حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ كَانَ بَيْنَ مُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَبَيْنَ الْجِدَارِ مَمَرُّ الشَّاةِ .
Sahl b. Sa'd al-Si'idi reported:Between the place of worship where the Messenger of Allah (ﷺ) prayed and the wall, there was a gap through which a goat could pass
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ کے سجدے کی جگہ اور دیوار کی درمیان بکری گزرنے کے برابر فاصلہ تھا ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلاَمَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بَرْزَةَ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يُبَالِي بَعْضَ تَأْخِيرِ صَلاَةِ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ وَكَانَ لاَ يُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَلاَ الْحَدِيثَ بَعْدَهَا . قَالَ شُعْبَةُ ثُمَّ لَقِيتُهُ مَرَّةً أُخْرَى فَقَالَ أَوْ ثُلُثِ اللَّيْلِ .
Sayyar b. Salama reported:I heard Abu Barza saying that the Messenger of Allah (ﷺ) did not mind some delay in the 'Isha' prayer even up to midnight and he did not like sleeping before (observing it) and talking after it. Shu'ba said: I again met him (Sayyar b. Salama) for the second time and he said: Even up to the third (part) of the night
معاذ عنبری نے شعبہ سے حدیث بیان کی اور انھوں نے سیار بن سلامہ سے روایت کی کہ میں نے ابو برزہ کو کہتے ہوئے سنا ، رسول اللہ عشاء کی نماز میں کچھ ( یعنی ) آدھی رات تک تا خیر کی پروانہ کرتے تھے اور اس سے پہلے سونے اور اس کے بعد گفتگو کرنے کو پسند نہیں فرماتے تھے ۔ شعبہ نے کہا : پھر میں انھیں دوبارہ ملاتو انھوں نے کہا : یا تہائی رات تک ۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، وَمِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ، جَمِيعًا عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . وَزَادَ هَنَّادٌ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ " اقْرَأْ عَلَىَّ " .
This hadith has been narratted by A'mash with the same chain of transmitters but with this addition:" The Messenger of Allah (ﷺ) was on the pulpit when he asked me to recite to him
ہناد بن سری اور منجانب بن حارث تمیمی نے علی بن مسہر سے روایت کی ، انھوں نے اعمش سے اسی سندکے ساتھ روایت کی ، ہناد نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ، جب آپ منبر پر تشریف فرماتھے ، مجھ سے کہا : " مجھے قرآن سناؤ
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ وَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ . وَزَادَ فِي حَدِيثِهِ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُشِيرُ بِيَدِهِ كَمَا يَخْذِفُ الإِنْسَانُ
This hadith has been narrated on the authority of Abd Zubair with the same chain of transmitters but with this variation that in the hadith no mention is made of (this) that Allah's Messenger (ﷺ) continued pronouncing Talbiya till he stoned the Jamra, and he made this addition in his hadith:" The Apostle (ﷺ) pointed with his hand how a person should catch hold of pebbles (in order to throw them)
ابن جریج سے روایت ہے : ( کہا : ) مجھے ابو زبیر نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، انھوں نے ( اپنی ) حدیث میں یہ ذکر نہیں کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک مسلسل تلبیہ پکارتے رہے البتہ اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا : اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے ( اس طرح ) اشارہ کر رہے تھے جیسے انسان ( اپنی انگلیوں سے ) کنکرپھینکتا ہے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَاللَّهِ لَيَنْزِلَنَّ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا عَادِلاً فَلَيَكْسِرَنَّ الصَّلِيبَ وَلَيَقْتُلَنَّ الْخِنْزِيرَ وَلَيَضَعَنَّ الْجِزْيَةَ وَلَتُتْرَكَنَّ الْقِلاَصُ فَلاَ يُسْعَى عَلَيْهَا وَلَتَذْهَبَنَّ الشَّحْنَاءُ وَالتَّبَاغُضُ وَالتَّحَاسُدُ وَلَيَدْعُوَنَّ إِلَى الْمَالِ فَلاَ يَقْبَلُهُ أَحَدٌ " .
It is narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger or Allah (ﷺ) observed:I swear by Allah that the son of Mary will certainly descend as a just judge and he would definitely break the cross, and kill swine and abolish Jizya and would leave the young she-camel and no one would endeavour to (collect Zakat on it). Spite, mutual hatred and jealousy against one another will certainly disappear and when he summons people to accept wealth, not even one would do so
عطاء بن میناء نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ اللہ کی قسم ! یقیناً عیسیٰ بن مریم رضی اللہ عنہ عادل حاکم ( فیصلہ کرنےوالے ) بن کر اتریں گے ، ہر صورت میں صلیب کو توڑیں گے ، خنزیر کو قتل کریں گے او رجزیہ موقوف کر دیں گے ، جو ان اونٹنیوں کو چھوڑ دیا جائے گا اور ان سے محنت و مشقت نہیں لی جائے گی ( دوسرے وسائل میسر آنے کی وجہ سے ان کی محنت کی ضرورت نہ ہو گی ) لوگوں کے دلوں سے عداوت ، باہمی بغض و حسد ختم ہو جائے گا ، لوگ مال ( لے جانے ) کے لیے بلائے جائیں گے لیکن کوئی اسے قبول نہ کرے گا ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ سَمِعَ عَمْرٌو، جَابِرًا يُخْبِرُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ فَيُقَالُ لَهُمْ فِيكُمْ مَنْ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيَقُولُونَ . نَعَمْ فَيُفْتَحُ لَهُمْ ثُمَّ يَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ فَيُقَالُ لَهُمْ فِيكُمْ مَنْ رَأَى مَنْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيَقُولُونَ نَعَمْ . فَيُفْتَحُ لَهُمْ ثُمَّ يَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ فَيُقَالُ لَهُمْ هَلْ فِيكُمْ مَنْ رَأَى مَنْ صَحِبَ مَنْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيَقُولُونَ نَعَمْ . فَيُفْتَحُ لَهُمْ " .
Abu Sa'id Khudri reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:A time would come for the people when groups of people would set out for fighting in the cause of Allah and it would be said to them: Is there one amongst you who saw Allah's Messenger (ﷺ)? And they would say: Yes, and they would be victorious. Then the people would set out for fighting in the cause of Allah and it would be said to them: Is there one amongst you who saw those (who have had the privilege of sitting in the company of Allah's Messenger (ﷺ)? And they would say: Yes, and victory would be granted to them. Then a group of persons would set out for fighting in the cause of Allah and it would be said to them: Is there one amongst you who saw one of those who saw those who (had the privilege) of sitting in the company of Allah's Messenger (ﷺ)? And they would say: Yes, and the Victory would be granted to them
عمرو ( بن دینار ) نے حضرت جابر ( بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے سنا ، وہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دیتے تھے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " ایک زمانہ آئے گا کہ آدمیوں کے جھنڈ جہاد کریں گے تو ان سے پوچھیں گے کہ کوئی تم میں سے وہ شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہو؟ تو وہ لوگ کہیں گے کہ ہاں! تو ان کی فتح ہو جائے گی ۔ پھر لوگوں کے گروہ جہاد کریں گے تو ان سے پوچھیں گے کہ تم میں سے کوئی وہ ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی کو دیکھا ہو ( یعنی تابعین میں سے کوئی ہے؟ ) لوگ کہیں کے کہ ہاں! پھر ان کی فتح ہو جائے گی ۔ پھر آدمیوں کے لشکر جہاد کریں گے تو ان سے پوچھا جائے گا کہ تم میں سے کوئی وہ ہے جس نے صحابی کے دیکھنے والے کو دیکھا ہو ( یعنی تبع تابعین میں سے ) ؟ تو لوگ کہیں گے کہ ہاں ۔ پھر لوگوں کے گروہ جہاد کریں گے تو پوچھیں گے کہ کیا تم میں کوئی ایسا آدمی ہے جس نے اتباع تابعین کو دیکھا ہو؟