وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ سَأَلْتُهُ عَنِ الْقُنُوتِ، قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَ الرُّكُوعِ فَقَالَ قَبْلَ الرُّكُوعِ . قَالَ قُلْتُ فَإِنَّ نَاسًا يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَنَتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ . فَقَالَ إِنَّمَا قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَهْرًا يَدْعُو عَلَى أُنَاسٍ قَتَلُوا أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ يُقَالُ لَهُمُ الْقُرَّاءُ .
Asim reported:I asked Anas whether Qunut was observed (by the Holy prophet) before ruku' or after ruku'. He replied: Before ruku'. I said: People conceive that the Messenger of Allah (ﷺ) observed Qunut after the ruku'. He said: The Messenger of Allah (ﷺ) observed Qunut (after the ruku' as the people conceive it) for a mouth invoking curse upon those persons who had killed men among his Companions who were called the reciter (of the Qur'an)
ابو معاویہ نے عاصم سے اور انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے ان ( انس رضی اللہ عنہ ) سے قنو ت کے بارے میں پوچھا : رکوع سے پہلے ہے یا رکوع کے بعد؟ تو انھوں نے کہا : رکوع سے پہلے ۔ کہا : میں نے عرض کی : بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رکوع کے بعد قنوت کی ۔ تو انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے ایک مہینے کی ، ان لوگوں کو خلاف بددعا فرماتے رہے جنھوں نے آپ کے صحابہ میں سے کچھ لوگوں کو قتل کیا تھا جنھیں قراء ( قرآن پڑھنے والے ) کہا جاتا تھا ۔
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ، حَاتِمٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، كِلاَهُمَا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، بْنِ عُمَرَ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
A hadith like this has been narrated by 'Ubaidullah b. Umar with the the same chain of transmitters
عیسیٰ بن یو نس اور ابن جریج دونوں نے عبید اللہ بن عمر ( بن حفص ) سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَجْتَمِعُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَهْتَمُّونَ بِذَلِكَ أَوْ يُلْهَمُونَ ذَلِكَ " . بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ " ثُمَّ آتِيهِ الرَّابِعَةَ - أَوْ أَعُودُ الرَّابِعَةَ - فَأَقُولُ يَا رَبِّ مَا بَقِيَ إِلاَّ مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ " .
Anas reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: The believers would gather on the Day of Resurrection, and they would be concerned about it, or would be made mindful of it (i. e. the trjuble for it), (and the remaining part of the hadith w, ) uld be narrated) like the one transmitted by Abu Uwana, and he said in the hadith: Then I would come for the fourth time, or I would return the fourth time, and would say: O my Lord, no one has been left but he whom the Holy Qur'an has restrained
دوسری سند سے جس میں ( ابو عوانہ کے بجائے ) سعید نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’قیامت کے دن مومن جمع ہوں گے اور اس ( کی ہولناکیوں سے بچنے ) کی فکر میں مبتلا ہوں گے یا یہ بات ان کے دلوں میں ڈالی جائے گی ۔ ‘ ‘ .... ( آگے ) ابو عوانہ کی حدیث کےمانند ہے ، البتہ انہوں نے اس حدیث میں یہ کہا : ’’پھر میں چوتھی بار اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوں گا ( یا چوتھی بار لوٹوں گا ) اور کہوں گا : اے میرے رب! ان کے سوا جنہیں قرآن ( کے فیصلے ) نے روک رکھاہے اور کوئی باقی نہیں بچا ۔ ‘ ‘