حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، - عَنْ يَزِيدَ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي عُبَيْدٍ - عَنْ سَلَمَةَ، - وَهُوَ ابْنُ الأَكْوَعِ أَنَّهُ كَانَ يَتَحَرَّى مَوْضِعَ مَكَانِ الْمُصْحَفِ يُسَبِّحُ فِيهِ . وَذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَتَحَرَّى ذَلِكَ الْمَكَانَ وَكَانَ بَيْنَ الْمِنْبَرِ وَالْقِبْلَةِ قَدْرُ مَمَرِّ الشَّاةِ .
Salama b. Akwa' reported:He sought the place (in the mosque) where the copies of the Qur'an were kept and glorified Allah there, and the narrator made a mention that the Messenger of Allah (ﷺ) sought that place and that was between the pulpit and the qibla-a place where a goat could pass
۔ حماد بن مسعدہ نے یزید بن ابی عبید سے اور انہوں نے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ ( سلمہ رضی اللہ عنہ ) کوشش کر کے ( مسجد نبوی میں ) اس جگہ نفلی نماز پڑھتے جہاں مصحف ( رکھا ہوا ) تھا اور انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ اسی جگہ کی کوشش فرماتے تھے اور ( یہاں ) منبر اور قبلے کی دیوار کے درمیان بکری کے راستے کے برابر فاصلہ تھا ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو الْكَلْبِيُّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلاَمَةَ أَبِي الْمِنْهَالِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بَرْزَةَ الأَسْلَمِيَّ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُؤَخِّرُ الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ وَيَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا وَكَانَ يَقْرَأُ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ مِنَ الْمِائَةِ إِلَى السِّتِّينَ وَكَانَ يَنْصَرِفُ حِينَ يَعْرِفُ بَعْضُنَا وَجْهَ بَعْضٍ .
Abu Barza b. Aslami is reported to have said:The Messenger of Allah (ﷺ) delayed the night prayer till a third of the night had passed and he did not approve of sleeping before it, and talking after it, and he used to recite in the morning prayer from one hundred to sixty verses (and completed the prayer at such hours) when we recognised the faces of one another
(شعبہ کے بجائے ) حماد بن سلمہ نے ابو منہال ( سیار بن سلامہ ) سے روایت کی ، کہا : میں نے ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سےسنا ، کہتے تھےکہ رسول اللہ ﷺ عشاء کو تہائی رات تک مؤخر کر دیتے تھے اور اس سے پہلے سونے اور بعد میں گفتگو کرنے کو ناپسند فرماتے تھے اور صبح کی نماز میں سو سے لے کر ساٹھ تک آیتیں تلاوت فرماتے اور ایسے وقت میں سلام پھیرتے تھے جب ہم ایک دوسرے کے چہرے کو پہچان سکتے تھے
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي مِسْعَرٌ، - وَقَالَ أَبُو كُرَيْبٍ عَنْ مِسْعَرٍ، - عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ " اقْرَأْ عَلَىَّ " . قَالَ أَقْرَأُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ قَالَ " إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي " قَالَ فَقَرَأَ عَلَيْهِ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ النِّسَاءِ إِلَى قَوْلِهِ { فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاَءِ شَهِيدًا} فَبَكَى . قَالَ مِسْعَرٌ فَحَدَّثَنِي مَعْنٌ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " شَهِيدًا عَلَيْهِمْ مَا دُمْتُ فِيهِمْ أَوْ مَا كُنْتُ فِيهِمْ " . شَكَّ مِسْعَرٌ .
Ibrahim reported that the Messenger of Allah (ﷺ) asked 'Abdullah b. Mas'ud to recite to him (the Qur'an). He said:Should I recite it to you while it has been sent down or revealed to you? He (the Holy Prophet) said: I love to hear it from someone else. So he ('Abdullah b. Mas'ud) recited to him (from the beginning of Surat al Nisa' up to the verse:" How shall then it be when We bring from every people a witness and bring you as a witness against them?" He (the Holy Prophet) wept (on listening to it). It is narrated on the authority of Ibn Mas'ud through another chain of transmitters that the Messenger of Allah (ﷺ) also said that he had been a witness to his people as long as (said he): I lived among them or I had been among them
مسعر نے عمرو بن مرہ سے اور انھوں نے ابراہیم سے روایت کی ، انھوں نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا : "" مجھے قرآن مجید سناؤ ۔ "" انھوں نے کہا : کیا میں آپ کو سناؤں جبکہ ( قرآن ) اترا ہی آپ پر ہے؟آپ نے فرمایا : "" مجھے اچھا لگتاہے کہ میں اسے کسی دوسرے سے سنوں ۔ "" ( ابراہیم ) نے کہا : انھوں نے آپ کے سامنے سورہ نساء ابتداء سے اس آیت تک سنائی : فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ شَهِيدًا "" اس وقت کیا حال ہوگا ، جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان پر گواہ بنا کرلائیں گے ۔ "" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( اس آیت پر ) رو پڑے ۔ مسعر نے ایک دوسری سند سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ قول نقل کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" میں ان پر اس وقت تک گواہ تھا جب تک میں ان میں رہا ۔ "" مسعر کو شک ہے ۔ ما دمت فيهم کہایا ما كنت فيهم ( جب تک میں ان میں تھا ) کہا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَنَحْنُ بِجَمْعٍ سَمِعْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ يَقُولُ فِي هَذَا الْمَقَامِ " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ " .
Abdullah narrated to us as we had gathered (at Muzdalifa):I have heard from one upon whom Surah al-Baqara was revealed (the Holy Prophet) pronouncing Talbiya at this place
ابو حوص نے حصین سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کثیر بن مدرک سے انھوں نے عبد الرحمٰن بن یزید سے روایت کی ، انھوں نے کہا : عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( بن مسعود ) نے جب ہم مزدلفہ میں تھے ۔ کہا : میں نے اس ہستی سے سنا جن پر سورہ بقرہ نازل کی گئی ، وہ اس مقام پر لبيك اللهم لبيك کہہ رہے تھے ۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيكُمْ وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ " .
It is narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (ﷺ) observed:What will be your state when the son of Mary descends amongst you and there will be an Imam amongst you?
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام نافع نےمجھے خبر دی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اس وقت تم کیسے ( عمدہ حال میں ) ہو گےجب مریم کےبیٹے ( عیسیٰ رضی اللہ عنہ ) تم میں اتریں گے اور تمہارا امام تم میں سے ہو گا؟ ‘ ‘ ( اترنے کےبعد پہلی نماز مقتدی کی حیثیت سے پڑھ کر امت محمدیہ میں شامل ہو جائیں گے ۔)
حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي، الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ، قَالَ زَعَمَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يُبْعَثُ مِنْهُمُ الْبَعْثُ فَيَقُولُونَ انْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ فِيكُمْ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَيُوجَدُ الرَّجُلُ فَيُفْتَحُ لَهُمْ بِهِ ثُمَّ يُبْعَثُ الْبَعْثُ الثَّانِي فَيَقُولُونَ هَلْ فِيهِمْ مَنْ رَأَى أَصْحَابَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَيُفْتَحُ لَهُمْ بِهِ ثُمَّ يُبْعَثُ الْبَعْثُ الثَّالِثُ فَيُقَالُ انْظُرُوا هَلْ تَرَوْنَ فِيهِمْ مَنْ رَأَى مَنْ رَأَى أَصْحَابَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ يَكُونُ الْبَعْثُ الرَّابِعُ فَيُقَالُ انْظُرُوا هَلْ تَرَوْنَ فِيهِمْ أَحَدًا رَأَى مَنْ رَأَى أَحَدًا رَأَى أَصْحَابَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَيُوجَدُ الرَّجُلُ فَيُفْتَحُ لَهُمْ بِهِ " .
Abu Sa'id Khudri reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There would come to the people a time when a detachment would be sent for fighting in the cause of Allah and they would say: See, if you can find amongst them someone from amongst the Companions of Allah's Apostle (ﷺ). They would find a person and they would be granted victory because of him. Then a second detachment would be sent to them and they would say: Do you find amongst them one who had had the privilege of seeing the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ)? -and the victory would be granted to them because of him. Then the third detachment would be sent and it would be said to them: See, if you find amongst them (who had had the honour of seeing one) who saw those who saw the Companions of Allah's Apostle (ﷺ). Then the fourth detachment would be sent and it would be said to them: See it you find amongst them one who had the privilege (of seeing) one who saw those who saw those who saw the Companions of Allah's Apostle (ﷺ), and a person would be found and they would be granted victory because of him
ابو زبیر نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یقین تھا ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ ان میں سے کوئی لشکر بھیجاجائے گا تو لوگ کہیں گے : دیکھو ، کیا تم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کوئی فرد ہے؟تو ایک شخص مل جائے گا ، چنانچہ اس کی وجہ سے انھیں فتح مل جائے گی ، پھر ایک اور لشکر بھیجا جائے گا تو لوگ ( آپس میں ) کہیں گے : کیا ان میں کوئی ایسا شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو دیکھا ہو؟تو انھیں اس ( شخص ) کی بنا پر فتح حاصل ہوجائےگی ، پھر تیسرا لشکر بھیجاجائے گا تو کہا جائے گا : دیکھو ، کیا ان میں کوئی ایسا دیکھتے ہو جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو دیکھنے والوں کو دیکھا ہو؟پھر چوتھا لشکر بھیجاجائے گاتو کہا جائے گا : دیکھو ، کیا ان میں کوئی ایسا شخص دیکھتے ہو جس نے کسی ایسے آدمی کو دیکھا ہو جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو دیکھنے والوں میں سے کسی کو دیکھا ہو؟تو وہ آدمی مل جائے گا اور اس کی وجہ سے انھیں فتح مل جائے گی ۔