حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ الْهَمْدَانِيُّ أَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، وَعَلْقَمَةَ، قَالاَ أَتَيْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فِي دَارِهِ فَقَالَ أَصَلَّى هَؤُلاَءِ خَلْفَكُمْ فَقُلْنَا لاَ . قَالَ فَقُومُوا فَصَلُّوا . فَلَمْ يَأْمُرْنَا بِأَذَانٍ وَلاَ إِقَامَةٍ - قَالَ - وَذَهَبْنَا لِنَقُومَ خَلْفَهُ فَأَخَذَ بِأَيْدِينَا فَجَعَلَ أَحَدَنَا عَنْ يَمِينِهِ وَالآخَرَ عَنْ شِمَالِهِ - قَالَ - فَلَمَّا رَكَعَ وَضَعْنَا أَيْدِيَنَا عَلَى رُكَبِنَا - قَالَ - فَضَرَبَ أَيْدِيَنَا وَطَبَّقَ بَيْنَ كَفَّيْهِ ثُمَّ أَدْخَلَهُمَا بَيْنَ فَخِذَيْهِ - قَالَ - فَلَمَّا صَلَّى قَالَ إِنَّهُ سَتَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يُؤَخِّرُونَ الصَّلاَةَ عَنْ مِيقَاتِهَا وَيَخْنُقُونَهَا إِلَى شَرَقِ الْمَوْتَى فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ قَدْ فَعَلُوا ذَلِكَ فَصَلُّوا الصَّلاَةَ لِمِيقَاتِهَا وَاجْعَلُوا صَلاَتَكُمْ مَعَهُمْ سُبْحَةً وَإِذَا كُنْتُمْ ثَلاَثَةً فَصَلُّوا جَمِيعًا وَإِذَا كُنْتُمْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَلْيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ وَإِذَا رَكَعَ أَحَدُكُمْ فَلْيَفْرِشْ ذِرَاعَيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ وَلْيَجْنَأْ وَلْيُطَبِّقْ بَيْنَ كَفَّيْهِ فَلَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى اخْتِلاَفِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَرَاهُمْ .
Al-Aswad and 'Alqama reported:We came to the house of 'Abdullah b. Mas'ud. He said: Have these people said prayer behind you? We said: No. He said: Then stand up and say prayer. He neither ordered us to say Adhan nor Iqama. We went to stand behind him. He caught hold of our hands and mode one of us stand on his right hand and the other on his left side. When we bowed, we placed our hands on our knees. He struck our hands and put his hands together, palm to palm, then put them between his thighs. When he completed the prayer he said. There would soon come your Amirs, who would defer prayers from their appointed time and would make such delay that a little time is left before sunset. So when you see them doing so, say prayer at its appointed time and then say prayer along with them as (Nafl), and when you are three, pray together (standing in one row), and when you are more than three, appoint one amongst you as your Imam. And when any one of you bows he must place his hands upon hie thighs and kneel down. and putting his palms together place (them within his thighs). I perceive as if I am seeing the gap between the fingers of the Messenger of Allah (may peace he upon him)
ابو معاویہ نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابراہیم سے اور انہوں نے اسود اور علقمہ سے روایت کی ، ان دونوں نے کہا : ہم عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو وہ پوچھنے لگے : جو ( حکمران اور ان کے ساتھ تاخیر سے نماز پڑھنے والے ان کے پیروکار ) تم سے پیچھے ہیں ، انہوں نے نماز پڑھ لی ہے؟ ہم نے عرض کی : نہیں ۔ انہوں نے کہا : اٹھو اور نماز پڑھو ۔ انہوں نے ہمیں اذان اور اقامت کہنے کا حکم نہ دیا ہم ان کے پیچھے کھڑے ہونے لگے تو انہوں نے ہمارے ہاتھ پکڑ کر ایک کو اپنے دائیں اور دوسرے کو اپنے بائیں طرف کر دیا ۔ جب انہوں نے رکوع کیا تو ہم نے اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھے ، انہوں نے ہمارے ہاتھوں پر ہلکا سا مارا اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو جوڑ کر اپنی دونوں رانوں کے درمیان رکھ لیا ۔ انہوں نے جب نماز پڑھ لی تو کہا : یقیناً آیندہ تمہارے ایسے حکمران ہوں گے جو نمازوں کو ان کے اوقات سے مؤخر کر یں گے اور ان کے اوقات کو مرنے والوں کو آخری جھلملاہٹ کی طرح تنگ کر دیں گے ۔ جب تم ان کو دیکھو کہ انہوں نے یہ ( کام شروع ) کر لیا ہے تو تم ( ہر ) نماز اس وقت کے پر پڑھ لینا اور ان کے ساتھ اپنی نماز کو نفل بنا لینا ۔ اور جب تم تین آدمی ہو تو اکٹھے کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور جب تم تین زیادہ ہو تو تم میں سے ایک امام بن جائے اور جب تم میں سے کوئی رکوع کرے تو اپنے بازو اپنی رانوں پر پھیلا دے اور جھکے اور اپنی ہتھیلیاں جوڑ لے ، ( ایسا لگتا ہے ) جیسے میں ( اب بھی ) رسول اللہ ﷺ کی ( ایک دوسری میں ) پیوستہ انگلیوں کو دیکھ رہا ہوں ۔ اور ( انگلیاں پیوست کر کے ) انہیں دکھائیں ۔
حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، - وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ - عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ قَالَ " إِنَّكَ تَقْدَمُ عَلَى قَوْمٍ أَهْلِ كِتَابٍ فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ عِبَادَةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِذَا عَرَفُوا اللَّهَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِهِمْ وَلَيْلَتِهِمْ فَإِذَا فَعَلُوا فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ زَكَاةً تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ فَإِذَا أَطَاعُوا بِهَا فَخُذْ مِنْهُمْ وَتَوَقَّ كَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ " .
It is narrated on the authority of Ibn 'Abbas that when the Messenger of Allah (ﷺ) sent Mu'adh towards Yemen (as governor) he said to him:Verily you would reach a community of the people of the Book, the very first thing to which you should call them is the worship of Allah, may His Glory be Magnificent, and when they become fully aware of Allah, instruct them that He has enjoined five prayers on them during the day and the night, and when they begin observing it, then instruct them that verily Allah has made Zakat obligatory for them which would be collected from the wealthy amongst them and distributed to their needy ones, and when they submit to it, then collect it from them and avoid (the temptation) of selecting the best (items) of their riches
اسماعیل بن امیہ نے یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی سے ، انہوں نے ابو معبد سے ا ور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جب رسول اللہ ﷺ نے معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تو فرمایا : ’’تم ایک قوم کے پاس جاؤ گے ( جو ) اہل کتاب ہیں ۔ تو سب سے پہلی بات جس کی طرف تمہیں ان کو دعوت دینی ہے ، اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے ۔ جب وہ وہ اللہ کو پہچان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دن اور رات میں ان پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں ۔ جب وہ اس پر عمل پیرا ہو جائیں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر زکاۃ فرض کی ہے جو ان کے ( مالداروں کے ) اموال سے لے کر ان کے فقراء کودی جائے گی ۔ جب وہ اس کو مان لیں تو ان سے ( زکاۃ ) لینا اور ان کے زیادہ قیمتی اموال سے احتراز کرنا ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، أَذَّنَ بِالصَّلاَةِ فِي لَيْلَةٍ ذَاتِ بَرْدٍ وَرِيحٍ فَقَالَ أَلاَ صَلُّوا فِي الرِّحَالِ . ثُمَّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُ الْمُؤَذِّنَ إِذَا كَانَتْ لَيْلَةٌ بَارِدَةٌ ذَاتُ مَطَرٍ يَقُولُ " أَلاَ صَلُّوا فِي الرِّحَالِ " .
Ibn 'Umar announced Adhan for prayer on a cold, windy night. Then added:Pray in your dwellings; and then said: When it was a cold, rainy night, the Messenger of Allah (ﷺ) used to command the Mu'adhdhin to say" Pray in your dwellings
امام مالک نے نافع سے روایت کی کہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سردی اور ہوا والی ایک رات اذان کہی اور اس کے آخر میں کہا : ( أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ ) سنو! ( اپنے ) ٹھکانوں میں نماز پڑھ لو ۔ " پھر کہا کہ جب رات سرد اور بارش والی ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موذن کو حکم دیتے کہ وہ کہے ( أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ ) سنو! ( اپنے ) ٹھکانوں پر نماز پڑھ لو ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، أَخِي وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَحْنُ الآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ وَهَذَا يَوْمُهُمُ الَّذِي فُرِضَ عَلَيْهِمْ فَاخْتَلَفُوا فِيهِ فَهَدَانَا اللَّهُ لَهُ فَهُمْ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ فَالْيَهُودُ غَدًا وَالنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ " .
Abu Huraira reported Muhammad, the Messenger of Allah (ﷺ), as saying:We who are the last would be the first on the Day of Resurrection but they (other Ummahs) were given the Book before us and we were given after them, and this was the day that was prescribed for them but they disagreed on it. And Allah guided us to it. and they came after us with regard to it, the Jews observing the next day and the Christians the day following that
وہب بن منبہ کے بھا ئی ہمام بن منبہ نے کہا : یہ حدیث ہے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : ہم آخری ہیں ( مگر ) قیامت کے دن سبقت لے جا نے والے ہو ں گے اس کے باوجود کہ ان کے بعد دی گئی اور یہ ( جمعہ ) ان کا وہی دن ہے جو ان پر فرض کیا گیا تھا اور وہ اس کے بارے میں اختلاف میں پڑگئے پھر اللہ تعا لیٰ نے اس کے بارے میں ہماری رہنمائی فر ما ئی اس لیے وہ لو گ اس ( عبادت کے دن کے ) معاملے میں ہم سے پیچھے ہیں یہود ( اپنا دن ) کل منا ئیں گے اور عیسا ئی پر سوں ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُصْعَبٌ، - وَهُوَ ابْنُ الْمِقْدَامِ - حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلاَقَةَ، - وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ قَالَ زِيَادُ بْنُ عِلاَقَةَ - سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، يَقُولُ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لاَ يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَادْعُوا اللَّهَ وَصَلُّوا حَتَّى يَنْكَشِفَ " .
Ziyad b. 'Ilaqa reported:I heard Mughira b. Shu'ba saying that the sun eclipsed during the lifetime of the Messenger of Allah (ﷺ) on the day when Ibrahim died. Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) said: Verily the sun and the moon are the two signs among the signs of Allah. They do not eclipse on account of the death of anyone or on account of the birth of anyone. So when you see them, supplicate Allah, and observe prayer till it is over
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں سورج کو گرہن لگا ، اسی دن جب ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہوئے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، ان کو نہ کسی کی موت سے گرہن لگتاہے اور نہ کسی کی زندگی سے اس لئے جب تم ان کو ( گرہن لگا ) دیکھو تو اللہ کو پکارو اور نماز پڑھو یہاں تک کہ گرہن زائل ہوجائے ۔
وَحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، جَمِيعًا عَنْ حَمَّادٍ، - قَالَ خَلَفٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، - عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ ذُكِرَ عِنْدَ عَائِشَةَ قَوْلُ ابْنِ عُمَرَ الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ . فَقَالَتْ رَحِمَ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ سَمِعَ شَيْئًا فَلَمْ يَحْفَظْهُ إِنَّمَا مَرَّتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ وَهُمْ يَبْكُونَ عَلَيْهِ فَقَالَ " أَنْتُمْ تَبْكُونَ وَإِنَّهُ لَيُعَذَّبُ " .
Hisham b. 'Urwa narrated on the authority of his father that the saying of Ibn 'Umar, viz." The dead would be punished because of the lamentation of his family over him" was mentioned to 'A'isha. Upon this she said:May Allah have mercy upon Abu 'Abd al-Rahman (the kunya of Ibn 'Umar) that he heard something but could not retain it (well). (The fact is) that the bier of a Jew passed before the Messenger of Allah (ﷺ) and (the members of his family) were waiting over him. Upon this he said: You are wailing and he is being punished
حماد بن زید نے ہشام بن عروہ سے انھوں نے اپنے والد سے روا یت کی انھوں نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سامنے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا روایت کردہ قول بیان کیا گیا : میت کو اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب دیا جا تا ہے تو انھوں نے کہا : اللہ عبد الرحمٰن پر رحم فر ما ئے انھوں نے ایک چیز کو سنا لیکن ( پوری طرح ) محفوظ نہ رکھا ( امرواقع یہ ہے کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک یہودی کا جنا زہ گزرا اور وہ لو گ اس پر رو رہے تھے تو آپ نے فر ما یا : " تم رو رہے ہو اور اسے عذاب دیا جا رہا ہے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ - عَنْ سُهَيْلٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ . وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ بَدَلَ عَقْصَاءُ عَضْبَاءُ وَقَالَ " فَيُكْوَى بِهَا جَنْبُهُ وَظَهْرُهُ " . وَلَمْ يَذْكُرْ جَبِينُهُ .
This hadith has been narrated by Suhail b. Abu Salih with the same chain of transmitters, and he said he substituted the word aqsa' with 'adba' and said:" his side and his back," but he made no mention of his forehead
عبدالعزیز دراوردی نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور ( پوری ) حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، - رضى الله عنه - قَالَ ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ عَلَى الأُخْرَى فَقَالَ " الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا " . ثُمَّ نَقَصَ فِي الثَّالِثَةِ إِصْبَعًا .
Sa'd b. Abi Waqqas (Allah be pleased with him) said that the Messenger of Allah (ﷺ) struck his hand against the other and (then with the gesture of his two hands) said:The month is thus, thus (two times). He then withdrew (one of) his fingers at the third turn
محمد بن بشر ، اسماعیل بن ابی خالد ، محمد بن سعید ، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا کہ مہینہ اس طرح اور اس طرح ہوتا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ ایک انگلی کم فرمالی ۔
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - أَنَّهُ كَانَ يُخْبِرُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَهَلَّ حِينَ اسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ قَائِمَةً .
Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) pronounced Talbiya as his camel stood up
صالح بن کیسان نے نافع سے انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، وہ بتا یا کرتے تھے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تلبیہ پکارا جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی ۔
وَحَدَّثَنِيهِ حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْمُتْعَةِ زَمَانَ الْفَتْحِ مُتْعَةِ النِّسَاءِ وَأَنَّ أَبَاهُ كَانَ تَمَتَّعَ بِبُرْدَيْنِ أَحْمَرَيْنِ
This hadith has been narrated on the authority of Rabi' b. Sabra that Allah's Messenger (ﷺ) forbade to contract temporary marriage with women at the time of Victory, and that his father had contracted the marriage for two red cloaks
صالح سے روایت ہے ، کہا : ہمیں ابن شہاب نے ربیع بن سبرہ جہنی سے خبر دی ، انہوں نے اپنے والد ( سبرہ رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی کہ انہوں نے اِن کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے زمانے میں عورتوں سے متعہ کرنے سے منع فرما دیا تھا ، اور یہ کہ ان کے والد ( سبرہ ) نے ( اپنے ساتھی کے ہمراہ ) دو سرخ چادریں پیش کرتے ہوئے نکاح متعہ کیا تھا
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ يَحْيَى، - وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ - عَنْ عَمْرَةَ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ، تَقُولُ - وَهْىَ تَذْكُرُ الَّذِي يُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ - قَالَتْ عَمْرَةُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ نَزَلَ فِي الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ ثُمَّ نَزَلَ أَيْضًا خَمْسٌ مَعْلُومَاتٌ .
Amra reported that she heard 'A'isha (Allah he pleased with her) discussing fosterage which (makes marriage) unlawful; and she ('A'isha) said:There was revealed in the Holy Qur'an ten clear sucklings, and then five clear (sucklings)
سلیمان بن بلال نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عمرہ سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ۔ ۔ ۔ وہ اس رضاعت کا ذکر کر رہی تھیں جس سے حرمت ثابت ہوتی ہے ۔ عمرہ نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : قرآن میں دس بار دودھ پلانے سے جن کا علم ہو ، ( حرمت ثابت ہونے ) کا حکم نازل ہوا تھا ، پھر یہ ( حکم ) بھی نازل ہوا تھا : پانچ بار دودھ پلانے سے جن کا علم ہو
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْتَأْذِنُنَا إِذَا كَانَ فِي يَوْمِ الْمَرْأَةِ مِنَّا بَعْدَ مَا نَزَلَتْ { تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ} فَقَالَتْ لَهَا مُعَاذَةُ فَمَا كُنْتِ تَقُولِينَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا اسْتَأْذَنَكِ قَالَتْ كُنْتُ أَقُولُ إِنْ كَانَ ذَاكَ إِلَىَّ لَمْ أُوثِرْ أَحَدًا عَلَى نَفْسِي .
A'isha (Allah be pleased with her) reported that Allah's Messenger (ﷺ) sought our permission when he had a (turn to spend) a day with (one of his wives) amongst us (whereas he wanted to visit his other wives too). It was after this that this verse was revealed:" Thou mayest put off whom thou pleasest of them, and take for thee whom thou pleasest" (xxxiii. 5). Mu'adha said to her: What did you say to Allah's Messenger (ﷺ) when he sought your permission? She said: I used to say: If it had the option in this I would not have (allowed anyone) to have precedence over me
عباد بن عباد نے ہمیں عاصم سے حدیث بیان کی ، انہوں نے معاذ عدویہ سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جب ہم میں سے کسی بیوی کی باری کا دن ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( کسی اور بیوی کے ہاں جانے کے لیے ) ہم سے اجازت لیتے تھے ، حالانکہ یہ آیت نازل ہو چکی تھی : " آپ ان میں سے جسے چاہیں ( خود سے ) الگ رکھیں اور جسے چاہیں اپنے پاس جگہ دیں ۔ " تو معاذہ نے ان سے پوچھا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے اجازت لیتے تو آپ ان سے کیا کہتی تھیں؟ انہوں نے جواب دیا : میں کہتی تھی : اگر یہ ( اختیار ) میرے سپرد ہے تو میں اپنے آپ پر کسی کو ترجیح نہیں دیتی
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ - عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنِ ابْتَاعَ شَاةً مُصَرَّاةً فَهُوَ فِيهَا بِالْخِيَارِ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا وَإِنْ شَاءَ رَدَّهَا وَرَدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ " .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who buys a goat with its udder tied up has the option to retain the goat if he so desires or return it within three days, and in case he returns it he should do so along with a sa' of dates
سہیل کے والد ( ابوصالح ) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے ایسی بھیڑ ( یا بکری ) خرید لی جس کا دودھ روکا گیا ہے تو اسے تین دن تک اس کے بارے میں اختیار ہے ، اگر چاہے تو رکھ لے اور چاہے تو واپس کر دے اور اس کے ساتھ کھجور کا ایک صاع بھی واپس کرے
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، الْخُزَاعِيُّ - قَالَ حَجَّاجٌ مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ - أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ خُثَيْمِ بْنِ عِرَاكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا أَفْلَسَ الرَّجُلُ فَوَجَدَ الرَّجُلُ عِنْدَهُ سِلْعَتَهُ بِعَيْنِهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا " .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When a inan becomes insolvent, and the other person (seller) finds his goods intact with him, he is more entitled to get them than anyone else
عراک بن مالک نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب کوئی آدمی مفلس قرار دیا جائے اور ( کسی بیچنےوالے ) شخص کو اس کے ہاں اپنا سامان جوں کا توں مل جائے تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْعُمْرَى لِمَنْ وُهِبَتْ لَهُ " .
Jabir (b. 'Abdullah) (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Life grant is for one upon whom it is bestowed
خالد بن حارث نے ہمیں حدیث بیان کی : ہمیں ہشام نے یحییٰ بن ابی کثیر سے حدیث بیان کی : ہمیں ابوسلمہ بن عبدالرحمان نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " عمریٰ اسی کا ہے جسے ہبہ کیا گیا ہے
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، - قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، - أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمَّا حُضِرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَفِي الْبَيْتِ رِجَالٌ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " هَلُمَّ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لاَ تَضِلُّونَ بَعْدَهُ " . فَقَالَ عُمَرُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ غَلَبَ عَلَيْهِ الْوَجَعُ وَعِنْدَكُمُ الْقُرْآنُ حَسْبُنَا كِتَابُ اللَّهِ . فَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْبَيْتِ فَاخْتَصَمُوا فَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ قَرِّبُوا يَكْتُبْ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ . وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ مَا قَالَ عُمَرُ . فَلَمَّا أَكْثَرُوا اللَّغْوَ وَالاِخْتِلاَفَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قُومُوا " . قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ إِنَّ الرَّزِيَّةَ كُلَّ الرَّزِيَّةِ مَا حَالَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَبَيْنَ أَنْ يَكْتُبَ لَهُمْ ذَلِكَ الْكِتَابَ مِنِ اخْتِلاَفِهِمْ وَلَغَطِهِمْ .
Ibn Abbas reported:When Allah's Messenger (ﷺ) was about to leave this world, there were persons (around him) in his house, 'Umar b. al-Kbattab being one of them. Allah's Apostle (ﷺ) said: Come, I may write for you a document; you would not go astray after that. Thereupon Umar said: Verily Allah's Messenger (ﷺ) is deeply afflicted with pain. You have the Qur'an with you. The Book of Allah is sufficient for us. Those who were present in the house differed. Some of them said: Bring him (the writing material) so that Allah's Messenger (ﷺ) may write a document for you and you would never go astray after him And some among them said what 'Umar had (already) said. When they indulged in nonsense and began to dispute in the presence of Allah's Messenger (ﷺ), he said: Get up (and go away) 'Ubaidullah said: Ibn Abbas used to say: There was a heavy loss, indeed a heavy loss, that, due to their dispute and noise. Allah's Messenger (ﷺ) could not write (or dictate) the document for them
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت قریب آیا ، گھر میں کچھ آدمی موجود تھے ، ان میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے ، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" میرے پاس آؤ ، میں تمہیں ایک کتاب ( تحریر ) لکھ دوں ، اس کے بعد تم گمراہ نہیں ہو گے ۔ "" تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تکلیف اور درد کا غلبہ ہے اور تمہارے پاس قرآن موجود ہے ، ہمیں اللہ کی کتاب کافی ہے ۔ اس پر گھر کے افراد نے اختلاف کیا اور جھگڑ پڑے ، ان میں سے کچھ کہہ رہے تھے : ( لکھنے کا سامان ) قریب لاؤ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں کتاب لکھ دیں تاکہ اس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو ۔ اور ان میں سے کچھ وہی کہہ رہے تھے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا ۔ جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس زیادہ شور اور اختلاف کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اٹھ جاؤ ۔ "" عبیداللہ نے کہا : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے : یقینا مصیبت تھی بڑی مصیبت جو ان کے اختلاف اور شور کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے وہ تحریر لکھنے کے درمیان حائل ہو گئی ( کہ آپ کتابت نہ کرا سکے)
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ، أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْيَمِينُ عَلَى نِيَّةِ الْمُسْتَحْلِفِ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:An oath is to be interpreted according to the intention of the one who takes it
یزید بن ہارون نے ہشیم سے ، انہوں نے عباد بن ابی صالح سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قسم ، حلف لینے والے کی نیت کے مطابق ہو گی
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم غَزْوَةَ تَبُوكَ - قَالَ وَكَانَ يَعْلَى يَقُولُ تِلْكَ الْغَزْوَةُ أَوْثَقُ عَمَلِي عِنْدِي - فَقَالَ عَطَاءٌ قَالَ صَفْوَانُ قَالَ يَعْلَى كَانَ لِي أَجِيرٌ فَقَاتَلَ إِنْسَانًا فَعَضَّ أَحَدُهُمَا يَدَ الآخَرِ - قَالَ لَقَدْ أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ أَيُّهُمَا عَضَّ الآخَرَ - فَانْتَزَعَ الْمَعْضُوضُ يَدَهُ مِنْ فِي الْعَاضِّ فَانْتَزَعَ إِحْدَى ثَنِيَّتَيْهِ فَأَتَيَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَهْدَرَ ثَنِيَّتَهُ .
Safwan b. Ya'la b. Umayya thus reported from his father:I participated in the expedition to Tabuk with Allah's Apostle (ﷺ). And Ya'la used to say: That was the most weighty of my deeds, in my opinion. Safwan said that Ya'la had stated: I had a servant; he quarrelled with another person, and the one bit the hand of the other. ('Ata' said that Safwan had told him which one had bitten the hand of the other.) So he whose hand was bitten drew ill from (the mouth) of the one who had bitten it and (in this scuffle) one of his foreteeth was also drawn out. They both came to Allah's Apostle (ﷺ) and he declared his (claim for the compensation of) tooth as invalid
ابواسامہ نے کہا : ہمیں ابن جریج نے خبر دی ، کہا : مجھے عطاء نے خبر دی ، کہا : مجھے صفوان بن یعلیٰ بن امیہ نے اپنے والد سے خبر دی ، انہوں نے کہا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں غزوہ تبوک میں شرکت کی ، کہا : اور حضرت یعلیٰ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے : وہ غزوہ میرے نزدیک میرا سب سے قابلِ اعتماد عمل ہے ۔ عطاء نے کہا : صفوان نے کہا : یعلیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا : میرا ایک ملازم تھا ، وہ کسی انسان سے لڑ پڑا تو ان میں سے ایک نے دوسرے کے ہاتھ کو دانتوں سے کاٹا ۔ ۔ کہا : مجھے صفوان نے بتایا تھا کہ ان میں سے کس نے دوسرے کو دانتوں سے کاٹا تھا ۔ ۔ جس کا ہاتھ کاٹا جا رہا تھا اس نے اپنا ہاتھ کاٹنے والے کے منہ سے کھینچا تو اس کے سامنے والے دو دانتوں میں سے ایک نکال دیا ، اس پر وہ دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے اس کے دانت ( کے نقصان ) کو رائیگاں قرار دیا
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي، سَعِيدٍ أَنَّ رَجُلاً، مِنْ أَسْلَمَ يُقَالُ لَهُ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي أَصَبْتُ فَاحِشَةً فَأَقِمْهُ عَلَىَّ . فَرَدَّهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِرَارًا قَالَ ثُمَّ سَأَلَ قَوْمَهُ فَقَالُوا مَا نَعْلَمُ بِهِ بَأْسًا إِلاَّ أَنَّهُ أَصَابَ شَيْئًا يَرَى أَنَّهُ لاَ يُخْرِجُهُ مِنْهُ إِلاَّ أَنْ يُقَامَ فِيهِ الْحَدُّ - قَالَ - فَرَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَنَا أَنْ نَرْجُمَهُ - قَالَ - فَانْطَلَقْنَا بِهِ إِلَى بَقِيعِ الْغَرْقَدِ - قَالَ - فَمَا أَوْثَقْنَاهُ وَلاَ حَفَرْنَا لَهُ - قَالَ - فَرَمَيْنَاهُ بِالْعَظْمِ وَالْمَدَرِ وَالْخَزَفِ - قَالَ - فَاشْتَدَّ فَاشْتَدَدْنَا خَلْفَهُ حَتَّى أَتَى عُرْضَ الْحَرَّةِ فَانْتَصَبَ لَنَا فَرَمَيْنَاهُ بِجَلاَمِيدِ الْحَرَّةِ - يَعْنِي الْحِجَارَةَ - حَتَّى سَكَتَ - قَالَ - ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَطِيبًا مِنَ الْعَشِيِّ فَقَالَ " أَوَكُلَّمَا انْطَلَقْنَا غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَخَلَّفَ رَجُلٌ فِي عِيَالِنَا لَهُ نَبِيبٌ كَنَبِيبِ التَّيْسِ عَلَىَّ أَنْ لاَ أُوتَى بِرَجُلٍ فَعَلَ ذَلِكَ إِلاَّ نَكَّلْتُ بِهِ " . قَالَ فَمَا اسْتَغْفَرَ لَهُ وَلاَ سَبَّهُ .
Abu Sa'id reported that a person belonging to the clan of Aslam, who was called Ma, iz b. Malik, came to Allah's Messenger (ﷺ) and said:I have committed immorality (adultery), so inflict punishment upon me. Allah's Apostle (ﷺ) turned him away again and again. He then asked his people (about the state of his mind). They said: We do not know of any ailment of his except that he has committed something about which he thinks that he would not be able to relieve himself of its burden but with the Hadd being imposed upon him. He (Ma'iz) came back to Allah's Apostle (ﷺ) and he commanded us to stone him. We took him to the Baqi' al-Gharqad (the graveyard of Medina). We neither tied him nor dug any ditch for him. We attacked him with bones, with clods and pebbles. He ran away and we ran after him until he came upon the ston ground (al-Harra) and stopped there and we stoned him with heavy stones of the Harra until he became motionless (lie died). He (the Holy Prophet) then addressed (us) in the evening saying Whenever we set forth on an expedition in the cause of Allah, some one of those connected with us shrieked (under the pressure of sexual lust) as the bleating of a male goat. It is essential that if a person having committed such a deed is brought to me, I should punish him. He neither begged forgiveness for him nor cursed him
عبدالاعلیٰ نے کہا : ہمیں داود نے ابونضرہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اسلم قبیلے کا ایک آدمی ، جسے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا : مجھ سے بدکاری ہو گئی ہے ، مجھ پر اس کی حد نافذ کیجئے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کئی بار واپس کیا ۔ کہا : پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قوم سے پوچھا تو انہوں نے کہا : ہم ان کی کسی برائی کو نہیں جانتے ، مگر ان سے کوئی بات سرزد ضرور ہوئی ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ انہیں اس کیفیت سے ، اس کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں نکال سکتی کہ ان پر حد قائم کر دی جائے ۔ کہا : اس کے بعد وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پھر واپس آئے تو آپ نے ہمیں حکم دیا کہ انہیں رجم کر دیں ۔ کہا : ہم انہیں بقیع الغرقد کی طرف لے کر گئے ۔ کہا : نہ ہم نے انہیں باندھا ، نہ ان کے لیے گڑھا کھودا ۔ کہا : ہم نے انہیں ہڈیوں ، مٹی کے ڈھیلوں اور ٹھیکروں سے مارا ۔ کہا : وہ بھاگ نکلے تو ہم بھی ان کے پیچھے بھاگے حتی کہ وہ حرہ ( سیاہ پتھروں والی زمین ) کے ایک کنارے پر آئے اور ہمارے سامنے جم کر کھڑے ہو گئے ، پھر ہم نے انہیں حرہ کی چٹانوں کے ٹکڑوں ، یعنی ( بڑے بڑے ) پتھروں سے مارا حتی کہ وہ بے جان ہو گئے ، کہا : پھر شام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا : " جب بھی ہم اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے نکلتے ہیں کوئی آدمی پیچھے ہمارے اہل و عیال کے درمیان رہ جاتا ہے اور بکرے کی طرح جوش میں آوازیں نکالتا ہے ، مجھ پر لازم ہے کہ میرے پاس کوئی ایسا آدمی نہیں لایا جائے گا جس نے ایسا کیو ہو گا مگر میں اسے عبرتناک سزا دوں گا ۔ " کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( خطبے کے دوران میں ) نہ ان کے لیے استغفار کیا ، نہ انہیں برا بھلا کہا
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ، اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نُصِيبُ فِي الْبَيَاتِ مِنْ ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ قَالَ " هُمْ مِنْهُمْ " .
It is narrated by Sa'b b. Jaththama that he said (to the Holy Prophet):Messenger of Allah, we kill the children of the polytheists during the night raids. He said: They are from them
معمر نے ہمیں زہری سے خبر دی ، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! شب خون میں ہم مشرکین کی عورتوں اور بچوں کو نقصان پہنچا دیتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : وہ انہی میں سے ہیں
وَحَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنِي سَوَادَةُ بْنُ أَبِي، الأَسْوَدِ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ، مَرِضَ فَأَتَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ يَعُودُهُ . نَحْوَ حَدِيثِ الْحَسَنِ عَنْ مَعْقِلٍ، .
It has been narrated on the authority of Abu al-Aswad who said:My father related to me that Ma'qil b. Yasir fell ill. 'Ubaidullah b. Ziyad called on him to inquire after his health. Here follows the tradition as narrated by Hasan from Ma'qil
سوادہ بن ابواسود نے خبر دی کہ میرے والد نے مجھے حدیث بیان کی کہ حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے تو عبیداللہ بن زیاد ان کی عیادت کے لیے گیا ۔ ( آگے ) حسن بصری کی حضرت معقل رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ حدیث کی طرح ہے
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَهُ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَرِيَّةً ثَلاَثَمِائَةٍ وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ فَفَنِيَ زَادُهُمْ فَجَمَعَ أَبُو عُبَيْدَةَ زَادَهُمْ فِي مِزْوَدٍ فَكَانَ يُقَوِّتُنَا حَتَّى كَانَ يُصِيبُنَا كُلَّ يَوْمٍ تَمْرَةٌ .
Jabir b. 'Abdullah reported that Allah's Messenger (ﷺ) sent on in expedition a detachment consisting of three hundred (persons) and appointed Abu 'Ubaida b. Jarrah as their chief. Their provisions ran short:'Abu 'Ubaida collected their provisions in the provision bag. and he fed us (for some time). Later on when the provisions ran short he gave us one date every day
امام مالک بن انس نے ابو نعیم وہب بن کیسان سے روایت کی کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین سو ایک لشکر بھیجا اور اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس کا امیر بنایا ، ان کا زاد راہ ختم ہونے کو آیا توحضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سب کے زادراہ کو زادراہ والے ایک تھیلے میں جمع کیا اور ہم کو زندہ رہنے کی خوراک دیتے تھے ، یہاں تک کہ آخر میں روزانہ ایک کھجور ملتی تھی ۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ، عَنْ جَدِّهِ، رَافِعٍ ثُمَّ حَدَّثَنِيهِ عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ، رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لاَقُو الْعَدُوِّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى فَنُذَكِّي بِاللِّيطِ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ وَقَالَ فَنَدَّ عَلَيْنَا بَعِيرٌ مِنْهَا فَرَمَيْنَاهُ بِالنَّبْلِ حَتَّى وَهَصْنَاهُ .
Rafi' b. Khadij reported from his grandfather that he said:Allah's Messenger, we are going to encounter the enemy tomorrow, but we do not have long knives with us, should we then slaughter them with the peel of the reed? The rest of the hadith is the same. (And at the end the words are):" A camel became wild (and got out of our control). We attacked it with arrows until we made it fall down
۔ اسماعیل بن مسلم اور عمربن سعید نے سعید بن مسروق سے ، انھوں نے عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج سے ، انھوں نے اپنے دادا حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم نے عرض کی ، اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کل ہم دشمن کا سامنا کریں گے اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں ، کیا ہم بانس کے چھلکے ( یا تیز دھار کھپچی ) سے ذبح کر سکتے ہیں ؟اور سارے واقعے سمیت حدیث بیان کی اور کہا : ایک اونٹ ہم سے بدک کر بھا گ نکلا تو ہم نے اس پر تیر چلا ئے یہاں تک کہ اس کو گرا لیا ۔
وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، بِهَذَيْنِ الإِسْنَادَيْنِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " الرُّطَبَ وَالزَّهْوَ وَالتَّمْرَ وَالزَّبِيبَ " .
This hadith has been narrated on the authority of Yahya b. Abu Kathir through these two chains of transmitters but with a slight variation of words
حسین معلم نے کہا : یحییٰ بن ابی کثیر نے ہمیں انھی دونوں سندوں سے حدیث بیان کی ، مگر انھوں نے کہا : " تازہ کھجور اور رنگ بدلتی کھجور خشک کھجور اور کشمش کی ( نبیذنہ بنا ؤ)
وَحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، - وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ - حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ أَبِي عُثْمَانَ .
This hadith has been reported on the authority of Qatada but there is no mention of the words of Abd Uthman
ہشام نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ ، اسی کے مانند حدیث بیان کی اور ابو عثمان کا قول ذکر نہیں کیا ۔
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، - يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ - أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُمَا قَالاَ خَرَجَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ حِينَ هَاجَرَتْ وَهِيَ حُبْلَى بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ فَقَدِمَتْ قُبَاءً فَنُفِسَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ بِقُبَاءٍ ثُمَّ خَرَجَتْ حِينَ نُفِسَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِيُحَنِّكَهُ فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْهَا فَوَضَعَهُ فِي حَجْرِهِ ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَةٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَمَكَثْنَا سَاعَةً نَلْتَمِسُهَا قَبْلَ أَنْ نَجِدَهَا فَمَضَغَهَا ثُمَّ بَصَقَهَا فِي فِيهِ فَإِنَّ أَوَّلَ شَىْءٍ دَخَلَ بَطْنَهُ لَرِيقُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَتْ أَسْمَاءُ ثُمَّ مَسَحَهُ وَصَلَّى عَلَيْهِ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ ثُمَّ جَاءَ وَهُوَ ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ أَوْ ثَمَانٍ لِيُبَايِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَمَرَهُ بِذَلِكَ الزُّبَيْرُ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ رَآهُ مُقْبِلاً إِلَيْهِ ثُمَّ بَايَعَهُ .
Urwa b. Zubair and Fatima daughter of Mandhir b. Zubair, reported that Asma' daughter of Abu Bakr was at the time of migration in the family way with 'Abdullah b. Zubair (in her womb). She came to Quba' and gave birth to 'Abdullah at that place and then sent him to Allah's Messenger (ﷺ) so that he should rub his palate with chewed dates. Allah's Messenger (may peace he upon him) took hold of him (the child) and he placed him in his lap and then called for dates. 'A'isha said:Some time was spent before we were able to find them. He (the Holy Prophet) chewed them and then put his saliva in his mouth. The first thing that entered his stomach, was the saliva of Allah's Messenger (ﷺ). Asma' said: He then rubbed him and blessed him and gave him the name of Abdullah. He ('Abdullah) went to him (the Holy Prophet) when he had attained the age of seven or eight years in order to pledge allegiance to Allah's Messenger (ﷺ) as Zubair had commanded him to do. Allah's Messenger (ﷺ) smiled when he saw him coming towards him and then accepted his allegiance
شعیب بن اسحاق نے کہا؛مجھے ہشام بن عروہ نے بتایا ، کہا : مجھے عروہ بن زبیر اور فاطمہ بنت منذر بن زبیر نے حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : کہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا ( مکہ سے ) ہجرت کی نیت سے جس وقت نکلیں ، ان کے پیٹ میں عبداللہ بن زبیر تھے ( یعنی حاملہ تھیں ) جب وہ قباء میں آ کر اتریں تو وہاں سیدنا عبداللہ بن زبیر پیدا ہوئے ۔ پھر ولادت کے بعد انہیں لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو گھٹی لگائیں ، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے لے لیا اور اپنی گود میں بٹھایا ، پھر ایک کھجور منگوائی ۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم ایک گھڑی تک کھجور ڈھونڈتے رہے ، آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کو چبایا ، پھر ( اس کا جوس ) ان کے منہ میں ڈال دیا ۔ یہی پہلی چیز جو عبداللہ کے پیٹ میں پہنچی ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تھوک تھا ۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ پر ہاتھ پھیرا اور ان کے لئے دعا کی اور ان کا نام عبداللہ رکھا ۔ پھر جب وہ سات یا آٹھ برس کے ہوئے تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے اشارے پر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کے لئے آئے ۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آتے دیکھا تو تبسم فرمایا ۔ پھر ان سے ( برکت کے لئے ) بیعت کی ( کیونکہ وہ کمسن تھے ) ۔
حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ - عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ فَلْيَسْتَنْثِرْ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَبِيتُ عَلَى خَيَاشِيمِهِ " .
Abu Huraira reported:The Apostle of Allah (ﷺ) said. When any one of you awakes up from sleep and performs ablution, he must clean his nose three times, for the devil spends the night in the interior of his nose
عیسیٰ بن طلحہ نےحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو تو تین ناک جھاڑے ، شیطان اس کی ناک کے بانسوں پر رات گزارتا ہے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ حَدَّثَهُ أَنَّ نَفَرًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ دَخَلُوا عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ وَهِيَ تَحْتَهُ يَوْمَئِذٍ فَرَآهُمْ فَكَرِهَ ذَلِكَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ لَمْ أَرَ إِلاَّ خَيْرًا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَرَّأَهَا مِنْ ذَلِكَ " . ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ " لاَ يَدْخُلَنَّ رَجُلٌ بَعْدَ يَوْمِي هَذَا عَلَى مُغِيبَةٍ إِلاَّ وَمَعَهُ رَجُلٌ أَوِ اثْنَانِ " .
Abdullah b. 'Amr. b. al-'As reported that some persons from Banu Hisham entered the house of Asma' daughter of 'Umais when Abu Bakr also entered (and she was at that time his wife). He (Abu Bakr) saw it and disapproved of it and he made a mention of that to Allah's Messenger (ﷺ) and said:I did not see but good only (in my wife). Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Verily Allah has made her immune from all this. Then Allah's Messenger (ﷺ) stood on the pulpit and said: After this day no man should enter the house of another person in his absence, but only when he is accompanied by one person or two persons
عبدالرحمان بن جبیر نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں حدیث سنائی کہ بنو ہاشم کے کچھ لوگ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر گئے ، پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی آگئے ، حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا اس وقت ان کے نکاح میں تھیں ۔ انھوں نے ان لوگوں کو دیکھا تو انھیں ناگوارگزرا ۔ انھوں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی ، ساتھ ہی کہا : میں نے خیر کے سواکچھ نہیں دیکھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ نے ( بھی ) انھیں ( حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ) اس سے بری قرار دیا ہے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا؛ " آج کے بعد کوئی شخص کسی ایسی عورت کے پا س نہ جائے جس کا خاوند گھر پر نہ ہو ، الا یہ کہ اس کے ساتھ ایک یا دو لوگ ہوں ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ رَأْسِي قُطِعَ . قَالَ فَضَحِكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ " إِذَا لَعِبَ الشَّيْطَانُ بِأَحَدِكُمْ فِي مَنَامِهِ فَلاَ يُحَدِّثْ بِهِ النَّاسَ " . وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ " إِذَا لُعِبَ بِأَحَدِكُمْ " . وَلَمْ يَذْكُرِ الشَّيْطَانَ .
Jabir reported that a person came to Allah's Apostle (ﷺ) and said:Allah's Messenger, I have seen in the state of sleep as if my head had been cut off. Thereupon Allah's Apostle (ﷺ) laughed and said: When the satan plays with any one of you in the state of sleep, do not mention it to the people; and in the hadith transmitted by Abu Bakr (the words are): "If one of you is played with, and he did not make any mention of the word: "Satan
ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو سعید اشج نے کہا : ہمیں وکیع نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو سفیان سے ، انھوں نےحضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے خواب میں د یکھا کہ میر اسر کاٹ دیا گیا ۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمایا؛ " جب خواب میں شیطان تم میں سے کسی کے ساتھ چھیڑ خوانی کرے تو وہ لوگوں کو نہ بتاتا پھرے ۔ " ابو بکر کی روایت میں ہے : " جب تم میں سے کسی کے ساتھ چھیڑ خوانی کی جائے ۔ " اور انھوں نے شیطان کا ذکر نہیں کیا ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ - عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَهْلاً، يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " أَنَا فَرَطُكُمْ، عَلَى الْحَوْضِ مَنْ وَرَدَ شَرِبَ وَمَنْ شَرِبَ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا وَلَيَرِدَنَّ عَلَىَّ أَقْوَامٌ أَعْرِفُهُمْ وَيَعْرِفُونِي ثُمَّ يُحَالُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ " . قَالَ أَبُو حَازِمٍ فَسَمِعَ النُّعْمَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ وَأَنَا أُحَدِّثُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ فَقَالَ هَكَذَا سَمِعْتَ سَهْلاً يَقُولُ قَالَ فَقُلْتُ نَعَمْ . قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ، عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ لَسَمِعْتُهُ يَزِيدُ فَيَقُولُ " إِنَّهُمْ مِنِّي . فَيُقَالُ إِنَّكَ لاَ تَدْرِي مَا عَمِلُوا بَعْدَكَ . فَأَقُولُ سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ بَدَّلَ بَعْدِي " .
Sahl (b. Sa'd) reported:I heard Allah's Apostle (ﷺ) as saying: I shall go to the Cistern before you and he who comes would drink and he who drinks would never feel thirsty, and there would come to me people whom I would know and who would know me. Then there would be intervention between me and them. Abu Hazim said that Nu'man b. Abu 'Ayyash heard it and I narrated to them this hadith, and said: Is it this that you heard Sahl saying? He said: Yes, and I bear witness to the fact that I heard it from Abu Sa'id Khudri also, but he made this addition that he (the Holy Prophet) would say: They are my followers, and it would be said to him: You do not know what they did after you and I will say to them: Woe to him who changes (his religion) after me
یعقوب بن عبدالرحمان القاری نے ابو حازم سے ر وایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( ابن سعد ساعدی ) سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے : "" میں تم سے پہلے اپنے حوض پر پہنچنے والا ہوں ، جو اس حوض پر پینے کے لئے آجائے گا ، پی لے گا اور جو پی لے گا وہ کبھی پیا سا نہیں ہوگا ۔ میرے پاس بہت سے لوگ آئیں گے میں انھیں جانتا ہوں گا ، وہ مجھے جانتے ہوں گے ، پھر میرے اور ان کے درمیان ر کاوٹ حائل کردی جائے گی ۔ "" ابوحازم نے کہا : میں یہ حدیث ( سننے والوں کو ) سنا رہا تھا کہ نعمان بن ابی عیاش نے بھی یہ حدیث سنی تو کہنے لگے : آپ نے سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اسی طرح کہتے ہوئے سنا ہے؟میں نے کہا : جی ہاں ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلاَثِ لَيَالٍ يَلْتَقِيَانِ فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلاَمِ " .
Abu Ayyub Ansiri reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:It is not permissible for a Muslim to have estranged relations with his brother beyond three nights, the one turning one way and the other turning the other way when they meet; the better of the two is one who is the first to give a greeting
امام مالک نے ابن شہاب سے ، انہوں نے عطاء بن یزید لیثی سے ، انہوں نے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ وہ تین دن سے زیادہ اپنے بھائی کو چھوڑ دے ( قطع تعلق کر کے رکھے کہ ) دونوں ایک دوسرے سے ملیں تو یہ بھی منہ موڑ لے اور وہ بھی منہ موڑ لے اور دونوں میں سے بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زِيَادِ، بْنِ إِسْمَاعِيلَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَخْزُومِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ مُشْرِكُو قُرَيْشٍ يُخَاصِمُونَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْقَدَرِ فَنَزَلَتْ { يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ* إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ}
Abu Huraira reported that the polytheists of the Quraish came to have an argument with Allah's Messenger (ﷺ) in regard to Destiny and then this verse was revealed:" On the day when they are dragged into the Fire upon their faces, taste the touch of Fire. Surely, We have created everything according to a measure" (liv)
اسحٰق بن ابراہیم اور عبد بن حمید نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ الفاظ اسحٰق کے ہیں ۔ ۔ دونوں نے کہا : ہمیں عبدالرزاق نے خبر دی ، انہوں نے کہا؛ ہمیں معمر نے ابن طاوس سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا ، میں نے اس سے بڑھ کر ( قرآن کے لفظ ) "" اللمم "" سے مشابہ کوئی اور چیز نہیں دیکھی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ تعالیٰ نے ابن آدم پر اس کے حصے کا زنا لکھ دیا ہے ، وہ لامحالہ اپنا حصہ لے گا ۔ آنکھ کا زنا ( جس کا دیکھنا حرام ہے اس کو ) دیکھنا ہے ۔ زبان کا زنا ( حرام بات ) کہنا ہے ، دل تمنا رکھتا ہے ، خواہش کرتا ہے ، پھر شرم گاہ اس کی تصدیق کرتی ہے ( اور وہ زنا کا ارتکاب کر لیتاہے ) یا تکذیب کرنی ہے ( اور وہ اس کا ارتکاب نہیں کرتا ۔ ) "" عبد نے اپنی روایت میں کہا : ابن طاوس نے اپنے والد سے روایت کی ( کہا : ) میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا ، ( اس سند میں سماع کی صراحت ہے ۔)
حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ، زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَادَ رَجُلاً مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَدْ خَفَتَ فَصَارَ مِثْلَ الْفَرْخِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَلْ كُنْتَ تَدْعُو بِشَىْءٍ أَوْ تَسْأَلُهُ إِيَّاهُ " . قَالَ نَعَمْ كُنْتُ أَقُولُ اللَّهُمَّ مَا كُنْتَ مُعَاقِبِي بِهِ فِي الآخِرَةِ فَعَجِّلْهُ لِي فِي الدُّنْيَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " سُبْحَانَ اللَّهِ لاَ تُطِيقُهُ - أَوْ لاَ تَسْتَطِيعُهُ - أَفَلاَ قُلْتَ اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ " . قَالَ فَدَعَا اللَّهَ لَهُ فَشَفَاهُ .
Anas reported that Allah's Messenger (ﷺ) visited a person from amongst the Muslims in order to inquire (about his health) who had grown feeble like the chicken. Allah's Messenger (ﷺ) said:Did you supplicate for anything or beg of Him about that? He said: Yes. I used to utter (these words): Impose punishment upon me earlier in this world, what Thou art going to impose upon me in the Hereafter. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Hallowed be Allah, you have neither the power nor forbearance to take upon yourself (the burden of His Punishment). Why did you not say this: O Allah, grant us good in the world and good in the Hereafter, and save us from the torment of Fire. He (the Holy Prophet) made this supplication (for him) and he was all right
محمد بن ابوعدی نے حمید سے ، انہوں نے ثابت سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں میں سے ایک ایسے شخص کی عیادت کی جو لاغر ہو کر چوزے کی طرح ہو گیا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : " کیا تم اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کی دعا کرتے تھے یا اس سے کچھ مانگتے تھے؟ " اس نے کہا : جی ہاں ، میں کہتا تھا : اے اللہ! تو مجھے آخرت میں جو سزا دینے والا ہے ابھی دنیا ہی میں دے دے ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ پاک ہے! تم میں اس کی طاقت نہیں ہے ۔ ۔ یا ( فرمایا : ) تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے ۔ تم نے یہ کیوں نہ کہا : اے اللہ! ہمیں دنیا میں بھی اچھائی عطا فرما اور آخرت میں بھی اچھائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے ۔ " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اللہ سے دعا فرمائی تو اس نے اس شخص کو شفا عطا فرما دی ۔
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَبْدِ الْغَافِرِ، يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " أَنَّ رَجُلاً فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ رَاشَهُ اللَّهُ مَالاً وَوَلَدًا فَقَالَ لِوَلَدِهِ لَتَفْعَلُنَّ مَا آمُرُكُمْ بِهِ أَوْ لأُوَلِّيَنَّ مِيرَاثِي غَيْرَكُمْ إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي - وَأَكْثَرُ عِلْمِي أَنَّهُ قَالَ - ثُمَّ اسْحَقُونِي وَاذْرُونِي فِي الرِّيحِ فَإِنِّي لَمْ أَبْتَهِرْ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا وَإِنَّ اللَّهَ يَقْدِرُ عَلَىَّ أَنْ يُعَذِّبَنِي - قَالَ - فَأَخَذَ مِنْهُمْ مِيثَاقًا فَفَعَلُوا ذَلِكَ بِهِ وَرَبِّي فَقَالَ اللَّهُ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ فَقَالَ مَخَافَتُكَ . قَالَ فَمَا تَلاَفَاهُ غَيْرُهَا " .
Abu Sa'id Khudri reported that Allah's Messenger (ﷺ) said that a person amongst the earlier nations before you was conferred property and children by Allah, He said to his children:'You must do as I command you to do, otherwise I will make others besides you as my inheritors. As I die, burn my body and blow my ashes in the wind as I do not find any merit of mine which would please Allah, and if Allah were to take hold of me, He would punish me. He took a pledge from them and they did as he commanded thein to do. Allah said: What prompted you to do this? He said: My Lord. Thine fear, and Allah did not punish him at all
شعبہ نے ہمیں قتادہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عقبہ بن عبدالغافر کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کر رہے تھے : " تم سے پہلے کے لوگوں میں سے ایک شخص کو اللہ تعالیٰ نے مال اور اولاد سے نوازا تھا ۔ اس نے اپنے بچوں سے کہا : ہر صورت وہی کچھ کرو گے جس کا میں تمہیں حکم دے رہا ہوں ، یا میں اپنا ورثہ دوسروں کے سپرد کر دوں گا ، جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دو ۔ ۔ اور مجھے زیادہ یہ لگتا ہے کہ قتادہ نے کہا ۔ ۔ پھر مجھے کوٹ کر ریزہ ریزہ کر دو ، پھر مجھے ہوا میں اڑا دو کیونکہ میں نے اللہ کے ہاں کوئی اچھائی ذخیرہ نہیں کی ۔ اللہ مجھ پر پوری قدرت رکھتا ہے کہ مجھے عذاب دے ۔ کہا : اس نے ان ( اپنی اولاد ) سے پختہ عہد و پیمان لیا ، تو میرے رب کی قسم! انہوں نے اس کے ساتھ وہی کیا ( جو اس نے کہا تھا ۔ ) اللہ تعالیٰ نے پوچھا : تم نے جو کچھ کیا اس پر تمہیں کس نے اکسایا؟ اس نے کہا : تیرے خوف نے ۔ فرمایا : پھر اسے اس کے سوا ( جو وہ بھگت چکا تھا ، یعنی لاش کا جلنا اور اللہ کے سامنے پیشی وغیرہ ) اور کوئی عذاب نہ ہوا ۔
وَحَدَّثَنِيهِ بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، كِلاَهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، بِإِسْنَادِ ابْنِ مُعَاذٍ عَنْ شُعْبَةَ، نَحْوَ حَدِيثِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي، حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ فَقَالَ " اشْهَدُوا اشْهَدُوا " .
This hadith has been transmitted on the authority of Shu'ba with a slight variation of wording
محمد بن جعفر اور ابن عدی دونوں نے شعبہ سے ، شعبہ سے ابن معاذ کی سند کے ساتھ اسی کی حدیث نے مانند روایت کی ، مکر ابن ابی عدی کی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ( اس کے ) گواہ بن جاؤ ، گواہ بن جاؤ ۔
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ قَالَ إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ - وَهِيَ جَدَّةُ إِسْحَاقَ - إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ لَهُ وَعَائِشَةُ عِنْدَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْمَرْأَةُ تَرَى مَا يَرَى الرَّجُلُ فِي الْمَنَامِ فَتَرَى مِنْ نَفْسِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ مِنْ نَفْسِهِ . فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ فَضَحْتِ النِّسَاءَ تَرِبَتْ يَمِينُكِ . فَقَالَ لِعَائِشَةَ " بَلْ أَنْتِ فَتَرِبَتْ يَمِينُكِ نَعَمْ فَلْتَغْتَسِلْ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ إِذَا رَأَتْ ذَاكِ " .
Anas b. Malik reported:Umm Sulaim who was the grandmother of Ishaq came to the Messenger of Allah (ﷺ) in the presence of 'A'isha and said to him: Messenger of Allah, in case or woman sees what a man sees in dream and she experiences in dream what a man experiences (i. e. experiences orgasm)? Upon this 'A'isha remarked: O Umm Sulaim, you brought humiliation to women;may your right hand be covered with dust. He (the Holy Prophet) said to 'A'isha: Let your hand be covered with dust, and (addressing Umm Sulaim) said: Well, O Umm Sulaim, she should take a bath if she sees that (i. e. she experiences orgasm in dream)
اسحاق بن ابی طلحہ نےکہاکہ مجھے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنائی کہ ام سلیم رضی اللہ عنہ جو ( حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ اور ) اسحاق کی دادی تھیں ، رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ سے کہنے لگیں جبکہ حضرت عائشہ ؓ بھی آپ کے پاس موجود تھیں ، اے اللہ کے رسول ! عورت بھی نیند کے عالم میں اسی طرح خواب دیکھتی ہے جس طرح مرد دیکھتا ہے ، وہ اپنے آپ سے وہی چیز ( نکلتی ہوئی ) دیکھتی ہے جو مرد اپنے حوالے سے دیکھتا ہے ( تو وہ کیا کرے ؟ ) حضرت عائشہ ؓ کہنے لگیں : ام سلیم ! تو نے عورتوں کو رسوا کر دیا ، تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو ( ان کا یہ کہا کہ تیرادایاں ہاتھ خاک آلود ہو ، بری نہیں بلکہ اچھی بات تھی ) تو آپﷺ نے عائشہ ؓ سےفرمایا : ’’بلکہ تمہارا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو ۔ ہاں ام سلیم!جب وہ یہ دیکھے تو غسل کرے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ اللَّيْثِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، - يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ - حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَقْوَامٌ أَفْئِدَتُهُمْ مِثْلُ أَفْئِدَةِ الطَّيْرِ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There would enter Paradise people whose hearts would be like those of the hearts of birds
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " جنت میں ایسی قومیں ( امتیں جماعتیں ) داخل ہوں کی جن کے دل پرندوں کے دلوں کی طرح ہوں گے ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ، بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّهُ قَالَ أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ فَمَا مِنْهُ شَىْءٌ إِلاَّ قَدْ سَأَلْتُهُ إِلاَّ أَنِّي لَمْ أَسْأَلْهُ مَا يُخْرِجُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ مِنَ الْمَدِينَةِ
Hudhaifa reported:Allah's Messenger (ﷺ) informed me of what is going to happen before the approach of the Last Hour. And there is nothing that I did not ask him in this connection except this that I did not ask him as to what would turn the people of Medina out from Medina
محمد بن جعفر غندرنے کہا : ہمیں شعبہ نے عدی بن ثابت سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عبد اللہ بن یزید سے اور انھوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت قائم ہونے تک جو کچھ ہونے والا ہے اس کی مجھے خبر دی اور ان میں سے کوئی چیز نہیں مگر میں نے آپ سے اس کے بارے میں سوال کیا البتہ میں نے آپ سے یہ سوال نہیں کیا کہ اہل مدینہ کو مدینہ سے کون سی چیز باہر نکالے گی ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ جَارِيَةً، لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَىٍّ ابْنِ سَلُولَ يُقَالُ لَهَا مُسَيْكَةُ وَأُخْرَى يُقَالُ لَهَا أُمَيْمَةُ فَكَانَ يُكْرِهُهُمَا عَلَى الزِّنَى فَشَكَتَا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَنْزَلَ اللَّهُ { وَلاَ تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ} إِلَى قَوْلِهِ { غَفُورٌ رَحِيمٌ}
Jabir reported that 'Abdullah b. Ubayy b. Salul had two slave-girls; one was called Musaika and the other one was called Umaima and he compelled them to prostitution (for which'Abdullah b. Ubayy b. Salul compelled them). They made a complaint about this to Allah's Messenger (ﷺ) and it was upon this that this verse was revealed:" And compel not your slave-girls to prostitute" up to the words:" Allah is Forgiving, Merciful
ابو عوانہ نے اعمش سے ، انھوں نے ابو سفیان سے اور انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ عبداللہ بن ابی ابن سلول کی ایک باندی تھی ، اس کا نام مسیکہ تھا ، اوردوسری ( باندی ) کو امیمہ کہا جاتا تھا ۔ وہ ان دونوں سے ( زبردستی ) زنا کرانا چاہتا تھا ۔ ان دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس بات کی شکایت کی تو اللہ عزوجل نے آیت : " اور اپنی نوجوان لونڈیوں کو بدکاری پر نہ اکساؤ اگر وہ پاکدامن رہنا چاہتی ہوں ۔ " اس ( اللہ ) کے فرمان : " بڑا بخشنے والا ، ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ۔ " تک نازل فرمائی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاَةِ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ ثُمَّ يَقُولُ " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " . حِينَ يَرْفَعُ صُلْبَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ثُمَّ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ " رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ " . ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَسْجُدُ ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ ثُمَّ يَفْعَلُ مِثْلَ ذَلِكَ فِي الصَّلاَةِ كُلِّهَا حَتَّى يَقْضِيَهَا وَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ الْمَثْنَى بَعْدَ الْجُلُوسِ ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ إِنِّي لأَشْبَهُكُمْ صَلاَةً بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Abu Huraira reported:When the Messenger of Allah (ﷺ) got up for prayer, he would say the takbir (Allah-o-Akbar) when standing, then say the takbir when bowing. then say:" Allah listened to him who praised him," when coming to the erect position after bowing, then say while standing:" To Thee, our Lord, be the praise", then recite the takbir when getting down for prostration, then say the takbir on raising his head, then say the takbir on prostrating himself, then say the takbir on raising his head. He would do that throughout the whole prayer till he would complete it, and he would say the takbir when he would get up at the end of two rak'as after adopting the sitting posture. Abu Huraira said: My prayer has the best resemblance amongst you with the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ)
ہمیں ابن جریج نے خبر دی کہا : مجھے ابن شہاب نے ابو بکر بن عبد الرحمن سے روایت بیان کی ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : رسول اللہﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو کھڑے ہوتے ہوئے تکبیر کہتے ، پھر رکوع کرتے ہوئے تکبیر کہتے ، پھر جب رکوع سے کمر اٹھاتے تو سمع الله لمن حمده کہتے ، پھر قیام کی حالت میں ربنا ولك الحمد کہتے ، پھر جب سجدہ کرنے کے لیے جھکتے تو تکبیر کہتے ، پھر جب اپنا سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے ، پھر ( دوسرا ) سجدہ کرتے وقت تکبیر کہتے ، پھر جب ( سجدے سے ) اپنا سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے ، آپ پوری نماز میں اسی طرح کرتے یہاں تک کہ اس کو مکمل کر لیتے اور جب دو رکعتوں سے بیٹھنے کے بعد اٹھتے تو ( اس وقت بھی ) تکبیر کہے ۔ پھر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے : میں نماز میں تم سب کی نسبت رسول اللہﷺ کے ساتھ زیادہ مشابہ ہوں ۔