وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَمَا هُوَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ إِذْ قَالَ " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " . ثُمَّ قَالَ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ " اللَّهُمَّ نَجِّ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ " . ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ الأَوْزَاعِيِّ إِلَى قَوْلِهِ " كَسِنِي يُوسُفَ " . وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ .
Abu Salama narrated that Abu Huraira told him that when the Messenger of Allah (ﷺ) pronounced:" Allah listened to him who praised Him." and before prostration, he would recite this in the 'Isya' prayer: O Allah! rescue 'Ayyash b. Abu Rabi'a, and the rest of the hadith is the same as narrated by Auza'i to the words:" Like the famine (at the time) if Joseph." but he made no mention of that which follows afterwards
کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انھیں خبر دی کہ ( ایک روز ) رسول اللہ ﷺ عشاء کی نماز پڑھ رہے تھے ، جب آپ نے فرمایا : سمع اللہ لمن حمدہ تو سجدے میں جانے سے پہلے آپ نے ( دعا مانگتے ہوئے ) فرمایا : ‘ ‘ اے اللہ عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات عطا فرما ۔ ’’ کے الفاظ تک اوزاعی کی روایت کردہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی ، بعد کے الفاظ بیان نہیں کیےاوزاعی کے بجائے ) شیبان نے یحییٰ سے ، انھوں نے ابوسلمہ سے روایت کی
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، عَنْ صَالِحِ، بْنِ خَوَّاتٍ عَمَّنْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ ذَاتِ الرِّقَاعِ صَلاَةَ الْخَوْفِ أَنَّ طَائِفَةً صَفَّتْ مَعَهُ وَطَائِفَةٌ وِجَاهَ الْعَدُوِّ . فَصَلَّى بِالَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَةً ثُمَّ ثَبَتَ قَائِمًا وَأَتَمُّوا لأَنْفُسِهِمْ . ثُمَّ انْصَرَفُوا فَصَفُّوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الأُخْرَى فَصَلَّى بِهِمُ الرَّكْعَةَ الَّتِي بَقِيَتْ ثُمَّ ثَبَتَ جَالِسًا وَأَتَمُّوا لأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ سَلَّمَ بِهِمْ .
Yazid b. Ruman told on the authority of Salih b. Khawwat on the authority of one who prayed in time of danger with Allah's Messenger (may peace he upon him) at the Battle of Dhat ar-Riqa' that a group formed a row and prayed along with him, and a group faced the enemy. He led the group which was along with him in a rak'ah, then remained standing while they finished the prayer by themselves. Then they departed and formed a row facing the enemy. Then the second group came and he led them in the remaining rak'ah, after which he remained seated while they finished the prayer themselves. He then led them in salutation
یزید بن رومان نے صالح بن خوات سےاور انھوں نے اس شخص سے نقل کیا جس نے غزوہ ذات الرقاع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں نمازخوف پڑھی تھی ۔ کہ ایک گروہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صف بنائی اور دوسرا گروہ دشمن کے رو برو تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ والوں کو ایک رکعت پڑھائی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے رہے اور انھوں نے اپنے طور پر ( دوسری رکعت پڑھ کر ) نماز مکمل کرلی اور ( سلام پھیر کر ) چلے گئے اور دشمن کے سامنے صف بند ہوگئے اور دوسرا گروہ آگیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو رکعت رہتی تھی ۔ ان کو پڑھا دی پھر بیٹھے رہے اور ان لوگوں نے اپنے طور پر ( رکعت پڑھ کر ) نماز مکمل کرلی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ سلام پھیرا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَأَحْمَدُ بْنُ، عَبْدَةَ - وَاللَّفْظُ لأَبِي بَكْرٍ - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَيْسَ التَّحْصِيبُ بِشَىْءٍ إِنَّمَا هُوَ مَنْزِلٌ نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) reported:Halt at Muhassab is not something (significant from the point of view of the Shari'ah). It is a place of halt where Allah's Messenger (way peace be upon him) halted
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہا تحصب ( محصب میں ٹھہرنا ) کو ئی چیز نہیں وہ تو پڑاؤ کی ایک جگہ ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کیا تھا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ سَمِعَهُ مِنَ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم بِأُذُنِهِ يَقُولُ " إِنَّ اللَّهَ يُخْرِجُ نَاسًا مِنَ النَّارِ فَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ " .
Jabir reported that he had heard with his ears the Apostle (ﷺ) saying:Allah will bring out people from the Fire and admit them into Paradise
سفیان بن عیینہ نے عمر ( بن دینار ) سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : انہوں نے اپنے دونوں کانٔن سے یہ بات نبی ﷺسنی ، آپ فرما رہے تھے : ’’ اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کو آگ سے نکال کر جنت میں داخل کرے گا ۔ ‘ ‘