حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَنَتَ بَعْدَ الرَّكْعَةِ فِي صَلاَةٍ شَهْرًا إِذَا قَالَ " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " . يَقُولُ فِي قُنُوتِهِ " اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ اللَّهُمَّ نَجِّ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ اللَّهُمَّ نَجِّ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ اللَّهُمَّ نَجِّ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ " . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَرَكَ الدُّعَاءَ بَعْدُ فَقُلْتُ أُرَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ تَرَكَ الدُّعَاءَ لَهُمْ - قَالَ - فَقِيلَ وَمَا تَرَاهُمْ قَدْ قَدِمُوا
Abu Salama reported it on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (ﷺ) recited Qunut after ruku' in prayer for one mouth at the time of reciting (these words):" Allah listened to him who praised Him," and he said in Qunut:" 0 Allah! rescue al-Walid b. al-Walid; O Allah! rescue Salama b. Hisham; O Allah! rescue 'Ayyash b. Abu Rabi'a; O Allah! rescue the helpless amongst the Muslims; O Allah! trample Mudar severely; O Allah! cause them a famine like that (which was caused at the time) of Joseph." Abu Huraira (further) said: I saw that the Messenger of Allah (ﷺ) afterwards abandoned this supplication. I, therefore said: I see the Messenger of Allah (ﷺ) abandoning this blessing upon them. It was raid to him (Abu Huraira): Don't you see that (those for whom was blessing invoked by the Holy Prophet) have come (i. e. they have been rescued)?
ہمیں اوزاعی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے حدیث سنائی ، انھوں نے ابو سلمہ سے روایت کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انھیں حدیث بیان کی کہ نبی ﷺ نے ایک مہینے تک رکوع کے بعد قنوت ( عاجزی سے دعا ) کی ، جب آپ سمع اللہ لمن حمدہ کہہ لیتے ( تو ) اپنی قنوت میں یہ ( الفاظ ) کہتے : اے اللہ! ولید بن ولیدکو نجات دے ، اے اللہ عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے ، اے اللہ کمزور سمجھے جانے والے ( دوسرے ) مومنوں کو نجات عطا کر ، اے اللہ ! ان پر اپنے روندنے کو سخت تر کر اور اسے ان پر ، یوسف علیہ السلام کے ( زمانے کے ) قحط کے مانند کر دے ۔ ’’ مسجدوں اور نماز کی جگہوں کے احکام ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : پھر میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے یہ دعا چھوڑ دی ، میں نے ( ساتھیوں سے ) کہا : میں دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ دعا چھوڑ دی ہے ۔ کہا : ( جواب میں ) مجھ سے کہا گیا ، تم انھیں دیکھتے نہیں ، ( جن کے لیے دعا ہوئی تھی ) وہ سب آچکے ہیں ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ، الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى بِأَصْحَابِهِ فِي الْخَوْفِ فَصَفَّهُمْ خَلْفَهُ صَفَّيْنِ فَصَلَّى بِالَّذِينَ يَلُونَهُ رَكْعَةً ثُمَّ قَامَ فَلَمْ يَزَلْ قَائِمًا حَتَّى صَلَّى الَّذِينَ خَلْفَهُمْ رَكْعَةً ثُمَّ تَقَدَّمُوا وَتَأَخَّرَ الَّذِينَ كَانُوا قُدَّامَهُمْ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ قَعَدَ حَتَّى صَلَّى الَّذِينَ تَخَلَّفُوا رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ .
Sahl b. Abu Hathma reported that the Messenger of Allah (ﷺ) led his Companions in prayer in danger. He made them stand in two rows behind him. He led them who were close to him in one rak'ah. He then stood up and kept standing till those who were behind them observed one rak'ah. Then they (those standing in the second row) came in front and those who were in front went into the rear. He then led them In one rak'ah. He then sat down, till those who were behind him observed one rak'ah and then pronounced salutation
عبدالرحمان بن قاسم نے اپنے والد سے ، انھوں نے صالح بن خوات بن جبیرسے اور انھوں نے حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو نماز خوف پڑھائی اور انھیں اپنے پیچھے دو صفوں میں کھڑا کیا اور اپنے ساتھ ( کی صف ) والوں کوایک رکعت پڑھائی ۔ پھر آپ کھڑے ہوگئے اور کھڑے ہی رہے یہاں تک کہ ان سے پیچھے والوں نے ایک رکعت پڑھ لی ، پھر یہ آگے آگے اور جو ان سے آگے تھے پیچھے چلے گئے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ایک رکعت پڑھائی ۔ پھر آپ بیٹھ گئے حتیٰ کہ جو پیچھے چلے گئے تھے انھوں نے ( بھی ایک اور ) رکعت پڑھ لی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَابْنَ، عُمَرَ كَانُوا يَنْزِلُونَ الأَبْطَحَ . قَالَ الزُّهْرِيُّ وَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا لَمْ تَكُنْ تَفْعَلُ ذَلِكَ وَقَالَتْ إِنَّمَا نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَنَّهُ كَانَ مَنْزِلاً أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ .
Salim reported that Abu Bakr, 'Umar and Ibn Umar used to halt at Abtah. 'Urwa narrated from 'A'isha (Allah be pleased with her) that he did not observe this practice and said:Allah's Messenger (ﷺ) halted there, for it is a place from where it was easy to depart
زہری نے سالم سے روایت کی کہ ابو بکر عمر اور ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابطح پڑاؤکیا کرتے تھے ۔ زہر ی نے کہا مجھے عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے خبر دی کہ وہ ایسا نہیں کرتی تھیں اور ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں اترے تھے کیونکہ پڑاؤ کی وہ جگہ آپ کے ( مکہ سے ) نکلنے کے لیے زیادہ آسان تھی ۔
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، كِلاَهُمَا عَنْ رَوْحٍ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ الْقَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يُسْأَلُ عَنِ الْوُرُودِ، فَقَالَ نَجِيءُ نَحْنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَنْ كَذَا، وَكَذَا، انْظُرْ أَىْ ذَلِكَ فَوْقَ النَّاسِ - قَالَ - فَتُدْعَى الأُمَمُ بِأَوْثَانِهَا وَمَا كَانَتْ تَعْبُدُ الأَوَّلُ فَالأَوَّلُ ثُمَّ يَأْتِينَا رَبُّنَا بَعْدَ ذَلِكَ فَيَقُولُ مَنْ تَنْظُرُونَ فَيَقُولُونَ نَنْظُرُ رَبَّنَا . فَيَقُولُ أَنَا رَبُّكُمْ . فَيَقُولُونَ حَتَّى نَنْظُرَ إِلَيْكَ . فَيَتَجَلَّى لَهُمْ يَضْحَكُ - قَالَ - فَيَنْطَلِقُ بِهِمْ وَيَتَّبِعُونَهُ وَيُعْطَى كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ - مُنَافِقٍ أَوْ مُؤْمِنٍ - نُورًا ثُمَّ يَتَّبِعُونَهُ وَعَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ كَلاَلِيبُ وَحَسَكٌ تَأْخُذُ مَنْ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ يَطْفَأُ نُورُ الْمُنَافِقِينَ ثُمَّ يَنْجُو الْمُؤْمِنُونَ فَتَنْجُو أَوَّلُ زُمْرَةٍ وُجُوهُهُمْ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ سَبْعُونَ أَلْفًا لاَ يُحَاسَبُونَ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ كَأَضْوَإِ نَجْمٍ فِي السَّمَاءِ ثُمَّ كَذَلِكَ ثُمَّ تَحِلُّ الشَّفَاعَةُ وَيَشْفَعُونَ حَتَّى يَخْرُجَ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ شَعِيرَةً فَيُجْعَلُونَ بِفِنَاءِ الْجَنَّةِ وَيَجْعَلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ يَرُشُّونَ عَلَيْهِمُ الْمَاءَ حَتَّى يَنْبُتُوا نَبَاتَ الشَّىْءِ فِي السَّيْلِ وَيَذْهَبُ حُرَاقُهُ ثُمَّ يَسْأَلُ حَتَّى تُجْعَلَ لَهُ الدُّنْيَا وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهَا مَعَهَا .
It is reported on the authority of Abu Zubair that he heard from Jabir b 'Abdullah, who was asked about the arrival (of people on the Day of Resurrection). He said. We would come on the Day of Resurrection like this, like this, and see. carefully. that which concerns" elevated people". He (the narrator) said:Then the people would be summoned along with their idols whom they worshipped, one after another. Then our Lord would come to us and say: Whom are you waiting for? They would say: We are waiting for our Lord. He would say: I am your Lord. They would say: (We are not sure) till we gaze at Thee, and He would manifest Himself to them smilingly, and would go along with them and they would follow Him; and every person, whether a hypocrite or a believer, would be endowed with a light, and there would be spikes and hooks on the bridge of the Hell, which would catch hold of those whom Allah willed. Then the light of the hypocrites would be extinguished, and the believers would secure salvation. and the first group to achieve it would comprise seventy thousand men who would have the brightness of full moon on their faces, and they would not be called to account. Then the people immediately following them would have their faces as the brightest stars in the heaven. This is how (the groups would follow one after another). Then the stage of intercession would come, and they (who are permitted to intercede) would intercede, till he who had declared:" There is no god but Allah" and had in his heart virtue of the weight of a barley grain would come out of the Fire. They would be then brought in the courtyard of Paradise and the inhabitants of Paradise would begin to sprinkle water over them till they would sprout like the sprouting of a thing in flood water, and their burns would disappear. They would ask their Lord till they would be granted (the bounties) of the world and with it ten more besides it
ابو زبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، ان سے ( جنت اور جہنم میں ) وارد ہونے کے بارے میں سوال کیا جا رہا تھا تو انہوں نے کہا : ہم قیامت کے دن فلاں فلاں ( سمت ) سے آئیں گے ( دیکھو ) ، یعنی اس سمت سے جو لوگوں کےاوپر ہے ۔ کہا : سب امتیں اپنے اپنے بتوں اور جن ( معبودوں ) کی بندگی کرتی تھیں ان کے ساتھ بلائی جائیں گی ، ایک کے بعد ایک ، پھر اس کے بعد ہمارا رب ہمارے پاس آئے گا اور پوچھے گا : تم کس کا انتظار کر رہے ہو ؟ تو وہ کہیں گے : ہم اپنے رب کے منتظر ہیں ۔ وہ فرمائے گا : میں تمہارا رب ہوں ۔ توسب کہیں گے : ( اس وقت ) جب ہم تمہیں دیکھ لیں ۔ تو وہ ہنستا ہوا ان کےسامنے جلوہ افروز ہو گا ۔ انہوں نے کہا : وہ انہیں لے کر جائے گااور وہ اس کے پیچھے ہوں گے ، ان میں ہر انسان کو ، منافق ہویا مومن ، ایک نور دیا جائے گا ، وہ اس نور کے پیچھے چلیں گے ۔ اور جہنم کے پل پر کئی نوکوں والے کنڈے اور لوہے کے سخت کانٹے ہوں گے اور جس کو اللہ تعالیٰ چاہے گا وہ اسے پکڑ لیں گے ، پھر منافقوں کا نور بجھا دیا جائے گا اور مومن نجات پائیں گے تو سب سے پہلا گروہ ( جو ) نجات پائے گا ، ان کے چہرے چودہویں کے چاند جیسے ہوں گے ( وہ ) ستر ہزار ہوں گے ، ان کا حساب نہیں کیا جائے گا ، پھر جو لوگ ان کے بعد ہوں گے ، ان کے چہرے آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہوں گے ، پھر اسی طرح ( درجہ بدرجہ ۔ ) اس کے بعد پھرشفاعت کا مرحلہ آئے گااور ( شفاعت کرنے والے ) شفاعت کریں گے حتی کہ ہر وہ شخص جس نے لا الہ الا اللہ کہا ہو گا اور جس کےدل میں جو کے وزن کے برابر بھی نیکی ( ایمان ) ہو گی ۔ ان کی جنت کے آگے کے میدان میں ڈال دیا جائے گا اور اہل جنت ان پر پانی چھڑکنا شروع کر دیں گے حتی کہ وہ اس طرح اگ آئیں گے جیسے کوئی چیز سیلاب میں اگ آتی ہے اور اس ( کے جسم ) کا جلا ہوا حصہ ختم ہو جائے گا ، پھر اس سے پوچھا جائے گا حتی کہ اس کو دنیا اور اس کے ساتھ اس سے دس گنا مزید عطا کر دیا جائے گا ۔