بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
4 hadith
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ قَالَ لِي أَبُو قِلاَبَةَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ أَبُو سُلَيْمَانَ، قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي نَاسٍ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ ‏.‏ وَاقْتَصَّا جَمِيعًا الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ ‏.‏
Malik b. Huwairith Abu Sulaiman reported:I came to the Messenger of Allah (ﷺ) along with other persons and we were young men of nearly equal age, and the rest of the hadith was transmitted like the hadith narrated before
اور یہی حدیث ہمیں ابن ابی عمر نے سنائی ، کہا : عبدالوہاب نے بھی ایوب سے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : مجھ سے ابو قلابہ نے بیان کیا ، کہا : ہمیں ابو سلیمان مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی ، کہا : میں کچھ لوگوں ( کی معیت ) میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا ، ہم تقریبا ہم عمر نوجوان تھے......آگے دونوں ( حماد اور عبدالوہاب ) نے ابن علیہ کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی ۔ عبدالوہاب ثقفی نے خالد حذاء سے ، انھوں نے ابو قلابہ سے اور انھوں نے حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں اور میرا ساتھی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، جب ہم نے آپ کے ہاں سے واپسی کا ارادہ کیا تو آپ نے ہم سے فرمایا : ‘ ‘ جب نماز ( کا وقت ) آئے تو اذان کہو ، پھر اقامت کہو اور تم دونوں میں جو بڑا ہو وہ تمھاری امامت کر لے ۔ ’’
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الْخَوْفِ بِإِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَةً وَالطَّائِفَةُ الأُخْرَى مُوَاجِهَةُ الْعَدُوِّ ثُمَّ انْصَرَفُوا وَقَامُوا فِي مَقَامِ أَصْحَابِهِمْ مُقْبِلِينَ عَلَى الْعَدُوِّ وَجَاءَ أُولَئِكَ ثُمَّ صَلَّى بِهِمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَضَى هَؤُلاَءِ رَكْعَةً وَهَؤُلاَءِ رَكْعَةً ‏.‏
Salim b. Abdullah b. 'Umar reported:The Messenger of Allah (may peace he upon him) led on* of the two groups In one rak'ah of prayer in danger, while the other group faced the -enemy. Then they (the members of the first group) went back and replaced their companions who were facing the enemy. and then they (the members of the second group) came and the Messenger of Allah (ﷺ) led them in one rak'ah of prayer. Then the Messenger of Allah (ﷺ) pronounced salutation, and then they (the members of the Ant group) completed the rak'ah and they (the members of the second group) completed the rak'ah
معمر نے زہری سے ، انھوں نے سالم سے اور انھوں نےحضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خوف پڑھائی ، دو گروہوں میں سے ایک کو ایک رکعت پڑھائی اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے کھڑا ہواتھا ، پھر یہ ( آپ کے ساتھ نماز پڑھنے والے ) پلٹ گئے اور اپنے ساتھیوں کی جگہ دشمن کی طرف رخ کرکے جاکھڑے ہوئے اور وہ لوگ آگئے ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بھی ایک رکعت پڑھائی اور اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا پھر ( آپ کے بعد ) انہوں نے بھی اپنی رکعت مکمل کرلی اور انھوں نے بھی دوسری رکعت مکمل کرلی ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قُلْتُ أَخْبِرْنِي عَنْ شَىْءٍ، عَقَلْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَيْنَ صَلَّى الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ قَالَ بِمِنًى ‏.‏ قُلْتُ فَأَيْنَ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ قَالَ بِالأَبْطَحِ - ثُمَّ قَالَ - افْعَلْ مَا يَفْعَلُ أُمَرَاؤُكَ ‏.‏
Abd al-'Aziz b. Rufai' (Allah be pleased with him) said:I asked Anas b. Malik to tell me about something he knew about Allah's Messenger (ﷺ), viz. where he observed the noon prayer on Yaum al-Tarwiya. He said: At Mina. I said: Where did he observe the afternoon prayer on the Yaum an-Nafr? and he said: It was at al-Abtah. He then said: Do as your rulers do
عبد العزیز بن رفیع سے روایت ہے انھوں نے کہا میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا میں نے کہا : مجھے ایسی چیز بتا یئے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمجھی ہو ( اور یاد رکھی ہو ) آپ نے تر ویہ کے دن ( آٹھ ذوالحجہ کو ظہر کی نماز کہاں ادا کی تھی ؟ انھوں نے بتا یا منیٰ میں ۔ میں نے پو چھا : آپ نے ( منیٰ سے ) واپسی کے دن عصر کی نماز کہاں ادا کی ؟انھوں نے کہا اَبطح میں ۔ پھر کہا ( لیکن تم ) اسی طرح کرو جیسے تمھا رے امراء کرتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، وَابْنِ، أَبْجَرَ عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، رِوَايَةً إِنْ شَاءَ اللَّهُ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفُ بْنُ طَرِيفٍ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سَعِيدٍ، سَمِعَا الشَّعْبِيَّ، يُخْبِرُ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ سَمِعْتُهُ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَرْفَعُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
The same hadith has been by AlMughirah bin Shu’bah attributing it to the Messenger of Allah (ﷺ)
ہمیں سعید بن عمر و اشعثی نے حدیث بیان سنائی ، کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث سنائی ، انہوں نے مطرف اور ( عبد الملک ) ابن ابجر سے ، انہوں نے شعبی سے روایت کی ، کہا : میں نے مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے ، انشاء ا للہ ( رسول اللہ ﷺ سے بیان کردہ ) روایت کے طور پر سنا ، نیز ابن ابی عمر نے سفیان سے ، انہوں نے مطرف اور عبدالملک بن سعید سے اور ان دونوں نے شعبی سے سن کر حدیث بیان کی ، انہوں نے مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے حوالے سے خبر دی ، کہا : میں نے ان سے منبر پر سنا ، وہ اس بات کو رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کر رہے تھے ، نیز بشر بن حکم نے مجھ سے بیان کیا ( روایت کے الفاظ انہیں کے ہیں ) سفیان بن عیینہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں مطرف اور ابن ابجر نے حدیث بیان کی ، ان دونوں نے شعبی سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے مغیرہ بن شعبہ سے سنا ، وہ منبر پر لوگوں کو ( یہ ) حدیث سنا رہے تھے ۔ سفیان نے کہا : ان دونوں ( استادوں ) میں سےایک ( میرا خیال ہے ابن ابجر ) نے اس روایت کو مرفوعاً ( جسے صحابی نے رسو ل اللہﷺ سے سنا ہو ) بیان کیا ، آپ نے فرمایا : ’’موسیٰ ‌علیہ ‌السلام ‌ نے رب تعالیٰ سے پوچھا : جنت میں سب سے کم درجے کا ( جنتی ) کون ہو گا؟اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وہ ( ایسا ) آدمی ہو گا جو تمام اہل جنت کو جنت میں بھیج دیے جانے کے بعد آئے گا تو اس سے کہا جائے گا : جنت میں داخل ہو جا ، وہ کہے گا : میرے رب ! کیسے ؟ لوگ اپنی اپنی منزلوں میں قیام پذیر ہو چکے ہیں اور جولینا تھا سب کچھ لے چکے ہین ۔ تو اس سے کہا جائے گا : کیا تم اس پر راضی ہو جاؤ گے کہ تمہیں دنیا کے بادشاہوں میں سے کسی بادشاہ کے ملک کے برابر مل جائے؟ وہ کہے گا : میرے رب! میں راضی ہوں ، اللہ فرمائے گا : وہ ( ملک ) تمہاراہوا ، پھر اتنا اور ، پھر اتنا اور ، پھر اتنا اور ، پھر اتنا اور ، پھر اتنا اور ، پھر بار وہ آدمی ( بے اختیار ) کہے گا : میرے رب ! میں راضی ہوگیا ۔ اللہ عز وجل فرمائے گا : یہ ( سب بھی ) تیرا اور اس سے دس گنا مزید بھی تیرا ، اور وہ سب کچھ بھی تیرا جو تیرا دل چاہے اور جو تیری آنکھوں کو بھائے ۔ وہ کہے گا : اے میرے رب ! میں راضی ہوں ، پھر ( موسیٰ ‌علیہ ‌السلام ‌ نے ) کہا : پروردگار !تو وہ سب سے اونچے درجے کا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یہی لوگ ہیں جو میری مراد ہیں ، ان کی عزت و کرامت کو میں نے اپنے ہاتھوں سے کاشت کیا اور اس پر مہر لگا دی ( جس کے لیے چاہا محفوظ کر لیا ۔ ) ( عزت کا ) وہ ( مقام ) نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال تک گزرا ۔ فرمایا : اس کا مصداق اللہ عزوجل کی کتاب میں موجود ہے : ’’کوئی ذی روح نہین جانتا کہ ان کے لیے آنکھوں کی کسی ٹھنڈک چھپاکے رکھی گئی ہے ۔ ‘ ‘