بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
5 hadith
وَحَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ - عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ سَمِعْتُ جُنْدَبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ فَلاَ يَطْلُبَنَّكُمُ اللَّهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَىْءٍ فَيُدْرِكَهُ فَيَكُبَّهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ ‏"‏ ‏.‏
Jundab b. 'Abdullah reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who prayed the morning prayer (in congregation) he is in fact under the protection of Allah. And it can never happen that Allah should demand anything from you in connection with the protection (that He guarantees) and one should not get it. He would then throw him in the fire of Hell
بشر ، یعنی ابن مفضل نے ہمیں حدیث سنائی ، انھوں نے خالد سے اور انھوں نے انس بن سیرین سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت جندب بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جس شخص نے صبح کی نماز پڑھی و ہ اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری ( امان ) میں ہے ۔ تو ایسانہ ہو کہ ( ایسے شخص کو کسی طرح نقصان پہنچانے کی بناپر ) اللہ تعالیٰ تم ( میں سے کسی شخص ) سے اپنے ذمے کے بارے میں کسی چیز کا مطالبہ کرے ، پھر وہ اسے پکڑ لے ، پھر اسے اوندھے منہ جہنم میں ڈال دے ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ اللَّيْثِيُّ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ، عَبْدِ الْحَارِثِ الْخُزَاعِيَّ لَقِيَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بِعُسْفَانَ ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏.‏
This hadith has been narrated by Zuhri through another chain of transmitters
شعیب نے زہری سے خبر دی ، انھوں نے کہا : مجھے عامر بن واثلہ لیثی نے حدیث بیان کی کہ نافع بن عبدالحارث خزاعی نے عسفان ( کے مقام ) پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملاقات کی ۔ ۔ ۔ ( آگے ) زہری سے ابراہیم بن سعد کی روایت کی طرح بیان کیا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ الْقَطَّانُ - عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ، مَوْلَى أَسْمَاءَ قَالَ قَالَتْ لِي أَسْمَاءُ وَهْىَ عِنْدَ دَارِ الْمُزْدَلِفَةِ هَلْ غَابَ الْقَمَرُ قُلْتُ لاَ ‏.‏ فَصَلَّتْ سَاعَةً ثُمَّ قَالَتْ يَا بُنَىَّ هَلْ غَابَ الْقَمَرُ قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَتِ ارْحَلْ بِي ‏.‏ فَارْتَحَلْنَا حَتَّى رَمَتِ الْجَمْرَةَ ثُمَّ صَلَّتْ فِي مَنْزِلِهَا فَقُلْتُ لَهَا أَىْ هَنْتَاهْ لَقَدْ غَلَّسْنَا ‏.‏ قَالَتْ كَلاَّ أَىْ بُنَىَّ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَذِنَ لِلظُّعُنِ ‏.‏
Abdullah, the freed slave of (Hadrat) Asma', reported:Asma' (Allah be pleased with her), as she was in the house at Muzdalifa, asked me whether the moon had set. I said: No. She prayed for some time, and again said: My son has the moon set? I said: Yes. And she said: Set forth along with me, and so we set forth until (we reached Mini) and the stoned at al-Jamra. She then prayed in her place. I said to her: Respected lady, we set forth (in the very early part of dawn) when it was dark, whereupon she said: My son, there is no harm in it; Allah's Apostle (ﷺ) had granted permission to women
یحییٰ قطا ن نے ہمیں ابن جریج سے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) اسما رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے آزاد کردہ غلام عبد اللہ نے مجھ سے حدیث بیان کی کہا : حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جب وہ مزدلفہ کے ( اندر بنے ہو ئے مشہور ) گھر کے پاس ٹھہری ہو ئی تھیں ، مجھ سے پوچھا : کیا چا ند غروب ہو گیا؟ میں نے عرض کی : نہیں ، انھوں نے گھڑی بھر نماز پڑھی ، پھر کہا : بیٹے !کیا چاندغروب ہو گیا ہے؟ میں نے عرض کی ، جی ہاں ۔ انھوں نے کہا : مجھے لے چلو ۔ تو ہم روانہ ہو ئے حتی کہ انھوں نے جمرہ ( عقبہ ) کو کنکریاں ماریں پھر ( فجر کی ) نماز اپنی منزل میں ادا کی ۔ تو میں نے ان سے عرض کی : محترمہ !ہم را ت کے آخری پہر میں ( ہی ) روانہ ہو گئے ۔ انھوں نے کہا : بالکل نہیں ، میرے بیٹے !نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عورتوں کو ( پہلے روانہ ہو نے کی ) اجا زت دی تھی ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَمَرَرْنَا بِوَادٍ فَقَالَ ‏"‏ أَىُّ وَادٍ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا وَادِي الأَزْرَقِ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ مِنْ لَوْنِهِ وَشَعْرِهِ شَيْئًا لَمْ يَحْفَظْهُ دَاوُدُ وَاضِعًا إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ لَهُ جُؤَارٌ إِلَى اللَّهِ بِالتَّلْبِيَةِ مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ثُمَّ سِرْنَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى ثَنِيَّةٍ فَقَالَ ‏"‏ أَىُّ ثَنِيَّةٍ هَذِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا هَرْشَى أَوْ لِفْتٌ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يُونُسَ عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ عَلَيْهِ جُبَّةُ صُوفٍ خِطَامُ نَاقَتِهِ لِيفٌ خُلْبَةٌ مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي مُلَبِّيًا ‏"‏ ‏.‏
Abu al-'Aliya narrated it on the authority of Ibn 'Abbas that he said:We travelled with the Messenger of Allah (ﷺ) between Mecca and Medina and we passed by a valley. He (the Holy Prophet) asked: Which valley is this? They said: This is the valley of Azraq Upon this he (the Holy Prophet) remarked: (I feel) as if I am seeing Moses (peace be upon him), and then he described something about his complexion and hair, which Diwud (the narrator) could not remember. He (Moses, as described by the Holy Prophet) was keeping his fingers in his ears and was responding loudly to Allah (saying: I am as Thy service, my Lord) while passing through that valley. We then travelled (further) till we came to the mountain trail. He (the Holy Prophet) said: Which mountain trail is this? They said: It is the Harsha or Lift. He (the Holy Prophet) said: (I perceive) as if I am seeing Yunus on a red camel, with a cloak of wool around him. The halter of his camel was that of the fibre of date-palm, and he was passing through the valley saying: I am at Thy service! my Lord
ابن ابی عدی نے داؤد سے حدیث سنائی ، انہوں نےابو عالیہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان رات کے وقت سفر کیا ، ہم ایک وادی سے گزرے توآپ نے پوچھا : ’’ یہ کون سی وادی ہے ؟ ‘ ‘ لوگوں نے کہا : وادی ازرق ہے ، آپ نے فرمایا : ’’جیسے میں موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں ( آپ نے موسیٰ ‌علیہ ‌السلام ‌ کے رنگ اور بالوں کے بارے میں کچھ بتایا جو داود کویاد نہیں رہا ) موسیٰ ‌علیہ ‌السلام ‌ نے اپنی دو انگلیاں اپنے ( دونوں ) کانوں میں ڈالی ہوئی ہیں ، اس وادی سے گزرتے ہوئے ، تلبیہ کے ساتھ ، بلند آواز سے اللہ کے سامنے زاری کرتے جا رہے ہیں ۔ ‘ ‘ ( حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : پھر ہم چلے یہاں تک کہ ہم ایک ( اور ) گھاٹی پر پہنچے تو آپ نے پوچھا : ’’یہ کون سی گھاٹی ہے ؟ ‘ ‘ لوگوں نے جواب دیا : ہرشیٰ یا لفت ہے ۔ تو آپ نے فرمایا : ’’ جیسے میں یونس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو سرخ اونٹنی پر سوار دیکھ رہا ہوں ، ان کے بدن پر اونی جبہ ہے ، ان کی اونٹنی کی نکیل کھجور کی چھال کی ہے ، وہ تلبیہ کہتے ہوئے اس وادی سے گزر رہے ہیں ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ جَعْفَرٍ الْجَزَرِيِّ، عَنِ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَوْ كَانَ الدِّينُ عِنْدَ الثُّرَيَّا لَذَهَبَ بِهِ رَجُلٌ مِنْ فَارِسَ - أَوْ قَالَ مِنْ أَبْنَاءِ فَارِسَ - حَتَّى يَتَنَاوَلَهُ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:If the din were at the Pleiades, even then a person from Persia would have taken hold of it, or one amongst the Persian descent would have surely found it
یزید بن اصم جزری نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " اگر دین ثریا پر ہوتا تب بھی فارس کا کوئی شخص ۔ ۔ ۔ یا آپ نے فرمایا ۔ ۔ ۔ فرزندان فارس میں سے کوئی شخص اس تک پہنچتا اور اسے حاصل کرلیتا ۔