بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
4 hadith
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الأَشْعَرِيُّ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ أَعْظَمَ النَّاسِ أَجْرًا فِي الصَّلاَةِ أَبْعَدُهُمْ إِلَيْهَا مَمْشًى فَأَبْعَدُهُمْ وَالَّذِي يَنْتَظِرُ الصَّلاَةَ حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الإِمَامِ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنَ الَّذِي يُصَلِّيهَا ثُمَّ يَنَامُ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ ‏"‏ حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الإِمَامِ فِي جَمَاعَةٍ ‏"‏ ‏.‏
Abu Musa reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The most eminent among human beings (as a recipient of) reward (is one) who lives farthest away, and who has to walk the farthest distance, and he who waits for the prayer to observe it along with the Imam, his reward is greater than one who prays (alone) and then goes to sleep. In the narration of Abu Kuraib (the words are):" (He waits) till he prays along with the Imam in congregation
عبداللہ بن براداشعری اور ابو کریب دونوں نے کہا : ہم سے ابو اسامہ نے برید سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابوبردہ سے اور انھوں نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ‘ ‘ نماز میں سب سے زیادہ ثواب اس کا ہے جو اس کے لیے زیادہ دور سے چل کر آتا ہے ۔ پھر ( اس کے بعد ) جو ان میں سے سب سے زیادہ دور سے چل کر آتا ہے ۔ اور جوآدمی نماز کا انتظار کرتا ہے تاکہ اسے امام کے ساتھ ادا کرے ، اجر میں اس سے بہت بڑھ کر ہے جو نماز پڑھتا ہے ، پھر سو جاتا ہے ۔ ’’ ابو کریب کی روایت میں ہے : ‘ ‘ یہاں تک کہ وہ اسے امام کے ساتھ جماعت میں ادا کرے ۔ ’’
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي، هِنْدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَقَالَ لِي مِمَّنْ أَنْتَ قُلْتُ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ ‏.‏ قَالَ مِنْ أَيِّهِمْ قُلْتُ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ ‏.‏ قَالَ هَلْ تَقْرَأُ عَلَى قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ فَاقْرَأْ ‏{‏ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى‏}‏ قَالَ فَقَرَأْتُ ‏{‏ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى * وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى * وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى‏}‏ ‏.‏ قَالَ فَضَحِكَ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَؤُهَا ‏.‏
Alqama reported:I met Abu Darda', and he said to me: To which country do you belong? I said: I am one of the people of Iraq. He again said: To which city? I replied: City of Kufa. He again said: Do you recite according to the recitation of 'Abdullah b. Mas'ud? I said: Yes. He said: Recite this verse (By the night when it covers) So I recited it: (By the night when it covers, and the day when it shines, and the creating of the male and the female). He laughed and said: I have heard the Messenger of Allah (ﷺ) reciting like this
اسماعیل بن ابرا ہیم ( ابن علیہ ) نے داودبن ابی ہند سے انھوں نے شعبی سے اور انھوں نے علقمہ سے روا یت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا انھوں نے مجھ سے پو چھا : تم کہاں سے ہو؟ میں نے کہا : اہل عراق سے انھوں نے پو چھا : ان کے کو ن سے لو گو ں میں سے؟ میں نے کہا : اہل کو فہ سے انھوں نے پوچھا : کیاتم ( قرآن مجید ) عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قراءت کے مطا بق پڑھتے ہو؟میں نے کہا : جی ہاں انھوں نے کہا : وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ پڑھو ۔ میں نے پڑھا وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ ﴿<http : //tanzil.net/>﴾ وَالنَّهَارِ‌إِذَا تَجَلَّىٰ ﴿<http : //tanzil.net/>﴾ وَ الذَّكَرَ‌وَالْأُنثَىٰ کہا : وہ ہنس پڑے پھر فر ما یا : میں نے اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے سنا ۔
وَحَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ بِمِثْلِهِ ‏.‏
Jabir b. Abdullah reported a hadith like this from Allah's Apostle (ﷺ)
ہمیں عیسیٰ بن یونس نے خبردی ، ( کہا : ) ہمیں ابن جریج نے خبر دی ، ( کہا : ) مجھے ابو زبیرنے بتایا کہ انھوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آگے اسی کے مانند ہے ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ هَلْ رَأَى مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم رَبَّهُ فَقَالَتْ سُبْحَانَ اللَّهِ لَقَدْ قَفَّ شَعْرِي لِمَا قُلْتَ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ ‏.‏ وَحَدِيثُ دَاوُدَ أَتَمُّ وَأَطْوَلُ ‏.‏
Masruq reported:I asked 'A'isha if Muhammad (ﷺ) had seen his Lord. She replied: Hallowed be Allah, my hair stood on end when you said this, and he (Masruq) narrated the hadith as narrated above. The hadith reported by Diwud is more complete and longer
اسماعیل ( بن ابی خالد ) نے ( عامر بن شراحیل ) شعبی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے مسروق سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا : کیا محمدﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ انہوں نے کہا : سبحان اللہ ! جو تم نے کہا اس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے ہیں ۔ پھر ( اسماعیل نے ) پورے قصے سمیت حدیث بیان کی لیکن داود کی روایت زیادہ کامل اور طویل ہے ۔