بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
4
6 hadith
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح قَالَ وَحَدَّثَنِيهِ سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ وَاضِعًا طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْهِ ‏.‏ وَرِوَايَةُ أَبِي بَكْرٍ وَسُوَيْدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ ‏.‏
This hadith has been narrated by A'mash with the came chain of transmitters, and in the narration of Abu Karaib the words are:" Placing its (mantle's) ends on his shoulders" ; and the narration transmitted by Abu Bakr and Suwaid (the words are):" the ends crossing with each other
۔ ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے کہا : ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا ، نیز سوید بن سعید نے کہا : ہم سے علی بن مسہر نے روایت کی ، دونوں نے اعمش سے اسی طرح روایت کی ۔ ابو کریب کی روایت میں ہے : آپ نے اس کے دونوں کنارے اپنے کندھوں پر ڈالے ہوئے تھے ۔ اور ابو بکر اور سوید کی روایت میں ہے : آپ اس کو پٹکے کی طرح لپیٹے ہوئے تھے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، قَالَ كُنَّا قُعُودًا فِي الْمَسْجِدِ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْمَسْجِدِ يَمْشِي فَأَتْبَعَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ بَصَرَهُ حَتَّى خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَمَّا هَذَا فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Abu Sha'tha' reported:While we were sitting with Abu Huraira in a mosque a man went out of the mosque after the call to prayer had been announced. (A man stood up in the mosque and set off.) Abu Huraira's eyes followed him till he went out of the mosque. Upon this Abu Huraira said: This man has disobeyed Abu'l- Qasim (Muhammad) (ﷺ)
ابراہیم بن مہاجر نے ابو شعثاء سے روایت کی ، کہا : ہم مسجد میں حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ مؤذن نے اذان کہی ، ایک آدمی مسجدسے اٹھ کر چل پڑا ، حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نےمسلسل اس پر نظر رکھی حتی کہ وہ مسجد سے نکل گیا ، حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نےکہا : یہ شخص ، یقینا اس نے ابو القاسم ﷺ کی نافرمانی کی ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، - قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، - حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ حَسَدَ إِلاَّ فِي اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالاً فَهُوَ يُنْفِقُهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ ‏"‏ ‏.‏
Salim narrated on the authority of his father (Ibn 'Umar) that the Messenger of Allah (ﷺ) said:Envy is not justified but in case of two persons only: one who, having been given (knowledge of) the Qur'an by Allah, recites it during the night and day (and also acts upon it) and a man who, having been given wealth by God, spends it during the night and the day (for the welfare of others. seeking the pleasure of the Lord)
سفیان بن عینیہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ( ابن شہاب ) زہری نے سالم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " دو چیزوں ( خوبیوں ) کے سوا کسی اور چیز میں حسد ( رشک ) کی گنجائش نہیں : ایک وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کی نعمت عنایت فرمائی ، پھر وہ دن اور رات کی گھڑیوں میں اس کے ساتھ قیام کرتا ہے ۔ اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ نے مال ودولت سے نوازا اور وہ دن اور رات کے اوقات میں اسے ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کرتا ہے ۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ، - يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ - عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتِ اسْتَأْذَنَتْ سَوْدَةُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ تَدْفَعُ قَبْلَهُ وَقَبْلَ حَطْمَةِ النَّاسِ وَكَانَتِ امْرَأَةً ثَبِطَةً - يَقُولُ الْقَاسِمُ وَالثَّبِطَةُ الثَّقِيلَةُ - قَالَ فَأَذِنَ لَهَا فَخَرَجَتْ قَبْلَ دَفْعِهِ وَحَبَسَنَا حَتَّى أَصْبَحْنَا فَدَفَعْنَا بِدَفْعِهِ وَلأَنْ أَكُونَ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ فَأَكُونَ أَدْفَعُ بِإِذْنِهِ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ مَفْرُوحٍ بِهِ ‏.‏
A'isha (Allah be pleased with her) reported:Sauda (the wife of the Holy Prophet) who was bulky sought the permission of Allah's Messenger (ﷺ) on the night of Muzdalifa to move from (that place) ahead of him and before the multitude (set forth). He (Allah's Apostle) gave her the permission. So she set forth before his (Holy Prophet's) departure. But we stayed there until it was dawn and we moved on, when he departed. And if I were to seek the permission of Allah's Messenger. (ﷺ) as Sauda had sought permission, I could have also gone with his permission and it would have been better for me than that for which I was happy
فلح ، یعنی ابن حمید نے قاسم سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مزدلفہ کی رات حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ، اور لوگوں کا اذدھام ہونے سے پہلے پہلے ( منیٰ ) چلی جائیں ۔ اور وہ تیزی سے حرکت نہ کرسکنے والی خاتون تھیں ۔ قاسم نے کہا : ثبطه بھاری جسم والی عورت کو کہتے ہیں ۔ کہا ، ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : ) آپ نے انھیں اجازت دے دی ۔ وہ آپ کی روانگی سے پہلے ہی نکل پڑیں اور ہمیں آپ نے روکے رکھا یہاں تک کہ ہم نے ( وہیں ) صبح کی ، اور آپ کی روانگی کے ساتھ ہی ہم روانہ ہوئیں ۔ اگر میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجاز ت لے لیتی ، جیسے حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اجازت لی تھی ۔ اور یہ کہ ( ہمیشہ ) آ پ کی اجازت سے ( جلد ) روانہ ہوتی تو یہ میرے لئے ہر خوش کرنے والی چیز سے زیادہ پسندیدہ ہوتا ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَزَادَ فِيهِ ‏ "‏ فَأُتِيتُ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مُمْتَلِئٍ حِكْمَةً وَإِيمَانًا فَشُقَّ مِنَ النَّحْرِ إِلَى مَرَاقِّ الْبَطْنِ فَغُسِلَ بِمَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ مُلِئَ حِكْمَةً وَإِيمَانًا ‏"‏ ‏.‏
It is reported on the authority of Malik b. Sa'sa' that the Messenger of Allah (ﷺ) narrated the hadith (mentioned above) and added to it:I was brought a gold basin full of wisdom and faith, and then the (part of the body) right from the upper end of the chest to the lower part of the abdomen was opened and it was washed with the water of Zamzam and then flled with wisdom and faith
ہشام نے قتادہ سے حدیث سنائی ، ( انہوں نے کہا : ) ہمیں انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے حضرت مالک بن صعصعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حدیث سنائی کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا.... پھر سابقہ حدیث کی طرح بیان کیا اور اس میں اضافہ کیا : ’’ تو میرے پاس حکمت اور ایمان سے بھرا سونے کا طشت لایا گیا اور ( میری ) گردن کے قریب سے پیٹ کے پتلے حصے تک چیرا گیا ، پھر زم زم کے پانی سے دھویا گیا ، پھر اسےحکمت اور ایمان سے بھر دیا گیا 0 ‘ ‘ ( وضاحت کتاب الایمان کے تعارف میں دیکھیے ۔)
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَرْمَلَةُ، ح وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ، سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ، - وَهُوَ ابْنُ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، بْنِ شُمَاسَةَ الْمَهْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّكُمْ سَتَفْتَحُونَ أَرْضًا يُذْكَرُ فِيهَا الْقِيرَاطُ فَاسْتَوْصُوا بِأَهْلِهَا خَيْرًا فَإِنَّ لَهُمْ ذِمَّةً وَرَحِمًا فَإِذَا رَأَيْتُمْ رَجُلَيْنِ يَقْتَتِلاَنِ فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ فَاخْرُجْ مِنْهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَمَرَّ بِرَبِيعَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنَىْ شُرَحْبِيلَ بْنِ حَسَنَةَ يَتَنَازَعَانِ فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ فَخَرَجَ مِنْهَا ‏.‏
Abu Dharr reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:You would soon conquer a land where people are in the habit of using foul language. They have a right of kinship upon you. And when you see two persons fighting for the space of a brick, then get out of that. He (Abu Dharr) then happened to pass by Rabila and 'Abd al-Rahman, the two sons of Shurahbil b. Hasana, and they had been disputing for the space of a brick. So he left the land
ابن وہب نے کہا : ہمیں حرملہ بن عمران تحبیی نے عبدالرحمٰن بن شماسہ مہری سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہتے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ "" تم عنقریب ایک زمین کو فتح کرو گےجس میں قیراط کا نام لیا جاتا ہوگا ( یہ ان کے چھوٹے سکے کا نام ہوگا ) تم اس سرزمین کے رہنے والوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی بات سن رکھو ، کیونکہ ان کا ( ہم پر ) حق بھی ہے اور رشتہ بھی ، پھر جب تم دو انسانوں کو ایک اینٹ کی جگہ کے لئے قتال پر آمادہ دیکھو تو وہاں سے چلے آنا ۔ "" ( حرملہ بن عمران نے ) کہا : تو ( عبدالرحمان بن شماسہ ) حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دو بیٹوں ربیعہ اور عبدالرحمان کے قریب سے گزرے ، وہ ایک اینٹ کی جگہ پر جھگڑ رہے تھے تو وہ وہاں ( مصر ) سے نکل آئے ۔