حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " مَنْ غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ أَوْ رَاحَ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُ فِي الْجَنَّةِ نُزُلاً كُلَّمَا غَدَا أَوْ رَاحَ " .
Ata' b. Yasar reported, on the authority of Abu Huraira, the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:He who went towards the mosque in the morning or evening, Allah would arrange a feast for him morning or evening in Paradise
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے روایت کی : ‘ ‘ جو شخص دن کے پہلے حصے میں یا دن کے دوسرے حصے میں مسجد کی طرف گیا اللہ تعالیٰ ( ہر دفعہ آنے پر ) اس کے لئے جنت میں میزبانی کا انتظام فرماتا ہے ، جب بھی وہ ( آئے ) صبح کو آئے یا شام کو آئے ۔ ’’
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَىٍّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، يَقُولُ ثَلاَثُ سَاعَاتٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْهَانَا أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِنَّ أَوْ أَنْ نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّى تَرْتَفِعَ وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّى تَمِيلَ الشَّمْسُ وَحِينَ تَضَيَّفُ الشَّمْسُ لِلْغُرُوبِ حَتَّى تَغْرُبَ .
Uqba b. 'Amir said:There were three times at which Allah's Messenger (ﷺ) forbade us to pray, or bury our dead: When the sun begins to rise till it is fully up, when the sun is at its height at midday till it passes over the meridian, and when the sun draws near to setting till it sets
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے تھے کہ تین ا وقات ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں روکتے تھے کہ ہم ان میں نماز پڑھیں یا ان میں اپنے مردوں کو قبروں میں اتاریں : جب سورج چمکتا ہوا طلوع ہورہا ہو یہاں تک کہ وہ بلند ہوجائے اور جب دوپہر کو ٹھہرنے والا ( سایہ ) ٹھہر جاتا ہے حتیٰ کہ سورج ( آگے کو ) جھک جائے اور جب سورج غروب ہونے کے لئے جھکتا ہے یہاں تک کہ وہ ( پوری طرح ) غروب ہوجائے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالُوا أَخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ، غِيَاثٍ عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ أَمَّا أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ فِي رِوَايَتِهِ لِلْحَلاَّقِ " هَا " . وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الْجَانِبِ الأَيْمَنِ هَكَذَا فَقَسَمَ شَعَرَهُ بَيْنَ مَنْ يَلِيهِ - قَالَ - ثُمَّ أَشَارَ إِلَى الْحَلاَّقِ وَإِلَى الْجَانِبِ الأَيْسَرِ فَحَلَقَهُ فَأَعْطَاهُ أُمَّ سُلَيْمٍ . وَأَمَّا فِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ قَالَ فَبَدَأَ بِالشِّقِّ الأَيْمَنِ فَوَزَّعَهُ الشَّعَرَةَ وَالشَّعَرَتَيْنِ بَيْنَ النَّاسِ ثُمَّ قَالَ بِالأَيْسَرِ فَصَنَعَ بِهِ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ قَالَ " هَا هُنَا أَبُو طَلْحَةَ " . فَدَفَعَهُ إِلَى أَبِي طَلْحَةَ .
Abu Bakr reported:(He called for) the barber and, pointing towards the right side of his head, said: (Start from) here, and then distributed his hair among those who were near him. He then pointed to the barber (to shave) the left side and he shaved it, and he gave (these hair) to Umm Sulaim (Allah be pleased with her). And in the narration of Abu Kuraib (the words are):" He started from the right half (of his head), and he distributed a hair or two among the people. and then (asked the barber) to shave the left side and he did similarly, and he (the Holy Prophet) said: Here is Abu Talha and he gave these (hair) to Abu Talha
نمبرابو بکر بن ابی شیبہ ابن نمیر اور ابو کریب سب نے کہا ہمیں حفص بن غیاث نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی لیکن ابو بکر نے اپنی روایت میں یہ الفاظ کہے آپ نے حجا م سے کہا : "" یہ لو "" اور اپنے ہا تھ سے اس طرح اپنی دائیں جا نب اشارہ کیا ( کہ پہلے دائیں طرف سے شروع کرو ) اوراپنے بال مبارک اپنے قریب کھڑے ہو ئے لوگوں میں تقسم فر ما دیے پھر حجا مکو اپنی بائیں جا نب کی طرف اشارہ کیا ( کہ اب بائیں جا نب سے حجا مت بنا ؤ ) حجا م نے آپ کا سر مو نڈدیا تو آپ نے ( اپنے وہ موئے مبارک ) ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو عطا فر ما دیے ۔ اور ابو کریب کی روایت میں ہے کہا : ( حجا م نے ) دائیں جا نب سے شروع کیا تو آپ نے ایک ایک دو دو بال کر کے لوگوں میں تقسیم فر ما دیے ، پھر آپ نے اپنی بائیں جا نب ( حجا مت بنا نے کا ) اشارہ فر ما یا ۔ حجا م نے اس طرف بھی وہی کیا ( بال مونڈدیے ) پھر آپ نے فر ما یا : "" کہا یہا ابو طلحہ ہیں ؟ پھر آپ نے اپنے موئے مبا رک ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے فر ما دیے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَعَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، أَخْبَرَهُمَا أَنَّ النَّاسَ قَالُوا لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ مَعْنَى حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ .
Abu Huraira reported:The people said to the Messenger of Allah (ﷺ): Messenger of Allah I shall we see our Lord on the Day of Resurrection? The rest of the hadith was narrated according to the narration of Ibrahim b. Sa'd
شعیب نے ابن شہاب زہری سے خبر دی ، انہوں نے کہا : عطاء اور سعید بن مسیب نے مجھے خبر دی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نےان دونوں کو خبر دی کہ لوگوں نے نبی ﷺ سے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! کیاہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے؟. .....آگے ابراہیم بن سعد کی طرح حدیث بیان کی ۔