بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
38 hadith
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالأَسْوَدِ، أَنَّهُمَا دَخَلاَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ أَصَلَّى مَنْ خَلْفَكُمْ قَالاَ نَعَمْ ‏.‏ فَقَامَ بَيْنَهُمَا وَجَعَلَ أَحَدَهُمَا عَنْ يَمِينِهِ وَالآخَرَ عَنْ شِمَالِهِ ثُمَّ رَكَعْنَا فَوَضَعْنَا أَيْدِيَنَا عَلَى رُكَبِنَا فَضَرَبَ أَيْدِيَنَا ثُمَّ طَبَّقَ بَيْنَ يَدَيْهِ ثُمَّ جَعَلَهُمَا بَيْنَ فَخِذَيْهِ فَلَمَّا صَلَّى قَالَ هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Alqama and Aswad reported that they went to 'Abdullah. He said:Have (people) behind you said prayer? They said: Yes. He stood between them ('Alqama and Aswad). One was on his right aide and the other was on his left. We then bowed and placed our hands on our knees. He struck our hands and then putting his hands together, palm to palm, placed them between his thighs. When he completed the prayer he said: This is how the Messenger of Allah (ﷺ) used to do
۔ ( اعمش ےکے بجائے ) منصور ابراھیم سے اور انھوں نے علقمہ اور اسود سے روایت کی کہ وہ دونوں حضرت عبد اللہ ( بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) کے ہاں حاضر ہوئے تو انھوں نے پوچھا : جو تمہارے پیچھے ہیں انھوں نے نماز پڑھ لی ؟دونوں نے کہا : جی ہاں ۔ پھر وہ دونوں کے درمیان کھڑے ہوئے ‘ ان میں سےایک کو اپنی دائیں طرف اور دوسرے کو اپنی بائیں طرف ( کھڑا ) کیا پھر ہم نےرکوع کیاتو ہم اپنے ہاتھ اپنے گٹھنوں پر رکھے ‘ انھو ں نے ہمارے ہاتھوں پر ( ہلکا سا ) مارا ‘ پھر اپنے دونوں ہاتھ جوڑ لیے اور ان کو اپنی رانوں کے درمیان رکھا ‘ جب نماز پڑھ چکے تو کہا : رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح کیا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالَ أَحْمَدُ حَدَّثَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَمَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلاَّ بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏
It is reported on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah said:I have been commanded to fight against people so long as they do not declare that there is no god but Allah, and he who professed it was guaranteed the protection of his property and life on my behalf except for the right affairs rest with Allah
سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے انہیں خبر کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ لااله الااللهکے قائل ہو جائیں ، چنانچہ جو لااله الا اللهکا قائل ہو گیا ، اس نے میری طرف سے اپنا مال اور اپنی جان محفوظ کر لی ، الا یہ کہ اس ( اقرار ) کا حق ہو ، اور اس شخص کا حساب اللہ کے سپرد ہے ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ نَادَى بِالصَّلاَةِ بِضَجْنَانَ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِهِ وَقَالَ أَلاَ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ ‏.‏ وَلَمْ يُعِدْ ثَانِيَةً أَلاَ صَلُّوا فِي الرِّحَالِ ‏.‏ مِنْ قَوْلِ ابْنِ عُمَرَ ‏.‏
Ibn 'Umar reported that he summoned (people) to prayer at a place (known as) Dajnan, and the rest of the hadith is the same, and then said:Pray in your dwellings, but he did not repeat for the second time words of Ibn 'Umar (Pray in your dwellings)
ابو اسامہ نے کہا : ہمیں عبیداللہ نے نافع سے حدیث سنائی ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت کی کہ انھوں نے ( مکہ سے چھ میل کے فاصلے پر واقع ) بضَجنانَ پہاڑ پر اذان کہی ۔ ۔ ۔ پھر اوپر والی حدیث کے مانند بیان کیا اور ( ابو اسامہ نے ) کہا : " أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِکُم " اور انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دوبارہ " أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ " کہنے کا ذکر نہیں کیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ، حَدَّثَنِي رِبْعِيُّ بْنُ، حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ هُدِينَا إِلَى الْجُمُعَةِ وَأَضَلَّ اللَّهُ عَنْهَا مَنْ كَانَ قَبْلَنَا ‏"‏ ‏.‏ فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ فُضَيْلٍ ‏.‏
Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:We were guided aright to Friday (as a day of prayer and meditation), but Allah diverted those who were before us from it. The rest of the hadith is the same
ابن ابی زائدہ نے ( ابومالک ) سعد بن طارق سے خبر دی ، انھوں نے کہا : ربعی بن حراش نے مجھے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نےکہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہماری راہنمائی جمعے کی طرف کی گئی اور جو لوگ ہم سے پہلے تھے ان کو اللہ تعالیٰ نے ا س سےدوسری راہ پر لگادیا ۔ ۔ ۔ " آگے ابن فضیل کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ وَحَدِيثُ أَبِي أُسَامَةَ أَتَمُّ ‏.‏
This hadith has been narrated by Ibn 'Urwa with the same chain of transmitters. The hadith narrated by Abu Usama is more complete
وکیع نے بیان کیا کہ ہمیں ہشام بن عروہ نے اسی سند سے ابو اسامہ کی حدیث کے ہم معنی حدیث سنا ئی اور ابو اسامہ کی ( مذکورہ بالا ) حدیث زیادہ مکمل ہے ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ، عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لاَ يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا إِلاَّ جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرَ مَا كَانَتْ قَطُّ وَقَعَدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَسْتَنُّ عَلَيْهِ بِقَوَائِمِهَا وَأَخْفَافِهَا وَلاَ صَاحِبِ بَقَرٍ لاَ يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا إِلاَّ جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرَ مَا كَانَتْ وَقَعَدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَنْطِحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِقَوَائِمِهَا وَلاَ صَاحِبِ غَنَمٍ لاَ يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا إِلاَّ جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرَ مَا كَانَتْ وَقَعَدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَنْطِحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَظْلاَفِهَا لَيْسَ فِيهَا جَمَّاءُ وَلاَ مُنْكَسِرٌ قَرْنُهَا وَلاَ صَاحِبِ كَنْزٍ لاَ يَفْعَلُ فِيهِ حَقَّهُ إِلاَّ جَاءَ كَنْزُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَتْبَعُهُ فَاتِحًا فَاهُ فَإِذَا أَتَاهُ فَرَّ مِنْهُ فَيُنَادِيهِ خُذْ كَنْزَكَ الَّذِي خَبَأْتَهُ فَأَنَا عَنْهُ غَنِيٌّ فَإِذَا رَأَى أَنْ لاَ بُدَّ مِنْهُ سَلَكَ يَدَهُ فِي فِيهِ فَيَقْضَمُهَا قَضْمَ الْفَحْلِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ هَذَا الْقَوْلَ ثُمَّ سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ‏.‏ وَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا حَقُّ الإِبِلِ قَالَ ‏"‏ حَلَبُهَا عَلَى الْمَاءِ وَإِعَارَةُ دَلْوِهَا وَإِعَارَةُ فَحْلِهَا وَمَنِيحَتُهَا وَحَمْلٌ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏
Jabir b. 'Abdullah al-Ansari reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The owner of a camel who does not pay what is due on it (would be punished in this way) that on the Day of Resurrection many more (along with his camel) would come and the owner would be made to sit on a soft sandy ground and they would trample him with their feet and hooves. And no owner of the cattle who does not pay what is due on them (would be spared the punishment) but on the Day of Resurrection, many more would come and he (the owner) would be made to sit on the soft sandy ground and would be gored by their horns and trampled under their feet. And no owner of the goats and sheep who does not pay what is due on them (would be spared of punishment) but many more would come on the Day of Resurrection and he (the owner) would be made to sit on a soft sandy ground and they would gore him with their horns and trample him under their hooves. And there would be more (among this flock of sheep and goat) without horns or with broken horns. And no owner of the treasure who does not pay its due but his treasure would come on the Day of Resurrection like a bald snake and would pursue him with its mouth open, and when it would come near he would run away from it, and he would be called thus:" Take your treasure which you concealed, for I do not need it." When he would find no way out he would put his hand in its mouth and it would gnaw it like a he-camel. Abu Zubair said: We heard Ubaid b. Umair saying this. We then asked Jabir b. 'Abdullah about this. And he also said like Ubaid b. Umair, Abu Zubair said: I heard 'Ubaid b. 'Umair saying: A man said: Messenger of Allah, what is due on camels? He said: Milking them near water, and lending of bucket (used for drawing water from it), or lending its male for mating with a she-camel and providing it as a ride for the sake of Allah
ابن جریج نے کہا : مجھے ابو زبیر نے بتایا کہ انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرمارہے تھے : "" کوئی اونٹوں کا مالک نہیں جو ان کے معاملے میں اس طرح نہیں کرتا جس طرح ان کا حق ہے مگر وہ قیامت کے دن اپنی انتہائی زیادہ تعداد میں آئیں گے جو کبھی ان کی تھی اور وہ ان ( اونٹوں ) کے سامنے وسیع چٹیل میدان میں بیٹھے گا اور وہ اسے اپنے اگلے قدموں اور اپنے پاؤں سے روندیں گے ۔ اسی طرح کوئی گائے کا مالک نہیں جو ان کا حق ادا نہیں کرتا مگر وہ قیامت کے دن اس سے زیادہ سے زیادہ تعداد میں آئیں گی جو کبھی ان کی تھی ۔ اور وہ ان کے سامنے چٹیل میدان میں بیٹھے گا ، وہ اسے اپنے سینگوں سے ماریں گی اور اپنے پیروں سے روندیں گی اور اسی طرح بکریوں کا کوئی مالک نہیں جو ان کا حق ادا نہیں کرتا تو وہ قیامت کے دن اپنی زیادہ سے زیادہ تعداد میں آئیں گی جو کبھی ان کی تھی اور وہ ان کے سامنے وسیع چٹیل میدان میں بیٹھے گا اور وہ اسے اپنے سینگوں سے ماریں گی اور اپنے سموں سے اسے روندیں گی اور ان میں نہ کوئی سینگوں کے بغیر ہوگی اور نہ ہی کوئی ٹوٹے سینگوں والی ہوگی اور کوئی ( سونے چاندی کے ) خزانے کا مالک نہیں جو اس کا حق ادا نہیں کرتا مگر قیامت کے دن اس کا خزانہ گنجا سانپ بن کر آئے گا اور اپنا منہ کھولے ہوئے اس کاتعاقب کرے گا ، جب اس کے پاس پہنچے گا تو وہ اس سے بھاگے گا ، پھر وہ ( سانپ ) اسے آواز دے گا : اپنا خزانہ لے لو جو تم نے ( دنیامیں ) چھپا کررکھا تھا ۔ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے ۔ جب ( خزانے والا ) دیکھے گا اس سے بچنے کی کوئی صورت نہیں تو وہ اپنا ہاتھ اس ( سانپ ) کے منہ میں داخل کرے گا ، وہ اسے اس طرح چبائے گا جس طرح سانڈھ چباتا ہے ۔ "" ابو زبیر نے کہا : میں نے عبید بن عمیر کو یہ بات کہتے ہوئے سنا ، پھر ہم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس ( حدیث ) کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے اسی طرح کہا جس طرح عبید بن عمیر نے کہا ۔ اور ابو زبیر نے کہا : میں نے عبید بن عمیر کو کہتے ہوئے سنا ایک آدمی نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اونٹوں کا حق کیا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" پانی ( پلانے کاموقع ) پر ان کا دودھ دوہنا ( اور لوگوں کو پلانا ) اور اس کا ڈول ادھار دینا اور اس کا سانڈ ادھار دینا اور اونٹنی کو دودھ پینے کے لئے دینا اور اللہ کی راہ میں سواری کی خاطر دینا ۔
وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، وَسَلَمَةُ، بْنُ سُلَيْمَانَ قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ - أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمَعْنَى حَدِيثِهِمَا ‏.‏
This hadith has been narrated by Ibn Abu Khalid with the same chain of transmitters
۔ عبداللہ بن مبارک ، اسماعیل بن ابی خالد اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اس طرح نقل کی گئی ہے ۔
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالَ أَحْمَدُ حَدَّثَنَا وَقَالَ، حَرْمَلَةُ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - أَنَّهُ قَالَ بَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِذِي الْحُلَيْفَةِ مَبْدَأَهُ وَصَلَّى فِي مَسْجِدِهَا ‏.‏
Abdullah b. 'Umar (Allah be pleased with them) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) spent the night at Dhu'l-Hulaifa while commencing (the rites of) Pilgrimage and he observed prayer in the mosque
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سفر کے ) شروع میں ذوالحلیفہ میں رات گزاری اور وہاں کی مسجد میں نماز ادا کی ۔
وَحَدَّثَنِي سَلَمَةَ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَبْلَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْمُتْعَةِ وَقَالَ ‏ "‏ أَلاَ إِنَّهَا حَرَامٌ مِنْ يَوْمِكُمْ هَذَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ كَانَ أَعْطَى شَيْئًا فَلاَ يَأْخُذْهُ ‏"‏ ‏.‏
Sabra al-Juhanni reported on the authority of his father:Allah's Messenger (ﷺ) prohibited the contracting of temporary marriage and said: Behold, it is forbidden from this very day of yours to the Day of Resurrection, and he who has given something (as a dower) should not take it back
ہمیں معقل نے ابن ابی عبلہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عمر بن عبدالعزیز سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے ربیع بن سبرہ جہنی نے اپنے والد سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعے سے روکا اور فرمایا : " خبردار! یہ تمہارے آج کے دن سے قیامت کے دن تک کے لیے حرام ہے اور جس نے ( متعے کے عوض ) کوئی چیز دی ہو وہ اسے واپس نہ لے
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ جَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَرَى فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْ دُخُولِ سَالِمٍ - وَهُوَ حَلِيفُهُ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَرْضِعِيهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ وَكَيْفَ أُرْضِعُهُ وَهُوَ رَجُلٌ كَبِيرٌ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ ‏"‏ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّهُ رَجُلٌ كَبِيرٌ ‏"‏ ‏.‏ زَادَ عَمْرٌو فِي حَدِيثِهِ وَكَانَ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
A'isha (Allah be pleased with her) reported that Sahla bint Suhail came to Allah's Apostle (may peace be eupon him) and said:Messengerof Allah, I see on the face of Abu Hudhaifa (signs of disgust) on entering of Salim (who is an ally) into (our house), whereupon Allah's Apostle (ﷺ) said: Suckle him. She said: How can I suckle him as he is a grown-up man? Allah's Messenger (ﷺ) smiled and said: I already know that he is a young man 'Amr has made this addition in his narration that he participated in the Battle of Badr and in the narration of Ibn 'Umar (the words are): Allah's Messenger (ﷺ) laughed
عمرو ناقد اور ابن ابی عمر نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی : اے اللہ کے رسول! میں سالم رضی اللہ عنہ کے گھر آنے کی بنا پر ( اپنے شوہر ) ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے چہرے میں ( تبدیلی ) دیکھتی ہوں ۔ ۔ حالانکہ وہ ان کا حلیف بھی ہے ۔ ۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اسے دودھ پلا دو ۔ "" انہوں نے عرض کی : میں اسے کیسے دودھ پلاؤں؟ جبکہ وہ بڑا ( آدمی ) ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا : "" میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ وہ بڑا آدمی ہے ۔ "" عمرو نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا : اور وہ ( سالم ) بدر میں شریک ہوئے تھے ۔ اور ابن ابی عمر کی روایت میں ہے : "" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے ۔ "" ( آپ کا مقصود یہ تھا کہ کسی برتن میں دودھ نکال کر سالم رضی اللہ عنہ کو پلوا دیں)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ قَدْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ نَعُدَّهُ طَلاَقًا ‏.‏
A'isha reported:Allah's Messenger (ﷺ) gave us the option (to get divorce) but we did not deem it as divorce
عبثر نے ہمیں اسماعیل بن ابی خالد سے خبر دی ، انہوں نے شعبی سے اور انہوں نے مسروق سے روایت کی ، کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : ( جب ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ( علیحدہ ہو جانے کا ) اختیار دیا تھا ، تو ہم نے اسے طلاق شمار نہیں کیا
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنِ اشْتَرَى شَاةً مُصَرَّاةً فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا وَإِنْ شَاءَ رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ لاَ سَمْرَاءَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who buys a goat having its udder tied up has two courses left for him. He may retain it, and if he desires may return it along with a sa' of dates and not wheat
سفیان نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے محمد ( بن سیرین ) سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے دودھ روکی ہوئی بکری خرید لی ، اسے دو باتوں کا اختیار ہے ۔ اگر چاہے تو اسے رکھ لے اور اگر چاہے تو اسے واپس کر دے ، اور کھجور کا ایک صاع بھی واپس کر دے ، گندم کا نہیں
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ حُجْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، قَالَ اجْتَمَعَ حُذَيْفَةُ وَأَبُو مَسْعُودٍ فَقَالَ حُذَيْفَةُ ‏ "‏ رَجُلٌ لَقِيَ رَبَّهُ فَقَالَ مَا عَمِلْتَ قَالَ مَا عَمِلْتُ مِنَ الْخَيْرِ إِلاَّ أَنِّي كُنْتُ رَجُلاً ذَا مَالٍ فَكُنْتُ أُطَالِبُ بِهِ النَّاسَ فَكُنْتُ أَقْبَلُ الْمَيْسُورَ وَأَتَجَاوَزُ عَنِ الْمَعْسُورِ ‏.‏ فَقَالَ تَجَاوَزُوا عَنْ عَبْدِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏.‏
Hudhaifa reported:A person met his Lord (after death) and He said: What (good) did you do? He said: I did no good except this that I was a rich man, and I demanded from the people (the repayment of debt that I advanced to them). I, however, accepted that which the solvent gave and remitted (the debt) of the insolvent, whereupon He (the Lord) said: You should ignore (the faults) of My servant. Abu Mas'ud (Allah be pleased with him) said: This is what I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying
نُعَیم بن ابی ہند نے ربعی بن حراش سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت حذیفہ اور حضرت ابومسعود ( انصاری ) رضی اللہ عنہ اکٹھے ہوئے تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا : ایک آدمی اللہ عزوجل کے حضور پیش ہوا تو اللہ نے پوچھا : " تو نے کیا عمل کیا؟ " اس نے کہا : میں نے کوئی نیکی نہیں کی ، سوائے اس کے کہ میں مالدار آدمی تھا ، میں لوگوں سے اس ( میں سے دیے ہوئے قرض ) کا مطالبہ کرتا تو مالدار سے خوش دلی سے قبول کرتا اور تنگ دست سے درگزر ( مزید مہلت دیتا یا نہ دے سکتا تو معاف ) کرتا ۔ فرمایا : " ( تم بھی ) میرے بندے سے درگزر کرو ۔ " ( یہ سن کر ) حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح فرماتے ہوئے سنا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Jabir reported this hadith directly from Allah's Apostle (ﷺ)
احمد بن یونس نے ہمیں حدیث بیان کی : ہمیں زہیر نے حدیث بیان کی : ہمیں ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی ، وہ اس کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کر رہے تھے
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ أَبِي عُمَرَ - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ نَبِيُّ اللَّهِ لأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى سَبْعِينَ امْرَأَةً كُلُّهُنَّ تَأْتِي بِغُلاَمٍ يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ أَوِ الْمَلَكُ قُلْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ‏.‏ فَلَمْ يَقُلْ وَنَسِيَ ‏.‏ فَلَمْ تَأْتِ وَاحِدَةٌ مِنْ نِسَائِهِ إِلاَّ وَاحِدَةٌ جَاءَتْ بِشِقِّ غُلاَمٍ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَلَوْ قَالَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ‏.‏ لَمْ يَحْنَثْ وَكَانَ دَرَكًا لَهُ فِي حَاجَتِهِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Prophet (ﷺ) as saying that Sulaiman b. Dawud, the Messenger of Allah, observed:I will have an intercourse with seventy wives during the night; all of them will give birth to a male child who will fight in the cause of Allah. His companion or the ang I said to him: Say," If God wills." But he (Hadrat Sulaimin) did not say so, and he forgot it. And none of his wives gave birth to a child, but one who gave birth to a premature child. Allah's Messenger (ﷺ) said: Had he said Insha' Allah (if God so will). he would not have failed and his desire would have been materialised
ہشام بن حجیر نے طاوس سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " اللہ کے نبی سلیمان بن داود علیہ السلام نے کہا : ( واللہ ) آج رات میں ستر عورتوں کے پاس جاؤں گا ، وہ سب ایک ایک بچے کو جنم دیں گی جو اللہ کی راہ میں لڑائی کرے گا ۔ تو ان سے ان کے کسی ساتھی یا فرشتے نے کہا : ان شاءاللہ کہیں ۔ انہوں نے نہ کہا ، انہیں بھلا دیا گیا ، ان کی عورتوں میں سے ایک عورت کے سوا کسی نے بچے کو جنم نہ دیا ، اس نے بھی ادھورے بچے کو جنم دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر وہ ان شاءاللہ کہتے تو قسم تشنہ تکمیل نہ رہتی اور یہ ( قسم ) ان کی ضرورت ( اپنی اولاد کے ذریعے سے جہاد فی سبیل اللہ ) کی تکمیل کا سبب بھی بن جاتی
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أُخْتَ الرُّبَيِّعِ أُمَّ حَارِثَةَ، جَرَحَتْ إِنْسَانًا فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الْقِصَاصَ الْقِصَاصَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتْ أُمُّ الرَّبِيعِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُقْتَصُّ مِنْ فُلاَنَةَ وَاللَّهِ لاَ يُقْتَصُّ مِنْهَا ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ سُبْحَانَ اللَّهِ يَا أُمَّ الرَّبِيعِ الْقِصَاصُ كِتَابُ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ لاَ وَاللَّهِ لاَ يُقْتَصُّ مِنْهَا أَبَدًا ‏.‏ قَالَ فَمَا زَالَتْ حَتَّى قَبِلُوا الدِّيَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لأَبَرَّهُ ‏"‏ ‏.‏
Anas reported that Umm Haritha, the sister of Rubayyi' (she was the father's sister of Hadrat Anas) injured a person (she broke his teeth). The dispute was referred to Allah's Apostle (ﷺ). Allah's Messenger (ﷺ) said:Retribution, retribution. Umm Rubayyi' said: Messenger of Allah, will retribution be taken from so and so? By Allah, it shall not be taken from her (i. e. from Umm Haritha). Thereupon Allah's Apostle said: Hallowed be Allah. O Umm Rubayyi', Qisas (retribution is a command, prescribed) in the Book of Allah. She said: No, by Allah, Qisas will never be taken from her; and she went on saying this until they (the relatives of the one who had been injured) accepted the blood-wit. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Verily there are amongst the servants of Allah (such pious persons) who, if they take oath of Allah, He honours it
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رُبیع رضی اللہ عنہا ( بنت نضر بن ضمضم ) کی بہن ، ام حارثہ نے کسی انسان کو زخمی کیا ( انہوں نے ایک لڑکی کو تھپڑ مار کر اس کا دانت توڑ دیا ، صحیح بخاری ) تو وہ مقدمہ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قصاص! قصاص! " تو ام رُبیع رضی اللہ عنہا نے کہا : اے اللہ کے رسول! کیا فلاں عورت سے قصاص لیا جائے گا؟ اللہ کی قسم! اس سے قصاص نہیں لیا جائے گا ، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سبحان اللہ! اے ام ربیع! قصاص اللہ کی کتاب ( کا حصہ ) ہے ۔ " انہوں نے کہا : نہیں ، اللہ کی قسم! اس سے کبھی قصاص نہیں لیا جائے گا ( اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ایسا نہیں ہونے دے گا ۔ ) کہا : وہ مسلسل اسی بات پر ( ڈٹی ) رہیں حتی کہ وہ لوگ دیت پر راضی ہو گئے ۔ تو اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ کے بندوں میں سے کچھ ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ پر قسم کھائیں تو وہ ضرور اسے سچا کر دیتا ہے
وَحَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، كِلاَهُمَا عَنْ دَاوُدَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ بَعْضَ هَذَا الْحَدِيثِ ‏.‏ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَى ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Dawud with the same chain of transmitters but with this variation that in the hadith narrated by Sufyan (the words are):" He made a confession of having committed adultery, thrice
یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ اور سفیان دونوں نے داود سے اسی سند کے ساتھ اس حدیث کا کچھ حصہ بیان کیا ، البتہ سفیان کی حدیث میں ہے : اس نے تین بار زنا کا اعتراف کیا ۔ ( چوتھی بار کے اعتراف پر اسے سزا سنائی گئی)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ، سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَقَطَعَ وَهِيَ الْبُوَيْرَةُ ‏.‏ زَادَ قُتَيْبَةُ وَابْنُ رُمْحٍ فِي حَدِيثِهِمَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّهِ وَلِيُخْزِيَ الْفَاسِقِينَ‏}‏
It is narrated on the authority of 'Abdullah that the Messenger of Allah (ﷺ) ordered the date-palms of Banu Nadir to be burnt and cut. These palms were at Buwaira. Qutaibah and Ibn Rumh in their versions of the tradition have added:So Allah, the Glorious and Exalted, revealed the verse:" Whatever trees you have cut down or left standing on their trunks, it was with the permission of Allah so that He may disgrace the evil-doers" (lix)
یحییٰ بن یحییٰ ، محمد بن رمح اور قتیبہ بن سعید نے لیث سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنونضیر کے کھجور کے درخت جلائے اور کاٹ ڈالے اور یہ بویرہ کا مقام تھا ( جہاں یہ درخت واقع تھےقتیبہ اور ابن رمح نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا : اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی : " تم نے کھجور کا جو درخت کاٹ ڈالا یا اسے اپنی جڑوں پر کھڑا چھوڑ دیا تو وہ اللہ کی اجازت سے تھا اور اس لیے تاکہ وہ ( اللہ ) نافرمانوں کو رسوا کرے
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، عَنْ أَبِي، زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ فَذَكَرَ الْغُلُولَ فَعَظَّمَهُ وَعَظَّمَ أَمْرَهُ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ لاَ أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ بَعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ يَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي ‏.‏ فَأَقُولُ لاَ أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ ‏.‏ لاَ أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ فَرَسٌ لَهُ حَمْحَمَةٌ فَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي ‏.‏ فَأَقُولُ لاَ أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ ‏.‏ لاَ أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ شَاةٌ لَهَا ثُغَاءٌ يَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي ‏.‏ فَأَقُولُ لاَ أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ ‏.‏ لاَ أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ نَفْسٌ لَهَا صِيَاحٌ فَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي ‏.‏ فَأَقُولُ لاَ أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ ‏.‏ لاَ أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ رِقَاعٌ تَخْفِقُ فَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي ‏.‏ فَأَقُولُ لاَ أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ ‏.‏ لاَ أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ صَامِتٌ فَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي فَأَقُولُ لاَ أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ ‏"‏ ‏.‏
It has been narrated on the authority of Abu Huraira who said:One day the Messenger of Allah (ﷺ) stood among us (to deliver a sermon). He talked about the misappropriation of booty, and declared it to be a serious matter and a grave sin. Then he said: I shouldn't find that any of you should come on the Day of Judgment with a growling camel mounted on his neck, and should appeal to me for help saying:" Messenger of Allah, help me." and I should say: I have no authority to help you; I already communicated to you. I shouldn't find that any of you should come on the Day of Judgment with a bleating ewe mounted on his neck, and he should say to me:" Messenger of Allah, help me," and I should say: I have no authority to help you; I conveyed to you. I shouldn't find that one of you should come on the Day of Judgment with a Person crying loudly mounted on his neck, and he should say to me:" Messenger of Allah, help me," and I should say: I have no authority to help you; I conveyed to you. I shouldn't find that any one of you should come on the Day of Judgment with fluttering clothes wrapped round his neck and he should say to me:" Messenger of Allah, help me," and I should say: I have no authority to help you; I conveyed to you. I shouldn't find that any of you should come on the Day of Judgment with a heap of gold and silver placed on his neck and he should say to me:" Messenger of Allah, help me." and I should say: I have no authority to help you; I already conveyed to you (the warning from the Almighty)
اسماعیل بن ابراہیم نے ابوحیان سے ، انہوں نے ابو زرعہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں ( خطبہ دینے کے لیے ) کھڑے ہوئے ۔ اور آپ نے مال غنیمت میں خیانت کا ذکر فرمایا : آپ نے ایسی خیانت اور اس کے معاملے کو انتہائی سنگین قرار دیا ، پھر فرمایا : " میں تم میں سے کسی کو قیامت کے دن اس طرح آتا ہوا نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر اونٹ سوار ہو کر بلبلا رہا ہو اور وہ کہے : اللہ کے رسول! میری مدد فرمائیے ، اور میں جواب میں کہوں : میں تمہارے لئے کچھ کرنے کا اختیار نہیں رکھتا ، میں نے تمہیں ( دنیا ہی میں ) حق پہنچا دیا تھا ۔ میں تم میں سے کسی شخص کو اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر گھوڑا سوار ہو کر ہنہنا رہا ہو ، وہ کہے : اللہ کے رسول! میری مدد کیجئے ، اور میں کہوں کہ میں تمہارے لیے کچھ بھی نہیں کر سکتا ، میں نے تمہیں حق پہنچا دیا تھا ۔ میں تم میں سے کسی شخص کو اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر بکری سوار ہو کر ممیا رہی ہو ، وہ کہے : اللہ کے رسول! میری مدد کیجئے ، اور میں کہوں : میں تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا ، میں نے تمہیں حق سے آگاہ کر دیا تھا ، میں تم میں سے کسی شخص کو روزِ قیامت اس حالت میں نہ دیکھوں کہ اس کی گردن پر کسی شخص کی جان سوار ہو اور وہ ( ظلم کی دہائی دیتے ہوئے ) چیخیں مار رہی ہو ، اور وہ شخص کہے : اللہ کے رسول! میری مدد کیجئے ، اور میں کہوں : میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا ، میں نے تمہیں سب کچھ بتا دیا تھا ۔ میں تم میں سے کسی شخص کو اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر کپڑا لدا ہوا پھڑپھڑا رہا ہو ، اور وہ کہے : اللہ کے رسول! میری مدد کیجئے ، میں کہوں : تمہارے لیے میرے بس میں کچھ نہیں ، میں نے تم کو سب کچھ سے آگاہ کر دیا تھا ۔ میں تم میں سے کسی شخص کو اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گرن پر نہ بولنے والا مال ( سونا چاندی ) لدا ہوا ہو ، وہ کہے : اللہ کے رسول! میری مدد کیجئے ، میں کہوں : تمہارے لیے میرے پاس کسی چیز کا اختیار نہیں ، میں نے تم کو ( انجام ) کی خبر پہنچا دی تھی
وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنْذِرِ الْقَزَّازُ، كِلاَهُمَا عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ، عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْثًا إِلَى أَرْضِ جُهَيْنَةَ وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ رَجُلاً وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ ‏.‏
Jabir b. Abdullah reported that Allah's Messenger (ﷺ) sent an expedition to the land of the tribe of Juhaina, and appointed a person as a chief over them
عبیداللہ بن مقسم نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارض جہینہ کی طرف ایک لشکر روانہ فرمایا اور ایک شخص کو اس کا امیر بنایا ، اور ( اس کے بعد ) ان سب کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لاَقُو الْعَدُوِّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَلَمْ يَذْكُرْ فَعَجِلَ الْقَوْمُ فَأَغْلَوْا بِهَا الْقُدُورَ فَأَمَرَ بِهَا فَكُفِئَتْ وَذَكَرَ سَائِرَ الْقِصَّةِ ‏.‏
Rafi' b. Khadij reported that he said:Allah's Messenger, we are going to encounter the enemy tomorrow. and we do not have large knives with us. The rest of the hadith is the same, but no mention is made of this:" The people hastened and they boiled (flesh) in the earthen pots. He (the Holy Prophet), cammanded and these were turned over and the narrator narrated the whole event
زائد ہ نے سعید بن مسروق سے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث آخر تک پو ری بیان کی اور اس میں کہا : ( ہم نے عرض کی ، ) ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں تو کیا ہم بانسوں ( کی کھپچیوں ) سے جا نور ذبح کر لیں ۔ شعبہ نے سعید بن مسروق سے انھوں نے عبایہ رفاعہ بن را فع سے انھوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے کہا ( ہم نے عرض کی : ) اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کل ہم دشمن سے مقابلہ کرنے والے ہیں اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں پھر حدیث بیان کی ، البتہ اس میں یہ نہیں کہا : " لوگوں نے جلدبازی کی اور ان کے گو شت سے ہانڈیا ں ابالنے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں حکم دیا تو انھیں الٹ دیا گیا ۔ اور انھوں نے باقی سارا قصہ بیان کیا ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ هَذَا الْحَدِيثِ ‏.‏
This hadith is narrated on the authority of Abu Qatada through another chain of transmitters
ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن نے ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی سند کے مانند حدیث بیان کی ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Qatada with the same chain of transmitters
سعید نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ، بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهَا هَاجَرَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهِيَ حُبْلَى بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ‏.‏ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ ‏.‏
Asma', daughter of Abu Bakr, reported that when she migrated to Allah's Messenger (ﷺ) in Medina she was in the family way with Abdullah b. Zubair in her womb
علی بن مسہر نے ہشام بن عروہ سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ انھوں نے ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کی ، اس وقت وہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےحاملہ تھیں ، پھر ابو اسامہ کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، وَأَبُو الطَّاهِرِ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالُوا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَالِمٍ، مَوْلَى شَدَّادٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ تُوُفِّيَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فَدَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ فَتَوَضَّأَ عِنْدَهَا فَقَالَتْ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَسْبِغِ الْوُضُوءَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏
Salim, the freed slave of Shaddad, said:I came to 'A'isha, the wife of the Prophet (ﷺ), on the day when Sa'db. Abi Waqqas died. 'Abd al-Rahman b. Abu Bakr also came there and he performed ablution in her presence. She (Hadrat 'A'isha) said: Abd al-Rahman, complete the ablution as I heard the Allah's Messenger (ﷺ) say: Woe to the heels because of hell-fire
مخرمہ بن بکیر نے اپنےوالد سے ، انہوں نے شداد کے آزاد کردہ غلام سالم سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جس دن حضرت سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ فوت ہوئے میں رسول اللہ ﷺ کی اہلیہ حضرت عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ عبد الرحمن بن ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ان کے ہاں آئے اور ان کے پاس وضو کیا تو انہو ں نےفرمایا : عبدالرحمن ! خوب اچھی طرح وضو کرو کیونکہ میں نے رسو ل اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا تھا : ’’ ( وضوکے پانی سےتر نہ ہونے والی ) ایڑیوں کےلیے آگ کا عذاب ہے ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، - وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ - قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَىٍّ، قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مُعْتَكِفًا فَأَتَيْتُهُ أَزُورُهُ لَيْلاً فَحَدَّثْتُهُ ثُمَّ قُمْتُ لأَنْقَلِبَ فَقَامَ مَعِيَ لِيَقْلِبَنِي ‏.‏ وَكَانَ مَسْكَنُهَا فِي دَارِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ فَمَرَّ رَجُلاَنِ مِنَ الأَنْصَارِ فَلَمَّا رَأَيَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَسْرَعَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ عَلَى رِسْلِكُمَا إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَىٍّ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالاَ سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَرًّا ‏"‏ ‏.‏ أَوْ قَالَ ‏"‏ شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏
Safiyya daughter of Huyyay (the wife of Allah's Apostle) reported that while Allah's Messenger (may peace be. upon him) had been observing I'tikaf, I came to visit him one night and talked with him for some time. Then I stood up to go back and he (Allah's Apostle) also stood up with me in order to bid me good-bye. She was at that time residing in the house of Usama b. Zaid. The two persons from the Ansar happened to pass by him. When they saw Allah's Apostle (ﷺ). they began to walk swiftly, thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said to them:Walk calmy, she is Safiyya daughter of Huyyay... Both of them said: Messenger, hallowed be Allah, (we cannot conceive of ab., ug doubtful even in the remotest corners of our minds), whereupon he said: Satan circulates in the body of man like the circulation of blood and I was afraid lest it should instill any evil in your heart or anything
معمر نے زہری سے ، انھوں نے علی بن حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے حضرت صفیہ بنت حی ( ام الومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) سے روایت کی ، کہا : ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں تھے ، میں رات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کو آئی ۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کیں ، پھر میں لوٹ جانے کو کھڑی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مجھے پہنچا دینے کو میرے ساتھ کھڑے ہوئے اور میرا گھر اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی مکان میں تھا ۔ راہ میں انصار کے دو آدمی ملے جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو وہ جلدی جلدی چلنے لگے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھہرو ، یہ صفیہ بنت حیی ہے ۔ وہ دونوں بولے کہ سبحان اللہ یا رسول اللہ! ( یعنی ہم بھلا آپ پر کوئی بدگمانی کر سکتے ہیں؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان انسان کے بدن میں خون کی طرح پھرتا ہے اور میں ڈرا کہ کہیں تمہارے دل میں برا خیال نہ ڈالے ( اور اس کی وجہ سے تم تباہ ہو ) ۔
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مُنْصَرَفَهُ مِنْ أُحُدٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَأَيْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ ظُلَّةً تَنْطِفُ السَّمْنَ وَالْعَسَلَ ‏.‏ بِمَعْنَى حَدِيثِ يُونُسَ ‏.‏
Ibn `Abbas reported that there came to Allah's Apostle (ﷺ) a person as he was returning from Uhud and he said:Allah's Messenger, I saw in sleep during the night a canopy trickling butter and honey; the rest of the hadith is the same
سفیان نے زہری سے ، انھوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : احد سے واپسی پر ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اورکہا : اللہ کے رسول! صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے آج رات خواب میں بادل کے ایک ٹکڑے کو سایہ فگن دیکھا ہے جو شہد اور گھی ٹپکا رہا تھا ، یونس کی حدیث کے مفہوم کے مطابق ( حدیث بیان کی ۔)
وَحَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ حَوْضِي مَسِيرَةُ شَهْرٍ وَزَوَايَاهُ سَوَاءٌ وَمَاؤُهُ أَبْيَضُ مِنَ الْوَرِقِ وَرِيحُهُ أَطْيَبُ مِنَ الْمِسْكِ وَكِيزَانُهُ كَنُجُومِ السَّمَاءِ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلاَ يَظْمَأُ بَعْدَهُ أَبَدًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَقَالَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنِّي عَلَى الْحَوْضِ حَتَّى أَنْظُرَ مَنْ يَرِدُ عَلَىَّ مِنْكُمْ وَسَيُؤْخَذُ أُنَاسٌ دُونِي فَأَقُولُ يَا رَبِّ مِنِّي وَمِنْ أُمَّتِي ‏.‏ فَيُقَالُ أَمَا شَعَرْتَ مَا عَمِلُوا بَعْدَكَ وَاللَّهِ مَا بَرِحُوا بَعْدَكَ يَرْجِعُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَكَانَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ أَنْ نَرْجِعَ عَلَى أَعْقَابِنَا أَوْ أَنْ نُفْتَنَ عَنْ دِينِنَا
Abdullah b. `Amr al-`As, reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:My Cistern (is as wide and broad that it requires) a month's journey (to go round it) all, and its sides are equal and its water is whiter than silver, and its odour is more fragrant than the fragrance of musk, and its jugs (placed around it) are like stars in the sky; and he who would drink from it would never feel thirsty after that. Asma', daughter of Abu Bakr said: Allah's Messenger (ﷺ) said: I would be on the Cistern so that I would be seeing those who would be coming to me from you, but some people would be detained (before reaching me). I would say: My Lord, they are my followers and belong to my Ummah, and it would be said to me: Do you know what they did after you? By Allah, they did not do good after you, and they turned back upon their heels. He (the narrator) said: lbn Abu Mulaika used to say (in supplication): O Allah, I seek refuge with Thee that we should turn back upon our heels or put to any trial about our religion
نافع بن عمر جحمی نے ابن ابی ملیکہ سے روایت کی ، کہا : حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " میر احوض ( لمبائی چوڑائی میں ) ایک ماہ کی مسافت کے برابر ہے اور اس کے ( چاروں ) کنارے برابر ہیں ( مربع ہے ) ، اس کاپانی چاندی سے زیادہ چمکدار ، اور اس کی خوشبو کستوری سے زیادہ معطر ہے ، اس کے کوزے آسمان کےستاروں جتنے ہیں ۔ جو شخص اس میں سے پی لے گا ، اسے اس کے بعد کبھی پیاس نہیں لگے گی ۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا بِهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنِي سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدَهُ نِسْوَةٌ قَدْ رَفَعْنَ أَصْوَاتَهُنَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ عُمَرُ ابْتَدَرْنَ الْحِجَابَ ‏.‏ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ ‏.‏
Abu Huraira reported that Umar b. Khattab came to Allah's Messenger (ﷺ) while there were some women with him and they were raising their voices above the voice of Allah's Messenger (ﷺ) and when Umar sought permission to get into the house they went behind the curtain hurriedly. The rest of the hadith is the same
سہیل نے اپنے والد صالح سے ، انھوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو ئے اور ( اس وقت ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ خواتین تھیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بلند آواز سے باتیں کر رہی تھیں ۔ جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ( اندر آنےکی ) اجازت مانگی تو وہ جلدی سے پردے میں چلی گئیں ۔ پھر انھوں نے زہری کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ، - وَهُوَ ابْنُ عُثْمَانَ - عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَحِلُّ لِلْمُؤْمِنِ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ ‏"‏ ‏.‏
Abdullah b. 'Umar reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:It is not permissible for a Muslim to have estranged relations with his brother beyond three days
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مومن کے لیے حلال نہیں کہ تین دن سے زیادہ اپنے ( مسلمان ) بھائی سے تعلق ترک کرے ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ كُتِبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ نَصِيبُهُ مِنَ الزِّنَى مُدْرِكٌ ذَلِكَ لاَ مَحَالَةَ فَالْعَيْنَانِ زِنَاهُمَا النَّظَرُ وَالأُذُنَانِ زِنَاهُمَا الاِسْتِمَاعُ وَاللِّسَانُ زِنَاهُ الْكَلاَمُ وَالْيَدُ زِنَاهَا الْبَطْشُ وَالرِّجْلُ زِنَاهَا الْخُطَا وَالْقَلْبُ يَهْوَى وَيَتَمَنَّى وَيُصَدِّقُ ذَلِكَ الْفَرْجُ وَيُكَذِّبُهُ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying. Allah fixed the very portion of adultery which a man will indulge in. There would be no escape from it. The adultery of the eye is the lustful look and the adultery of the ears is listening to voluptuous (song or talk) and the adultery of the tongue is licentious speech and the adultery of the hand is the lustful grip (embrace) and the adultery of the feet is to walk (to the place) where he intends to commit adultery and the heart yearns and desires which he may or may not put into effect
زُبیدی نے زہری سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ وہ کہا کرتے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت ( اللہ پر ایمان اور اچھائی کی محبت ) پر پیدا ہوتا ہے ، پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی ، نصرانی اور مجوسی بنا دیتے ہیں ، جیسے ایک جانور ( ماں ) کامل الاعضاء جانور ( بچے ) کو جنم دیتی ہے ، کیا تمہیں ان میں کوئی عضو کٹا ہوا جانور نظر آتا ہے؟ " پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے : تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو : " یہی اللہ کی ( عطا کردہ ) فطرت ہے جس پر اس نے لوگوں کی تخلیق فرمائی ، اللہ کی تخلیق میں ردوبدل نہیں ہوتا ۔
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّعليه وسلم دَخَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ يَعُودُهُ وَقَدْ صَارَ كَالْفَرْخِ ‏.‏ بِمَعْنَى حَدِيثِ حُمَيْدٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ لاَ طَاقَةَ لَكَ بِعَذَابِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ فَدَعَا اللَّهَ لَهُ فَشَفَاهُ ‏.‏
Anas reported that Allah's Messenger (ﷺ) visited a person from amongst his Companions who had grown as feeble as the chicken. The rest of the hadith is the same, but with this variation that he (the Holy Prophet) said:You have not power enough to undergo the torment imposed by Allah. And there is no mention of: He supplicated Allah for him and He cured him
حماد نے کہا : ثابت نے ہمیں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ میں سے ایک شخص کی عیادت کے لیے تشریف لےگئے ، وہ چوزے کی طرح ( لاغر ) ہو گیا تھا ، اس کے بعد حمید کی حدیث کے ہم معنی ہے ، مگر انہوں نے اس طرح کہا : " تم میں اللہ کا عذاب برداشت کرنے کی طاقت نہیں " انہوں نے یہ بیان نہیں کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے اللہ سے دعا کی تو اس نے اس شخص کو شفا عطا فرما دی ۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِيمَا يَحْكِي عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ ‏"‏ أَذْنَبَ عَبْدٌ ذَنْبًا فَقَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي ‏.‏ فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَذْنَبَ عَبْدِي ذَنْبًا فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِالذَّنْبِ ‏.‏ ثُمَّ عَادَ فَأَذْنَبَ فَقَالَ أَىْ رَبِّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي ‏.‏ فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَبْدِي أَذْنَبَ ذَنْبًا فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِالذَّنْبِ ‏.‏ ثُمَّ عَادَ فَأَذْنَبَ فَقَالَ أَىْ رَبِّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي ‏.‏ فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَذْنَبَ عَبْدِي ذَنْبًا فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِالذَّنْبِ وَاعْمَلْ مَا شِئْتَ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عَبْدُ الأَعْلَى لاَ أَدْرِي أَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ ‏"‏ اعْمَلْ مَا شِئْتَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported from Allah's Messenger (ﷺ) that his Lord, the Exalted and Glorious, thus said. A servant committed a sin and he said:O Allah, forgive me my sins, and Allah (the Exalted and Glorious) said: My servant commited a sin and then he came to realise that he has a Lord Who forgives the sins and takes to account (the sinner) for the sin. He then again committed a sin and said: My Lord, forgive me my sin, and Allah, the Exalted and High, said: My servant committed a sin and then came to realise that he has a Lord Who would forgive his sin or would take (him) to account for the sin. He again committed a sin and said: My Lord, forgive me for my sin, and Allah (the Exalted and High) said: My servant sas committed a sin and then came to realise that he has a Lord Who forgives the sins or takes (him) to account for sin. O servant, do what you like. I have granted you forgiveness. 'Abd al-A'la said: I do not know whether he said thrice or four times to do" what you desire
عبدالاعلیٰ بن حماد نے مجھے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں حماد بن سلمہ نے اسحٰق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے حدیث سنائی ، انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب عزوجل سے نقل کرتے ہوئے فرمایا : "" ایک بندے نے گناہ کیا ، اس نے کہا : اے اللہ! میرا گناہ بخش دے ، تو ( اللہ ) تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : میرے بندے نے گناہ کیا ہے ، اس کو پتہ ہے کہ اس کا رب ہے جو گناہ معاف بھی کرتا ہے اور گناہ پر گرفت بھی کرتا ہے ، اس بندے نے پھر گناہ کیا تو کہا : میرے رب! میرا گناہ بخش دے ، تو ( اللہ ) تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : میرا بندہ ہے ، اس نے گناہ کیا ہے تو اسے معلوم ہے کہ اس کا رب ہے جو گناہ بخش دیتا ہے اور ( چاہے تو ) گناہ پر پکڑتا ہے ۔ اس بندے نے پھر سے وہی کیا ، گناہ کیا اور کہا : میرے رب! میرے لیے میرا گناہ بخش دے ، تو ( اللہ ) تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : میرے بندے نے گناہ کیا تو اسے معلوم ہے کہ اس کا رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور ( چاہے تو ) گناہ پر پکڑ لیتا ہے ، ( میرے بندے! اب تو ) جو چاہے کر ، میں نے تجھے بخش دیا ہے ۔ "" عبدالاعلیٰ نے کہا : مجھے ( پوری طرح ) معلوم نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری بار فرمایا یا چوتھی بار : "" جو چاہے کر ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَأَبُو دَاوُدَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَأَبُو دَاوُدَ كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ انْشَقَّ الْقَمَرُ فِرْقَتَيْنِ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Anas reported that the moon was split up in two parts and in the hadith recorded in Abu Dawud, the words are:" The moon was split up into two parts during the life of Allah's Messenger (ﷺ)
یحییٰ بن سعید ، محمد بن جعفر اور ابو داود سب نے شعبہ سے ، انھوں نے قتادہ سے اور انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : چاند دو ٹکڑوں میں پھٹ گیا ۔ اور ابو داود ( طیالسی ) کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں چاند پھٹ گیا ۔
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ سَأَلَتِ امْرَأَةٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ فِي مَنَامِهِ فَقَالَ ‏ "‏ إِذَا كَانَ مِنْهَا مَا يَكُونُ مِنَ الرَّجُلِ فَلْتَغْتَسِلْ ‏"‏ ‏.‏
Anas b. Malik reported:A woman asked the Messenger of Allah (way peace be upon him) about a woman who sees in her dream what a man sees in his dream (sexual dream). He (the Holy Prophet) said: If she experiences what a man experiences, she should take a bath
ابو مالک اشجعی نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ سے اس عورت کےبارے میں پوچھا جو نیند میں وہی چیز دیکھتی ہے جو مرد اپنی نیند میں دیکھتا ہے تو آپ نے فرمایا : ’’ جب اس کو وہ صورت پیش آئے جو مرد کو پیش آتی ہے تو وہ غسل کرے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ خَالِدٍ الْكَاهِلِيِّ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يُؤْتَى بِجَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ لَهَا سَبْعُونَ أَلْفَ زِمَامٍ مَعَ كُلِّ زِمَامٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ يَجُرُّونَهَا ‏"‏ ‏.‏
Abdullah b. Mas`ud reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Hell would be brought on that day (the Day of Judgment) with seventy thousand bridles, and seventy thousand angels dragging each bridle
حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس ( قیامت کے ) روز جہنم کو لایا جائے گا ، اس کی ستر ہزار لگامیں ہوں گی ، ہر کام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے کھینچ رہے ہوں گے ۔
وَحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي عَاصِمٍ، - قَالَ حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، - أَخْبَرَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ، أَخْبَرَنَا عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ، حَدَّثَنِي أَبُو زَيْدٍ، - يَعْنِي عَمْرَو بْنَ أَخْطَبَ - قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْفَجْرَ وَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّى حَضَرَتِ الظُّهْرُ فَنَزَلَ فَصَلَّى ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّى حَضَرَتِ الْعَصْرُ ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَأَخْبَرَنَا بِمَا كَانَ وَبِمَا هُوَ كَائِنٌ فَأَعْلَمُنَا أَحْفَظُنَا ‏.‏
Abu Zaid (viz. Amr b. Akhtab) reported:Allah's Messenger (ﷺ) led us in the dawn prayer and then mounted the pulpit and addressed us until it was (time for the) noon prayer. He then came down the pulpit and observed prayer and then again mounted the pulpit and again addressed us until it was time for the 'Asr prayer. He then again came down and observed the prayer and again mounted the pulpit and addressed us until the sun was set and he informed (about) everything (pertaining to turmoil) that lay hidden in the past and what lies in (the womb) of) the future and the most learned amongst us is one who remembers them well
علباء بن احمر نے کہا : حضرت ابو زید عمرو بن اخطب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے بیان کیا کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی اور منبر پر رونق افروز ہوئے تو ہمیں خطبہ دیا یہاں تک کہ ظہر کی نماز کا وقت ہو گیا آپ ( منبرسے ) اترے ہمیں نماز پڑھائی پھر دوبارہ منبر پر رونق افروز ہوئے اور ( آگے ) خطبہ ارشاد فرمایا : یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت ہوگیا پھر آپ اترے نماز پڑھائی اور پھر منبر پر تشریف لے گئے اور خطبہ دیا یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا ۔ آپ نے جو کچھ ہوا اور جو ہونے والاتھا ( سب ) ہمیں بتادیا ہم میں سے زیادہ جاننے والا وہی ہے جو یا دواشت میں دوسروں سے بڑھ کر ہے ۔
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، كَانَ - حِينَ يَسْتَخْلِفُهُ مَرْوَانُ عَلَى الْمَدِينَةِ - إِذَا قَامَ لِلصَّلاَةِ الْمَكْتُوبَةِ كَبَّرَ ‏.‏ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَفِي حَدِيثِهِ فَإِذَا قَضَاهَا وَسَلَّمَ أَقْبَلَ عَلَى أَهْلِ الْمَسْجِدِ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لأَشْبَهُكُمْ صَلاَةً بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Abu Salama b. 'Abd al-Rahman reported.. When Marwan appointed Abu Huraira as his deputy in Medina, he recited takbir whenever he got up for obligatory prayer, and the rest of the hadith is the same as transmitted by Ibn Juraij (but with the addition of these words):On completing the prayer with salutation, and he turned to the people in the mosque and said
۔ یونس نے ابن شہاب سے خبر دی ، کہا : مجھے ابو سلمہ بن عبد الرحمن نے بتایا کہ حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو جب مروان مدینہ میں اپنا نائب بنا کر جاتا تو جب وہ فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے ، تکبیر کہتے ....... اس کے بعد ( یونس نے ) ابن جریج کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔ ان ( یونس ) کی حدیث میں ( یہ اضافہ ) ہے کہ جب وہ نماز پوری کر لیتے اور سلام پھیرتے تو مسجد والوں کی طرف منہ کرتے ( اور ) کہتے : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نماز میں تم سب سے زیادہ رسو ل اللہﷺ کے مشابہ ہوں ۔