وَحَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح قَالَ وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ، كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالأَسْوَدِ، أَنَّهُمَا دَخَلاَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ . بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ . وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ وَجَرِيرٍ فَلَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى اخْتِلاَفِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ رَاكِعٌ .
This hadith is narrated on the authority of Alqama and Aswad by another chain of transmitters and in the hadith transmitted by Ibn Mus-hir and Jabir the words are:" I perceive as if I am seeing the gap between the fingers of the Messenger of Allah (ﷺ) as he was bowing
یہ روایت بھی ایك دوسری سند سے اسی طرح مروی ہے سوائے ان الفاظ كے وَهُوَ رَاكِعٌ .
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لأَبِي بَكْرٍ كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَمَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلاَّ بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ " . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَاللَّهِ لأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلاَةِ وَالزَّكَاةِ فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالاً كَانُوا يُؤَدُّونَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهِ . فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلاَّ أَنْ رَأَيْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ .
It is narrated on the authority of Abu Huraira that when the Messenger of Allah (ﷺ) breathed his last and Abu Bakr was appointed as his successor (Caliph), those amongst the Arabs who wanted to become apostates became apostates. 'Umar b. Khattab said to Abu Bakr:Why would you fight against the people, when the Messenger of Allah declared: I have been directed to fight against people so long as they do not say: There is no god but Allah, and he who professed it was granted full protection of his property and life on my behalf except for a right? His (other) affairs rest with Allah. Upon this Abu Bakr said: By Allah, I would definitely fight against him who severed prayer from Zakat, for it is the obligation upon the rich. By Allah, I would fight against them even to secure the cord (used for hobbling the feet of a camel) which they used to give to the Messenger of Allah (as zakat) but now they have withheld it. Umar b. Khattab remarked: By Allah, I found nothing but the fact that Allah had opened the heart of Abu Bakr for (perceiving the justification of) fighting (against those who refused to pay Zakat) and I fully recognized that the (stand of Abu Bakr) was right
جناب عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جب رسول ا للہﷺ نے وفات پائی اور آپ کے بعد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے تو عربوں میں سے کافر ہونے والے کافر ہو گئے ( اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نےمانعین زکاۃ سے جنگ کا ارادہ کیا ) تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ ان لوگوں سے کیسے جنگ کریں گے جبکہ رسول ا للہ ﷺ فرما چکے ہیں : ’’ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑائی کروں یہاں تک کہ وہ لا اله الاالله کا اقرار کر لیں ، پس جو کوئی لا اله الا الله کا قائل ہو گیا ، اس نے میری طرف سے اپنی جان اور اپنا مال محفوظ کر لیا ، الا یہ کہ اس ( لا اله الا الله ) کا حق ہو ، اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہے ؟ ‘ ‘ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نےجواب دیا : اللہ کی قسم ! میں ان لوگوں سے جنگ کروں گا جو نماز او رزکاۃ میں فرق کریں گے ، کیونکہ زکاۃ مال ( میں اللہ ) کا حق ہے ۔ اللہ کی قسم ! اگر یہ لوگ ( اونٹ کا ) پاؤں باندھنے کی ایک رسی بھی روکیں گے ، جو وہ رسول اللہ ﷺ کو دیا کرتے تھے تو میں اس کے روکنے پر بھی ان سے جنگ کروں گا ۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا : اللہ کی قسم ! اصل بات اس کےسوا اور کچھ نہیں کہ میں نے دیکھا اللہ تعالیٰ نےحضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سینہ جنگ کے لیے کھول دیا ، تو میں جان گیا کہ حق یہی ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ نَادَى بِالصَّلاَةِ فِي لَيْلَةٍ ذَاتِ بَرْدٍ وَرِيحٍ وَمَطَرٍ فَقَالَ فِي آخِرِ نِدَائِهِ أَلاَ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ أَلاَ صَلُّوا فِي الرِّحَالِ . ثُمَّ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَأْمُرُ الْمُؤَذِّنَ إِذَا كَانَتْ لَيْلَةٌ بَارِدَةٌ أَوْ ذَاتُ مَطَرٍ فِي السَّفَرِ أَنْ يَقُولَ أَلاَ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ .
Ibn 'Umar reported that he summoned (people) to pray on a cold, windy and rainy night, and then observed at the end of the Adhin:Pray in your dwellings, pray in your dwellings, and then said: When it was a cold night or it was raining in a journey the Messenger of Allah (may peace he upon him) used to command the Mu'adhdhin to announce: Pray in your dwellings
(محمد بن عبداللہ بن نمیر نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے میرے والد نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں عبیداللہ نے حدیث سنائی ، کہا : مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہ انھوں نے سردی ، ہوا اور بارش و الی ایک رات میں اذان دی اور اذان کے آخر میں کہا : " سنو! اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ لو ، سنو! ٹھکانوں میں نماز پڑھو ، " پھر کہا : جب سفر میں رات سرد یا بارش والی ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موذن کو یہ کہنے کا حکم دیتے " أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِکُم ) " سنو!اپنی قیام گاہوں میں نماز پڑھ لو ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، الأَشْجَعِيِّ عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالاَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَضَلَّ اللَّهُ عَنِ الْجُمُعَةِ مَنْ كَانَ قَبْلَنَا فَكَانَ لِلْيَهُودِ يَوْمُ السَّبْتِ وَكَانَ لِلنَّصَارَى يَوْمُ الأَحَدِ فَجَاءَ اللَّهُ بِنَا فَهَدَانَا اللَّهُ لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ فَجَعَلَ الْجُمُعَةَ وَالسَّبْتَ وَالأَحَدَ وَكَذَلِكَ هُمْ تَبَعٌ لَنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ نَحْنُ الآخِرُونَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا وَالأَوَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمَقْضِيُّ لَهُمْ قَبْلَ الْخَلاَئِقِ " . وَفِي رِوَايَةِ وَاصِلٍ الْمَقْضِيُّ بَيْنَهُمْ .
It is narrated by Abu Huraira and Huraira that the Messenger of Allah (ﷺ) said:It was Friday from which Allah diverted those who were before us. For the Jews (the day set aside for prayer) was Sabt (Saturday), and for the Christians it was Sunday. And Allah turned towards us and guided us to Friday (as the day of prayer) for us. In fact, He (Allah) made Friday, Saturday and Sunday (as days of prayer). In this order would they (Jews and Christians) come after us on the Day of Resurrection. We are the last of (the Ummahs) among the people in this world and the first among the created to be judged on the Day of Resurrection. In one narration it is: ', to be judged among them
ابو کریب اور واصل بن عبدالاعلیٰ نے کہا : ہم سے ابن فضیل نے ابومالک اشجعی ( سعد بن طارق ) سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو حازم سے اورانھوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، نیز انھوں ( ابو مالک ) نے ربعی بن حراش سے اور انھوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، ان دونوں ( صحابیوں ) نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جو لوگ ہم سے پہلے تھے اللہ تعالیٰ نے انھیں جمعہ کی راہ سے ہٹادیا ، اس لئے یہود کے لئے ہفتے کا دن ہوگیا اور نصاریٰ کے لئے اتوار کا دن ۔ پھراللہ تعالیٰ نے ہمیں ( اس دنیا میں لایا ) اور جمعے کے دن کی طرف ہماری راہنمائی فرمادی ۔ اس نے جمعہ پھر ہفتہ پھر اتوار رکھا ( جس طرح وہ عبادت کے دنوں میں ہم سے پیچھے ہیں ) اسی طرح قیامت کے دن بھی ہم سے پیچھے ہوں گے ۔ اہل دنیا میں سے ہم سب کے بعد ہیں اور قیامت کےدن سب سے پہلے ہوں گے ۔ جن کا فیصلہ ( باقی ) مخلوقات سے پہلے کردیا جائے گا ۔ "" واصل کی روایت میں ( المقضي لهم کی جگہ ) المقضي بينهم ( جن کے درمیان فیصلہ ) ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ ذُكِرَ عِنْدَ عَائِشَةَ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، يَرْفَعُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ " . فَقَالَتْ وَهَلَ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّهُ لَيُعَذَّبُ بِخَطِيئَتِهِ أَوْ بِذَنْبِهِ وَإِنَّ أَهْلَهُ لَيَبْكُونَ عَلَيْهِ الآنَ " . وَذَاكَ مِثْلُ قَوْلِهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَامَ عَلَى الْقَلِيبِ يَوْمَ بَدْرٍ وَفِيهِ قَتْلَى بَدْرٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ لَهُمْ مَا قَالَ " إِنَّهُمْ لَيَسْمَعُونَ مَا أَقُولُ " . وَقَدْ وَهَلَ إِنَّمَا قَالَ " إِنَّهُمْ لَيَعْلَمُونَ أَنَّ مَا كُنْتُ أَقُولُ لَهُمْ حَقٌّ " . ثُمَّ قَرَأَتْ { إِنَّكَ لاَ تُسْمِعُ الْمَوْتَى} { وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ} يَقُولُ حِينَ تَبَوَّءُوا مَقَاعِدَهُمْ مِنَ النَّارِ .
Hisham narrated on the authority of his father that it was mentioned to 'A'isha that Ibn 'Umar had narrated as marfu' hadith from the Messenger of Allah (ﷺ) that the dead would be punished in the grave because of the lamentation of his family for him. Upon this she said:He (Ibn 'Umar) missed (the point). The Messenger of Allah (ﷺ) had (in fact) said: He (the dead) is punished for his faults or for his sins, and the members of his family are wailing for him now. (This misunderstanding of Ibn 'Umar is similar to his saying: ) The Messenger of Allah (ﷺ) stood by the well in which were lying the dead bodies of those polytheists who had been killed on the Day of Badr, and he said to them what he had to say, i. e.: They hear what I say. But he (Ibn 'Umar) misunderstood. The Prophet (ﷺ) had only said: They (the dead) understand that what I used to say to them was truth. She then recited:" Certainly, thou canst not make the dead hear the call" (xxvii. 80), nor can you make those hear who are in the graves, nor can you inform them when they have taken their seats in Hell
ابو اسامہ نے ہشام سے اور انھوں نے اپنے والد ( عروہ ) سے روایت کی انھوں نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس اس بات کا ذکر کیا گیا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً یہ بیان کرتے ہیں میت کو اس کی قبر میں اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب دیا جا تا ہے ۔ " انھوں نے کہا : وہ ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) بھول گئے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فر ما یا تھا : " اس ( مرنےوالے ) کو اس کی غلطی یا گناہ کی وجہ سے عذاب دیا جا رہا ہے اور اس کے گھر والے اب اسی وقت اس پر رورہے ہیں اور یہ ( بھول ) ان ( اعبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کی اس روا یت کے مانند ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے دب اس کنویں ( کے کنارے ) پر کھڑے ہو ئے جس بدر میں قتل ہو نے والے مشرکوں کی لا شیں تھیں تو آپ نے ان سے جو کہنا تھا کہا ( اور فرمایا : " اب ) جو میں کہہ رہا ہوں وہ اس کو بخوبی سن رہے ہیں ۔ حالا نکہ ( اس بات میں بھی ) وہ بھول گئے آپ نے تو فر ما یا تھا : " یہ لو گ بخوبی جانتے ہیں کہ میں ان سے ( دنیامیں ) جو کہاکرتا تھا وہ حق تھا ۔ " پھر انھوں ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے ( یہ آیتیں پڑھیں ) " اور بے شک تو مردوں کو نہیں سنا سکتا ۔ " اور تو ہر گز انھیں سنانے والا نہیں جو قبروں میں ہیں ( گویا ) آپ یہ کہہ رہے ہیں : جبکہ وہ آگ میں اپنے ٹھکانے بنا چکے ہیں ( اور وہ اچھی طرح جان چکے ہیں کہ جو ان سے کہا گیا تھا وہی سچ ہے یعنی ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان دو روایتوں کا اصل بیان محفوظ نہیں رکھ سکے ۔)
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرًا، حَدَّثَهُ عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " إِذَا لَمْ يُؤَدِّ الْمَرْءُ حَقَّ اللَّهِ أَوِ الصَّدَقَةَ فِي إِبِلِهِ " . وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ .
This hadith has been narrated by Abu Huraira through another chain of transmitters:The Messenger of Allah (ﷺ) said:" When a person does not pay what is due to Allah or Sadaqa of his camels...." The rest of the hadith is the same
روح بن قاسم نے کہا : ہمیں سہیل بن ابی صالح نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اورعقصاء ( مرے ہوئے سینگوں والی ) کے بجائےعضباء ( ٹوٹے ہوئے سینگوں والی ) کہا : اور اس کے زریعے سے اس کا پہلو اور اس کی پشت داغی جائے گی " کہا اور پیشانی کا ذکر نہیں کیا ۔
وَحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، - رضى الله عنه - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا " . عَشْرًا وَعَشْرًا وَتِسْعًا مَرَّةً .
Muhammad b. Sa'd reported on the authority of his father (Sa'd b. Abi Waqqas (Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) had said:Tho month is thus and thus, and thus, i. e. ten, ten and nine
زائدہ ، اسماعیل ، حضرت محمد بن سعد اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مہینہ اس طرح اور اس طرح اور اس طرح سے ہوتا ہے دس اور دس اور نو مرتبہ ۔
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّأَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ - رضى الله عنهما - قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَكِبَ رَاحِلَتَهُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ثُمَّ يُهِلُّ حِينَ تَسْتَوِي بِهِ قَائِمَةً
Abdullah b. 'Umar reported:I saw the Messenger of Allah (ﷺ) riding on his camel at Dhu'l-Hulaifa and pronouncing Talbiya as it stood up with him
سالم بن عبد اللہ نے خبر دی کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں نے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آل ذوالحلیفہ میں اپنی سواری پر سوار ہو ئے ۔ پھر سواری آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی تو آپ تلبیہ پکا ر نے لگے ۔
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، قَامَ بِمَكَّةَ فَقَالَ إِنَّ نَاسًا - أَعْمَى اللَّهُ قُلُوبَهُمْ كَمَا أَعْمَى أَبْصَارَهُمْ - يُفْتُونَ بِالْمُتْعَةِ - يُعَرِّضُ بِرَجُلٍ - فَنَادَاهُ فَقَالَ إِنَّكَ لَجِلْفٌ جَافٍ فَلَعَمْرِي لَقَدْ كَانَتِ الْمُتْعَةُ تُفْعَلُ عَلَى عَهْدِ إِمَامِ الْمُتَّقِينَ - يُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - فَقَالَ لَهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ فَجَرِّبْ بِنَفْسِكَ فَوَاللَّهِ لَئِنْ فَعَلْتَهَا لأَرْجُمَنَّكَ بِأَحْجَارِكَ . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي خَالِدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ بْنِ سَيْفِ اللَّهِ أَنَّهُ بَيْنَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ رَجُلٍ جَاءَهُ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَاهُ فِي الْمُتْعَةِ فَأَمَرَهُ بِهَا فَقَالَ لَهُ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ الأَنْصَارِيُّ مَهْلاً . قَالَ مَا هِيَ وَاللَّهِ لَقَدْ فُعِلَتْ فِي عَهْدِ إِمَامِ الْمُتَّقِينَ . قَالَ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ إِنَّهَا كَانَتْ رُخْصَةً فِي أَوَّلِ الإِسْلاَمِ لِمَنِ اضْطُرَّ إِلَيْهَا كَالْمَيْتَةِ وَالدَّمِ وَلَحْمِ الْخِنْزِيرِ ثُمَّ أَحْكَمَ اللَّهُ الدِّينَ وَنَهَى عَنْهَا . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَأَخْبَرَنِي رَبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ أَنَّ أَبَاهُ قَالَ قَدْ كُنْتُ اسْتَمْتَعْتُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم امْرَأَةً مِنْ بَنِي عَامِرٍ بِبُرْدَيْنِ أَحْمَرَيْنِ ثُمَّ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمُتْعَةِ . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَسَمِعْتُ رَبِيعَ بْنَ سَبْرَةَ يُحَدِّثُ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَأَنَا جَالِسٌ .
Urwa b. Zabair reported that 'Abdullah b. Zubair (Allah be pleased with him) stood up (and delivered an address) in Mecca saying:Allah has made blind the hearts of some people as He has deprived them of eyesight that they give religious verdict in favour of temporary marriage, while he was alluding to a person (Ibn 'Abbas). Ibn Abbas called him and said: You are an uncouth person, devoid of sense. By my life, Mut'a was practised during the lifetime of the leader of the pious (he meant Allah's Messenger, may peace be upon him), and Ibn Zubair said to him: just do it yourselves, and by Allah, if you do that I will stone you with your stones. Ibn Shihab said. Khalid b. Muhajir b. Saifullah informed me: While I was sitting in the company of a person, a person came to him and he asked for a religious verdict about Mut'a and he permitted him to do it. Ibn Abu 'Amrah al-Ansari (Allah be pleased with him) said to him: Be gentle. It was permitted in- the early days of Islam, (for one) who was driven to it under the stress of necessity just as (the eating of) carrion and the blood and flesh of swine and then Allah intensified (the commands of) His religion and prohibited it (altogether). Ibn Shihab reported: Rabi' b. Sabra told me that his father (Sabra) said: I contracted temporary marriage with a woman of Banu 'Amir for two cloaks during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) ; then he forbade us to do Mut'a. Ibn Shihab said: I heard Rabi' b. Sabra narrating it to Umar b. 'Abd al-'Aziz and I was sitting there
مجھے یونس نے خبر دی کہ ابن شہاب نے کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ مکہ میں کھڑے ہوئے ، اور کہا : بلاشبہ کچھ لوگ ہیں ، اللہ نے ان کے دلوں کو بھی اندھا کر دیا ہے جس طرح ان کی آنکھوں کو اندھا کیا ہے ۔ وہ لوگوں کو متعہ ( کے جواز ) کا فتویٰ دیتے ہیں ، وہ ایک آدمی ( حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ) پر تعریض کر رہے تھے ، اس پر انہوں نے ان کو پکارا اور کہا : تم بے ادب ، کم فہم ہو ، میری عمر قسم! بلاشبہ امام المتقین کے عہد میں ( نکاح ) متعہ کیا جاتا تھا ۔ ۔ ان کی مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی ۔ ۔ تو ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : تم خود اپنے ساتھ اس کا تجربہ کر ( دیکھو ) ، بخدا! اگر تم نے یہ کام کیا تو میں تمہارے ( ہی ان ) پتھروں سے ( جن کے تم مستحق ہو گے ) تمہیں رجم کروں گا ۔ ابن شہاب نے کہا : مجھے خالد بن مہاجر بن سیف اللہ نے خبر دی کہ اس اثنا میں جب وہ ان صاحب ( ابن عباس رضی اللہ عنہ ) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، ایک آدمی ان کے پاس آیا اور متعہ کے بارے میں ان سے فتویٰ مانگا تو انہوں نے اسے اس ( کے جواز ) کا حکم دیا ۔ اس پر ابن ابی عمرہ انصاری رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : ٹھہریے! انہوں نے کہا : کیا ہوا؟ اللہ کی قسم! میں نے امام المتقین صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں کیا ہے ۔ ابن ابی عمرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : بلاشبہ یہ ( ایسا کام ہے کہ ) ابتدائے اسلام میں ایسے شخص ے لئے جو ( حالات کی بنا پر ) اس کے لئے مجبور کر دیا گیا ہو ، اس کی رخصت تھی جس طرح ( مجبوری میں ) مردار ، خون اور سور کے گوشت ( کے لیے ) ہے ، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو محکم کیا اور اس سے منع فرما دیا ۔ ابن شہاب نے کہا : مجھے ربیع بن سبرہ جہنی نے بتایا کہ ان کے والد نے کہا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بنو عامر کی ایک عورت سے دو سرخ ( کی پیش کش ) پر متعہ کیا تھا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں متعہ سے منع فرما دیا ۔ ابن شہاب نے کہا : میں نے ربیع بن سبرہ سے سنا ، وہ یہی حدیث عمر بن عبدالعزیز سے بیان کر رہے تھے اور میں ( اس مجلس میں ) بیٹھا ہوا تھا ۔
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، قَالَ أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ، تَقُولُ . بِمِثْلِهِ .
Ahadith like this is transmitted by 'A'isha through another chain of narrators
عبدالوہاب نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : میں نے یحییٰ بن سعید سے سنا ، انہوں نے کہا : مجھے عمرہ نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ کہہ رہی تھیں ۔ ۔ ( آگے ) اسی کے مانند ( ہے)
وَحَدَّثَنَاهُ الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . نَحْوَهُ .
The above hadith has likewise been narrated through another chain
(عبداللہ ) بن مبارک نے کہا : ہمیں عاصم نے اسی سند سے اسی کے ہم معنی خبر دی
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، - يَعْنِي الْعَقَدِيَّ - حَدَّثَنَا قُرَّةُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنِ اشْتَرَى شَاةً مُصَرَّاةً فَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ فَإِنْ رَدَّهَا رَدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ طَعَامٍ لاَ سَمْرَاءَ ".
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:lie who buys a goat having its udder tied up has the option to return it within three days. If he returns it he should pay a sa' of dates. Wheat is not essential
قرہ نے ہمیں محمد ( بن سیرین ) سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے دودھ روکی ہوئی بھیڑ ( یا بکری ) خرید لی تو اسے تین دن تک اختیار ہے ۔ اگر وہ اسے واپس کرے تو اس کے ساتھ غلے کا ایک صاع بھی واپس کرے ، گندم کا نہیں
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ، حِرَاشٍ أَنَّ حُذَيْفَةَ، حَدَّثَهُمْ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَلَقَّتِ الْمَلاَئِكَةُ رُوحَ رَجُلٍ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَقَالُوا أَعَمِلْتَ مِنَ الْخَيْرِ شَيْئًا قَالَ لاَ . قَالُوا تَذَكَّرْ . قَالَ كُنْتُ أُدَايِنُ النَّاسَ فَآمُرُ فِتْيَانِي أَنْ يُنْظِرُوا الْمُعْسِرَ وَيَتَجَوَّزُوا عَنِ الْمُوسِرِ - قَالَ - قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَجَوَّزُوا عَنْهُ " .
Hudhaifa reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying The angels took away the soul of a person who had lived among people who were before you. They (the angels) said:Did you do anything good? He said: No. they said: Try to recall. He said: I used to lend to people and order my servants to give respite to one in straitened circumstances and give allowance to the solvent, for Allah, the Exalted and Majestic, said (to the angels): You should ignore (his failing)
منصور نے ہمیں ربعی بن حراش سے حدیث بیان کی کہ حضرت حذیفہ ( بن یمان رضی اللہ عنہ ) نے انہیں حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک آدمی کی روح کا فرشتوں نے استقبال کیا تو انہوں نے پوچھا : " کیا تو نے کوئی نیکی کی ہے؟ اس نے کہا : نہیں ، انہوں نے کہا : یاد کر ، اس نے کہا : میں ( دنیا میں ) لوگوں کے ساتھ قرض کا معاملہ کرتا تو اپنے خادموں کو حکم دیتا تھا کہ وہ تنگدست کو مہلت دیں اور خوشحال سے نرمی برتیں ۔ ( انہوں نے ) کہا : اللہ عزوجل نے فرمایا ہے : ( تم بھی ) اس کے ساتھ نرمی کا سلوک کرو ۔
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي، كَثِيرٍ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ بِمِثْلِهِ .
Jabir b. 'Abdullah reported a hadith like this through another chain of transmitters
معاذ بن ہشام نے ہمیں حدیث بیان کی : مجھے میرے والد نے یحییٰ بن ابی کثیر سے حدیث بیان کی : ہمیں ابوسلمہ بن عبدالرحمان نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ۔ ۔ اسی کی مانند
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ - وَاللَّفْظُ لأَبِي الرَّبِيعِ - قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ - حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ لِسُلَيْمَانَ سِتُّونَ امْرَأَةً فَقَالَ لأَطُوفَنَّ عَلَيْهِنَّ اللَّيْلَةَ فَتَحْمِلُ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ فَتَلِدُ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ غُلاَمًا فَارِسًا يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَمْ تَحْمِلْ مِنْهُنَّ إِلاَّ وَاحِدَةٌ فَوَلَدَتْ نِصْفَ إِنْسَانٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْ كَانَ اسْتَثْنَى لَوَلَدَتْ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ غُلاَمًا فَارِسًا يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " .
Abu Huraira reported that (Hadrat) Sulaiman had sixty wives. He (one day) said:I will visit each one of them every night, and every one of them will become pregnant and give birth to a male child who will be a horseman and fight in the cause of Allah. But (it so happened) that none of them became pregnant except one, but she gave birth to an incomplete child. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Had he said Insha' Allah (if God so wills), then every one of them would have given birth to a child who would have been a horseman and fought in the cause of Allah
محمد ( بن سیرین ) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت سلیمان علیہ السلام کی ساٹھ بیویاں تھیں ، انہوں نے کہا : ( واللہ ) آج رات میں ان سب کے پاس جاؤں گا تو ان میں سے ہر بیوی حاملہ ہو گی اور ہر بیوی ( ایک شہسوار ) بچے کو جنم دے گی ، جو اللہ کی راہ میں لڑائی کرے گا ۔ تو ایک کے سوا ان میں سے کوئی حاملہ نہ ہوئی اور اس نے بھی ادھورے ( ناقص الخلقت ) بچے کو جنم دیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر وہ ان شاءاللہ کہتے تو ان میں سے ہر بیوی شہسوار بچے کو جنم دیتی جو اللہ کی راہ میں لڑائی کرتا
وَحَدَّثَنَاهُ عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
This hadith has been narrated on the authority of Juraij with the same chain of transmitters
اسماعیل بن ابراہیم نے ابن جریج سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . مِثْلَ مَعْنَاهُ . وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْعَشِيِّ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ " أَمَّا بَعْدُ فَمَا بَالُ أَقْوَامٍ إِذَا غَزَوْنَا يَتَخَلَّفُ أَحَدُهُمْ عَنَّا لَهُ نَبِيبٌ كَنَبِيبِ التَّيْسِ " . وَلَمْ يَقُلْ " فِي عِيَالِنَا " .
Dawud narrated the hadith with the same chain of transmitters (and the words are):Allah's Apostle (ﷺ) stood tip (to address the audience) in the evening and praised Allah, glorified Him and then said: What about the people, that as we set out on an expedition, one of you remained behind us and he shrieked like the bleating of a male goat? But he did not mention (these words): People connected with us
یزید بن زریع نے کہا : ہمیں داود نے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی اور انہوں نے حدیث میں کہا : شام کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، اللہ کی حمد اور ثنا بیان کی ، پھر فرمایا : " اما بعد! لوگوں کا کیا حال ہے؟ جب ہم جہاد کے لیے جاتے ہیں تو ان میں سے کوئی شخص پیچھے رہ جاتا ہے ، وہ نسل کشی کے بکرے کی طرح آوازیں نکالتا ہے ۔ ۔ " انہوں ( یزید بن زریع ) نے " ہمارے اہل و عیال میں " کے الفاظ نہیں کہے
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو، بْنُ دِينَارٍ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قِيلَ لَهُ لَوْ أَنَّ خَيْلاً أَغَارَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَأَصَابَتْ مِنْ أَبْنَاءِ الْمُشْرِكِينَ قَالَ " هُمْ مِنْ آبَائِهِمْ " .
Sa'b b. Jaththama has narrated that the Prophet (ﷺ) asked:What about the children of polytheists killed by the cavalry during the night raid? He said: They are from them
عمرو بن دینار نے مجھے خبر دی کہ انہیں ابن شہاب نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے خبر دی ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اگر کچھ گھڑ سوار رات کو دھاوا بولیں اور مشرکوں کے ( ساتھ ان کے کچھ ) بیٹوں کو ( بھی ) قتل کر دیں ( تو گناہ تو نہیں ہے؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ اپنے آباء ہی میں سے ہیں
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، أَنَّ عَائِذَ بْنَ عَمْرٍو، - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - دَخَلَ عَلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ فَقَالَ أَىْ بُنَىَّ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ شَرَّ الرِّعَاءِ الْحُطَمَةُ فَإِيَّاكَ أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ " . فَقَالَ لَهُ اجْلِسْ فَإِنَّمَا أَنْتَ مِنْ نُخَالَةِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم . فَقَالَ وَهَلْ كَانَتْ لَهُمْ نُخَالَةٌ إِنَّمَا كَانَتِ النُّخَالَةُ بَعْدَهُمْ وَفِي غَيْرِهِمْ .
It has been narrated on the authority of Hasan that A'idh b. 'Amr who was one of the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ) called on 'Ubaidullah b. Ziyad and said (to him):O my son, I have heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: The worst of guardians is the cruel ruler. Beware of being one of them. Ubaidullah said (to him out of arrogance): Sit you down. You are from the chaff of the Companions of Muhammad (ﷺ). A'idh said: Was there worthless chaff among them? Such worthless chaff appeared after them and among other people
حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے بتایا کہ عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے ، عبیداللہ بن زیاد کے پاس گئے اور فرمایا : میرے بیٹے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " بدترین راعی ، سخت گیر اور ظلم کرنے والا ہوتا ہے ، تم اس سے بچنا کہ تم ان میں سے ہو ۔ " اس نے کہا : آپ بیٹھیے : آپ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے چھلنی میں بچ جانے والے آخری حصے کی طرح ہیں ۔ ( آخر میں چونکہ تنکے ، پتھر ، بھوسی بچ جاتے ہیں ، اس لیے ) انہوں نے کہا : کیا ان میں بھوسی ، تنکے ، پتھر تھے؟ یہ تو ان کے بعد ہوئے اور ان کے علاوہ دوسروں میں ہوئے
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ - قَالَ سَمِعْتُ وَهْبَ بْنَ كَيْسَانَ، يَقُولُ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَرِيَّةً أَنَا فِيهِمْ إِلَى سِيفِ الْبَحْرِ . وَسَاقُوا جَمِيعًا بَقِيَّةَ الْحَدِيثِ كَنَحْوِ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ وَأَبِي الزُّبَيْرِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ فَأَكَلَ مِنْهَا الْجَيْشُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ لَيْلَةً .
Jabir b. Abdullah reported that Allah's Messenger (ﷺ) sent an expedition to the sea coast and I was one among them. The rest of the hadith is the same with a slight variation of wording that in the hadith transmitted on the authority of Wahb b. Kaisan (the words are):" The army ate out of that (the whale) for eighteen days
ولید بن کثیر نے کہا : میں نے وہب بن کیسان کو کہتے ہوئے سنا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سناکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساحل سمندر کی جانب ایک لشکر روانہ فرمایا ، میں بھی اس لشکر میں تھا ۔ جس طرح عمرو بن دینار اور ابو زبیر کی حدیث ہے ، البتہ وہب بن کیسان کی روایت میں ہے کہ لشکر نے اٹھارہ دن تک اس ( بڑی مچھلی ) کا گوشت کھایا ۔
وَحَدَّثَنِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ الْحَدِيثَ إِلَى آخِرِهِ بِتَمَامِهِ وَقَالَ فِيهِ وَلَيْسَتْ مَعَنَا مُدًى أَفَنَذْبَحُ بِالْقَصَبِ
This hadith has been narrated on the authority of Sa'id b. Masruq with the same chain of transmitters with a slight variation of words
زائدہ نے سعید بن مسروق سے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث آخر تک پوری بیان کی اور اس میں کہا ( ہم نے عرض کی : ) ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں تو کیا ہم بانسوں ( کی کچھیوں ) سے جانور ذبح کرلیں ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا أَبَانٌ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ خَلِيطِ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ وَعَنْ خَلِيطِ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ وَعَنْ خَلِيطِ الزَّهْوِ وَالرُّطَبِ وَقَالَ " انْتَبِذُوا كُلَّ وَاحِدٍ عَلَى حِدَتِهِ " .
Abdullah b. Abu Qatada, on the authority of his father, reported Allah's Apostle (ﷺ) forbidding the preparation of the mixture of ripe dates and unripe dates, and the mixture of grapes and dates, and that of nearly ripe dates and fresh dates but the Prophet said:Prepare the Nabidh from each one of them separately
۔ ابان عطار نے کہا : ہمیں یحییٰ بن ابی کثیر نے حدیث بیان کی کہا : مجھے عبد اللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے والد سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( نبیذبنا نے کے لیے ) خشک بدلتی اور تازہ کھجوروں کو اور رنگ بدلتی اور تازہ کھجوروں کو ملا نے سے منع کیا اور فر ما یا : " ہر جنس کی الگ الگ نبیذ بناؤ ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، وَأَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا - مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، أَنَّ عُمَرَ، بْنَ الْخَطَّابَ خَطَبَ بِالْجَابِيَةِ فَقَالَ نَهَى نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ إِلاَّ مَوْضِعَ إِصْبَعَيْنِ أَوْ ثَلاَثٍ أَوْ أَرْبَعٍ .
Suwaid b. Ghafala said:'Umar addressed us at a place known as Jabiya (Syria) and he said: Allah's Apostle (ﷺ) forbade us the wearing of silk but to the extent of two or three fingers or four fingers
معاذ کے والد ہشام نےقتادہ سے ، انھوں نے عامر شعبی سے روایت کی ، انھوں نے حضرت سوید بن غفلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نے جابیہ میں خطبہ دیا اور کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم پہننے سے منع فرمایا ، سوائے دو یا تین یا چار انگلیوں ( کی پٹی ) کے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ، أَنَّهَا حَمَلَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ قَالَتْ فَخَرَجْتُ وَأَنَا مُتِمٌّ، فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَنَزَلْتُ بِقُبَاءٍ فَوَلَدْتُهُ بِقُبَاءٍ ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَوَضَعَهُ فِي حَجْرِهِ ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَةٍ فَمَضَغَهَا ثُمَّ تَفَلَ فِي فِيهِ فَكَانَ أَوَّلَ شَىْءٍ دَخَلَ جَوْفَهُ رِيقُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ حَنَّكَهُ بِالتَّمْرَةِ ثُمَّ دَعَا لَهُ وَبَرَّكَ عَلَيْهِ وَكَانَ أَوَّلَ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِي الإِسْلاَمِ .
Asma' reported that she had become pregnant at Mecca with Abdullah b. Zubair (in her womt) and she (further) said:I set out (for migration to Medina) as I was in the advanced stage of pregnancy. I came to Medina and got down at the place known as Quba' and gave birth to a child there. Then I came to Allah's Messenger (may peace he upon him). He placed him (the child) in his lap and then commanded for the dates to be brought. He chewed them and then put the saliva in his mouth. The first thing which went into his stomach was the saliva of Allah's Messenger (ﷺ). He then rubbed his palate with dates and then invoked blessings for him and blessed him. He was the first child who was born in Islam (after Migration)
ابو اسامہ نے ہشام سے ، انھوں نے ا پنے والد سے ، انھوں نے حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ وہ مکہ میں حاملہ ہوئیں ، حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے پیٹ میں تھے ، حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہاکہ جب میں ( مکہ سے ) نکلی تو میں پورے دنوں سے تھی ، پھر میں مدینہ آئی اورقباء میں ٹھہری اور قباء میں نے اسے ( عبداللہ ) کو جنم دیا ، پھر میں ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ نے اسے اپنی گود میں لے لیا ، پھر آپ نے کھجور منگوائی ، اسے چبایا ۔ پھر اپنا لعاب دہن اس کے منہ میں ڈال دیا ، پہلی چیز جو اس کے پیٹ میں گئی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کالعاب دہن تھا ، پھر آپ نے ( چبائی ہوئی ) کھجور کی گھٹی اس کے تالو کولگائی ، پھر میں کے لئے دعا کی ، برکت مانگی ، ( ہجرت مدینہ کے بعد ) یہ پہلا بچہ تھا جو اسلام میں پیدا ہوا ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُوتِرْ " .
Jabir b. 'Abdullah reported that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) say:When anyone wipes himself with pebbles (after answering the call of nature) he should do this odd number of times
ابو زبیر نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کو سنا ، کہہ رہے تھے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’تم میں سے کوئی شخص جب ٹھوس چیز سے استنجا کرے تو طاق عدد میں کرے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ مَعَ إِحْدَى نِسَائِهِ فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ فَدَعَاهُ فَجَاءَ فَقَالَ " يَا فُلاَنُ هَذِهِ زَوْجَتِي فُلاَنَةُ " . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ كُنْتُ أَظُنُّ بِهِ فَلَمْ أَكُنْ أَظُنُّ بِكَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ " .
Anas reported that when Allah's Messenger (ﷺ) was in the company of one of his wives a person happened to pass by them. He called him and when he came, he said to him:0 so and so, she was my such and such wife. Thereupon he said, Allah's Messenger, if I were to doubt at all, I would have entertained no doubt about you at least. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Verily Satan circulates in the body like blood
ثابت بنانی نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( گھرسے باہر ) اپنی ایک اہلیہ کے ساتھ تھے ، آپ کے پا س سے ایک شخص گزرا تو آپ نے اسے بلالیا ، جب وہ آیا تو آپ نے فرمایا؛ " اے فلاں!یہ میری فلاں بیوی ہے ۔ " اس شخص نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کسی کے بارے میں گمان کرتا بھی تو آپ کے بارے میں تو نہیں کرسکتا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے ۔
حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، أَوْ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلاً، أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلاً أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَرَى اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ ظُلَّةً تَنْطِفُ السَّمْنَ وَالْعَسَلَ فَأَرَى النَّاسَ يَتَكَفَّفُونَ مِنْهَا بِأَيْدِيهِمْ فَالْمُسْتَكْثِرُ وَالْمُسْتَقِلُّ وَأَرَى سَبَبًا وَاصِلاً مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الأَرْضِ فَأَرَاكَ أَخَذْتَ بِهِ فَعَلَوْتَ ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِكَ فَعَلاَ ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلاَ ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَانْقَطَعَ بِهِ ثُمَّ وُصِلَ لَهُ فَعَلاَ . قَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَاللَّهِ لَتَدَعَنِّي فَلأَعْبُرَنَّهَا . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اعْبُرْهَا " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَمَّا الظُّلَّةُ فَظُلَّةُ الإِسْلاَمِ وَأَمَّا الَّذِي يَنْطِفُ مِنَ السَّمْنِ وَالْعَسَلِ فَالْقُرْآنُ حَلاَوَتُهُ وَلِينُهُ وَأَمَّا مَا يَتَكَفَّفُ النَّاسُ مِنْ ذَلِكَ فَالْمُسْتَكْثِرُ مِنَ الْقُرْآنِ وَالْمُسْتَقِلُّ وَأَمَّا السَّبَبُ الْوَاصِلُ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الأَرْضِ فَالْحَقُّ الَّذِي أَنْتَ عَلَيْهِ تَأْخُذُ بِهِ فَيُعْلِيكَ اللَّهُ بِهِ ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِكَ فَيَعْلُو بِهِ ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَيَعْلُو بِهِ ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَيَنْقَطِعُ بِهِ ثُمَّ يُوصَلُ لَهُ فَيَعْلُو بِهِ . فَأَخْبِرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ أَصَبْتُ أَمْ أَخْطَأْتُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَصَبْتَ بَعْضًا وَأَخْطَأْتَ بَعْضًا " . قَالَ فَوَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَتُحَدِّثَنِّي مَا الَّذِي أَخْطَأْتُ قَالَ " لاَ تُقْسِمْ " .
It is reported either on the authority of Ibn `Abbas or on the authority of Abu Huraira that a person came to Allah's Messenger (ﷺ) and said:Allah's Messenger, I saw while I was sleeping during the night (this vision) that there was a canopy from which butter and honey were trickling and I also saw people collecting them in the palms of their hands, some more, some less, and I also saw a rope connecting the earth with the sky and I saw you catching hold of it and rising towards the heaven; then another person after you catching hold of it and rising towards (Heaven); then another person catching hold of it, but it was broken while it was rejoined for him and he also climbed up. Abu Bakr said: Allah's Messenger, may my father be sacrificed for you, by Allah, allow me to interpret it. Allah's Messenger (ﷺ) said: Well, give its interpretation. Thereupon Abu Bakr said: The canopy signifies the canopy of Islam and that what trickles out of it in the form of butter and honey is the Holy Qur'an and its sweetness and softness and what the people get hold of it in their palms implies major portion of the Qur'an or the small portion; and so far as the rope joining the sky with the earth is concerned, it is the Truth by which you stood (in the worldly life) and by which Allah would raise you (to Heaven). Then the person after you would take hold of it and he would also climb up with the help of it. Then another person would take hold of it and climb up with the help of it. Then another person would take hold of it and it would be broken; then it would be rejoined for him and he would climb up with the help of it. Allah's Messenger, may my father be taken as a ransom for you, tell me whether I have interpreted it correctly or I have made an error. Allah's Messenger (ﷺ) said: You have interpreted a part of it correctly and you have erred in interpreting a part of it. Thereupon he said: Allah's Messenger, by Allah, tell me that part where I have committed an error. Thereupon he said: Don't take an oath
محمد بن حرب نے یونس زبیدی سے روایت کی ، انھوں نےکہا : مجھے زہری نے عبیداللہ بن عبداللہ سے خبر دی کہ ابن عباس یا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حدیث سنایا کرتے تھے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اور ابن وہب نے ہمیں خبر دی ، کہا : مجھے یونس ( زبید ) نے ابن شہاب سے خبر دی کہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے انھیں بغیر شک کےبتایا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ حدیث بیان کیا کرتے تھے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ! میں نے رات کو خواب میں دیکھا کہ بادل کے ٹکڑے سے گھی اور شہد ٹپک رہا ہے ، لوگ اس کو اپنے لپوں سے لیتے ہیں کوئی زیادہ لیتا ہے اور کوئی کم ۔ اور میں نے دیکھا کہ آسمان سے زمین تک ایک رسی لٹکی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو پکڑ کر اوپر چڑھ گئے ۔ پھر آپ کے بعد ایک شخص نے اس کو تھاما ، وہ بھی چڑھ گیا ۔ پھر ایک اور شخص نے تھاما وہ بھی چڑھ گیا ۔ پھر ایک اور شخص نے تھاما تو وہ ٹوٹ گئی ، پھر جڑ گئی اور وہ بھی اوپر چلا گیا ۔ یہ سن کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! میرا باپ آپ پر قربان ہو مجھے اس کی تعبیر بیان کرنے دیجئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا بیان کر ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ بادل کا ٹکڑا تو اسلام ہے اور گھی اور شہد سے قرآن کی حلاوت اور نرمی مراد ہے اور لوگ جو زیادہ اور کم لیتے ہیں وہ بھی بعضوں کو بہت قرآن یاد ہے اور بعضوں کو کم اور وہ رسی جو آسمان سے زمین تک لٹکی ہے وہ دین حق ہے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ پھر اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی دین پر اپنے پاس بلا لے گا آپ کے بعد ایک اور شخص ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ ) اس کو تھامے گا وہ بھی اسی طرح چڑھا جائے گا پھر اور ایک شخص تھامے گا اور اس کا بھی یہی حال ہو گا ۔ پھر ایک اور شخص تھامے گا تو کچھ خلل پڑے گا لیکن وہ خلل آخر مٹ جائے گا اور وہ بھی چڑھ جائے گا ۔ یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں مجھ سے بیان فرمائیے کہ میں نے ٹھیک تعبیر بیان کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو نے کچھ ٹھیک کہا کچھ غلط کہا ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم یا رسول اللہ! آپ بیان کیجئے کہ میں نے کیا غلطی کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قسم مت کھا ۔
وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ يَعْقُوبَ .
This hadith has been narrated on the authority of Abu Sa'id Khudri through another chain of transmitters
ابو اسامہ نے ابو حازم سے ، انھوں نے سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سےاور ( دوسری سند کے ساتھ ابو حازم نے ) نعمان بن ابی عیاش سے ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یعقوب ( بن عبدالرحمان القاری ) کی حدیث کے مانند بیا ن کیا ۔
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا حَسَنٌ، الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنِي وَقَالَ، حَسَنٌ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ - حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، بْنِ زَيْدٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ سَعْدًا قَالَ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدَهُ نِسَاءٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُكَلِّمْنَهُ وَيَسْتَكْثِرْنَهُ عَالِيَةً أَصْوَاتُهُنَّ فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ عُمَرُ قُمْنَ يَبْتَدِرْنَ الْحِجَابَ فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَضْحَكُ فَقَالَ عُمَرُ أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " عَجِبْتُ مِنْ هَؤُلاَءِ اللاَّتِي كُنَّ عِنْدِي فَلَمَّا سَمِعْنَ صَوْتَكَ ابْتَدَرْنَ الْحِجَابَ " . قَالَ عُمَرُ فَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ يَهَبْنَ . ثُمَّ قَالَ عُمَرُ أَىْ عَدُوَّاتِ أَنْفُسِهِنَّ أَتَهَبْنَنِي وَلاَ تَهَبْنَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قُلْنَ نَعَمْ أَنْتَ أَغْلَظُ وَأَفَظُّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا لَقِيَكَ الشَّيْطَانُ قَطُّ سَالِكًا فَجًّا إِلاَّ سَلَكَ فَجًّا غَيْرَ فَجِّكَ " .
Sa'd b. Waqqas reported that Umar sought permission from Allah's Messenger (ﷺ) to visit him when some women of the Quraish were busy in talking with him and raising their voices above his Voiee. When'Umar sought permission they stood up and went hurriedly behind the curtain. Allah's Messenger (ﷺ) gave him permission smilingly. Thereupon 'Umar said:Allah's Messenger, may Allah keep you happy all your life. Then Allah's Messenger (ﷺ) said: I wonder at these women who were with me and no sooner did they hear your voice, they immediately went behind the curtain. Thereupon 'Umar said: Allah's Messenger, you have more right that they should fear you. Then Umar (addressing the women) said: O ye enemies of yourselves, do you fear me and fear not the Messenger of Allah (ﷺ)? They said: Yes, you are harsh and strict as compared to the Messenger of Allah (ﷺ). Thereupon, Allah's Messenger (maypeace be upon him) said: By Him in Whose Hand is my life, if satan would encounter you in the way he would certainly take a different way from that of yours
ابرا ہیم بن سعد نے صالح سے ، انھوں نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے عبد الحمید بن عبد الرحمٰن بن زید نے بتا یا کہ انھیں محمد بن سعد بن ابی وقاص نے خبر دی ، ان کے والد سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضری کی اجازت طلب کی ، اس وقت قریش کی کچھ خواتین آپ کے پاس ( بیٹھی ) آپ سے گفتگو کر رہی تھیں ، بہت بول رہی تھیں ، ان کی آوازیں بھی اونچی تھیں ، جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اجازت مانگی تو وہ کھڑی ہو کر جلدی سے پردے میں جا نے لگیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےان کو اجازت دی ، آپ اس وقت ہنس رہے تھے ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعا لیٰ آپ کے دندان مبارک کو مسکراتا رکھے!اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " میں ان عورتوں پر حیران ہوں جو میرے پاس بیٹھی ہو ئی تھیں تمھا ری آواز سنی تو فوراً پردے میں چلی گئیں ۔ " حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ کا زیادہ حق ہے کہ یہ آپ سے ڈریں پھر حضرت عمر کہنے لگے ۔ اپنی جان کی دشمنو!مجھ سے ڈرتی ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ڈرتی ہو؟ان عورتوں نے کہا : ہاں تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سخت اور درشت مزاج ہو ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جا ن ہے!جب کبھی شیطان تمھیں کسی راستے میں چلتے ہو ئے ملتا ہے تو تمھا را راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ح وَحَدَّثَنَا حَاجِبُ، بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، وَمُحَمَّدُ، بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِإِسْنَادِ مَالِكٍ وَمِثْلِ حَدِيثِهِ إِلاَّ قَوْلَهُ " فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا " . فَإِنَّهُمْ جَمِيعًا قَالُوا فِي حَدِيثِهِمْ غَيْرَ مَالِكٍ " فَيَصُدُّ هَذَا وَيَصُدُّ هَذَا " .
This hadith has been transmitted on the authority of Zuhri with a slight variation of wording (and the words are):" The one turning away and the other turning away when they meet and one avoids the other and the other also avoids him
سفیان ، یونس ، ( محمد بن ولید ) زبیدی اور معمر سب نے زہری سے مالک کی سند کے ساتھ ، اس قول کے سوا " یہ بھی منہ موڑ لے اور وہ بھی منہ موڑ لے " انہی کی حدیث کے مانند روایت کی ، مگر مالک بن انس کے سوا سب نے اپنی حدیث میں یہ الفاظ کہے : " یہ بھی اُس کی طرف نہ دیکھے ، وہ بھی اس کی طرف نہ دیکھے ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، - وَاللَّفْظُ لإِسْحَاقَ - قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَشْبَهَ بِاللَّمَمِ مِمَّا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ حَظَّهُ مِنَ الزِّنَى أَدْرَكَ ذَلِكَ لاَ مَحَالَةَ فَزِنَى الْعَيْنَيْنِ النَّظَرُ وَزِنَى اللِّسَانِ النُّطْقُ وَالنَّفْسُ تَمَنَّى وَتَشْتَهِي وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ أَوْ يُكَذِّبُهُ " . قَالَ عَبْدٌ فِي رِوَايَتِهِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ .
Abu Huraira reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:Verily Allah has fixed the very portion of adultery which a man will indulge in, and which he of necessity must commit. The adultery of the eye is the lustful look, and the adultery of the tongue is the licentious speech, the heart desires and yearns, which the parts may or may not put into effect
ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " ابن آدم کے متعلق زنا میں سے اس کا حصہ لکھ دیا گیا ہے ۔ وہ لا محالہ اس کو حاصل کرنے والا ہے ، پس دونوں آنکھیں ، ان کا زنا دیکھنا ہے اور دونوں کان ، ان کا زنا سننا ہے اور زبان ، اس کا زنا بات کرنا ہے اور ہاتھ ، اس کا زنا پکڑنا ہے اور پاؤں ، اس کا زنا چل کر جانا ہے اور دل تمنا رکھتا ہے اور خواہش کرتا ہے اور شرم گاہ ان تمام باتوں کی تصدیق کرتی ہے ( اسے عملا سچ کر دکھاتی ہے اور حرام کا ارتکاب ہو جاتا ہے ) یا اس کی تکذیب کرتی ہے ( حقیقی زنا سے بچاؤ ہو جاتا ہے ۔)
حَدَّثَنَاهُ عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، بِهَذَا الإِسْنَادِ إِلَى قَوْلِهِ " وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ " . وَلَمْ يَذْكُرِ الزِّيَادَةَ .
This hadith has been narrated on the authority of Humaid with the same chain of transmitters, but with a slight variation of wording
خالد بن حارث نے کہا : ہمیں حمید نے اسی سند کے ساتھ دعا کے ان الفاظ تک حدیث بیان کی : " ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا " اور اس سے اضافی بات بیان نہیں کی ۔
وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ قَالَ لِي أَبِي حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، كِلاَهُمَا عَنْ قَتَادَةَ، ذَكَرُوا جَمِيعًا بِإِسْنَادِ شُعْبَةَ نَحْوَ حَدِيثِهِ وَفِي حَدِيثِ شَيْبَانَ وَأَبِي عَوَانَةَ " أَنَّ رَجُلاً مِنَ النَّاسِ رَغَسَهُ اللَّهُ مَالاً وَوَلَدًا " . وَفِي حَدِيثِ التَّيْمِيِّ " فَإِنَّهُ لَمْ يَبْتَئِرْ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا " . قَالَ فَسَّرَهَا قَتَادَةُ لَمْ يَدَّخِرْ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا . وَفِي حَدِيثِ شَيْبَانَ " فَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا ابْتَأَرَ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا " . وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ " مَا امْتَأَرَ " . بِالْمِيمِ .
This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the chain of transmitters but with a slight variation of wording and Qatada explained the word" lam yasiru" as:" I find no good in store for rxie in the eye of Allah
سلیمان ، شیبان بن عبدالرحمٰن اور ابوعوانہ سب نے قتادہ سے شعبہ کی سند کے ساتھ اسی کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔ شیبان اور ابوعوانہ کی حدیث میں یہ الفاظ ہیں : "" لوگوں میں سے ایک آدمی کو اللہ تعالیٰ نے بہت مال اور اولاد سے نوازا ۔ "" اور تمیمی کی حدیث میں ہے : "" اس نے اللہ کے پاس کوئی اچھائی جمع نہ کرائی "" کہا کہ قتادہ نے اس کی یہ تشریح کی : اس نے اللہ کے پاس کوئی اچھائی ذخیرہ نہ کی ۔ اور شیبان کی حدیث میں ہے : "" بےشک اس نے ، اللہ کی قسم! اللہ کے ہاں کوئی نیکی محفوظ نہ کرائی ۔ "" اور ابوعوانہ کی حدیث میں ہے : "" اس نے کچھ جمع نہ کیا "" امتار میم کے ساتھ ( یہ سب بولنے میں بھی ملتے جلتے الفاظ ہیں اور معنی میں بھی ۔)
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، حَدَّثَهُمْ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ حَدَّثَتْ أَنَّهَا، سَأَلَتْ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا رَأَتْ ذَلِكِ الْمَرْأَةُ فَلْتَغْتَسِلْ " . فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ وَاسْتَحْيَيْتُ مِنْ ذَلِكَ قَالَتْ وَهَلْ يَكُونُ هَذَا فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَعَمْ فَمِنْ أَيْنَ يَكُونُ الشَّبَهُ إِنَّ مَاءَ الرَّجُلِ غَلِيظٌ أَبْيَضُ وَمَاءَ الْمَرْأَةِ رَقِيقٌ أَصْفَرُ فَمِنْ أَيِّهِمَا عَلاَ أَوْ سَبَقَ يَكُونُ مِنْهُ الشَّبَهُ " .
Anas b. Malik reported that Umm Sulaim narrated it that she asked the Messenger of Allah (ﷺ) about a woman who sees in a dream what a man sees (sexual dream). The Messenger of Allah (may peace be upon bi m) said:In case a woman sees that, she must take a bath. Umm Sulaim said: I was bashful on account of that and said: Does it happen? Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) said: Yes (it does happen), otherwise how can (a child) resemble her? Man's discharge (i. e. sperm) is thick and white and the discharge of woman is thin and yellow; so the resemblance comes from the one whose genes prevail or dominate
قتادہ سےروایت ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث سنائی کہ ام سلیم ؓ نے ( انہیں ) بتایا کہ انہوں نے نبی اکرمﷺ سے ایسی عورت کے بارے میں پوچھا جونیند میں وہی چیز دیکھتی ہے جو مرد دیکھتا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب عورت یہ چیز دیکھے تو غسل کرے ۔ ‘ ‘ ام المومنین حضرت ام سلمہ ؓ نے فرمایا : میں اس بات پر شرما گئی ۔ ( پھر ) آپ بولیں : کیا ایسا بھی ہوتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ہاں ، ( ورنہ ) پھر مشابہت کیسے پیدا ہوتی ہے ؟مرد کا پانی گاڑھا سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی پتلا اور زرد ہوتا ہے ، ان دونوں میں سے جس ( کے حصے ) کو غلبہ مل جائے یا ( نئی تشکیل میں ) سبقت لے جائے تو اسی سے ( بچے کی ) مشابہت ہوتی ہے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا بِهِ أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ طُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا فَلَمَّا خَلَقَهُ قَالَ اذْهَبْ فَسَلِّمْ عَلَى أُولَئِكَ النَّفَرِ وَهُمْ نَفَرٌ مِنَ الْمَلاَئِكَةِ جُلُوسٌ فَاسْتَمِعْ مَا يُجِيبُونَكَ فَإِنَّهَا تَحِيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ ذُرِّيَّتِكَ قَالَ فَذَهَبَ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ فَقَالُوا السَّلاَمُ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ - قَالَ - فَزَادُوهُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ - قَالَ - فَكُلُّ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ آدَمَ وَطُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا فَلَمْ يَزَلِ الْخَلْقُ يَنْقُصُ بَعْدَهُ حَتَّى الآنَ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Allah, the Exalted and Glorious, created Adam in His image with His length of sixty cubits, and as He created him He told him to greet that group, and that was a party of angels sitting there, and listen to the response that they give him, for it would form his greeting and that of his offspring. He then went away and said: Peace be upon you! They (the angels) said: May there be peace upon you and the Mercy of Allah, and they made an addition of" Mercy of Allah". So he who would get into Paradise would get in the form of Adam, his length being sixty cubits, then the people who followed him continued to diminish in size up to this day
ہمام بن منبہ سے روایت ہے انھوں نے کہا : یہ وہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ان میں سے ( ایک ) یہ ہے کہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ عزوجل نے حضرت آدم علیہ السلام کو اپنی ( پسندیدہ ) صورت پر پیدا فرمایا ، ان کا قد ساٹھ ہاتھ تھا جب ان کو تخلیق فرمالیا تو فرمایا : جائیں اور اس ( سامنے والی ) جماعت کو سلام کہیں ۔ اور وہ فرشتوں کی جماعت ہے جو بیٹھے ہوئے ہیں اور جس طرح وہ آپ کو سلام کہیں اسے غور سے سنیں ، وہی آپ کا اور آپ کی اولاد کا سلام ہو گا ۔ فرمایا وہ گئے اور کہا : السلام عليك انھوں نے ( جواب میں ) کہا : السلام عليك ورحمة الله فرمایا : انھوں نےان ( آدم علیہ السلام ) کے لیے ورحمة الله کا اضافہ کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہر وہ شخص جو جنت میں داخل ہو گا آدم علیہ السلام کی ( اسی ) صورت پر ہوگا اور ان کی قامت ( جنت میں ) ساٹھ ہاتھ تھی پھر ان کے بعد آج تک ( ان کی اولاد کی ) خلقت چھوٹی ہوتی رہی ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters
وہب بن جریر نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ { أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ} قَالَ كَانَ نَفَرٌ مِنَ الْجِنِّ أَسْلَمُوا وَكَانُوا يُعْبَدُونَ فَبَقِيَ الَّذِينَ كَانُوا يَعْبُدُونَ عَلَى عِبَادَتِهِمْ وَقَدْ أَسْلَمَ النَّفَرُ مِنَ الْجِنِّ .
Abdullah b. Mas'ud reported in connection with the words of Allah, the Exalted and Glorious:" Those to whom they call upon, themselves seek the means or access to their Lord as to whoever of them becomes nearest" (xvii. 57) that it related to a party of Jinn who were being worshipped and they embraced Islam but those who worshipped them kept on worshipping them (though the Jinn whom the misguided people worshipped had become Muslims). It was then that this verse was revealed
عبداللہ بن ادریس نے اعمش سے ، انھوں نے ابراہیم سے ، انھوں نے ابو معمر سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان کے متعلق روایت کی : " وہ لوگ جنھیں یہ ( کافر ) پکارتے ہیں وہ خود اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں کہ ان میں سے کو ن زیادہ نزدیک ہوگا ۔ " ( ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : جنوں کی ایک جماعت مسلمان ہوگئی تھی اور ( اس سے پہلے ) ان کی پوجاکی جاتی تھی ، تو جو ان کی عبادت کیاکرتے تھے ، ان کی عبادت پرقائم رہے جبکہ جنوں کی یہ جماعت خود اسلام لے آئی ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاَةِ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ أَبِي هُرَيْرَةَ . إِنِّي أَشْبَهُكُمْ صَلاَةً بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Ibn al-Harith reported:He had heard Abu Huraira say: The Messenger of Allah (ﷺ) recited takbir on standing for prayer, and the rest of the hadith is like that transmitted by Ibn Juraij (recorded above), but he did not mention Abu Huraira as saying:" My prayer has the best resemblance amongst you with the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ)
عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے ابو بکر بن عبد الرحمن بن حارث نے بتایا کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو کھڑے ہوتے وقت تکبیر کہتے ...... آگے ابن جریج کی حدیث کی طرح ہے اور ( عقیل نے ) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ قول کہ میں نماز میں تم سب کی نسبت رسول اللہﷺ سے زیادہ مشابہ ہوں ، بیان نہیں کیا ۔