حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ هُرْمُزَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَحَدُكُمْ مَا قَعَدَ يَنْتَظِرُ الصَّلاَةَ فِي صَلاَةٍ مَا لَمْ يُحْدِثْ تَدْعُو لَهُ الْمَلاَئِكَةُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ " .
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: Anyone amongst you who sat in a place of worship waiting for the prayer is in prayer and his ablution is not broken, the angels invoke blessing upon him (in these words): O Allah! pardon him. O Allah! have mercy upon him
ابن شہاب نے ( عبدالرحمان ) بن ہرمز ( اعرج ) سے اور انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ‘ ‘ تم میں سے کوئی شخص جتنی دیر نماز کے انتظار میں بیٹھا ہے نماز ہی میں رہتا ہے جب تک بے وضو نہ ہو جائے ۔ فرشتے اس کے لئے دعا کرتے رہتے : اے اللہ ! اسے معاف فرما! اے اللہ!اس پؓر رحم فرما ۔ ’’
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لأَبِي بَكْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ قَدِمْنَا الشَّامَ فَأَتَانَا أَبُو الدَّرْدَاءِ فَقَالَ أَفِيكُمْ أَحَدٌ يَقْرَأُ عَلَى قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ فَقُلْتُ نَعَمْ أَنَا . قَالَ فَكَيْفَ سَمِعْتَ عَبْدَ اللَّهِ يَقْرَأُ هَذِهِ الآيَةَ { وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى} قَالَ سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ { وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى * وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى} . قَالَ وَأَنَا وَاللَّهِ هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَؤُهَا وَلَكِنْ هَؤُلاَءِ يُرِيدُونَ أَنْ أَقْرَأَ وَمَا خَلَقَ . فَلاَ أُتَابِعُهُمْ .
Alqama reported. We went to Syria and Abu Darda' came to us and said:Is there anyone among you who recites according to the recitation of Abdullah? I said: Yes, it is I. He again said: How did you hear 'Abdullah reciting this verse: (wa'l-lail-i-idha yaghsha = when the night covers)? He ('Alqama) said: I heard him reciting it (like this) (wa'l-lail-i-idha yaghsha) wa-dhakar wal untha = when the night covers and the males and the females). Upon this he said: By Allah, I heard the Messenger of Allah (ﷺ) reciting in this way, but they (the Muslims of Syria) desire us to recite: (wa ma khalaqa), but I do not yield to their desire
اعمش نے ابرا ہیم سے اور انھوں نے علقمہ ( بن قیس کوفی ) سے روایت کی انھوں نے کہا : ہم شام آئے تو ہمارے پاس حضرت ابو دارداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لا ئے اور انھوں نے پو چھا : کیا تم میں سے کو ئی ایسا ہے جو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قراءت کے مطابق پڑھتا ہو ؟میں نے عرض کی : جی ہاں میں ( پڑھتا ہوں ) انھوں نے پو چھا : تم نے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ آیت وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ کسی طرح پڑھتے سناہے ۔ ( میں نے ) کہا : میں نے انھیںوَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ و الذَّكَرَوَالْأُنثَىٰ پڑھتے سنا ۔ انھوں نے کہا : اور میں نے بھی اللہ کی قسم !رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی پڑھتے سنا لیکن یہ لو گ چا ہتے ہیں کہ میں وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَوَالْأُنثَىٰ پڑھوں میں ان کے پیچھے نہیں چلوں گا ۔ ( ابن مسعود اور ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ غالباًقراءت کی اس دوسری صورت سے آگاہ نہ ہو سکے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے سکھا ئی تھی ۔)
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَمَى الْجَمْرَةَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ .
Jabir b. 'Abdullah reported:I saw Allah's Apostle (ﷺ) throwing stones (at Jamrat al 'Aqaba) like pelting of small pebbles
ابو زبیرنے خبر دی کہ انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ سے سنا ، وہ بیان کررہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ نے جمرہ عقبہ کو اتنی بڑی کنکریاں ماریں جتنی چٹکی ( دو انگلیوں ) سے ماری جانے والی کنکریاں ہوتی ہیں ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ دَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ كُنْتُ مُتَّكِئًا عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ يَا أَبَا عَائِشَةَ ثَلاَثٌ مَنْ تَكَلَّمَ بِوَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللَّهِ الْفِرْيَةَ . قُلْتُ مَا هُنَّ قَالَتْ مَنْ زَعَمَ أَنَّ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم رَأَى رَبَّهُ فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللَّهِ الْفِرْيَةَ . قَالَ وَكُنْتُ مُتَّكِئًا فَجَلَسْتُ فَقُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْظِرِينِي وَلاَ تَعْجَلِينِي أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { وَلَقَدْ رَآهُ بِالأُفُقِ الْمُبِينِ} { وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى} . فَقَالَتْ أَنَا أَوَّلُ هَذِهِ الأُمَّةِ سَأَلَ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " إِنَّمَا هُوَ جِبْرِيلُ لَمْ أَرَهُ عَلَى صُورَتِهِ الَّتِي خُلِقَ عَلَيْهَا غَيْرَ هَاتَيْنِ الْمَرَّتَيْنِ رَأَيْتُهُ مُنْهَبِطًا مِنَ السَّمَاءِ سَادًّا عِظَمُ خَلْقِهِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ إِلَى الأَرْضِ " . فَقَالَتْ أَوَلَمْ تَسْمَعْ أَنَّ اللَّهَ يَقُولُ { لاَ تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ} أَوَلَمْ تَسْمَعْ أَنَّ اللَّهَ يَقُولُ { وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلاَّ وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولاً فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ} قَالَتْ وَمَنْ زَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَتَمَ شَيْئًا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللَّهِ الْفِرْيَةَ وَاللَّهُ يَقُولُ { يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ} . قَالَتْ وَمَنْ زَعَمَ أَنَّهُ يُخْبِرُ بِمَا يَكُونُ فِي غَدٍ فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللَّهِ الْفِرْيَةَ وَاللَّهُ يَقُولُ { قُلْ لاَ يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ الْغَيْبَ إِلاَّ اللَّهُ} .
It is narrated on the authority of Masruq that he said:I was resting at (the house of) 'A'isha that she said: O Abu 'A'isha (kunya of Masruq), there are three things, and he who affirmed even one of them fabricated the greatest lie against Allah. I asked that they were. She said: He who presumed that Muhammad (ﷺ) saw his Lord (with his ocular vision) fabricated the greatest lie against Allah. I was reclining but then sat up and said: Mother of the Faithful, wait a bit and do not be in a haste. Has not Allah (Mighty and Majestic) said:" And truly he saw him on the clear horizon" (Al-Qur'an, Surat at-Takwir, 81:23) and" he saw Him in another descent" (Al-Qur'an, Surat Najm 53:13)? She said: I am the first of this Ummah who asked the Messenger of Allah (ﷺ) about it, and he said: Verily he is Gabriel. I have never seen him in his original form in which he was created except on those two occasions (to which these verses refer); I saw him descending from the heaven and filling (the space) from the sky to the earth with the greatness of his bodily structure. She said: Have you not heard Allah saying: "Eyes comprehend Him not, but He comprehends (all) vision. and He is Subtle, and All-Aware" (Al-Qur'an, Surat al-An`am 6:103)? (She, i.e. 'A'isha, further said): Have you not heard that, verily, Allah says: "And it is not for any human being that Allah should speak to him except by revelation or from behind a partition or that He sends a messenger to reveal, by His permission, what He wills. Indeed, He is Most High and Wise." (Al-Qur'an, Surat ash-Shura, 42:51) She said: He who presumes that the Messenger of Allah (ﷺ) concealed anything from the Book of Allah fabricates the greatest lie against Allah. Allah says: "O Messenger, announce that which has been revealed to you from your Lord, and if you do not, then you have not conveyed His message. And Allah will protect you from the people. Indeed, Allah does not guide the disbelieving people." (Al-Qur'an, Surat al-Ma'idah, 5:67). She said: He who presumes that he would inform about what was going to happen tomorrow fabricates the greatest lie against Allah. And Allah says "Say, 'None in the heavens and earth knows the unseen except Allah , and they do not perceive when they will be resurrected.'" (Al-Qur'an, Surat an-Naml, 27:)
اسماعیل بن ابراہیم نے داود سے ، انہوں نے شعبی سے اور انہوں نے مسروق سے روایت کی ، کہا : میں حضرت عائشہ ؓ کی خدمت میں ٹیک لگائے ہوئے بیٹھا تھا کہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : ابو عائشہ ! ( یہ مسروق کی کنیت ہے ) تین چیزیں ہیں جس نے ان میں سے کوئی بات کہی ، اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان باندھا ، میں نے پوچھا : وہ باتیں کون سی ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : جس نے یہ گمان کیا کہ محمدﷺ نے اپنےرب کو دیکھا ہے تو اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان باندھا ۔ انہوں نےکہا : میں ٹیک لگائے ہوئے تھا تو ( یہ بات سنتے ہی ) سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور کہا : ام المومنین !مجھے ( بات کرنے کا ) موقع دیجیے اور جلدی نہ کیجیے ، کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا : ’’ بےشک انہوں نے اسے روشن کنارے پر دیکھا ‘ ‘ ( اسی طرح ) ’’اور آپ ﷺ نے اسے ایک بار اترتے ہوئے دیکھا ۔ ‘ ‘ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : میں اس امت میں سب سے پہلی ہوں جس نے اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سےسوال کیا تو آپ نے فرمایا : ’’ وہ یقیناً جبرئیل ہیں ، میں انہیں اس شکل میں ، جس میں پیدا کیے گئے ، دو دفعہ کے علاوہ کبھی نہیں دیکھا : ایک دفعہ میں نے انہیں آسمان سے اترتے دیکھا ، ان کے وجود کی بڑائی نے آسمان و زمین کےدرمیان کی وسعت کو بھر دیا تھا ‘ ‘ پھر ام المومنین نے فرمایا : کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا فرمان نہیں سنا : ’’ آنکھیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں اور وہ آنکھوں کا ادراک کرتا ہے اور وہ باریک بین ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے ‘ ‘ اور کیا تم نے یہ نہیں سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ’’ اور کسی بشر میں طاقت نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے کلام فرمائے مگر وحی کے ذریعے سے یا پردے کی اوٹ سے یا وہ کسی پیغام لانےوالا ( فرشتے ) کو بھیجے تو وہ اس کے حکم سے جو چاہے وحی کرے بلاشبہ وہ بہت بلند اوردانا ہے ۔ ‘ ‘ ( ام المومنین نے ) فرمایا : جوشخص یہ سمجھتا ہے کہ رسول ا للہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں سے کچھ چھپا لیا تو اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان باندھا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ’’اے رسول ! پہنچا دیجیے جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا اور اگر ( بالفرض ) آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اس کا پیغام نہ پہنچایا ( فریضئہ رسالت ادا نہ کیا ۔ ) ‘ ‘ ( اور ) انہوں نے فرمایا : اور جوشخص یہ کہے کہ آپ اس بات کی خبر دے دیتے ہیں کہ کل کیا ہو گا تو اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ’’ ( اے نبی! ) فرما دیجیے ! کوئی ایک بھی جو آسمانوں اور زمین میں ہے ، غیب نہیں جانتا ، سوائے اللہ کے ۔ ‘ ‘