حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنَا الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
A hadith like this has been narrated by A'mash by the same chain of transmitters
ابو معاویہ ، جریر ، ابن فضیل اور سفیان سب نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی مانند روایت بیان کی ہے
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ فُضَيْلٍ، - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، - عَنْ مُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ التَّطَوُّعِ، بَعْدَ الْعَصْرِ فَقَالَ كَانَ عُمَرُ يَضْرِبُ الأَيْدِي عَلَى صَلاَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ وَكُنَّا نُصَلِّي عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ قَبْلَ صَلاَةِ الْمَغْرِبِ . فَقُلْتُ لَهُ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَّهُمَا قَالَ كَانَ يَرَانَا نُصَلِّيهِمَا . فَلَمْ يَأْمُرْنَا وَلَمْ يَنْهَنَا
Mukhtar b. Fulful said:I asked Anas b. Malik about the voluntary prayers after the afternoon prayer, and he replied: 'Umar struck hit hands on prayer observed after the 'Asr prayer and we used to observe two rak'ahs after the sun set before the evening prayer during the time of the Messenger of Allah (ﷺ). I said to him: Did the Messenger of Allah (ﷺ) observe them? He said: He saw us observing them, but he neither commanded us nor forbade us to do so
مختار بن فلفل سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عصر کے بعد نفل نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا : حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ عصر کے بعد نماز پڑھنے پر ہاتھوں پر مارتے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کےدور میں ہم سورج کے غروب ہوجانے کے بعد نماز مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے ۔ تو میں نے ان سے پوچھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دو رکعتیں پڑھیں؟انھوں نے کہا : آپ ہمیں پڑھتا دیکھتے تھے آپ نے نہ ہمیں حکم دیا اور نہ روکا ۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى نَاقَةٍ بِمِنًى فَجَاءَهُ رَجُلٌ . بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ .
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters (and the words are):I saw Allah's Messenger (ﷺ) on the back of the camel at Mina, and a person came to him," and the rest of the hadith Is like that transmitted by Ibn 'Uyaina
معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) روایت کی ( عبد اللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ( آپ ) منیٰ میں اونٹنی پر ( سوار ) تھے تو آپ کے پا س ایک آدمی آیا ۔ ۔ ۔ آگے ابن عیینہ کی حدیث کے ہم معنی حدیث ہے ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، كِلاَهُمَا عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي لأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْهَا وَآخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولاً الْجَنَّةَ رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ حَبْوًا فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَهُ اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلأَى فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ يَا رَبِّ وَجَدْتُهَا مَلأَى . فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَهُ اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ - قَالَ - فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلأَى فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ يَا رَبِّ وَجَدْتُهَا مَلأَى فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ فَإِنَّ لَكَ مِثْلَ الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا أَوْ إِنَّ لَكَ عَشَرَةَ أَمْثَالِ الدُّنْيَا - قَالَ - فَيَقُولُ أَتَسْخَرُ بِي - أَوْ أَتَضْحَكُ بِي - وَأَنْتَ الْمَلِكُ " قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ . قَالَ فَكَانَ يُقَالُ ذَاكَ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً .
Abdullah b. Mas'ud reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said:I know the last of the inhabitants of Fire to be taken out therefrom, and the last of the inhabitants of Paradise to enter it. A man will come out of the Fire crawling. Then Allah, the Blessed and Exalted will say to him: Go and enter Paradise. So he would come to it and it would appear to him as if it were full. He would go back and say: O my Lord! I found it full. Allah, the Blessed and Exalted, would say to him: Go and enter Paradise. He would come and perceive as if it were full. He would return and say: O my Lord! I found it full. Allah would say to him: Go and enter Paradise, for there is for you the like of the world and ten times like it, or for you is ten times the like of this world. He (the narrator) said. He (that man) would say: Art Thou making a fun of me? or Art Thou laughing at me. though Thou art the King? He (the narrator) said: I saw the Messenger of Allah laugh till his front teeth were visible. And it was said: That would be the lowest rank among the inhabitants of Paradise
منصور نے ابراہیم سے ، انہوں نے عبیدہ سے ، انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ بے شک میں اسے جانتا ہوں جو دوزخ والوں میں سب سےآخر میں اس سے نکلے گااور جنت والوں میں سے سب سے آخر میں جنت میں جائےگا ۔ وہ ایسا آدمی ہے جوہاتھوں اور پیٹ کے بل گھسٹتا ہوا آگ سے نکلے گا ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اس سے فرمائے گا : جا جنت میں داخل ہو جاؤ ۔ وہ جنت میں آئے گا تو اسے یہ خیال دلایا جائے گا کہ جنت بھری ہوئی ہے ۔ وہ واپس آکر عرض کرے گا : اے میرے رب !مجھے تو وہ بھری ہوئی ملی ہے ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اس سے فرمائے گا : جا جنت میں داخل ہو جا ۔ آپ نے فرمایا : وہ ( دوبارہ ) جائے گا تواسے یہی لگے گا کہ وہ بھری ہوئی ہے ۔ وہ واپس آ کر ( پھر ) کہے گا : اے میرے رب ! میں نے تو اسے بھری ہوئی پایا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا : جا جنت میں داخل ہو جا ۔ تیرے لیے ( وہاں ) پوری دنیا کے برابر اور اس سے دس گنا زیادہ جگہ ہے ( یا تیرے لیے دنیا سے دس گنا زیادہ جگہ ہے ) آپ نے فرمایا : وہ شخص کہے گا : کیا تو میرے ساتھ مزاح کرتا ہے ( یا میری ہنسی اڑاتا ہے ) حالانکہ تو ہی بادشاہ ہے ؟ ‘ ‘ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا آپ ہنس دیے یہاں تک کہ آپ کے پچھلے دندان مبارک ظاہر ہو گئے ۔ عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا : چنانچہ یہ کہا جاتا تھا کہ یہ شخص سب سے کم مرتبہ جنتی ہو گا ۔