بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
4 hadith
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِ هَذَا ‏.‏
A hadith like this has been narrated by Hammam b. Munabbih on the authority of Abu Huraira
ہمام بن منبہ نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے نبی ﷺ سے اسی کے مطابق روایت کی ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَتَى عَلْقَمَةُ الشَّامَ فَدَخَلَ مَسْجِدًا فَصَلَّى فِيهِ ثُمَّ قَامَ إِلَى حَلْقَةٍ فَجَلَسَ فِيهَا - قَالَ - فَجَاءَ رَجُلٌ فَعَرَفْتُ فِيهِ تَحَوُّشَ الْقَوْمِ وَهَيْئَتَهُمْ ‏.‏ قَالَ فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِي ثُمَّ قَالَ أَتَحْفَظُ كَمَا كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقْرَأُ فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ ‏.‏
Ibrahim reported:'Alqama came to Syria and entered the mosque and prayed there and then went to a (place where people were sitting in a) circle and he sat therein. Then a person came there and I perceived that the people were annoyed and perturbed (on this arrival). and he sat on my side and then said: Do you remember how 'Abdullah used to recite (the Qur'an)? And then the rest of the hadith was narrated
مغیرہ نے ابرا ہیم سے روا یت کی ، انھوں نے کہا : علقم ہشام آئے اور ایک مسجد میں داخل ہو ئے اس میں نماز پڑھی ، پھر لو گو ں کے ایک حلقے میں جا کر بیٹھ گئے اتنے میں ایک صاحب آئے تو مجھے ان کے ( ارد گرد ) لو گوں کے اکٹھا ہو نے اور ( انکی وجہ سے ) ایک خاص ہیئت اختیار کر لینے کا پتہ چل گیا ( اس سے معلوم ہو تا تھا کہ وہ خاص شخصیت ہیں ) ( علقمہ نے کہا : وہ میرے پہلو میں بیٹھ گئے ۔ پھر فر ما یا : عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) جس طرح پڑھا کرتے تھے کیا تمھیں وہ یاد ہے؟ اس کے بعد اسی ( پہلی حدیث کی ) طرح بیان کیا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، وَابْنُ، إِدْرِيسَ عَنِ ابْنِ، جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ ضُحًى وَأَمَّا بَعْدُ فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ ‏.‏
Jabir (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger (ﷺ) flung pebbles at jamra on the Day of Nahr after sunrise, and after that (i. e. on the 11th, 12th and 13th of Dhu'l-Hijja when the sun had declined)
ابو خالد احمر اورابن ادریس نے ابن جریج سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابوزبیر سے اورانھوں نے جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن چاشت کے وقت جمرہ ( عقبہ ) کو کنکریاں ماریں اور اس کے بعد ( کے دنوں میں تمام جمروں کو ) اس وقت جب سورج ڈھل گیا ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ وَزَادَ قَالَتْ وَلَوْ كَانَ مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم كَاتِمًا شَيْئًا مِمَّا أُنْزِلَ عَلَيْهِ لَكَتَمَ هَذِهِ الآيَةَ ‏{‏ وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَاهُ‏}‏
Dawud reported on the same authorities the hadith as narrated above by Ibn 'Uliyya and added:She ('A'isha) said: If Muhammad were to conceal anything which was sent to him, he would have certainly concealed this verse:" And when thou saidst to him on whom Allah had conferred favour and thou too had conferred favour: Keep thy wife to thyself and fear Allah, and thou wast concealing in thy heart that which Allah was going to disclose, and thou wast fearing men while Allah has a better right that thou shouldst fear Him
(اسماعیل کے بجائے ) عبدالوہاب نے کہا : ہمیں داود نے اسی طرح حدیث سنائی ( اسماعیل بن ابراہیم ) ابن علیہ سے بیان کی اور اس میں اضافہ کیا کہ ( حضرت عائشہؓ نے ) فرمایا : اگر محمدﷺ کسی ایک چیز کو جو آپ پر نازل کی گئی ، چھپانے والے ہوتے ، تو آپ یہ آیت چھپا لیتے : ’’ اور جب آپ اس شخص سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے انعام فرمایا اور آپ نے ( بھی ) انعام فرمایا کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس روکے رکھو اور اللہ سے ڈرو اور آپ اپنے جی میں وہ ہر چیز چھپا رہے تھے جسے اللہ ظاہر کرنا چاہتا تھا ، آپ لوگوں ( کےطعن و تشنیع ) سے ڈر رہے تھے ، حالانکہ اللہ ہی سب سے زیادہ حقدار ہے کہ آپ اس سے ڈریں ۔ ‘ ‘