حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، أَرَادَ بِنَاءَ الْمَسْجِدِ فَكَرِهَ النَّاسُ ذَلِكَ فَأَحَبُّوا أَنْ يَدَعَهُ عَلَى هَيْئَتِهِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ بَنَى مَسْجِدًا لِلَّهِ بَنَى اللَّهُ لَهُ فِي الْجَنَّةِ مِثْلَهُ " .
Mahmud b. Labid reported:When 'Uthman b. 'Affan intended to build the mosque (of the Prophet) the people did not approve of it. They liked that it should be kept in the same state. Thereupon he said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: He who built a mosque for Allah, Allah would build a house for him like it in Paradise
حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی کو نئے سرے سے تعمیر کرنا چاہا تو لوگوں نے اسے پسند نہ کیا ، ان کی خواہش تھی کہ وہ اسے اس کی حالت پر رہنے دیں ، اس پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ’’ جس شخص نے اللہ کی خاطر کوئی مسجد بنائی ، اللہ اس کے لیے جنت میں اس جیسا ( گھر ) تعمیر کر ے گا ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ " إِنَّكَ سَتَأْتِي قَوْمًا " بِمِثْلِ حَدِيثِ وَكِيعٍ .
The above hadith has been mentioned with a different chain with a slightly different wording at the beginning, then follows the same
بشر بن سری اور ابو عاصم نے زکریا بن اسحاق سے خبر دی کہ یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی نے ابو معبد سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے جنا ب معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا : ’’تم کچھ لوگوں کے پاس پہنچو گے ..... ‘ ‘ آگے وکیع کی حدیث کی طرح ہے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي حَارِثَةُ بْنُ وَهْبٍ الْخُزَاعِيُّ، قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِنًى وَالنَّاسُ أَكْثَرُ مَا كَانُوا فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ . قَالَ مُسْلِمٌ حَارِثَةُ بْنُ وَهْبٍ الْخُزَاعِيُّ هُوَ أَخُو عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ لأُمِّهِ .
Wahb al-Khuza'i reported:I prayed behind the Messenger of Allah (ﷺ) at Mina, and there was the greatest number of people, and they prayed two rak'ahs on the occasion of the Farewell Pilgrimage. (Muslim said: Haritha b. Wahb al-Khuza'i is the brother of 'Ubaidullah b. 'Umar son of Khattab from the side of his mother)
زہیر نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابو اسحاق نے حدیث سنائی ، کہا ، مجھ سے حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہا : میں نے منیٰ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز پڑھی جبکہ لوگ ( تعداد میں ) جتنے زیادہ ہوسکتے تھے ( موجود تھے ) آپ نے حجۃ الوداع کے موقع پر دو رکعت نماز پڑھائی ۔ امام مسلم ؒ نے کہا : حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ماں ( ملیکہ بنت جرول الخزاعیہ ) کی طرف سے عبیداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بھائی تھے ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَحْنُ الآخِرُونَ الأَوَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَنَحْنُ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ فَاخْتَلَفُوا فَهَدَانَا اللَّهُ لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ فَهَذَا يَوْمُهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيهِ هَدَانَا اللَّهُ لَهُ - قَالَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ - فَالْيَوْمُ لَنَا وَغَدًا لِلْيَهُودِ وَبَعْدَ غَدٍ لِلنَّصَارَى " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:We are the last (but) we would be the first on the Day of Resurrection, and we would be the first to enter Paradise, but that they were given the Book before us and we were given after them. They disagreed and Allah guided us aright on whatever they disagreed regarding the truth. And it was this day of theirs about which they disagreed, but Allah guided us to it, and that is Friday for us; the next day is for the Jews and the day following for the Christians
ابو صالح نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت کی انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ہم آخری ہیں ( پھر بھی ) قیامت کے دن پہلے ہو ں گے اور ہم ہی پہلے جنت میں داخل ہوں گے البتہ انھیں ( انکی ) کتاب ہم سب سے پہلے دی گئی اور ہمیں ( ہماری کتاب ) ان کے بعد دی گئی انھوں نے ( آپس میں ) اختلا ف کیا اور اللہ تعا لیٰ نے ہماری اس حق کی طرف رہنما ئی فر ما ئی جس میں انھوں نے اختلا ف کیا تھا یہ ( جمعہ ) ان کا وہی دن تھا جس کے بارے میں انھوں نے اختلا ف کیا اللہ تعا لیٰ نے ہمیں اس کی طرف رہنما ئی کردی ۔ ۔ ۔ راوی نے کہا : جمعے کا دن مرادہے ۔ ۔ آج کا دن ہمارا ہے اور کل کا دن یہودیوں کا ہے اس سے اگلا دن عیسائیوں کا ۔
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، عَنْ عَبْدِ، اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يُخْبِرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لاَ يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ وَلَكِنَّهُمَا آيَةٌ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا " .
Abdullah b. 'Umar reported that the Messenger of Allah (ﷺ) observed:Verily the sun and the moon do not eclipse on account of the death or life of anyone. They are in fact the signs among the signs of Allah. So when you see them, observe prayer
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ خبر سنایا کرتے تھے ۔ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یقیناً سورج اور چاند کو کسی شخص کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا بلکہ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے نشانی ہیں ، جب تم انھیں ( اس طرح ) دیکھو تو نماز پڑھو ۔
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنَّحَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَىِّ " .
Abdullah b. 'Umar reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said:The dead is punished because of the lamentation of the living
سالم نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " میت کو زندہ کے رونے سے عذاب دیا جا تا ہے ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الأُمَوِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ، بْنُ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ صَاحِبِ كَنْزٍ لاَ يُؤَدِّي زَكَاتَهُ إِلاَّ أُحْمِيَ عَلَيْهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَيُجْعَلُ صَفَائِحَ فَيُكْوَى بِهَا جَنْبَاهُ وَجَبِينُهُ حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ ثُمَّ يُرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ وَمَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لاَ يُؤَدِّي زَكَاتَهَا إِلاَّ بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ كَأَوْفَرِ مَا كَانَتْ تَسْتَنُّ عَلَيْهِ كُلَّمَا مَضَى عَلَيْهِ أُخْرَاهَا رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولاَهَا حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ ثُمَّ يُرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ وَمَا مِنْ صَاحِبِ غَنَمٍ لاَ يُؤَدِّي زَكَاتَهَا إِلاَّ بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ كَأَوْفَرِ مَا كَانَتْ فَتَطَؤُهُ بِأَظْلاَفِهَا وَتَنْطِحُهُ بِقُرُونِهَا لَيْسَ فِيهَا عَقْصَاءُ وَلاَ جَلْحَاءُ كُلَّمَا مَضَى عَلَيْهِ أُخْرَاهَا رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولاَهَا حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ثُمَّ يُرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ " . قَالَ سُهَيْلٌ فَلاَ أَدْرِي أَذَكَرَ الْبَقَرَ أَمْ لاَ . قَالُوا فَالْخَيْلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا - أَوْ قَالَ - الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا - قَالَ سُهَيْلٌ أَنَا أَشُكُّ - الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ الْخَيْلُ ثَلاَثَةٌ فَهْىَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ وَلِرَجُلٍ وِزْرٌ فَأَمَّا الَّتِي هِيَ لَهُ أَجْرٌ فَالرَّجُلُ يَتَّخِذُهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَيُعِدُّهَا لَهُ فَلاَ تُغَيِّبُ شَيْئًا فِي بُطُونِهَا إِلاَّ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ أَجْرًا وَلَوْ رَعَاهَا فِي مَرْجٍ مَا أَكَلَتْ مِنْ شَىْءٍ إِلاَّ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا أَجْرًا وَلَوْ سَقَاهَا مِنْ نَهْرٍ كَانَ لَهُ بِكُلِّ قَطْرَةٍ تُغَيِّبُهَا فِي بُطُونِهَا أَجْرٌ - حَتَّى ذَكَرَ الأَجْرَ فِي أَبْوَالِهَا وَأَرْوَاثِهَا - وَلَوِ اسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ كُتِبَ لَهُ بِكُلِّ خَطْوَةٍ تَخْطُوهَا أَجْرٌ وَأَمَّا الَّذِي هِيَ لَهُ سِتْرٌ فَالرَّجُلُ يَتَّخِذُهَا تَكَرُّمًا وَتَجَمُّلاً وَلاَ يَنْسَى حَقَّ ظُهُورِهَا وَبُطُونِهَا فِي عُسْرِهَا وَيُسْرِهَا وَأَمَّا الَّذِي عَلَيْهِ وِزْرٌ فَالَّذِي يَتَّخِذُهَا أَشَرًا وَبَطَرًا وَبَذَخًا وَرِيَاءَ النَّاسِ فَذَاكَ الَّذِي هِيَ عَلَيْهِ وِزْرٌ " . قَالُوا فَالْحُمُرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَىَّ فِيهَا شَيْئًا إِلاَّ هَذِهِ الآيَةَ الْجَامِعَةَ الْفَاذَّةَ { فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ * وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ} " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:No owner of the treasure who does not pay Zakat (would be spared) but (his hoards) would be heated in the Fire of Hell and these would be made into plates and with these his sides, his forehead would be cauterised till Allah would pronounce judgment among His servants during a day, the extent of which would be fifty thousand years. He would then see his path, leading either to Paradise or to Hell. And no owner of the camels who does not pay Zakat (would be spared) but a soft sandy plain would be set for him and they (the camels) would be made to pass over him till the last of them would be made to return till Allah would pronounce judgment among His servants during a day the extent of which would be fifty thousand years. He would then see his path leading him to Paradise or leading him to Hell. And no owner of the (cattle and) goats who does not pay Zakat (would be spared) but a soft sandy plain would be set for him, he would find none of them missing, with twisted horns, without horns, or with broken horns, and they will gore him with their horns and trample him with their hoofs and they would be made to pass over him till the last of them would be made to return till Allah would pronounce judgment among His servants, during a day the extent of which would be fifty thousand years, and he would see the paths leading to Paradise or to Hell. Suhail said: I do not know whether he made mention of the cows. They said: Messenger of Allah (ﷺ), what about the horses? He said: The horses have goodness in their foreheads (or he said) or goodness is ingrained in the foreheads of the horses (Suhail said: I am in doubt as to what was actually said) up till the Day of judgement. The horses are of three kinds. They are a source of reward to a person, they are a covering to a person, and they are a burden to a person. As for those which bring reward is that a person would get reward who rears them for the sake of Allah and trains them for Him, and nothing disappears in their stomachs but Allah would record for him a good deed. And if they were to graze in the meadow, they would eat nothing but Allah would record for him a reward. And if they were to drink water from the canal, with every drop that, would disappear in their stomachs there would be reward (for the owner). He went on describing till a reward was mentioned for their urine and dung. And if they pranced a course or two, there would be recorded a reward for every pace that they covered. As for one for whom they are a covering, he is the man who rears them for honour and dignity but does not forget the right of their backs and their stomachs, in plenty and adversity, As regards one for whom they are a burden, he is that who rears them for vainglory and showing off to the people; for him they are, the burden. They said: Messenger of Allah, what about asses? He said: Allah has not revealed to me anything in regards to it except this one comprehensive verse:" He who does an atom's weight of good will see it, and he who does an atom's weight of evil will see it" (xcix)
عبدالعزیز بن مختار نے کہا : ہمیں سہیل بن ابی صالح نے اپنے والد سے حدیث سنائی ، انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نےکہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کوئی بھی خزانے کا مالک نہیں جو اس کی زکاۃ ادا نہیں کرتا ، مگر اس کے خزانے کو جہنم کی آگ میں تپایا جائےگا ، پھر اس کی تختیاں بنائی جائیں گی اور ان سے اس کے دونوں پہلوؤں اور پیشانی کو داغا جائےگا حتیٰ کہ اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرمادے گا ، ( یہ ) اس دن میں ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہے ، پھر اسے جنت یا جہنم کی طرف اس کا راستہ دکھا دیاجائے گا ۔ اور کوئی بھی اونٹوں کا مالک نہیں جو ان کی زکاۃ ادا نہیں کرتا مگر اسے ان ( اونٹوں ) کے سامنے وسیع چٹیل میدان میں لٹایا جائے گا جبکہ وہ اونٹ ( تعداد اور جسامت میں ) جتنے زیادہ سے زیادہ وافر تھے اس حالت میں ہوں گے ( وہ ) اس کے اوپر دوڑ لگائیں گے ۔ جب بھی ان میں آ خری اونٹ گزرے گا پہلا اونٹ ، اس پر دوبارہ لایا جائےگا ، حتیٰ کہ اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرماد ے گا ۔ ( یہ ) ایک ایسے دن میں ( ہوگا ) جو پچاس ہزار سال کے برابرہوگا ، پھر اسے جنت یا دوزخ کی طرف اس کا راستہ دیکھا دیا جائے گا ۔ اور جو بھی بکریوں کا مالک ان کی زکاۃ ادا نہیں کرتا تو اسے وہ وافر ترین حالت میں جس میں وہ تھیں ، ان کے سامنے ایک وسیع وعریض چٹیل میدان میں بچھا ( لٹا ) دیا جائے گا ، وہ اسے اپنے کھروں سے روندیں گی اور اپنے سینگوں سے ماریں گی ۔ ان میں نہ کوئی مڑے سینگوں والی ہوگی اور نہ بغیر سینگوں کے ۔ جب بھی آخری بکری گزرے گی اسی و قت پہلی دوبارہ اس پر لائی جائے گی ۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ ایک ایسے دن میں جو پچاس ہزار سال کے برابر ہے ، اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کردے گا ۔ پھر اسے جنت کا دوزخ کی طرف اس کا راستہ دکھایا جائے گا ۔ "" سہیل نے کہا : میں نے نہیں جانتا کہ آپ نے گائے کا تذکرہ فرمایا یا نہیں ۔ صحابہ ( رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !تو گھوڑے ( کا کیا حکم ہے؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" قیامت کے دن تک خیر ، گھوڑوں کی پیشانی میں ہے ۔ ۔ ۔ "" یا فرمایا : "" گھوڑوں کی پیشانی سے بندھی ہوئی ہے ۔ ۔ ۔ "" سہیل نے کہا : مجھے شک ہے ۔ ۔ ۔ ( فرمایا ) "" گھوڑے تین قسم کے ہیں ۔ یہ ایک آدمی کے لئے باعث اجر ہیں ، ایک آدمی کے لئے پردہ پوشی کا باعث ہیں ۔ اور ایک کے لئے بوجھ اور گناہ کا سبب ہیں ۔ وہ گھوڑے جو اس ( مالک ) کے لئے اجر ( کا سبب ) ہیں تو ( ان کا مالک ) وہ آدمی ہے جو انھیں اللہ کے راستے میں ( جہاد کے لئے ) پالتا ہے ۔ اور تیار کرتا ہے تو یہ گھوڑے کوئی چیز اپنے پیٹ میں نہیں ڈالتے مگر اللہ اس کی وجہ سے اس کے لئے اجر لکھ دیتاہے ۔ اگر وہ انھیں چراگاہ میں چراتا ہے تو وہ کوئی چیز بھی نہیں کھاتے ۔ مگر اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے لئے اجر لکھ دیتا ہے ۔ اور اگر وہ انھیں کسی نہر سے پانی پلاتا ہے تو پانی کے ہر قطرے کے بدلے جسے وہ اپنے پیٹ میں اتارتے ہیں ۔ اس کے لئے اجر ہے ۔ حتیٰ کہ آپ نے ان کے پیشاب اور لید کرنے میں بھی اجر ملنے کا تذکرہ کیا ۔ ۔ ۔ اور اگر یہ گھوڑے ایک یا دو ٹیلوں ( کافاصلہ ) دوڑیں ۔ تو اس کے لئے ان کے ہر قدم کے عوض جو وہ اٹھاتے ہیں ، اجر لکھ دیا جاتا ہے ۔ اور وہ انسان جس کے لئے یہ باعث پردہ ہیں تو وہ آدمی ہے جو انھیں عزت وشرف اور زینت کے طور پر رکھتا ہے ۔ اور وہ تنگی اور آسانی ( ہرحالت ) میں ان کی پشتوں اور ان کے پیٹوں کا حق نہیں بھولتا ۔ رہا وہ آدمی جس کے لئے وہ بوجھ ہیں تو وہ شخص ہے جو انھیں ناسپاس گزاری کے طور پر ، غرور اور تکبر کرنے اور لوگوں کو دکھانے کے لئے ر کھتا ہے تو وہی ہے جس کے لئے یہ گھوڑے بوجھ کاباعث ہیں ۔ "" لوگوں نے کہا : اے اللہ کے ر سول صلی اللہ علیہ وسلم ! تو گدھے ( ان کا کیا حکم ہے؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ تعالیٰ نے مجھ پر ان کے بارے میں اس منفرد اور جامع آیت کے سوا کچھ نازل نہیں کیا : "" تو جو کوئی زرہ برابر نیکی کرے گا وہ اسے دیکھ لے گا ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا رَوْحٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ، - يَعْنِي أَبَا عَاصِمٍ - جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
A hadith like this has been narrated on the authority of Ibn Juraij with the same chain of transmitters
ضحاک ، حضرت ابن جریج سے اس سند کے ساتھ ہی اسی حدیث کی طرح روایت کیا گیا ہے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ وَانْبَعَثَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ قَائِمَةً أَهَلَّ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ .
Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) pronounced Talbiya in Dhu'l-Hulaifa as he put his feet in the stirrup and his camel stood up and proceeded
عبید اللہ نے نافع سے انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی فر ما یا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکا ب میں پاؤں رکھ لیتے اور آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر کھڑی ہو جا تی تو آپ ذوالحلیفہ سے ( اس وقت ) بلند آواز میں لبیک پکا ر نا شروع فر ما تے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الرَّبِيعِ، بْنِ سَبْرَةَ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى يَوْمَ الْفَتْحِ عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ.
Rabi' b. Sabra reported on the authority of his father that Allah's Messenger (ﷺ) forbade on the Day of Victory to contract temporary marriage with women
معمر نے زہری سے ، انہوں نے ربیع بن سبرہ سے ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے ( دنوں میں سے ایک ) دن عورتوں کے ساتھ ( نکاح ) متعہ کرنے سے منع فرما دیا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ فِيمَا أُنْزِلَ مِنَ الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ يُحَرِّمْنَ . ثُمَّ نُسِخْنَ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُنَّ فِيمَا يُقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ .
A'isha (Allah be pleased with, her) reported that it had been revealed in the Holy Qur'an that ten clear sucklings make the marriage unlawful, then it was abrogated (and substituted) by five sucklings and Allah's Apostle (ﷺ) died and it was before that time (found) in the Holy Qur'an (and recited by the Muslims)
عبداللہ بن ابی بکرہ نے عمرہ سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : قرآن میں نازل کیا گیا تھا کہ دس بار دودھ پلانا جن کا علم ہو ، حرمت کا سبب بن جاتا ہے ، پھر انہیں پانچ بار دودھ پلانے ( کے حکم ) سے جن کا علم ہو ، منسوخ کر دیا گیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو یہ ان آیات میں تھی جن کی ( نسخ کا حکم نہ جاننے والے بعض لوگوں کی طرف سے ) قرآن میں تلاوت کی جاتی تھی
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، ح وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِتَخْيِيرِ أَزْوَاجِهِ بَدَأَ بِي فَقَالَ " إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا فَلاَ عَلَيْكِ أَنْ لاَ تَعْجَلِي حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ " . قَالَتْ قَدْ عَلِمَ أَنَّ أَبَوَىَّ لَمْ يَكُونَا لِيَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ قَالَتْ ثُمَّ قَالَ " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ { يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلاً * وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا} قَالَتْ فَقُلْتُ فِي أَىِّ هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَىَّ فَإِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الآخِرَةَ . قَالَتْ ثُمَّ فَعَلَ أَزْوَاجُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِثْلَ مَا فَعَلْتُ .
A'isha (Allah be pleased with her) reported:When the Messenger of Allah (ﷺ) was commanded to give option to his wives, he started it from me saying: I am going to mention to you a matter which you should not (decide) in haste until you have consulted your parents. She said that he already knew that my parents would never allow me to seek separation from him She said: Then he said: Allah, the Exalted and Glorious, said: Prophet, say to thy wives: If you desire this world's life and its adornment, then come, I will give you a provision and allow you to depart a goodly departing; and if you desire Allah and His Messenger and the abode of the Hereafter, then Allah has prepared for the doers of good among you a great reward She is reported to have said: About what should I consult my parents, for I desire Allah and His Messenger and the abode of the Hereafter? She ('A'isha) said: Then all the wives of Allah's Messenger (ﷺ) did as I had done
ابن شہاب سے روایت ہے ، کہا : مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی بیویوں کو اختیار دیں تو آپ نے ( اس کی ) ابتدا مجھ سے کی ، اور فرمایا : " میں تم سے ایک بات کرنے لگا ہوں ۔ تمہارے لیے اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ تم اپنے والدین سے مشورہ کرنے تک ( جواب دینے میں ) عجلت سے کام نہ لو ۔ " انہوں نے کہا : آپ کو بخوبی علم تھا کہ میرے والدین مجھے کبھی آپ سے جدا ہونے کا مشورہ نہیں دیں گے ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : " اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں ( دنیا کا ) ساز و سامان دوں اور تمہیں اچھائی کے ساتھ رخصت کر دوں ۔ اور اگر تم اللہ اور اس کا رسول اور آخرت کا گھر چاہتی ہو تو اللہ نے تم میں سے نیک کام کرنے والیوں کے لیے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے ۔ " ( عائشہ رضی اللہ عنہا نے ) کہا : میں نے عرض کی : ان میں سے کس بات میں اپنے والدین سے مشورہ کروں؟ میں تو اللہ ، اس کا رسول اور آخرت کا گھر چاہتی ہوں ۔ کہا : پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج نے وہی کیا جو میں نے کیا تھا
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، كُلُّهُمْ عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُهَيْلٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَقَالُوا " وَلَدٌ وَالِدَهُ " .
A hadith like this has been narrated on the authority of Suhail with the same chain of transmitters
وکیع ، عبداللہ بن نمیر اور ابو احمد زبیری سب نے سفیان سے ، انہوں نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی اور ان سب نے بھی " کوئی بیٹا اپنے والد کا " کے الفاظ کہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنِ اشْتَرَى شَاةً مُصَرَّاةً فَلْيَنْقَلِبْ بِهَا فَلْيَحْلُبْهَا فَإِنْ رَضِيَ حِلاَبَهَا أَمْسَكَهَا وَإِلاَّ رَدَّهَا وَمَعَهَا صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ " .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (may peace be'upon him) as saying:He who bought a goat having its udder tied up should go back with it, milk it, and, if he is satisfied with its milk, he should retair it, otherwise he should return it along with a sa' of dates
موسیٰ بن یسار نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے دودھ روکی گئی بھیڑ ( یا بکری ) خرید لی تو وہ اسے لے کر گھر واپس آئے اور اس کا دودھ نکالے ، اگر وہ اس کے ددھ دینے سے راضی ہو تو اسے رکھ لے ، ورنہ کھجور کے ایک صاع سمیت اسے واپس کر دے
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، أَيْضًا حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي كِلاَهُمَا، عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . مِثْلَهُ وَقَالاَ " فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنَ الْغُرَمَاءِ " .
This hadith has been narrated on the authority of Qatada with the same chain of transmitters (but with a change of these words):" He is more entitled to get it than any other creditor
سعید اور ہشام دونوں نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کی مانند روایت کی اور کہا : " تو وہ ( دیگر ) قرض خواہوں کی نسبت اس ( مال ) کا زیادہ حقدار ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرٍ، - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى فِيمَنْ أُعْمِرَ عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ فَهِيَ لَهُ بَتْلَةً لاَ يَجُوزُ لِلْمُعْطِي فِيهَا شَرْطٌ وَلاَ ثُنْيَا . قَالَ أَبُو سَلَمَةَ لأَنَّهُ أَعْطَى عَطَاءً وَقَعَتْ فِيهِ الْمَوَارِيثُ فَقَطَعَتِ الْمَوَارِيثُ شَرْطَهُ .
Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger (ﷺ) commanded that whoever is conferred upon a life grant along with his descendants is entitled to make use of the property conferred so long as he lives and his successors (also enjoy this privilege). That (property) becomes the their defect belonging. The donor cannot (after declaring Umra) lay down any condition or make any exception. Abu Salama said:For he conferred a grant and as such it becomes heritage. and the right of inheritance abrogated his condition
ابن ابی ذئب نے ابن شہاب سے ، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمان سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں فیصلہ کیا جسے عمر بھر کے لیے ( یہ کہہ کر ) عطیہ دیا گیا کہ وہ اس کا اور اس کی اولاد کا ہے تو وہ حتمی طور پر اسی کا ہو گا ، اس ( صورت ) میں دینے والے کے لیے کوئی شرط لگانا اور استثناء کرنا جائز نہیں ۔ ابوسلمہ نے کہا : کیونکہ اس نے ایسا عطیہ دیا ہے جس میں وراثت جاری ہو چکی ہے تو وراثت نے اس کی شرط کو ختم کر دیا
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ يَوْمُ الْخَمِيسِ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ . ثُمَّ جَعَلَ تَسِيلُ دُمُوعُهُ حَتَّى رَأَيْتُ عَلَى خَدَّيْهِ كَأَنَّهَا نِظَامُ اللُّؤْلُؤِ . قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ائْتُونِي بِالْكَتِفِ وَالدَّوَاةِ - أَوِ اللَّوْحِ وَالدَّوَاةِ - أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا " . فَقَالُوا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَهْجُرُ .
Sa'id b. Jubair reported from Ibn Abbas that he said:Thursday, and what about Thursday? Then tears began to flow until I saw them on his cheeks as it they were the strings of pearls. He (the narrator) said that Allah's Messenger (ﷺ) said: Bring me a shoulder blade and ink-pot (or tablet and inkpot), so that I write for you a document (by following which) you would never go astray. They said: Allah's Messenger (may peace upon him) is in the state of unconsciousness
طلحہ بن مُصرف نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : جمعرات کا دن ، جمعرات کا دن کیسا تھا! پھر ان کے آنسو بہنے لگے حتی کہ میں نے ان کے دونوں رخساروں پر دیکھا گویا موتیوں کی لڑی ہو ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میرے پاس شانے کی ہڈی اور دوات لاؤ ۔ ۔ یا تختی اور دوات ۔ ۔ میں تمہیں ایک کتاب ( تحریر ) لکھ دوں ، اس کے بعد تم ہرگز کبھی گمراہ نہ ہو گے ۔ " تو لوگوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیماری کے زیر اثر گفتگو فرما رہے ہیں
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، وَقَالَ، عَمْرٌو حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، - عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَمِينُكَ عَلَى مَا يُصَدِّقُكَ عَلَيْهِ صَاحِبُكَ " . وَقَالَ عَمْرٌو " يُصَدِّقُكَ بِهِ صَاحِبُكَ " .
Abu Haraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Your oath should be about something regarding which your companion will believe you. 'Amr said: By which your companion will believe you
یحییٰ بن یحییٰ اور عمرو الناقد نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ یحییٰ نے کہا : ہمیں ہشیم بن بشیر نے عبداللہ بن ابی صالح سے خبر دی اور عمرو نے کہا : ہمیں ہشیم بن بشیر نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عبداللہ بن ابی صالح نے خبر دی ۔ ۔ انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمہاری قسم اسی بات پر ہو گی جس پر تمہارا ساتھی ( قسم لینے والا ) تمہاری تصدیق کرے گا ۔ " اور عمرو نے کہا : " جس کی تصدیق تمہارا ساتھی کرے گا
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى ابْنِ، مُنْيَةَ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ وَقَدْ عَضَّ يَدَ رَجُلٍ فَانْتَزَعَ يَدَهُ فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتَاهُ - يَعْنِي الَّذِي عَضَّهُ - قَالَ فَأَبْطَلَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ " أَرَدْتَ أَنْ تَقْضَمَهُ كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ " .
Safwan b. Ya'la b. Munya reported on the authority of his father that there came to Allah's Apostle (ﷺ) a person who had bitten the hand of another person and who had withdrawn his hand (and as a result thereof) his foreteeth had fallen (those which had bitten). The Apostle of Allah (ﷺ) turned down his (claim), and said:Do you wish to bite as the camel bites?
ہمام نے کہا : ہمیں عطاء نے صفوان بن یعلیٰ بن منیہ سے ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک آدمی حاضر ہوا اور اس نے کسی دوسرے آدمی کے ہاتھ پر دانتوں سے کاٹا تھا ، اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس ، یعنی جس نے کاٹا تھا ، کے سامنے والے دو دانت نکل گئے ، کہا : تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رائیگاں قرار دیا اور فرمایا : " تم یہ چاہتے تھے کہ اسے اس طرح چباؤ جس طرح سانڈ چباتا ہے؟
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ - وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ " أَحَقٌّ مَا بَلَغَنِي عَنْكَ " . قَالَ وَمَا بَلَغَكَ عَنِّي قَالَ " بَلَغَنِي أَنَّكَ وَقَعْتَ بِجَارِيَةِ آلِ فُلاَنٍ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ . ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ .
Ibn Abbas reported that Allah's Apostle (ﷺ) said to Ma'iz b. Malik:Is it true what has reached me about you? He said: What has reached you about me? He said: It has reached me that you have committed (adultery) with the slave-girl of so and so? He said: Yes. He (the narrator) said: He testified four times. He (the Holy Prophet) then made pronouncement about him and he was stoned (to death)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ( چار بار واپس کرنے اور اس کے اصرار کے بعد ) ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا : " کیا وہ بات سچ ہے جو مجھے تمہارے بارے میں پہنچی ہے؟ " انہوں نے کہا : میرے بارے میں آپ کو کیا بات پہنچی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم نے فلاں خاندان کی لونڈی سے زنا کیا ہے ۔ " انہوں نے کہا : جی ہاں ۔ کہا : تو انہوں نے ( اپنے خلاف ) چار گواہیاں دیں ، پھر آپ نے ان ( کو رجم کرنے ) کے بارے میں حکم دیا تو انہیں رجم کر دیا گیا
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ، بْنِ جَثَّامَةَ قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الذَّرَارِيِّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يُبَيَّتُونَ فَيُصِيبُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ وَذَرَارِيِّهِمْ . فَقَالَ " هُمْ مِنْهُمْ " .
It is reported on the authority of Sa'b b. Jaththama that the Prophet of Allah (ﷺ), when asked about the women and children of the polytheists being killed during the night raid, said:They are from them
سفیان بن عیینہ نے ہمیں زہری سے خبر دی ، انہوں نے عبیداللہ سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے گھرانے کے بارے میں پوچھا گیا ، ان پر شب خون مارا جاتا ہے تو وہ ( حملہ کرنے والے ) ان کی عورتوں اور بچوں کو بھی نقصان پہنچا دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ انہی میں سے ہیں
وَحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، أَنَّإِنِّي مُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ لَوْلاَ أَنِّي فِي الْمَوْتِ لَمْ أُحَدِّثْكَ بِهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَا مِنْ أَمِيرٍ يَلِي أَمْرَ الْمُسْلِمِينَ ثُمَّ لاَ يَجْهَدُ لَهُمْ وَيَنْصَحُ إِلاَّ لَمْ يَدْخُلْ مَعَهُمُ الْجَنَّةَ " .
It has been narrated on the authority of Abu Malik that Ubaidullah b. Ziyad visited Ma'qil b. Yaser in the latter's illness. Ma'qil said to him:I am narrating to you a tradition. If I were not at death's door, I would not narrate it to you. I heard the Messenger of Allah (may peace he upon him) say: A ruler who, having obtained control over the affairs of the Muslims, does not strive for their betterment and does not serve them sincerely shall not enter Paradise with them
ابو ملیح سے روایت ہے کہ عبیداللہ بن زیاد ، حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی بیماری میں ان کے پاس گیا ، حضرت معقل رضی اللہ عنہ نے کہا : میں تم کو ایک حدیث بیان کرنے لگا ہوں اور اگر میں مرض الموت میں نہ ہوتا تو تمہیں یہ حدیث نہ سناتا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : " کوئی امیر نہیں جو مسلمانوں کے امور کا ذمہ دار ہو ، پھر ان کے لیے جدوجہد اور خیرخواہی نہ کرے ، مگر وہ ان کے ساتھ جنت میں داخل نہیں ہو گا
وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، - يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ - عَنْ هِشَامِ، بْنِ عُرْوَةَ عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَعَثَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ ثَلاَثُمِائَةٍ نَحْمِلُ أَزْوَادَنَا عَلَى رِقَابِنَا .
Jabir b. 'Abdullah reported:Allah's Apostle (ﷺ) sent us (on an expedition), and we were three hundred in number, and we were carrying our bags of provisions around our necks
ہشام بن عروہ نے وہب بن کیسان سے ، انھوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ( ایک مہم میں ) روانہ کیا ۔ اس وقت ہم تین سو تھے ، ہم نے اپنا اپنا زادراہ اپنے کندھوں پر اٹھایا ہواتھا ۔ ( اور آخر میں سب کازاد راہ ملا کر ایک بورے کے برابر ہوا ۔)
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِذِي الْحُلَيْفَةِ مِنْ تِهَامَةَ فَأَصَبْنَا غَنَمًا وَإِبِلاً فَعَجِلَ الْقَوْمُ فَأَغْلَوْا بِهَا الْقُدُورَ فَأَمَرَ بِهَا فَكُفِئَتْ ثُمَّ عَدَلَ عَشْرًا مِنَ الْغَنَمِ بِجَزُورٍ . وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ كَنَحْوِ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ .
Rafi' b. Khadij reported:While we were with Allah's Messenger (may peace he upon him) in Dhu'I-Hulaifa in Tihama, we got hold of goats and camels. Some persons (amongst us) made haste and boiled (the flesh of goats and camels) in their earthen pots. He then commanded and these were turned over; then he equalised ten goats for a camel. The rest of the hadith is the same
وکیع نے کہا : ہمیں سفیان بن سعید بن مسروق نے اپنے والد سے حدیث سنائی ، انھوں نے عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج سے ، انھوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت کی ، کہا : ہم تہامہ کے مقام ذوالحلیفہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے ۔ تو ہمیں ( غنیمت میں ) بکریاں اور اونٹ حاصل ہوئے تو لوگوں نے جلد بازی کی اور ( ان میں سے کچھ جانوروں کو ذبح کیا ، ان کا گوشت کاٹا اور ) ہانڈیاں چڑھادیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ) نے حکم دیا اور ان ہانڈیوں کو الٹ دیا گیا ۔ پھر آپ نے ( سب کے حصے تقسیم کرنے کے لیے ) دس بکریوں کو ایک اونٹ کے مساوی قرار دیا ۔ اس کے بعد یحییٰ بن سعید کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا عَلِيٌّ، - وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ - عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَنْتَبِذُوا الزَّهْوَ وَالرُّطَبَ جَمِيعًا وَلاَ تَنْتَبِذُوا الرُّطَبَ وَالزَّبِيبَ جَمِيعًا وَلَكِنِ انْتَبِذُوا كُلَّ وَاحِدٍ عَلَى حِدَتِهِ " . وَزَعَمَ يَحْيَى أَنَّهُ لَقِيَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ فَحَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ هَذَا .
Abu Qatada reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Do not prepare Nabidh by mixing nearly ripe and fresh dates and do not prepare Nabidh by mixing together fresh dates and grapes, but prepare Nabidh out of each (one of them) separately. Yahya stated that he had met 'Abdullah b. Abu Qatada and he narrated it on the authority of his father that Allah's Apostle (ﷺ) said this
علی بن مبار ک نے یحییٰ ( بن ابی کثیر ) سے انھوں نے ابو سلمہ سے انھوں نے حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : "" نیم پختہ اور پختہ کھجوروں کو ملا کر نبیذ نہ بنا ؤ اور تا زہ کھجوروں اور کشمش کو ملا کر نبیذ نہ بنا ؤ البتہ ہر جنس کی الگ الگ نبیذ بنا ؤ ۔ "" یحییٰ نے یہ بھی بتا یا کہ ان کی عبد اللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا قات ہو ئی تو انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ، قَالَ جَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ وَنَحْنُ بِأَذْرَبِيجَانَ مَعَ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ أَوْ بِالشَّامِ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْحَرِيرِ إِلاَّ هَكَذَا إِصْبَعَيْنِ . قَالَ أَبُو عُثْمَانَ فَمَا عَتَّمْنَا أَنَّهُ يَعْنِي الأَعْلاَمَ.
Qatada reported:I heard Abe 'Uthman al-Nahdi as saying: There came to us a letter of 'Umar as we were in Adharba'ijan or in Syria in the company of 'Utba b. Farqad (and the letter ran thus): After (usual praise and glorification of Allah) it is stated that Allah's Messenger (ﷺ) has forbidden the use of silk btit to the extent of these two fingers, and Abu Uthman said: We at once understood by these words that he meant (silk) patterns on (the cloth)
شعبہ نے قتادہ سے روایت کی ، کہا : میں نے ابوعثمان نہدی سے سنا ، کہا : ہمارے پاس حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مکتوب آیا ، اس وقت ہم آزر بائیجان میں عتبہ بن فرقد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے یا شام میں تھے ، اس میں یہ لکھا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی مقدار یعنی دو انگلیوں سے زیادہ ریشم پہننے سے منع کیا ہے ۔ ابوعثمان نے کہا : ہم نے یہ سمجھنے میں ذرا توقف نہ کیا کریں ان کی مراد نقش ونگار سے ہے ( جو کناروں پر ہوتے ہیں)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الأَشْعَرِيُّ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ وُلِدَ لِي غُلاَمٌ فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَسَمَّاهُ إِبْرَاهِيمَ وَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ .
Abu Musa reported:A child was born in my house and I brought him to Allah's Apostle (may peace be upod him) and he gave him the name of Ibrahim and he rubbed his palate with dates
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : میرے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا ، میں اس کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ نے اس کا نام ابراہیم رکھا اور اس کو ایک کھجور ( کے دانے ) سے گھٹی دی ۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، ح وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَأَبَا، سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولاَنِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِهِ .
It has been transmitted by Abu Huraira and Abu Sa'id al-Khudri (both of them the reputed Companions of the Holy Prophet) that the Messenger of Allah (ﷺ) said like that
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے ابو ادریس خولانی نے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ دونوں سے سنا کہہ رہے تھے : رسول اللہ نے فرمایا...... اسی ( پچھلی حدیث کی ) طرح ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ، يَقُولُ الْحَمْوُ أَخُ الزَّوْجِ وَمَا أَشْبَهَهُ مِنْ أَقَارِبِ الزَّوْجِ ابْنُ الْعَمِّ وَنَحْوُهُ .
Ibn Wahb reported:I heard Laith b. Said as saying: Al-Hamv means the brother of husband or like it from amongst the relatives of the husband, for example, cousin, etc
ابن وہب نے کہا : میں نے لیث بن سعد سے سنا ، کہہ رہے تھے : حمو ( دیور/جیٹھ ) خاوند کابھائی ہے یا خاوند کے رشتہ داروں میں اس جیسا رشتہ رکھنے والا ، مثلاً : اس کا چچا زاد وغیرہ ۔
وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ رَأْسِي ضُرِبَ فَتَدَحْرَجَ فَاشْتَدَدْتُ عَلَى أَثَرِهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِلأَعْرَابِيِّ " لاَ تُحَدِّثِ النَّاسَ بِتَلَعُّبِ الشَّيْطَانِ بِكَ فِي مَنَامِكَ " . وَقَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعْدُ يَخْطُبُ فَقَالَ " لاَ يُحَدِّثَنَّ أَحَدُكُمْ بِتَلَعُّبِ الشَّيْطَانِ بِهِ فِي مَنَامِهِ " .
Jabir reported that there came to Allah's Apostle (ﷺ) a desert Arab and said:Allah's Messenger, I saw in the state of sleep as if my head had been cut off and I had been moving on haltingly after it. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said to that desert Arab: Do not narrate to the people the vain sporting of satan with you in your sleep and (the narrator) also said: I heard Allah's Messenger (ﷺ) in his subsequent address: None amongst you should narrate the vain sporting of devil with him in the dream
جریر نے اعمش سے ، انھوں نے ابو سفیان سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک اعرابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے سر کو تلوار کا نشان بنایا گیا ، وہ لڑکھتا ہواجارہا ہے اور میں اس کے پیچھے د وڑ رہا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعرابی سے فرمایا : "" نیند کی حالت میں شیطان تمہارے ساتھ جو چھیڑ خوانی کرے وہ لوگوں کو نہ بتاؤ ۔ "" ( حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں نے اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ "" خواب میں شیطان تمہارے ساتھ جو چھیڑ خوانی کرے تم میں سے کوئی اس کے بارے میں لوگوں کے ساتھ باتیں نہ کرے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ، جَمِيعًا عَنْ مِسْعَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، كِلاَهُمَا عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ جُنْدَبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
This hadith has been narrated on the authority of Jundab through another chain of transmitters
مسعر اور شعبہ دونوں نے عبدالملک بن عمیر سے ، انھوں نے حضرت جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ا س کے مانند روایت کی ۔
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، وَابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ جَابِرًا، ح وَحَدَّثَنَاهُ عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، سَمِعْتُ جَابِرًا، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ وَزُهَيْرٍ .
This hadith has been narrated on the authority of Jabir through another chain of transmitters
اسحٰق بن ابرا ہیم ، ابو بکر بن ابی شیبہ اور عمرو ناقد نے سفیان بن عیینہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عمرو اور ابن منکدر سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ابن نمیر اور زہیر کی حدیث کے مانند روایت کی ۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِكٍ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، أَنَّهُ قَالَ أَدْرَكْتُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُونَ كُلُّ شَىْءٍ بِقَدَرٍ . قَالَ وَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كُلُّ شَىْءٍ بِقَدَرٍ حَتَّى الْعَجْزُ وَالْكَيْسُ أَوِ الْكَيْسُ وَالْعَجْزُ " .
Tawus reported:I found some Companions of Allah's Messenger (ﷺ) as saying: Everything is by measure. And he further said: I heard Abdullah b. 'Umar as saying: There is a neasure for everything-even for incapacity and-capability
محمد بن عباد بن جعفر مخزومی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : مشرکین قریش تقدیر کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بحث کرنے کے لیے آئے ، اس وقت ( یہ آیت ) نازل ہوئی : " جس دن وہ جہنم میں اوندھے منہ گھسیٹے جائیں گے ، ( کہا جائے گا : ) دوزخ کا عذاب چکھو ، بےشک ہم نے ہر چیز کو ( طے شدہ ) مقدار کے مطابق بنایا ہے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ تَبِعَهُ لاَ يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا وَمَنْ دَعَا إِلَى ضَلاَلَةٍ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَهُ لاَ يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who called (people) to righteousness, there would be reward (assured) for him like the rewards of those who adhered to it, without their rewards being diminished in any respect. And he who called (people) to error, he shall have to carry (the burden) of its sin, like those who committed it, without their sins being diminished in any respect
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس شخص نے ہدایت کی دعوت دی اسے اس ہدایت کی پیروی کرنے والوں کے اجر کے برابر اجر ملے گا اور ان کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہو گی اور جس شخص نے کسی گمراہی کی دعوت دی ، اس پر اس کی پیروی کرنے والوں کے برابر گناہ ( کا بوجھ ) ہو گا اور ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہو گی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا أَوْ أَزِيدُ " .
A hadith like this has been transmitted on the authority of A'mash with the same chain of transmitters and he (further) said:There is for him ten like that (the good he performed) or more than that
ابومعاویہ نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت بیان کی ، مگر انہوں نے کہا : " اس کے لیے اس جیسی دس نیکیاں ملتی ہیں ، یا میں ( اس سے بھی ) زیادہ دیتا ہوں ۔
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ، سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ، قَالَ الزُّهْرِيُّ حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " أَسْرَفَ عَبْدٌ عَلَى نَفْسِهِ " . بِنَحْوِ حَدِيثِ مَعْمَرٍ إِلَى قَوْلِهِ " فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ " . وَلَمْ يَذْكُرْ حَدِيثَ الْمَرْأَةِ فِي قِصَّةِ الْهِرَّةِ وَفِي حَدِيثِ الزُّبَيْدِيِّ قَالَ " فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِكُلِّ شَىْءٍ أَخَذَ مِنْهُ شَيْئًا أَدِّ مَا أَخَذْتَ مِنْهُ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying that a servant transgressed the litnit in committing sins. The rest of the hadith is the same but there is no mention of the story of the cat in it and in the hadith transmitted on the authority of Ziibaidl (the words are):" Allah, the Exalted and Glorious, said to everything which had taken a part of lies ashes to return what it had taken
زبیدی نے مجھے حدیث سنائی کہ زہری نے کہا : مجھے حُمید بن عبدالرحمان بن عوف نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : "" ایک بندے نے اپنے آپ پر ہر طرح کی زیادتی کی ۔ "" ( آگے ) معمر کی حدیث کی طرح ہے ، اس قول تک : "" پس اللہ نے اسے بخش دیا ۔ "" اور انہوں نے بلی کے واقعے ( کے بارے ) میں عورت والی حدیث کا ذکر نہیں کیا ۔ اور زُبیدی کی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ عزوجل نے ہر شے سے ، جس نے اس ( جلائے جانے والے شخص ) کی کوئی بھی چیز لی تھی ، فرمایا : اس کا جو حصہ تیرے پاس ہے پورا واپس کر ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَ ذَلِكَ .
Another chain of transmitters reported the like of this hadith
معاذ نے کہا : ہمیں شعبہ نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انھوں نے مجاہد سے ، انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔
وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مِسْكِينٌ، - يَعْنِي ابْنَ بُكَيْرٍ الْحَذَّاءَ - عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ .
Anas reported:The Messenger of Allah (ﷺ) used to have sexual intercourse with his wives with a single bath
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ ایک ہی غسل سے اپنی ( ایک سے زیادہ ) بیویوں کے پاس جاتے تھے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَعَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " سَيْحَانُ وَجَيْحَانُ وَالْفُرَاتُ وَالنِّيلُ كُلٌّ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Saihan, Jaihan, Euphrates and Nile are all among the rivers of Paradise
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سیحان ، جیحان ، فرات اور نیل سب جنت کی ( طرف سے آنے والی ) نہریں ہیں ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ إِلَى قَوْلِهِ وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ . وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ .
This hadith has been narrated on the authority of A'mash with the same chain of transmitters up to the words:And he forgot who had to forget that and. he did not make a mention of what follows after this
سفیان نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ ان ( حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے اس قول تک : " اور جس نے اسے بھلادیا اس نے اسے بھلادیا " روایت کی اور اس کے بعد کا حصہ بیان نہیں کیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم مِنْ خُبْزِ بُرٍّ فَوْقَ ثَلاَثٍ .
A'isha reported:Never could the family of Muhammad (ﷺ) (afford to eat to the fill) the bread of wheat beyond three days (successively)
عابس نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں نے تین دن سے زیادہ کبھی سیر ہو کر گندم کی روٹی نہیں کھا ئی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، - وَاللَّفْظُ لأَبِي كُرَيْبٍ - حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ ابْنُ سَلُولَ يَقُولُ لِجَارِيَةٍ لَهُ اذْهَبِي فَابْغِينَا شَيْئًا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { وَلاَ تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَنْ يُكْرِهْهُنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مِنْ بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ} لَهُنَّ { غَفُورٌ رَحِيمٌ}
Jabir reported that 'Abdullah b. Ubayy b. Salul used to say to his slave-girl:Go and fetch something for us by committing prostitution. It was in this connection that Allah, the Exalted and Glorious, revealed this verse:" And compel not your slave-girls to prostitution when they desire to keep chaste in order to seek the frail goods of this world's life, and whoever compels them, then surely after their compulsion Allah is Forgiving, Merciful" (xxiv)
ابو معاویہ نے کہا : ہمیں اعمش نے ابو سفیان سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : عبداللہ بن ابی سلول اپنی ایک باندی سے کہتا تھا : جا اور ( بذریعہ بدکاری ) ہمارے لیے کچھ کما کرلا ، تو اللہ عزوجل نے ( یہ آیت ) نازل فرمائی؛ " اور اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر نہ اکساؤ ( خصوصاً ) اگر وہ پاکدامن رہنا چاہتی ہوں تاکہ تم دنیا کی زندگی کا سازوسامان حاصل کرو اور جو کوئی انھیں مجبور کرے گا تو اللہ تعالیٰ ان کے مجبور کیے جانے کا بعد " ان کے لیے " بڑا بخشنے والا ، بڑا رحم کرنے والا ہے ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، كَانَ يُصَلِّي لَهُمْ فَيُكَبِّرُ كُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ وَاللَّهِ إِنِّي لأَشْبَهُكُمْ صَلاَةً بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Abu Salama reported:Abu Huraira led prayer for them and recited takbir when he bent and raised himself (in ruku' and sujud) and after completing (the prayer) he said: By Allah I say prayer which has the best resemblance with the prayer of the Prophet (ﷺ) amongst you
ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے روایت ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ انہیں نماز پڑھا رہے تھے تو جب بھی وہ جھکتے اور ( سر اور جسم کو اوپر ) اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے ، پھر جب سلام پھیرا تو کہا : اللہ کی قسم! میں نماز میں تم سب کی نسبت رسول اللہﷺ سے زیادہ مشابہت رکھتا ہوں ۔