حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ وَكِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ مُتَوَشِّحًا . وَلَمْ يَقُلْ مُشْتَمِلاً .
This hadith has been narrated by Hisham b. 'Urwa with the same chain of transmitters except (with this difference) that the word mutawashshihan was used and not the word mushtamilan
۔ وکیع نے ہشام بن عروہ کی مذکورہ بالا سند سے حدیث سنائی ، ہاں یہ فرق ہے کہ اس نے متوشحا کہا مشتملا نہ کہا
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لَهُمَا - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أَثْقَلَ صَلاَةٍ عَلَى الْمُنَافِقِينَ صَلاَةُ الْعِشَاءِ وَصَلاَةُ الْفَجْرِ وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلاَةِ فَتُقَامَ ثُمَّ آمُرَ رَجُلاً فَيُصَلِّيَ بِالنَّاسِ ثُمَّ أَنْطَلِقَ مَعِي بِرِجَالٍ مَعَهُمْ حُزَمٌ مِنْ حَطَبٍ إِلَى قَوْمٍ لاَ يَشْهَدُونَ الصَّلاَةَ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ بِالنَّارِ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The most burdensome prayers for the hypocrites are the night prayer and the morning prayer. If they were to know the blessings they have in store, they would have come to them, even though crawling, and I thought that I should order the prayer to be commenced and command a person to lead people in prayer, and I should then go along with some persons having a fagot of fuel with them to the people who have not attended the prayer (in congregation) and would burn their houses with fire
ابو صالح نےحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’منافقوں کے لیے سب سے بھاری نماز عشاء اور فجر کی نماز ہے ، اگر ان لوگوں کو پتہ چل جائے ، جو ان میں ( خیرو برکت ) ہے تو چاہے انھیں گھٹنوں کے بل چل کر آنا پڑے ، ضرور آئیں ۔ اور میں نے سوچاتھا کہ نماز کی اقامت کا حکم دو ں ، پھر کسی شخص کو کہوں وہ لوگوں کو جماعت کرائے ، پھر میں کچھ اشخاص کو ساتھ لے کر ، جن کے پاس لکڑیوں کے گٹھے ہوں ، ان لوگوں کی طرف جاؤں جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے ، پھر ان کے گھروں کو ان پر آگ سے جلا دو ں ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا أَبَانٌ الْعَطَّارُ، جَمِيعًا عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . وَفِي حَدِيثِهِمَا مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ اللَّهَ جَزَّأَ الْقُرْآنَ ثَلاَثَةَ أَجْزَاءٍ فَجَعَلَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ جُزْءًا مِنْ أَجْزَاءِ الْقُرْآنِ " .
This hadith has been narrated by Qatada with the same chain of transmitters in these words:He (the Messenger of Allah) said: Allah divided the Qur'an into three parts, and he made:" Say: He, Allah is One." one part out of the (three) parts of the Qur'an
سعید بن ابی عروبہ اور ابان عطار نے قتادہ سے اسی سابقہ سند کے ساتھ روایت کی ، ان دونوں ( سعید اور ابان ) کی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے تین اجزاء ( حصے ) کئے ہیں اور قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ کو قرآن کے اجزاء میں سے ایک جز قرار دیاہے ۔
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّأَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ قَالَ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ لَيْسَ بَيْنَهُمَا سَجْدَةٌ وَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلاَثَ رَكَعَاتٍ وَصَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ . فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُصَلِّي بِجَمْعٍ كَذَلِكَ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ تَعَالَى .
Ubaidullah b. 'Abdullah b. 'Umar reported on the authority of his father (Allah be pleased with them) that Allah's Messenger (ﷺ) combined the sunset and 'Isha', prayers at Muzdalifa and there was no prostration (i. e. any rak'ahs of Sunan or Nawafil prayers) in between them. He observed three rak'ahs of the sunset prayer and two rak'ahs of the 'Isha' prayer, and 'Abdullah (b. 'Umar) observed the prayers in this very manner (at Muzdalifa) until he met his Lord
عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر نے خبر دی کہ ان کے والد نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کیں ، ان دونوں کے درمیان کوئی ( نفل ) نماز نہ تھی ۔ آپ نے مغرب کی تین رکعتیں ادا کیں اور عشاء کی دو رکعتیں ادا کیں ۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی مزدلفہ میں اسی طرح نماز پڑھتے رہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ " فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ عَلَى عَرْشٍ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ " .
Yahya b Abi Kathir has reported this hadith with the same chain of transmitters and narrated:And there he was sitting on the Throne between the heaven and the earth
علی بن مبارک نے بھی یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا : ’’ تو وہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ تَبْلُغُ مِائَةَ سَنَةٍ " . فَقَالَ سَالِمٌ تَذَاكَرْنَا ذَلِكَ عِنْدَهُ إِنَّمَا هِيَ كُلُّ نَفْسٍ مَخْلُوقَةٍ يَوْمَئِذٍ .
Jabir b. 'Abdullah reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:None amongst the created beings (from my Companions) would survive after one hundred years. Salim said: We made a mention of it to him (Jabir), whereupon he said: It means those who had been living on that day
حصین نے سالم سے ، انھوں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " ( آج ) سانس لیتا ہوا شخص سو سال ( کی مدت ) تک نہیں پہنچےگا ۔ " سالم نے کہا : ہم نے ان ( حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے سامنے اس کے بارے میں گفتگو کی اس سے مراد ہر وہ شخص ہے جو اس وقت پیدا ہو چکا تھا ۔