حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ حِينَ يَفْرُغُ مِنْ صَلاَةِ الْفَجْرِ مِنَ الْقِرَاءَةِ وَيُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ رَأْسَهُ " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ " . ثُمَّ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ " اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ كَسِنِي يُوسُفَ اللَّهُمَّ الْعَنْ لِحْيَانَ وَرِعْلاً وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ " . ثُمَّ بَلَغَنَا أَنَّهُ تَرَكَ ذَلِكَ لَمَّا أُنْزِلَ { لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَىْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ} .
Abu Salama b. Abd al-Rahman b. 'Auf heard Abu Huraira say:(When) Allah's Messenger (ﷺ) (wished to invoke curse or blessing on someone, he would do so at the end) of the recitation in the dawn prayer, when he had pronounced Allah-o-Akbar (for bending) and then lifted his head (saying):" Allah listened to him who praised Him; our Lord! to Thee is all praise" ; he would then stand up and say:" Rescue al-Walid b. Walid, Salama b. Hisham, and 'Ayyash b. Abd Rabi'a, and the helpless among the Muslims. O Allah! trample severely Mudar and cause them a famine (which broke out at the time) of Joseph. O Allah! curse Lihyan, Ri'l, Dhakwan, 'Usayya, for they disobeyed Allah and His Messenger." (The narrator then adds): The news reached us that he abandoned (this) when this verse was revealed:" Thou but no concern in the matter whether He turns to them (mercifully) or chastises them; surely they are wrongdoers" (ill)
یونس بن یزید نے ابن شہاب سے روایت کرتے ہوئے خبر دی ، کہا : مجھے سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبدالرحمان بن عوف نے بتایا کہ ان دونوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز فجر کی قراءت سے فارغ ہوتے اور ( رکوع میں جانے کے لیے ) تکبیر کہتے تو سر اٹھانے کے بعد سمع اللہ لمن حمدہ ربنا ولک الحمد ( اللہ نے سن لیا جس نے اس کی حمد کی ، اے ہمارے رب! اور ٰحمدتیرے ہی لیے ہے ) کہتے ، پھر حالت قیام ہی میں آپ فرماتے : ‘ ‘ اے اللہ!ولید بن ولید ، سلمہ بن ہشام ، عیاش بن ابی ربیعہ اور مومنوں میں سے ان لوگوں کو جنھیں ( کافروں نے ) کمزور پایا ، نجات عطا فرما ۔ اے اللہ!قبیلہ مضر پر اپنے روندنے کو سخت کر ، ان پر اپنے اس مؤاخذے کو یوسف علیہ السلام کے زمانے کے قحط کی طرح کر د ۔ اے اللہ! الحیان ، رعل ، ذکوان اور عصیہ پر ، جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ، لعنت نازل کر ۔ ’’پھر ہم تک یہ بات پہنچی کہ اس کے بعد جب آپ پر یہ آیت اتری : ‘ ‘ آپ کا اس معاملے سے کوئی سروکار نہیں ، ( اللہ تعالیٰ ) چاہے ان کو توبہ کا موقع عطا کرے ، چاہے ان کو عذاب دے کہ و ہ یقینا ظلم کرنے والے ہیں’’ تو آپ نے یہ دعا چھوڑ دی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الْخَوْفِ فَصَفَّنَا صَفَّيْنِ صَفٌّ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالْعَدُوُّ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَكَبَّرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَكَبَّرْنَا جَمِيعًا ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعْنَا جَمِيعًا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَرَفَعْنَا جَمِيعًا ثُمَّ انْحَدَرَ بِالسُّجُودِ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ وَقَامَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ فِي نَحْرِ الْعَدُوِّ فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم السُّجُودَ وَقَامَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بِالسُّجُودِ وَقَامُوا ثُمَّ تَقَدَّمَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ وَتَأَخَّرَ الصَّفُّ الْمُقَدَّمُ ثُمَّ رَكَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَرَكَعْنَا جَمِيعًا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَرَفَعْنَا جَمِيعًا ثُمَّ انْحَدَرَ بِالسُّجُودِ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ الَّذِي كَانَ مُؤَخَّرًا فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى وَقَامَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ فِي نُحُورِ الْعَدُوِّ فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم السُّجُودَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بِالسُّجُودِ فَسَجَدُوا ثُمَّ سَلَّمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَسَلَّمْنَا جَمِيعًا . قَالَ جَابِرٌ كَمَا يَصْنَعُ حَرَسُكُمْ هَؤُلاَءِ بِأُمَرَائِهِمْ .
Jabir b. 'Abdullah reported:I observed prayer in danger with the Messenger of Allah (ﷺ). We drew ourselves up in two rows, one row behind him with the enemy between us and the Qibla. The Apostle of Allah (ﷺ) said: Allah is Most Great, and we all said it. He then bowed and we all bowed. He then raised his head from bowing, we all raised (our heads). He then went down in prostration along with the row close to him, and the rear row faced the enemy; then when the Messenger of Allah (ﷺ) completed the prostration, ; and then stood up, the row near to him also did it; then went down the rear row in prostration; then they stood up; then the rear row went to the front and the front row went to the rear. Then the Messenger of Allah (may peace he upon him) bowed down and we all bowed. He then raised his head from bowing and we also raised (our heads). He and the row close to him which I had been in the rear then went down in prostration In the first rak'ah, whereas the rear row faced the enemy. And when the Messenger of Allah (ﷺ) and the rear row close to him had finished the prostration, the rear row went down and prostrated themselves; then the Messenger of Allah pronounced the salutation and we also pronounced the salutation. (Jabir said we hadith) as your guards behave with their chiefs
عطاء نے حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز خوف میں شریک ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری دو صفیں بنائیں ، ایک صف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھی ( اوردوسری ان کے پیچھے ) اور دشمن ہمارے اور قبلے کے درمیان تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر ( تحریمہ ) کہی اور ہم سب نے بھی تکبیر کہی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا اور ہم سب نے رکوع کیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع سے اپنا سر اٹھایا اور ہم سب نے سراٹھایا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے کے لئے جھک گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے متصل صف نے بھی سجدہ کیا اور پچھلی صف دشمن کے مد مقابل کھڑی رہی ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سجدے کے کرلیے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے متصل صف ( سجدے کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ) کھڑی ہوگئی تو پچھلی صف سجدے کے لئے نیچے ہوئی اور پھر کھڑی ہوگئی ، اس کے بعد پچھلی صف آگے آگئی اور اگلی صف پیچھے چلی گئی ، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو ہم سب نے رکوع کیا ۔ پھر آپ نے رکوع سے اپنا سر اٹھایا اور ہم سب نے بھی سراٹھایا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے متصل صف جو پہلی رکعت میں پیچھے تھی ، سجدے کے لئے نیچے چلی گئی اور پچھلی صف دشمن کے مقابلے میں کھڑی رہی ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے متصل صف نے سجدہ کرلیا تو پچھلی صف سجدے کے لئے جھکی ۔ انھوں نے سجدے کیے ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا اور ہم سب نے بھی سلام پھیردیا ۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا : جس طرح تمہارےمحافظ ( آجکل ) اپنے امیروں کی حفاظت کے لئے کرتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ نُزُولُ الأَبْطَحِ لَيْسَ بِسُنَّةٍ إِنَّمَا نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَنَّهُ كَانَ أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ إِذَا خَرَجَ .
A'isha (Allah be pleased with her) reported.:Halt at al-Abtah is not the Sunnah. Allah's Messenger (ﷺ) halted there simply because it was easier for him to depart from there, when he left
عبد اللہ بن نمیر نے حدیث بیان کی ( کہا ) ہمیں ہشام نے اپنے والد ( عروہ ) سے حدیث بیان کی انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا ابطح میں ٹھہر نا ( اعمال حج کی سنتوں میں سے کو ئی ) سنت نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں اترے تھے کیونکہ ( مکہ سے ) روانہ ہو تے وقت وہاں سے نکلنا آسان تھا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي لأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولاً الْجَنَّةَ وَآخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْهَا رَجُلٌ يُؤْتَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ اعْرِضُوا عَلَيْهِ صِغَارَ ذُنُوبِهِ وَارْفَعُوا عَنْهُ كِبَارَهَا . فَتُعْرَضُ عَلَيْهِ صِغَارُ ذُنُوبِهِ فَيُقَالُ عَمِلْتَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا كَذَا وَكَذَا وَعَمِلْتَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا كَذَا وَكَذَا . فَيَقُولُ نَعَمْ . لاَ يَسْتَطِيعُ أَنْ يُنْكِرَ وَهُوَ مُشْفِقٌ مِنْ كِبَارِ ذُنُوبِهِ أَنْ تُعْرَضَ عَلَيْهِ . فَيُقَالُ لَهُ فَإِنَّ لَكَ مَكَانَ كُلِّ سَيِّئَةٍ حَسَنَةً . فَيَقُولُ رَبِّ قَدْ عَمِلْتُ أَشْيَاءَ لاَ أَرَاهَا هَا هُنَا " . فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ .
Abu Dharr reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:I know the last of the inhabitants of Paradise to enter it and the last of the inhabitants of Hell to come out of it. He is a man who would be brought on the Day of Resurrection and it will be said: Present his minor sins to him, and withhold from him his serious sins. Then the minor sins would be placed before him, and it would be said: On such and such a day you did so and so and on such and such a day you did so and so. He would say: Yes. It will not be possible for him to deny, while he would be afraid lest serious sins should be presented before him. It would be said to him: In place of every evil deed you will have a good deed. He will say: My Lord! I have done things I do not see here. I indeed saw the Messenger of Allah laugh till his front teeth were exposed
محمد بن عبد اللہ بن نمیر نے ہمیں اپنے والد سے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اعمش نے معرور بن سوید سے حدیث سنائی ، انہوں نے ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نےکہا کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ میں اہل جنت میں سے سب کے بعد جنت میں جانے والے اور اہل دوزخ میں سب سے آخر میں اس سے نکلنے والے کو جانتا ہوں ، وہ ایک آدمی ہے جسے قیامت کے دن لایا جائے گا اور کہا جائے گا : اس کے سامنے اس کے چھوٹے گنا ہ پیش کرو اور اس کے بڑے گناہ اٹھا رکھو ( ایک طرف ہٹادو ۔ ) تو اس کے چھوٹے گناہ اس کے سامنے لائے جائیں گے اور کہا جائے گا : فلاں فلاں دن تو نے فلاں فلاں کام کیے اور فلاں فلاں دن تو نے فلاں فلاں کام کیے ۔ وہ کہے گا : ہاں ، وہ انکار نہیں کر سکے گا اور وہ اپنے بڑے گناہوں کے پیش ہونے سے خوفزدہ ہوگا ، ( اس وقت ) اسے کہا جائے گا : تمہارے لیے ہر برائی کے عوض ایک نیکی ہے ۔ تو وہ کہے گا : اے میرے رب ! میں نے بہت سے ایسے ( برے ) کام کیے جنہیں میں یہاں نہیں دیکھ رہا ۔ ‘ ‘ میں ( ابو ذر ) نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ہنسے یہاں تک کہ آپ کے پچھلے دندان مبارک نمایاں ہو گئے ۔