حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو - عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ تَطَهَّرَ فِي بَيْتِهِ ثُمَّ مَشَى إِلَى بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ لِيَقْضِيَ فَرِيضَةً مِنْ فَرَائِضِ اللَّهِ كَانَتْ خَطْوَتَاهُ إِحْدَاهُمَا تَحُطُّ خَطِيئَةً وَالأُخْرَى تَرْفَعُ دَرَجَةً " .
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (may peace be' upon him) said: He who purified himself in his house, and then he walked to one of the houses of Allah for the sake of performing a Fard (obligatory act) out of the Fara'id (obligatory acts) of Allah, both his steps (would be significant) as one of them would obliterate his sin and the second one would raise his status
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ‘ ‘ جس نے اپنے گھر میں وضو کیا ، پھر اللہ کے گھروں میں سے اس کے کسی گھر کی طرف چل کر گیا تاکہ اللہ کے فرضوں میں سے ایک فریضے کو ادا کرے تو اس کے دونوں قدم ( یہ کرتے ہیں کہ ) ان میں سے ایک گناہ نٹاتا ہے اور دوسرا درجہ بلند کرتا ہے
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ، نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَابْنُ، بِشْرٍ قَالُوا جَمِيعًا حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا بَدَا حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَخِّرُوا الصَّلاَةَ حَتَّى تَبْرُزَ وَإِذَا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَخِّرُوا الصَّلاَةَ حَتَّى تَغِيبَ " .
Ibn 'Umar reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When the rim of the sun starts appearing defer prayer till it completely appears, and when the rim of the sun disappears defer prayer till it completely disappears
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب سورج کا کنارہ نمودار ہوجائے تو نماز موخر کردو حتیٰ کہ وہ ( سورج ) نکل آئے ( بلند ہوجائے ) اور جب سورج کا کنارہ غروب ہوجائے تو نماز موخر کردو حتیٰ کہ وہ ( سورج ) پوری طرح غائب ہوجائے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَأَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ جَدَّتِهِ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ دَعَا لِلْمُحَلِّقِينَ ثَلاَثًا وَلِلْمُقَصِّرِينَ مَرَّةً . وَلَمْ يَقُلْ وَكِيعٌ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ .
Yahya b. al-Husain reported on the authority of his grandfather that Allah's Apostle (ﷺ) invoked blessing on the occasion of the Farewell Pilgrimage three times for those who got their heads shaved and once for those who got their hair clipped. In the narration transmitted by Waki' there is no mention of the Farewell Pilgrimage
وکیع اورابو داود طیالسی نے ہمیں شعبہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے یحییٰ بن حصین سے اور انھوں نے اپنی دادی ( ام حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) سے روایت کی کہ انھوں نے حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےسر منڈانے والوں کے لئے تین بار اور بال کٹوانے والوں کے لئے ایک باردعا کی ۔ اور وکیع نے " حجۃ الوداع کے موقع پر " کا جملہ نہیں کہا ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ صُهَيْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ - قَالَ - يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى تُرِيدُونَ شَيْئًا أَزِيدُكُمْ فَيَقُولُونَ أَلَمْ تُبَيِّضْ وُجُوهَنَا أَلَمْ تُدْخِلْنَا الْجَنَّةَ وَتُنَجِّنَا مِنَ النَّارِ - قَالَ - فَيَكْشِفُ الْحِجَابَ فَمَا أُعْطُوا شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظَرِ إِلَى رَبِّهِمْ عَزَّ وَجَلَّ " .
Suhaib reported the Apostle (ﷺ) saying:When those deserving of Paradise would enter Paradise, the Blessed and the Exalted would ask: Do you wish Me to give you anything more? They would say: Hast Thou not brightened our faces? Hast Thou not made us enter Paradise and saved us from Fire? He (the narrator) said: He (God) would lift the veil, and of things given to them nothing would he dearer to them than the sight of their Lord, the Mighty and the Glorious
عبد الرحمن بن مہدی نے کہا : ہمیں حماد بن سلمہ نے ثابت بنانی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے ، انہوں نے حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : ’’جب جنت والے جنت میں داخل ہو جائیں گے ، ( اس وقت ) اللہ تبارک وتعالیٰ فرمائے گا تمہیں کوئی چیز چاہیے جو تمہیں مزید عطا کروں ؟ وہ جواب دیں گے : کیا تو نے ہمارے چہرے روشن نہیں کیے ! کیا تو نے ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا اور دوزخ سے نجات نہیں دی؟ ‘ ‘ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ چنانچہ اس پر اللہ تعالیٰ پردہ اٹھا دے گا تو انہیں کوئی چیز ایسی عطا نہیں ہو گی جو انہیں اپنے رب عز وجل کے دیدار سے زیادہ محبوب ہو ۔ ‘ ‘