وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُخْتَارِ، سَمِعَ مُوسَى بْنَ أَنَسٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى بِهِ وَبِأُمِّهِ أَوْ خَالَتِهِ . قَالَ فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ وَأَقَامَ الْمَرْأَةَ خَلْفَنَا .
Abdullah b. al-Mukhtar heard Musa b. Anas narrating on the authority of Anas b. Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) led him, his mother or his aunt in prayer. He made me, stand on his right side and made the woman stand, behind us
معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے عبداللہ بن مختار سے حدیث سنائی ، انھوں نے موسیٰ بن انس سے سنا ، وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺنے انھیں اور ان کی والدہ یا ان کی خالہ کو نماز پڑھائی ، کہا : آپ نے مجھے اپنی دائیں جانب اور عورت کو ہمارے پیچھے کھڑا کیا ۔
وَحَدَّثَنَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
This hadith has been narrated by Shu'ba with the same chain of transmitters
معاذ عنبری نےشعبہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ رَمَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ . قَالَ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ أُنَاسًا يَرْمُونَهَا مِنْ فَوْقِهَا . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ هَذَا وَالَّذِي لاَ إِلَهَ غَيْرُهُ مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ
Abd al-Rahman b. Yazid reported that 'Abdullah b. Mas'ud (Allah be pleased with them) threw seven pebbles at Jamrat al-'Aqaba from the heart of the valley. He pronounced Takbir with every pebble. It was said to him that people fling stones from the upper side (of the valley), whereupon 'Abdullah b. Mas'ud (Allah he pleased with them) said:By him, besides Whom there is no other god, that is the place (of flinging stones) of one upon whom Surah al-Baqara was revealed (the Holy Prophet)
ہمیں ابو معاویہ نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابرا ہیم سے انھوں نے عبد الرحمان بن یزید سے روایت کی ، انھوں نے کہا : حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جمرہ عقبہ کو وادی کے اندر سے سات کنکریوں کے ساتھ رمی کی وہ ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے تھے ۔ ( عبد الرحمان نے ) کہا : ان سے کہا گیا : کچھ لوگ اسے ( جمرہ کو ) اس کی بالا ئی طرف سے کنکریاں مارتے ہیں تو عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اس ذات کی قسم جس کے سوا کو ئی معبود نہیں !یہی اس ہستی کے کھڑے ہو نے کی جگہ ہے جن پر سورہ بقرہنازل کی گئی ۔
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - وَهُوَ ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي الْحِجْرِ وَقُرَيْشٌ تَسْأَلُنِي عَنْ مَسْرَاىَ فَسَأَلَتْنِي عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ لَمْ أُثْبِتْهَا . فَكُرِبْتُ كُرْبَةً مَا كُرِبْتُ مِثْلَهُ قَطُّ قَالَ فَرَفَعَهُ اللَّهُ لِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ مَا يَسْأَلُونِي عَنْ شَىْءٍ إِلاَّ أَنْبَأْتُهُمْ بِهِ وَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي جَمَاعَةٍ مِنَ الأَنْبِيَاءِ فَإِذَا مُوسَى قَائِمٌ يُصَلِّي فَإِذَا رَجُلٌ ضَرْبٌ جَعْدٌ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ وَإِذَا عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - قَائِمٌ يُصَلِّي أَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيُّ وَإِذَا إِبْرَاهِيمُ - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - قَائِمٌ يُصَلِّي أَشْبَهُ النَّاسِ بِهِ صَاحِبُكُمْ - يَعْنِي نَفْسَهُ - فَحَانَتِ الصَّلاَةُ فَأَمَمْتُهُمْ فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنَ الصَّلاَةِ قَالَ قَائِلٌ يَا مُحَمَّدُ هَذَا مَالِكٌ صَاحِبُ النَّارِ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ . فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِ فَبَدَأَنِي بِالسَّلاَمِ " .
It is narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (ﷺ) said:I found myself in Hijr and the Quraish were asking me about my might journey. I was asked about things pertaining to Bait-ul-Maqdis which I could not preserve (in my mind). I was very much vexed, so vexed as I had never been before. Then Allah raised it (Bait-ul-Maqdis) before my eyes. I looked towards it, and I gave them the information about whatever they questioned me I also saw myself among the group of apostles. I saw Moses saying prayer and found him to be a well-built man as if he was a man of the tribe of Shanu'a. I saw Jesus son of Mary (peace be upon him) offering prayer, of all of men he had the closest resemblance with 'Urwa b. Masu'd al-Thaqafi. I saw Ibrahim (peace be upon him) offering prayer; he had the closest resemblance with your companion (the Prophet himself) amongst people. When the time of prayer came I led them. When I completed the prayer, someone said: Here is Malik, the keeper of the Hell; pay him salutations. I turned to him, but he preceded me in salutation
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ میں نے اپنے آپ کو حجر ( حطیم ) میں دیکھا ، قریش مجھ سے میرے رات کے سفر کے بارے میں سوال کر رہے تھے ، انہوں نے مجھ سے بیت المقدس کی کچھ چیزوں کےبارے میں پوچھا جو میں نے غور سے نہ دیکھی تھیں ، میں اس قدر پریشانی میں مبتلا ہواکہ کبھی اتنا پریشان نہ ہوا تھا ، آپ نے فرمایا : ’’اس پر اللہ تعالیٰ نے اس ( بیت المقدس ) اٹھا کر میرے سامنے کر دیا میں اس کی طرف دیکھ رہاتھا ، وہ مجھ سے جس چیز کے بارے میں بھی پوچھتے ، میں انہیں بتا دیتا ۔ اور میں نے خود کو انبیاء کی ایک جماعت میں دیکھا تو وہاں موسیٰ علیہ السلام تھے کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے ، جیسے قبیلہ شنوءہ کے آدمیوں میں سے ایک ہوں ۔ اور عیسیٰ ابن مریم ( رضی اللہ عنہ ) کو دیکھا ، وہ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے ، لوگوں میں سب سے زیادہ ان کے مشابہ عروہ بن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ ہیں ۔ اور ( وہاں ) ابراہیم علیہ السلام بھی کھڑے نماز پڑھ رہے تھے ، لوگوں میں سب سے زیادہ ان کے مشابہ تمہارے صاحب ہیں ، آپ نے اپنی ذلت مراد لی ، پھر نماز کا وقت ہو گیا تو میں نے ان سب کی امامت کی ۔ جب میں نماز سے فارغ ہو ا تو ایک کہنے والے نے کہا : اے محمد! یہ مالک ہیں ، جہنم کے داروغے ، انہیں سلام کہیے : میں ان کی طرف متوجہ ہوا تو انہوں نے پہل کر کے مجھےسلام کیا ۔ ‘ ‘