حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، - وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ - قَالاَ جَمِيعًا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا يَقُولُ قُلْنَا لاِبْنِ عَبَّاسٍ فِي الإِقْعَاءِ عَلَى الْقَدَمَيْنِ فَقَالَ هِيَ السُّنَّةُ . فَقُلْنَا لَهُ إِنَّا لَنَرَاهُ جَفَاءً بِالرَّجُلِ . فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ بَلْ هِيَ سُنَّةُ نَبِيِّكَ صلى الله عليه وسلم .
Tawus reported:We asked Ibn Abbas about sitting on one's buttocks (in prayer). (ala alqad mein) He said: It is sunnah. We said to him: We find it a sort of cruelty to the foot. Ibn 'Abbas said: It is the sunnah of your Apostle (ﷺ)
حضرت طاوس بیان کرتے ہیں کہ ہم نے ابن عباس رضی اللہ عنھماسےدونوں پیروں پربیٹھنے کے بارے میں پو چھا تو انھوں نے جواب دیا : یہ سنت ہے ۔ ہم نے ان سے عرض کی : ہمارا تو خیال ہے کہ یہ انسان ( یا اگر را کی زیرکے ساتھ رجل پڑھا جائے تو پاؤں ) پرزیاتی ہے ۔ ابن عباسﷺنے کہا : ( نہیں ) بلکہ یہ تمہارے بنی ﷺکی سنت ہے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، ح وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ وَحَّدَ اللَّهَ " ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِهِ .
Abu Malik narrated on the authority of his father that he heard the Apostle (ﷺ) say:He who held belief in the unity of Allah, and then narrated what has been stated above
ابو خالد احمر اور یزید بن ہارون نے ابومالک سے ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کویہ فرماتے ہوئے سنا : ’’جس نےاللہ کویکتا قرار دیا ...... ‘ ‘ پھر مذکورہ بالا حدیث کی طرح بیان کیا ۔
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ، صَاحِبُ الزِّيَادِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ، قَالَ أَذَّنَ مُؤَذِّنُ ابْنِ عَبَّاسٍ يَوْمَ جُمُعَةٍ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ . فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ وَقَالَ وَكَرِهْتُ أَنْ تَمْشُوا فِي الدَّحْضِ وَالزَّلَلِ .
Abdullah b. Harith reported that Ibn 'Abbas commanded the Mu'adhdhin to (summon the people to prayer on Friday and make announcement to say prayer in their houses) when it was rainy, and the rest of the hadith is the same (except this) that he said:I do not like you should walk in muddy slippery place
شعبہ نے کہا : ہمیں عبدالحمید صاحب الزیادی نے حدیث سنائی ، کہا : میں نے عبداللہ بن حارث سے سنا ، انھوں نے کہا ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے موذن نے جمعے کے روز بارش والے دن اذان دی ۔ ۔ ۔ پھر ابن علیہ کی حدیث کی طرح بیان کیا ، اورکہا : میں نے اس بات کو ناپسند کیا کہ تم پھسلن میں چل کرآؤ ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ وَزِيَادَةُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ وَمَنْ مَسَّ الْحَصَى فَقَدْ لَغَا " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who performed ablution well, then came to Friday prayer, listened (to the sermon), kept silence all (his sins) between that time and the next Friday would be forgiven with three days extra, and he who touched pebbles caused an interruption
اعمش نے ابو صالح سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس شخص نے وضو کیا اوراچھی طرح وضو کیا ، پھر جمعے کے لئے آیا ، غور کے ساتھ خاموشی سے خطبہ سنا ، اس کے جمعے سے لے کر جمعے تک گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں ۔ اورتین دن زائد کے بھی ۔ اور جو ( بلاوجہ ) کنکریوں کو ہاتھ لگاتا رہا ( ان سے کھیلتا رہا ) ، اس نے لغو اورفضول کام کیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، ح وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، بْنُ مَنْصُورٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ، حَدَّثَنَا أَبَانٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، أَنَّ زَيْدًا، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَلاَّمٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا مَالِكٍ الأَشْعَرِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَرْبَعٌ فِي أُمَّتِي مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ لاَ يَتْرُكُونَهُنَّ الْفَخْرُ فِي الأَحْسَابِ وَالطَّعْنُ فِي الأَنْسَابِ وَالاِسْتِسْقَاءُ بِالنُّجُومِ وَالنِّيَاحَةُ " . وَقَالَ " النَّائِحَةُ إِذَا لَمْ تَتُبْ قَبْلَ مَوْتِهَا تُقَامُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَعَلَيْهَا سِرْبَالٌ مِنْ قَطِرَانٍ وَدِرْعٌ مِنْ جَرَبٍ " .
Abu Malik al-Ash'ari reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Among my people there are four characteristics belonging to pre-Islamic period which they do not abandon: boasting of high rank, reviling other peoples' genealogies, seeking rain by stars, and walling. And he (further) said: If the wailing woman does not repent before she dies, she will be made to stand on the Day of Resurrection wearing a garment of pitch and a chemise of mange
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " میری امت میں جا ہلیت کے کا موں میں سے چار باتیں ( موجود ) ہیں وہ ان کو ترک نہیں کریں گے اَحساب ( باپ داداکے اصلی یا مزعومہ کا ر ناموں ) پر فخر کرنا ( دوسروں کے ) نسب پر طعن کرنا ستاروں کے ذریعے سے بارش مانگنا اور نوحہ کرنا ۔ اور فر ما یا " نوحہ کرنے والی جب اپنی مو ت سے پہلے تو بہ نہ کرے تو قیامت کے دن اس کو اس حالت میں اٹھا یا جا ئے گا کہ اس ( کے بدن ) پر تار کول کا لباس اور خارش کی قمیص ہو گی ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنِ الْمَعْرُورِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ . فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ وَكِيعٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا عَلَى الأَرْضِ رَجُلٌ يَمُوتُ فَيَدَعُ إِبِلاً أَوْ بَقَرًا أَوْ غَنَمًا لَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهَا " .
Abu Dbarr reported:I went to the Messenger of Allah (ﷺ) and he was sitting under the shade of the Ka'ba, and the rest of the hadith it the same but for this that he (the Holy Prophet) said:" By Allah, in Whose hand is my life, no person on earth who dies and leaves behind camels, or cattle or goat and sheep, and does not pay Zakat (would be spared the punishment)
ابو معاویہ نے اعمش سے ، انھوں نے معرور سےاور انھوں نے حضرت ابوزر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا ، آپ کعبہ کے سائے میں تشریف فرما تھے ۔ ۔ ۔ آگے وکیع کی روایت کی طرح ہے ، البتہ ( اس میں ہے کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!زمین پر جو بھی آدمی فوت ہوتا ہے اور ایسے اونٹ ، گائےیا بکریاں پیچھے چھوڑ جاتا ہے جن کی اس نے زکاۃ ادا نہیں کی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سُوَيْدٍ، وَخَالِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " شَهْرَا عِيدٍ لاَ يَنْقُصَانِ " . فِي حَدِيثِ خَالِدٍ " شَهْرَا عِيدٍ رَمَضَانُ وَذُو الْحِجَّةِ " .
Abd ar-Rahman b. Abu Bakra reported on the authority of Abu Bakra that the Messenger of Allah (ﷺ) had said:The months of 'Id are not incomplete. And in the hadith narrated by Khalid (the words are):" The months, of 'Id are Ramadan and Dhu'l-Hijja
معتمر بن سلیمان ، اسحاق بن سوید ، خالد ، حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتےہوئے فرماتے ہیں ۔ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایادو مہینے ناقص نہیں ہوتے خالد کی حدیث میں ہے کہ عید کے دو مہینے رمضان اور ذی الحجہ کے ہیں ۔ خالد کی حدیث میں ہے "" عید کے دونوں مہینے ، رمضان اور ذوالحجہ ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ، وَالْقَاسِمَ، يُخْبِرَانِ عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِي بِذَرِيرَةٍ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ لِلْحِلِّ وَالإِحْرَامِ .
A'isha (Allah be pleased with her) said:I applied perfume of Dharira to the Messenger of Allah (ﷺ) with my hand (on the occasion of) the Farewell Pilgrimage on freeing from the state of Ihram and entering upon it
عمر بن عبد اللہ بن عروہ نے خبر دی کہ انھوں نے عروہ اور قاسم کو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے خبر دیتے ہو ئے سنا انھوں نے کہا حجۃ الودع کے موقع پر میں نے اپنے ہا تھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرا م کھو لنے اور احرا م باند ھنے کے لیے ذریرہ ( نامی ) خوشبو لگا ئی ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الْحَسَنِ، وَعَبْدِ اللَّهِ، ابْنَىْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَنْ أَبِيهِمَا، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، يَقُولُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ خَيْبَرَ وَعَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الإِنْسِيَّةِ .
Ali (Allah be pleased with him) said to Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) that Allah's Messenger (ﷺ) on the Day of Khaibar forbade forever the contracting of temporary marriage and the eating of the flesh of domestic asses
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے محمد بن علی بن ابی طالب کے بیٹوں حسن اور عبداللہ سے ( اور ) ان دونوں نے اپنے والد ( محمد بن علی ابن حنفیہ ) سے روایت کی ، انہوں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن عورتوں کے ساتھ متعہ کرنے اور پالتو گدھوں کے گوشت کھانے سے منع فرما دیا تھا
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ، خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ، أَنَّ أُمَّهُ، زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّهَا أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَانَتْ تَقُولُ أَبَى سَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُدْخِلْنَ عَلَيْهِنَّ أَحَدًا بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ وَقُلْنَ لِعَائِشَةَ وَاللَّهِ مَا نَرَى هَذَا إِلاَّ رُخْصَةً أَرْخَصَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِسَالِمٍ خَاصَّةً فَمَا هُوَ بِدَاخِلٍ عَلَيْنَا أَحَدٌ بِهَذِهِ الرَّضَاعَةِ وَلاَ رَائِينَا
Umm Salama, the wife of Allah's Apostle (ﷺ), used to say that all wives of Allah's Apostle (ﷺ) disclaimed the idea that one with this type of fosterage (having been suckled after the proper period) should come to them. and said to 'A'isha:By Allah, we do not find this but a sort of concession given by Allah's Messenger (ﷺ) only for Salim, and no one was ging to be allowed to enter (our houses) with this type of fosterage and we do not subscribe to this view
ابوعبیدہ بن عبداللہ بن زمعہ نے مجھے خبر دی کہ ان کی والدہ زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ ان کی والدہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہاکہا کرتی تھیں : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج نے اس بات سے انکار کیا کہ اس ( بڑی عمر کی ) رضاعت کی وجہ سے کسی کو اپنے گھر میں داخل ہونے دیں ، اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا : اللہ کی قسم! ہم اسے محض رخصت خیال کرتی ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر سالم رضی اللہ عنہ کو دی تھی ، لہذا اس ( طرح کی ) رضاعت کی وجہ سے نہ کوئی ہمارے پاس آنے والا بن سکے گا اور نہ ہمیں دیکھنے والا
وَحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، وَعَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، بِمِثْلِهِ.
A hadith like this has been transmitted on the authority of 'A'isha through another chain of narrators
اسماعیل بن زکریا نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اعمش نے ابراہیم سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اسود سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، ( نیز اسماعیل نے ) اعمش سے ، انہوں نے مسلم ( ابن صبیح ) سے ، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی کے مانند روایت کی
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلاَ يَبِعْهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ " . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَحْسِبُ كُلَّ شَىْءٍ بِمَنْزِلَةِ الطَّعَامِ .
Ibn Abbas (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who buys food-rain should not sell it until he has taken possession of it. Ibn Abbas (Allah be pleased with them) said: I regard everything like food (so far as this principle is concerned)
ابوبکر بن ابی شیبہ ، ابو کُرَیب اور اسحاق بن ابراہیم نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ اسحاق نے کہا : ہمیں خبر دی اور دیگر نے کہا : ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ وکیع نے سفیان سے ، انہوں نے ابن طاوس سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو غلہ خریدے تو اسے آگے فروخت نہ کرے حتی کہ اسے ماپ ( کر قبضے میں لے ) لے
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ . بِمِثْلِهِ .
A hadith like this is narrated on the authority of Abu Huraira (Allah be pleased with him)
یونس نے ابن شہاب سے خبر دی کہ انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے ۔ ۔ ۔ اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْعُمْرَى جَائِزَةٌ " .
Jabir b. 'Abdullah reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:Life grant is permissible
شعبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : میں نے قتادہ سے سنا ، وہ عطاء کے واسطے سے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " عمریٰ جائز ہے ۔ " ( یہ عطیہ درست ہے اور آگے چلتا ہے)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَاللَّهِ لأَنْ يَلَجَّ أَحَدُكُمْ بِيَمِينِهِ فِي أَهْلِهِ آثَمُ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ أَنْ يُعْطِيَ كَفَّارَتَهُ الَّتِي فَرَضَ اللَّهُ " .
Hammam b. Munabbih reported:This is what Abu Huraira reported to us from Allah's Messenger (ﷺ), and he narrated a hadith and (one) of them is that Allah's Messenger (ﷺ) said: I swear by Allah, it is more sinful in Allah's sight for one of you to persist in an oath regarding his family than payment of its expiation which Allah has imposed upon him (for breaking the oath)
ہمام بن منبہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : یہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، پھر انہوں نے چند احادیث بیان کیں ، ان میں سے یہ تھی : اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ کی قسم! تم میں سے کسی کا اپنے گھر والوں کے بارے میں اپنی قسم پر اصرار کرنا اس کے لیے اللہ کے ہاں اس سے زیادہ گناہ کا باعث ہے کہ وہ اس قسم کے لیے اللہ کا مقرر کردہ کفارہ دے ۔ " ( اور اسے توڑ کر درست کام کرے اور گھر والوں کو آرام پہنچائے)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ أَبِي شَيْبَةَ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ، اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُقْتَلُ نَفْسٌ ظُلْمًا إِلاَّ كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْ دَمِهَا لأَنَّهُ كَانَ أَوَّلَ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ " .
Abdullah (b. Mas'ud) reported:Allah's Apostle (ﷺ) having said: No person who is killed unjustly, but the share of (this offence of his also) falls upon the first son of Adam, for he was the first to introduce killing
ابومعاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے عبداللہ بن مرہ سے ، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کسی ذی روح ( انسان ) کو ظلم سے قتل نہیں کیا جا سکتا مگر اس کے خون ( گناہ ) کا ایک حصہ آدم کے پہلے بیٹے پر پڑتا ہے کیونکہ وہی سب سے پہلا شخص تھا جس نے قتل کا طریقہ نکالا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ نَزَلَتْ فِيَّ أَرْبَعُ آيَاتٍ أَصَبْتُ سَيْفًا فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَفِّلْنِيهِ . فَقَالَ " ضَعْهُ " . ثُمَّ قَامَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " ضَعْهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ " . ثُمَّ قَامَ فَقَالَ نَفِّلْنِيهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ " ضَعْهُ " . فَقَامَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَفِّلْنِيهِ أَأُجْعَلُ كَمَنْ لاَ غَنَاءَ لَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " ضَعْهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهَ " . قَالَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ { يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأَنْفَالِ قُلِ الأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ}
A hadith has been narrated by Mus'ab b. Sa'd who heard it from his father as saying:" Four verses of the Qur'an have been revealed about me. I found a sword (among the spoils of war). It was brought to the Prophet (ﷺ). He (my father) said: Messenger of Allah, bestow it upon me. The Apostle of Allah (ﷺ) said: Place it there. Then he (my father) stood up and the Messenger of Allah (ﷺ) said to him: Place it from where you got it. (At this) he (my father) said again: Messenger of Allah, bestow it upon me Shall I be treated like one who has no share in (the booty)? The Apostle of Allah (may peace be upon him said: Place it from where you got it. At this was revealed the verse:" They ask thee about the spoils of war.... Say: The spoils of war are for Allah and the Messenger)
شعبہ نے ہمیں سماک بن حرب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے مصعب بن سعد سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میرے بارے میں چار آیتیں نازل ہوئیں : مجھے ایک تلوار ملی ، ( پھر کہا : ) وہ اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : اللہ کے رسول! ( اپنے حصے کے علاوہ ) یہ تلوار مجھے مزید عطا فرما دیں ۔ تو آپ نے فرمایا : " اسے رکھ دو ۔ " وہ پھر اٹھے اور عرض کی : اے اللہ کے رسول! ( یہ تلوار ) مجھے مزید دے دیں ۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : " جہاں سے لی ہے وہیں رکھ دو ۔ " وہ پھر اٹھے اور عرض کی : اللہ کے رسول! ( اپنے حصے کے علاوہ ) یہ بھی مجھے عنایت فرما دیں ۔ تو آپ نے فرمایا : " اسے رکھ دو ۔ " وہ پھر اٹھے اور عرض کی : اے اللہ کے رسول! ( اپنے حصے کے علاوہ ) یہ مجھے عنایت فرما دیں ۔ کیا میں اس شخص جیسا قرار دیا جاؤں گا جس کے لیے ( جنگ میں ) کوئی فائدہ نہیں ہوا؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : " تم نے اسے جہاں سے لیا ہے وہیں رکھ دو ۔ " کہا : اس پر یہ آیت نازل ہوئی : " وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں ۔ کہہ دیجئے! غنیمتیں اللہ کے لیے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہیں
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ اسْتَعْمَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ابْنَ اللُّتْبِيَّةِ - رَجُلاً مِنَ الأَزْدِ - عَلَى الصَّدَقَةِ فَجَاءَ بِالْمَالِ فَدَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ هَذَا مَالُكُمْ وَهَذِهِ هَدِيَّةٌ أُهْدِيَتْ لِي . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَفَلاَ قَعَدْتَ فِي بَيْتِ أَبِيكَ وَأُمِّكَ فَتَنْظُرَ أَيُهْدَى إِلَيْكَ أَمْ لاَ " . ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم خَطِيبًا . ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ سُفْيَانَ .
It has been reported on the authority of Abu Humaid as-Sa'idi who said:The Prophet (ﷺ) appointed Ibn Lutbiyya, a man from the Azd tribe, in charge of Sadaqa (authorising him to receive gifts from the people on behalf of the State). He came with the collection, gave it to the Prophet (ﷺ), and said: This wealth is for you and this is a gift presented to me. The Prophet (ﷺ) said to him: Why didn't you remain in the house of your father and your mother to see whether gifts were presented to you or not. Then he stood up to deliver a sermon. Here follows the tradition like the tradition of Sufyan
معمر نے زہری سے ، انہوں نے عروہ سے ، انہوں نے ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ اَزد کے ابن لتبيه نامی ایک شخص کو زکاۃ ( کی وصولی ) پر عامل بنایا ، وہ کچھ مال لے کر آیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا اور کہا : یہ آپ لوگوں کا مال ہے اور یہ ہدیہ ہے جو مجھے دیا گیا ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : " تم اپنے باپ یا اپنی ماں کے گھر میں کیوں نہیں بیٹھے ، پھر دیکھتے کہ تمہیں ہدیہ دیا جاتا ہے یا نہیں؟ " پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے ، پھر سفیان ( بن عیینہ ) کی حدیث کی طرح بیان کیا
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، قَالَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا أَبِي وَمَعْنُ بْنُ عِيسَى، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَكْلِ الْحِمَارِ الأَهْلِيِّ يَوْمَ خَيْبَرَ وَكَانَ النَّاسُ احْتَاجُوا إِلَيْهَا .
Ibn 'Umar reported that Allah's Messenger (ﷺ) forbade the eating of the (flesh) of domestic asses on the Day of Khaibar in spite of the fact that people needed that
ابن جریج اور امام مالک نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کےدن پالتو گدھے کاگوشت کھانے سے منع فرمادیا ، حالانکہ لوگوں کو ( بھوک کے سبب ) اس کی ( سخت ) ضرورت تھی ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ، بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ، - يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ - كِلاَهُمَا عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ .
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Umar through another chain of transmitters
ابن جریج اور ضحاک بن عثمان دونوں نے نافع سے ، انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لیث کی حدیث کے مانند روایت کی ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُوسَى، بْنُ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ قَدْ نُهِيَ أَنْ يُنْبَذَ الْبُسْرُ وَالرُّطَبُ جَمِيعًا وَالتَّمْرُ وَالزَّبِيبُ جَمِيعًا .
Ibn Umar reported that he was forbidden to prepare Nabidh by mixing unripe dates and fresh dates, and dates with grapes
عبد الرزاق نے کہا : ہمیں ابن جریج نے خبردی کہا : مجھے موسیٰ بن عقبہ نے بتا یا انھوں نے نافع سے انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہ وہ کہاکرتے تھے : کچی اور تازہ کھجوروں کو ملا کر اور خشک کھجوروں اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنا نے سے منع کر دیا گیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ كَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حُلَّةَ سِيَرَاءَ فَخَرَجْتُ فِيهَا فَرَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ - قَالَ - فَشَقَقْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي .
Ali b. Abu Talib reported that Allah's Messenger (ﷺ) gave me to wear a garment in the form of silk cloak. I went out wearing it, but saw signs of anger on his face, so I tore it and distributed it amongst my women
زید بن وہب نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک ریشمی حلہ دیا ، میں اسے پہنکر نکلا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پرغصہ دیکھا ، کہا : پھر میں نے اس کو پھاڑ کر اپنے گھر کی عورتوں میں تقسیم کردیا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ، مَالِكٍ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا بُنَىَّ " .
Anas b Malik reported that Allah's Messenger (ﷺ) addressed me:O My Son
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " اے میرے بیٹے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهْوَ الْقَطَّانُ - ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، - يَعْنِي الثَّقَفِيَّ - كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يُقِيمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَقْعَدِهِ ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ وَلَكِنْ تَفَسَّحُوا وَتَوَسَّعُوا " .
Ibn 'Umar reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:No person should ask another person to stand at his place and then he should himself sit there, but he should simply say: Make room and accommodate
عبید اللہ نے نا فع سے حدیث بیان کی انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : کو ئی شخص کسی دوسرے شخص کو اس کی جگہ سے نہ اٹھا ئے کہ پھر وہاں بیٹھ جائے " ، بلکہ کھلے ہو کر بیٹھو اور وسعت پیدا کرو ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، كِلاَهُمَا عَنْ مَنْصُورٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ " أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ " . وَفِي حَدِيثِهِ عَنْ أَبِي يَحْيَى الأَعْرَجِ .
In the hadith transmitted by Shu'ba these words are not there:" Complete the Wudu," and there is the name of Abu Yahya al-A'raj (a narrator)
منصور کے دوسرے شاگرد سفیان اور شعبہ کے حوالے سے بھی باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی گئی جس میں شعبہ نے ’’خوب اچھی طرح وضو کرو ‘ ‘ کے الفاظ بیان نہیں کیے اور اس کی حدیث ( کی سند ) میں ہے : ابو یحییٰ اعرج سےروایت ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الأَشْعَرِيُّ، وَأَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ - وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، جَدِّهِ عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أُهَاجِرُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى أَرْضٍ بِهَا نَخْلٌ فَذَهَبَ وَهَلِي إِلَى أَنَّهَا الْيَمَامَةُ أَوْ هَجَرُ فَإِذَا هِيَ الْمَدِينَةُ يَثْرِبُ وَرَأَيْتُ فِي رُؤْيَاىَ هَذِهِ أَنِّي هَزَزْتُ سَيْفًا فَانْقَطَعَ صَدْرُهُ فَإِذَا هُوَ مَا أُصِيبَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ أُحُدٍ ثُمَّ هَزَزْتُهُ أُخْرَى فَعَادَ أَحْسَنَ مَا كَانَ فَإِذَا هُوَ مَا جَاءَ اللَّهُ بِهِ مِنَ الْفَتْحِ وَاجْتِمَاعِ الْمُؤْمِنِينَ وَرَأَيْتُ فِيهَا أَيْضًا بَقَرًا وَاللَّهُ خَيْرٌ فَإِذَا هُمُ النَّفَرُ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ أُحُدٍ وَإِذَا الْخَيْرُ مَا جَاءَ اللَّهُ بِهِ مِنَ الْخَيْرِ بَعْدُ وَثَوَابُ الصِّدْقِ الَّذِي آتَانَا اللَّهُ بَعْدُ يَوْمَ بَدْرٍ " .
Abu Musa reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:I dreamt (while asleep) that I was about to migrate from Mecca to a land abounding in palm trees and I guessed that it would be Yamama or Hajar, but it was the city of Yathrib (the old name of Medina), and I saw in this dream of mine that I was brandishing a sword and its upper end was broken and this is what fell (in the form of misfortune to the believers on the Day of Uhud). I brandished (the sword) for the second time and it became all right and this is what came to be true when Allah granted us victory and solidarity of the believers. And I saw therein cows also and Allah is the Doer of good. These meant the group from amongst the believers on the Day of Uhud and the goodness which Allah brought after that and the reward of attestation of his Truth which Allah brought to us after the Day of Badr
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ سے اس زمین کی طرف ہجرت کرتا ہوں جہاں کھجور کے درخت ہیں ، میرا گمان یمامہ اور حجر کی طرف گیا لیکن وہ مدینہ نکلا ، جس کا نام یثرب بھی ہے اور میں نے اپنے اسی خواب میں دیکھا کہ میں نے تلوار کو ہلایا تو وہ اوپر سے ٹوٹ گئی ، اس کی تعبیر احد کے دن مسلمانوں کی شکست نکلی ۔ پھر میں نے تلوار کو دوسری بار ہلایا تو آگے سے ویسی ہی ثابت اور اچھی ہو گئی ۔ اس کی تعبیر یہ نکلی کہ اللہ تعالیٰ نے فتح نصیب کی اور مسلمانوں کی جماعت قائم ہو گئی ( یعنی جنگ احد کے بعد خیبر اور مکہ فتح ہوا اور اسلام کے لشکر نے زور پکڑا ) اور میں نے اسی خواب میں گائیں دیکھیں ( جو کاٹی جاتی تھیں ) اور اللہ تعالیٰ بہتر ہے ( جیسے یہ جملہ بولا جاتا ہے اللہ خیر ) اس سے مسلمانوں کے وہ لوگ مراد تھے جو احد میں شہید ہوئے اور خیر سے مراد وہ خیر تھی جو اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد بھیجی اور سچائی کا ثواب جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں بدر کے بعد عنایت کیا ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا وَهْبٌ، - يَعْنِي ابْنَ جَرِيرٍ - حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ، يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ كَالْمُوَدِّعِ لِلأَحْيَاءِ وَالأَمْوَاتِ فَقَالَ " إِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ وَإِنَّ عَرْضَهُ كَمَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِلَى الْجُحْفَةِ إِنِّي لَسْتُ أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي وَلَكِنِّي أَخْشَى عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا وَتَقْتَتِلُوا فَتَهْلِكُوا كَمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ " . قَالَ عُقْبَةُ فَكَانَتْ آخِرَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمِنْبَرِ .
Uqba b. 'Amir reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Allah's Messenger offered prayer over those who had fallen matyrs at Uhud. He then climbed the pulpit as if someone is saying good-bye to the living and the dead, and then said: I shall be there as your predecesor on the Cistern before you, and it is as wide as the distance between Aila and Juhfa (Aila is at the top of the gulf of 'Aqaba). I am not afraid that you would associate anything with Allah after me, but I am afraid that you may be (allured) by the world and (vie) with one another (in possessing material wealth) and begin killing one another, and you would be destroyed as were destroyed those who had gone before you. 'Uqba said that that was the last occasion that he saw Allah's Massenger on the pulpit
ہمیں ابو معاویہ نے اعمش سے حدیث سنائی ، انھوں نے شقیق ( بن سلمہ اسدی ) سے ، انھوں نے حضرت عبد اللہ سے روایت بیان کی ۔ کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " میں حوض پر تمھا را پیش رو ہوں گا ۔ میں کچھ اقوام ( لو گوں ) کے بارے میں ( فرشتوں سے ) جھگڑوں گا ، پھر ان کے حوالے سے ( فرشتوں کو ) مجھ پر غلبہ عطا کر دیا جا ئے گا ، میں کہوں گا : اے میرے رب ! ( یہ ) میرے ساتھی ہیں ۔ میرے ساتھی ہیں ، تو مجھ سے کہا جا ئے گا : بلا شبہ آپ نہیں جا نتے کہ انھوں نے آپ کے بعد ( دین میں ) کیا نئی باتیں ( بدعات ) نکا لی تھیں ۔
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ الْقَطَّانُ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ فِي مَعْنَى حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ وَزَادَ قَالَ فَتَرَكَ الصَّلاَةَ عَلَيْهِمْ .
This hadith has been narrated on the authority of 'Ubaidullah with the same chain of transmitter but with the addition of the words:" He abandoned saying prayer over the hypocrites who had died
یحییٰ قطان نے عبید اللہ سے اسی سند کے ساتھ ابو اسامہ کی حدیث کے ہم معنی روایت کی اور مزید بیان کیا : کہا : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھنی چھوڑ دی ۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ نَصْرٍ الْجَهْضَمِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَهْبُ، بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ " لاَ تَقَاطَعُوا وَلاَ تَدَابَرُوا وَلاَ تَبَاغَضُوا وَلاَ تَحَاسَدُوا وَكُونُوا إِخْوَانًا كَمَا أَمَرَكُمُ اللَّهُ " .
This hadith has been narrated on the authority of A'mash with the same chain of transmit ters (and the words are):" Don't sever relations of kinship, don't bear enmity against one another, don't bear aversion against one another and don't feel envy against the other and live as fellow-brothers as Allah has commanded you
شعبہ نے ہمیں اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی : " ایک دوسرے سے قطع رحمی نہ کرو ، ایک دوسرے سے روگردانی نہ کرو ، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو ، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے اللہ کے ایسے بندے بن جاؤ جو آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ، نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي كِلاَهُمَا، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . فِي حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ " مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلاَّ وَهُوَ عَلَى الْمِلَّةِ " . وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ " إِلاَّ عَلَى هَذِهِ الْمِلَّةِ حَتَّى يُبَيِّنَ عَنْهُ لِسَانُهُ " . وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ " لَيْسَ مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلاَّ عَلَى هَذِهِ الْفِطْرَةِ حَتَّى يُعَبِّرَ عَنْهُ لِسَانُهُ " .
It is reported on the authority of Abu Mu'awiya that (the Holy Prophet) said:Every new-born babe is born on the millat (of Islam and he) remains on this until his tongue is enabled to express himself. This hadith has been narratted on the authority of Abu Mu'awiya through another chain of transmitters (and the words are):" Every child is born but on this Fitra so long as he does not express himself with his tongue
معمر نے ہمیں ہمام بن منبہ سے حدیث بیان کی ، کہا : یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنائیں ، پھر انہوں نے کئی احادیث بیان کیں ، ان میں سے ایک حدیث یہ ہے : اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو ( بچہ ) پیدا ہوتا ہے ، وہ اسی فطرت پر پیدا ہوتا ہے ، پھر اس کے والدین اس کو یہودی اور نصرانی بنا دیتے ہیں جس طرح تم اونٹوں کے بچوں کو جنم دلواتے ہو ۔ کیا تم ان میں سے کسی کو کان کٹا ہوا پاتے ہو؟ یہاں تک کہ تم خود اس کا کان کاٹ دو " لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول! کیا آپ نے دیکھا کہ اگر وہ چھوٹا ہی فوت ہو جائے؟ فرمایا : " اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے وہ ( چھوٹی عمر میں فوت ہونے والے بچے ) کیا عمل کرنے والے تھے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ سُمَىٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ . فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ . كَانَتْ لَهُ عَدْلَ عَشْرِ رِقَابٍ وَكُتِبَتْ لَهُ مِائَةُ حَسَنَةٍ وَمُحِيَتْ عَنْهُ مِائَةُ سَيِّئَةٍ وَكَانَتْ لَهُ حِرْزًا مِنَ الشَّيْطَانِ يَوْمَهُ ذَلِكَ حَتَّى يُمْسِيَ وَلَمْ يَأْتِ أَحَدٌ أَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهِ إِلاَّ أَحَدٌ عَمِلَ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ . وَمَنْ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ حُطَّتْ خَطَايَاهُ وَلَوْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who uttered these words:" There is no god but Allah, the One, having no partner with Him. Sovereignty belongs to Him and all the praise is due to Him, and He is Potent over everything" one hundred times every day there is a reward of emancipating ten slaves for him, and there are recorded hundred virtues to his credit, and hundred vices are blotted out from his scroll, and that is a safeguard for him against the Satan on that day till evening and no one brings anything more excellent than this, except one who has done more than this (who utters these words more than one hundred times and does more good acts) and he who utters:" Hallowed be Allah, and all praise is due to Him," one hundred times a day, his sins are obliterated even if they are equal to the extent of the foam of the ocean
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص دن میں سو مرتبہ : " لا اله الا لله وحده لا شريك له له الملك وله لحمد وهو على كل شيء قدير " اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، ساری بادشاہت اسی کی ہے ، حمد صرف اسی کو سزاوار ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے " کہے اس شخص کو دس غلام آزاد کرنے کے برابر اجر ملتا ہے ، اس کے لیے سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں ، اس کے سو گناہ مٹا دیے جاتے ہیں اور یہ کلمات شام تک پورا دن شیطان سے اس کی حفاظت کا ذریعہ بن جاتے ہیں اور کوئی شخص اس سے زیادہ افضل عمل نہیں کر سکتا ، سوائے اس شخص کے جو اس سے بھی زیادہ مرتبہ یہی عمل کرے اور جس شخص نے ایک دن میں سو مرتبہ " سبحان الله وبحمده " کہا تو اس کے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ، چاہے وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ أَحَدٌ أَغْيَرَ مِنَ اللَّهِ وَلِذَلِكَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَلاَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنَ اللَّهِ " .
Abdullah reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:None is more self-respectidg than Allah and it is because of this that He has prohibited abominable acts-both visible and invisible-and none loves His praise more than Allah Himself
عبداللہ بن نمیر اور ابومعاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے شقیق سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ سے بڑھ کر کوئی غیور نہیں ہے ، اسی لیے اس نے بے حیائی کے تمام کام ، ان میں سے جو ظاہر ہیں اور جو پوشیدہ ہیں حرام کر دیے ہیں ، اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی نہیں ہے جسے مدح زیادہ پسند ہو ۔
حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ إِلاَّ قَوْلَهُ " وَلاَ أُدْخِلَكَ النَّارَ " . فَإِنَّهُ لَمْ يَذْكُرْهُ .
This hadith has been narrated on the authority of Anas b. Malik through another chain of transmitters, but with a slight variation of wording (and the words are):I shall cause him to enter Hell." (The words subsequent to these) have not been mentioned
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے ابو عمران سے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کررہے تھے ، اسی کے مانند ، سوائے ( اللہ تعالیٰ کے ) اس قول کے : " اور میں تمھیں آگ میں نہیں ڈالوں گا " انھوں نے اسے بیان نہیں کیا ۔
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ، - وَهُوَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ - حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، - يَعْنِي ابْنَ سَلاَّمٍ - عَنْ زَيْدٍ، - يَعْنِي أَخَاهُ - أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلاَّمٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو أَسْمَاءَ الرَّحَبِيُّ، أَنَّ ثَوْبَانَ، مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَدَّثَهُ قَالَ كُنْتُ قَائِمًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَاءَ حَبْرٌ مِنْ أَحْبَارِ الْيَهُودِ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ . فَدَفَعْتُهُ دَفْعَةً كَادَ يُصْرَعُ مِنْهَا فَقَالَ لِمَ تَدْفَعُنِي فَقُلْتُ أَلاَ تَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ الْيَهُودِيُّ إِنَّمَا نَدْعُوهُ بِاسْمِهِ الَّذِي سَمَّاهُ بِهِ أَهْلُهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اسْمِي مُحَمَّدٌ الَّذِي سَمَّانِي بِهِ أَهْلِي " . فَقَالَ الْيَهُودِيُّ جِئْتُ أَسْأَلُكَ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَيَنْفَعُكَ شَىْءٌ إِنْ حَدَّثْتُكَ " . قَالَ أَسْمَعُ بِأُذُنَىَّ فَنَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِعُودٍ مَعَهُ . فَقَالَ " سَلْ " . فَقَالَ الْيَهُودِيُّ أَيْنَ يَكُونُ النَّاسُ يَوْمَ تُبَدَّلُ الأَرْضُ غَيْرَ الأَرْضِ وَالسَّمَوَاتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هُمْ فِي الظُّلْمَةِ دُونَ الْجِسْرِ " . قَالَ فَمَنْ أَوَّلُ النَّاسِ إِجَازَةً قَالَ " فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ " . قَالَ الْيَهُودِيُّ فَمَا تُحْفَتُهُمْ حِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَالَ " زِيَادَةُ كَبِدِ النُّونِ " قَالَ فَمَا غِذَاؤُهُمْ عَلَى إِثْرِهَا قَالَ " يُنْحَرُ لَهُمْ ثَوْرُ الْجَنَّةِ الَّذِي كَانَ يَأْكُلُ مِنْ أَطْرَافِهَا " . قَالَ فَمَا شَرَابُهُمْ عَلَيْهِ قَالَ " مِنْ عَيْنٍ فِيهَا تُسَمَّى سَلْسَبِيلاً " . قَالَ صَدَقْتَ . قَالَ وَجِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنْ شَىْءٍ لاَ يَعْلَمُهُ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ إِلاَّ نَبِيٌّ أَوْ رَجُلٌ أَوْ رَجُلاَنِ . قَالَ " يَنْفَعُكَ إِنْ حَدَّثْتُكَ " . قَالَ أَسْمَعُ بِأُذُنَىَّ . قَالَ جِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنِ الْوَلَدِ قَالَ " مَاءُ الرَّجُلِ أَبْيَضُ وَمَاءُ الْمَرْأَةِ أَصْفَرُ فَإِذَا اجْتَمَعَا فَعَلاَ مَنِيُّ الرَّجُلِ مَنِيَّ الْمَرْأَةِ أَذْكَرَا بِإِذْنِ اللَّهِ وَإِذَا عَلاَ مَنِيُّ الْمَرْأَةِ مَنِيَّ الرَّجُلِ آنَثَا بِإِذْنِ اللَّهِ " . قَالَ الْيَهُودِيُّ لَقَدْ صَدَقْتَ وَإِنَّكَ لَنَبِيٌّ ثُمَّ انْصَرَفَ فَذَهَبَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَقَدْ سَأَلَنِي هَذَا عَنِ الَّذِي سَأَلَنِي عَنْهُ وَمَا لِي عِلْمٌ بِشَىْءٍ مِنْهُ حَتَّى أَتَانِيَ اللَّهُ بِهِ " .
Thauban, the freed slave of the Messenger of Allah (ﷺ), said:While I was standing beside the Messenger of Allah (ﷺ) one of the rabbis of the Jews came and said: Peace be upon you, O Muhammad. I pushed him backwith a push that he was going to fall. Upon this he said: Why do you push me? I said: Why don't you say: O Messenger of Allah? The Jew said: We call him by the name by which he was named by his family. The Messenger of Allah (ﷺ) said: My name is Muhammad with which I was named by my family. The Jew said: I have come to ask you (something). The Messenger of Allah (ﷺ) said: Should that thing be of any benefit to you, if I tell you that? He (the Jew) said: I will lend my ears to it. The Messenger of Allah (ﷺ) drew a line with the help of the stick that he had with him and then said: Ask (whatever you like). Thereupon the Jew said: Where would the human beings be on the Daywhen the earth would change into another earth and the heavens too (would change into other heavens)? The Messenger of Allah (ﷺ) said: They would be in darkness beside the Bridge. He (the Jew) again said: Who amongst people would be the first to cross (this bridge).? He said: They would be the poor amongst the refugees. The Jew said: What would constitute their breakfast when they would enter Paradise? He (the Holy Prophet) replied: A caul of the fish-liver. He (the Jew) said. What would be their food alter this? He (the Holy Prophet) said: A bullockwhich was fed in the different quarters of Paradise would be slaughtered for them. He (the Jew) said: What would be their drink? He (the Holy Prophet) said: They would be given drink from the fountain which is named" Salsabil". He (the Jew) said: I have come to ask you about a thing which no one amongst the people on the earth knows except an apostle or one or two men besides him. He (the Holy Prophet) said: Would it benefit you if I tell you that? He (the Jew) said: I would lend ears to that. He then said: I have come to ask you about the child. He (the Holy Prophet) said: The reproductive substance of man is white and that of woman (i. e. ovum central portion) yellow, and when they have sexual intercourse and the male's substance (chromosomes and genes) prevails upon the female's substance (chromosomes and genes), it is the male child that is created by Allah's Decree, and when the substance of the female prevails upon the substance contributed by the male, a female child is formed by the Decree of Allah. The Jew said: What you have said is true; verily you are an Apostle. He then returned and went away. The Messenger of Allah (ﷺ) said: He asked me about such and such things of which I have had no knowledge till Allah gave me that
ابو توبہ نے ، جو ربیع بن نافع ہیں ، ہم سے حدیث بیان کی ، کہا : معاویہ بن سلام نے ہمیں اپنےبھائی زید سے حدیث سنائی ، کہا : انہوں نے ابوسلام سے سنا ، کہا : مجھ سے ابو اسماء رحبی نے بیان کیا کہ نبی اکرمﷺ کے آزادکردہ غلام ثوبان رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ حدیث سنائی ، کہا : میں رسول ا للہ ﷺ کے پاس کھڑا تھا ایک یہودی عالم ( حبر ) آپ کے پاس آیا اورکہا : اے محمد! آپ پر سلام ہو ، میں نے اس کو اتنے زور سے دھکا دیا کہ وہ گرتے گرتے بچا ۔ اس نے کہا : مجھے دھکا کیوں دیتے ہو؟ میں نے کہا : تم یا رسول اللہ ! نہیں کہہ سکتے ؟ یہودی نے کہا : ہم تو آپ کو اسی نام سے پکارتے ہیں جو آپ کے گھر والوں نے آپ کا رکھا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’یقیناً میرا نام محمد ( ﷺ ) ہے جو میرے گھر والوں نے رکھا ہے ۔ ‘ ‘ یہودی بولا : میں آپ سے پوچھنے آیا ہوں ۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا : ’’اگر میں تمہیں کچھ بتاؤں گا تو کیا تمہیں اس سے فائدہ ہو گا؟ ‘ ‘ اس نے کہا : میں اپنے دونوں کانو ں سے توجہ سے سنوں گا ۔ تورسول اللہ ﷺ نے ایک چھڑی ، جو آپ کے پاس تھی ، زمین پر آہستہ آہستہ ماری اور فرمایا : ’’پوچھو ۔ ‘ ‘ یہودی نے کہا : جس دن زمین دوسری زمین سے بدلے گی اور آسمان ( بھی ) بدلے جائیں گے تو لوگ کہاں ہوں گے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ وہ پل ( صراط ) سے ( ذرا ) پہلے اندھیرے میں ہوں گے؟ آپ نے فرمایا : ’’فقرائے مہاجرین ۔ ‘ ‘ یہودی نے پوچھا : جب وہ جنت میں داخل ہوں گے تو ان کو کیا پیش کیا جائےگا؟ تو آپ نے فرمایا : ’’مچھلی کےجگر کا زائد حصہ ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : اس کے بعد ان کا کھانا کیا ہوگا؟ آپ نے فرمایا : ’’ان کے لیے جنت میں بیل ذبح کیا جائے گا جو اس کے اطراف میں چرتا پھرتا ہے ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : اس ( کھانے ) پر ان مشروب کیا ہو گا؟آپ نے فرمایا : ’’اس ( جنت ) کے سلسبیل نامی چشمے سے ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : آپ نے سچ کہا ، پھر کہا : میں آپ سے ایک چیز کے بارے میں پوچھنے آیا ہوں جسے اہل زمین سے محض ایک بنی جانتا ہے یاایک دو اور انسان ۔ آپ نےفرمایا : ’’اگر میں تمہیں بتا دیا تو کیا تمہیں اس سے فائدہ ہوگا؟ ‘ ‘ اس نے کہا : میں کان لگا کر سنوں گا ۔ اس نے کہا : میں آپ سے اولاد کے بارے میں پوچھنے آیا ہوں ۔ آپ نےفرمایا : ’’ مرد کا پانی سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی زرد ، جب دونوں ملتے ہیں اور مرد کا مادہ منویہ عورت کی منی سے غالب آ جاتا ہے تو اللہ کے حکم سے دونوں کے ہاں بیٹا پیدا ہوتا ہے اور جب عورت کی منی مرد کی منی پر غالب آ جاتی ہے تو اللہ عزوجل کے حکم سے دونوں کےہاں بیٹی پیدا ہوتی ۔ ‘ ‘ یہودی نے کہا : آپ نے واقعی صحیح فرمایا اور آپ یقیناً نبی ہیں ، پھر وہ پلٹ کر چلا گیا ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اس نے مجھ سے جس چیز کے بارے میں سوال کیا اس وقت تک مجھے اس میں سے کسی چیز کا کچھ علم نہ تھاحتی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کا علم عطا کر دیا ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ قَالَ قَتَادَةُ سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ سَمُرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ مِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى كَعْبَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ إِلَى حُجْزَتِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ إِلَى عُنُقِهِ " .
Samura b. Jundub reported Allah's Apostle (may peace -be upon him) as saying:There will be some to whose ankels the fire will reach, some to whose knees, some to whose waist the fire will reach, and some to whose collar-bone the fire will reach
شیبان بن عبدالرحمان نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : قتادہ نے کہا : میں نے ابونضرہ کو حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " ان ( جہنمیوں ) میں سے کوئی ایسا ہوگا جس کے ٹخنوں تک آگ لپٹی ہوگی اور کوئی ایسا ہوگا جس کی قمر تک لپٹی ہوگی اور کوئی ایسا ہوگا جس کی گردن تک لپٹی ہوگی ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ - عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَحْسِرَ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ يَقْتَتِلُ النَّاسُ عَلَيْهِ فَيُقْتَلُ مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ وَيَقُولُ كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ لَعَلِّي أَكُونُ أَنَا الَّذِي أَنْجُو " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The Last Hour would not come before the Euphrates uncovers a mountain of gold, for which people would fight. Ninety-nine out of each one hundred would die but every man amongst them would say that perhaps he would be the one who would be saved (and thus possess this gold)
یعقوب بن عبد الرحمٰن القاری نے ہمیں سہیل سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت نہیں آئے گی ۔ یہاں تک کہ دریائے فرات سونے کے ایک پہاڑ کو ظاہر کرے گا ۔ اس پر ( لڑتے ہوئے ) ہر سو میں سے ننانوے لوگ مارے جائیں گے اور ان ( لڑنے والوں ) میں سے ہر کوئی کہے گا ۔ شاید میں ہی بچ جاؤں گا ۔ ( اور سارے سونے کا مالک بن جاؤں گا ۔)
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي حَيَّانَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا غَيْرَ أَنَّ ابْنَ عُلَيَّةَ فِي حَدِيثِهِ الْعِنَبِ . كَمَا قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ وَفِي حَدِيثِ عِيسَى الزَّبِيبِ . كَمَا قَالَ ابْنُ مُسْهِرٍ .
This hadith has been transmitted on the same authority but with a slight variation of wording
اسماعیل بن علیہ اور عیسیٰ بن یونس دونوں نے ابوحیان سے اسی سند کے ساتھ ان دونوں کی حدیث کے مانند روایت کی ، البتہ ابن علیہ کی حدیث میں ہے : انگور ، جس طرح ابن ادریس نے کہا ہے ۔ اور عیسیٰ کی روایت میں کشمش ہے ۔ جس طرح ابن مسہر نے کہا ہے ۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ صَلاَةَ لِمَنْ لَمْ يَقْتَرِئْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ " .
Ubada b. as-Samit reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: He who does not recite Umm al-Qur'an is not credited with having observed the prayer
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے محمود بن ربیع نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’اس شخص کی کوئی نماز نہیں جس نے ام القریٰ ( فاتحہ ) نہیں پڑھی ۔ ‘ ‘