بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
4
6 hadith
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ عَدَلْتُمُونَا بِالْكِلاَبِ وَالْحُمُرِ لَقَدْ رَأَيْتُنِي مُضْطَجِعَةً عَلَى السَّرِيرِ فَيَجِيءُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيَتَوَسَّطُ السَّرِيرَ فَيُصَلِّي فَأَكْرَهُ أَنْ أَسْنَحَهُ فَأَنْسَلُّ مِنْ قِبَلِ رِجْلَىِ السَّرِيرِ حَتَّى أَنْسَلَّ مِنْ لِحَافِي ‏.‏
Al-Aswad reported that 'A'isha said:You have made us equal to the dogs and the asses, whereas I lay on the bedstead and the Messenger of Allah (ﷺ) came there and stood in the middle of the bedstead and said prayer. I did not like to take off the quilt from me (in that state), so I moved away quietly from the front legs of the bedstead and thus came out of the quilt
منصور نے ابراہیم ( نخعی ) سے ، انہوں نے اسود سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے فرمایا : تم نے ہمیں کتوں اورگدھوں کے برابر کر دیا ہے ، حالانکہ میں نے اپنے آپ کو ( اس طرح ) دیکھا ہے کہ میں چار پائی پر لیٹی ہوتی تھی ، رسول اللہﷺ تشریف لاتے اور چارپائی کے وسط میں کھڑے ہو کر نماز پڑھتے ، میں آپ کے سامنے ہونا پسند نہ کرتی ، اس لیے میں چار پائی کے پایوں کی طرف سے کھسکتی یہاں تک کہ اپنے لحاف سے نکل جاتی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ تَفْضُلُ صَلاَةٌ فِي الْجَمِيعِ عَلَى صَلاَةِ الرَّجُلِ وَحْدَهُ خَمْسًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَتَجْتَمِعُ مَلاَئِكَةُ اللَّيْلِ وَمَلاَئِكَةُ النَّهَارِ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ ‏{‏ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا‏}‏
Abu Huraira reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:Prayer said in a congregation is twenty-five degrees more excellent than prayer said by a single person. He (Abu Huraira further) said: The angels of the night and the angels of the day meet together. Abu Huraira said: Recite it you like:" Surely the recital of the Qur'an at dawn is witnessed" (al-Qur'an, xvii)
عبدالاعلی نے معمر سے ، انھوں نے زہری سے ، اسی سند کے ساتھ حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انھوں نے نبی ﷺ سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : ’’ سب کے ساتھ مل کر نماز پڑھنا اکیلے انسان کی نماز سے پچیس درجے افضل ہے ۔ ’’آپ نے فرمایا : ’’رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے فجر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں ۔ ‘ ‘ ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو ( جو اس بات کی تصدیق کرتی ہے ) : ’’ اور فجر کے وقت قرآن پڑھنا بلاشبہ فجر کی قراءت میں حاضری دی جاتی ہے
وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، بْنِ يَزِيدَ قَالَ لَقِيتُ أَبَا مَسْعُودٍ عِنْدَ الْبَيْتِ فَقُلْتُ حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ فِي الآيَتَيْنِ فِي سُورَةِ الْبَقَرَةِ ‏.‏ فَقَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الآيَتَانِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مَنْ قَرَأَهُمَا فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ ‏"‏ ‏.‏
Abd al-Rahman b. Yazid reported:I met Abu Mas'ud near the House (Ka'ba) and said to him: A hadith has been conveyed to me on your authority about the two (concluding verses of Surah al-Baqara. He said: Yes. The Messenger of Allah (ﷺ) (in fact) said: Anyone who recites the two verses at the end of Surah al-Baqara at night, they would suffice for him
زہیر نے کہا : ہم سے منصور نے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابراہیم سے اور انھوں نے عبدالرحما بن یزید سے ر وایت کی ، انھوں نے کہا : میں بیت اللہ کے پاس حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا تو میں نے کہا : مجھے آپ کے حوالے سے سورہ بقرہ کی دو آیتوں کے بارے میں حدیث پہنچی ہے ۔ تو انھوں نے کہا : ہاں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : " سورہ بقرہ کی آخری دو آیتیں ، جو شخص رات میں انھیں پڑھے گا وہ اس کے لئے کافی ہوں گی ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، يَقُولُ أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ عَرَفَاتٍ فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى الشِّعْبِ نَزَلَ فَبَالَ - وَلَمْ يَقُلْ أُسَامَةُ أَرَاقَ الْمَاءَ - قَالَ فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا لَيْسَ بِالْبَالِغِ - قَالَ - فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الصَّلاَةَ ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ الصَّلاَةُ أَمَامَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ سَارَ حَتَّى بَلَغَ جَمْعًا فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ ‏.‏
Usama b. Zaid (Allah be pleased with him) narrated:AHah's Messenger (ﷺ) was on his way back from 'Arafat and as he reached the creek (of a hillock) he got down and urinated (Usama did not say that he poured water), but said: He (the Holy Prophet) called for water and performed ablution, but it was not a thorough one. I said: Messenger of Allah, the prayer! Thereupon he said: Prayer awaits you ahead (at Muzdalifa). He then proceeded, until he reached Muzdalifa and observed sunset and 'Isha' prayers (together) there
عبد اللہ بن مبا رک نے ابراہیم بن عقبہ سے انھوں نے کریب مولیٰ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے لو ٹے جب گھا ٹی کے پاس پہنچے تو اترے اور پیشاب کیا ۔ اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ( کنایتہً ) کہ نہیں کہا کہ آپ نے پانی بہا یا ۔ ۔ ۔ کہا : آپ نے پانی منگوایا اور وضو کیا جو کہ ہلکا سا وضو تھا ۔ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !نماز؟ فرمایا : " نماز ( پڑھنے کا مقام ) تمھا رے آگے ( مزدلفہ میں ) ہے کہا : پھر آپ چلے حتی ٰ کہ مزدلفہ پہنچ گئے اور مغر ب اور عشاء کی نمازیں ( اکٹھی ) ادا کیں ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لأَبِي كُرَيْبٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ فَلَمَّا غَابَتِ الشَّمْسُ قَالَ ‏"‏ يَا أَبَا ذَرٍّ هَلْ تَدْرِي أَيْنَ تَذْهَبُ هَذِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّهَا تَذْهَبُ فَتَسْتَأْذِنُ فِي السُّجُودِ فَيُؤْذَنُ لَهَا وَكَأَنَّهَا قَدْ قِيلَ لَهَا ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ فَتَطْلُعُ مِنْ مَغْرِبِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ قَرَأَ فِي قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ وَذَلِكَ مُسْتَقَرٌّ لَهَا ‏.‏
Abu Dharr reported:I entered the mosque and the Messenger of Allah (ﷺ) was sitting there. When the sun disappeared (from the sight) he said: O Abu Dharr! Do you know where it goes? He (the narrator) said: Allah and His Apostle know best. He (the Holy Prophet) said. Verily it goes and begs permission, for prostration (to Allah) and the permission is granted to it. Once it would be said: Return to the place whence you came, and then it would rise from its setting place. Then he, after the recitation of 'Abdullah recited it: And that is its appointed term
ابو معاویہ نے کہا : ہمیں اعمش نے ابراہیم تیمی سے سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نےکہا : میں مسجد میں داخل ہوا جبکہ رسول اللہ ﷺ تشریف فرماتھے ، جب سورج غائب ہو گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ اے ابو ذر!کیا تم جانتے ہو یہ سورج کہاں جاتا ہے ؟ کہا : میں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول بہتر جاننے والے ہیں ۔ فرمایا : ’’ یہ جاتا ہے ، پھر سجدے کی اجازت مانگتا ہے تو اسے سجدے کی اجازت دی جاتی ہے ، ( پھر یوں ہو گا کہ ) جیسے اس سے کہہ دیا گیاہو ( اس میں اشارہ ہے کہ ہم حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے ، ہمیں تمثیلا اس کی خبر دی جا رہی ہے ) کہ جس طرف سے آئے تھے ، ادھر لوٹ جاؤ تویہ اپنی غروب ہونےوالے سمت سے طلوع ہو جائے گا ‘ ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : پھر آپ نے ﴿تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا﴾کے بجائے ) عبد اللہ بن مسعود کی روایت کردہ قراءت کے مطابق پڑھا : وذلك مستقرلها’’یہ اس کا مستقر ہے ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الأُمَوِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبِي كِلاَهُمَا، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ ‏"‏ خَيْرُ هَذِهِ الأُمَّةِ الْقَرْنُ الَّذِينَ بُعِثْتُ فِيهِمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ‏"‏ ‏.‏ زَادَ فِي حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ قَالَ وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَذَكَرَ الثَّالِثَ أَمْ لاَ ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ زَهْدَمٍ عَنْ عِمْرَانَ وَزَادَ فِي حَدِيثِ هِشَامٍ عَنْ قَتَادَةَ ‏"‏ وَيَحْلِفُونَ وَلاَ يُسْتَحْلَفُونَ ‏"‏ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of 'Imran b. Husain through another chain of transmitters (and the words are):The best generation of this Umma is the generation to which I have been sent, then the next one, and there is an addition in the hadith transmitted on the authority of Abu 'Awana (and the words are): And Allah knows best whether he made a mention of the third (generation) or not; the rest of the hadith is the same as transmitted by Zahdam on the authority of 'Imran. And in the hadith transmitted by Hisham on the authority of Qatada there is an addition of these words: They take an oath whereas they are not asked to take
ابو عوانہ اور ہشام دونوں نے قتادہ سے ، انھوں نے زرارہ بن اوفیٰ سے ، انھوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث ( ان الفاظ میں ) روایت کی : " اس امت کے بہترین لوگ اس دور کے ہیں جس میں مجھے ان میں بھیجاگیا ہے ، پھر وہ جوان کےساتھ ( کے دور میں ) ہوں گے ۔ " ۔ ۔ ۔ ابو عوانہ کی حدیث میں مزید یہ ہے کہ ( حضرت عمران رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : اللہ زیادہ جاننے والا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسرے ( دور ) کا ذکر کیا یا نہیں ، جس طرح حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےزہدم کی روایت کردہ حدیث ہے ۔ اور قتادہ سے ہشام کی روایت کردہ حدیث میں یہ الفاظ زائد ہیں : " وہ قسمیں کھائیں گے جبکہ ان سے قسم کھانے کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا ۔