بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
5 hadith
وَحَدَّثَنِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ سَمِعْتُ جُنْدَبًا الْقَسْرِيَّ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ صَلَّى صَلاَةَ الصُّبْحِ فَهْوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ فَلاَ يَطْلُبَنَّكُمُ اللَّهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَىْءٍ فَإِنَّهُ مَنْ يَطْلُبْهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَىْءٍ يُدْرِكْهُ ثُمَّ يَكُبَّهُ عَلَى وَجْهِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ ‏"‏ ‏.‏
Anas b. Sirin reported:I heard Jundab b. Qasri saying that the Messenger of Allah (ﷺ) said: He who observed the morning prayer (in congregation), he is in fact under the protection of Allah and it never happens that Allah should make a demand in connection with the protection (that He guarantees and should not get it) for when he asks for anything in relation to His protection, he definitely secures it. He then throws him flatly in the Hell-fire
اسماعیل نے خالد سے او ر انھوں نے انس بن سیرین سے روایت کی ، کہا : میں نے جندب ( بن عبداللہ ) قسری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےسنا ، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے صبح کی نماز ادا کی ، وہ اللہ کے ذمے میں آگیا ، ( دعا ہے ) اللہ تم سے اپنے ذمے کے حوالے سے کوئی مطالبہ نہ کرے کیونکہ جس سے وہ اپنے ذمے میں سے کسی چیز کا مطالبہ کر لے ، اسے پالیتا ہے ، پھر اسے اوندھے منہ جہنم کی آگ میں ڈال دیتا ہے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ، حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَؤُهَا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَقْرَأَنِيهَا فَكِدْتُ أَنْ أَعْجَلَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَمْهَلْتُهُ حَتَّى انْصَرَفَ ثُمَّ لَبَّبْتُهُ بِرِدَائِهِ فَجِئْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَأْتَنِيهَا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَرْسِلْهُ اقْرَأْ ‏"‏ ‏.‏ فَقَرَأَ الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَكَذَا أُنْزِلَتْ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ لِيَ ‏"‏ اقْرَأْ ‏"‏ ‏.‏ فَقَرَأْتُ فَقَالَ ‏"‏ هَكَذَا أُنْزِلَتْ إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏
Umar b. Khattab said:I heard Hisham b. Hakim b. Hizam reciting Surah al-Furqan in a style different from that in which I used to recite it, and in which Allah's Messenger (ﷺ) had taught me to recite it. I was about to dispute with him (on this style) but I delayed till he had finished that (the recitation). Then I caught hold of his cloak and brought him to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: Messenger of Allah, I heard this man reciting Surah al-Furqan in a style different from the one in which you taught me to recite. Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) told (me) to leave him alone and asked him to recite. He then recited in the style in which I beard him recite it. The Messenger of Allah (ﷺ) then said: Thus was it sent down. He then told me to recite and I recited it, and he said: Thus was it sent down. The Qur'an was sent down in seven dialects. So recite what seems easy therefrom
مالک نے ابن شہاب سے ، انھوں نے عروہ بن زبیر سے انھوں نے عبدالرحمان بن عبدالقاری سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے ہشام بن حکیم بن حزام کو سورہ فرقان اس سے مختلف ( صورت میں ) پڑھتے سنا جس طرح میں پڑھتا تھا ۔ ، حالانکہ مجھے ( خود ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سورت پڑھائی تھی ، قریب تھا کہ میں اس سے جھگڑا کرنے میں جلد بازی سے کام لیتا لیکن میں نے اس کو مہلت دی حتیٰ کہ وہ نماز سے فارغ ہوگیا ، پھر میں نے اسے گلے کی چادر سے اسے باندھا اور کھینچ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پا س لے آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں نے اس کو اس طرح سورہ فرقان پڑھتے ہوئےسنا ہے جو اس سے مختلف ہے جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وہ سورت پڑھائی تھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " اسے چھوڑ دو ( اور اسے مخاطت ہوکر فرمایا : ) پڑھو ۔ " تو اس نے اسی طرح پڑھا جس طرح میں نے اسے پڑھتے ہوئے سنا تھا ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ سورت اسی طرح نازل ہوئی ہے ۔ " پھر مجھ سے کہا : " تم پڑھو ۔ " میں نے پڑھا تو ( اس پر بھی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ سورت اسی طرح اتری تھی ۔ بلاشبہ یہ قرآن سات حروف پر نازل کیا گیا ہے ۔ پس ان میں سے جو تمھارے لئے آسان ہواسی کے مطابق پڑھو ۔
وَحَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَفِي رِوَايَتِهِ قَالَتْ لاَ أَىْ بُنَىَّ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَذِنَ لِظُعُنِهِ ‏.‏
This hadith has been narrated by Ibn Juraij with the same chain of transmitters, and In his narration (the words are):" She (Asma') said: My son, Allah's Apostle (ﷺ) granted permission to women
عیسیٰ بن یو نس نے ابن جریج سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) روایت بیان کی اور ان کی روایت میں ہے انھوں ( اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے کہا : نہیں میرے بیٹے ! نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی عورتوں ( اور بچوں ) کو اجا زت ی تھی ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَكَرُوا الدَّجَّالَ فَقَالَ إِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ ‏.‏ قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَمْ أَسْمَعْهُ ‏.‏ قَالَ ذَاكَ وَلَكِنَّهُ قَالَ ‏ "‏ أَمَّا إِبْرَاهِيمُ فَانْظُرُوا إِلَى صَاحِبِكُمْ وَأَمَّا مُوسَى فَرَجُلٌ آدَمُ جَعْدٌ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ مَخْطُومٍ بِخُلْبَةٍ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ إِذَا انْحَدَرَ فِي الْوَادِي يُلَبِّي ‏"‏ ‏.‏
It is narrated on the authority of Mujahid that he said:We were with Ibn 'Abbas and (the people) talked about al-Dajjal. (One of them remarked. There is written between his eyes (the word) Kafir (infidel). The narrator said: Ibn 'Abbas remarked: I did not hear him (the Holy Prophet) say it, but he said: So far as Ibrahim is concerned. you may see your companion and so far as Moses is concerned, he is a well-built man with wheat complexion (riding) on a red camel with its halter made of the fibre of date-palm (and I perceive) as if I am seeing towards him as he is going down in the valley saying: I am at Thy service! my Lord
مجاہد سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : ہم ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے پاس تھے تو لوگوں نے دجال کا تذکرہ چھیڑ دیا ، ( اس پر کسی نے ) کہا : اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا گا ۔ ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے فرمایا : میں نے آپ ﷺ سے نہیں سنا کہ آپ نے یہ کہا ہو لیکن آپ نے یہ فرمایا : ’’جہاں تک حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تعلق ہے تو اپنے صاحب ( نبیﷺ ) کو دیکھ لو اور موسیٰ ‌علیہ ‌السلام ‌ گندمی رنگ ، گٹھے ہوئے جسم کے مرد ہیں ، سرخ اونٹ پر سوار ہیں جس کی نکیل کھجور کی چھال کی ہے جیسے میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ جب وادی میں اترے ہیں تو تلبیہ کہہ رہے ہیں ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِذْ نَزَلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْجُمُعَةِ فَلَمَّا قَرَأَ ‏{‏ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ‏}‏ قَالَ رَجُلٌ مَنْ هَؤُلاَءِ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَمْ يُرَاجِعْهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى سَأَلَهُ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا - قَالَ - وَفِينَا سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ - قَالَ - فَوَضَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ عَلَى سَلْمَانَ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ لَوْ كَانَ الإِيمَانُ عِنْدَ الثُّرَيَّا لَنَالَهُ رِجَالٌ مِنْ هَؤُلاَءِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported:We were sitting in the company of Allah's Apostle (ﷺ) that Sura al-Jumu'a was revealed to him and when he recited (these words):" Others from amongst them who have not yet joined them," a person amongst them (those who were sitting there) said: Allah's Messenger! But Allah's Apostle (ﷺ) made no reply, until he questioned him once, twice or thrice. And there was amongst us Salman the Persian. The Apostle of Allah (ﷺ) placed his hand on Salman and then said: Even if faith were near the Pleiades, a man from amongst these would surely find it
ابو غیث نے حضرت ابو ہریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جمعہ نازل ہوئی اور آپ نے یہ پڑھا : ﴿ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا﴾ "" ان میں اور بھی لوگ ہیں جو اب تک آکر ان سے نہیں ملے ہیں ۔ "" ( الجمعۃ 62 : 3 ) تو ایک نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !وہ کون لوگ ہیں؟نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کوئی جواب نہ دیا ، حتیٰ کہ اس نے آپ سے ایک یا دو یا تین بار سوال کیا ، کہا : اس وقت ہم میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی موجود تھے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر ہاتھ رکھا ، پھر فرمایا؛ "" اگر ایمان ثریا کے قریب بھی ہوتا تو ان میں سے کچھ لوگ اس کو حاصل کرلیتے ۔