا ئے ۔ سالم نے کہا : حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تین دن سے اوپر قربانی کا گوشت نہیں کھا تے تھے اور ابن ابی عمر نے ( تین دن سے اوپر کے بجائے ) " تین کے بعد " کے الفا ظ کہے ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ، عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ قَدْ نُهِيَ أَنْ يُنْبَذَ الْبُسْرُ وَالرُّطَبُ جَمِيعًا وَالتَّمْرُ وَالزَّبِيبُ جَمِيعًا ‏.‏
Ibn 'Umar reported that they were forbidden to prepare Nabidh by mixing dry dates and fresh dates and dates and grapes together
روح نے کہا : ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے موسیٰ بن عقبہ نے نا فع سے خبر دی انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : کچی اور تازہ کھجوروں کو اور ( اسی طرح ) خشک کھجوروں اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع کیا گیا ہے ۔
وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، وَأَبُو كَامِلٍ - وَاللَّفْظُ لأَبِي كَامِلٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَصَمِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى عُمَرَ بِجُبَّةِ سُنْدُسٍ فَقَالَ عُمَرُ بَعَثْتَ بِهَا إِلَىَّ وَقَدْ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ قَالَ ‏ "‏ إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا وَإِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَنْتَفِعَ بِثَمَنِهَا ‏"‏ ‏.‏
Anas b. Malik reported that Allah's Messenger (may Peace be upon him) sent a silk gown to 'Umar, whereupon 'Umar said:You sent it to me whereas you said what you had to, say (i. e. it is forbidden for men). Thereupon he (the Holy Prophet) said: I did not send it to you so that you might wear it, but I sent it to you so that you might derive benefit from its price
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس سُندس ( باریک ریشم ) کا ایک جبہ بھیجا ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا : آپ نے میرے پاس یہ جبہ بھیجا ہے ۔ حالانکہ آپ نے اس کے متعلق ( پہلے ) جو فرمایاتھا وہ فرماچکے ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے یہ تمھارے پاس اس لئے نہیں بھیجا کہ تم اس کو پہنو ، میں نے تمھارے پاس اس لیے بھیجا ہے کہ تم اس کی قیمت سے فائدہ اٹھاؤ ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ أَبِي عُمَرَ - قَالاَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، بْنِ شُعْبَةَ قَالَ مَا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحَدٌ عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ عَنْهُ فَقَالَ لِي ‏"‏ أَىْ بُنَىَّ وَمَا يُنْصِبُكَ مِنْهُ إِنَّهُ لَنْ يَضُرَّكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ إِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ مَعَهُ أَنْهَارَ الْمَاءِ وَجِبَالَ الْخُبْزِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏
Mughira b. Shu'ba reported that none else had asked more questions from Allah's Messenger (ﷺ) about the Dajjal than I, but he simply said in a slight mood):O, myson, why are you worried because of him? He will not harm you. I said: The people think that he would have with him rivers of water and mountains of bread, whereupon he said: He would be more insignificant in the sight of Allah than all these things (belonging to him)
یزید بن ہارون نے اسماعیل بن ابی خالد سے ، انھوں نے قیس بن ابی حازم سے ، انھوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے متعلق جتنے سوالات میں نے کیے اتنے کسی اور نے نہیں کیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا؛ " میرے بیٹے!تمھیں اس ( دجال ) سے کیا بات پریشان کررہی ہے؟تمھیں اس سے ہر گز کوئی نقصان نہ پہنچے گا ۔ " کہا : میں نے عرض کی : لوگ سمجھتے ہیں کہ اس کے ساتھ پانی کی نہریں اور ر وٹی کے پہاڑ ہوں گے ۔ " آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کی نسبت زیادہ ذلیل ہے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، وَأَبُو كَامِلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، ح وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ، جُرَيْجٍ ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ، - يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ - كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِي الْحَدِيثِ ‏ "‏ وَلَكِنْ تَفَسَّحُوا وَتَوَسَّعُوا ‏"‏ ‏.‏ وَزَادَ فِي حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ قُلْتُ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ قَالَ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَغَيْرِهَا ‏.‏
This hadith has been reported on the authority of Ibn 'Umar through another chain of transmitters. but with a slight variation of wording
ابو ربیع اور الکامل نے کہا : ہمیں حماد نے حدیث بیان کی کہا : ہمیں ایوب نے حدیث سنائی ۔ یحییٰ بن حبیب نے کہا : ہمیں روح نے حدیث سنائی ، محمد را فع نے کہا : ہمیں عبد الرزاق نے حدیث بیان کی ، ان دونوں ( روح اور عبدالرزاق ) نے ابن جریج سے روایت کی ، محمد بن رافع نے کہا : ہمیں ابن ابی فدیک نے حدیث بیان کی ، کہا : ضحاک بن عثمان نے خبر دی ، ان سب ( ایوب ابن جریج اور ضحاک بن عثمان ) نے نافع سے انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لیث کی حدیث کے مانند روایت کی ، انھوں نے اس حدیث میں : " بلکہ کھلے ہو کر بیٹھو اور وسعت پیدا کرو " کے الفاظ بیان نہیں کیے اور ( ابن رافع نے ) ابن جریج کی حدیث میں یہ اضا فہ کیا : میں نے ان ( ابن بن جریج ) سے پو چھا : جمعہ کے دن ؟ " انھوں نے کہا : جمعہ میں اس اور اس کے علاوہ بھی ۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ جَمِيعًا عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، - قَالَ أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، - عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ تَخَلَّفَ عَنَّا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ سَافَرْنَاهُ فَأَدْرَكَنَا وَقَدْ حَضَرَتْ صَلاَةُ الْعَصْرِ فَجَعَلْنَا نَمْسَحُ عَلَى أَرْجُلِنَا فَنَادَى ‏ "‏ وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏
Abdullah b. Amr reported:The Messenger of Allah (ﷺ) lagged behind us on a journey. We travelled (back) and be took him; and then came the time of the afternoon prayer, and as we were going to wipe our feet he (the Holy Prophet) called out: Woe to the heels because of Hell-fire
یوسف بن ماہک نے حضرت عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : ایک سفر کے دوران میں نبی کریم ﷺ ہم سے پیچھے رہ گئے ، آپ ہمارے پاس پہنچے تو عصر کی نماز کا وقت ہو چکا تھا ، ہم ( میں سے کچھ لوگ ) اپنے پاؤں پر ( جلدی میں ) ہاتھ پھیرنے لگے تو آپ نے بلند آواز سے فرمایا : ’’ ( ان ) ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ وَلأُنَازِعَنَّ أَقْوَامًا ثُمَّ لأُغْلَبَنَّ عَلَيْهِمْ فَأَقُولُ يَا رَبِّ أَصْحَابِي أَصْحَابِي ‏.‏ فَيُقَالُ إِنَّكَ لاَ تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ ‏"‏ ‏.‏
Abdullah reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying; I shall be there at the Cistern before you, and I shall have to contend for some people, but I shall have to yield. I would be saying:My Lord, they are my friends, they are my friends, and it would be said: You don't know what innovations they made after you
ہمیں ابو معاویہ نے اعمش سے حدیث سنائی ، انھوں نے شقیق ( بن سلمہ اسدی ) سے ، انھوں نے حضرت عبد اللہ سے روایت بیان کی ۔ کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " میں حوض پر تمھا را پیش رو ہوں گا ۔ میں کچھ اقوام ( لو گوں ) کے بارے میں ( فرشتوں سے ) جھگڑوں گا ، پھر ان کے حوالے سے ( فرشتوں کو ) مجھ پر غلبہ عطا کر دیا جا ئے گا ، میں کہوں گا : اے میرے رب ! ( یہ ) میرے ساتھی ہیں ۔ میرے ساتھی ہیں ، تو مجھ سے کہا جا ئے گا : بلا شبہ آپ نہیں جا نتے کہ انھوں نے آپ کے بعد ( دین میں ) کیا نئی باتیں ( بدعات ) نکا لی تھیں ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَرْمَلَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، وَسُلَيْمَانَ، ابْنَىْ يَسَارٍ وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُضْطَجِعًا فِي بَيْتِي كَاشِفًا عَنْ فَخِذَيْهِ أَوْ سَاقَيْهِ فَاسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ فَتَحَدَّثَ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ كَذَلِكَ فَتَحَدَّثَ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَسَوَّى ثِيَابَهُ - قَالَ مُحَمَّدٌ وَلاَ أَقُولُ ذَلِكَ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ - فَدَخَلَ فَتَحَدَّثَ فَلَمَّا خَرَجَ قَالَتْ عَائِشَةُ دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَلَمْ تَهْتَشَّ لَهُ وَلَمْ تُبَالِهِ ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ فَلَمْ تَهْتَشَّ لَهُ وَلَمْ تُبَالِهِ ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ فَجَلَسْتَ وَسَوَّيْتَ ثِيَابَكَ فَقَالَ ‏ "‏ أَلاَ أَسْتَحِي مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحِي مِنْهُ الْمَلاَئِكَةُ ‏"‏ ‏.‏
Aisha reported:Allah's Messenger (ﷺ) was lying in the bed in my apartment with his thigh uncovered and Abu Bakr sought permission to enter. It was given to him and he conversed in the same very state (the Prophet's thigh or shank uncovered). Then `Umar sought permission for entering and it was given to him and he conversed in that very state. Then `Uthman sought permission to enter; Allah's Messenger (ﷺ) sat down and he set right his clothes. Muhammad (one of the narrators) said: I do not say that it happened on the same day. He (`Uthman) then entered and conversed and as he went out, `Aisha said: Abu Bakr entered and you did not stir and did not observe much care (in arranging your clothes), then `Umar entered and you did not stir and did not arrange your clothes, then `Uthman entered and you got up and set your clothes right, so he (ﷺ) said: Should I not show modesty to one whom even the Angels show modesty
محمد بن ابی حرملہ نے یسار کے دونوں بیٹوں عطاء اور سلیمان اور ابوسلمہ بن عبدالرحمان سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں لیٹے ہوئے تھے ، رانیں یا پنڈلیاں کھولے ہوئے تھے کہ اتنے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حالت میں اجازت دے دی اور باتیں کرتے رہے ۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت چاہی تو انہیں بھی اسی حالت میں اجازت دے دی اور باتیں کرتے رہے ۔ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اجازت چاہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور کپڑے برابر کر لئے ۔ پھر وہ آئے اور باتیں کیں ۔ ( راوی محمد کہتا ہے کہ میں نہیں کہتا کہ تینوں کا آنا ایک ہی دن ہوا ) جب وہ چلے گئے تو ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ خیال نہ کیا ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ خیال نہ کیا ، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور اپنے کپڑے درست کر لئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں اس شخص سےحیا نہ کروں جس سے فرشتے حیاکرتے ہیں؟
وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تَبَاغَضُوا وَلاَ تَدَابَرُوا وَلاَ تَنَافَسُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Don't bear aversion against one another and don't be jealous of one another and be servants of Allah
سہیل نے اپنے والد ( ابوصالح ) سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو ، ایک دوسرے سے روگردانی نہ کرو ، دولت کا حصول اور نمائش میں ایک دوسرے سے مقابلہ نہ کرو اور اللہ کے ایسے بندے بن جاؤ جو آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ يُولَدُ يُولَدُ عَلَى هَذِهِ الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ كَمَا تَنْتِجُونَ الإِبِلَ فَهَلْ تَجِدُونَ فِيهَا جَدْعَاءَ حَتَّى تَكُونُوا أَنْتُمْ تَجْدَعُونَهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَرَأَيْتَ مَنْ يَمُوتُ صَغِيرًا قَالَ ‏"‏ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported from Allah's Messenger (may peace be upom him) many ahadith and one amongst them is that he is reported to have said:An infant is born according to his (true) nature. It is his parents Who make him a Jew, a Christian, just as a she-camel gives birth to its young ones. Do you find any deficiency in their limbs? You cut their ears (i. e. after birth). They (the Companions of the Holy Prophet) said: What is your opinion about him who dies in infancy? Thereupon Allah's Apostle (ﷺ) said: It is Allah alone Who knows best what they would be doing
علاء کے والد عبدالرحمٰن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہر انسان کو اس کی ماں فطرت پر جنم دیتی ہے اور اس کے ماں باپ بعد میں اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں ۔ اگر وہ دونوں ( صحیح ) مسلمان ہوں تو وہ مسلمان رہتا ہے اور ہر انسان کو جب اس کی ماں جنم دیتی ہے تو شیطان اس کے دونوں پہلوؤں میں ہاتھ سے مارتا ہے سوائے حضرت مریم علیہ السلام اور ان کے بیٹے کے ( انہیں اللہ نے اس سے محفوظ رکھا ۔)
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الأُمَوِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ سُمَىٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ وَحِينَ يُمْسِي سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ ‏.‏ لَمْ يَأْتِ أَحَدٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهِ إِلاَّ أَحَدٌ قَالَ مِثْلَ مَا قَالَ أَوْ زَادَ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who recites in the morning and in the evening (these words):" Hallowed be Allah and all praise is due to Him" one hundred times, he would not bring on the Day of Resurrection anything excellent than this except one who utters these words or utters more than these words
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کوئی شخص جب صبح کرے اور جب شام کرے تو سو بار " سبحان الله وبحمده " کہے تو قیامت کے روز کوئی شخص اس سے بہتر عمل لے کر نہیں آئے گا ، سوائے اس کے جو اتنی بار ( یہ کلمات ) کہے یا اس سے زیادہ بار کہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ قُلْتُ لَهُ آنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ نَعَمْ وَرَفَعَهُ أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ لاَ أَحَدٌ أَغْيَرَ مِنَ اللَّهِ وَلِذَلِكَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَلاَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنَ اللَّهِ وَلِذَلِكَ مَدَحَ نَفْسَهُ ‏"‏ ‏.‏
Abdullah b. Mas'ud reported it directly from Allah's Messenger (ﷺ) that he said:None is more self-respecting than Allah and it is because of this that He has prohibited abominable acts-both visible and invisible and nothing is loved by Allah more than the praise of His Ownself and it is because of this that He has praised Himself
عمرو بن مرہ نے کہا : میں نے ابووائل کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ، وہ کہتے تھے ۔ ۔ ( عمرو بن مرہ نے ) کہا : میں نے ان ( ابووائل ) سے کہا : کیا آپ نے خود عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا تھا؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔ اور انہوں نے اسے مرفوعا بیان کیا : ۔ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ سے بڑھ کر کوئی غیرت مند نہیں ، اسی لیے اس نے تمام کھلی اور پوشیدہ فواحش ( بے حیائی کی باتیں ) حرام کر دیں اور اللہ سے بڑھ کر کسی کو مدح پسند نہیں ( کیونکہ حقیقت میں وہی مدح کا حقدار ہے ) ، اسی لیے اس نے اپنی مدح فرمائی ہے ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ يُقَالُ لِلْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ مِلْءُ الأَرْضِ ذَهَبًا أَكُنْتَ تَفْتَدِي بِهِ فَيَقُولُ نَعَمْ ‏.‏ فَيُقَالُ لَهُ قَدْ سُئِلْتَ أَيْسَرَ مِنْ ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏
Anas b. Malik reported that Allah's Messenger (may peace be u n him) said:It would be said to the non-believers on the Day of Resurrection: If you were to possess gold, filling the whole earth, would you like to secure your freedom by paying that? He would say: Yes. Thereupon it would be said to him: Something easier (than this) was demanded from you (but you paid no heed to it)
ہشام ( دستوائی ) نے قتادہ سےروایت کی ، کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " قیامت کے دن کافر سے کہا جائے گا : تمہارا کیا خیال ہے ، اگر تمہارے پاس زمین ( کی مقدار ) بھر سونا موجود ہوتو کیا تم ( جہنم کے عذاب سے بچنے کے لئے ) اس کو بطور فدیہ دے دو گے؟وہ کہے گا : ہاں ، تو اس سے کہا جائے گا : تم سے تو اس سے بہت آسان مطالبہ کیاگیا تھا ۔
وَحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلاَّمٍ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ زَائِدَةُ كَبِدِ النُّونِ ‏.‏ وَقَالَ أَذْكَرَ وَآنَثَ ‏.‏ وَلَمْ يَقُلْ أَذْكَرَا وَآنَثَا ‏.‏
This tradition has been narrated by Mu'awyia b. Salim with the same chain of transmitters except for the words:I was sitting beside the Messenger of Allah" and some other minor alterations
یحییٰ بن حسان نے ہمیں خبر دی کہ ہمیں معاویہ بن سلام نے اسی اسناد کے ساتھ اسی طرح حدیث سنائی ، سوائے اس کے کہ ( یحییٰ نے ) قائما ( کھڑا تھا ) کے بجائے قاعداً ( بیٹھاتھا ) کہا اور ( زیادۃ کبد النون کے بجائے ) زائدۃ کبدالنون کہا ( معنی ایک ہی ہے ) اور انہوں نے اذکر و آنت ( اس کے ہاں بیٹا اور بیٹی کی ولادت ہوتی ہے ) کے الفاظ کہے ، اور اذکر و آنثا ( ان دونوں کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہےاور ان دونوں کے ہاں بیٹی پیدا ہوتی ہے ) کے الفاظ نہیں کہے ۔
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، - يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ - عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى كَعْبَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى حُجْزَتِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى تَرْقُوَتِهِ ‏"‏ ‏.‏
Samura b. Jundub reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There would be among them those to whom the fire will reach up to their ankels and to some of them the fire would reach their knees and to some it would reach their waists and to some it would reach up to their collar-bones
عبدالوہاب بن عطاء نے ہمیں سعید سے خبر دی ، انھوں نے قتادہ سے روایت کی ، کہا : میں نے ابو نضرہ کو سنا ، وہ حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کر تے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ان میں سے کوئی ایسا ہوگا جس کے دونوں ٹخنوں تک آگ لپٹی ہوگی ان میں سے کوئی ایسا ہوگا جن کے دونوں گھٹنوں تک آگ لپٹی ہوگی اور کوئی ایسا ہوگا جس کی کمر تک آگ لپٹی ہوگی اور کوئی ایسا ہوگا جس کی ہنسلی کی ہڈی تک آگ پکڑے گی ۔
وَحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَزَادَ فَقَالَ أَبِي إِنْ رَأَيْتَهُ فَلاَ تَقْرَبَنَّهُ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Suhail with the same chain of transmitters but with this addition:" My father said: If you see that, do not even go near it
روح نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مطابق حدیث بیان کی اور مزید کہا : تو میرے والد نے کہا : اگر تم اس پہاڑ کو دیکھ لو تو اس کے قریب بھی مت جانا ۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ قَيْسِ، بْنِ عُبَادٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، يُقْسِمُ قَسَمًا إِنَّ ‏{‏ هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ‏}‏ إِنَّهَا نَزَلَتْ فِي الَّذِينَ بَرَزُوا يَوْمَ بَدْرٍ حَمْزَةُ وَعَلِيٌّ وَعُبَيْدَةُ بْنُ الْحَارِثِ وَعُتْبَةُ وَشَيْبَةُ ابْنَا رَبِيعَةَ وَالْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ ‏.‏
Abu Dharr took an oath that this verse:" These two adversaries who dispute about their Lord" (xxii. 19) was revealed in connection with those who on the Day of Badr came out (of rows to fight against the non-believers and they were) Hamza, 'Ali, 'Ubaida b. Harith (from the side of the Muslims) and 'Utba and Shaiba, both of them the sons of Rabi'a and Walid b. 'Utba (from the side of the non-believers of Mecca)
ہشیم نے ابو ہاشم سے ، انھوں نے ابو مجلز سے اور انھوں نے قیس بن عباد سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت ابو زر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قسم کھا کر کہتے ہوئے سنا کہ ( آیت ) : " یہ دو جھگڑنے والے ہیں جنھوں نے اپنے رب کے معاملے میں جھگڑا کیا ۔ " ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی جنھوں نے بدر کے دن مبارزت ( رودرودسیدھی لڑائی ) کی : حضرت حمزہ ، علی اور عبیدہ بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ( دوسری طرف سے ) ربیعہ کے دو بیٹے : عتبہ اور شیبہ اور عتبہ کا بیٹا ولید ۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِيعِ الَّذِي، مَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي وَجْهِهِ مِنْ بِئْرِهِمْ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ صَلاَةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ ‏"‏ ‏.‏
Mahmud b. al-Rabi', on whose face the Messenger of Allah (ﷺ) squirted water from the well, reported on the authority of 'Ubada b. as- Samit that the Messenger of Allah (ﷺ) said:He who does not recite Umm al-Qur'an is not credited with having observed prayer
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی کہ حضرت محمود بن ربیع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ، جن کے چہرے پر رسول اللہﷺ نے ان کے کنویں سے کلی کر کے پانی کا چھینٹا دیا تھا ، انہیں بتایا کہ حضرت عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ’’جس نے ام القریٰ کی قراءت نہ کی ، اس کی کوئی نماز نہیں ۔ ‘ ‘