حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ح قَالَ وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، وَحَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي، سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
A hadith like this has been narrated by Abu Huraira with another chain of transmitters
۔ یونس اور عقیل بن خالد دونوں نے ابن شہاب ( زہری ) سے ، انہوں نے سعید بن مسیب اور ابو سلمہ سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے سابقہ حدیث کے مانند روایت بیان کی
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " صَلاَةُ الرَّجُلِ فِي الْجَمَاعَةِ تَزِيدُ عَلَى صَلاَتِهِ وَحْدَهُ سَبْعًا وَعِشْرِينَ " .
Ibn 'Umar reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:The prayer of a person in congregation is twenty-seven times in excess to the prayer said alone
یحییٰ نے عبید اللہ سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے خبر دی ، انھوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : ’’آدمی کی جماعت کے ساتھ نماز اسکی اکیلے پڑھی گئی ستائیس نمازوں سے بڑھ کر ہے
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ، بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ حَفِظَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ الْكَهْفِ عُصِمَ مِنَ الدَّجَّالِ "
Abu Darda' reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:If anyone learns by heart the first ten verses of the Surah al-Kahf, he will be protected from the Dajjal
معاذ بن ہشام نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے قتادہ سے ، انھوں نے سالم بن ابی جعد غطفانی سے ، انھوں نے معدان بن ابی طلحہ یعمری سے اور انھوں نے حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس ( مسلمان ) نے سورہ کہف کی پہلی دس آیات حفظ کرلیں ، اسے دجال کے فتنے سے محفوظ کرلیا گیا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، جَمِيعًا عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، - قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سُئِلَ أُسَامَةُ وَأَنَا شَاهِدٌ، أَوْ قَالَ سَأَلْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرْدَفَهُ مِنْ عَرَفَاتٍ قُلْتُ كَيْفَ كَانَ يَسِيرُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ قَالَ كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ .
Hisham (Allah be pleased with him) reported from his father:Usama (Allah be pleased with him) was asked in my presence or I asked Usama b. Zaid andhe rode behind Allah's Messenger (ﷺ) as he came back from 'Arafat. I said (to him): How did Allah's Messenger (ﷺ) journey as he came back from 'Arafat? Thereupon he said: He made it (his riding camel) walk at a slow speed, and when he found an open space, he made it walk briskly
ہمیں حماد بن زید نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں ہشام نے اپنے والد ( عروہ ) سے حدیث بیا ن کی ، انھوں نے کہا : حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا گیااور میں موجود تھا ۔ یا کہا : میں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات سے ( واپسی پر ) انھیں اپنے ساتھ پیچھے سوار کیا تھا ۔ میں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عرفہ سے لوٹے تو آپ کیسے چل رہے تھے؟کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم درمیانے درجے کی تیز رفتاری سے چلتے تھے ، جب کشادہ جگہ پاتے تو ( سواری کو ) تیز دوڑاتے ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي يُونُسُ، قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيَّ، - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُحَدِّثُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ فَتْرَةِ الْوَحْىِ - قَالَ فِي حَدِيثِهِ " فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَاءِ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ جَالِسًا عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ " قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَجُئِثْتُ مِنْهُ فَرَقًا فَرَجَعْتُ فَقُلْتُ زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي . فَدَثَّرُونِي فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى { يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ * قُمْ فَأَنْذِرْ * وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ * وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ * وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ} وَهِيَ الأَوْثَانُ قَالَ ثُمَّ تَتَابَعَ الْوَحْىُ .
Jabir b. 'Abdullah al-Ansari who was one of the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ) reportedThe Messenger of Allah (ﷺ) told about the intermission of revelation and narrated While I was walking I heard a voice from the sky, and raising my head I saw the angel who had come to me in Hira', sitting on a Throne between heaven and earth I was terror-stricken on that account and came back (to my family) and said:Wrap me up, wrap me up! So they wrapped me up, and the Blessed and Most Exalted Allah sent down:" You who are shrouded, arise and deliver warning, your Lord magnify, your clothes cleanse, and defilement shun," and" defilement" means idols; and then the revelation was followed continuously
یونس نے ( اپنی سند کے ساتھ ) ابن شہاب سے بیان کیا ، انہوں نے کہا : مجھے ابو سلمہ بن عبد الرحمن بن عوف نے خبر دی کہ حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہ جو اللہ کے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے تھے ، یہ حدیث سنایا کرتے تھے ، کہا : وقفہ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اس دوران میں جب میں چل رہا تھا ، میں نے آسمان سے ایک آواز سنی ، اس پر میں اپنا سر اٹھایا تو اچانک ( دیکھا ) وہی فرشتہ تھا جومیرے پاس غار حراء میں آیاتھا ، آسمان و زمین کے درمیان کرسی پر بیٹھا تھا ۔ ‘ ‘ آپ نے فرمایا : ’’ اس کے خوف کی وجہ سے مجھ پر گھبراہٹ طاری ہو گئی اور میں گھر واپس آگیا اور کہا : مجھے کپڑا اوڑھاؤ ، مجھے کپڑا اوڑھاؤ تو انہوں ( گھر والوں ) نے مجھے کمبل اوڑھا دیا ۔ ‘ ‘ اس پر اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ آیات اتاریں : ’’ اے اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے اٹھو اور خبردار کرواور اپنے رب کی بڑائی کا اعلان کرو ۔ اور اپنے کپڑے پاک رکھو ۔ اور گندگی سے دور رہیے ۔ ‘ ‘ اور اس ( الرجزیعنی گندگی ) سے مراد بت ہیں ۔ فرمایا : پھر وحی مسلسل نازل ہونے لگی ۔
حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ قَبْلَ مَوْتِهِ بِشَهْرٍ .
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Juraij with the same chain of transmitters, but there is no mention of the words:" one month before his death
ابن جریج نے اسی سند کے ساتھ ہمیں خبر دی اور اس بات کا ذکر نہیں کیا کہ ( آپ نے ) اپنی وفات سے ایک ماہ قبل ( یہ ارشاد فرمایا تھا ۔)