بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
4
6 hadith
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو - قَالَ حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي عَلَى حَصِيرٍ يَسْجُدُ عَلَيْهِ - قَالَ - وَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ ‏.‏
Abu Sa'id al Khudri reported:I visited the Apostle (ﷺ) and saw him praying on a reed mat on which he was prostrating himself. And I saw him praying in a single garment with ends crossed with each other
۔ عیسیٰ بن یونس نے کہا : ہمیں اعمش نے ابو سفیان سے حدیث سنائی ، انہوں نے حضرت جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا ، مجھے حضرت ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے حدیث سنائی کہ وہ نبی اکرمﷺ کے ہاں حاضر ہوئے ، کہا : تو میں نے آپ کو ایک چٹائی پر نماز پڑھتے دیکھا اس پر آپ سجدہ کرتے تھے اور میں نے آپ کو دیکھا آپ ایک کپڑے میں اس کو پٹکے کی طرح لپیٹ کر نماز پڑھ رہے تھے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، عَنْ أَبِي الْعُمَيْسِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الأَقْمَرِ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَلْقَى اللَّهَ غَدًا مُسْلِمًا فَلْيُحَافِظْ عَلَى هَؤُلاَءِ الصَّلَوَاتِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ فَإِنَّ اللَّهَ شَرَعَ لِنَبِيِّكُمْ صلى الله عليه وسلم سُنَنَ الْهُدَى وَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى وَلَوْ أَنَّكُمْ صَلَّيْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ كَمَا يُصَلِّي هَذَا الْمُتَخَلِّفُ فِي بَيْتِهِ لَتَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ لَضَلَلْتُمْ وَمَا مِنْ رَجُلٍ يَتَطَهَّرُ فَيُحْسِنُ الطُّهُورَ ثُمَّ يَعْمِدُ إِلَى مَسْجِدٍ مِنْ هَذِهِ الْمَسَاجِدِ إِلاَّ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ خَطْوَةٍ يَخْطُوهَا حَسَنَةً وَيَرْفَعُهُ بِهَا دَرَجَةً وَيَحُطُّ عَنْهُ بِهَا سَيِّئَةً وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلاَّ مُنَافِقٌ مَعْلُومُ النِّفَاقِ وَلَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يُؤْتَى بِهِ يُهَادَى بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ حَتَّى يُقَامَ فِي الصَّفِّ ‏.‏
Abdullah (b. Mas'ud) reported:He who likes to meet Allah tomorrow as Muslim, he should persevere in observing these prayers, when a call is announced for them, for Allah has laid down for your Prophet the paths of right guidance, and these (prayers) are among the paths of right guidance. If you were to pray in your houses as this man why stays away (from the mosque) prays in his house, you would abandon the practice of your Prophet, and if you were to abandon the practice of your Prophet, you would go astray. No man purifies himself, doing it well, then makes for one of those mosques without Allah recording a blessing for him for every step he takes raising him a degree for it, and effacing a sin from him for it. I have seen the time when no one stayed away from it, except a hypocrite, who was well known for his hypocrisy, whereas a man would be brought swaying (due to weakness) between two men till he was set up in a row
علی بن اقمر نے ابو احوص سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) سے روایت کی ، کہا : جو یہ چاہے کہ کل ( قیامت کے دن ) اللہ تعالیٰ سے مسلمان کی حیثیت سے ملے تو وہ جہاں سے ان ( نمازوں ) کے لیے بلایا جائے ، ان نمازوں کی حفاظت کرے ( وہاں مساجد میں جا کر صحیح طرح سے انھیں ادا کرے ) کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمھائے نبی ﷺ کے لے ہدایت کے طریقے مقرر فرما دیے ہیں اور یہ ( مساجد میں باجماعت نماز یں ) بھی انھی طریقوں میں سے ہیں ۔ کیونکہ اگر تم نمازیں اپنے گھروں میں پڑھو گے ، جیسے یہ جماعت سے پیچھے رہنے والا ، اپنے گھر میں پڑھتا ہےتو تم اپنے نبی کی راہ چھوڑ دو گے اور اگر تم اپنے نبی کی راہ کو چھوڑ دو گے تو گمراہ ہو جاؤ گے ۔ کوئی آدمی جو پاکیز گی حاصل کرتا ہے ( وضوکرتا ہے ) اور اچھی طرح وضو کرتا ہے ، پھر ان مساجد میں سے کسی مسجد کا رخ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر قدم کے بدلے ، جو وہ اٹھاتا ہے ، ایک نیکی لکھتا ہے ، اور اس کے سبب اس کا ایک درجہ بلند فرماتا ہے اور اس کا ایک گناہ کم کر دیتا ہے ، اور میں نے دیکھا کہ ہم میں سے کوئی ( بھی ) جماعت سے پیچھے نہ رہتا تھا ، سوائے ایسے منافق کے جس کا نفاق سب کو معلوم ہوتا ( بلکہ بسا اوقات ایسا ہوتا کہ ) ایک آدمی کو اس طرح لایا جاتا کہ اسے دو آ دمیوں کے درمیان سہارا دیا گیا ہوتا ، حتی کہ صف میں لاکھڑا کیا جاتا ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، كِلاَهُمَا عَنْ إِسْمَاعِيلَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي أُسَامَةَ عَنْ عُقْبَةَ، بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ وَكَانَ مِنْ رُفَعَاءِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
This hadith has been narrated through another chain of transmitters directly from the Companions of Muhammad (ﷺ)
۔ وکیع اور ابو اسامہ نے اسماعیل سے اسی سند کے سات اسی طرح روایت بیان کی ، البتہ ابو اسامہ نے عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جو روایت کی ، اس میں ہے ، عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے اور وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بلند مرتبہ ساتھیوں میں سے تھے ۔
وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ قَبْلَ وَقْتِهَا بِغَلَسٍ ‏.‏
This hadith has been transmitted by Al-A`mash with a slight variation of words, i.e. he said before its time when it was still dark
جریر نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی ، اور کہا : ( فجر کی نماز ) اس کے ( معمول کے ) وقت سے پہلے اندھیرے میں ( اداکی ۔)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، - لَعَلَّهُ قَالَ - عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ، - رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ - قَالَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ بَيْنَا أَنَا عِنْدَ الْبَيْتِ بَيْنَ النَّائِمِ وَالْيَقْظَانِ إِذْ سَمِعْتُ قَائِلاً يَقُولُ أَحَدُ الثَّلاَثَةِ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ ‏.‏ فَأُتِيتُ فَانْطُلِقَ بِي فَأُتِيتُ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ فِيهَا مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ فَشُرِحَ صَدْرِي إِلَى كَذَا وَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قَتَادَةُ فَقُلْتُ لِلَّذِي مَعِي مَا يَعْنِي قَالَ إِلَى أَسْفَلِ بَطْنِهِ ‏"‏ فَاسْتُخْرِجَ قَلْبِي فَغُسِلَ بِمَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ أُعِيدَ مَكَانَهُ ثُمَّ حُشِيَ إِيمَانًا وَحِكْمَةً ثُمَّ أُتِيتُ بِدَابَّةٍ أَبْيَضَ يُقَالُ لَهُ الْبُرَاقُ فَوْقَ الْحِمَارِ وَدُونَ الْبَغْلِ يَقَعُ خَطْوُهُ عِنْدَ أَقْصَى طَرْفِهِ فَحُمِلْتُ عَلَيْهِ ثُمَّ انْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ صلى الله عليه وسلم فَقِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ ‏.‏ قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قِيلَ وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ قَالَ نَعَمْ - قَالَ - فَفَتَحَ لَنَا وَقَالَ مَرْحَبًا بِهِ وَلَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ - قَالَ - فَأَتَيْنَا عَلَى آدَمَ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ ‏.‏ وَذَكَرَ أَنَّهُ لَقِيَ فِي السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ عِيسَى وَيَحْيَى - عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ - وَفِي الثَّالِثَةِ يُوسُفَ وَفِي الرَّابِعَةِ إِدْرِيسَ وَفِي الْخَامِسَةِ هَارُونَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَسَلَّمَ - قَالَ ‏"‏ ثُمَّ انْطَلَقْنَا حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّادِسَةِ فَأَتَيْتُ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَرْحَبًا بِالأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ ‏.‏ فَلَمَّا جَاوَزْتُهُ بَكَى فَنُودِيَ مَا يُبْكِيكَ قَالَ رَبِّ هَذَا غُلاَمٌ بَعَثْتَهُ بَعْدِي يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِهِ الْجَنَّةَ أَكْثَرُ مِمَّا يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِي ‏.‏ - قَالَ - ثُمَّ انْطَلَقْنَا حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ فَأَتَيْتُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ وَحَدَّثَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ رَأَى أَرْبَعَةَ أَنْهَارٍ يَخْرُجُ مِنْ أَصْلِهَا نَهْرَانِ ظَاهِرَانِ وَنَهْرَانِ بَاطِنَانِ ‏"‏ فَقُلْتُ يَا جِبْرِيلُ مَا هَذِهِ الأَنْهَارُ قَالَ أَمَّا النَّهْرَانِ الْبَاطِنَانِ فَنَهْرَانِ فِي الْجَنَّةِ وَأَمَّا الظَّاهِرَانِ فَالنِّيلُ وَالْفُرَاتُ ‏.‏ ثُمَّ رُفِعَ لِيَ الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ فَقُلْتُ يَا جِبْرِيلُ مَا هَذَا قَالَ هَذَا الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ يَدْخُلُهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ إِذَا خَرَجُوا مِنْهُ لَمْ يَعُودُوا فِيهِ آخِرُ مَا عَلَيْهِمْ ‏.‏ ثُمَّ أُتِيتُ بِإِنَاءَيْنِ أَحَدُهُمَا خَمْرٌ وَالآخَرُ لَبَنٌ فَعُرِضَا عَلَىَّ فَاخْتَرْتُ اللَّبَنَ فَقِيلَ أَصَبْتَ أَصَابَ اللَّهُ بِكَ أُمَّتُكَ عَلَى الْفِطْرَةِ ‏.‏ ثُمَّ فُرِضَتْ عَلَىَّ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسُونَ صَلاَةً ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّتَهَا إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ ‏.‏
Anas b. Malik reported on the authority of Malik b. Sa sa', perhaps a person of his tribe, that the Prophet of Allah (ﷺ) said:I was near the House (i. e. Ka'bah) in a state between sleep and wakefulness when I heard someone say: He is the third among the two persons. Then he came to me and took me with him. Then a golden basin containing the water of Zamzam was brought to me and my heart was opened up to such and such (part). Qatada said: I asked him who was with me (i e. the narrator) and what he meant by such and such (part). He replied: (It means that it was opened) up to the lower part of his abdomen (Then the hadith continues): My heart was extracted and it was washed with the water of Zamzam and then it was restored in its original position, after which it was filled with faith and wisdom. I was then brought a white beast which is called al-Buraq, bigger than a donkey and smaller than a mule. Its stride was as long as the eye could reach. I was mounted on it, and then we went forth till we reached the lowest heaven. Gabriel asked for the (gate) to be opened, and it was said: Who is he? He replied: Gabriel. It was again said: Who is with thee? He replied: Muhammad (ﷺ). It was said: Has he been sent for? He (Gabriel) said: Yes. He (the Prophet) said: Then (the gate) was opened for us (and it was said): Welcome unto him! His is a blessed arrival. Then we came to Adam (peace be upon him). And he (the narrator) narrated the whole account of the hadith. (The Holy Prophet) observed that he met Jesus in the second heaven, Yahya (peace be on both of them) in the third heaven, Yusuf in the third, Idris in the fourth, Harun in the fifth (peace and blessings of Allah be upon them). Then we travelled on till we reached the sixth heaven and came to Moses (peace be upon him) and I greeted him and he said: Welcome unto righteous brother and righteous prophet. And when I passed (by him) he wept, and a voice was heard saying: What makes thee weep? He said: My Lord, he is a young man whom Thou hast sent after me (as a prophet) and his followers will enter Paradise in greater numbers than my followers. Then we travelled on till we reached the seventh heaven and I came to Ibrahim. He (the narrator) narrat- ed in this hadith that the Prophet of Allah (ﷺ) told that he saw four rivers which flowed from (the root of the lote-tree of the farthest limits): two manifest rivers and two hidden rivers. I said: ' Gabriel! what are these rivers? He replied: The two hidden rivers are the rivers of Paradise, and as regards the two manifest ones, they are the Nile and the Euphrates. Then the Bait-ul-Ma'mur was raised up to me. I said: O Gabriel! what is this? He replied: It is the Bait-ul-Ma'mur. Seventy thousand angels enter into it daily and, after they come out, they never return again. Two vessels were then brought to me. The first one contained wine and the second one contained milk, and both of them were placed before me. I chose milk. It was said: You did right. Allah will guide rightly through you your Ummah on the natural course. Then fifty prayers daily were made obligatory for me. And then he narrated the rest of the hadith to the end
سعید نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ( انہوں نے غالباً یہ کہا ) کہ مالک بن صعصعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےروایت ہے ( جو ان کی قوم کے فرد تھے ) کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’میں بیت اللہ کے پاس نیند اور بیداری کی درمیانی کیفیت میں تھا ، اس اثناء میں ایک کہنے والے کو میں نے یہ کہتے سنا : ’’ تین آدمیوں میں سے ایک ، دو کے درمیان والا ‘ ‘ پھر میرے پاس آئے اور مجھے لے جایا گیا ، اس کے بعد میرے پاس سونے کا طشت لایا گیا جس میں زمزم کا پانی تھا ، پھر میرا سینہ کھول دیا گیا ، فلاں سے فلاں جگہ تک ( قتادہ نےکہا : میں نے اپنے ساتھ والے سے پوچھا : اس سے کیا مراد لے رہے ہیں ؟ اس نے کہا ، پیٹ کے نیچے کےحصے تک ) پھر میرا دل نکالا گیا اور اسے زم زم کے پانی سے دھویا گیا ، پھر اسے دوبارہ اس کی جگہ پر رکھ دیا گیا ، پھر اسے ایمان و حکمت سے بھر دیا گیا ۔ اس کے بعد میرے پاس ایک سفید جانور لایا گیا جسے براق کہا جاتا ہے ، گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا ، اس کا قدم وہاں پڑتا تھا جہاں اس کی نظر کی آخری حد تھی ، مجھے اس پر سوار کیا گیا ، پھر ہم چل پڑے یہاں تک کہ ہم سب سے نچلے ( پہلے ) آسمان تک پہنچے ۔ جبریل ‌علیہ ‌السلام ‌ نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا : تو پوچھا گیا : یہ ( دروازہ کھلوانے والا ) کون ہے ؟ کہا : جبریل ہوں ۔ کہا گیا : آپ کے ساتھ کون ہے ؟ کہا محمدﷺ ہیں ۔ پوچھا گیا : کیا ( آسمانوں پر لانے کےلیے ) ان کی طرف سے کسی کو بھیجا گیا تھا؟ کہا : ہاں ۔ تو اس نے ہمارے لیے دروازہ کھول دیا اور کہا : مرحبا ! آپ بہترین طریقے سے آئے ! فرمایا : پھر ہم آدم علیہ السلام کے سامنے پہنچ گئے ۔ آگے پورے قصے سمیت حدیث سنائی اور بتایا کہ دوسرے آسمان پر آپ عیسیٰ اور یحییٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے ، تیسرے پر یوسف علیہ السلام سے اور چوتھے پر ادریس علیہ السلام سے ، پانچویں پر ہارون ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے ملے ، کہا : پھر ہم چلے یہاں تک کہ چھٹے آسمان تک پہنچے ، میں موسیٰ علیہ السلام کےپاس پہنچا اور ان کو سلام کیا ، انہوں نے کہا : صالح بھائی اور صالح نبی کو مرحبا ، جب میں ان سے آگے چلا گیا تو وہ رونے لگے ، انہیں آواز دی گئی آپ کو کس بات نے رلا دیا ؟ کہا : اے میرے رب ! یہ نوجوان ہیں جن کو تو نے میرےبعد بھیجا ہے ان کی امت کے لوگ میری امت کے لوگوں سے زیادہ تعداد میں جنت میں داخل ہوں گے ۔ آپ نے فرمایا : پھر ہم چل پڑے یہاں تک کہ ساتویں آسمان تک پہنچ گئے تو میں ابراہیم علیہ السلام کے سامنے آیا ۔ ‘ ‘ اور انہوں نے حدیث میں کہا کہ نبی ا کرمﷺ نے بتایا کہ انہوں نے چار نہریں دیکھیں ، ان کے منبع سے دو ظاہری نہریں نکلتی ہیں اور دو پوشیدہ نہریں ۔ ’’میں نے کہا : اے جبریل ! یہ نہریں کیا ہیں ؟ انہوں نے کہا : جو دو پوشیدہ ہیں تو وہ جنت کی نہریں ہیں اور دو ظاہری نہریں نیل اور فرات ہیں ، پھر بیت معمور میرے سامنے بلند کیا گیا میں نے پوچھا : اے جبریل! یہ کیا ہے ؟ کہا : یہ بیت معمور ہے ، اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں ، جب اس سے نکل جاتے ہیں ، تو اس ( زمانے ) کے آخر تک جو ان کے لیے ہے دوبارہ اس میں نہیں آ سکتے ، پھر میرےپاس دو برتن لائے گئے ایک شراب کا اور دوسرا دودھ کا ، دونوں میرے سامنے پیش کیے گئے تو میں نے دودھ کو پسند کیا ، اس پر کہا گیا ، آپ نے ٹھیک ( فیصلہ ) کیا ، اللہ تعالیٰ آپ کے ذریعے سے ( سب کو ) صحیح ( فیصلہ ) تک پہنچائے ، آپ کی امت ( بھی ) فطرت پر ہے ، پھر مجھ پر ہر روز پچاس نمازیں فرض کی گئیں ..... ‘ ‘ پھر ( سابقہ ) حدیث کے آخر تک کا سارا واقعہ بیان کیا ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا - وَاللَّفْظُ، لاِبْنِ الْمُثَنَّى - حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ أُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِذَا أَتَى عَلَيْهِ أَمْدَادُ أَهْلِ الْيَمَنِ سَأَلَهُمْ أَفِيكُمْ أُوَيْسُ بْنُ عَامِرٍ حَتَّى أَتَى عَلَى أُوَيْسٍ فَقَالَ أَنْتَ أُوَيْسُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ مِنْ مُرَادٍ ثُمَّ مِنْ قَرَنٍ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ فَكَانَ بِكَ بَرَصٌ فَبَرَأْتَ مِنْهُ إِلاَّ مَوْضِعَ دِرْهَمٍ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ لَكَ وَالِدَةٌ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ يَأْتِي عَلَيْكُمْ أُوَيْسُ بْنُ عَامِرٍ مَعَ أَمْدَادِ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ مُرَادٍ ثُمَّ مِنْ قَرَنٍ كَانَ بِهِ بَرَصٌ فَبَرَأَ مِنْهُ إِلاَّ مَوْضِعَ دِرْهَمٍ لَهُ وَالِدَةٌ هُوَ بِهَا بَرٌّ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لأَبَرَّهُ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لَكَ فَافْعَلْ ‏"‏ ‏.‏ فَاسْتَغْفِرْ لِي ‏.‏ فَاسْتَغْفَرَ لَهُ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ أَيْنَ تُرِيدُ قَالَ الْكُوفَةَ ‏.‏ قَالَ أَلاَ أَكْتُبُ لَكَ إِلَى عَامِلِهَا قَالَ أَكُونُ فِي غَبْرَاءِ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَىَّ ‏.‏ قَالَ فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ حَجَّ رَجُلٌ مِنْ أَشْرَافِهِمْ فَوَافَقَ عُمَرَ فَسَأَلَهُ عَنْ أُوَيْسٍ قَالَ تَرَكْتُهُ رَثَّ الْبَيْتِ قَلِيلَ الْمَتَاعِ ‏.‏ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ يَأْتِي عَلَيْكُمْ أُوَيْسُ بْنُ عَامِرٍ مَعَ أَمْدَادِ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ مُرَادٍ ثُمَّ مِنْ قَرَنٍ كَانَ بِهِ بَرَصٌ فَبَرَأَ مِنْهُ إِلاَّ مَوْضِعَ دِرْهَمٍ لَهُ وَالِدَةٌ هُوَ بِهَا بَرٌّ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لأَبَرَّهُ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لَكَ فَافْعَلْ ‏"‏ ‏.‏ فَأَتَى أُوَيْسًا فَقَالَ اسْتَغْفِرْ لِي ‏.‏ قَالَ أَنْتَ أَحْدَثُ عَهْدًا بِسَفَرٍ صَالِحٍ فَاسْتَغْفِرْ لِي ‏.‏ قَالَ اسْتَغْفِرْ لِي ‏.‏ قَالَ أَنْتَ أَحْدَثُ عَهْدًا بِسَفَرٍ صَالِحٍ فَاسْتَغْفِرْ لِي ‏.‏ قَالَ لَقِيتَ عُمَرَ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ فَاسْتَغْفَرَ لَهُ ‏.‏ فَفَطِنَ لَهُ النَّاسُ فَانْطَلَقَ عَلَى وَجْهِهِ ‏.‏ قَالَ أُسَيْرٌ وَكَسَوْتُهُ بُرْدَةً فَكَانَ كُلَّمَا رَآهُ إِنْسَانٌ قَالَ مِنْ أَيْنَ لأُوَيْسٍ هَذِهِ الْبُرْدَةُ
Usair b. Jabir reported that when people from Yemen came to help (the Muslim army at the time of jihad) he asked them:Is there amongst you Uwais b. 'Amir? (He continued finding him out) until he met Uwais. He said: Are you Uwais b., Amir? He said: Yes. He said: Are you from the tribe of Qaran? He said: Yes. He (Hadrat) 'Umar (again) said: Did you suffer from leprosy and then you were cured from it but for the space of a dirham? He said: Yes. He ('Umar) said: Is your mother (living)? He said: Yes. He ('Umar) said: I heard Allah's Messenger (ﷺ) say: There would come to you Uwais b. Amir with the reinforcement from the people of Yemen. (He would be) from Qaran, (the branch) of Murid. He had been suffering from leprosy from which he was cured but for a spot of a dirham. His treatment with his mother would have been excellent. If he were to take an oath in the name of Allah, He would honour that. And if it is possible for you, then do ask him to beg forgiveness for you (from your Lord). So he (Uwais) begged forgiveness for him. Umar said: Where do you intend to go? He said: To Kufa. He ('Umar) said: Let me write a letter for you to its governor, whereupon he (Uwais) said: I love to live amongst the poor people. When it was the next year, a person from among the elite (of Kufa) performed Hajj and he met Umar. He asked him about Uwais. He said: I left him in a state with meagre means of sustenance. (Thereupon) Umar said: I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: There would come to you Uwais b. 'Amir, of Qaran, a branch (of the tribe) of Murid, along with the reinforcement of the people of Yemen. He had been suffering from leprosy which would have been cured but for the space of a dirham. His treatment with his mother would have been very kind. If he would take an oath in the name of Allah (for something) He would honour it. Ask him to beg forgiveness for you (from Allah) in case it is possible for you. So he came to Uwais and said.: Beg forgiveness (from Allah) for me. He (Uwais) said: You have just come from a sacred journey (Hajj) ; you, therefore, ask forgiveness for me. He (the person who had performed Hajj) said: Ask forgiveness for me (from Allah). He (Uwais again) said: You have just come from the sacred journey, so you ask forgiveness for me. (Uwais further) said: Did you meet Umar? He said: Yes. He (Uwais) then begged forgiveness for him (from Allah). So the people came to know about (the status of religious piety) of Uwais. He went away (from that place). Usair said: His clothing consisted of a mantle, and whosoever saw him said: From where did Uwais get this mantle?
زرارہ بن اوفیٰ نے اُسیر بن جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس جب یمن سے مدد کے لوگ آتے ( یعنی وہ لوگ جو ہر ملک سے اسلام کے لشکر کی مدد کے لئے جہاد کرنے کو آتے ہیں ) تو وہ ان سے پوچھتے کہ تم میں اویس بن عامر بھی کوئی شخص ہے؟ یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خود اویس کے پاس آئے اور پوچھا کہ تمہارا نام اویس بن عامر ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم مراد قبیلہ کی شاخ قرن سے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ۔ انہوں نے پوچھا کہ تمہیں برص تھا وہ اچھا ہو گیا مگر درہم برابر باقی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تمہاری ماں ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ۔ تب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ تمہارے پاس اویس بن عامر یمن والوں کی کمکی فوج کے ساتھ آئے گا ، وہ قبیلہ مراد سے ہے جو قرن کی شاخ ہے ۔ اس کو برص تھا وہ اچھا ہو گیا مگر درہم باقی ہے ۔ اس کی ایک ماں ہے ۔ اس کا یہ حال ہے کہ اگر اللہ کے بھروسے پر قسم کھا بیٹھے تو اللہ تعالیٰ اس کو سچا کرے ۔ پھر اگر تجھ سے ہو سکے تو اس سے اپنے لئے دعا کرانا ۔ تو میرے لئے دعا کرو ۔ پس اویس نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے لئے بخشش کی دعا کی ۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم کہاں جانا چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ کوفہ میں ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں تمہیں کوفہ کے حاکم کے نام ایک خط لکھ دوں؟ انہوں نے کہا کہ مجھے خاکساروں میں رہنا اچھا معلوم ہوتا ہے ۔ جب دوسرا سال آیا تو ایک شخص نے کوفہ کے رئیسوں میں سے حج کیا ۔ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے اویس کا حال پوچھا تو وہ بولا کہ میں نے اویس کو اس حال میں چھوڑا کہ ان کے گھر میں اسباب کم تھا اور ( خرچ سے ) تنگ تھے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اویس بن عامر تمہارے پاس یمن والوں کے امدادی لشکر کے ساتھ آئے گا ، وہ مراد قبیلہ کی شاخ قرن میں سے ہے ۔ اس کو برص تھا وہ اچھا ہو گیا صرف درہم کے برابر باقی ہے ۔ اس کی ایک ماں ہے جس کے ساتھ وہ نیکی کرتا ہے ۔ اگر وہ اللہ پر قسم کھا بیٹھے تو اللہ تعالیٰ اس کو سچا کرے ۔ پھر اگر تجھ سے ہو سکے کہ وہ تیرے لئے دعا کرے تو اس سے دعا کرانا ۔ وہ شخص یہ سن کر اویس کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میرے لئے دعا کرو ۔ اویس نے کہا کہ تو ابھی نیک سفر کر کے آ رہا ہے ( یعنی حج سے ) میرے لئے دعا کر ۔ پھر وہ شخص بولا کہ میرے لئے دعا کر ۔ اویس نے یہی جواب دیا پھر پوچھا کہ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملا؟ وہ شخص بولا کہ ہاں ملا ۔ اویس نے اس کے لئے دعا کی ۔ اس وقت لوگ اویس کا درجہ سمجھے ۔ وہ وہاں سے سیدھے چلے ۔ اسیر نے کہا کہ میں نے ان کو ان کا لباس ایک چادر پہنائی جب کوئی آدمی ان کو دیکھتا تو کہتا کہ اویس کے پاس یہ چادر کہاں سے آئی ہے؟ ( وہ ایسے تھے کہ ایک مناسب چادر بھی ان کے پاس ہونا باعث تعجب تھا ۔)