حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَيْنَا وَمَا هُوَ إِلاَّ أَنَا وَأُمِّي وَأُمُّ حَرَامٍ خَالَتِي فَقَالَ " قُومُوا فَلأُصَلِّيَ بِكُمْ " . فِي غَيْرِ وَقْتِ صَلاَةٍ فَصَلَّى بِنَا . فَقَالَ رَجُلٌ لِثَابِتٍ أَيْنَ جَعَلَ أَنَسًا مِنْهُ قَالَ جَعَلَهُ عَلَى يَمِينِهِ . ثُمَّ دَعَا لَنَا أَهْلَ الْبَيْتِ بِكُلِّ خَيْرٍ مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ فَقَالَتْ أُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ خُوَيْدِمُكَ ادْعُ اللَّهَ لَهُ . قَالَ فَدَعَا لِي بِكُلِّ خَيْرٍ وَكَانَ فِي آخِرِ مَا دَعَا لِي بِهِ أَنْ قَالَ " اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ وَبَارِكْ لَهُ فِيهِ " .
Thabit reported on the authority of Anas:The Apostle of Allah (ﷺ) came to us and there was none in our house but I, my mother and my aunt Umm Haram. He (the Holy Prophet) said: Stand up so that I may lead you in prayer (and there was no time for prescribed prayer). He led us in prayer. A person said to Thabit: Where stood Anas with him (the Holy Prophet)? He replied: He was on the right side. He then blessed us, the members of the household with every good of this world and of the Hereafter. My mother said: Messenger of Allah (and then, pointing towards Anas, said), here is your little servant, invoke the blessing of Allah upon him too. He then blessed me with every good, and he concluded his blessings for me (with these words): Allah! increase his wealth, and his children and make (them the source of) blessing for him
حضرت انس رضی اللہ عنہ سےروایت کی ، کہا : نبی ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے وہاں میرے ، میری والدہ اور میری خالہ ام حرام کے سوا کوئی نہ تھا ، آپ نے فرمایا : ‘ ‘ کھڑے ہو جاؤ میں تمھیں نماز پڑھا دوں ۔ ٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗ’ ( فرض ) نماز کے وقت کے بغیر ، آپ نے ہمیں نماز پڑھائی ۔ ایک آدمی نے ثابت سے پوچھا : آپ ﷺنے انس رضی اللہ عنہ کو اپنی کس جانب کھڑا کیا تھا؟ انھوں نے کہا : آپ ﷺ نے انہیں اپنے دائیں ہاتھ کھڑا کیا تھا ۔ پھر آپ نے ہمارے ، سب گھر والوں کے لئے دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیوں کی دعا فرمائی ، اس کے بعد میری ماں کہنے لگی : اللہ کے رسول! ( یہ ) آپ کا چھوٹا سا خدمت گزار ہے ، اللہ سے اس کے لئے ( خصوصی ) دعا کریں ۔ کہا : آپ نے میرے لئےہر بھلائی کی دعا کی اور میرے لئے آپ نے جو دعا کی اس کے آخر میں یہ تھا ، آپ نے فرمایا : ‘ ‘ اے اللہ!اس کا مال اور اس کی اولاد زیادہ کر اور اس کے لئے ان میں برکت ڈال دے ۔ ’’
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ عِنْدَ أَضَاةِ بَنِي غِفَارٍ - قَالَ - فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَقْرَأَ أُمَّتُكَ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ . فَقَالَ " أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ وَإِنَّ أُمَّتِي لاَ تُطِيقُ ذَلِكَ " . ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَقْرَأَ أُمَّتُكَ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفَيْنِ فَقَالَ " أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ وَإِنَّ أُمَّتِي لاَ تُطِيقُ ذَلِكَ " . ثُمَّ جَاءَهُ الثَّالِثَةَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَقْرَأَ أُمَّتُكَ الْقُرْآنَ عَلَى ثَلاَثَةِ أَحْرُفٍ . فَقَالَ " أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ وَإِنَّ أُمَّتِي لاَ تُطِيقُ ذَلِكَ " . ثُمَّ جَاءَهُ الرَّابِعَةَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَقْرَأَ أُمَّتُكَ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَأَيُّمَا حَرْفٍ قَرَءُوا عَلَيْهِ فَقَدْ أَصَابُوا .
Ubayy b. Ka'b reported that the Messenger of Allah (ﷺ) was near the tank of Banu Ghifar that Gabriel came to him and said:Allah has commanded you to recite to your people the Qur'an in one dialect. Upon this he said: I ask from Allah pardon and forgiveness. My people are not capable of doing it. He then came for the second time and said: Allah has commanded you that you should recite the Qur'an to your people in two dialects. Upon this he (the Holy prophet) again said: I seek pardon and forgiveness from Allah, my people would not be able to do so. He (Gabriel) came for the third time and said: Allah has commanded you to recite the Qur'an to your people in three dialects. Upon this he said: I ask pardon and forgiveness from Allah. My people would not be able to do it. He then came to him for the fourth time and said: Allah has commanded you to recite the Qur'an to your people in seven dialects, and in whichever dialect they would recite, they would be right
محمد بن جعفر غندر نے شعبہ سے روایت کی ، انھوں نے حکم سے ، انھوں نے مجاہد سے ، انھوں نے ابن ابی لیلیٰ سے اور انھوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو غفار کے اضاۃ ( بارانی تالاب ) کے پاس تشریف فرما تھے ۔ کہا : آپ کے پاس جبرئیل ؑ آئے اور کہا : اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ کی امت ایک حرف ( قراءت کی صورت ) پر قرآن پڑھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں اللہ تعالیٰ سے اس کا عفو ( درگزر ) اور اس کی مغفرت چاہتاہوں میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی ۔ " پھر وہ جبرئیل علیہ السلام دوبارہ آپ کے پاس آئے ۔ اور کہا کہ اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ آپ کی امت دو حرفوں پرقرآن پڑھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : " میں اللہ تعالیٰ سے اس کا عفو اور بخشش مانگتا ہوں ، میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی ۔ پھر وہ جبرئیل علیہ السلام تیسری بار آپ کے پاس آئے ۔ اور کہا کہ اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ آپ کی امت تین حرفوں پرقرآن پڑھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : " میں اللہ تعالیٰ سے اس کا عفو اور بخشش مانگتا ہوں ، میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی ۔ پھر وہ جبرئیل علیہ السلام چوتھی مرتبہ آپ کے پاس آئے ۔ اور کہا کہ اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ آپ کی امت سات حرفوں پرقرآن پڑھے ۔ وہ جس حرف پر بھی پڑھیں گے ٹھیک پڑھیں گے ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يُقَدِّمُ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ فَيَقِفُونَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ بِالْمُزْدَلِفَةِ بِاللَّيْلِ فَيَذْكُرُونَ اللَّهَ مَا بَدَا لَهُمْ ثُمَّ يَدْفَعُونَ قَبْلَ أَنْ يَقِفَ الإِمَامُ وَقَبْلَ أَنْ يَدْفَعَ فَمِنْهُمْ مَنْ يَقْدَمُ مِنًى لِصَلاَةِ الْفَجْرِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَقْدَمُ بَعْدَ ذَلِكَ فَإِذَا قَدِمُوا رَمَوُا الْجَمْرَةَ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ أَرْخَصَ فِي أُولَئِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Salim b. 'Abdullah reported that 'Abdullah b. 'Umar (Allah be pleased with them) used to send ahead of him the weak members of his household to stay during the night at Mash'ar al-Haram at Muzdalifa. They remembered Allah so long as they could afford, and then they proceeded before the stay of the Imam, and before his return. So some of them reached Mina for the dawn prayer and some of them reached there after that; and as they reached there, they stoned al-Jamra; and Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) used to say:Allah's Messenger (ﷺ) has granted this concession to them
(سالم بن عبد اللہ نے خبر دی کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے گھر کے کمزور افراد کو پہلے روانہ کر دیتے تھے ۔ وہ لوگ رات کو مزدلفہ میں مشعر حرام کے پاس ہی وقوف کرتے ، اور جتنا میسر ہو تا اللہ کا ذکر کرتے ، اس کے بعد وہ امام کے مشعر حرام کے سامنے وقوف اور اس کی روانگی سے پہلے ہی روانہ ہو جا تے ۔ ان میں سے کچھ فجر کی نماز اداکرنے ) کے لیے منیٰ آجا تے اور کچھ اس کے بعد آتے ۔ پھر جب وہ ( سب لو گ منیٰ آجا تے تو جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارتے ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہا کرتے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان ( کمزور لوگوں ) کو رخصت دی ہے ۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي أَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ فَإِذَا رَجُلٌ آدَمُ سَبِطُ الشَّعْرِ بَيْنَ رَجُلَيْنِ يَنْطِفُ رَأْسُهُ مَاءً - أَوْ يُهَرَاقُ رَأْسُهُ مَاءً - قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذَا ابْنُ مَرْيَمَ . ثُمَّ ذَهَبْتُ أَلْتَفِتُ فَإِذَا رَجُلٌ أَحْمَرُ جَسِيمٌ جَعْدُ الرَّأْسِ أَعْوَرُ الْعَيْنِ كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ . قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا الدَّجَّالُ . أَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا ابْنُ قَطَنٍ " .
Abdullah reported on the authority of his father 'Umar b. Khattab that he heard from the Messenger of Allah (may peace he upon him) say:I was sleeping when I saw myself making circuit around the Ka'bah, and I saw there a man of fair complexion with straight hair between two men. Water was flowing from his head or water was falling from his head. I said: Who is he? They answered: He is the son of Mary. Then I moved forward and cast a glance and there was a bulky man of red complexion with thick locks of hair on his head, blind of one eye as it his eye was a swollen grape. I asked: Who is he? They said: He is Dajjal. He had close resemblance with Ibn Qatan amongst men
ابن شہاب نےسالم بن عبد اللہ بن عمر سے ، انہوں نے اپنے والد حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نےکہا : میں نے رسو ل اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ’’ جب میں نیند میں تھا ، میں نے اپنے آپ کو کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اور دیکھا کہ ایک آدمی ہے جس کا رنگ گندمی ہے ، بال سیدھے ہیں ، اور دو آدمیٔن کے درمیان ہے ، اس کا سر پانی ٹپکا رہا ہے ( یا اس کا سر پانی گرا رہا ہے ) میں نے پوچھا : یہ کون ہیں ؟ ( جواب دینے والوں نے ) کہا : یہ ابن مریم ہیں ۔ پہر میں دیکھتا گیا تو اچانک ایک سرخ رنگ کا آدمی ( سامنے ) تھا ، جسم کا بھاری ، سر کے بال گھنگریالے ، آنکھ کانی ، جیسے ابھرا ہوا انگور کا دانہ ہو ، میں نے پوچھا : یہ کو ن ہے ؟ انہوں نے کہا : دجال ہے ، لوگوں میں اس کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہ ابن قطن ہے ۔ ‘ ‘