بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
5 hadith
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، - وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ - حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ، قَالَ دَخَلَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ الْمَسْجِدَ بَعْدَ صَلاَةِ الْمَغْرِبِ فَقَعَدَ وَحْدَهُ فَقَعَدْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ فِي جَمَاعَةٍ فَكَأَنَّمَا قَامَ نِصْفَ اللَّيْلِ وَمَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فِي جَمَاعَةٍ فَكَأَنَّمَا صَلَّى اللَّيْلَ كُلَّهُ ‏"‏ ‏.‏
Abd al-Rahman b. Abd 'Amr reported:'Uthman b. 'Affan (narrated the mosque after evening prayer and sat alone. I also sat alone with him, so he said: 0, son of my brother, I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: He who observed the 'Isha' prayer in congregation, it was as if he prayed up to midnight, and he who prayed the morning prayer in congregation, it was as if he prayed the whole night
عبدالواحد بن زیاد نے ہمیں حدیث سنائی ، کہا : ہم سے عثمان بن حکیم نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عبدالرحمان بن ابی عمرہ نے حدیث سنائی ، کہا : حضرت عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ مغر ب کی نماز کے بعد مسجد میں تشریف لائے اور اکیلے بیٹھ گئے ، میں بھی ان کے پاس بیٹھ گیا ، وہ کہنے لگے : بھتیجے ! میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ’’ جس نے عشاء کی نماز باجماعت ادا کی تو گویا اس نے آدھی رات کا قیام کیا اور جس نےصبح کی نماز ( بھی ) جماعت کے ساتھ پڑھی تو گویا اس نے ساری رات نماز پڑھی ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ حَسَدَ إِلاَّ فِي اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالاً فَسَلَّطَهُ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ حِكْمَةً فَهُوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا ‏"‏ ‏.‏
Abdullah b. Mas'ud reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There should be no envy but only in case of two persons: one having been endowed with wealth and power to spend it in the cause of Truth, and (the other) who has been endowed with wisdom and he decides cases with the help of it and teaches it (to others)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دو باتوں کے سوا کسی چیز میں حسد ( رشک ) نہیں کیا جاسکتا : ایک وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے مال دیا پھر اسے اس پر مسلط کردیا کہ وہ اس مال کو حق کی راہ میں بے دریغ لٹائے ۔ دوسرا وہ انسان جسے اللہ تعالیٰ نے حکمت ( دانائی ) عطا کی اور وہ اس کے مطابق ( اپنے اور دوسروں کے ) معاملات طے کر تا ہے اور اس کی تعلیم دیتاہے ۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ فَأُصَلِّي الصُّبْحَ بِمِنًى فَأَرْمِي الْجَمْرَةَ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ النَّاسُ ‏.‏ فَقِيلَ لِعَائِشَةَ فَكَانَتْ سَوْدَةُ اسْتَأْذَنَتْهُ قَالَتْ نَعَمْ إِنَّهَا كَانَتِ امْرَأَةً ثَقِيلَةً ثَبِطَةً فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَذِنَ لَهَا ‏.‏
A'isha said:I wish I had sought permission from Allah's Messenger (ﷺ) as Sauda had sought, and observed the dawn prayer at Mina and stoned at al-Jamra before the people had come there. It was said to 'A'isha (Allah be pleased with her): Did Sauda seek permission from him (the Holy Prophet)? She said: Yes. She was a bulky lady and so she sought permission from Allah's Messenger (ﷺ) (to proceed to mina from Muzdalifa ahead of him), and he granted her permission
عبیداللہ بن عمر نے عبدالرحمان بن قاسم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے قاسم سے ، اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میری آرزو تھی کہ جیسے حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اجازت لی تھی ، میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لی ہوتی ، میں بھی صبح کی نماز منیٰ میں ادا کیاکرتی اور لوگوں کے منیٰ آنے سے پہلے جمرہ ( عقبہ ) کو کنکریاں مارلیتی ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا گیا : ( کیا ) حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اجازت لی تھی؟انھوں نے کہا : ہاں ۔ وہ بھاری کم حرکت کرسکنے والی خاتون تھیں ۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی تو آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اجازت دے دی ۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَمِّ، نَبِيِّكُمْ صلى الله عليه وسلم ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَى مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - رَجُلٌ آدَمُ طُوَالٌ جَعْدٌ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ وَرَأَيْتُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ مَرْبُوعَ الْخَلْقِ إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ سَبِطَ الرَّأْسِ ‏"‏ ‏.‏ وَأُرِيَ مَالِكًا خَازِنَ النَّارِ وَالدَّجَّالَ ‏.‏ فِي آيَاتٍ أَرَاهُنَّ اللَّهُ إِيَّاهُ فَلاَ تَكُنْ فِي مِرْيَةٍ مِنْ لِقَائِهِ ‏.‏ قَالَ كَانَ قَتَادَةُ يُفَسِّرُهَا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ لَقِيَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ ‏.‏
Abu al-'Aliya reported:Ibn Abbas, the son of your Prophet's uncle, told us that the Messenger of Allah (ﷺ) had observed: On the night of my night journey I passed by Moses b. 'Imran (peace be upon him), a man light brown in complexion, tall. well-built as if he was one of the men of the Shanu'a, and saw Jesus son of Mary as a medium-statured man with white and red complexion and crisp hair, and I was shown Malik the guardian of Fire, and Dajjal amongst the signs which were shown to me by Allah. He (the narrator) observed: Then do not doubt his (i. e. of the Holy Prophet) meeting with him (Moses). Qatada elucidated it thus: Verily the Messenger of Allah (ﷺ), met Moses (peace be upon him)
شیبان بن عبد الرحمن نے قتادہ کے حوالے سے سابقہ سند کے ساتھ حدیث سنائی کہ ہمیں تمہارے نبی ﷺ کے چچازاد ( ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) نے حدیث سنائی ، کہا : رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ میں اسراء کی رات موسیٰ بن عمران ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے پاس سے گزرا ، وہ گندمی گوں ، طویل قامت کے گٹھے ہوئے جسم کے انسان تھے ، جیسے قبیلہ شنوءہ کے مردوں میں سے ہوں ۔ اور میں نے عیسیٰ ابن مریم ‌علیہ ‌السلام ‌ کو دیکھا ، ا ن کا قد درمیانہ ، رنگ سرخ وسفید اور سر کے بال سیدھے تھے ۔ ‘ ‘ ( سفر معراج کے دوران میں ) ان بہت سی نشانیوں میں سے جو آپ کو اللہ تعالیٰ نے دکھائیں آپ کو دورخ کا داروغہ مالک اور دجال بھی دکھایا گیا ۔ ’’آپ ان ( موسیٰ ) سے ملاقات کے بارے میں شک میں نہ رہیں ۔ ‘ ‘ شیبان نےکہا : قتادہ اس آیت کی تفسیر بتایا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ یقیناً موسیٰ علیہ السلام سے ملے تھے ۔ ( یہ ملاقات حقیقی تھی ، معراج محض خواب نہ تھا ۔)
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِي الْوَازِعِ، جَابِرِ بْنِ عَمْرٍو الرَّاسِبِيِّ سَمِعْتُ أَبَا بَرْزَةَ، يَقُولُ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً إِلَى حَىٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ فَسَبُّوهُ وَضَرَبُوهُ فَجَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَوْ أَنَّ أَهْلَ عُمَانَ أَتَيْتَ مَا سَبُّوكَ وَلاَ ضَرَبُوكَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Barza reported that Allah's Messenger (ﷺ) sent a person to a tribe amongst the tribes of Arabia. They reviled him and beat him. He came to Allah's Messenger (ﷺ) and narrated to him (the story of atrocities perpetrated upon him by the people of the tribe). Thereupon he (the Holy Prophet) said:If you were to come to the people of 'Uman, they would have neither reviled you nor beaten you
جابر بن عمرو راسبی نے کہا : میں نے حضرت ابو برزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو قبائل عرب میں سے ایک قبیلے کے پاس بھیجا تو ان لوگوں نے ان کو گالیاں دیں اور مارا ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کوخبر دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر تم اہل عمان کے پاس جاتے تو وہ تمھیں گالیاں دیتے نہ مارتے ۔