وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، - حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي ذُبَابٍ، فِي رِوَايَةِ هَارُونَ - وَفِي حَدِيثِ الأَنْصَارِيِّ حَدَّثَنِي الْحَارِثُ - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَحَبُّ الْبِلاَدِ إِلَى اللَّهِ مَسَاجِدُهَا وَأَبْغَضُ الْبِلاَدِ إِلَى اللَّهِ أَسْوَاقُهَا " .
Abu Huraira reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said:The parts of land dearest to Allah are its mosques, and the parts most hateful to Allah are markets
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ‘شہروں میں پیاری جگہ اللہ كے نزدیك مسجدیں ہیں اور ‘ اللہ کے نزدیک ( انسانی ) آبادیوں کا سب سے ناپسندیدہ حصہ ان کے بازار ہیں ۔ ’’
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، - وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ - عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ، بْنَ أَزْهَرَ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَرْسَلُوهُ إِلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا اقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلاَمَ مِنَّا جَمِيعًا وَسَلْهَا عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَقُلْ إِنَّا أُخْبِرْنَا أَنَّكِ تُصَلِّينَهُمَا وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْهُمَا . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَكُنْتُ أَصْرِفُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ النَّاسَ عَنْهَا . قَالَ كُرَيْبٌ فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا وَبَلَّغْتُهَا مَا أَرْسَلُونِي بِهِ . فَقَالَتْ سَلْ أُمَّ سَلَمَةَ . فَخَرَجْتُ إِلَيْهِمْ فَأَخْبَرْتُهُمْ بِقَوْلِهَا فَرَدُّونِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ بِمِثْلِ مَا أَرْسَلُونِي بِهِ إِلَى عَائِشَةَ . فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْهَى عَنْهُمَا ثُمَّ رَأَيْتُهُ يُصَلِّيهِمَا أَمَّا حِينَ صَلاَّهُمَا فَإِنَّهُ صَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ دَخَلَ وَعِنْدِي نِسْوَةٌ مِنْ بَنِي حَرَامٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَصَلاَّهُمَا فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ الْجَارِيَةَ فَقُلْتُ قُومِي بِجَنْبِهِ فَقُولِي لَهُ تَقُولُ أُمُّ سَلَمَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَسْمَعُكَ تَنْهَى عَنْ هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ وَأَرَاكَ تُصَلِّيهِمَا فَإِنْ أَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخِرِي عَنْهُ - قَالَ - فَفَعَلَتِ الْجَارِيَةُ فَأَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخَرَتْ عَنْهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ " يَا بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ سَأَلْتِ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ إِنَّهُ أَتَانِي نَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ بِالإِسْلاَمِ مِنْ قَوْمِهِمْ فَشَغَلُونِي عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ فَهُمَا هَاتَانِ " .
Kuraib, the freed slave of Ibn 'Abbas, reported that 'Abdullah b. 'Abbas, 'Abd al-Rahman b. Azhar, al-Miswar b. Makhrama sent him to 'A'isha, the wife of the Messenger of Allah (ﷺ), telling him to give her their greetings, and ask her about the two rak'ahs after the afternoon prayer, (for)" we have heard that you observe them whereas it has been conveyed to us that the Messenger of Allah (ﷺ) prohibited their observance." Ibn 'Abbas said:I along with 'Umar b. al-Khattab dissuaded people to do so (to observe two rak'ahs of prayer). Kuraib said: I went to her ('A'isha) and conveyed to her the message with which I was sent. She said: (Better) ask Umm Salama. So I went to them (those who had sent him to Hadrat 'A'isha) and informed them about what she had said. They sent me back to Umm Salama with that with which I was sent to 'A'isha. Umm Salama said: I beard the Messenger of Allah (ﷺ) prohibiting them, and then afterwards I saw him observing them. And when he observed them (two rak'ahs) he had already observed the 'Asr prayer. Then he (the Holy Prophet) came, while there were with me ladies of Banu Haram, a tribe of the Ansar and he (the Holy Prophet) observed them (the two rak'ahs). I sent a slave-girl to him asking her to stand by his side and say to him that Umm Salama says: Messenger of Allah, I heard you prohibiting these two rak'ahs, whereas I saw you observing them; and if he (the Holy Prophet) points with his hand (to wait), then do wait. The slave-girl did like that. He (the Holy Prophet) pointed out with his hand and she got aside and waited, and when he had finished (the prayer) he said: Daughter of Abu Umayya. you have asked about the two rak'ahs after the 'Asr prayer. Some people of 'Abu al-Qais came to me for embracing Islam and hindered me from observing the two rak'ahs which come after the noon prayer. So those are the two I have been praying
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام کریب سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، عبدالرحمان بن ازہر ، مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ انھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس بھیجا اور کہا کہ ہم سب کی طرف سے انھیں سلام عرض کرنا اور ان سے عصر کے بعد کی دو رکعت کے بارے میں پوچھنا اور کہنا کہ ہمیں خبر ملی ہے کہ آ پ یہ ( دو رکعتیں ) پڑھتی ہیں ۔ جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہم تک یہ خبر پہنچی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے روکا ہے ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ مل کر لوگوں کو ان سے روکا کرتا تھا ۔ کریب نے کہا : میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان حضرات نے جو پیغام د ے کر مجھے بھیجا تھا میں نے ان تک پہنچایا ۔ انھوں نے جواب دیا ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھو ۔ میں نکل کر ان حضرات کے پاس لوٹا اور انھیں ان کے جواب سے آگاہ کیا ۔ ان حضرات نے مجھے وہی پیغام دے کر حضرت اسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف بھیج دیا جس طرح حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس بھیجاتھا ، اس پر ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جواب دیا ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا کہ آپ ان دو رکعتوں سے روکتے تھے ، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دو رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا ، ہاں ، آپ نے جب یہ دو رکعتیں پڑھیں تھیں اس وقت آپ عصر کی نماز پڑھ چکے تھے ، پھر ( عصر پڑھ کر ) آپ ( میرے گھر میں ) داخل ہوئے جبکہ میرے پاس انصار کے قبیلے بنو حرام کے قبیلے کی کچھ عورتیں موجودتھیں ، آ پ نے یہ دو رکعتیں ادا ( کرنی شروع ) کیں تو میں نے آپ کے پاس خادمہ بھیجی اور ( اس سے ) کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک جانب جا کر کھڑی ہوجاؤ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرو کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں : میں آپ سے سنتی رہی ہوں کہ آپ ( عصر کے بعد ) ان دو رکعتوں سے منع فرماتے تھے اور اب میں آپ کو پڑھتے ہوئےدیکھ رہی ہوں؟اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ سے اشارہ فرمائیں تو پیچھے ہٹ ( کرکھڑی ہو ) جانا ۔ اس لڑکی نے ایسے ہی کیا ، آپ نے ہاتھ سے اشارہ فرمایا ، وہ آپ سے پیچھے ہٹ ( کر کھڑی ہو ) گئی ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیراتو فرمایا : " اے ابو امیہ ( حذیفہ بن مغیرہ مخزومی ) کی بیٹی!تم نے عصر کے بعد کی دورکعتوں کے بارے میں پوچھا ہے ، تو ( معاملہ یہ ہے کہ ) بنو عبدالقیس کے کچھ افراد اپنی قوم کے اسلام ( لانے کی اطلاع ) کے ساتھ میرے پاس آئے ، اور انھوں نے مجھے ظہر کی بعد کی دورکعتوں سے مشغول کردیا ، یہ وہی دو رکعتیں ہیں ۔
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ التَّيْمِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، يَقُولُ وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى رَاحِلَتِهِ فَطَفِقَ نَاسٌ يَسْأَلُونَهُ فَيَقُولُ الْقَائِلُ مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَمْ أَكُنْ أَشْعُرُ أَنَّ الرَّمْىَ قَبْلَ النَّحْرِ فَنَحَرْتُ قَبْلَ الرَّمْىِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَارْمِ وَلاَ حَرَجَ " . قَالَ وَطَفِقَ آخَرُ يَقُولُ إِنِّي لَمْ أَشْعُرْ أَنَّ النَّحْرَ قَبْلَ الْحَلْقِ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ . فَيَقُولُ " انْحَرْ وَلاَ حَرَجَ " . قَالَ فَمَا سَمِعْتُهُ يُسْأَلُ يَوْمَئِذٍ عَنْ أَمْرٍ مِمَّا يَنْسَى الْمَرْءُ وَيَجْهَلُ مِنْ تَقْدِيمِ بَعْضِ الأُمُورِ قَبْلَ بَعْضٍ وَأَشْبَاهِهَا إِلاَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " افْعَلُوا ذَلِكَ وَلاَ حَرَجَ " .
Abdullah b. 'Amr b. al-'As (Allah be pleased with them) reported:Allah's Messenger (ﷺ) stopped while riding his camel and the people began to ask him. One of the inquirers said: Messenger of Allah, I did not know that pebbles should be thrown before sacrificing the animal, and by mistake I sacrificed the animal before throwing pebbles, whereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: (Now) throw pebbles and there is no harm in it. Then another (person) came saying: I did not know that the animal was to be sacrificed before shaving, but I got myself shaved before sacrificing the animal, whereupon he (the Holy Prophet) said: Sacrifice the animal (now) and there is no harm in it. He (the narrator) said: I did not hear that anything was asked on that day (shout a matter) which a person forgot and could not observe the sequence or anything like it either due to forgetfulness or ignorance, but Allah's Messenger (ﷺ) said (about that): Do it; there is no harm in it
یو نس نے ابن شہاب سے باقی ماند ہ اسی سند کے ساتھ خبر دی کہ عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہہ رہے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( منیٰ میں ) اپنی سواری پر ٹھہر گئے اور لوگوں نے آپ سے سوالات شروع کر دیے ان میں سے ایک کہنے والا کہہ رہا تھا ۔ اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے معلوم نہ تھا کہ رمی ( کا عمل ) قربانی سے پہلے ہے میں نے رمی سے پہلے قربا نی کر لی ؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تو ( اب ) رمی کر لو کو ئی حرج نہیں ۔ کو ئی اور شخص کہتا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے معلوم نہ تھا کہ قر با نی سر منڈوانے سے پہلے ہے میں نے قر بانی کر نے سے پہلے سر منڈوا لیا ہے ؟تو آپ فر ما تے ( اب ) قر بانی کر لو کو ئی حرج نہیں ۔ ( عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا میں نے آپ سے نہیں سنا کہ اس دن آپ سے ان اعمال کے بارے میں جن میں آدمی بھول سکتا ہے یا لا علم رہ سکتا ہے ان میں سے بعض امور کی تقدیم ( وتاخیر ) یا ان سے ملتی جلتی باتوں کے بارے میں نہیں پو چھا گیا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہی ) فر ما یا : " ( اب ) کر لو کو ئی حرج نہیں ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، بِإِسْنَادِهِمَا نَحْوَ حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ إِلَى آخِرِهِ وَقَدْ زَادَ وَنَقَصَ شَيْئًا .
Abu Bakr b. Abi Shaiba, Ja'far b. 'Aun, Hisham b. Sa'd, Zaid b. Aslam narrated the hadith as transmitted by Hafs b. Maisara, with certain additions and omissions
زید بن اسلم کے ایک اور شاگرد ہشام بن سعد نے بھی ان دونوں ( حفص اور سعید ) کی مذکورہ سندوں کے ساتھ حفص بن میسرہ جیسی حدیث ( : 454 ) آخرتک بیان کی اور کچھ کمی و زیادتی بھی کی ۔